Baaghi TV

Category: سیاست

  • سر! یہ آپ کا ویژن ہے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    سر! یہ آپ کا ویژن ہے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    موجودہ حالات میں پاکستان دفاع کے علاوہ ہر میدان میں ناکام نظر آ رہا ہے جبکہ حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا کریڈٹ لیتی ہے، مسبب الاسباب کوئی نہ جانے کون تھا لیکن اس ملک کو شہباز شریف جیسا مفاہمت پسند لیڈر ملا۔ جہاں اپوزیشن کو بند گلی میں دھکیلا گیا، صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنا یا گیا، عدالتیں میں ترامیم کے ذریعے اختیارات چھین لیے گئے ، معیشت تباہی کے دھانے پر ہے،بیرون ملک دورے عروج پر رہے لیکن نتائج وہ حاصل نہ ہو سکے جن کی امیدیں لگائی جاتیں رہیں۔

    وفاقی حکومت نے پہلے بیس ماہ میں شہباز حکومت نے موجودہ 20 ماہ میں 19 ہزار 369 ارب روپے قرض لیا، 11 ہزار 300 ارب روپے مقامی، 869 ارب روپے غیرملکی قرض۔ ملکی قرض 76 ہزار 979 ارب روپے ہو گیا، قرضوں کے انبار کے باوجود ملک میں سیاسی گہما گہمی ، معاشی و سیاسی بحران نئے ریکارڈ قائم کر چکا ہے، اوور سیز پاکستانی موجودہ حکومت سے فی الحال متنفر ہو چکے ہیں۔ ویسے تو ریکارڈ لفظ بہتر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہاں سرمایہ کاری میں زوال کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کا خدشہ ہے جو ہمیں نہیں پتہ چلا کہ کس کا ویژن ہے مگر غریب ، نادار، لاچار اور مظلوم عوام کے سامنے شہباز شریف کا چہرہ آتا ہے۔ ایک سال میں پاکستانیوں نےدبئی میں 10دس ارب ڈالر کی جائیدادیں خریدیں،لیکن اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے لہذا سرمایہ کاری کےلئے رول آف لاءبہت اہمیت رکھتا ہے۔

    رواں مالی سال مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری میں گراوٹ کا ایک ناخوشگوار ریکارڈ قائم ہوسکتا ہے۔ انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 13فیصد سے بھی نیچے گر سکتی ہے۔ سال 2023 میں انوسٹمنٹ پالیسی کا اعلان کرکے انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 20 فیصدتک لیجانے کا ہدف طے کیا گیا تھا۔ غیر سرمایہ کاری لانے کیلئے SIFC بھی قائم کی گئی جو ابتک ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تجارت اور صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی غیریقینیت اور دہشت گردی پر قابو پا کر سرمایہ کاری کے ماحول کر بہتر کیا جائے۔

    بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش فی کس آمدنی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کو سب سے پیچھے دیکھنا پڑتا ہے جس کا کریڈٹ لینے کیلئے عسکری اور نہ ہی مقننہ سامنے آتی ہے جبکہ سیاسی لیڈرز اور پارلیمان تو تسلیم کرتا ہے کہ ہم پر دباؤ ہے جس کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔‏1990 میں پاکستان کی فی کس آمدنی بنگلہ دیش کے مقابلے میں دوگنی اور بھارت کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ تھی۔ 2024 میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان سے 53 فیصد زیادہ ہے، جبکہ بھارت کی فی کس آمدنی پاکستان سے 71 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔ آپ خود سوچیے کہ کیا کمبوڈیا اور برما بھی پاکستان سے بہتر؟ پاکستان میں معاشی حالات کا یہ عالم ہے کہ اس سال 24 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے، 12 ہزار واپس نہیں آئے۔ 4 ہزار پاکستانی برما گئے، ڈھائی ہزار واپس نہیں آئے۔

    دسمبر کے دوسرے ہفتے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی دوسری جائزہ رپورٹ آئی ہے، 54 شرائط پر قرضہ دیا تھا، اب 11 مزید شرائط لگائی ہیں، چینی کے استعمال والی اشیاء پر ایف ای ڈی لگایا جائے گا۔مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ عوام پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 80 فیصد دے رہے ہیں، اس میں بھی 5 فیصد اضافہ ہونے جا رہا ہے، حکومت کو ٹیکس پالیسی اور گورننس پر بات کرنی چاہیے جبکہ پی بی ایس کی آفیشل رپورٹ کیمطابق رجیم چینج سے ایک ہفتہ پہلے اخبار کی ہیڈ لائنز کے مطابق پی ٹی آئی نے وزیرِ اعظم عمران خان کی سربراہی میں پہلے تین سالوں 55 لاکھ نوکریاں پیدا کی اِس دوران پوری دنیا میں کورونا وبا بھی پھیل چکی تھی جبکہ آج کی صورتحال یہ ہے کہ پچھلے تین سالوں میں 14 لاکھ بیروزگار ہوئے

    نا چیز دو دن قبل سوال سے آگے پروگرام سماعت کر رہا تھا جس میں سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفظ پاشا مہمان تھے، وہ بتا رہے تھے کہ ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان 190 ممالک میں 168 نمبر پر ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان اور بنگلہ دیش 135 کے قریب ہیں اور ان کی رینکنگ بہتر ہوتی جا رہی ہے۔1990 تک ہماری کارکردگی بہتر رہی، ہماری فی کس آمدنی ہندوستان سے بہتر تھی لیکن آج ہندوستان سے 40 فیصد کم ہوچکی ہے، یہ حقائق سننے کے بعد مجھے اپنے اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ حال کی بھی فکر ہونے لگی کہ اگر یہی صورتحال رہی تو شہباز شریف کا ویژن تو تباہ ہو ہی جائے گا مگر نواز شریف کی بنائی گئی ن لیگ کا ویژن بھی تباہ ہو جائے گا۔17 دسمبر 2025 کو چئیرمین آل پاکستان ٹیسکٹائل ملز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ ملک بھر میں 144 ٹیکسٹائل ملز بند ہو گئیں اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ویژن کے ساتھ اگر ٹیسکٹائل بند ہو رہی ہیں تو پھر اسی ویژن کے ساتھ ان کو بھی تباہی کی جانب جان ہو گا جو اس ویژن کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہے ہیں۔

