Baaghi TV

Category: سیاست

  • ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن پنجاب،تحریر:ملک سلمان

    ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن پنجاب،تحریر:ملک سلمان

    نواز شریف کا متبادل بھی نواز شریف کی بیٹی

    دور حاضر سفارتکاری اور سرمایہ کاری کا زمانہ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس عصری تقاضے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ حالیہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جاپان کے اہم دورے پر ہیں جو جدید ترقی یافتہ پنجاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چین سمیت کئی اہم ممالک کے دورے کئے۔ مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنیں تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پنجاب میں خدمت اور تعمیر و ترقی کے وہ باب رقم کر جائیں گی جس کا تقابل دوردور تک نہیں مل سکے گا۔ پی ٹی آئی کے بدترین دور حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت کی بدانتظامی کے باعث خالی خزانے اور مختلف کنٹریکٹرز کے کھربوں روپے کے زیرالتواع بلز کی ادائیگی کا مشکل ترین مرحلہ درپیش تھا۔ دن رات اور انتھک محنت سے مریم نواز شریف نے سیاسی پشین گوئیوں اور صحافتی تجزیہ کاروں کے سب دعوے غلط ثابت کردیے۔ پنجاب معاشی مشکلات سے نکل کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے۔31سال سے قرضوں میں جکڑے پنجاب کو مقامی بینکوں کے قرض سے آزاد کروا دیا۔ 17ماہ کے مختصر عرصے میں مریم نواز شریف نے پنجاب میں تعمیروترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے کہ ہر کسی کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔مریم نواز کی وزارت اعلیٰ نہ صرف تعمیرو ترقی اور عوامی فلاح وبہبود انکا خاصہ بن گیا بلکہ صحت مند، ترقی کرتا اور محفوظ پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر کردکھایا۔ حکومت کے ابتدائی17ماہ میں 120سے زائد عوامی فلاح وبہبود کے پراجیکٹس کا آغاز اور 70سے زائد پراجیکٹس کی تکمیل اپنی مثال آپ ہے۔ درجنوں ایسے منصوبے ہیں جو محض خواب سمجھا جاتا تھا لیکن مریم نواز شریف نے اس کی تعبیر کو ممکن بنایا۔ مریم نواز کی17ماہ کی کارگردگی کا مختصر خلاصہ یہی ہے کہ نواز شریف کا متبادل بھی نواز شریف کی بیٹی ہی ہے۔

    موجودہ سیاسی لاٹ میں مریم نواز واحد شخصیت ہے جو ناصرف نوجوان طبقہ میں انتہائی مقبول اور پسندیدہ لیڈر ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پنجاب اور پاکستان کی موئثر نمائندگی کررہی ہیں۔ اہل پنجاب انتہائی خوش قسمت ہیں کہ انہیں مریم نواز شریف کی صورت ایسی وزیر اعلیٰ ملی ہیں جو عوام دوست اور انتہائی متحرک ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کی زیر قیادت ہر شعبہ زندگی میں ریکارڈ تعداد میں ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے جہاں ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، میرٹ ایمانداری کی شاندار روایات قائم کی ہیں وہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے فنڈز میں بچت کی روایات کو پروان چڑھایا ہے۔ اور قومی دولت کو عوام کی امانت سمجھتے ہو ئے استعمال کیا ہے۔حکومت پنجاب نے صوبے کے بے روزگار افراد کو روزگار کی فراہمی کے لئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں۔پنجاب سیف سٹیز اٹھارٹی اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی جیسے اداروں میں عالمی معیار کی جدیدت، پاکستان اورپنجاب کی پہلی SMART ماحولیاتی تحفظ فورس کا باقاعدہ آغاز۔ قبضہ مافیا سے 40ہزار ارب کی سرکاری زمینیں واگزار کروانے کیلئے تجاوزات کا خاتمہ مشن امباسیبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔ ستھرا پنجاب پروگرام کا کوئی ثانی ہی نہیں۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے ای ٹینڈرنگ۔

    مستحقین کی سوشل اکنامک رجسٹریشن، نوجوانوں کو قرض، طلبا و طالبات کو ای بائیکس اور ہونہار سکالر شپس مل رہی ہیں۔ مریضوں کو مفت ادویات اور ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہترین سہولیات، نئے ہسپتالوں کی تعمیر، ”مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ سروسز“ ”نواز شریف کینسر اسپتال“۔ تمام بڑے شہروں میں سیوریج اور نکاسی آب کا نیا سسٹم رائج کیا جارہا ہے۔ سڑکوں کا جال بچھا کر پنجاب کو ترقی کے نئے دور میں داخل کردیا گیاہے۔ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تکنیکی و فنی تربیت کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے TEVTA کو مزید فعال جبکہ پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ اٹھارٹی کے زیعے 6 لاکھ افراد کو تکنیکی و فنی تربیت کی فراہمی کا ٹارگٹ بنایا گیا۔ پنجاب میں زرعی انقلاب لانے کے لئے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ شعبہ تعلیم کی بات کی جائے تو بوٹی مافیہ کا خاتمہ کیا۔ پنجاب کے تمام سکولز اور کالجز کو جدید ترین آئی ٹی لیب سے آراستہ کرنا۔ پنجاب ایجوکیشن کریکلم ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اٹھارٹی کی صورت نصاب سازی، ٹریننگ اور تعلیمی وظائف کو ون ونڈو سولوشن بنا دیاگیا ہے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اور ڈی ایچ کیوز کی تعمیر و اپگریڈیشن، پنجاب فوڈ اتھارٹی میں شفافیت اورجدیت کیلئے اقدامات، صاف پانی، ایکو فرینڈلی الیکٹرک بسیں، مریم نواز نے پہلے دن سے ہی سیاحت کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا ہے اور سینکڑوں نئے سیاحتی مقامات متعارف کروانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ پنجاب کی ایک ہزار سالہ تاریخ کو محفوظ کیا جا رہا ہے جس سے پنجاب کی ثقافت، تاریخ اور روایات کو فروغ ملے گا۔ پنجاب کے 170 تاریخی مقامات کو عالمی معیار کے سیاحتی مراکزمیں تبدیل کرکے پنجاب کو تہذیب و سیاحت کا انٹرنیشنل مرکز بنایا جارہا ہے۔پنجاب کے کلچر اور ثقافتی میلوں کی بحالی۔تمام شعبوں میں مثالی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ نوجوان طبقہ آئندہ الیکشن میں مریم نواز شریف کو وزیراعظم کے طور پر دیکھنا چاہ رہا ہے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • جمہور کی حالت قابل رحم ،تجزیہ :  شہزاد قریشی

    جمہور کی حالت قابل رحم ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب جمہوریت کو نقصان پہنچا یا اس کا خاتمہ ہوا تو اس جمہوریت میں صرف اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہی شامل نہیں رہی بلکہ اکثر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین نے بھی کسی نہ کسی انداز میں کردار ادا کیا ہے سیاسی جماعتوں کی باہمی لڑائیاں اکثر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں نتیجہ جمہوریت کا ڈھانچہ اندر سے کمزور ہوا اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی رہنما اکثر اصولوں پر سمجھوتا کرتے رہے خود سیاسی جماعتوں نے آمروں کے ساتھ اتحاد کیا یا انہیں جائز قرار دیا تاکہ اپنی سیاسی بقاء کو یقینی بنا سکیں سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری کلچر قائم کرنے میں ناکام رہیں ایوب خان کے مارشل لاء میں کچھ سیاسی رہنماؤں نے حمایت کی ضیاء الحق کے دور میں بھی کئی سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ شامل ہوئیں پرویز مشرف کے دور میں کنگز پارٹی کے نام سے سیاسی اتحاد وجود میں آیا ہر دور میں کچھ نہ کچھ سیاسی عناصر نے آمریت کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا تاریخ گواہ ہے اقتدار کی حوس اور آپسی اختلافات کے باعث جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ تحریک انصاف جمعیت علماء اسلام متحدہ قومی موومنٹ عوامی نیشنل پارٹی کئی سیاسی جماعتوں پر بدعنوانی اور اقرباء پروری کے الزامات لگے ایک دوسرے کے دور حکومت میں قید و بند کی صحبتیں بھی برداشت کیں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں بھی دیں اور غلطیاں بھی کیں ان سیاسی جماعتوں کا مثبت کردار یہ رہا آئین کی بحالی عوامی نمائندگی آمریت کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ منفی کردار بھی ادا کرتے رہے اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی کرپشن خاندانی سیاست اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش قصہ مختصر جہاں جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں وہاں جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ بھی کیا پارلیمان کو فعال کرنے کے بجائے زیادہ زور سڑکوں کی سیاست اور دھرنوں پر دیا گیا جس سے جمہوری عمل متاثر ہوا جمہوریت کے نام پر عوام کو گمراہ کیا گیا جمہوریت ہی نہیں جمہوری نظام کو بدنام کیا گیا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ٹیم نے سن 1973 کا آئین دیا جو جمہوریت کا بنیادی ستون ہے اس آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا گیا بھٹو کے بنائے گئے آئین کا آئینی سوال دو اور دو چار کی طرح بالکل آسان ہے پھر بھی ہمارے سیاسی رہنماؤں سے حل ہونے کا نام نہیں لے رہا تاہم جمہور کی حالت قابل رحم ہے

  • معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے ان کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جب ایک قوم اپنے وجود، عقیدے اور نظریے کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے بے شمار معرکے ہیں جن میں وطن کے بیٹے، ایمان کی حرارت اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر دشمن کے سامنے ڈٹ گئے۔ یہ معرکے صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی، فکری اور سماجی میدانوں میں بھی جاری رہے۔ انہی معرکوں کے نتیجے میں ہمارے پاس وہ گراں قدر سرمایہ شہداءو غازیان ہے، جن کی قربانیاں ہمارے آج اور آنے والے کل کی ضمانت ہیں۔
    معرکہ حق” کا مطلب محض ایک جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے موقف اور جدوجہد کا نام ہے جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ بن جائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک حق کا، جس میں قربانی اور استقامت درکار ہے، اور دوسرا باطل کا، جو وقتی سہولت اور ظاہری کامیابی فراہم کرتا ہے۔ معرکہ حق میں شریک ہونے والے افراد محض سپاہی نہیں ہوتے، بلکہ وہ حق کے نمائندے اور باطل کے سامنے جرات واستقامت اور بہادری وشجاعت کا مینار بن جاتے ہیں۔
    پاکستان کی تاریخ میں 1947ءسے لے کر آج تک کئی ایسے مواقع آئے جب غازیوں اور شہیدوں نے اپنی جان، مال اور آسائش کو قربان کر کے قوم کو سربلند کیا۔
    1948ءکی جنگِ کشمیر — قیامِ پاکستان کے فوراً بعد، جب کشمیر کے مسلمان بھارتی جارحیت کا شکار ہوئے، پاکستانی افواج اور قبائلی مجاہدین نے معرکہ حق میں شرکت کی اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ 1965ءکی جنگ — جب دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، لیکن پاکستانی افواج اور عوام نے جس دلیری سے مقابلہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ 1971ءکا دفاعی معرکہ — اگرچہ اس کے نتائج قوم کے دلوں کو غمگین کر گئے، لیکن اس معرکے میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں کی بہادری آج بھی قابلِ فخر ہے۔ کارگل معرکہ 1999ئ— بلند و بالا پہاڑوں پر لڑنے والے جوانوں نے معرکہ حق کی نئی مثال قائم کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ — 2001ءکے بعد سے پاکستانی افواج، پولیس اور عوام نے جس طرح قربانیاں دیں، وہ ایک طویل مگر لازوال داستان ہے ۔
    پاکستان کی تاریخ کا تازہ ترین معرکہ حق 10مئی کو لڑا گیا جس میں پاکستان نے اپنے دشمن بھارت پر شاندار فتح حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ بری، بحری اور فضائی افواج کے جوانوں نے جرا¿ت و بہادری کی ایسی مثال قائم کی جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ اس معرکے میں وطنِ عزیز کے کئی سپوت جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ بے شمار جوان غازیوں کے رتبے پر فائز ہوئے۔بری، بحری اور فضائی افواج نے جس جرا¿ت، حکمتِ عملی اور برق رفتاری کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر میں عسکری مبصرین کو حیران کر دیا۔ عالمی میڈیا نے اس کارروائی کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک درخشاں باب قرار دیا۔ بی بی سی، رائٹر اور الجزیرہ جیسے بڑے اداروں نے لکھا کہ پاکستان نے نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی میں مہارت دکھائی بلکہ جارحانہ اقدام کے وقت بھی بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی پاسداری کی۔ امریکی اور یورپی دفاعی ماہرین نے اس کارروائی کو “ Precision Strike” یعنی انتہائی درست اور کامیاب حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تیاری اور افواج کے باہمی تعاون نے دشمن کو غیر متوقع انداز میں پسپا کر دیا۔ عرب میڈیا نے اسے امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر قرار دیا، جبکہ بھارتی دفاعی مبصرین نے بھی یہ تسلیم کیا کہ پاکستان نے اپنی عسکری برتری اور جنگی تیاری کا بھرپور ثبوت پیش کیا ہے۔ مجموعی طور پر 10 مئی کی یہ کارروائی پاکستان کی عسکری صلاحیتوں اور دفاعی عزم کی زندہ مثال ثابت ہوئی، جس نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور طاقتور ملک ہے جو اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔
    پاکستان کے دفاع کےلئے جانیں قربان کرنے شہیدوں اور جانیں ہتھیلی پر رکھ دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے غازیوں کی عظیم قربانیوں اور لازوال خدمات کے اعتراف میں اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء، معززین اور شہداءکے اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔ صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداءہماری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں پاکستان کی بقا و سلامتی کی ضمانت ہیں۔ غازیوں کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا جبکہ شہداءکے اہلِ خانہ کو تمغے اور اسناد پیش کی گئیں۔ حاضرین نے کھڑے ہو کر شہداءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کا اختتام دعائے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرہ تکبیر سے ہوا، جس سے ماحول جذبہ حب الوطنی سے لبریز ہو گیا۔
    حقیقت یہ ہے کہ غازی اور شہید — امت کی متاعِ گراں قدر ہیں ۔ اسلامی تعلیمات میں شہید کو زندہ قرار دیا گیا ہے، جنہیں اللہ کے ہاں رزق ملتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے” (البقرہ: 154)شہید کا مقام نہ صرف آخرت میں بلند ہے بلکہ دنیا میں بھی اسے اعزاز و افتخار سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غازی وہ ہے جو معرکہ حق میں شریک ہو کر زندہ واپس آئے۔ غازی کی زندگی، ایمان و عمل کا چلتا پھرتا پیغام ہوتی ہے۔
    پاکستان میں شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کا ایک منظم نظام موجود ہے، جو نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ عوامی شعور میں بھی ان کی خدمات کو اجاگر کرتا ہے۔حکومت کی جانب سے شہداءاور غازیوں کو اعزاز دینے کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے تو اس کے اندر باہمی محبت اور اتحاد پیدا ہوتا ہے۔نوجوان نسل میں وطن کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان اپنے محافظوں کی قدر جانتا ہے۔معرکہ حق کے غازیوں اور شہیدوں کی خدمات کو صرف تقریبات یا اعزازات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تذکرے تعلیمی نصاب میں شامل کیے جائیں — ان کے کارنامے نصاب کا حصہ بنیں تاکہ نئی نسل ان سے واقف ہو۔معرکہ حق کے غازی اور شہید وہ چراغ ہیں جو قوم کے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان کے لیے اعزاز و اکرام نہ صرف ان کی قربانیوں کا اعتراف ہے بلکہ ایک پیغام بھی ہے کہ یہ ملک اپنے محافظوں کو فراموش نہیں کرتا۔ ہمیں بطور قوم یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم اپنے شہداءو غازیوں کی قربانیوں کو صرف یاد ہی نہ رکھیں بلکہ ان کے مشن کو بھی آگے بڑھائیں — تاکہ پاکستان ہمیشہ سر بلند، محفوظ اور باوقار رہے۔

  • ٹرمپ،پیوٹن ملاقات، نتائج کیا ہوں گے،تجزیہ:  شہزاد قریشی

    ٹرمپ،پیوٹن ملاقات، نتائج کیا ہوں گے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    الاسکا میں ٹرمپ اور پوٹن ملاقات ہوئی ہے اس ملاقات کے باوجود کوئی امن معاہدے یا جنگ بندی پر سمجھوتہ نہیں ہوا روس نے کوئی جنگ بندی قبول نہیں کی ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے اصل مسائل پر کوئی اثر نہیں ڈالا روسی صدر جنگ بندی کی شرطوں سے منحرف رہا، صرف مذاکرات کا تاثر پیدا کرنے تک محدود رہا تاہم روسی صدر کے لیے پہلی مرتبہ مغربی زمین پر ایسا اعزاز ملا حقیقی طور پر جنگ کا خاتمہ محض ڈپلومیسی سے ممکن نہیں، یوکرائن کی مزاحمت مغربی ممالک کی مدد اور روس یہ اقتصادی دباؤ ہی اسے جلد ممکن بنا سکتے ہیں روس اور یوکرائن کی جنگ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں پورے یورپ اور مغربی اتحادی ممالک کی شمولیت لازمی ہے اس کی چند بڑی وجوہات ہیں،

    یورپی سلامتی کا مسئلہ نیٹو کے ممالک روسی جارحیت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں یہ مسئلہ صرف امریکی صدر اور روسی صدر کا نہیں ہے

    پاکستان میں اور دنیا بھر میں جشن آزادی منایا گیا زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن جوش و خروش سے مناتی ہیں اور اپنے محسنوں کو یاد کرتی ہین ثابت کرتی ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں قوم تو زندہ ہے مگر نام نہاد سیاسی جماعتیں جو قومی سیاسی جماعتوں سے اب صوبائی اور علاقائی ہو چکی ہیں اپنے کرتوتوں سے خود تو اجڑ چکی ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے ذاتی اقتدار ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو تقسیم کر دیا ملک و قوم کی حفاظت پر معمور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف ماضی اور حال میں افواہیں پھیلائیں نوجوان نسل کے ذہنوں میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرکے انکو گمراہ کیا قوم تھوڑا نہیں پورا سوچے اور غور کرے جن سیاسی جماعتوں سے اقتدار چھن جاتا ہے وہ پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف صدائیں بلند کرتے ہیں ماضی حال ان سیاسی جماعتوں کا دیکھ لیں عوام کی لاشیں پانی میں بہتی دیکھ کر سندھ طاس معاہدے پر سینہ کوبی کرنے والے سیاست دانوں نے ڈیم بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی؟ کبھی ان قومی مسائل پر توجہ کیوں نہیں دی؟ نئے جھوٹ اور نئے فریب انکی تقریروں سے آپکو ملیں گے جمہوریت کے نام پر خود تو اجڑے ہیں قوم کو بھی اجاڑ کر رکھ دیا ہے امریکہ سے لیکر مغربی ممالک میں انکے اعمال کی وجہ سے ان سیاسی جماعتوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی پاک امریکہ تعلقات کی دوبارہ بحالی پاک فوج کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے بھارت بالخصوص مودی کو کون سمجھائے ہماری پاک فوج صرف فوج نہیں انکے اندر جذبہ جہاد ہے اگر دوبارہ کوئی قدم اٹھایا تو بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا

  • ملکی قومی جماعتیں صوبوں تک محدود کیوں ہوئیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی قومی جماعتیں صوبوں تک محدود کیوں ہوئیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی جماعتیں کسی زمانے میں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج وہی جماعتیں صوبوں تک محدود ہو چکی ہیں زیادہ تر جماعتیں یا تو علاقائی سیاسی قوتیں ہیں یا عملا اس مقام تک پہنچ چکی ہیں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی۔ پی ٹی آئی اندرونی بحرانوں کی زد میں ہے یہ جماعت بھی اب پیپلز پارٹی یا ن لیگ کی طرح صوبے تک محدود ہو چکی ہے تمام سیاسی جماعتوں میں دو قسم کے گروپ موجود ہیں ایک مزاحمتی اور ایک مفاہمتی گروپ مفاہمتی گروپ مزاحمتی گروپ پر حاوی ہے۔ جس سیاسی جماعت کو حکومت بنانے میں چھوٹی اور علاقائی مذہبی جماعتوں کا تعاون درکار ہو وہ جماعت قومی جماعت نہیں کہلوا سکتی ان سیاسی جماعتوں کی قومی حیثیت ختم ہو چکی ہے مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی تحریک انصاف روایتی طور پر قومی جماعتیں سمجھی جاتی تھیں ان جماعتوں کا اثر متعدد صوبوں میں رہا ہے مسلم لیگ (ن) پنجاب میں مضبوط تھی نواز شریف کی بار بار حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا اسکے اثرات ان کی جماعت پر پڑے کسی بھی ن لیگ کی مرکزی قیادت نے (ن) لیگ بطور جماعت کو مقبول کرنے پر توجہ نہیں دی تاہم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے ن لیگ کے ورکروں اور عہدداروں کو پنجاب میں زندہ رکھا آج اس جماعت کی حیثیت یہ ہے کہ قومی سطح پر اسکی حمایت محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہے کراچی جیسے شہر میں بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کی اکثریت کا جھکاؤ جماعت اسلامی کی طرف دیکھا گیا ہے پی ٹی آئی میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں یہ جماعت بھی اب قومی جماعت کہلوانے کے قابل نہیں رہی قیادت کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔ مذہبی جماعتوں کا حال بھی کچھ اسی طرح ہے اور روایتی قومی جماعتوں کی چنگاری ماند پڑ رہی جمہوری اداروں کی بہت سے قومی اور بین الاقوامی اُتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے جمہوری اداروں کی خود مختاری متاثر ہو رہی ہے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں ناکام آئین اور قانون کی حکمرانی پر عمل نہیں کیا پارلیمنٹ ہاوس میں ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے نہ سیاسی گلیاروں میں سیاست نظر آتی ہے نہ جمہوریت نہ جمہور کی فکر جمہور کی فکر کا عالم یہ ہے شدید گرمی میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ

  • مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟

    مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟

    مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    کل 14 اگست 2025 ہے، پاکستان کا 78 واں یومِ آزادی۔ سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے، قومی ترانہ گونجے گا اور تقریبات میں بلند بانگ دعوے کیے جائیں گے کہ ہم ایک آزاد اور ترقی یافتہ قوم ہیں۔ لیکن کیا یہ سچ ہے؟ جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہو، جب بجلی کے بلز واپڈا کی سلیب گردی کی شکل میں غریبوں کی کمر توڑ رہے ہوں، تو یہ کیسی آزادی ہے؟ گیلپ پاکستان کے تازہ سروے جس میں 500 سے زائد کاروباری شعبوں کی آراء شامل ہیں، قوم کی تکلیف کو عیاں کر دیا ہے۔ 28 فیصد تاجر مہنگائی کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں، 18 فیصد یوٹیلٹی بلز کے اضافے سے نالاں ہیں اور فوری حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن حکمران، خاص طور پر وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری جو عوام کو بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے بجائے جھوٹ پر مبنی کہانیاں اور مکارانہ چالیں چل رہے ہیں ،جو اقتدار کے نشے میں قوم کی چیخیں سننے سے قاصر ہیں۔

    78 سال قبل ہم نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی، لیکن آج ہم اپنے ہی حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی غلامی میں جکڑے ہیں۔ سروے بتاتا ہے کہ کاروباری طبقہ جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بدترین حالات سے گزر رہا ہے۔ 28 فیصد تاجر مہنگائی کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہنگائی کیا ہے؟ یہ وہ زہر ہے جو غریب کے دسترخوان سے روٹی چھین رہا ہے جو بچوں کو سکول سے دور کر رہا ہے، جو مریضوں کو دوا سے محروم کر رہا ہے۔ آٹا، دال، چینی، تیل ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اور حکمران؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم ترقی کی راہ پر ہیں۔ کس کی ترقی؟ چند سرمایہ داروں کی جو حکومتی سرپرستی میں پل رہے ہیں یا اس قوم کی جو بھوک اور افلاس سے مر رہی ہے؟

    یوٹیلٹی بلز کا معاملہ اور بھی تکلیف دہ ہے۔ سروے کے مطابق 18 فیصد تاجروں نے بجلی کے بھاری بلز کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ واپڈا کی سلیب گردی نے غریبوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ سلیب سسٹم کوئی منصفانہ نظام نہیں، بلکہ ایک ظالمانہ ہتھیار ہے جو کم آمدنی والوں کو سزا دیتا ہے۔ تھوڑا زیادہ استعمال کیا، سلیب بدلی اور بل دگنا، تگنا۔ گرمیوں میں پنکھا، سردیوں میں ہیٹر ،یہ کوئی عیاشی نہیں ہے بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن واپڈا نے اسے لگژری بنا دیا۔

    وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں کہ “ہم نے بجلی کی قیمتوں میں کافی ریلیف دیا”۔ یہ کیسا ریلیف ہے ؟، جب فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور سلیب سسٹم نے غریبوں کی زندگی اجیرن کر دی؟ اویس لغاری کی یہ بے سروپا دلیلیں، یہ مکارانہ چالیں، عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ سروے بتاتا ہے کہ 47 فیصد تاجروں کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ لوڈشیڈنگ! 78 سال بعد بھی؟ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے گرڈ سسٹم کی اپ گریڈیشن خواب ہی رہا۔ 53 فیصد نے لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی بات کی، لیکن یہ کوئی کامیابی نہیں۔ یہ تو بنیادی حق ہے، جو نصف قوم سے چھینا جا رہا ہے۔ اویس لغاری کی سربراہی میں سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے محض کاغذی ہیں، جن کا کوئی عملی وجود نہیں۔

    حکمرانو! سنو، یہ یومِ آزادی ہے لیکن قوم پوچھ رہی ہے کہ مہنگائی سے کب آزادی ملے گی؟ سروے کے مطابق 11 فیصد تاجروں نے ٹیکسوں کے بوجھ کو اپنا مسئلہ قرار دیا۔ GST اور انکم ٹیکس بڑھ رہے ہیں لیکن بدلے میں سہولیات کیا ہیں؟ ٹوٹی سڑکیں، خالی ہسپتال، بغیر اساتذہ کے سکول۔ ٹیکس دے کر قوم کیا پا رہی ہے؟ صرف حکمرانوں کے محلات اور پروٹوکول؟ 6 فیصد تاجروں نے سیاسی عدم استحکام کو خطرہ قرار دیا۔ سیاسی انتشار نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک حکومت آتی ہے، دوسری جاتی ہے، لیکن مسائل وہیں کے وہیں۔ 7 فیصد نے قوت خرید میں بہتری کا مطالبہ کیا، 3 فیصد نے روپے کی قدر مستحکم کرنے کی بات کی۔ یہ سب حکومتی ذمہ داری ہے لیکن وہ کہاں ہیں؟ اقتدار کی ہوس میں ڈوبے ہوئے۔

    سروے میں کچھ مثبت نکات بھی ہیں، لیکن وہ اویس لغاری کی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ گزشتہ سروے میں 6 فیصد تاجروں نے حکومتی فیصلوں کو درست کہا تھا، اب 17 فیصد۔ لیکن یہ اضافہ اویس لغاری کی کامیابی نہیں ہے بلکہ چند سرمایہ داروں کی چاپلوسی ہے، جو حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اویس لغاری کی زیر نگرانی بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجکاری کے نام پر بجلی کمپنیاں سرمایہ داروں کے حوالے کی جا رہی ہیں جبکہ عوام مہنگے بلز تلے دب رہے ہیں۔ رشوت ستانی میں کمی آئی ہےگزشتہ 34 فیصد سے اب 15 فیصد۔ لیکن یہ اویس لغاری کی کامیابی نہیں بلکہ تاجروں کی ہمت ہے، جو اب رشوت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔اویس لغاری کا آن لائن بلنگ سسٹم ایک مذاق ہے، جہاں اوور بلنگ اور غلطیاں روز کا معمول ہیں۔ لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی بات 53 فیصد نے کی لیکن باقی 47 فیصد؟ وہ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اندھیرے میں ہیں۔

    یومِ آزادی پر قائد اعظم کے خواب کو یاد کیجیے۔ ایک خوشحال پاکستان، جہاں غریب اور امیر برابر ہوں۔ لیکن آج؟ IMF کے قرضوں کی غلامی نے قوم کو جکڑ رکھا ہے۔ مہنگائی، ٹیکس اور سبسڈیز کا خاتمہ ، یہ سب IMF کی شرائط ہیں۔ اور اویس لغاری؟ وہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے جھوٹ بول رہے ہیں کہ “بجلی سستی کی”۔ یہ کیسا ریلیف، جب سلیب سسٹم اور فیول چارجز نے غریبوں کو زندہ درگور کر دیا؟ قرض ادا کون کر رہا ہے؟ قوم، اپنی جیب سے۔ لیکن حکمرانوں کے عیش و عشرت میں کوئی کمی نہیں۔

    کاروباری طبقہ برباد ہو رہا ہے۔ مہنگائی نے خام مال مہنگا کر دیا، یوٹیلٹی بلز نے فیکٹریاں بند کر دیں، لوڈشیڈنگ نے پیداوار روک دی۔ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کو کاغذوں تک محدود رکھا۔ ٹیکسوں کا بوجھ چھوٹے تاجروں کو کچل رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے۔ قوت خرید کم اور روپیہ کمزور۔ یہ سب حکومتی ناکامی کی زنجیر ہے۔

    حکمرانو! جاگو، یہ یومِ آزادی ہے، لیکن قوم کی آزادی کہاں؟ مہنگائی روکو، بجلی سستی کرو۔ اویس لغاری کی جھوٹی کہانیوں سے باز آؤ، جو عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ سلیب سسٹم کو منصفانہ بناؤ، لوڈشیڈنگ ختم کرو۔ قوم سے وعدہ کرو کہ اگلا یومِ آزادی حقیقی آزادی کا ہوگا۔ ورنہ، تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔

  • خدارا!لوگوں کیلئے آسانیاں پیداکریں ،ملک کو اکھاڑہ نہ بنائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا!لوگوں کیلئے آسانیاں پیداکریں ،ملک کو اکھاڑہ نہ بنائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات ،فیلڈ مارشل کے دوروں سے بھارت پریشان ،اصلی چہرہ دنیا نے دیکھ لیا
    سینیٹر اسحاق ڈار کےعالمی رہنمائوں سے مسلسل رابطے،بھارت کو بے نقاب کردیا
    پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے نوجوانوں جدید ٹیکنالوجی دینا ہوگی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پاک امریکہ تعلقات اس وقت عروج پر ہیں،بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکے ساتھ امریکی صدر کی ملاقات ،پاک بھارت کشیدگی کے دوران وزیر خارجہ سینیٹراسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا عالمی دنیا سے مسلسل رابطہ ،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا اور عالمی دنیا میں بھارت کی سفارتی شکست نے بھارت کی مودی حکومت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آچکا ہے، پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل باہمی مفادات اور بدلتے عالمی حالات پر منحصر ہے، اگر دونوں ممالک اعتماد کی بنیاد پر تعلقات کو از سر نو تشکیل دیں اور غیر روایتی شعبوں میں تعاون بڑھائیں تو یہ تعلقات ایک زیادہ متوازن اور پائیدار شکل اختیار کر سکتے ہیں، علاقائی سلامتی میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے ،پاکستان آج بھی جغرافیائی لحاظ سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے،طویل تعلقات کے لئے دونوں ممالک کو پالیسی میں شفافیت اور ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، تعلیم، صحت ،ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبے نئے مواقع فراہم ہو سکتے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سمیت اعلیٰ عہدوں پر تعینات بیورو کریسی کے افسران ،اعلیٰ بیوروکریٹ اور دیگر پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک و قوم کو مستحکم بنانے کے لئے پیٹ سے سوچنا بند کرکے دماغ سے سوچنا شروع کردیں ،امریکہ اور مغربی ممالک سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کریں،نوجوان نسل کو جدید تعلیم اور سائنس کی تعلیم دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں، پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم ،عمل اور میرٹ ہے، ایمانداری اور دیانت داری سے ملک وقوم کی خدمت کریں، سچ پوچھئے تو ریاست اب تھک چکی ہے ، اللہ تعالی ٰنے دنیا کے لئے جو فرش بچھایا تھا یہ امن کا فرش ہے ، پاکستان کی سرزمین بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے دنیا بھرکا یہ فرش امن کے لئے بنایا گیا تھا افسوس مٹی کے بنے انسان نے اپنے اقتدار واختیارات کے لئے اسے اکھاڑہ بنا دیا ، پاکستان کا یہ فرش اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے کسی سیاسی جماعت کے اکھاڑے کے لئے نہیں بنایا گیا اس میں بسنے والے انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں

  • ایمان اتحاد تنظیم وقت کی اہم ضرورت ۔تحریر: انجینئر علی رضوان چودھری

    ایمان اتحاد تنظیم وقت کی اہم ضرورت ۔تحریر: انجینئر علی رضوان چودھری

    ہم نے قائد اعظم کے دیگر بہت سے اقوال کے ساتھ ساتھ اس قول پر بھی جتنا عمل کیا ہے اس کا جو نتیجہ ہونا چاہیے تھا وہ آج پاکستانی عوام اس کو بھگت رہی ہے ۔اب تک ہمارے رہنماوں (مذہبی ہوں یا سیاسی)کی اکثریت نے نفرت کے بیچ ہی بوئے ہیں جس کی فصل پک کر اب تیار ہو چکی ہے۔ایمان ،اتحاد ،تنظیم کی افادیت کو سوائے چند ایک رہنماوں کے کوئی اس کو اہمیت نہیں دے رہا ایمان امید ہے ،ایمان امنگ ہے ،ایمان یقین محکم ہے ۔دل قوت ایمان سے اگرمعمور ہو تو انسان ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کر سکتا ہے ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے ، اللہ سبحان تعالی کی رحمت کی امید کہ وہ محنت کی جزا دے گا اور اللہ سبحان تعالی کی سزا کا خوف جو بداعمالی ،سستی سے ناکامی کی صورت میں مل سکتی ہے ۔یہاں یہ نکتہ بھی ہے کہ خوف ہو گا تو مزید محنت ہوگی احتیاط ہو گی ۔اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ (مفہوم حدیث ﷺ ) ایمان کے تین درجے ہیں پہلا یہ کہ اگر کوئی شخص کسی برائی کو ہوتا دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے دوسرا یہ کہ اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے روکے تیسرا یہ کہ اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے نچلا درجہ ہے ۔آج پھرپاکستان بھر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں میں قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے ۔ چیونٹی کتنی کمزورہوتی ہے لیکن یہ مل کر اپنے سے کئی گنا بڑے مردہ جھینگر کو آسانی سے گھسیٹ لے جاتی ہیں۔ اس طرح جن لوگوں میں اتحادواتفاق یکسانیت اور یگانگت ہوتی ہے وہ مشکلات کے پتھروں کو اپنی یکجہتی کی ضربوں سے پاش پاش کر دیتے ہیں۔ اتحاد واقعی طاقت ہے۔ اسلام اتحاد کا پیام لایابھائی چارہ کا درس دیا بلکہ اس پر عمل بھی کیا ، اسلام کے ارکان اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔ نماز تمام امتیازات کو مٹا کر اتحاد کا سبق دیتی ہے۔ایک ہی صف میں کھڑے ہو گے محمودو ایاز والا منظر بن جاتا ہے۔حج مسلمانان عالم میں اتحاد عمل کی روح پھونکتا ہے اورتبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے۔ روزہ میں تمام مسلمان ایک وقت سحری و افطاری کرتے ہیں ۔اور نماز تراویح کا ایک ساتھ ادا کرنے سے محلے،گاوں میں اتحاد و تفاق پیدا ہوتا ہے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ ہم میں اتحاد کی کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ارکان اسلام کو پابندی سے ادا نہیں کرتے ۔ دین اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر اگر دنیا میں دیگر مذاہب اور دیگر تمام مکتب فکر کی بات کریں دیکھیں تو وہاں بھی یہ معلوم ہو گا کہ قومیں اتحاد ہی کی بدولت کامیاب و فتح مند ہوتی ہیں۔ اور دوسری طرف قومی اتحاد کی تباہی میں جو عناصر ہیں ان میں ذاتی فائدہ، مطلب پرستی، اقتدار کی ہوس مال و زر اور قوم پرستی زر پرستی وغیرہ اس فہرست میں شامل ہیں۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی کہلاتے ہیں۔صحابہ نے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کر دیکھایا کہ تم اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک تم دوسرے کے لیے وہی پسند نہ کرو جو اپنے لیے کرتے ہو(مفہوم حدیث) اسلام کی ابتدائی فتوحات میں قومی اتحاد ایک خاص اہمیت کا حامل تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس اتحاد میں کمی واقع ہوتی گئی۔اس کی وجوہات میں دشمنوں کی شازش کے ساتھ ساتھ اپنوں کی مہربانیاں بھی شامل ہیں حتی کہ صورت حال خانہ جنگی تک جا پہنچی ہے۔ خانہ جنگی میں جتنا اپنوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ دشمنوں سے نہیں پہنچتا۔ اگر پاکستانی قوم اپنے قائد کے فرمان اتحاد ،ایمان،تنظیم پر ہی عمل کر لیتی تو موجودہ نااتفاقی کی صورت حال کبھی پیدا نہ ہوتی آج ہماری قوم کا نااتفاقی پر اتفاق ہے اور اتحاد پر اختلاف ہے۔تنظیم ،ڈ سپلن اور نظم و ضبط انسانی کر دار کا سرمایہ ہوتا ہے تنظیم میں برداشت کرنا ،صبر کرنا انتظار کرنا وغیرہ کے عناصر ہوتے ہیں ۔اسلامی احکام و فرائض کو دیکھیں تو نظم و ضبط کا حیرت انگیز منظر نظر آتا ہے ۔ نماز کو ہی لیں ،وقت ،ترتیب ،قطار،ایک ساتھ قیام ،رکوع،سجدہ اور سلام وغیرہ ۔دکھ کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت میں قطار بنانا،صبر کر کے اپنی باری کا انتظار کرنا ،ڈسپلن و ترتیب سے کام کرنا نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کے بر عکس ترقی یافتہ ممالک (جن کی اکثریت کی غیر مسلم ہے)میں دیکھیں تو آپ کو ہر کام ترتیب ،ہر شخص میں نظم و ضبط نظر آتا ہے ۔ان کی ترقی کا یہی راز ہے اور ہم ایک آزاد ملک کے باسی ہیں اس لیے ایسی پابندیوں سے آزاد ہیں پھر اس پر فخر بھی ہے اور بے شرمی کی انتہا ہے کہ اس کا احساس بھی نہیں ہے ۔ آپ پاکستان کے موجودہ حالات دیکھ لیں ہر طرف افراتفری ہے ،نفسانفسی ہے ، سارے غیر مسلموں نے مل کر نیٹو فوج بنائی ، کرنسی ایک کی ،اوراتحاد میں جو فائدے ہیں ان کا ثمر بھی اک عرصے سے ان کو مل رہا ہے دنیا پر ان کی حکمرانی ہے ۔ ایمان ،اتحاد ،اتفاق اور تنظیم وغیرہ کی باتیں اب ہماری نصابی کتب میں ہی رہ گئی ہیں ، جسے پڑھ پڑھ کر ہم بور ہو چکے ہیں اورعوام و خواص کے کن پک گئے ہیں ایمان ،اتحاد تنظیم کی باتیں سن سن کر ۔ اس لیے بھی آپ کو مزید بور نہیں کرتے اور اس دعا کے ساتھ کالم کا اختتام کرتے ہیں کہ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اے خدا اے کار ساز تو ہی ہماری قوم و ملک کو ہدایت دے اور ہمارے ملک کی حفاظت فرما ۔اسے تمام آفات سماوی و اراضی سے محفوظ رکھ۔اے ہمارے اللہ ہمارے حکمرانوں ،اپوزیشن اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی قائد اعظم کے اس قول ایمان ،اتحاد اور تنظیم پر عمل کرنے کی تو فیق دے ۔

  • کمیٹی کمیٹی کا کھیل

    کمیٹی کمیٹی کا کھیل

    کمیٹی کمیٹی کا کھیل
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں آج کل ایک عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ حکومتی اعلانات کی گونج ہوا میں بلند ہوتی ہے، لیکن جب بات عوام تک پہنچتی ہے تو وہ محض ایک سراب بن کر رہ جاتی ہے۔ آج کی ایک بڑی خبر یہ ہے کہ "پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے دائرہ کار میں توسیع پر غور، حد 301 یونