Baaghi TV

Category: سیاست

  • بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شور شرابے سے باہر نکل کر بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر توجہ دیں۔ ریاستوں کے تعلقات، معاشی تعاون اور علاقائی توازن نئی سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ داخلی ہم آہنگی کو مضبوط بناتے ہوئے باہمی احترام، مکالمے اور تعاون پر مبنی حکمت عملی اپنائیں۔ عالمی، تبدیلیاں ان ممالک کے لیے مواقعے پیدا کرتی ہیں جو اتحادِ فکر، استحکام اور دوراندیش سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملک کی اصل ضرورت یہ نہیں کہ کون کس کا ذمہ دار ہے، اصل ضرورت یہ ہے کہ اجتماعی دانش کو بیدار کیا جائے، پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے اور سماجی رویوں میں اعتدال پیدا کیا جائے۔ جب تک قوم جذبات کے بجائے بصیرت کو اپنا رہنما نہیں بناتی ترقی کے امکانات محدود ہی رہیں گے۔ دنیا میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں مگر افسوس کہ ہم اب تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہم تبدیلیوں کا حصہ بننا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ دنیا اس وقت ٹیکنالوجی، جدید معاشی طریقے کار اور سائنسی تحقیق کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام اپنے مستقبل کی سمت متعین کر رہی ہیں، معیشتوں کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کر رہی ہیں اور ذہنی صحت کو سماجی پالیسی کا بنیادی حصہ بنا رہی ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز اب بھی توانائی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے بنیادی مسائل کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔ نتیجتاً ہم ترقی یافتہ دنیا کی رفتار سے مسلسل پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے صورتحال کو مزید بگاڑا ہے، تحقیق، دلیل اور تنقیدی شعور کمزور پڑ گیا ہے۔ جبکہ جذباتی ردعمل، سطحی رائے اور غیر سنجیدہ گفتگو عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ رجحان معاشرے کی فطری کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔

    سیاسی جماعتوں کا طرز عمل بدستور محاذ آرائی اور الزام تراشی کے گرد گھوم رہا ہے۔ قومی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی لائحہ عمل اختیار کرنے کے بجائے سیاسی بیانیے، ذاتی مفادات اور جماعتی ترجیحات غالب ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کے پاس ملک کو سمت دینے کی سکت کم اور مخالفین کو زیر کرنے کی خواہش زیادہ ہے۔ اسی سبب عوام میں شدید بےچینی اور بداعتمادی جنم لے رہی ہے۔ وطن عزیز اس وقت جس پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اس پر سنجیدہ اور بامعنی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ توانائی بحران، مہنگائی، اقتصادی ابتری اور حکومتی بے سمتی اپنی جگہ موجود ہے۔ مگر حالیہ ایام میں جو بحث غیر ضروری طور پر زور پکڑ رہی ہے وہ معاشرتی رویوں کی وہ کیفیت ہے جسے عمومی طور پر ذہنی بے سمتی یا نفسیاتی انتشار کہا جا رہا ہے۔ تاہم قوم میں جذبہ بہت ہے، بس سمت کی کمی ہے۔ ہمارا بحران صلاحیت کا نہیں ترجیحات کا ہے اگر ہم جذباتی فیصلوں کے بجائے فکری و اجتماعی ذمہ داری کی طرف آئیں تو آج بھی بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز کے بدنصیبی یہ نہیں کہ دنیا بدل رہی ہے بدنصیبی یہ ہے کہ ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پا رہے کہ ہم بدلنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔

  • فوج جو نہ کسی فرد، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی ہے بلکہ 25 کروڑ عوام کی .تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج جو نہ کسی فرد، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی ہے بلکہ 25 کروڑ عوام کی .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جب کوئی قوم اپنی ہی فوج پر انگلیاں اٹھانے لگے تو وقت ثابت کرتا ہے کہ قومیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں

    آج فوج کو سیاست کے شور میں کھڑا کرکے نشانے پر رکھا جا رہا ہے ہر کوئی اپنے مفاد کی آگ بھڑکھانے میں مصروف ہے

    آج سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان بڑھتے فاصلوں نے صورتحال خطرناک بنا دی ہے ریاستیں بیانیوں پر نہیں اتحاد پر چلتی ہیں

    جو اس ملک کے ہر انچ کی حفاظت کرتا ہے، اس کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں، بات چیت، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اپنانا ہو گا

    اگر فوج سلامت ہے تو پاکستان سلامت ہے اور اگر پاکستان سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں سیاستدان اپنی پالیسیوں زبان اور رویوں پر اَزسرِنو غور کریں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    وطن عزیز دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جو آزمائشوں میں گِھرا رہا دہشتگردی، انتہا پسندی، بیرونی دباؤ، داخلی انتشار مگر ایک ستون ایسا تھا جو ہر وقت کھڑا رہا۔ ایک ادارہ ایسا جو راتوں کی نیندیں چھوڑ کر قوم کی نیند محفوظ بناتا رہا وہ ادارہ ہے پاکستان کی فوج جو نہ کسی فرد کی ہے، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی، یہ 25 کروڑ لوگوں کی فوج ہے۔ اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی، اس کی ڈھال، اس پہچان مگر افسوس آج اسی فوج کو سیاست کے شور میں کھڑا کرکے نشانے پر رکھا جا رہا ہے۔ بیانیے ایسے بن رہے ہیں جیسے فوج دشمن ہو اور سیاست دان ریاست کے ٹھیکیدار سوشل میڈیا نے نفرت کو ایسے پروان چڑھایا جیسے آگ کے سامنے خشک گھاس رکھ دی جائے۔ ہر کوئی اپنے مفاد کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہے مگر سوچ کوئی نہیں رہا کہ اس آگ میں آخر جلتا کون ہے؟ (پاکستان) وطن عزیز کی فوج دنیا کی چند سب سے ڈسپلن اور موثر افواج میں شمار ہوتی ہے۔ امریکہ سے لیکر یورپ تک طاقت ور ملک اس پروفیشنل ازم کو تسلیم کرتے ہیں ہم جس فوج کو روز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہی فوج آج بھی دنیا بھر میں ایک مضبوط فورس کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ وہی فوج ہے جس نے اپنی جانوں کی قربانی دیکر دہشتگردی کا وہ طوفان روکا جس نے ملک کو جکڑ لیا تھا یہ وہی فوج ہے جس نے ماؤں کے بیٹے کھوئے مگر پاکستان اور قوم کو بچائے رکھا۔ آج سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان بڑھتے فاصلوں نے صورتحال خطرناک بنا دی یے۔ ایک طرف سیاست اپنے بیانیوں کے نشے میں ہے دوسری طرف ادارے ریاست کو سنبھالنے کی کوشش میں، لیکن ریاستیں بیانیوں پر نہیں اتحاد پر چلتی ہیں اور جب کوئی قوم اپنی ہی فوج پر انگلیاں اٹھانے لگے تو وقت ثابت کرتا ہے کہ قومیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اگر سیاست اور فوج ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہوں تو نقصان صرف ایک کا نہیں پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں ہوتا مگر اداروں کو متنازعہ بنانا یہ دشمنی ہے وطن سے بھی اور اپنے مستقبل سے بھی۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو لمحہ فکریہ لینا ہو گا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے کیا آگ لگا رہے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ اس ملک کو انتشار کے اس گڑے میں دھکیلنا چاہتے ہیں جس سے نکلنے میں ہمیں دہائیاں لگیں؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دان اپنی پالیسیوں، اپنی زبان اور اپنے رویوں پر اَز سرِ نو غور کریں جو ادارہ ہمیں دہشتگردی سے نکال کر لایا جو اس ملک کے ہر انچ کی حفاظت کرتا ہے اس کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں بات چیت، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اپنانا ہو گا۔ وطن عزیز کو مزید لڑائیاں نہیں چاہیں اسے امن چاہیے، اتفاق چاہیے، ترقی چاہیے یہ ملک ہم سب کا ہے اور فوج بھی۔ اب وقت ہے کہ ہم سب ملکر اسی ایک سچ کو پہچانیں اگر فوج سلامت ہے تو پاکستان سلامت ہے اور اگر پاکستان سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں۔

  • کراچی پھر ماتم کناں ہے.تحریر: شازیہ عالم شازی

    کراچی پھر ماتم کناں ہے.تحریر: شازیہ عالم شازی

    کراچی ایک بار پھر ماتم کناں ہے ایک ایسا ماتم جو صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ سارے شہر کے ضمیر کا ماتم ہے تین سالہ ابراہیم کا کھلے مین ہول میں گر کر جان گنوا دینا کوئی حادثہ نہیں، یہ اس بوسیدہ نظام کا کھلا اعتراف ہے جو شہریوں کی زندگیوں کو محض اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔یہ سانحہ ایک معصوم بچے کی موت نہیں بلکہ ہمارے بلدیاتی ڈھانچے کی سنگین نا اہلی اور شہری حکومت کی شرم ناک بے حسی کا نوحہ ہے ،یہ واقعہ صرف ایک معصوم بچے کی جان کا سانحہ نہیں، بلکہ ہمارے بلدیاتی نظام کی سنگین نااہلی اور شہری حکومت کی مجرمانہ بے حسی کا نوحہ ہے۔ نیپا چورنگی جیسے مصروف مقام پر کھلا مین ہول کئی دنوں، بلکہ ہفتوں سے شہریوں کے لیے موت کا پھندا بنا ہوا تھا، مگر جسے صرف متعلقہ ادارے ہی نہ دیکھ سکے، نہ کسی کی فریاد سن سکے، نہ ہی حرکت میں آئے۔ تین سالہ ابراہیم کا اندوہناک موت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارے شہر میں جان کی قیمت صفر ہے اور ذمہ داری نام کی کوئی چیز موجود نہیں، بلدیاتی ادارے جن کا کام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، وہ خوابِ غفلت میں ڈوبے رہتے ہیں، اور ہر حادثے کے بعد صرف میڈیا پر ان کے بیانات کی بازگشت سنائی دیتی ہے ،تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے کمیٹیوں کے قیام کی خبریں چلتیں ہیں اور دھیرے دھیرے معاملے کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے اوت پھر مکمل خاموشی، شہری حکومت کی یہ بے حسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا کراچی کے لوگوں کی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں کوئی اہمیت حاصل بھی ہے یا نہیں؟

    ایک کھلا گٹر، ایک چھوٹا سا مین ہول ڈھکن، اور ایک لمحہ کی کوتاہی ، اتنی معمولی سی چیزیں اگر زندگی اور موت کا فیصلہ بن جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست اپنے شہریوں سے اپنا بنیادی فرض ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ابراہیم کی موت نظام کی ناکامی کا ایسا ثبوت ہے جسے کوئی بھی صفائی، کوئی بھی بیان، اور کوئی بھی سیاسی جواز نہیں چھپا سکتا۔یہ وقت ہے کہ شہری حکومت سامنے آئے اور عوام کو جواب دے تاکہ واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین ہو، اور کراچی کے لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی زندگیاں کسی کے سفارشی نظام، نااہلی، یا غفلت کی بھینٹ نہیں چڑھیں گی۔ورنہ کل کا ابراہیم کوئی اور ہوگا اور اس شہر کی ماتم کن آوازیں یونہی گونجتی رہیں گی۔

    کراچی آج صرف حادثوں کا نہیں، بے حسی کا شہر بن چکا ہے۔ سانحات پر آنسو خشک ہونے سے پہلے ہی حکمرانوں کی رعونیت بھری گفتگو زخموں پر نمک چھڑک دیتی ہے۔ میئر کراچی کی حالیہ پریس کانفرنس اسی تکبر، اسی حددھرمی اور اسی سنگدلی کا کھُلا اعلان تھی جیسے وہ شہریوں کے منتخب نمائندے نہیں، بلکہ کسی اونچے تخت پر بیٹھے خود ساختہ فرمانروا ہوں ، پریس کانفرنس سن کے یوں لگا جیسے یہ لوگ اپنے آپ کو جوابدہی سے ماورا، تنقید سے بالاتر اور خدائی دعوے کے قریب سمجھ بیٹھے ہیں۔اس پریس کانفرنس میں ایسا زعم، ایسی برتری، اور ایسا تکبر جھلک رہا تھا کہ گویا گردن میں سریا گاڑھ دیا گیا ہو نہ جھکنے کی گنجائش، نہ سننے کی صلاحیت، نہ ماننے کی ضرورت، یہ طرزِ گفتگو کسی خدمت گزار عوامی نمائندے کا نہیں، بلکہ اس ایلیٹ کلاس وڈیرہ شاہی کا ہے جو صدیوں سے عوام کو رعیت سمجھنے کی عادت میں مبتلا ہے۔یہ لوگ قوم کے خیرخواہ نہیں بن سکتے، کیونکہ خیرخواہی کے لیے دل میں درد چاہیے، اور درد وہاں ہوتا ہے جہاں اختیار کے بجائے احساس ہو۔

