Baaghi TV

Category: سیاست

  • بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    ”سدا بہار افسر“
    ’باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے یہ افسران سنئیر افسران، وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ہوتے ہیں۔ جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور من مرضی کی پوسٹنگ لیتے ہیں۔ یہ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں مگر ماتحت اور عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔

    ”ٹک ٹاکر افسران“
    ان کی مثال ”جِنا لُچا اونا اُچا“ والی ہے جو جتنا زیادہ قانون شکن، کرپٹ اور واحیات ہوتا ہے وہ سوشل میڈیا پر اتنا زیادہ اچھا دکھنے کی ایکٹنگ کرتا ہے بلکہ اگر صحیح تشریح کی جائے تو ان افسران میں لُچے اور ٹُچے والی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں. پہلے افسران اپنی عظیم الشانی کی وجہ سے مشہور ہوتے تھے اب ذلیل الشانی سے۔
    ٹک ٹاکر افسران کی ذلیل ترین قسم والے افسران کی ویڈیو سامنے آتے ہی منہ سے بے ساختہ گالیاں نکل جاتی ہیں کیونکہ یہ اس قدر بے حس اور غیرت سے عاری ہوچکے ہیں کہ اپنی ویڈیو ایکٹنگ کیلئے معزز شہریوں کی پرائیویسی خراب کر رہے ہوتے ہیں۔

    سستے ایکٹر:
    اکثر دفتر اور سرکاری گاڑی کی ویڈیوز لگاتے ہیں تو کبھی انصاف کی بروقت فراہمی کی فیک اور پلانٹڈ ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔
    ایسے افسران اپنی سستی ایکٹنگ سے ناصرف اپنا گھٹیا پن ثابت کرتے ہیں بلکہ افسری کو داغدار کرتے ہوئے ساری سول سروس کیلئے گالی بنے ہوتے ہیں۔ تمام مرد افسران کی سستی ایکٹنگ اتنی بری اور گھٹیا نہیں ہوسکتی جتنی چند خواتین افسران خاص طور پر خواتین پولیس افسران کی ہے۔ خواتین افسران تو باقی خواتین کیلئے قابل تقلید حد تک مہذب ہوتی تھیں لیکن نئی افسران نے شوبز انڈسٹری کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    مجبور ٹک ٹاکر:
    کچھ افسران پہلے والی اقسام کی اوورایکٹنگ اور سنئیرز کی ڈیمانڈ کے ہاتھوں مجبور ہوکر بھی ٹک ٹاکر بنے ہوئے ہیں کہ اگر ویڈیوز نہ بنائی تو سیٹ چھن جائے گی۔

    ”ادیب افسر“
    پہلی بات تو یہ ہے کہ سرکاری افسر کا ادیب ہونا کوئی فخر والی بات نہیں ہے اسے جس کام کیلئے سرکار نے بھرتی کیا ہے وہی کرنا چاہئے۔ادب کا سہارا لینے والوں میں اکثریت نہ ادیب ہوتے ہیں اور نہ اچھے افسر۔

    کاروباری افسرگروپ:
    یہ اپنی سرکاری نوکری اور عہدوں کے مطابق جس محکمے میں بھی جاتے ہیں وہاں کاروباری لائن سیدھی کرلیتے ہیں۔ یہ اپنے مخصوص کاروباری گروپ کے علاوہ نہ تو کسی کی سفارش مانتے ہیں اور نہ ہی کوئی لین دین کرتے ہیں۔

    ”دیانت دار افسر“
    افسروں کی ایک ناپید قسم ہے، انہیں زیادہ تر کھڈے لائن پوسٹنگ ہی ملتی ہے، کبھی یہاں کبھی وہاں ”رولر کوسٹر“ کی طرح دھکے کھاتے رہتے ہیں۔جب ہر طرف پیسوں کی لین دین سے پوسٹنگ کا بازار گرم ہوتا ہے تو چیف سیکرٹری اور آئی جی حضرات ایسے دو، چار ایماندار افسران کو بھی پوسٹ کردیتے ہیں تاکہ یہ کہہ سکیں کہ اگر میرٹ پر پوسٹنگ نہیں ہورہی تو فلاں افسرکا تو سب کو پتا ہے کہ انتہائی دیانتدار ہے وہ کیسے لگ گیا۔

    ”کنسیپٹ کلئیر افسران“
    ایسے افسران کا مائنڈ سیٹ کلئیر ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔شدید کرپٹ ہونے کی وجہ سے کسی کی کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ سگے باپ کی بھی بات نہیں مانتے جبکہ اپنے ٹاؤٹ کی کال کہیں بھی کسی بھی حالت میں فوراً سے پہلے رسپانس کرتے ہیں۔

    بچے افسران:
    بیوروکریسی میں بچہ کلچر عام اور زبان زد عام ہوچکا ہے کہ یہ فلاں افسر کا بچہ ہے۔ فلاں کا کماؤ پتر اور فلاں کا ”پلاؤ پتر“ہے۔بچے بننے کے مختلف مراحل ہے کمائی کے لحاظ سے کماؤ بچوں کی اکثریت بطور سیکشن آفیسر اور سب رجسٹرار کلک ہوتے ہیں۔ کنسیپٹ کلئیر افسران ان سیٹوں پر سنئیر افسران کے مُنشی بن کر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور یوں صاحب کا بچہ بن جاتے ہیں اور سارا کیرئیر اس سنئیرز کا بچہ بن کر گزار دیتے ہیں وہی سنئیر نہ صرف اس کیلئے پوسٹنگ مینج کرتا ہے بلکہ شیلٹر بھی فراہم کرتا ہے۔ سنئیر افسر اور بچہ دونوں جہاں بھی بیٹھیں گے ایک دوسرے کے سو کالڈ کارنامے اور فضائل بیان کریں گے۔

    جو افسران جونئیر لیول پر کلک نہیں ہوتے جب گریڈ 18اور انیس میں سسٹم کو سمجھ لیتے ہیں تو جس آفسر کا دامن وہ بچہ بن کر تھامتے ہیں وہ پھر اس کو پوسٹنگ کیلئے ایسے انٹرڈیوس کرواتا ہے کہ سر آپ کو دی بیسٹ بچہ دے رہا ہوں، قابل اور ”ریاضی“ کا ماہر ہے لیکن کمٹمنٹ کا پکا ہے اُس کی طرح نہیں کہ ہر جگہ منہ مارتا ہے۔ بیوروکریسی کے بچہ کلچر میں اس بات کو معیوب بھی سمجھا جاتا ہے انکا بچہ ہر کسی کا بچہ نا بنے، بلکہ ”لو پروفائل” اور ”نان سوشل” رہنا ہے تاکہ بچہ کوئی غلطی نہ کرجائے، بچے تو بچے ہوتے ہیں بعض اوقات نہ بتانے والی بات بھی منہ سے نکال دیتے ہیں اس لیے بچے کو جتنا سنبھال کے رکھا جاسکتا ہو رکھا جاتا ہے۔
    چالیس پینتالیس سال کا افسر بھی بچہ کہلانا فخر محسوس کرتا ہے۔
    بات صرف اتنی ہے جب بچہ بننا فائدے کا سودا ہو تو پھر بچہ بننا اور کہلانا فخر اور شیلٹر محسوس کرتے ہیں۔ جس قدر تیزی سے یہ بچہ کلچر پروان چڑھ رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بیوروکریسی کی عزت اور وقار بالکل ختم ہوجائے اور ہر کوئی بچہ بننے اور کہلانے کی ڈور میں لگ جائے۔

  • امن منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلیے مودی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کو دھمکی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلیے مودی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کو دھمکی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے

    امریکی صدر اپنی سفارتی قیادت استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن و مذاکرات کا فریم ورک قائم کریں

    پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا نہ کہ دہشت گردی کا ذمہ دار، دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان میں بھارت ہے

    بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا رہا انہیں مالی سپورٹ بھی کرتا رہا

    بھارتی حکومت، بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی عوام ہوش کے ناخن لیں ورنہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    توجہ برائے امریکی صدر ٹرمپ، توجہ برائے یورپی یونین، توجہ برائے اقوام متحدہ، جب وائٹ ہاؤس سے امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ سے دنیا میں صدائیں بلند ہونے لگی ہیں جنگ نہیں امن۔ دنیا میں اس پر عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں اس کی تازہ مثال اسرائیل اور فلسطین کے لیے بیس نکاتی فارمولا پیش کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے دنیا میں امن منصوبے کو سبوتاز کرنے کے لیے بھارت کی مودی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو دھمکی دی ہے۔ ثابت ہوا بھارت ایک ملک کے ساتھ ساتھ دہشت گرد ملک ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سرحدی مسلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ امریکی صدر اپنی سفارتی قیادت استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن و مذاکرات کا فریم ورک قائم کریں۔ بالکل ویسا ہی جیسے فلسطین اسرائیل کے تنازعے کے لیے پیش کیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ پاک فوج پولیس اور عوام نے قربانیاں دیں جس کا ایک عالم گواہ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا رہا انہیں مالی سپورٹ بھی کرتا رہا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کراچی اور دیگر شہروں میں دہشت گردی میں ملوث رہا جس کے ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا نہ کہ دہشت گردی کا ذمہ دار، دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان میں بھارت ہے جس کی ثبوت عالمی دنیا کے پاس موجود ہیں۔ ہماری پاک فوج جملہ اداروں، پولیس اور عوام نے لہو سے امن کا چراغ جلایا۔ آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد اس بات کا ثبوت ہیں پاکستان نے بھارت کی جانب سے بھیجے گئے نیٹ ورک کو توڑا اور اپنے ملک و قوم کو بچایا۔ یعنی بھیجے گئے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا اور اپنے ملک کو قوم کو بچایا بھارت اب بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وقت آگیا ہے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے دنیا سچ کا ساتھ دے پاکستان امن چاہتا ہے جنگ نہیں چاہتا۔ امریکہ مغربی ممالک اور دیگر عالمی قوتیں جنوبی ایشیا میں ایک ایسا خطرہ ابھر رہا ہے جو صرف پاکستان بھارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام، انسانی المیے اور ممکنہ وسیع البنیاد تنازع میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ خطرہ اگر بروقت، معقول اور غیر جانبدار سفارتی مداخلت سے نہ روکا گیا تو بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع، ماجرین کے ہجوم اور خطے میں بین الاقوامی کشیدگی کے اضافے کا سبب بن سکتا ہے جو عالمی سلامتی اور اقتصادی استحکام دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ بھارتی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی عوام ہوش کے ناخن لیں ورنہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں۔

  • آزاد کشمیر میں احتجاج: غیر ضروری ہنگامہ،تحریر:یوسف صدیقی

    آزاد کشمیر میں احتجاج: غیر ضروری ہنگامہ،تحریر:یوسف صدیقی

    آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کے مظاہرے انتظامیہ اور عوام دونوں کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں یہ مظاہرے شروع میں پرامن تھے، مگر کچھ مقامات پر صورتحال پرتشدد بھی ہو گئی۔ تین پولیس اہلکار اور ایک شہری جاں بحق ہوئے جبکہ سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ احتجاج قابو سے باہر ہے اور انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔

    مظاہرین کے 38 نکاتی مطالبات میں بجلی، گندم اور دیگر ضروری اشیاء پر سبسڈی شامل تھی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مطالبات پہلے ہی پورے کر دیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں آج بجلی اور آٹا سستی دستیاب ہیں۔ باقی رہ جانے والے مسائل بنیادی طور پر قانون سازی کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، جس کے لیے وقت درکار ہے۔ اس کے باوجود، کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے تحت احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں، جس سے عوامی مسائل کا اصل مقصد دھندلا گیا ہے۔

    اس احتجاج میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تنظیم کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا موقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے اور پاکستان یا بھارت دونوں کی مداخلت سے بچنا چاہیے۔ JKLF کے رہنما عوامی ایکشن کمیٹی کے ذریعے مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ عوامی مفاد کے اصل مسائل پہلے ہی حل ہو چکے ہیں۔ باقی رہ جانے والے مسائل قانون سازی کے ذریعے حل ہوں گے۔ بعض حلقے JKLF کی قیادت میں احتجاج کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ JKLF اور دیگر سیاسی گروہ پرامن اور قانونی راستے اپنائیں تاکہ احتجاج صرف ہنگامہ یا سیاسی مفاد کا ذریعہ نہ بنے۔

    مظاہرین میں شامل کچھ گروہ عوام کو بلیک میل کر کے احتجاج میں شامل کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عوام کے حقیقی مسائل پس پشت رہ گئے ہیں۔ سڑکوں پر شور مچانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پرامن مذاکرات اور قانونی طریقے ہی اصل حل ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کو چاہیے کہ وہ عوامی مفاد میں سنجیدہ اقدامات پر توجہ دیں۔

    حکومت پاکستان نے فوری اقدامات کیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی، متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کی اور مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ حکومت کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے نوے فیصد مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور باقی پر بات کے لیے بھی تیار ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے بھی پرامن مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں سے عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ احتجاج صرف ہنگامہ پیدا کر رہا ہے اور عوام کے مسائل حل نہیں کر رہا۔

    بھارتی میڈیا نے مظاہروں کو منفی رنگ دینے کی کوشش کی اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ پاکستانی حکام نے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں اور پروپیگنڈے پر دھیان نہ دیں اور حکومت کی اقدامات پر اعتماد رکھیں۔

    زیادہ تر مطالبات پہلے ہی پورے ہو چکے ہیں اور باقی مسائل قانون سازی اور عملی اقدامات سے حل ہو سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کے ضیاع اور علاقے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ احتجاج نے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مظاہرین اور سیاسی گروہ پرامن، قانونی اور شفاف طریقے اپنائیں۔

    آزاد کشمیر میں احتجاجی مظاہرے وقت کا ضیاع اور عوام کے مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کو چاہیے کہ پرامن مذاکرات اور قانونی اقدامات پر توجہ دیں۔ یہی واحد راستہ ہے جو انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے اور علاقے میں دیرپا امن قائم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

  • اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست دانوں کو بھی اپنے اختلافات آئینی اور پارلیمانی راستوں سے حل کرنے چاہیں
    آمریت کو کندھا دینے والے جمہوریت کے محافظ بھی بنتے نظر آتے ہیں
    مریم نواز گُڈ گورنس میرٹ کی پالیسی اپناتے ہوئے پنجاب ہی نہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز ٹھہریں
    یورپی یونین کی جانب سے مریم نواز کے طرز حکمرانی کی تعریف کرنے کیساتھ انکے اقدامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی گلیاروں میں موجود بعض سیاست دان فوج کے خلاف بیانیہ بنا کر عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ کرتے ہیں انہیں حقیقی ہیرو نہیں کہا جا سکتا۔ اصل ہیرو وہ ہے جو ملکی اداروں کو آئین کے مطابق چلائے اداروں میں توازن قائم کرے اور عوام کو تقسیم نہ کرے۔ اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں۔ فوج کسی فرد واحد کا نام نہیں یہ ایک ادارہ ہے فوج سمیت تمام ادارے آئین کے تابع ہیں۔ سیاست دانوں کو بھی اپنے اختلافات آئینی اور پارلیمانی راستوں سے حل کرنے چاہیں۔ قومی سلامتی کے ادارے فوج، رینجرز، پولیس، انٹیلیجنس اور دیگر ملک و قوم کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی سیاستدان یا گروہ سیاسی اختلاف کو دشمنی بنا کر فوج یا دیگر اداروں کو کمزور کرے تو وہ ملک کو کمزور کرتا ہے۔ کچھ سیاستدان مغربی ممالک اور اداروں کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جمہوریت پسند ہیں اور فوجی اثر و رسوخ کے خلاف ہیں تاکہ انہیں سیاسی یا سفارتی مدد مل سکے۔ ماضی میں ملک و قوم کو مارشل لاء کا سامنا رہا کچھ سیاست دان آمریت کو کندھا بھی دیتے رہے۔ آمریت کو کندھا دینے والے جمہوریت کے محافظ بھی بنتے نظر آتے ہیں۔ تاہم ملکی سیاست میں فوج کے کردار پر بیانیہ ہمیشہ ایک مرکزی اور متنازع موضوع رہا ہے۔ اس وقت صوبوں میں سیاسی حکومتیں موجود ہیں۔ پنجاب میں ایک خاتون وزیراعلٰی ہے۔ اُس خاتون وزیراعلٰی جن کا نام مریم نواز ہے اس نے اپنی گُڈ گورنس میرٹ کی پالیسی اپنائی اور صوبہ پنجاب ہی نہیں ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز ٹھہریں۔ مریم نواز شریف انسانی حقوق، قانون کی بالادستی، جمہوریت اور کمزور طبقات، خواتین، یتیم بچے، معذور افراد وغیرہ کے حقوق کے حوالے سے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی و ملکی تنظیمیں یورپی یونین سمیت ان سے مل رہے ہیں۔ یورپی یونین مریم نواز کے طرز حکمرانی کی تعریف کر رہی ہے۔ جرمنی سمیت یورپی ممالک کے سفارت خانے ماحول، زرعی ٹیکنالوجی، معاشی تعاون، سبز توانائی، خواتین کی بااختیاری، مریم نواز کے اقدامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین امید ہے پنجاب میں اعلٰی درجے کی طرز حکمرانی کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں تعلیم، صحت، آئی ٹی، گرین انرجی میں سرمایہ کاری کرے۔ مریم نواز شریف کو صوبے میں باخبر نگرانی اور جواب دہی کے نظام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    بقول شاعر
    وہی ہے اصل سیاست جو ہو عوام کے نام
    یہی ہے شانِ قیادت یہی ہے خدمت کا کام

