Baaghi TV

Category: سیاست

  • جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں

    پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے

    سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی

    سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قومی اداروں پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے جس کی تازہ مثال وزیر اعلٰی کے پی کے کی جذباتی تقریر ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    جنوبی ایشیائی ملک خاص طور پر بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پچھلے چند سالوں میں جمہوری عمل کمزور ہوتا دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ ہے۔ اگر ملک کی سیاسی جماعتوں نے منظم طریقے سے نیچے تک مضبوط اندرونی جمہوریت پر توجہ نہ دی تو قومی سیاست میں ان کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کی صورتحال ایک دہائی میں عوامی حکمرانوں کے سیاسی خلا، اظہار رائے اور انتخابی مقابلے جیسے عناصر ظاہر ہوئے جن کے باعث جمہوریت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ انتخابات میں تنازع اور شفافیت کے الزامات لگے۔ سری لنکا کی بھی یہی صورتحال ہے معاشی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں طرز حکمرانی میں دیکھی گئی اقتصادی بد انتظامی اور سیاسی مرکزیت جمہوری اداروں کو تیزی سے کمزور کرتی گئی۔ یہی صورتحال نیپال میں دیکھی گئی مسلسل سیاسی عدم استحکام بار بار کابینہ میں تبدیلیاں اور آئینی جمہوری خامیوں نے جمہوری تسلسل کو متاثر کیا۔ اگرچہ بعض اوقات عدلیہ یا پارلیمانی طریقے سے بحال بھی ہوئی، ان ممالک میں مرکزی قیادت اور قائدانہ مرکزیت طاقت کا حد سے زیادہ مرکزیت میں جمع ہونا، ادارہ جاتی کمزوری، آزاد عدلیہ، میڈیا اور سیکیورٹی اداروں میں توازن کمزور ہونا معاشی بد انتظامی، عوامی ناراضگی اور سیاسی بحران نے جنم لیا۔ موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں الگ الگ انداز میں ظاہر ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، ضلعی ڈویژن اور تحصیل سطح پر باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کی خراب صورتحال، سیاسی عدم استحکام پاکستان کے ملکی نوجوانوں جو پاکستان کا مستقبل ہیں ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ہر جماعت کے آئین میں شفاف امیدوار چننے کے ضوابط، شکایات کے میکنزم اور مدت طے کرنی ہوگی۔ مقامی لیڈرز، ووٹر، رجسٹریشن، انتخابی ضوابط فورم اور ورکشاپس کے انتظامات کرنے ہوں گے۔ پارٹی فنڈنگ کے اخراجات کے باقاعدہ آڈٹ اور عوامی خلاصے پر توجہ دینی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو پالیسی سازی، امیدواروں کی نشاندہی اور شفاف الیکشن کرانا ہوں گے۔ نوجوان و خواتین لیڈر شپ پروگرام اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ صرف طاقت حاصل کرنے کے بجائے واضح پالیسی پر ایجنڈا بنائیں اور اس کی پیمائش کریں۔ سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی۔ قیادتوں کو بااختیار بنانے سے عوامی نمائندگی بہتر ہوگی۔ سیاسی جماعتیں صرف حکومت حاصل کرنے پر مرتکز رہیں گی جو تنظیمی کمزوریاں، جمہوریت کے بحران میں بدل سکتی ہیں۔ پارٹی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے ساتھ شراکت ضروری ہے۔ قطع تعلقی ہمیشہ جنگ زدہ لسانیت مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اندرونی اصلاحات کے بجائے صرف زبانی دعوے کریں تو عوام کا اعتماد کمزور ہوگا جس کے اثرات جمہوریت پر پڑھیں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں تو صوبائی، ضلعی سطح کی شاخیں، خود مختار فنڈ ریزنگ اور مقامی نمائندگی کو مضبوط کریں۔ نوجوان و خواتین کی قیادت کی مضبوطی اور پالیسی بیسڈ سیاست قائم کریں تاکہ پاکستان جمہوری تسلسل میں مستحکم رہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں تبھی کامیاب ہوں گی جب وہ عملی اقدامات کریں گی ورنہ پاکستان کی جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اپنے قومی اداروں جس میں پاک فوج جملہ اداروں اور پولیس پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور تو کر سکتا ہے مضبوط نہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال وزیراعلٰی خیبر پختون خواہ کی تازہ ترین تقریر ہے جسے ایک جذباتی تقریر کہا جا سکتا ہے۔

  • اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا

    نیتن یاہو کو آگاہ کیا گیا اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا

    امریکی صدر کا پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کرنا پاکستان کی عوام اور عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی باہمی رہائی اور امن معاہدے پر مصر میں دستخط ہو گئے ہیں۔ یہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سفارتی اور بڑی کامیابی ہے۔ علاقائی استحکام میں اضافہ ہوگا ارد گرد کے ممالک کے لیے بھی امن و خوشحالی لائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کی جیت ہے، جنگ کی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ماضی میں ایک مجوزہ معاہدے کی بنیاد پر قرارداد 2735 منظور کی تھی۔ جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر زور دیا گیا تھا مگر اس کی عملی پیش رفت ہمیشہ محدود رہی اور نقصان کا دائرہ وسیع ہوا۔ موجودہ معاہدے کی امریکہ، مصر، ترکی، قطر اور دیگر ممالک معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں جو ایک مثبت بین الاقوامی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ امید ہے غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع ملے گا اور خوراک، پانی، دوائیں وغیرہ کی فراہمی بہتر ہوگی۔ امریکہ نے اس معاہدے کی بہت شدت سے حمایت کی ہے اور اس معاہدے کو تاریخی کامیابی کہا ہے۔ مصر نے ثالث کا کردار نبھایا ہے اور اجلاس کی میزبانی کی۔ عرب ممالک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اسے استحکام کا راستہ قرار دیا ہے یہ معاہدہ ایک ابتدائی نقطہ عروج ہے۔ امید ہے امریکہ، مصر، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک جو اس معاہدہ میں شامل ہیں وہ کسی کو خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ تاہم اس کا کریڈٹ عالمی مبصرین امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو دے رہے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پہلے کھیلتا ہے، تدبیریں کرتا ہے، پیش قدمی کرتا ہے، پیچھے ہٹتا ہے، گولی چلاتا ہے، یاد کرتا ہے اور راستہ بدلتا ہے، ساری دنیا اس کی حرکات و سکنات کو دیکھتی ہے، وہ عالمی سطح کا رونالڈو ہے، وہ بالی وڈ کے سٹارز سے زیادہ پرجوش ہے، وہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے اور یقین دلاتا ہے، وہ دھمکی دیتا ہے پھر معاہدہ کرتا ہے، وہ انتہائی حد تک جانے کا بہانہ کرتا ہے پھر کم سخت شرائط کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے، عالمی مبصرین کے مطابق دنیا اس کے مزاج کے مطابق اپنی رفتار طے کر رہی ہے، وہ سوشل میڈیا میں ہلچل مچانے کے لیے کافی ہے، وہ ایک شعلہ بیاں خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہے، اس کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے، ناراض ہو جاتا ہے، مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا۔ مبصرین نے کہا ہے کہ ان کے معاونین انکی لامتنائی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی تاریخ کے عظیم ترین صدر ہیں کیونکہ وہ ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے۔ غزہ کی جنگ کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے، کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، مغربی کنارے کا کوئی الحاق نہیں ہوگا۔ حماس اپنے ہتھیاروں اور سرنگوں کو الوداع کہہ دے گی اور غزہ پر حکمرانی بند کر دے گی۔ فلسطینی اتھارٹی کا انحصار ان اصلاحات پر منحصر ہے جو وہ انجام دے گی۔ صورتحال ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو کو اگاہ کیا کہ اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا۔ امید ہے اس کا نتیجہ بھی کامیاب رہے گا۔ دوسری طرف امریکی صدر جو پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کر رہے ہیں جو پاکستان کی عوام اور پاک فوج کی عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارت حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

  • بھارت کی افغانستان  میں دلچسپی پاکستان  کے لئے براہ راست سلامتی  کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور دہشت گردی کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کے ذکر نے ہلاکر رکھ دیا تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط شدہ اس دستاویز پر عمل نہ کرنا بقول شاعر:
    مجروح قافلے کی میری داستان یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں ،مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے۔ ذرا سوچئے ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ کیوں یہ آگ بھڑک اُٹھتی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ بات تو طے ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور آج بھی ملوث ہے ۔ علاقائی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے نہ صرف خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کی ہیں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے بھارت کی افغانستان میں دلچسپی کوئی نہیں بات نہیں۔ 2001 کے بعد بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جن میں سے ،سلم ڈیم ، افغان پارلیمنٹ بلڈنگ اور مختلف سڑکوں وتعلیمی منصوبوں کی تعمیر شامل ہے ۔ یعنی بھارت وسط ایشیا تک اپنی رسائی بڑھانا اور پاکستان کے مغربی اثر کو محدود کرنا ہے ۔ طالبان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بھارت پھر افغانستان کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے جو ظاہرکرتا ہے کہ دہلی اپنی نرم طاقت کی حکمت عملی دوبارہ فعال کررہا ہے ۔ بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ہے۔ خاص طورپر کے پی کے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں۔ بھارت افغانستان تعاون علاقائی تجارت، مفادات خصوصا سی پیک اور وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے منصوبوں پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔ چین ، ایران اورروس افغانستان میں استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے اپنے مفادات ہیں۔

    چین پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے معاشی راہداری قائم کرنا چاہتاہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ بھارت کی سرمایہ کاری اس کے راستوں سے ہو جیسے چاہ بہار پورٹ ۔ اس پیچیدہ ماحول میں پاکستان کو محتاط مگر متحرک سفارتکاری اختیار کرنا ہوگی ۔ پاکستان کو اپنے مفادات کویقینی بنانا ہوگا۔ چین، ایران ، ترکی اور روس جیسے ملک کے ساتھ پالیسی ہم آہنگی بڑھانا ناگزیر ہے ۔ عالمی فورمز پر پاکستان کو شواہد کے ساتھ بھارت کے کردار کو پیش کرنا چاہیئے۔ اندرونی استحکام کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا اصل مضبوط داخلی نظام ، سیاسی اتفاق رائے اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے ۔ بھارت افغانستان کے تعلقات کا بڑھانا خطے کے لئے نیا منظر نامہ تخلیق کررہا ہے ۔ پاکستان کے لئے یہ چیلنج ضرور ہے مگر خطرہ تب بنتا ہے جب وہ محض رد عمل میں پالیسی بنا ئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان حکمت عملی ، سفارتی کاری اور داخلی استحکام تینوں محاذوں پر متوازن اور سنجیدہ کردار ادا کرے۔ خطے میں امن و استحکام کادارومدار اسی بات پر ہے کہ ہر ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے یہی امن کی بنیاد ہے۔

  • نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے قربانی، ایثار اور ایمان کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے اپنے سپوتوں کے خون سے وفا کے چراغ جلائے، اور ہر دور میں دشمن کے سامنے سربلند رہی۔ آج جب فتنۂ خوارج اور دہشت گردی کے سائے ایک بار پھر امن کی روشنی کو گہنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو وطنِ عزیز کے فرزندانِ توحید پھر سے ایک عزمِ نو کے ساتھ میدان میں صف بستہ دکھائی دیتے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں قوم کے پاس ایک ایسی حکمتِ عملی موجود ہے جو محض قانون نہیں بلکہ ایک عہد، ایک پیمان، اور ایک عزم ہے—کہ وطن کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔پاک فوج کے ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس میں جو پیغام قوم کے نام آیا، وہ دراصل ریاستی عزم کی گونج تھی۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد ہی امن و امان کی ضمانت ہیں،