    کراچی کا شہری آج بدترین بلدیاتی بداعمالیوں، غفلتوں اور بدانتظامیوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم فریاد لے کر کس کے پاس جائیں؟ کون ہے جو سنے؟ کون ہے جو بولے؟ کون ہے جو جائے وقوعہ تک قدم رکھے؟ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں شہرِ کراچی کے لوگ روزانہ جنازوں جیسے راستوں سے گزرتے ہیں سڑکوں پر ابلتے گٹر، گندگی کے ڈھیر، ٹوٹی پگڈنڈیاں، تعفن زدہ ماحول، اور کھنڈرات میں بدلتے محلے یہ وہ شہر نہیں جسے کبھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔

    ہم صبح گھروں سے نکل کر جس اذیت ناک منظر اور تعفن سے گزر کر دفتر پہنچتے ہیں، یہ صرف ہم ہی جانتے ہیں اور شام کو جب تھکن زدہ جسم گھر آتا ہے تو کئی گھنٹوں تک اس قابل نہیں ہوتا کہ زندگی کی کوئی اور ذمہ داری نبھا سکے۔ یہ تھکن جسمانی سے زیادہ ذہنی ہےایک شہر کی حالت دیکھ کر پیدا ہونے والی مایوسی کی تھکن، حکمرانوں کے رویے سے جنم لینے والی بے بسی کی تھکن۔یہ شہر ٹیکس سب سے زیادہ دیتا ہے، مگر بدحالی سب سے زیادہ سہتا ہے۔یہاں سانحات بھی عوام کے نصیب میں ہیں، اور حکمرانوں کا تکبر بھی کراچی کے شہریوں کا صبر اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران تخت و تاج والی ذہنیت کو ترک کریں، زمین پر آئیں، عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیں، ذمہ داری قبول کریں، اور اس شہر کو اس کے بنیادی حقوق فراہم کریں۔اگر ایسا نہ ہوا تو کراچی کی چیخیں صرف ایک بچے کی موت پر نہیں، نظام کے ہر زخم پر بلند ہوں گی اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی شہر چیخیں، تخت لرز جاتے ہیں۔

  • شور نہیں شعور کا راستہ چنیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    شور نہیں شعور کا راستہ چنیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی قوم کا اجتماعی شعور تھکا ہوا ہو۔ دل بوجھل ہو اور نظر دھندلا گئی ہو ملک کے سیاسی منظرنامے پر جو شور، الزام تراشی، بدزبانی اور عدم برداشت چھایا ہوا ہے، اسے دیکھ کر شائبہ ہوتا ہے جیسے کہ ہم ایک ایسی کھائی کے کنارے کھڑے ہیں جہاں سے واپس پلٹنے کے لیے بہت مضبوط ارادہ درکار ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں اداروں پر تنقید ہوتی ہے مگر وہ تنقید دلیل کے ساتھ اور تہذیبی دائرے میں کی جاتی ہے۔ مگر وطن عزیز میں حالیہ برسوں میں جو زبان، جو لہجہ اور طرز بیان اختیار کیا گیا ہے وہ ریاستی اداروں سمیت ہر اس ستون کے لیے مایوس کن ہے جو کسی قوم کی بقا کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض زبان کا بگاڑ نہیں ایک گہری سماجی بے چینی کی علامت ہے۔ اصل مسلہ یہ ہے کہ ملک میں قیادت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے ہمارے سیاسی رہنماؤں میں برداشت، بردباری، حکمت اور وقار کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جذباتیت اور ردعمل نے وسعتِ نظر کی جگہ لے لی ہے۔ سیاست دلیل سے ہٹ کر نعروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ وہ چند لوگ جو تحمل اور وقار سے بات کرنا جانتے ہیں انکی آواز شور میں دب کر رہ گئی ہے۔

    یہ بحران صرف سیاست تک محدود نہیں معاشرتی رویے بھی اسی انتشار کی جھلک دکھاتے ہیں۔ اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ گفتگو کا معیار گر گیا ہے عوام مہنگائی، بیروزگاری اور غیر یقینی کے بوجھ تلے مایوسی کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ اور جب قوم کے دل میں امید کم ہو جائے تو زبان میں سختی اور رویوں میں تلخی بڑھ جایا کرتی ہے۔ مگر یہ تصویر پوری نہیں حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں آج بھی بیشمار سمجھدار، معتدل، باشعور اور سنجیدہ افراد موجود ہیں۔ سیاست دان، دانشور، صحافی، سرکاری افسران، نوجوان اور عام شہری جن کی سوچ میں توازن اور دل میں ملک کے لیے اخلاص موجود ہے مگر انکی آوازیں کمزور ہیں جبکہ جذباتی بیانیہ زیادہ زور سے بولا جا رہا یے۔ وطن عزیز کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ دلیل پر مبنی مکالمہ، شائستگی کی بحالی اور ایسی قیادت جو قوم کو تقسیم نہیں، جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو، قیادت وہی جو صرف سیاسی قوت نہ رکھتی ہو بلکہ اخلاقی قوت بھی رکھتی ہو جو قوم کے زخموں کو پہچانے اور ان ہر مرہم رکھ سکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں بحران سے گزرتی ہیں مگر جو قومیں بحران کو اپنا استاد بنا لیں وہ ٹوٹتی نہیں سنورتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ شدید ضرور ہے مگر ناقابل حل ہرگز نہیں بس ضرورت اس امر کی ہے ہم بطور قوم فیصلہ کر لیں کہ ہمیں شور نہیں شعور کے راستے پر چلنا ہے۔

  • آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کے سیاسی ماحول میں ایک خطرناک رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے۔ سیاسی اختلافات، ذاتی مفادات اور سستی شہرت کی دوڑ نے کچھ عناصر جن میں یوٹیوبرز، غیر ذمہ دار سوشل میڈیا اور دوسرے ویلاگرز نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف من گھڑت افواہیں پھیلانا اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف اخلاقی انحطاط کا مظہر ہے۔ بلکہ قومی سلامتی پر براراست حملہ بھی ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے ادارے خصوصا عسکری قوت اس ملک کی دفاعی دیوار ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جنکے افسران اور جوان ہر لمحہ اپنی جان کو داو پر لگا کر ملک کی سرحدوں کے محافظ بنے کھڑے ہیں۔ ان میں سے کئی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں ایسے میں ان کے خلاف جھوٹے الزامات اور بے بنیاد پروپیگنڈہ نہ صرف شہداء کے خون کی توہین ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

    بلاشبہ اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر اس آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے کرنا انکی ساکھ مجروح کرنا اور عوامی اعتماد کو متنززل کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی ذمہ دار ریاست میں ایسی منفی سرگرمیوں کے خلاف سخت قوانین موجود ہوتے ہیں اور ان قوانین کا نفاذ قومی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاو کو روکنے کے لیے واضح اور سخت حکمت عملی وضع کی جائے ساتھ ہی عوام کو معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ رویے کی اہمیت سے آگاہ کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت مدنظر رکھنا چاہیے کہ ریاست ہمیشہ مقدم رہتی ہے سیاست بعد میں۔ اگر سیاسی فائدے یا ذاتی شہرت کے لیے اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا تو اسکے اثرات قوم کی اجتماعی وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

    وطن عزیز اس وقت جن چیلنجز سے دوچار ہے وہ ہم سے زیادہ ذمہ داری، اتحاد اور سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ افواہوں کی سیاست کے خلاف اجتماعی شعور اور ریاستی سطح پر مضبوط کاروائی ہی ملک کو اس خطرناک رجحان سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

  • جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست کے بدلتے ہوئے تناظر میں جماعت اسلامی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزستہ دنوں لاھور میں ہونے والا جماعت اسلامی پنجاب کا تاریخی اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی ایک بار پھر اپنی تنظیمی طاقت بحال کرنے اور عوامی سیاست میں نئی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لاہور کا اجتماع صرف ایک تنظیمی تقریب نہیں تھا بلکہ یہ جماعت کی سیاسی سمت کے تعین میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی حالیہ مقبولیت اس اسکے سیاسی مستقبل کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے جس موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف شہری طبقات میں اسکی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ یہ تاثر بھی قوی ہوا کہ جماعت اسلامی ابھی صرف نظریاتی ووٹرز تک محدود نہیں بلکہ شہری مسائل کے حل کے لیے ایک سنجیدہ متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ، پانی، نکاسی، تجاوزات اور شہری سہولیات جیسے مسائل پر جماعت کی مسلسل مہم نے اسے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں عملی سیاست کا نیا چہرہ فراہم کیا۔ یہ وہ کریڈٹ ہے جو اب پنجاب سمیت دیگر صوبوں تک منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنجاب تاریخی طور پر مذہبی اور نظریاتی سیاست کے لیے زرخیز رہا ہے مگر گزشتہ دہائیوں میں جماعت اسلامی جہاں مطلوبہ انتخابی نفوس پیدا نہ کر سکی تاہم لاھور میں حالیہ اجتماع نے یہ تاثر بدلا ہے۔ اس اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت سے یہ واضح ہوا کہ جماعت اب پنجاب میں ایک نئے بیانیے اور نئی تنظیمی حکمت عملی کیساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ جماعت کی نئی حکمت عملی تین اہم نکات ہر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ تنظیمی ڈھانچے کی بھرپور بحالی۔ بلدیاتی سطح پر فعال موجودگی۔ عوامی مسائل کے حل کو نظریاتی سیاست کیساتھ جوڑنا۔ اگر جماعت اپنے بیانیے کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی تو پنجاب میں اسے پہلے سے بہتر عوامی پزیرائی مل سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا نوجوان منظر نامہ، مواقعے اور چیلنجز دونوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف عوام کی نظریاتی سیاست سے مایوسی جماعت کے لیے جگہ پیدا کر رہی ہے، تو دوسری طرف روایتی بڑی جماعتوں کا دباؤ اس کے لیے سخت امتحان بھی ہے۔ سیاسی منظر نامے میں جماعت اسلامی کا مستقبل چند باتوں پر منحصر ہو گا۔ کیا جماعت اسلامی کراچی ماڈل کو پنجاب میں دہرا سکے گی؟ کیا قیادت نوجوان ووٹرز تک رسائی برھا سکے گی؟ کیا جماعت اپنی عوامی سیاست کو جدید میڈیا اور تنظیمی اسٹرجیٹی کے مطابق ڈھال سکے گی؟ اگر یہ تینوں سوالات کے جوابات مثبت ہوئے تو جماعت اسلامی نہ صرف پنجاب میں بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی سیاسی حیثیت بہتر بنا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے افق پر نئی توانائی کیساتھ ابھر رہی ہے۔ لاھور کا اجتماع اس سفر کا نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ کراچی کی کامیابی جماعت کے لیے اعتماد کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر جماعت اپنی پالیسیوں میں یکسوئی برقرار رکھتی ہے تو وہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سیاست بدلتے موسموں کی کہانی کی طرح ہے۔ کبھی کوئی جماعت مرکز نگاہ بنتی ہے، تو کبھی کوئی تحریک دھڑکنوں میں اتر آتی ہے۔ تاہم پاکستان کی سیاست میں خلا موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس خلا کو کیسے اور کس حد تک پر کرتی ہے۔ جماعت اس جگہ کو عملی سیاسی قوت میں بدل سکے گی یا نہیں۔ پنجاب کا سیاسی نقشہ فیصلہ کن رہا ہے یہاں کے ووٹر کا رحجان ملک کی مجموعی سیاست کی سمت تعین کرتا ہے۔ لاھور کے حالیہ اجتماع نے یہی پیغام دیا کہ جماعت اسلامی پنجاب میں ایک نیا آغاز چاہتی ہے اور شاید کر بھی چکی ہے۔