    پاکستان سے رواں سال 85 لاکھ افراد بیرون ملک گئے۔آج پاکستان کا عالمی کرپشن انڈیکس میں 135، نائیجیریا کا 140 نمبر ہے، کرپشن کے ساتھ ملک کو چلانا جمہوریت کے ساتھ چلانے سے ان تمام کیلئے زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ہر محکمہ عوام کیلئے دھما کہ ثابت ہو رہا ہے، کبھی لوگوں کو کاروبار تباہ کیا جاتا تو کبھی پولیس کو با اختیار بنانے کی بجائے بے اختیار بنا دیا جاتا ہے جہاں بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، کبھی چالان کے نام پر تو کبھی ٹریفک قوانین کے ذریعے، کبھی انکروچمنٹ تو کبھی کرائم کنٹرول، کبھی انصاف کا نعر ہ تو کہیں عورت کو با اختیار بنانے کا دعوی، یہ کام سب نے شروع تو کیے لیکن ان کو مکمل کرنے سے سب عاری رہے جس کی وجہ سے غربت کے ساتھ جرم، ظلم اور زیادتیاں معاشرے کا حصہ بنتی رہیں، پنجاب حکومت کے کچھ اقدام قابلِ تعریف ہیں جو ملک میں بہتری کا آغاز کر رہے ہیں۔

    ن لیگ مارچ 2022 سے حکومت میں ہے ، احسن اقبال صاحب نے کل ایک بیان دیا کہ حکومت کو مزید 15 سال دیے جائیں ترقی کے لیے پھر ملک کا کچھ ہو سکتا ہے، پرسوں شاہزیب خانزادہ کو بتا رہے تھے کہ ہم ایکسپورٹ کی صلاحیت کو نہیں بڑھا پا رہے، سوال یہ ہے کہ اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو ملک کو آگے کون لیکر جائے گا؟ ‏جب عمران خان کے دور میں عالمی مارکیٹ میں تیل $100 تھا اس وقت پٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت $60 ڈالر سے کم مگر پٹرول کی قیمت 265 روپے فی لیٹر ہے۔ اب سوال کریں گے کہ اس وقت ڈالر کا ریٹ کیا تھا اور آج؟ جواب بھی لے لیں ڈالر کا ریٹ عمران خان نے تو نہیں بھڑایا؟ دوسرا اس وقت پیٹرولیم لیوی 20 روپے تھا اور آج 80 روپے فی لیٹر ہے۔ کیا پھر ہم یہ کہیں کہ پرانے پاکستان کے بعد نئے پاکستان کا نعرہ برُا تھا مگر ا تنا بڑا نہیں تھا جتنا آج تمام سیاسی جماعتوں نے مقتدر حلقوں کی مدد سے تحریک عدم اعتماد کے بعد ہمیں پرانا پاکستان واپس دے کر عوام کے ساتھ بُرا کیا۔لہذا ہماری خواہش ہے کہ یہ ویژن ہمارا نہ رہے بلکہ سر ! آپ کا ویژن آپ کو مبارک ہو۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • اصلاحات کی راہ میں حائل دیواریں،مسیحائی کا نوحہ اور سسکتی انسانیت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    اصلاحات کی راہ میں حائل دیواریں،مسیحائی کا نوحہ اور سسکتی انسانیت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    مسیحا جب سے بیوپاری ہوئے ہیں
    سبھی جذبے یہاں آری ہوئے ہیں

    شعبہ صحت کی زبوں حالی اور اس میں اصلاحات لانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ایک ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے بحث ہو رہی ہے، لیکن نتیجہ وہی "ڈھاک کے تین پات” والا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر زمین پر اللہ کا وہ سایہ ہے جو انسانیت کو تکلیف سے نجات دلاتا ہے، اسی لیے اسے "مسیحا” کا لقب دیا گیا۔ مگر افسوس کہ آج کے سرکاری ہسپتالوں میں یہ لقب اپنی معنویت کھوتا جا رہا ہے۔ ہماری میڈیکل یونیورسٹیوں نے صرف "پیشہ ور” پیدا کیے ہیں، "انسان دوست” نہیں۔ ایسے ڈگری ہولڈر ڈاکٹر جن میں تربیت کی کمی ہے انکے لہجے کی تلخی غریب مریض کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک پاشی کا کام کرتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی زبوں حالی اور انتظامی خرابیوں پر جب بھی بات ہوتی ہے، تو اکثر سارا ملبہ تمام ڈاکٹروں پر گرا دیا جاتا ہے۔ بے شک، چند کالی بھیڑوں اور ہتک آمیز رویہ رکھنے والے ڈاکٹروں کی وجہ سے پورا شعبہ بدنام ہے، لیکن حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اسی نظام میں ایسے "ولی کامل” ڈاکٹرز بھی موجود ہیں جن کا وجود انسانیت کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی غریب مریض کو سب سے پہلے جس چیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ "علاج” نہیں بلکہ "تضحیک” ہے۔ مریضوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا اور لواحقین کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور مریضوں کو بلاجواز بڑے شہروں میں ریفر کرنا اب ایک "معمول” بن چکا ہے جو ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب تک سرکاری افسران اور سیاسی اشرافیہ خود ان ہسپتالوں میں علاج نہیں کرائیں گے، تب تک عام آدمی کی تضحیک کا یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ بلاشبہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی شعبہ صحت میں انقلابی اصلاحات کا عزم ظاہر کیا۔ عوام کو علاج معالجے کی جدید سہولیات باہم پہنچانا "فیلڈ ہسپتال” اور "کلینک آن ویلز” جیسے منصوبے اسی ویژن کا حصہ تھے تاکہ غریب کو اس کی دہلیز پر علاج مل سکے۔ تاہم، زمینی حقیقت یہ ہے کہ سی ایم کے ویژن کو "ہائر اتھارٹی” کے ایوانوں میں بیٹھے چند افسران اور بااثر مافیا سبوتاز کر رہا ہے۔ جب تک اوپر بیٹھی بیوروکریسی اور ہسپتالوں کی انتظامیہ مخلص نہیں ہوگی، سی ایم کے احکامات صرف فائلوں کی زینت بنے رہیں گے۔ پنجاب کے شعبہ صحت میں اصلاحات لانا اس لیے بھی مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ہائر اتھارٹی میں موجود بعض کالی بھیڑیں (Status Quo) برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال تب تک نہیں بدلے گی جب تک "احتساب کا عمل” بلا امتیاز شروع نہیں ہوتا۔ اگر کسی ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل اسٹاف کی غفلت سے جان چلی جائے تو انکوائری کمیٹیوں کا قیام محض "وقت گزاری” کا حربہ ہوتا ہے۔ ان کمیٹیوں کی رپورٹس کبھی منظرِ عام پر نہیں آتیں اور نہ ہی کبھی کسی طاقتور کو سزا دی جاتی ہے۔ صرف اعلیٰ حکام کے ہنگامی دوروں اور معطلیوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ ایک ایسا خودکار نظام درکار ہے جہاں مریض کی شکایت پر فوری اور شفاف کارروائی ہو۔