    قوم جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں میں جو جوان دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں، وہ محض سپاہی نہیں، بلکہ اس قوم کی غیرت اور ایمان کے امین ہیں۔ ان کی شہادتیں، ان کی قربانیاں کسی فرد یا ادارے کی نہیں، بلکہ پورے وطن کی اجتماعی میراث ہیں۔یہی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی بن کر جلتے ہیں، اور جن کے دم سے وطن کے افق پر امید کے دیے روشن رہتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت میں انتشار، منافقت یا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، فتنۂ خوارج نے ہی اس کی بنیاد رکھی۔آج بھی وہی ذہنیت، وہی زہر، نئے چہروں اور نئے ناموں سے وطنِ عزیز میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ عناصر کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اور کبھی آزادی کے نام پر قوم کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔انہی کے تعاقب میں افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، اور یہ قربانیاں اس بات کی ضمانت ہیں کہ قوم دہشت گردی کے اس اندھیرے کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر دم لے گی۔

    یہ کوئی راز نہیں کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہے۔ایک طرف وہ دہشت گردی کو فروغ دے کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف عالمی برادری کے سامنے امن کا علمبردار بننے کا ناٹک کرتا ہے۔مزید افسوس کا مقام یہ ہے کہ افغانستان، جو کبھی برادر اسلامی ملک کہلاتا تھا، آج خاموش تماشائی بن کر دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔کیا ایک اسلامی ہمسایہ ملک کا یہ شایانِ شان رویہ ہے؟کیا یہ امتِ مسلمہ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ وہ امن کے دشمنوں کے خلاف صف بستہ ہو جائے؟یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے، پاکستان کا صبر کمزوری نہیں بلکہ حکمت ہے، اور اس کی خاموشی تدبر کا مظہر۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان صرف ایک سرکاری پالیسی نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہری کا اجتماعی عہد ہے۔یہ پلان اُس فلسفے پر قائم ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف گولی سے نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، روزگار، گورننس، اور قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔جب خیبر پختونخوا میں گورننس بہتر ہوگی، جب بلوچستان کے نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں گے، جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا، تب ہی وہ خواب حقیقت بنے گا جس میں امن ایک نعمت نہیں بلکہ ایک فطری حق بن جائے گا۔

    یہ وقت تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے میں کردار ادا کرنے کا ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، فرقہ واریت اور سیاسی تقسیم کے زہر کو ترک کرنا ہوگا۔قوم کے ہر طبقے، ہر فرد اور ہر ادارے کو یہ عہد دہرانا ہوگا کہ یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم نہ ماضی میں جھکی ہے، نہ آج جھکے گی۔یہ قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، جس کے پیچھے ایمان کی قوت اور قربانی کا عزم ہے۔افواجِ پاکستان کے بہادر سپوت اور عوام کے مخلص دل ایک ساتھ کھڑے ہیں ایک ہی مقصد کے لیےمامن، استحکام اور مادرِ وطن کی حفاظت۔

    تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ وہ قومیں کبھی فنا نہیں ہوتیں جو اپنے شہداء کا خون ضائع نہیں جانے دیتیں۔
    آج جب دشمن چاروں جانب سے نفسیاتی، فکری اور عسکری حملے کر رہا ہے، تو ہمیں ایک ایسی صف میں کھڑا ہونا ہوگا جہاں کوئی کمزور کڑی نہ ہو۔یہی قومی یکجہتی، یہی ایمان، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔یہ وطن ہمارا ہے، اور ہم اس کے محافظ ہیں۔ہم اپنی جانوں سے زیادہ اپنے پرچم کو عزیز رکھتے ہیں۔ہم اس سرزمین کے ہر ذرے کی حفاظت کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کو تیار ہیں۔ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی فضاؤں میں امن کا پرچم پھر سے پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رہا ہوگا،اور شہداء کے خون سے سینچی گئی یہ دھرتی ہمیشہ کے لیے دہشت کے سائے سے آزاد ہو جائے گی۔

  • امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    کبھی کبھی قوموں پر ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب وہ اپنے وجود، اپنی بقا اور اپنی سمت کے تعین کے لیے خود سے سوال کرتی ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑا ہے ، ایک ایسا موڑ جہاں دشمن صرف سرحدوں کے پار نہیں بلکہ ہمارے اندرونی امن اور یکجہتی کو بھی للکار رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نعرہ ہمیں متحد کر سکتا ہے تو وہ ہے: نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد،ترجمانِ پاک فوج کی حالیہ پریس کانفرنس میں یہی پیغام پوری وضاحت سے سامنے آیا۔سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کے نکات قومی منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسا منشور جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوقوں سے زیادہ، ارادوں اور اتحاد سے جیتی جاتی ہے۔

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر ہمارے زخم ہرے کر دیے ہیں۔ ہمارے نوجوان شہید ہو رہے ہیں، ماؤں کے آنچل لہو سے تر ہو رہے ہیں، اور دشمن اپنی ناپاک سازشوں میں مصروف ہے۔ان حملوں کے پیچھے ازلی دشمن بھارت ہے، جو “فتنۂ خوارج” کے ذریعے وطنِ عزیز کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔کیا برادر اسلامی ملک کا یہ رویہ زیب دیتا ہے کہ پاکستان کے صبر اور بارہا احتجاج کے باوجود وہ ان عناصر کو روکنے میں ناکام رہے جو پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کا خون بہا رہے ہیں؟یہ صرف پاکستان نہیں، پوری امتِ مسلمہ کا اخلاقی امتحان ہے۔

    نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات صرف ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ وہ آئینہ ہیں جن میں ہم اپنی کمزوریاں اور ترجیحات دیکھ سکتے ہیں۔ ان نکات پر عملدرآمد ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ پلان سیاسی ترجیحات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کہیں فرقہ واریت کا زہر، کہیں صوبائی تعصب کی دیوار، اور کہیں مصلحت کی دبیز تہہ نے اس پلان کی روح کو ماند کر دیا۔اب وقت آگیا ہے کہ اس بھولی ہوئی ترجیح کو ازسرنو زندہ کیا جائے۔نیشنل ایکشن پلان کو محض کاغذی خاکہ نہیں بلکہ ریاستی عزم اور عوامی اعتماد کا استعارہ بنانا ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے ہمارے بہادر سپاہی اور جوان دراصل اس قوم کے وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں بھی روشنی بانٹتے ہیں۔ ان کی شہادتیں محض تاریخ کے اوراق نہیں بلکہ عہدِ وفا کی داستانیں ہیں۔یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری ملتِ پاکستان کی مشترکہ میراث ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وطن کی حفاظت کسی ایک فورس یا طبقے کی ذمہ داری نہیں ، یہ ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔

    دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اس کا مقصد ایک ہی ہے، انتشار، خوف اور بداعتمادی پھیلانا۔ لیکن یہ قوم وہی ہے جو بارہا لہو میں نہا کر بھی سر اٹھا کر کھڑی ہوئی۔افواجِ پاکستان اور عوام آج بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات سے نہیں، عزم اور تدبر سے کام لیں۔پاکستان کی سیکورٹی کی ضمانت ہماری افواج ہیں، مگر پائیدار امن کی بنیاد عوامی یکجہتی ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد، صوبوں میں بہتر گورننس، انصاف تک عام رسائی، اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی ہی وہ راستہ ہے جو قوم کو دوبارہ اعتماد اور سکون کی فضا مہیا کر سکتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ محض بندوقوں کی گھن گرج سے نہیں جیتی جا سکتی؛ اس کے لیے فکری بیداری، قومی شعور اور اجتماعی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے” محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے اور یہ عہد ہم سب کو نبھانا ہے۔آج جب دشمن ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، ہمیں اپنے گھر کے چراغ مضبوطی سے تھامنے ہیں۔یہی قومی اتحاد، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل، یہی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ یکجہتی ہمارا ہتھیار ہے، ہماری ڈھال ہے، ہمارا فخر ہے۔امن کی صبح دور نہیں، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کر لیں، اور اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک بار پھر متحد قوم بن جائیں،پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم کبھی جھکنے والی نہیں، اور یہ وطن ہمیشہ اپنے شہیدوں کے لہو سے زندہ رہے گا۔ یہ وقت قوم کے اتحاد، نیشنل ایکشن پلان کے احیاء اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا ہے۔ کیونکہ جب قوم اور فوج ایک ہو جائیں تو کوئی دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، پاکستان کے امن کو پامال نہیں کر سکتا۔

  • غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ، جنگ بندی انسانیت کیلئے امید کی نئی کرن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ، جنگ بندی انسانیت کیلئے امید کی نئی کرن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کی ان کوششوں سے ثابت ہوا کہ جب دنیا ایک ساتھ انسانیت کے لیے کھڑی ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے

    پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ سیاسی محاذ پر انتشار، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے

    عوام کے دکھ، مسائل اور امیدیں سیاسی کھینچا تانیوں میں دب گئیں سیاست خدمت کے بجائے ایک کھیل یا تماشہ بن چکی ہے

    مریم نواز عوامی خدمت کے ذریعے عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیں مگر کچھ سیاستدان اس کے خلاف سازش میں مصروف ہو گئے ہیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    غزہ میں امن کی جانب پیش رفت اور قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ ایک انسانی سطح پر بڑی کامیابی ہے خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو برسوں سے درد، جدائی اور خوف میں جی رہے تھے۔ غزہ میں جنگ بندی کی خبریں انسانیت کے لیے امید کی نئی کرن ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی انتظامیہ، یورپی ممالک، اسلامی دنیا اور تمام ان ممالک کا جنہوں نے اس امن میں مثبت کردار ادا کیا۔ امن کی یہ کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ جب دنیا ایک ساتھ انسانیت کے لیے کھڑی ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ امن دیر پا ہو گا اور غزہ سمیت پوری دنیا میں انصاف، احترام اور بھائی چارہ قائم ہوگا۔ دوسری جانب پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب ملک کے لیے ہمارے جوان اپنی جان قربان کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف سیاسی رہنما اپنے ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش اور ایک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوتے ہیں۔ عوام کے دکھ، مہنگائی اور سکیورٹی جیسے اصل مسائل اکثر پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی عوام میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ سیاست خدمت کے بجائے ایک کھیل یا تماشہ بن چکی ہے۔ جب تک سیاستدان قوم کے حقیقی مفاد کو اپنی انا اور مفادات سے اوپر نہیں رکھیں گے تب تک دورِ ابتلاء جاری رہے گا۔ پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے ایک طرف ملک کی بہادر فوج روزانہ اپنی جانیں قربان کر کے وطن کے امن، سلامتی کی حفاظت کر رہی ہے، اور دوسری طرف سیاسی محاذ پر انتشار، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے۔ عوام کے دکھ، مسائل اور امیدیں ان سیاسی کھینچا تانیوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ وعدے تو کرتی ہیں مگر عملی طور پر اکثر ان کے فیصلے ذاتی مفاد، طاقت اور انتقام کے گرد گھومتے ہیں۔ پارلیمان کے ایوانوں سے لے کر میڈیا کے مباحثوں تک شائستگی اور دلیل کی جگہ طنز، الزام اور شور و غوغا نے لے لی ہے۔ عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے وہ سیاست دانوں کی تقاریر میں امید ڈھونڈتا ہے مگر ہر بار اسے مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔ عوام کے نزدیک سیاست اب خدمت کا نہیں بلکہ مفاد کے تحفظ کا کھیل بن چکی ہے ایک ایسا کھیل جس میں ہار ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے۔ عجب تماشہ ہے جو سیاست دان عوام کی خدمت کے راستوں پر چلتا ہے اس کے خلاف سازش شروع ہو جاتی ہے اس کی مثال مریم نواز ہے۔ بلاشبہ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب میں عوام کی خدمت کرتے ہوئے عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیں حیرت ہے کہ اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے کچھ سیاستدان اس کے خلاف سازش میں مصروف ہو گئے ہیں جو عوام کے حقوق پر ایک ڈاکے کے مترادف ہے۔ ملک کو اس وقت اتفاق، انصاف اور حقیقی قیادت، ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کے زخموں پر مرہم رکھ سکے نہ کہ انہیں مزید گہرا کرے۔ جب تک سیاست میں اخلاقیات، شفافیت اور قومی مفاد کو ترجیح نہیں دی جاتی پاکستان اپنی حقیقی ترقی اور استحکام کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

  • گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ . امن پر حملہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ . امن پر حملہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    غیر قانونی ریاست اسرائیل نے ایک طویل عرصے سے مشرق وسطی میں دہشت و بد امنی کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ دہشت گرد ریاست روز امن اور انسانی حقوق کے اصولوں کی دھجیاں بکھیرتی جا رہی ہے۔ اگر کوئی ملک یا مزاحمتی تنظیمیں جیسے حماس اور حزب اللہ مزاحمت کرتی ہے۔ تو امریکہ ، غیر قانونی ریاست اسرائیل کی پشت پناہی کے لئیے حاضر پایا جاتا ہے۔ فلسطینی علاقوں پہ اسرائیلی جارحیت روز کا معمول بن چکا ہے۔ دہشت گرد اسرائیل کا غزہ پر زمینی، بحری اور فضائی محاصرہ جاری ہے۔ جس سے وہاں امداد و خوراک کی شدید قلت واقع ہو چکی ہے۔ اسرائیلی بمباری و دہشت گردی سے روز فلسطینی مسلمان شہید ہو رہے ہیں۔ جو بچے ہیں۔ وہ بھوک اور ادویات کی کمی سے مر رہے ہیں۔ اب تک 66 ہزار سے زائد مظلوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ادارے محض بے بس نظر آتے ہیں۔

    اس سنگین صورتحال میں مختلف ممالک نے غزہ کی جانب ایک پرامن بحری سفر کا آغاز کیا۔ تاکہ غیر قانونی اسرائیل کا غزہ پر بحری محاصرہ پر امن طریقے سے توڑا جا سکے۔ اور غزہ کے محصور عوام کو امداد پہنچائی جا سکے۔ مگر اس پرامن قافلے پہ بھی اسرائیلی جارحیت نہ رک سکی۔

    31اگست 2025ء کو بارسلونا (اسپین) سے اس بحری امدادی قافلے کا آغاز ہوا۔ جسے گلوبل صمود فلوٹیلا کا نام دیا گیا۔فلوٹیلا بحری اصطلاح میں چھوٹے جہازوں یا کشتیوں کے قافلے کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ صمود عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ڈٹ جانے،مزاحمت، استقامت اور ثابت قدم رہنے کے ہیں۔ اس قافلے میں اہم جہازوں میں Handala, Mavi Marmara ll, Marinette, Akdeniz, Freedom, Hope, Naji Al_Ali، Solidarity اور justice شامل تھے۔ جبکہ کئی اہم تنظیموں نے اس میں شرکت کی۔

    اس فلوٹیلا میں 44 سے زائد ممالک کے 500 سے زائد اہم اراکین، جن میں ڈاکٹر، انسانی حقوق کے کارکنان، پارلیمنٹیرینز، مذہبی رہنما اور صحافی وغیرہ سوار تھے۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ جبکہ اس فلوٹیلا میں الجزیرہ ٹی وی کے صحافی حسن مسعود اور نیلسن منڈیلا کے پوتے زویلی ویلی منڈیلا بھی شامل تھے۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا یعنی "عالمی استقامت کا بحری قافلہ” دراصل 30 مئی 2010ء غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کے لئیے جانے والے بحری قافلے Freedom Flotilla Coalition کا ہی تسلسل ہے۔ جس کے اہم مقاصد میں غزہ کے بحری محاصرے کو توڑنے کی علامتی کوشش کرنا ، وہاں کے محصور عوام تک امداد، ادویات اور خوراک کی فراہمی نیز مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ء یکجہتی تھا۔ نیز عالمی میڈیا اور اداروں کی توجہ غزہ کی سنگین صورتحال کی طرف دلانا بھی مقصود تھا۔ اس لحاظ سے گلوبل صمود فلوٹیلا انسانی ، اخلاقی اور سیاسی تینوں حوالوں سے ایک پُرامن اور مضبوط مشن تھا۔

    بدقسمتی سے امدادی کارکنوں کے اس پر امن مشن کو بھی اسرائیلی جارحیت سے استثنیٰ حاصل نہ رہا۔ اور مختلف مقامات پہ اس پہ ڈرون حکمت جاری رہے۔ پہلا ڈرون حملہ 8 ستمبر کو تیونس کے قریب ،دوسرا 24 ستمبر اور تیسرا 28 ستمبر 2025ء کو ہوا۔ بالآخر 2 اکتوبر 2025ء کو اسرائیلی نیوی نے فلوٹیلا کے بیشتر جہازوں اور کشتیوں کو قبضہ میں لے لیا۔ 3 اکتوبر 2025ء کو آخری جہاز Marinette کو بھی غزہ سے 42.5 بحری میل کے فاصلے پہ روک کر قبضے میں لے لیا۔ امدادی کارکنوں کو گرفتار اشدود کی بندرگاہ منتقل کر دیا گیا۔ اور ان کے فونز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق کچھ ممالک کے امدادی کارکنوں کو استنبول ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔

    ڈاکٹروں اور صحافیوں پر مشتمل ایک امن امدادی فلوٹیلا پر حملہ درحقیقت امن پہ حملہ ہے۔ اسوقت جبکہ امریکی صدر جنگ بندی کے لیے اپنی مرضی کے پلان دے کے حماس کو دھمکیوں سے آمادہ کرنے کی کوشش میں تھے۔ اسرائیل تب بھی اپنے دہشت گردی جاری رکھے ہوئے تھا۔ اب جبکہ حماس نے بھی ٹرمپ کے 20 نکاتی پلان پہ آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ جس کی رو سے غزہ کا انتظام غیر فلسطینی ٹیکنوکریٹس ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ نہ تو فلسطینی علاقوں پہ اسرائیلی بمباری رکی ہے۔ نہ ہی غزہ میں امداد کے لئیے محاصرہ ختم کیا گیا ہے۔ 4 تا 5 اکتوبر یعنی صرف 24 گھنٹوں 66 فلسطینی شہید کر دیئے گئے ۔ جن میں بچے بھی شامل تھے ۔

    اقوا متحدہ میں ہونے والی حالیہ کانفرنس میں قریباً ہر ملک اسرائیلی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ اور اسے حل کی طرف لے جانے کے لئیے ایپل کی ہے۔ یہاں تک کہ جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک نے عالمی عدالت (IJC) میں اسرائیل پہ فلسطینیوں کی نسل کشی کو مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

    پاکستان نے فلسطین پہ ہمیشہ ایک واضح موقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان جلد آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے۔ جس کا دارالحکومت القدس شریف تسلیم کیا جائے۔ یہی وقت ہے۔ کہ اب مسلم امہ کو متحد ہو کر اس مطالبے پہ عمل درآمد کروانا ہو گا۔ تاکہ خطے میں غیر قانونی ریاست اسرائیل کی دہشت گردی کو روکا جا سکے۔
    ظلم کے خلاف مزاحمت نہ کبھی رکی ہے۔ نہ رکے گی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق10 کشتیوں پر مشتمل "ضمیر” نامی ایک اور امدادی فلوٹیلا غزہ کی جانب محو سفر ہو چکا ہے۔
    ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب مظلوم فلسطینیوں کو کفار کے تسلط سے آزادی حاصل ہو گی ۔ اللہ رب العزت جلد فلسطین کے عوام کو امن اور آزادی عطا فرمائے۔ آمین

    اے ارضِ فلسطین کے جانباز سپوتو!
    ہمت نہ کبھی جہد کے میدان میں ہارو!

    تم اصل میں ہو مسجدِ اقصیٰ کے نگہبان
    رہنا ہے تمھیں شام و سحر بر سرِ پیکار

  • بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    ”سدا بہار افسر“
    ’باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے یہ افسران سنئیر افسران، وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ہوتے ہیں۔ جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور من مرضی کی پوسٹنگ لیتے ہیں۔ یہ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں مگر ماتحت اور عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔

    ”ٹک ٹاکر افسران“
    ان کی مثال ”جِنا لُچا اونا اُچا“ والی ہے جو جتنا زیادہ قانون شکن، کرپٹ اور واحیات ہوتا ہے وہ سوشل میڈیا پر اتنا زیادہ اچھا دکھنے کی ایکٹنگ کرتا ہے بلکہ اگر صحیح تشریح کی جائے تو ان افسران میں لُچے اور ٹُچے والی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں. پہلے افسران اپنی عظیم الشانی کی وجہ سے مشہور ہوتے تھے اب ذلیل الشانی سے۔
    ٹک ٹاکر افسران کی ذلیل ترین قسم والے افسران کی ویڈیو سامنے آتے ہی منہ سے بے ساختہ گالیاں نکل جاتی ہیں کیونکہ یہ اس قدر بے حس اور غیرت سے عاری ہوچکے ہیں کہ اپنی ویڈیو ایکٹنگ کیلئے معزز شہریوں کی پرائیویسی خراب کر رہے ہوتے ہیں۔

    سستے ایکٹر:
    اکثر دفتر اور سرکاری گاڑی کی ویڈیوز لگاتے ہیں تو کبھی انصاف کی بروقت فراہمی کی فیک اور پلانٹڈ ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔
    ایسے افسران اپنی سستی ایکٹنگ سے ناصرف اپنا گھٹیا پن ثابت کرتے ہیں بلکہ افسری کو داغدار کرتے ہوئے ساری سول سروس کیلئے گالی بنے ہوتے ہیں۔ تمام مرد افسران کی سستی ایکٹنگ اتنی بری اور گھٹیا نہیں ہوسکتی جتنی چند خواتین افسران خاص طور پر خواتین پولیس افسران کی ہے۔ خواتین افسران تو باقی خواتین کیلئے قابل تقلید حد تک مہذب ہوتی تھیں لیکن نئی افسران نے شوبز انڈسٹری کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    مجبور ٹک ٹاکر:
    کچھ افسران پہلے والی اقسام کی اوورایکٹنگ اور سنئیرز کی ڈیمانڈ کے ہاتھوں مجبور ہوکر بھی ٹک ٹاکر بنے ہوئے ہیں کہ اگر ویڈیوز نہ بنائی تو سیٹ چھن جائے گی۔