  • عوامی مسائل پر مسلسل خاموشی کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوامی مسائل پر مسلسل خاموشی کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کی سیاست ایک عجیب دائرے میں قید دکھائی دیتی ہے۔ ایسا دائرہ جو گھومتا ضرور ہے مگر آگے نہیں بڑھتا۔ حکمران آتے جاتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، پارٹیوں کے جھنڈے رنگ بدلتے ہیں مگر عوام کے مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ ایک عام شہری کا سوال بڑا سادہ ہے جب جمہوریت ہے تو پھر جمہور کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟ اصل بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کا ڈھانچہ تو موجود ہے مگر اس کی روح کمزور پڑ گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حالات جدید جمہوری تقاضوں کے بجائے شخصیتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ منشور کمزور، پالیسی بعید اور تنظیم غیر فعال۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت بنتی ہے تو اس کی ترجیحات وہی رہتی ہیں جو کل تھیں، چہرے بدلتے ہیں مگر طرز حکومت وہی رہتا ہے۔ اس کے ساتھ بیوروکریسی کا پرانا نو آبادیاتی ڈھانچہ عوامی خدمت کی جگہ اختیار اور فائل ورک کو ترجیح دیتا ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے نظام عوام کے راستے میں کھڑا نظر آتا ہے۔ انصاف کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں طاقتور بچ نکلتے ہیں کمزور چکر لگاتے لگاتے تھک جاتے ہیں۔ بنیادی مسلہ یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کی معاشی پالیسی اشرفیہ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ٹیکس ہو، سبسڈی ہو، کاروباری ماحول ہو یا زمین کا نظام قوانین کمزور طبقات کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہیں۔ جب عوام کی جیب پر مسلسل بوجھ پڑتا ہے تو جمہوریت ان کے لیے صرف ایک لفظ بن کر رہ جاتی ہے۔ حقیقت نہیں پاکستان کا تعلیمی نظام بھی سیاسی شعور پیدا کرنے میں ناکام رہا عوام کو نہ حقوق کا علم ہے نہ حکمرانوں سے تقاضے کا سلیقہ۔ سیاست مفادات اور بیانیوں کے جنگ بن کر رہ گئی ہے اور میڈیا نے اس جنگ میں تیزی ہی پیدا کی ہے۔ اصل مسائل پانی، صحت، تعلیم، روزگار، انصاف، ٹی وی اسکرین کی زینت کب بنتے ہیں؟ بہت کم۔ آخر میں سوال وہی کھڑا ہے کہ اگر جمہوریت ہے تو پھر عوامی مسائل پر یہ مسلسل خاموشی کیوں؟ جواب تلخ ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ وطن عزیز میں ابھی تک جمہور نہیں بلکہ طاقتور سیاسی جماعتوں کی حکمرانی ہے۔ جسے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں سیاسی جماعتوں میں چند کردار ہیں۔ جب تک انصاف اور معیشت کمزور طبقات کے لیے بے معنی رہتی ہے، جمہوریت بھی کمزور رہے گی اور عوام کے مسائل بھی۔ پاکستان کے مسائل اس لیے بھی برقرار ہیں کہ یہاں نظریں ہمیشہ تخت پر رہتی ہیں، نظام پر نہیں۔ دن بدلتے ہیں حکمران بدلتے ہیں مگر عوام کے لیے صرف وعدے بدلتے ہیں۔

  • لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ

    لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ

    لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اتوار کے روز ایک متنازع بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگرچہ آج سندھ بھارت کا حصہ نہیں ہے، مگر یہ خطہ تہذیبی اور ثقافتی طور پر بھارت سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور ’’ایک دن دوبارہ بھارت میں واپس آ سکتا ہے‘‘۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد صوبہ سندھ 1947 کی تقسیم کے وقت پاکستان کا حصہ بنا، جس کے بعد بڑی تعداد میں سندھی ہندو بھارت ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق سندھ کا خطہ جغرافیائی طور پر گجرات اور راجستھان کے نزدیک ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی طور پر بھی بھارت سے وابستہ ہے۔ راجناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں سابق بھارتی نائب وزیرِاعظم ایل کے ایڈوانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نسل کے سندھی ہندو آج تک سندھ کی علیحدگی کو دل سے قبول نہیں کر سکے، کیونکہ اُن کے نزدیک دریائے سندھ اُن کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ اس بیان نے بھارت کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    یہ دعویٰ بظاہر ایک جذباتی نعرہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ پاکستان کا ایک مضبوط اور ناقابلِ تقسیم صوبہ ہے، جس کی سیاست، معیشت اور شناخت بھارت کے کسی بھی خواب کو رد کرتی ہے۔ بھارت کے لیے اصل خطرہ سندھ یا مغربی سرحد نہیں بلکہ مشرقی محاذ ہے، جہاں تزویراتی تبدیلیاں تیزی سے بھارت کے لیے ایک نئے امتحان کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کے انتہائی شمال مغرب میں، بھارت کی سرحد سے صرف 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع لالمونیرہٹ کا پرانا ہوائی اڈہ اس وقت جنوبی ایشیا کی سب سے خطرناک تزویراتی تبدیلی کا مرکز بن چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے وقت برطانوی رائل ایئر فورس کا یہ اڈّہ برسوں سے ویران پڑا تھا، مگر 2025 میں اس کی بحالی اور توسیع نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے جو براہِ راست بھارت کے Siliguri Corridor یعنی Chicken Neck کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ وہی 22 کلومیٹر چوڑا تنگ کوریڈور ہے جو بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں (آسام، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تریپورا اور میگھالیہ) کو باقی ہندوستان سے ملاتا ہے۔ اگر یہ کوریڈور کاٹا گیا تو شمال مشرق حقیقتاً الگ تھلگ ہو جائے گا۔