    ہیپاٹائٹس سی ورٹیکل پروگرام کے بیشتر ڈاکٹرز کمیشن اور مراعات کے چکر میں مریض کو طاقت کی دوائی کے نام پر "ٹھیکے کی وہ ادویات” جن کے فارمولے سے عام آدمی تو دور فارماسسٹ بھی ناواقف ہوتے ہیں جسکے غیر معیاری ہونے کے خدشات ہمیشہ برقرار رہتے ہیں لکھ کر دیتے ہیں تو جب ایک غریب مریض اپنی جمع پونجی نکال کر باہر سے وہ مخصوص دوا خریدتا ہے اور اسے آرام نہیں آتا، تو یہ صرف دوا کی ناکامی نہیں بلکہ پورے انسانیت کے نظام کی ناکامی ہے۔ ادویات کی خریداری میں کمیشن، مشینوں کی مرمت کے نام پر خورد برد، اور تبادلوں کا کاروبار یہ وہ چند عوامل ہیں جن کی وجہ سے چیف منسٹر مریم نواز کا اصلاحاتی ایجنڈا رکاوٹوں کا شکار ہے۔ جب ہسپتالوں کے ایم ایس اور سیکرٹری لیول کے افسران سیاسی مصلحتوں یا ذاتی مفادات کے لیے ملی بھگت کر لیں، تو حکومتی ترجیحات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ اس صورتحال کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر یا نچلا عملہ نہیں، بلکہ وہ پورا سسٹم ہے جس میں سزا اور جزا کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ جب بدتمیزی کرنے والے ڈاکٹر یا کرپشن کرنے والے افسر کو "سیاسی پشت پناہی” یا "یونین کے دباؤ” پر بچا لیا جائے، تو بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ سی ایم کو اگر اپنا ویژن کامیاب بنانا ہے تو انہیں ہسپتالوں کے دوروں کے ساتھ ساتھ "ہائر اتھارٹی” کی صفائی کرنی ہوگی۔ جب تک سیکرٹریٹ سے لے کر ہسپتال کے وارڈ تک احتساب کا ایک کڑا اور شفاف نظام وضع نہیں ہوتا، تب تک "مسیحائی” صرف کتابوں تک محدود رہے گی اور غریب مریض یوں ہی نظام کی بھٹی میں جلتا رہے گا۔ وزیر اعلی پنجاب کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی "ہائر اتھارٹی” اور بیوروکریٹک رکاوٹیں ہیں جو کسی بھی تبدیلی کو ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں رہتیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی چوری، ٹیسٹوں کی مشینوں کا جان بوجھ کر خراب رکھنا اور نچلے سے اوپر کے عملے کی "ملی بھگت” وہ دیواریں ہیں جنہیں مسمار کرنا آسان نہیں ہے۔ جب تک ہسپتالوں کے ایم ایس اور انتظامیہ کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر کے سخت "کے پی آئیز” (KPIs) پر نہیں پرکھا جائے گا، اصلاحات کا ثمر عام آدمی تک نہیں پہنچے گا۔اصلاحات تبھی کامیاب ہو سکتی ہیں جب وزیر اعلیٰ "سزا و جزا” کے نظام کو سختی سے نافذ کریں انکے پاس سیاسی عزم موجود ہے، لیکن شعبہ صحت کی درستگی کے لیے انہیں نظام کے اندر موجود ان کالی بھیڑوں سے لڑنا ہوگا جو اصلاحات کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی ٹیم، خصوصاً سیکریٹری صحت اور ہسپتالوں کے سربراہان کو جوابدہ بنانے میں کامیاب ہو گئیں، تو پنجاب کا شعبہ صحت واقعی بدل سکتا ہے یہ معرکہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

  • ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کی سیاست اس وقت جس فکری ابتری اور بیاناتی انتشار سے گزر رہی ہے اس میں سب سے خطرناک رحجان یہ بنتا جا رہا ہے کہ ہر عدالتی فیصلہ، ہر انتظامی اقدام اور ہر ناگوار نتیجے کو بلاتحقیق اور بلاتاریخ جانے براہ راست پاک فوج سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں اور حامیوں نے اس طرزِ فکر کو باقاعدہ سیاسی حکمت عملی بنا لیا ہے۔ جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ قومی اداروں کے وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ حالیہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد جسٹس جہانگیری کے حوالے سے جو شور شرابا برپا کیا گیا وہ اسی روش کی واضح مثال ہے۔ بغیر یہ سمجھے کہ عدالتی فیصلے کس بنیاد پر ہوتے ہیں فورا انگلیاں پاک فوج کی طرف اٹھا دی گئیں۔ حالانکہ اگر ذرا سا بھی تاریخ کا مطالعہ کر لیا جائے تو حقائق بلکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