    ”ادیب افسر“
    پہلی بات تو یہ ہے کہ سرکاری افسر کا ادیب ہونا کوئی فخر والی بات نہیں ہے اسے جس کام کیلئے سرکار نے بھرتی کیا ہے وہی کرنا چاہئے۔ادب کا سہارا لینے والوں میں اکثریت نہ ادیب ہوتے ہیں اور نہ اچھے افسر۔

    کاروباری افسرگروپ:
    یہ اپنی سرکاری نوکری اور عہدوں کے مطابق جس محکمے میں بھی جاتے ہیں وہاں کاروباری لائن سیدھی کرلیتے ہیں۔ یہ اپنے مخصوص کاروباری گروپ کے علاوہ نہ تو کسی کی سفارش مانتے ہیں اور نہ ہی کوئی لین دین کرتے ہیں۔

    ”دیانت دار افسر“
    افسروں کی ایک ناپید قسم ہے، انہیں زیادہ تر کھڈے لائن پوسٹنگ ہی ملتی ہے، کبھی یہاں کبھی وہاں ”رولر کوسٹر“ کی طرح دھکے کھاتے رہتے ہیں۔جب ہر طرف پیسوں کی لین دین سے پوسٹنگ کا بازار گرم ہوتا ہے تو چیف سیکرٹری اور آئی جی حضرات ایسے دو، چار ایماندار افسران کو بھی پوسٹ کردیتے ہیں تاکہ یہ کہہ سکیں کہ اگر میرٹ پر پوسٹنگ نہیں ہورہی تو فلاں افسرکا تو سب کو پتا ہے کہ انتہائی دیانتدار ہے وہ کیسے لگ گیا۔

    ”کنسیپٹ کلئیر افسران“
    ایسے افسران کا مائنڈ سیٹ کلئیر ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔شدید کرپٹ ہونے کی وجہ سے کسی کی کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ سگے باپ کی بھی بات نہیں مانتے جبکہ اپنے ٹاؤٹ کی کال کہیں بھی کسی بھی حالت میں فوراً سے پہلے رسپانس کرتے ہیں۔

    بچے افسران:
    بیوروکریسی میں بچہ کلچر عام اور زبان زد عام ہوچکا ہے کہ یہ فلاں افسر کا بچہ ہے۔ فلاں کا کماؤ پتر اور فلاں کا ”پلاؤ پتر“ہے۔بچے بننے کے مختلف مراحل ہے کمائی کے لحاظ سے کماؤ بچوں کی اکثریت بطور سیکشن آفیسر اور سب رجسٹرار کلک ہوتے ہیں۔ کنسیپٹ کلئیر افسران ان سیٹوں پر سنئیر افسران کے مُنشی بن کر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور یوں صاحب کا بچہ بن جاتے ہیں اور سارا کیرئیر اس سنئیرز کا بچہ بن کر گزار دیتے ہیں وہی سنئیر نہ صرف اس کیلئے پوسٹنگ مینج کرتا ہے بلکہ شیلٹر بھی فراہم کرتا ہے۔ سنئیر افسر اور بچہ دونوں جہاں بھی بیٹھیں گے ایک دوسرے کے سو کالڈ کارنامے اور فضائل بیان کریں گے۔

    جو افسران جونئیر لیول پر کلک نہیں ہوتے جب گریڈ 18اور انیس میں سسٹم کو سمجھ لیتے ہیں تو جس آفسر کا دامن وہ بچہ بن کر تھامتے ہیں وہ پھر اس کو پوسٹنگ کیلئے ایسے انٹرڈیوس کرواتا ہے کہ سر آپ کو دی بیسٹ بچہ دے رہا ہوں، قابل اور ”ریاضی“ کا ماہر ہے لیکن کمٹمنٹ کا پکا ہے اُس کی طرح نہیں کہ ہر جگہ منہ مارتا ہے۔ بیوروکریسی کے بچہ کلچر میں اس بات کو معیوب بھی سمجھا جاتا ہے انکا بچہ ہر کسی کا بچہ نا بنے، بلکہ ”لو پروفائل” اور ”نان سوشل” رہنا ہے تاکہ بچہ کوئی غلطی نہ کرجائے، بچے تو بچے ہوتے ہیں بعض اوقات نہ بتانے والی بات بھی منہ سے نکال دیتے ہیں اس لیے بچے کو جتنا سنبھال کے رکھا جاسکتا ہو رکھا جاتا ہے۔
    چالیس پینتالیس سال کا افسر بھی بچہ کہلانا فخر محسوس کرتا ہے۔
    بات صرف اتنی ہے جب بچہ بننا فائدے کا سودا ہو تو پھر بچہ بننا اور کہلانا فخر اور شیلٹر محسوس کرتے ہیں۔ جس قدر تیزی سے یہ بچہ کلچر پروان چڑھ رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بیوروکریسی کی عزت اور وقار بالکل ختم ہوجائے اور ہر کوئی بچہ بننے اور کہلانے کی ڈور میں لگ جائے۔

  • امن منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلیے مودی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کو دھمکی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلیے مودی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کو دھمکی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے

    امریکی صدر اپنی سفارتی قیادت استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن و مذاکرات کا فریم ورک قائم کریں

    پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا نہ کہ دہشت گردی کا ذمہ دار، دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان میں بھارت ہے

    بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا رہا انہیں مالی سپورٹ بھی کرتا رہا