    مارچ 2025 میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے لالمونیرہٹ کو مکمل فوجی ایئربیس میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ اکتوبر 2025 میں آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے خود سائٹ کا دورہ کیا اور توسیعی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ نومبر 2025 تک یہاں جدید ایئر ڈیفنس ریڈار، ہینگرز اور رن وے کی توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ محض بنگلہ دیش ایئر فورس کی جدیدبنانے کا حصہ نہیں ہے بلکہ چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر بھارت کو مشرقی سمت سے گھیرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا اہم جز بھی دکھائی دیتا ہے۔ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد صرف دس ماہ کے اندر بنگلہ دیش کی خارجہ و دفاعی پالیسی نے 180 ڈگری کا مکمل رخ بدل لیا۔ جہاں ایک طرف محمد یونس کی عبوری حکومت نے بیجنگ کے ساتھ 2.1 بلین ڈالر کے نئے معاہدے کیے، وہاں دوسری طرف پاکستان سے دفاعی تعلقات بحال ہوئے جو 1971 کے بعد پہلی بار اس سطح پر پہنچے ہیں۔

    نومبر 2025 میں بنگلہ دیش آرمی کا وفد راولپنڈی پہنچا اور دونوں ممالک کے درمیان پہلی Army-to-Army Staff Talks منعقد ہوئیں۔ اسی مہینے Dubai Air Show میں پاکستان نے ایک "دوست ملک” کے ساتھ JF-17 تھنڈر بلاک 3 کے 16 سے 24 طیاروں کی فروخت کا ایم او یو کیا، جس کے بارے میں معتبر ذرائع کی تصدیق ہے کہ خریدار بنگلہ دیش ہی ہے۔ یہ طیارے AESA ریڈار اور PL-15 لانگ رینج میزائلوں سے لیس ہوں گے اور بنگلہ دیش کے پائلٹس تربیت کے لیے پاکستان آئیں گے۔ یہ 1971 کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ بنگلہ دیشی فوجی اہلکار پاکستانی سرزمین پر تربیت حاصل کریں گے۔

    چین اس پورے کھیل کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔ وہ بنگلہ دیش کو پہلے ہی 72 فیصد دفاعی ساز و سامان فراہم کرتا ہے۔ لالمونیرہٹ کی بحالی میں چینی کمپنی Power China کی 1 بلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری شامل ہے۔ بیجنگ کی حکمت عملی واضح ہے کہ خلیج بنگال سے لے کر ہمالیہ تک ایک مسلسل دباؤ کی فضاء قائم کرنا تاکہ بھارت کو تین محاذوں پر بیک وقت الجھایا جائے ، مغرب میں پاکستان، شمال میں چین اور مشرق میں بنگلہ دیش۔ Siliguri Corridor کی کمزوری کوئی نئی بات نہیں ہےمگر اب پہلی بار اسے تینوں سمتوں سے بیک وقت خطرہ لاحق ہوا ہے۔ لالمونیرہٹ سے Chicken Neck کا فاصلہ فضائی راستے سے چند منٹوں کا ہے۔ اگر کبھی کشیدگی بڑھی تو یہ ایئربیس بھارت کے شمال مشرق پر براہِ راست حملوں، نگرانی یا لاجسٹک سپورٹ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ بھارت نے جواب میں سلی گوری اور آس پاس کے علاقوں میں اضافی فوج، رافیل طیاروں کی تعیناتی اور نئی سڑکوں و ریل لائنوں کی تعمیر تیز کر دی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ 22 کلومیٹر چوڑے اس کوریڈور کو مکمل طور پر محفوظ بنانا نہایت مشکل ہے۔

    شمال مشرقی ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں کبھی ختم نہیں ہوئیں۔ منی پور میں جاری نسلی تنازع، ناگالینڈ اور آسام میں زیر زمین گروہوں کی سرگرمیاں اور معاشی پسماندگی نے ایک ایسی فضا پیدا کر رکھی ہے جہاں بیرونی قوتیں آسانی سے مداخلت کر سکتی ہیں۔ اگر Chicken Neck پر دباؤ بڑھا اور سپلائی لائن متاثر ہوئی تو ان ریاستوں میں بے چینی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ براہ راست علیحدگی شاید ممکن نہ ہو، مگر ایک طویل الگ تھلگ حالت اندرونی استحکام کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ صورتحال تیزی سے ایک نئے تین ملکی (چین،پاکستان اور بنگلہ دیش)اسٹریٹجک اتحاد کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ لالمونیرہٹ کا پرانا رن وے آج محض کنکریٹ اور اسٹیل کا ڈھانچہ نہیں رہا بلکہ آنے والے برسوں کی جنوبی ایشیائی سیاست کا نیا رخ متعین کر رہا ہے۔ Chicken Neck اب محض نقشے پر ایک تنگ کویڈور نہیں رہا بلکہ بھارت کی سات مشرقی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ کن امتحان بن چکا ہے۔

    یہی وہ پس منظر ہے جس میں راجناتھ سنگھ کا سندھ کے بارے میں بیان سامنے آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کی بے چینی اور گیدڑ بھبکیاں سندھ کے بارے میں نہیں بلکہ مشرقی محاذ پر بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں ہیں۔ جب لالمونیرہٹ ایئربیس تیزی سے ایک فعال فوجی مرکز بن رہا ہے، جب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون نئی سطح پر پہنچ رہا ہے اور جب JF-17 تھنڈر بلاک 3 کی ڈیل بھارت کے مشرقی دروازے پر ایک نئی حقیقت رقم کر رہی ہے، تو ایسے میں سندھ کے بارے میں بیانات محض عوام کو بہلانے اور اصل خطرات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ راجناتھ سنگھ کی بے چینی اور ان کی گیدڑ بھبکیاں دراصل اسی حقیقت کا اعتراف ہیں کہ بھارت کے لیے اصل امتحان سندھ نہیں بلکہ اس کا مشرقی محاذ ہے، جہاں چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ حکمت عملی نے اس کے لیے ایک ایسا جال بچھا دیا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔لہٰذا راجناتھ کے بیانات کو اگر کسی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ دراصل اسی خوف اور بے چینی کا اظہار ہیں جو لالمونیرہٹ ایئربیس، پاک-بنگلہ دفاعی تعاون اور JF-17 ڈیل نے نئی دہلی کے ایوانِ اقتدار میں پیدا کر رکھی ہے۔

  • پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام غیر معمولی طور پر موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔ امریکہ ہو یا یورپی یونین دونوں خطوں کی پالیسی ساز ادارے اور ذرائع ابلاغ پاکستان سے متعلق مختلف حوالوں سے دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ تذکرہ محض اتفاق نہیں بلکہ متعدد عوامل کا نتیجہ ہے جنہوں نے پاکستان کو خطے کی اہم ریاست کے طور پر دوبارہ ابھارا ہے۔ عالمی طاقتوں کی توجہ بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کی بدلتی صورتحال ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان مسابقت اور افغانستان کی غیر یقینی پر مرکوز رہی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے کردار کو نظر انداز کرنا آج کسی بھی بڑی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی حالیہ برسوں میں نسبتا فعال نظر آئی ہیں۔ اقوام متحدہ اور مختلف یورپی فورمز پر کشمیر، اسلام فوبیا، فلسطین اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر پاکستان نے جس انداز میں اپنا موقف پیش کیا اسے مختلف سطحوں پر پذیرائی بھی ملی۔ یورپ اور امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کا کردار بھی قابل ذکر ہے بیرون ملک کامیاب پاکستانی نہ صرف اپنے ملک کی نرم تصویر پیش کر رہے ہیں بلکہ کئی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں جو پاکستان کے مثبت تاثر کا ذریعہ بنتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کا سب سے نمایاں پہلو سیکیورٹی اور دفاع کے شعبے سے جڑا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جنگ خطے کے حالات اور افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو عالمی طاقتیں خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل کے بیانات، پالیسی، نقطہ نظر اور بیرونی دورے عالمی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ دفاعی تعاون، انٹیلیجنس روابط اور خطے میں توازن رکھنے کے اقدامات وہ عوامل ہیں جنہیں عالمی سطح پر نہایت سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ پاک افغان سرحدی صورتحال، بھارت کے ساتھ کشیدگی، چین کے ساتھ اسٹریجک شراکت داری اور نیوکلیئر سکیورٹی جیسے معاملات میں پاکستان کا کردار بنیادی نوعیت رکھتا ہے۔

    عالمی برادری یہ جانتی ہے کہ خطے کے سلامتی کا کوئی بھی خاکہ پاکستان کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ تمام عوامل یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کا عالمی تذکرہ کسی ایک شعبے، ادارے یا شخصیت کا مرہون منت نہیں بلکہ ایک بڑے مجموعی کردار کا نتیجہ ہے۔ سفارتی سرگرمیاں، علاقائی صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور عسکری قیادت سب نے مل کر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز بنا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بڑھتی بین الاقوامی دلچسپی کو دانشمندی کے ساتھ پاکستان کے مفاد میں استعمال کیا جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو ملک کو پائیدار استحکام اور مضبوط سفارتی مقام دے سکیں۔

  • پاکستانی صحافت  میں جرات اور شناخت ، تحریر:محمد ندیم بھٹی

    پاکستانی صحافت میں جرات اور شناخت ، تحریر:محمد ندیم بھٹی

    پاکستانی میڈیا کے سفر پر نظر ڈالیں تو یہ صرف چینلز کے اضافے اور اسکرینوں کی چمک دمک تک محدود نہیں بلکہ یہ ارتقائی عمل کئی نظریاتی لڑائیوں، ریاستی و سیاسی دباؤ، معاشی چیلنجز اور پیشہ ورانہ اصولوں کی بقا کی جدوجہد سے عبارت ھے۔ ایسے ماحول میں وہ صحافی اور اینکر زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو محض ٹی وی کی روایتی سرگرمی تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے کردار، طرزِ فکر، تحقیق، سوال کی نوعیت اور عوامی اثر کے اعتبار سے ایک الگ شناخت قائم کریں۔ مبشر لقمان کا نام اسی زمرے میں آتا ھے جہاں شخصیت نسبتاً متنازع سہی مگر پیشہ ورانہ اثر انگیزی اپنی جگہ واضح، معروضی اور ناقابل انکار دکھائی دیتی ھے۔ اسی تناظر میں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جانا ایک علامتی اور معنوی فیصلہ ھے جس کے اثرات صرف شخصی اعتراف تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ میڈیا کے اندر جرأت انگیزی کی اقدار کے لیے ایک ریفرنس پوائنٹ کے طور پر بھی تسلیم کیے جائیں گے۔

    پاکستان میں صحافتی پیشہ ہمیشہ طاقت، دباؤ، وقعت، سازش، اور انسدادِ آزادی کے باہمی تصادم کا مرکز رہا ھے۔ یہاں وہ صحافی زیادہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو گفت و شنید میں مہارت، حکمت عملی، نرم لفاظی اور ادارہ جاتی مفادات کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں، مگر کچھ صحافی اس روایتی لائن سے ہٹ کر سخت سوالات اور ہدفی تحقیق کے ذریعے خود کو اسٹیٹس کے مقابل رکھتے ہیں۔ مبشر لقمان اسی اسلوب کے نمائندہ صحافی ہیں جنہوں نے میڈیا کی پوزیشننگ کی بجائے اپنی شناخت کو ترجیح دی۔ یہ طرز عمل ان کے لیے پیشہ ورانہ سطح پر ریپیوٹ، اثر اور شناخت کا سبب بنا مگر ساتھ ہی تنقید، تنازع اور مزاحمت کا محرک بھی رہا۔ یہی وہ تقابلی تناظر ہے جو انہیں دیگر روایتی اینکرز سے ممتاز کرتا ہے۔

    پاکستان میں انویسٹی گیٹو صحافت کی حیثیت بیشتر اوقات سیاسی نتیجہ خیزی کے بغیر صرف تفریحی جھٹکے کی صورت میں سامنے آتی ھے، مگر مبشر لقمان نے اپنی نشریاتی حکمت عملی میں تحقیق، نکات کی تسلسل، فیکٹ بیس رپورٹنگ اور اسٹیٹ پرفارمنس کے سوالات کو مرکزی حیثیت دی۔ ان کا مقصد صرف خبریں پہنچانا نہیں بلکہ سوال کے نتائج کو اداروں، پالیسی سازوں اور طاقت کے مراکز پر اثر انداز کرنا تھا۔ یہی نقطہ انہیں قابلِ اعتراض بھی بناتا ھے اور قابلِ توجہ بھی۔