    جسٹس جہانگیری کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں وہ ایک وقت میں پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے رہے، پھر پی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں متحرک رہے، اس کے بعد ضیاء دور کے ایک جنرل کیساتھ تعلقات رہے اور اسی جنرل کی سفارش پر قائم لیٹریسی اینڈ ماس ایجوکیشن کمیشن (lamic) میں وہ بطور اسسٹنٹ خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ سب کچھ ضیاء الحق کے دور سے پہلے اور بعد کی اس سیاسی تاریخ کا حصہ ہے جسے نظر انداز کرنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ جب ضیاء الحق کا اقتدار حادثے کا شکار ہوا اور پیپلزپارٹی کا دور آیا تو جمہوری تسلسل کے تحت انہیں گورنر پنجاب جنرل ٹکا خان مرحوم کا پولیٹیکل سیکریٹری ٹو گورنر مقرر کیا گیا۔ پھر بعد میں انہیں سی ڈی اے اسلام آباد میں لینڈ پروکیومنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی پرکشش ذمہ داری ملی جس نے انکی پیشہ وارانہ زندگی کو نئی سمت دی پھر یہ کچھ عرصہ وکالت بھی کرتے رہے۔ اب حالیہ معاملے میں جس جعلی ڈگری کیس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اسے بھی محض اس لیے متنازع بنانے کی کوشش کی گئی کہ فیصلہ پی ٹی آئی کے بیانیے کے مطابق نہیں تھا۔ سوال یہ ہے اگر تین ججز ایک قانونی عمل کے تحت کسی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہیں تو اس میں پاک فوج کو گھسیٹنے کی کیا منطق ہے؟

    قوم کو سمجھنا ہو گا کہ ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا، ہر عدالتی حکم کسی ادارے کی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہوتا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر تاریخ سے ناواقفیت اور جذباتی نعروں کے ذریعے قومی اداروں کو متنازع بنانا ایک خطرناک کھیل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ الزام تراشی سے پہلے حقائق جانیں اور یہ تسلیم کریں کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں فیصلے کر رہے ہیں۔ ہر معاملے میں پاک فوج کو موردِ الزام ٹھہرانے سے نہ سیاست مضبوط ہوتی ہے اور نہ ہی جمہوریت تھوڑی سی احتیاط، تھوڑا سا مطالعہ اور کچھ سیاسی بلوغت ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے

  • 2025 میں پنجاب کی کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح،تجزیہ”شہزاد قریشی

    2025 میں پنجاب کی کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح،تجزیہ”شہزاد قریشی

    قومیں نعروں سے نہیں، کردار کی پختگی سے بنتی ہیں، حکمرانی کا اصل حسن عوام کے دکھوں کا مداوا ہے، نہ کہ اقتدار کا شور

    کیا آنے والے دنوں میں سیاستدان الزام کی سیاست ترک کر کے خدمت کی راہ اپنائیں گے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو تاریخ بڑے بے رحم انداز میں فیصلہ سنایا کرتی ہے

    سیاست اگر خدمت سے خالی ہو جائے تو محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے، اور یہی تماشہ ہم نے ملک کے اکثر حصوں میں دیکھا

    سالِ دو ہزار پچیس جب تاریخ کے اوراق میں رقم ہونے کو ہے تو قومی سیاست کا منظر ایک ایسے شوریدہ دریا کی مانند دکھائی دیتا ہے جس میں آوازیں تو بہت ہیں، مگر سمت کا تعین کم۔ ملک کے چاروں گوشوں میں سیاست دانوں کی زبانیں تیز، لہجے، بلند اور دعوے بے شمار رہے۔ الزام در الزام کا ایسا سلسلہ چلا کہ اصل مسائل گردِ راہ میں دب کر رہ گئے اور عام آدمی حسبِ معمول تماشائی بن کر رہ گیا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب قوموں کی تقدیر کا فیصلہ تقریروں سے نہیں بلکہ تدبیر سے ہوا کرتا ہے، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں گفتار کو کردار پر فوقیت دی جاتی رہی۔ اس عمومی ابتری میں اگر کہیں نظم و نسق کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہے تو وہ پنجاب کے افق پر نمایاں نظر آتی ہے، جہاں وزیراعلیٰ نے سیاست کے شور سے ہٹ کر حکمرانی کے تقاضوں کو سمجھنے اور نبھانے کی سعی کی۔ پنجاب کے شہروں کی گنجان آبادی ہو یا دیہات کی دور افتادہ بستیاں، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے باب میں جو عملی اقدامات سامنے آئے، وہ محض اشتہار کی زینت نہیں بلکہ عوامی زندگی سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں اصلاح، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامیہ کو جواب دہ بنانے کی کوششیں اس بات کی شاہد ہیں کہ اقتدار اگر چاہے تو خدمت کا روپ دھار سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ کوئی بھی حکومت کامل نہیں ہوتی، مگر یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ 2025 میں پنجاب کی سطح پر کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح رہا۔ جب باقی سیاسی افق پر گرد و غبار چھایا رہا، تب یہاں کم از کم یہ احساس زندہ رکھا گیا کہ حکومت کا پہلا فرض عوام کی خبرگیری ہے، نہ کہ محض مخالفین کی خبر لینا۔ چراغ حسن حسرت کے بقول، سیاست اگر خدمت سے خالی ہو جائے تو محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے، اور یہی تماشہ ہم نے ملک کے اکثر حصوں میں دیکھا۔ مولانا ابو الکلام آزاد کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار کی پختگی سے بنتی ہیں، اور حکمرانی کا اصل حسن عوام کے دکھوں کا مداوا ہے، نہ کہ اقتدار کا شور۔ سالِ رفتہ ہم سے یہ سوال چھوڑ کر جا رہا ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں سیاست دان الزام کی سیاست ترک کر کے خدمت کی راہ اپنائیں گے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو تاریخ بڑے بے رحم انداز میں فیصلہ سنایا کرتی ہے، اور قومیں پھر افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لایا کرتیں۔ روس کے صدر پوٹن نے یورپی رہنماؤں کے بارے میں جو الفاظ ادا کیے ان سے ناصرف دکھ ہوا بلکہ عالمی سفارتی اقدار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔

    قیادت کا اصل حسن طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ ضبط، بردباری اور اخلاقی وقار میں ہوتا ہے۔ روس جیسے بڑے ملک کے صدر سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود اخلاقیات کا دامن تھامے رکھیں گے۔ بین الاقوامی تعلقات میں زبان محض الفاظ نہیں ہوتی بلکہ رویوں اور نیتوں کی عکاس ہوتی ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، مفادات کی جنگ بھی اپنی جگہ، مگر تہذیب اور اخلاق وہ اقدار ہیں جو طاقتور کو مزید معتبر بناتی ہیں۔ اگر عالمی رہنما ان حدود کا خیال نہ رکھیں تو پھر امن، مکالمے اور سفارتکاری کی باتیں محض کھوکھلے نعرے بن کر رہ جاتی ہیں۔

  • گڈ گورننس یا بند دروازے؟تجزیہ  :  شہزاد  قریشی

    گڈ گورننس یا بند دروازے؟تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب میں موجودہ حکومت کی جانب سے گڈ گورننس، میرٹ پر تقرریوں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کا بارہا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جو اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں، وہ بلاشبہ قابلِ تحسین ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں بہتری، تعلیمی اداروں کی بحالی اور عوامی سہولیات پر توجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی واقعی عام آدمی تک پہنچ رہی ہے؟ حکومتی پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان جو خلا موجود ہے، وہ ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔راولپنڈی سے لے کر پنجاب کے دیگر اضلاع تک عام شہری کی سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر جیسے اعلیٰ افسران عوام سے براہِ راست ملنے سے گریز کرتے ہیں۔ دفاتر میں وقت کی پابندی کاغذی حد تک تو موجود ہے، مگر عملی طور پر صورتحال مختلف ہے۔ عام شہری صبح سویرے اپنی درخواستیں لے کر دفاتر پہنچتا ہے، مگر افسران اکثر گیارہ بجے یا اس سے بھی بعد میں تشریف لاتے ہیں۔ اس کے بعد بھی پہلے چند مخصوص افراد، وی آئی پی یا ذاتی جان پہچان رکھنے والے افسر کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ عام آدمی انتظارگاہ میں بیٹھا رہتا ہے۔ جب دوپہر کا وقت آتا ہے تو عام شہری کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ صاحب میٹنگ میں ہیں بعد میں آئیے۔ یوں ایک دن نہیں بلکہ کئی دن گزر جاتے ہیں، مگر انصاف کی دہلیز تک رسائی نہیں ہو پاتی۔ یہ رویہ صرف ایک فرد کی بےعزتی نہیں بلکہ حکومت کی مجموعی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ عوام وزیراعلیٰ کو روزانہ نہیں دیکھتے، وہ حکومت کو اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور اپنے ڈویژن کے کمشنر کے ذریعے پہچانتے ہیں۔ اگر یہی افسر عوام سے دور رہیں تو گڈ گورننس کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ مریم نواز نے سیاسی میدان میں متحرک کردار ادا کرتے ہوئے عوامی سطح پر جو مقبولیت حاصل کی ہے، وہ ضلعی سطح پر افسر شاہی کے رویے کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو یہ نہ صرف انتظامی ناکامی ہو گی بلکہ سیاسی نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ضلعی افسران کو محض فائلوں کی نہیں بلکہ عوام کی خدمت کی ذمہ داری بھی یاد دلائے۔ وقت کی پابندی، کھلے دروازے اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہی وہ اقدامات ہیں جن سے گڈ گورننس محض نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن سکتی ہے۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ عوام کے لیے کی جانے والی تمام اصلاحات، بند دروازوں کے پیچھے دم توڑتی رہیں گی۔

  • عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان  کہاں کھڑا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان کہاں کھڑا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظر نامے سے گزر رہی ہے۔ یک قطبی عالمی نظام دم توڑ رہا ہے اور اسکی جگہ کثیر قطبی دنیا جنم لے رہی ہے، جہاں طاقت کا توازن امریکہ، چین، روس اور علاقائی بلاکس کے درمیان تقسیم ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی، عسکری اور فکری سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی رقابت نے عالمی سیاست کو نئی سمت دے دی ہے۔ یوکرائن جنگ نے روس اور مغرب کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا جبکہ مشرق وسطی ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ عالمی معیشت مہنگائی، سست روی اور عدم یقین کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ دباؤ میں ہیں۔ ایسے نازک عالمی ماحول میں اور عالمی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ جغرافیائی طور پر آج بھی خطے میں پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے، چین کیساتھ قریبی تعلقات اور سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کے لیے مواقعے فراہم کرتے ہیں۔ تاہم مغربی دنیا اور عالمی مالیاتی اداروں سے روابط کی ضرورت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

    پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ بدلتی عالمی سیاست میں جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ اور متوازن خارجہ پالیسی اپنائے، داخلی اتحاد، سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات کے بغیر عالمی سطح پر موثر کردار ممکن نہیں۔ دنیا کمزور معیشتوں کی بات کم اور مضبوط ریاستوں کی بات زیادہ سنتی ہے۔ بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کو ترجیح دیں تو پاکستان بدلتی دنیا میں اپنے لیے وقار مقام حاصل کر سکتا ہے، بصورت دیگر عالمی تبدیلیاں ہمارے دروازے پر دستک دیتی رہیں گی اور ہم محض حالات کا شکوہ کرتے رہ جائیں گے۔

  • مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    اس بات میں کافی سچائی ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان اور خاص کر پنجاب میں جرائم میں واضع کمی آئی ہے،پنجاب میں اس وقت 90 فیصد جرائم میں کمی واقع ہو چکی ہے جس کا کریڈٹ سی سی ڈی کو پنجاب کو جاتا ہے،تاہم یہ بات بھی سو فیصد سچ ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان بھی آیا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،معاشرے میں جرائم تب ہی بڑھتے ہیں جب قانون کمزور پڑ جائے اور سزا کا خوف ختم ہو جائے، بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیم کی کمی لوگوں کو غلط راستوں پر دھکیل دیتی ہے، اوپر سے رشوت، سفارش اور پولیس و عدالتوں کی کمزور گرفت مجرموں کو کھلی چھٹی دے دیتی ہے،منشیات، گینگ کلچر، اور سوشل میڈیا فراڈ نئی نسل کو تیزی سے جرم کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا سدباب بہت ضروری ہے
    جب زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہی عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور نکل جائیں جیسے کہ آٹا مہنگا ہو جائے گیس غائب رہے بجلی کے بل پہنچ سے دور ہو جائیں اور بجلی کا بلب گھر میں روشنی دینے کی بجائے ایک لمبے چوڑے بل کی مد میں گھر میں قبر جیسی وحشت بپا کر جائے،
    نوجوانوں کیلئے روزگار کا کوئی سیدھا راستہ نا ہو تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ سلگنے لگتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے چہروں سے سکون اُڑ جاتا ہے گھروں میں جھنجھلاہٹ اور بے چینی ڈیرے جما لیتی ہے
    جب پیٹ خالی ہو اور جیب میں چند روپئے بھی نہ ہو تو انسان کا صبر بھی جواب دے دیتا ہے
    پھر وہی ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہئے

    ایسے عالم میں چھوٹے موٹے جھگڑے بڑے فساد بن جاتے ہیں اور چوری چکاری بڑھتی ہے تب نوجوانوں کا اعتماد، خواب اور حوصلہ سب کمزور پڑنے لگتے ہیں
    جب وڈیرے اور امیر سرعام قانون کی دھجیاں اڑائیں اور جب دل چاہے غریب کو چیونٹی کی طرح روند دیا جائے اور اوپر سے جب کہیں سے انصاف نہ ملے، ادارے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو لوگوں کا نظام پر سے یقین اٹھ جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک ایسا خلا بنتا ہے جس میں غصہ، مایوسی اور جرائم پلتے ہیں اور پھر چند افراد،اداروں کی نااہلی سے جنت جیسا قطعہ ارض جہنم جیسا روپ دھار لیتا ہے

    سو باتیں کر لو، لکھ لو مگر سچ یہی ہے کہ بنیادی ضرورتیں جب مشکل ہو جائیں تو معاشرہ خاموشی سے بیمار ہونے لگتا ہےاور اس کا اثر ہر گھر، ہر گلی، ہر بندے پر پڑتا ہے اور یوں جرائم بڑھنے لگتے ہیں
    گورنمنٹ نے سی سی ڈی جیسا ادارہ بنا کر بہت اچھا کیا جس نے فوری رزلٹ دیا تاہم گورنمنٹ کو چائیے کہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بنے اداروں سے بھی ایسے ہی رزلٹ لیا جائے جیسے سی سی ڈی سے لیا ہے
    واضع رہے کہ پنجاب پولیس کی تعداد 2 لاکھ 22 ہزار کے قریب ہے تاہم محض 4300 سی سی ڈی اہلکاروں نے وہ کام کیا جو لاکھوں پنجاب پولیس کے اہلکار نا کر سکے تھے
    موجودہ حالات میں غریب کو ریلیف دینا اور شاہی پروٹوکول اور افسری،مراعات کو محدود کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے،گورنمنٹ تھوڑا سا طریقہ بدلے اور سوتیلی ماں کی بجائے سگی ماں جیسا کردار ادا کرے،ہیلمٹ چالان پر 2 ہزار لینے کی بجائے موٹرسائیکل کے پہلے چالان پر اس موٹرسائیکل کو ایک ہیلمٹ دیا جائے اور اگر پھر بھی اس کے باوجود اسی موٹر سائیکل سے ہیلمٹ نا پہننے کی غلطی ہو تو جرمانہ کیا جائے،گورنمنٹ بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ سے اوپر کے استعمال ہونے والے جن لوگوں کو اگلے 6 ماہ کیلئے پھانسی لگاتی ہے اسے ختم کیا جائے،سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں ایک نصاب کیا جائے اور چھوٹے چھوٹے دکانداروں کی بجائے بڑے بڑے ان ڈیلروں کو سرعام چوکوں میں ٹھڈے مارے جائیں جو بلیک مارکیٹنگ کرکے لوگوں کو ضروریات زندگی سے محروم کرتے ہیں،سرکاری ہسپتالوں کو فعال کیا جائے اور عدالتی نظام بہتر کیا جائے،محکمہ عشر و زکوٰۃ کو فعال کرکے ایسا پابند کیا جائے کہ وہ لوگوں کو ان کا حق دیں تاکہ لوگوں این جی اوز سے 500 روپیہ کی ملنے والی امداد کے عیوض اخبارات میں اپنے چہروں کی نمائش نا کروائیں
    ایسے کام جب تک نہیں کئے جائنگے جرائم بڑھتے رہیں گے اس لئے گورنمنٹ فوری اقدامات کرے