  • وقارِ وطن پر کوئی سمجھوتہ نہیں،تحریر: نعیم اشرف

    وقارِ وطن پر کوئی سمجھوتہ نہیں،تحریر: نعیم اشرف

    جو معاملات ریاستِ پاکستان کے وقار سے وابستہ ہوں، وہاں ذاتی پسند و ناپسند، سیاسی وابستگیوں یا انفرادی رائے کو بالائے طاق رکھنا قومی فرض بن جاتا ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ بعض طبقات نے حب الوطنی کے اس بنیادی اصول کو فراموش کر دیا ہے۔ حالیہ ایشیا کپ کی اختتامی تقریب میں پیش آنے والے واقعے کو جس انداز سے موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک قوم کی صورت میں سوچنے کے قابل رہ گئے ہیں؟ اس تقریب میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ، محسن نقوی، صرف ایک شخص نہیں تھے۔وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انکے ہاتھ میں موجود ٹرافی محض ایک کرکٹ سیریز کا انعام نہیں، بلکہ اس ریاست کے وقار کی علامت تھی جس کی بنیاد قربانیوں پر رکھی گئی۔ جب بھارتی ٹیم نے ان سے ٹرافی لینے سے انکار کیا، تو یہ انکار کسی فرد کا نہیں، ایک ریاست کے وقار کا انکار تھا۔ یہ عمل نہ صرف سفارتی آداب کے منافی تھا بلکہ کرکٹ جیسے شائستہ کھیل کی روح کے بھی برخلاف تھا۔ایسے میں چیئرمین پی سی بی نے جو ردعمل دیا، وہ کسی ہنگامی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک اصولی مؤقف تھا۔ "اگر آپ ہم سے ٹرافی نہیں لینا چاہتے، تو پھر یہ آپ کو کسی اور سے بھی نہیں ملے گی” یہ ایک سادہ سی بات نہیں، بلکہ وہ جملہ تھا جس نے برصغیر میں روایتی طور پر بھارتی بالا دستی کے تصور کو چیلنج کیا۔

    برسوں سے یہ روایت رہی ہے کہ بھارت جو چاہے،جیسے چاہے، ویسا کرے اور باقی ممالک اس کے فیصلے کو خاموشی سے تسلیم کر لیں۔ مگر اس بار ایک پاکستانی نمائندے نے، اپنے ادارے کی سطح پر، غیرتِ قومی اور ریاستی وقار کو پہلی ترجیح دیتے ہوئے روایت کو توڑا۔بدقسمتی سے، داخلی سطح پر بعض عناصر نے اس جرات مندانہ اقدام کو ذاتی انا سے تعبیر کیا۔ کچھ نے اسے محض "محسن نقوی کے خلاف احتجاج” کا رنگ دے کر معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ بین الاقوامی فورمز پر شخصیات کے پیچھے ریاستیں کھڑی ہوتی ہیں؟ کیا ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ اگر آج ایک پاکستانی نمائندے کو نظرانداز کرنا آسان سمجھا گیا تو کل یہ طرزِ عمل پاکستان کے صدر یا وزیراعظم کے ساتھ بھی دہرایا جا سکتا ہے؟ یہ وہ موقع تھا جب قوم کو ایک آواز میں بولنا چاہیے تھا، اورکہنا چاہیے تھا کہ "نہیں، یہ پاکستان کی توہین ہے اور ہم اسے برداشت نہیں کریں گے”۔ جو لوگ اس وقت محسن نقوی کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں، اگر یہی ٹرافی کسی غیر ملکی نمائندے کے ذریعے دی جاتی اور محسن نقوی پیچھے ہٹ جاتے تو یہی حلقے اسے کمزوری اور غلامانہ ذہنیت سے تعبیر کرتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار خاموشی اور نرمی کے بجائے، ایک واضح اور دوٹوک پیغام دیا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ علامت اس تبدیلی کی، جس کی اس قوم کو مدتوں سے ضرورت تھی۔ وہ تبدیلی جو ہمیں اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا حوصلہ دے، جو ہمیں بتائے کہ وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اب ہر محفل میں صرف ان کی مرضی نہیں چلے گی۔ یہ وقت قوم کی پشت پر کھڑے ہونے کا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی قیادت، اپنے اداروں اور اپنے فیصلوں کا دفاع نہ کیا تو کل کو ہمیں ہر سطح پر پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔ دنیا صرف ان کا احترام کرتی ہے جو اپنی خودداری کا بھرم رکھتے ہیں، اور یہی وہ پیغام ہے جو پاکستان نے اس چھوٹے سے واقعے کے ذریعے دیا ہے۔محسن نقوی کی ذات اس تحریر کا محور نہیں۔ اصل نقطہ یہ ہے کہ اگر ایک ادارہ ملکی وقار کے لیے کھڑا ہو، تو ہم سب کو اس کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے۔ ہمیں ان رویوں کو ترک کرنا ہوگا جو ہر قومی عمل کو تنقید، تمسخر یا تعصب کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔

    اب وقت ہے کہ ہم اپنی فکری آزادی کو ریاستی وقار سے ہم آہنگ کریں۔ یہ کوئی سیاست کا سوال نہیں، یہ حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ہر موقع پر مخالف سمت کھڑے ہو کر صرف تنقید کا چراغ جلاتے رہیں گے یا پھر ایک قوم کی طرح، ایک جھنڈے کے نیچے، ایک مؤقف کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان کا پرچم سرنگوں نہیں ہوتا اور نہ ہی ہم کسی قیمت پر وقارِ وطن پر سمجھوتہ کریں گے۔

  • بیوروکریسی کا سوشل میڈیا کا غلط استعمال،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کا سوشل میڈیا کا غلط استعمال،تحریر:ملک سلمان

    گزشتہ برس میں نے سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی جعل سازیوں اور واحیات حرکات پر تفصیلی کالمز لکھے اور وزیراعظم کو اسکی سنگینی سے اگاہ کیا تو وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے فوری طور پر اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن اور غیرضروری مشہوری پر پابندی کا نوٹیفیکیشن کرنے کا حکم دیا۔

    2ستمبر2024کے وزیراعظم شہباز شریف کے حکم کے باوجود پولیس سمیت پنجاب کے افسران ٹک ٹاک سٹار بنے ہوئے تھے میں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی توجہ مبذول کروائی تو انہوں نے بھی سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے احکامات جاری کر دیے۔سیلابی صورت حال میں سرکاری ملازمین نے پھر سے وہی جعل سازی شروع کردی جس پر میں نے گزشتہ ہفتے دوبارہ کالمز لکھے کہ سرکاری ملازمین اپنا اصل کام چھوڑ کر سیلف پروجیکشن اور سوشل میڈیا پر ایکٹنگ اور اینکرنگ میں لگے ہوئے ہیں الحمدللہ آج وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر ایک دفعہ پھر سے پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین کو ناصرف غیر قانونی سیلف پروجیکشن سے روکنے بلکہ غیر ضروری تشہیر اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تجزیہ کاری اور تبصروں سے بھی دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا دور ایک طرف افسران کو سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے سے روکنے میں ناکام رہا وہیں پر بیسوں افسران کو ترقیوں سے محروم کرنے کی وجہ سے بھی متنازع رہا۔ موجودہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کی تعیناتی سے میرٹ پر یقین رکھنے والے افسران بہت خوش اور پرامید ہیں کہ اب انہیں انکا جائز حق یعنی اگلے گریڈ میں ترقی ضرور مل جائے گی۔ جہاں افسران کو ان سے انصاف اور میرٹ کی یقین ہے وہیں میرے جیسے رول آف لاء کی بات کرنے والے بھی یقین کامل رکھے ہوئے ہیں کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ہوگا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے گزارش ہے اس اہم ترین سیٹ بطور سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ ’’افسروں کا افسر“ والی سیٹ پر آپ افسران کو انکا جائز حق اگلے گریڈ میں ترقی ضرور دیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ افسران کی جعل سازیوں اور سیلف پروجیکشن کی غیرقانونی حرکات پر محاسبہ بھی کریں گے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان سے گزارش ہے کہ انتہائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فوری ایکشن لیا جائے اور سیلف پروجیکشن پر پابندی کا واضح اور نیا نوٹیفیکشن جاری کی جائے کیونکہ سابق سیکرٹری اسٹیشمنٹ نے ”گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے“والا کام کرتے ہوئے 2020میں پی ٹی آئی حکومت میں ہونے والے نوٹیفیکیشن کو ہی دوبارہ جاری کر دیا تھا۔ یاد رہے پی ٹی آئی دور حکومت میں بھی میں نے ہی کالمز لکھے تھے جس پر اس وقت کی حکومت نے جولائی 2020میں سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے ناصرف پالیسی بنائی بلکہ درجنوں افسران کو نوٹس جاری کیے۔

    موجودہ صورت حال میں بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کے سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے نئے نوٹیفیکیشن میں واضح پابندی لگائی جاتی کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔ سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔ سرکاری افسران میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کی پیش نظر ہر طرح کی ذاتی پروجیکشن پر واضح پابندی عائد کی جائے ،بدقسمتی سے سرکاری افسران شہرت کی دوڑ میں اپنی بنیادی ذمہ داری بھول بیٹھے ہیں۔ عوام لٹتی رہے لیکن سوشل میڈیا پر ”صاحب“ کا اقبال بلند رہنا چاہئے۔
    وزیراعظم اور تمام وزراء اعلیٰ کو چاہئے افسران کی ذاتی پروجیکشن اور سوشل میڈیا ماڈلنگ پر پابندی لگائی جائے۔ عوامی خدمت کی بجائے ذاتی پروجیکشن میں مصروف افسران کو فی الفور عہدوں سے فارغ کیا جائے اور انکے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے۔ عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔

    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم کون ہو ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔بہت سارے پراجیکٹس کی افتتاحی پلیٹ پر بھی افسران نے اپنے نام کنندہ کیے ہوئے ہیں جو کہ سرا سر اختیارات سے تجاوز ہے۔ عوامی فلاح و بہبود کے تمام تر پراجیکٹس سمیت ہر طرح کی میڈیا پروجیکشن صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے۔جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے وہ ہمارے منتخب نمائندے ہیں۔انہیں ہم اپنے ووٹ اور مرضی سے سلیکٹ کرتے ہیں۔اس لیے وہ وسائل کے امین ہیں۔ سرکاری افسران کا کام حکومتی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے حکومت وقت کی مثبت تشہیر کرنا ہے نہ کہ ذاتی پروجیکشن۔