    یہ بھی قابل ذکر ھے کہ انہوں نے ڈیجیٹل جرنلزم کی پاکستان میں اہمیت کو کافی پہلے پہچان لیا تھا۔ جب زیادہ تر صحافی ٹیلی ویژن کی ریٹنگ کو اپنی واحد ترجیح سمجھ رھے تھے، مبشر لقمان نے ناظرین کو حقیقت پسندانہ مواد کی فراہمی کا آغاز کیا۔ اس عمل نے انہیں محض ایک ٹی وی اینکر سے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی انفلوئنسر میں تبدیل کر دیا۔ یہ تبدیلی مستقبل کے میڈیا میں ترقی کا وہ رخ دکھاتی ھے جہاں کنٹرولڈ ایڈیٹوریل بورڈ کی بجائے پبلک ڈائریکٹ رسپانس میڈیا فیصلہ کن مقام رکھتا ھے۔

    صحافی کی زندگی صرف سچ بولنے یا حقیقت دکھانے سے پیچیدہ نہیں بنتی بلکہ اصل پیچیدگی اس بات میں ھے کہ سچائی کے نشر کیے جانے کے بعد اس کے اثرات کیسے مرتب ہوتے ہیں۔ مبشر لقمان نے جہاں سوالات اٹھائے وہاں انہیں اس بات کا علم تھا کہ نتائج صرف عوامی بحث پر نہیں رکیں گے بلکہ طاقت کے مراکز تک بھی جائیں گے۔ یہی پیشہ ورانہ حاضر دماغی انہیں نظریاتی صحافت کے خانے میں بھی اہم بناتی ھے۔
    میرے مطابق ان کا انداز زیادہ صریح، تلخ اور براہ راست ھے جس کی وجہ سے بعض اوقات تاثر حقیقت پر غالب محسوس ہوتا ھے، مگر اصل بحث یہ ھے کہ سوال کس بنیاد اور شواہد پر رکھا گیا ھے۔ بین الاقوامی سطح پر ٹرائل اینڈ انویسٹی گیٹو جرنلزم کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ھے۔ پاکستان میں میڈیا ریٹنگ سسٹم آج بھی زیادہ تر ہائی ڈرامہ مواد کو ترجیح دیتا ھے جبکہ مبشر لقمان کا پاور پالیٹکس انکویری ماڈل الگ نوعیت رکھتا ھے۔

    صحافت کی عالمی تاریخ میں ایسے کردار کم نہیں جنہوں نے سوال کی حرارت کو پیشہ ورانہ معیار بنایا۔ امریکی صحافی باب ووڈورڈ اور کارل برنسٹین نے واٹر گیٹ اسکینڈل کے ذریعے انویسٹی گیٹو جرنلزم کو نئی پہچان دی اور وسطِ مشرق کے طاقت اور انسانی حقوق کے تضادات پر سوال اٹھائے، جبکہ جولیان اسانج اور ایڈورڈ سنوڈن نے ملٹی نیشنل سسٹمز میں چھپے ڈیٹا اور انٹیلی جنس پالیسیوں کو منظر عام پر لایا۔ ڈیوڈ فراسٹ نے نکسن انٹرویوز کے ذریعے مکالمے کو احتساب کا فن ثابت کیا۔ یہ تمام مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ انویسٹی گیٹو صحافت کسی ایک ملک کی روایت نہیں بلکہ عالمی فکری مہم کا حصہ ھے۔ اسی تناظر میں مبشر لقمان کی صحافت کا اسلوب مقامی میڈیا کے روایتی انداز سے کچھ مختلف دکھائی دیتا ھے، جہاں سوال کی جسارت اور جواب کی سماجی قیمت ایک ہی سطح پر رکھی گئی ھے۔

    جب پاکستانی میڈیا کا مرکز محض ٹی وی ریٹنگ سسٹم تک محدود تھا، تب مبشر لقمان نے ڈیجیٹل میڈیا کو مستقبل کا فیصلہ کن میدان سمجھا۔ ان کا ایک ڈیجیٹل پبلک ڈائریکٹ میڈیا ماڈل ھے جو عالمی پلیٹ فارمز جیسے VICE، AJ+, BBC Trending، Vox سے ہم آہنگ نظر آتا ھے۔ اس ماڈل میں صحافی کا واسطہ ریٹنگ ڈیسک سے نہیں بلکہ براہ راست عوامی ردِ عمل سے ھوتا ھے، جو عالمی سطح پر ریسپانس جرنلزم کہلاتا ہے۔ اس طرح کا ماڈل صحافی کو محض خبریں پہنچانے والا نہیں بلکہ میڈیا آرکیٹیکٹ بناتا ھے، اور یہی تبدیلی مبشر لقمان کی ٹائم لائن میں واضح ھے۔

    تاریخ بتاتی ھے کہ طاقت کو سوال کبھی پسند نہیں آتا، چاہے دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو۔ امریکی صحافیوں کو پینٹاگون لیکس پر عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا، برطانوی رپورٹرز کو رازداری قوانین نے ٹکرایا، عرب صحافیوں کو انسانی حقوق کے لیے اپنی جان کی قیمت چکانی پڑی، یورپی رپورٹرز کو کارپوریٹ لابیز کا سامنا کرنا پڑا، اور پاکستانی صحافیوں کو پالیسی، دباؤ اور پراکسی بیانیے کے ساتھ ہموار ھونا پڑا۔ یہ وہ عالمی حقیقت ہے جو مبشر لقمان کے پیشہ ورانہ سفر کے تناظر میں بھی نظر آتی ھے، جہاں سوال کا وزن جواب کی قیمت سے زیادہ بھاری رہتا ھے۔

    پاکستانی میڈیا کا مستقبل کیمرہ کی بے ساختگی یا الفاظ کی چمک میں نہیں بلکہ تحقیق کی تہ داری، سوال کے منطقی زاویے، فیکٹ بیسڈ رپورٹنگ اور ڈیجیٹل انٹرایکٹیو جرنلزم میں ھے۔ جو صحافی مواد کو مشاہداتی سچائی کے ساتھ جوڑیں گے وہ آنے والے عالمی میڈیا ماڈلز میں جگہ بنائیں گے۔مبشر لقمان کی نامزدگی پر رائے مختلف ہو سکتی ھے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستانی صحافت میں سوال کی قیمت، ڈیجیٹل ڈائریکشن اور انویسٹی گیٹو ڈائنامکس کو ایک تاریخی کیس اسٹڈی کی صورت دے دی ھے۔ اعتراف ہمیشہ تالیاں نہیں بلکہ وقت اور اثرات دیتے ہیں، اور یہی اصل Lifetime Achievement ھے۔