    بھارتی حکومت، بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی عوام ہوش کے ناخن لیں ورنہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    توجہ برائے امریکی صدر ٹرمپ، توجہ برائے یورپی یونین، توجہ برائے اقوام متحدہ، جب وائٹ ہاؤس سے امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ سے دنیا میں صدائیں بلند ہونے لگی ہیں جنگ نہیں امن۔ دنیا میں اس پر عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں اس کی تازہ مثال اسرائیل اور فلسطین کے لیے بیس نکاتی فارمولا پیش کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے دنیا میں امن منصوبے کو سبوتاز کرنے کے لیے بھارت کی مودی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو دھمکی دی ہے۔ ثابت ہوا بھارت ایک ملک کے ساتھ ساتھ دہشت گرد ملک ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سرحدی مسلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ امریکی صدر اپنی سفارتی قیادت استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن و مذاکرات کا فریم ورک قائم کریں۔ بالکل ویسا ہی جیسے فلسطین اسرائیل کے تنازعے کے لیے پیش کیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ پاک فوج پولیس اور عوام نے قربانیاں دیں جس کا ایک عالم گواہ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا رہا انہیں مالی سپورٹ بھی کرتا رہا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کراچی اور دیگر شہروں میں دہشت گردی میں ملوث رہا جس کے ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا نہ کہ دہشت گردی کا ذمہ دار، دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان میں بھارت ہے جس کی ثبوت عالمی دنیا کے پاس موجود ہیں۔ ہماری پاک فوج جملہ اداروں، پولیس اور عوام نے لہو سے امن کا چراغ جلایا۔ آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد اس بات کا ثبوت ہیں پاکستان نے بھارت کی جانب سے بھیجے گئے نیٹ ورک کو توڑا اور اپنے ملک و قوم کو بچایا۔ یعنی بھیجے گئے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا اور اپنے ملک کو قوم کو بچایا بھارت اب بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وقت آگیا ہے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے دنیا سچ کا ساتھ دے پاکستان امن چاہتا ہے جنگ نہیں چاہتا۔ امریکہ مغربی ممالک اور دیگر عالمی قوتیں جنوبی ایشیا میں ایک ایسا خطرہ ابھر رہا ہے جو صرف پاکستان بھارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام، انسانی المیے اور ممکنہ وسیع البنیاد تنازع میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ خطرہ اگر بروقت، معقول اور غیر جانبدار سفارتی مداخلت سے نہ روکا گیا تو بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع، ماجرین کے ہجوم اور خطے میں بین الاقوامی کشیدگی کے اضافے کا سبب بن سکتا ہے جو عالمی سلامتی اور اقتصادی استحکام دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ بھارتی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی عوام ہوش کے ناخن لیں ورنہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں۔

  • آزاد کشمیر میں احتجاج: غیر ضروری ہنگامہ،تحریر:یوسف صدیقی

    آزاد کشمیر میں احتجاج: غیر ضروری ہنگامہ،تحریر:یوسف صدیقی

    آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کے مظاہرے انتظامیہ اور عوام دونوں کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں یہ مظاہرے شروع میں پرامن تھے، مگر کچھ مقامات پر صورتحال پرتشدد بھی ہو گئی۔ تین پولیس اہلکار اور ایک شہری جاں بحق ہوئے جبکہ سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ احتجاج قابو سے باہر ہے اور انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔

    مظاہرین کے 38 نکاتی مطالبات میں بجلی، گندم اور دیگر ضروری اشیاء پر سبسڈی شامل تھی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مطالبات پہلے ہی پورے کر دیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں آج بجلی اور آٹا سستی دستیاب ہیں۔ باقی رہ جانے والے مسائل بنیادی طور پر قانون سازی کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، جس کے لیے وقت درکار ہے۔ اس کے باوجود، کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے تحت احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں، جس سے عوامی مسائل کا اصل مقصد دھندلا گیا ہے۔

    اس احتجاج میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تنظیم کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا موقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے اور پاکستان یا بھارت دونوں کی مداخلت سے بچنا چاہیے۔ JKLF کے رہنما عوامی ایکشن کمیٹی کے ذریعے مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ عوامی مفاد کے اصل مسائل پہلے ہی حل ہو چکے ہیں۔ باقی رہ جانے والے مسائل قانون سازی کے ذریعے حل ہوں گے۔ بعض حلقے JKLF کی قیادت میں احتجاج کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ JKLF اور دیگر سیاسی گروہ پرامن اور قانونی راستے اپنائیں تاکہ احتجاج صرف ہنگامہ یا سیاسی مفاد کا ذریعہ نہ بنے۔

    مظاہرین میں شامل کچھ گروہ عوام کو بلیک میل کر کے احتجاج میں شامل کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عوام کے حقیقی مسائل پس پشت رہ گئے ہیں۔ سڑکوں پر شور مچانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پرامن مذاکرات اور قانونی طریقے ہی اصل حل ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کو چاہیے کہ وہ عوامی مفاد میں سنجیدہ اقدامات پر توجہ دیں۔

    حکومت پاکستان نے فوری اقدامات کیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی، متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کی اور مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ حکومت کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے نوے فیصد مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور باقی پر بات کے لیے بھی تیار ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے بھی پرامن مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں سے عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ احتجاج صرف ہنگامہ پیدا کر رہا ہے اور عوام کے مسائل حل نہیں کر رہا۔

    بھارتی میڈیا نے مظاہروں کو منفی رنگ دینے کی کوشش کی اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ پاکستانی حکام نے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں اور پروپیگنڈے پر دھیان نہ دیں اور حکومت کی اقدامات پر اعتماد رکھیں۔

    زیادہ تر مطالبات پہلے ہی پورے ہو چکے ہیں اور باقی مسائل قانون سازی اور عملی اقدامات سے حل ہو سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کے ضیاع اور علاقے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ احتجاج نے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مظاہرین اور سیاسی گروہ پرامن، قانونی اور شفاف طریقے اپنائیں۔

    آزاد کشمیر میں احتجاجی مظاہرے وقت کا ضیاع اور عوام کے مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کو چاہیے کہ پرامن مذاکرات اور قانونی اقدامات پر توجہ دیں۔ یہی واحد راستہ ہے جو انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے اور علاقے میں دیرپا امن قائم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