    حکومت وقت کو چاہئے کہ اس لاقانونیت کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں اور کسی بھی سرکاری ملازم کو میڈیا پروجیکشن کی اجازت نہ دی جائے۔

  • جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ ہردور میں امن معاہدے لایا،عمل نہ دارد !
    ٹرمپ منصوبے کا یہ مطلب نہیں،پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا
    پاکستان میں کئی مقبول لیڈر اقتدار میں آئے،قوم کیلئے صرف نواز شریف فکرمند
    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل، فلسطین 20 نکاتی منصوبہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ٹرمپ سے قبل بھی، بل کلنٹن، بش اور اوباما نے بھی اپنے اپنے ادوار میں امن معاہدے دنیا میں پیش کئے، 1993 میں اوسلو معاہدہ، پھر بش دور میں امریکہ، یورپی یونین ،روس اور اقوام متحدہ نے پیش کیا اوباما دور میں مذاکرات متعدد بار ہوئے، اب امریکی صدر ٹرمپ نے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک سوالیہ نشان ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا یا کرنے جا رہا ہے، پاکستان دیگر اسلامی ممالک کی طرح اسرائیل، فلسطین امن معاہدے میں شامل ہیں،

    پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈرشپ کا فقدان ہے، سیاسی جماعتوں میں موجود علاقائی سیاستدان مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر رہے ہیں،جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کب تھی کس کا کیا کردار رہا، اس سلسلے میں پاکستان سمیت ایک عالم گواہ ہے،کیا انہی سیاست دانوں کی وجہ سے آئین کا قتل عام نہیں ہوا؟ کیا آئین کے قتل عام میں ملوث یہ سیاستدان نہیں تھے؟ کہا جاتا ہے کہ عمران خان مقبول لیڈر ہے چلیے مان لیا عمران خان مقبول لیڈر ہیں، کیا وہ جس کشتی میں سوار ہو کر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تھے، اس کشتی کے ملاح کون تھے؟ جمہور کے مسائل کا کسی کو ادراک ہے، نہ تھا، نہ ہے، کس طرح اقتدار حاصل کیا جائے اور کیسے کیا جائے اقتدار کی فکر سب کو ہے اس ملک کو اس عوام کی فکر کسی کو نہیں،سوچیے اور غور کیجئے،

    نواز شریف ملکی سیاسی تاریخ میں ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں، جنہوں نے ملکی دفاع مضبوط کرنے کے بعد 2013 اور 2017 جب وزیراعظم بنے تو ان کی توجہ کا مرکز معاشی ترقی تھی آج کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار گواہ ہیں، ان کے خلاف پانامہ سے قبل جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور نااہلی جیسے مقدمات انہی سیاستدانوں کے سامنے بنائے گئے، خدا کی پناہ اعلیٰ ججوں کا ایک گروپ بھی اس سازش میں ملوث نہیں تھا؟ بحیثیت قوم ہم نے اپنے سیاسی لیڈرشپ کی قدر نہیں کی، جس کا خمیازہ آج ملک و قوم دونوں بھگت رہے ہیں، جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کی آڑ لیکر سیاستدانوں کی اکثریت نے عوام اور اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، آج کی بین الاقوامی سیاسی شطرنج کھیلے جانے والی گیم میں پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، ملکی معیشت کو سنبھالنا ایک چیلنج ہے، پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وفاقی وزیر خارجہ کی سیاسی حکمت عملی درست راستوں پر چل رہی ہے،

    پاک فوج کسی ایک فرد کا نام نہیں پاک فوج اور جملہ اداروں کو اس ملک کی سرحدوں کی فکر تھی اور یہ جاری ہے، تاہم ہم نے بحیثیت قوم، سیاسی جماعتوں نے اپنے قائدین سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا،،بقول شاعر ،،
    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں
    کون سا داغ نکال کر دل سے ثبت سرےدیوان کریں

  • بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام عالم اس وقت جدید ٹیکنالوجی کی طرف رواں دواں ہے۔ پاکستان نے اگر بھارت سے جنگ جیتی جہاں پاک فوج کا کردار تھا وہاں جدید ٹیکنالوجی بھی شامل تھی۔ جس کی وجہ سے پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنے آپ کو منوایا۔ لیکن حیران کن حد تک یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ہے۔ آخر یہ پاکستان، جمہوریت اور عوام سے کس چیز کا بدلہ لینا چاہتی ہے۔ برطانوی راج میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا کلیکٹر کے پاس انتظامی عدالتی اور پولیس تینوں طرح کے اختیارات تھے۔ مقصد یہ تھا کہ نو آبادیاتی نظام آسانی سے چل سکے رعایہ پر قابو رکھا جائے اور بغاوتوں کو دبایا جا سکے۔ آزادی کے بعد پاکستان میں یہ نظام جاری رہا لیکن بعد میں 2001 میں پولیس آرڈر اور لوکل گورنمنٹ اصلاحات کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کردار ختم کر دیا گیا اور عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کیا گیا۔ انگریز کا نظام بنیادی طور پر عوامی نمائندگی نہیں کرتا تھا بلکہ نو آبادیاتی کنٹرول کے لیے بنایا گیا تھا۔ پاکستان کے کچھ بیوروکریٹ یہ سمجھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کو دوبارہ عدالتی اختیار ملیں لیکن وکلا کی ایک بڑی تعداد اور عدلیہ کی اکثریت اس کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ برطانیہ سمیت زیادہ تر جمہوری ممالک نے انتظامیہ اور عدلیہ کو مکمل طور پر الگ کر دیا ہے وہاں پولیس، میئر یا منتخب مقامی حکومت کے ماتحت ہے نہ کہ کسی بیوروکریٹ یا مجسٹریٹ کے۔ چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط ڈھانچہ برطانیہ سمیت دیگر جمہوری ممالک میں بنایا گیا مجسٹریٹی نظام نو آبادیاتی اور غیر جمہوری تھا۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے اداروں کی علیحدگی شفاف، احتساب اور مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا نہ کہ پرانا غلامی والا ڈھانچہ واپس لانا۔ نظام کی ساخت سے زیادہ عمل درآمد اور نیت کا ہے اگر پولیس اور عدلیہ کو آزاد اور جواب دے بنایا جائے تو مجسٹریٹی نظام کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