  • عاجزی ،کامیابی کی سیڑھی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عاجزی ،کامیابی کی سیڑھی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قرآن کریم میں اللہ تعالٰی بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دولت، شہرت اختیار اور طاقت یہ سب آزمائشیں ہیں۔ کوئی شخص اگر بلند منصب پر فائز ہے اگر اسکے پاس دولت کی ریل پیل ہے، اگر اسکے نام کے چرچے ہیں تو یہ اُسکی کامیابی کا ثبوت نہیں یہ اُسکے امتحان کا آغاز ہے، سورہ توبہ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم جسکو دنیا کی سہولتیں دیتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ وہ ہمارا خاص بن گیا ہے بلکہ اس لیے تاکہ اسکی آزمائش ہو سکے، دنیاوی نعمتیں اصل میں ذمہ داریاں ہیں، انعام نہیں۔ لیکن افسوس کہ آج کا انسان خاص طور پر وہ جو اختیار کی کرسی پر بیٹھ جائے وہ اپنی حقیقت بھول بیٹھتا ہے۔ وطن عزیز کا معاشرہ اسکی ایک زندہ مثال ہے، عام آدمی سے لیکر صاحب اقتدار تک، دفاتر ہوں، یا تھانے ہوں، یا انصاف دینے والے ہوں، یا وزارتیں ہوں، ہر جگہ ایک عجیب قسم کا تکبر، رعونت اور طاقت کا خمار بکھرا پڑا ہے۔ کسی کو کرسی ملی تو لہجہ بدل گیا، کسی کے پاس دولت آئی تو انسانیت چھن گئی، کسی کو سیٹ ملی تو اس نے اپنے ہی قدم زمیں پر ہوتے محسوس نہ کیے۔ حالانکہ رب نے صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ انسان کو غرور کے لیے نہیں بلکہ عاجزی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، انسان کی اصل عزت اسکے عہدے میں نہیں بلکہ اسکے اخلاق میں ہے، اصل بلندی اسکی دولت میں نہیں اسکی عاجزی میں ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے منصب کو عبادت کی جگہ رکھ دیا ہے اور عبادت کو رسم بنا دیا ہے۔ یہ وہی تکبر ہے جسے اللہ تعالٰی نے ناپسند فرمایا، یہ وہی غرور ہے جس نے شیطان کو شیطان بنایا معاشرے میں سرمایہ داروں، مذہبی رہنماؤں، بیوروکریسی کے افسران حتی کہ عام لوگوں تک میں یہ ایک بیماری پیدا ہو چکی ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ خود کو سچا، سب کو کم تر اور اپنے دائرے میں اپنے اپکو ایک علیحدہ مخلوق سمجھنے لگا ہے۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ سخت ترین حساب انہی لوگوں کا ہو گا جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ اختیار دیا گیا تھا ہمارے معاشرے کی بدحالی کی اصل وجہ یہی اخلاقی زوال ہے۔ وہ معاشرے نہیں ٹوٹتے جن کے پاس کم وسائل ہوں وہ ٹوٹتے ہیں جہاں تکبر سستا اور انصاف مہنگا ہو جائے، وہ قومیں نہیں مرتیں جن پر غربت ہو، وہ مٹتی ہیں جہاں ضمیر مر جائے۔ ہمیں بلند عمارتیں نہیں بلند اخلاق درکار ہے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر اختیار ایک دن چھن جاتا ہے، ہر طاقت فنا ہو جاتی ہے، ہر اقتدار ختم ہو جاتا ہے لیکن جو انسان عاجزی اپناتا ہے وہ تاریخ دِلوں اور اللہ تعالٰی دونوں میں باقی رہتا ہے۔ آئیں خود سے یہ سوال کریں کیا ہم آزمائش میں کامیاب ہو رہے ہیں؟ یا ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو چکے ہیں جو رب کی نعمتوں کو تکبر کی چابی بنا لیتے ہیں؟ اللہ تعالی ہمیں سچائی انصاف اور عاجزی کیساتھ جینے کی توفیق دے کیونکہ انسان کا اصل قد اسکی کرسی سے نہیں اسکی جھکی ہوئی گردن سے ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، دولت اور شہرت کبھی بھی انسان کو عظیم نہیں بناتیں یہ صرف اسکی آزمائش کو بڑا کرتی ہیں۔ کاش ہمارا معاشرہ اس سادہ حقیقت کو سمجھ سکے اصل مسلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں اصل خرابی یہ ہے کہ اختیار ملتے ہی انسان چھوٹا ہو جاتا ہے اور انا بہت بڑی۔

  • مریم نواز کی نیت، ویژن قابل تعریف مگر ..تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی نیت، ویژن قابل تعریف مگر ..تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب کی سیاست میں آجکل جو ہلچل ہے وہ کسی سے چھپی نہیں، وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے اقدامات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا واقعی صوبہ پنجاب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے یا یہ بھی وہی روایتی دعوے ہوں گے جو ہر حکومت کے آغاز میں سننے کو ملتے ہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم نواز کے ناقدین بھی اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ صوبے میں پالیسی سازی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ چاہے معاملہ صحت کا ہو، صفائی کا ہو، تعلیم کا ہو، جدید ٹریفک نظام کا ہو یا سیف سٹی کا ہو یہ شفاف ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے کم از کم ہوتے تو نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پالیسی سازی کبھی مسلہ رہی ہی نہیں۔ ہمارے یہاں مسائل ہمیشہ عملدرآمد پر گرتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جو اس پورے معاملے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مریم نواز نے میرٹ، شفافیت اور زیرو ٹارلنس جیسے نعرے لگا کر پنجاب کے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مگر یہ ڈھانچہ کوئی تختی نہیں جو بدل دیا جائے، یہ درجنوں برس کے اعداد، مفادات، رویوں اور ساخت کا مرکب ہے، اسے بدلنے کے لیے حکم سے زیادہ حوصلہ اور ادارہ جاتی دباؤ چاہیے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیوروکریسی ہر حکومت کا اصل ستون ہوتی ہے، سیاست دان فیصلہ کرتے ہیں، لیکن ان فیصلوں کی روح بیوروکریسی ہی میں پھونکی جاتی ہے۔ اگر افسران میں وہی پرانی سست روی، وہی فائلوں کے گِرد اور وہی کل دیکھ لیں گے والا انداز رہا تو تبدیلی کا خواب حقیقت کا رخ نہ دیکھ سکے گا۔ مریم نواز نے میرٹ کی بات کی ہے، بہت اچھی بات ہے، لیکن میرٹ پر ایسا افسر بھی چاہیے جو صرف قابلیت نہیں رکھتا بلکہ جرآت بھی رکھتا ہو، جو سیاسی دباؤ، مقامی طاقتوروں کے اثرات اور اندرونی مزاحمت کو خاطر میں نہ لائے۔ پنجاب پولیس کا ذکر آتے ہی عوام کے ذہن میں تھانہ کلچر ابھرتا ہے وزیر اعلی نے ٹیکنالوجی، جدید ٹریفک سسٹم اور رول آف لاء کی بات کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس اس ظاہری تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ اصلاحات کا سب سے بڑا امتحان پولیس میں ہی ہوتا ہے کیونکہ پولیس وہ دروازہ ہے جہاں عوام روزانہ ریاست سے ملتے ہیں۔

    اگر تھانے وہی پرانے خوف اور سفارش کے مرکز رہے تو اوپر سے آیا ہوا انقلاب صرف سوشل میڈیا کی حد تک محدود رہ جائے گا۔ وزیر اعلی پنجاب لاھور میں بیٹھ کر بہترین منصوبہ بنا سکتی ہیں، مگر لاھور سی سی پی او آفس سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں اس پر عمل وہی ضلعی افسران کرے گا جو دل سے کام کرے گا یا رسمی خاکوں سے کام چلائے گا۔ کامیاب حکومتیں وہی ہوتی ہیں جو نچلی سطح کے افسران کو حوصلہ، اختیار اور جوابدہی تینوں چیزیں ایک ساتھ دیتی ہیں۔ اگر پنجاب میں واقعی تبدیلی لانی ہے تو فارمولا بہت سادہ ہے۔ اچھے افسر مضبوط نگرانی، سیاسی مداخلت سے مکمل آزادی، پائیدار اصلاحات اس فارمولا میں اگر ایک چیز بھی کمزور ہو تو پوری عمارت ہل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اصل معرکہ وزیر اعلی کے دفتر میں نہیں بلکہ پنجاب کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنر اور سی پی او، ڈی پی او اور ماتحت عملے کی میز اور پٹواری کے دفتر میں ہے۔ مریم نواز کی نیت، ویژن اور رفتار تعریف کے لائق ہیں مگر پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اصلاحات کا سفر بہت لمبا، مشکل اور مزاحمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اگر بیوروکریسی اور پولیس میں وہی انقلابی افسر آ گے، جنکی وزیر اعلی بات کر رہی ہیں، تو یقین کریں کہ چند برسوں میں پنجاب واقعی ہی پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر پالیسی سازی اور فائل ورک میں ہی تبدیلی پھنس گئی تو یہ بھی ماضی کی اصلاحاتی داستانوں کی طرح صرف ایک اور کوشش بن کر رہ جائے گی۔ چاہے مریم نواز ہوں یا کوئی اور حکمران پائیدار تبدیلی اس وقت آتی ہے جب نظام بدلتا ہے، لوگ بدلتے ہیں اور ادارے بدلتے ہیں، سیاست دان سمت دکھاتے ہیں لیکن راستہ بیوروکریسی ہی بناتی ہے۔ اب یہ بیورکرویسی پر ہے کہ وہ پنجاب کو واقعی بدلنا چاہتی ہے یا صرف نئے نعروں کیساتھ پرانی روش پر چلتی رہنا چاہتی ہے۔

  • سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    آج کا پاکستان صرف معاشی، سیاسی یا انتظامی چیلنجز کا شکار نہیں؛ ملک اپنی تاریخ کی سب سے بڑی پروپیگنڈہ، فیک نیوز اور ڈیجیٹل بیانیے کی جنگ کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔یہ جنگ روایتی نہیں۔ نہ اس میں توپیں گولے چل رہے ہیں، نہ سرحدوں پر محاذ گرم ہیں۔ اس جنگ کا میدان سوشل میڈیا ہے، اس کے ہتھیار گمراہ کن معلومات، جعلی بیانیے، آڈیو، ویڈیو ایڈیٹنگ، بوٹس، ٹرول فیکٹریاں اور ڈیجیٹل مہمات ہیں، جبکہ نشانہ عوام کا شعور اور ریاستی استحکام ہے۔

    دنیا بھر میں معلومات کی جنگ ایک نئی حقیقت ہے، مگر پاکستان میں اس کا حجم اور اثر کئی گنا بڑھ چکا ہے۔اب جھوٹی خبروں کی تخلیق ایک صنعت بن چکی ہے،ہر سیاسی، سماجی یا ریاستی مسئلہ صرف چند منٹوں میں "ٹویٹر ٹرینڈ” بن جاتا ہے،لاکھوں اکاؤنٹس بغیر شناخت کے گمراہ کن مواد پھیلا رہے ہیں،قومی سلامتی کے بیانیے مسلسل چیلنج ہو رہے ہیں،نوجوان نسل تیز ترین مگر غیر مصدقہ معلومات کی زد پر ہے،پاکستان آج ایک ایسی صورتحال میں ہے جہاں "خبر” اور "پروپیگنڈہ” میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بیانیے کی اس جنگ میں اندرونی انتشار پھیلانے والے عناصر،بیرونی مفادات کے سہولت کاراور بے نامی ڈیجیٹل اکاؤنٹس سب اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ متحرک ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی ادارے، میڈیا، تعلیمی حلقے اور باشعور شہری غیر مصدقہ، اشتعال انگیز یا گمراہ کن مواد کی نشاندہی کریں، اس کا تجزیہ کریں اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔

    ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ فیک نیوز حقیقی دنیا میں حقیقی نقصان پہنچاتی ہے۔جھوٹے بیانیے اداروں پر اعتماد کم کرتے ہیں، سماجی تقسیم بڑھاتے ہیں اور معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔اسی لیے اس ڈیجیٹل یلغار کا مقابلہ جرأت سے،ثبوت کے ساتھ،مسلسل آگاہی کے ذریعےاور سنجیدہ مکالمے کے ساتھکرنا ہوگا۔بحث ضرور کیجیے ،اختلاف بھی کیجیے، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ نہ جذباتیت میں آئیں، نہ بغیر تحقیق کے کسی بیانیے کا حصہ بنیں۔

    پاکستانی سیاست میں ایک واضح تقسیم موجود ہے۔عمران خان کا سیاسی طرزِ عمل، بیانیہ، اور پھر اسے سوشل میڈیا پر جس شدت کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے، ایک ایسے ماحول کو جنم دیتا ہے جو ریاستی اداروں سے ٹکراؤ،سیاسی انتہا پسندی،اور قومی بیانیے میں انتشارجیسے عوامل کو بڑھا دیتا ہے۔پاکستان کی استحکام کی ضرورتیں اور عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی ایک ہی سمت میں نہیں چل سکتیں،حقیقت یہ ہے کہ “پاکستان اور عمران ساتھ نہیں چل سکتے”

    پاکستان کو اس جنگ میں کامیابی کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں عوام میں ڈیجیٹل لٹریسی بڑھائی جائے،لوگ سیکھیں کہ خبر کی تصدیق کیسے کرتے ہیں، کس چیز کو شیئر نہیں کرنا چاہیے، اور کونسی معلومات مشکوک ہو سکتی ہے۔سوشل میڈیا قوانین کا مؤثر اور متوازن نفاذہونا چاہئے،ریاست اور عوام دونوں کو آزادیِ اظہار برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی سلامتی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ دارانہ ڈیجیٹل حکمتِ عملی ترتیب دینی ہو گی،سیاسی بیانیہ اختلاف پر ہو، نفرت، گالی یا گمراہی پر نہیں۔ نوجوان نسل کی تربیت کرنی ہو گی،انہیں یہ سمجھانا کہ آن لائن دنیا اصل دنیا سے الگ نہیں یہاں پھیلایا گیا جھوٹ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔

    پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔بیانیے کی یہ جنگ ہمارے معاشرتی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جھوٹ کو چیلنج کریں،سچ کی حمایت کریں،اور کسی بھی سیاسی اختلاف کے باوجود پاکستان کو مقدم رکھیں،کیونکہ آخر میں ریاست، ادارے اور قوم ہی اصل حقیقت ہیں، بیانیے نہیں۔