    حیرت انگیز طور پر 2024 میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا مجسٹریٹی نظام ختم کرنے کا بل دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے باوجود ایوان صدر جاتے ہوئے گم کر دیا گیا جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے۔ پارلیمنٹ ممبران قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کو باز پرس کرنی چاہیے کہ وہ بل کہاں گیا۔ سن 1973 کے متفقہ آئین میں بھی مجسٹریٹی نظام ختم کرنے پر اتفاق ہوا مگر ہر دور میں بیوروکریسی رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ بیوروکریسی اخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کو اور اس قوم کو جس میں ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں دوبارہ غلامی کے دور میں کیوں جانا چاہتی ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر تمام محکموں کی سربراہی ان کے پاس ہے اور ان محکموں کا جو حال ہے وہ ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی معلوم ہے۔ آذاد کشمیر میں آج حالات خراب ہیں وہاں مجسٹریٹی نظام پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ سابقہ فاٹا میں ڈی سی جج ہوا کرتا تھا اور پولیس بھی تھی مگر وہاں کی آگ فوج نے اپنے خون سے بجھائی۔ سوال یہ ہے کہ مجسٹریٹی نظام وہاں کیا کرتا رہا؟ بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ ڈی سی کے مکمل کنٹرول میں ہے مگر حالات سب کے سامنے ہیں وہاں بھی اگر پاک فوج نہ ہو تو سوچیے کہ پھر کیا ہو۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی مجسٹریٹی نظام ہے ذرا غور سے سوچیے کہ اسلام آباد کے کیا حالات ہیں زیادہ پیچھے جائیں تو اسی مجسٹریٹی نظام کے دور میں امریکی سفارت خانے پر ایک ہجوم چڑھ دوڑا اور یہ واقعہ سن 1979 کا ہے اور 1989 کا حملہ اسی مجسٹریٹی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سندھ اور پنجاب میں امن و امان بہت بہتر ہے کیونکہ پولیس اپنا کام کر رہی ہے اور عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ بیوروکریسی کا ایک گروپ مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو ایک آذاد مملکت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ پولیس کو پروفیشنل بنائیں۔ پاکستان کے قریبی ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے تمام بڑے شہروں میں مجسٹریٹی نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ بیوروکریسی کا گروپ اب پنجاب اور سندھ میں حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے ذمہ داران ریاست پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومت اس سنگین مسئلے پر خصوصی توجہ دے۔

  • امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے ساتھ دوستی،پاکستان کو قومی مفادات سامنے رکھنے ہوں گے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے

    فوجی اور سیاسی قیادت کا متفقہ موقف پیش کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو بہت سے اتار چڑھاؤ سامنے آتے ہیں۔ خارجہ محاذ کی اگر بات کی جائے تو پاکستانی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کا نقطہ نظر دنیا تک کامیابی سے پہنچایا۔ ملکی صورتحال اور امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تاہم پاکستان اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں پر پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دوستی کو بڑھانے میں اپنے مفادات کو سامنے رکھنا ہوگا اور امریکہ کو بھی برابری کی سطح پر نہ سہی لیکن ایک خود مختار ملک کے طور پر پاکستان کی خود مختاری کا پاس رکھنا ہوگا یہ دونوں ملکوں کے مفاد کے لیے بہتر ہوگا۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہو رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکہ نے تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس میں امریکہ پاکستان کے تیل ذخائر کو دریافت کرنے کا معاہدہ ہے۔ پاکستان نے امریکی کمپنیوں کو کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ہے۔ ملاقات کے دوران پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ساتھ ہونا ایک اہم اشارہ ہے یعنی پاکستان کا یہ پیغام اس کی فوجی اور سیاسی قیادت ایک متفقہ موقف پیش کرنا چاہتی ہے۔

    یہ تمام عوامل مل کر اشارہ دیتے ہیں کہ پاکستان ایک ری سیٹ تجدید کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔ اپنے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور اسے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر ایک زیادہ فعال اور متوازن مقام دلوانا چاہتا ہے۔ اگر ملاقات نتیجہ خیز ہو اور امریکہ پاکستان کے توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی شبوں میں سرمایہ کاری کرے تو اس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بہتر تعاون پاکستان کو بین الاقوامی انسداد دہشت گردی نیٹ ورکس کو ٹرانس نیشنل سطح پر نشانے پر لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھ سکتی ہے مالی معاونت مل سکتی ہے تو پاکستان داخلی سلامتی کو تقویت مل سکتی ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان ممکنہ طور پر امریکی گیم پلان کا حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ چین، بھارت، امریکہ توازن میں خود کو ایک مفید شرکت دار ثابت کرے۔ اگر امریکہ پاکستان کو ایک اہم شریک سمجھے تو پاکستان کو علاقائی سیاست میں وزن ملے گا بھارت اس ملاقات کو چین، امریکہ، پاکستان کی تاثیر میں دیکھے گا اور ممکن ہے کہ وہ سخت رد عمل دے یا بین الاقوامی فورمز پر پاکستان پر تنقید کرے۔

    پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے ہے۔ سرمایہ کاری حالات شفاف نہیں ہیں کچھ علاقوں میں سکیورٹی مسائل ہیں جن پر توجہ ضروری ہے۔ موجودہ ملاقات فوجی اور سیاسی قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر عوامی یا سیاسی اپوزیشن حلقے یہ کہیں کہ اس طرح کی نتیجہ خیز ملاقاتوں میں قومی مفادات قربان کیے جائیں تو اندرونی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ملاقات خود پاکستان کے لیے گیم چینجر بن جائے گی مگر اس میں اتنی قابلیت ضرور ہے کہ اگر موثر حکمت عملی، شفافیت، سیاسی حوصلہ، دیر پا منصوبہ بندی شامل ہو تو اس کے بہت اہم مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ چاہے کہ اس ملاقات کا بہتر فائدہ ہو اسے چاہیے کہ امریکی معاہدوں کی شرائط کو اچھی طرح سمجھے اپنی خود مختاری کو یقینی بنائے۔ داخلی اصلاحات، قانونی شفافیت، صوبائی مساوات اور سکیورٹی حکمت عملی کو بہتر کرے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری محفوظ ہو اور عوام کو فائدہ پہنچے۔ علاقائی تعلقات کا خیال رکھے تاکہ یہ دکھایا جائے کہ پاکستان صرف امریکہ کا ہی اتحادی نہیں بلکہ ایک خود مختار ملک جو علاقائی استحکام کا خواہش مند ہے۔

  • طاقت کے یہ کھیل کب تک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    طاقت کے یہ کھیل کب تک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی طاقتوں کی کشمکش اور باہمی رسہ کشی کے بیچ سب سے زیادہ دباؤ اور نقصان عام آدمی ہی برداشت کرتا ہے۔ طاقتور ملک اپنی معیشتیں،دفاعی حکمت عملی اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن اس دوڑ میں عام شہریوں کی زندگیاں، ان کے وسائل اور ان کا مستقبل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ چاہے وہ مہنگائی ہو، بے روزگاری ہو، مہاجرین کا بحران ہو، یا جنگوں کے نتیجے میں تباہ حال زندگیاں، ہمیشہ قیمت وہی لوگ ادا کرتے ہیں جن کے پاس نہ طاقت ہوتی ہے، نہ وسائل۔ایک طرف بڑی ریاستیں اپنے مفادات کے لیے ترقی، سلامتی اور آزادی کے نعرے لگاتی ہیں مگر حقیقت میں ان ہی فیصلوں کے بوجھ تلے غریب اور کمزور طبقات کچلے جاتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سیاست شطرنج کی بساط کی طرح ہے جس پر بڑے کھلاڑی اپنے مہرے آگے بڑھاتے ہیں۔ مگر وہ مہرے دراصل کروڑوں عام انسانوں کی زندگیاں ہیں جو طاقت کے کھیل میں قربانی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ دنیا کی سیاست آج بھی طاقت کے ایوانوں میں اسی طرح شور مچا رہی ہے جیسے صدیوں پہلے تھی۔ طاقتور ممالک اپنی معیشت، اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے زور پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ ان کے اجلاس، ان کے بیانیے اور ان کے فیصلے دنیا کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام شور و غوغا کے بیچ ایک سوال دب جاتا ہے۔ ان سب کا خمیازہ کون بھگتتا ہے؟

    سچ پوچھیے تو وہی عام انسان جو اپنے چھوٹے سے گھر میں بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ وہی کسان، وہی مزدور جو دن بھر پسینہ بہا کر شام کو تھکے ہارے گھر لوٹتا ہے۔ عالمی طاقتوں کے فیصلے جب مہنگائی، جنگ یا معاشی بحران میں ڈھلتے ہیں تو سب سے پہلے انہی کے چولہے بجھتے ہیں۔ طاقت کے یہ بڑے کھیل عام آدمی کی زندگی کو یوں کچل دیتے ہیں جیسے پہاڑ کسی ننھی کلی کو روند دے۔ بڑے بڑے ملک اپنے قومی مفاد کے نام پر معاہدے کرتے ہیں، جنگیں چھیڑتے ہیں، ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے ہیں مگر یہ سب کرتے وقت کوئی نہیں سوچتا کہ ان کے جھگڑوں کی زد میں آنے والے بے قصور انسانوں کا کیا ہوگا؟ کون ان کے بچوں کے آنسو پونچھے گا؟ کون ان کے خوابوں کو بچائے گا؟ دنیا کی تاریخ گواہ ہے جب بھی طاقتوروں نے اپنے مفاد کے لیے فیصلے کیے سب سے زیادہ خون عام انسان کا بہا۔ کبھی وہ مہاجرین بن کر سرحدوں پر ٹھوکر کھاتا ہے، کبھی وہ بیمار ہو کر دوائی کو ترستا ہے، کبھی وہ بے روزگار ہو کر بھوک سے لڑتا ہے،

    آج کا عام آدمی طاقت کے اس کھیل کا سب سے کمزور مہرہ ہے۔ ملک جب چاہیں اسے آگ میں جھونک دیتے ہیں، جب چاہیں اسے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ دنیا سوچے طاقت کے یہ کھیل کب تک؟ کب تک یہ عام انسان پسے گا؟ کب تک وہی بھاری قیمت ادا کرے گا جس نے نہ جنگ چھیڑی نہ معاہدہ کیا نہ فیصلہ؟ زمین پر سب سے قیمتی شے قیمت نہیں انسان کی زندگی ہے لیکن افسوس طاقت کے ایوان یہ سچ کب سمجھیں گے؟
    بقول شاعر:
    سلطنتیں لڑتی رہیں اپنی جیت کے لیے
    مگر ہر بار عام انسان ہی مٹ گیا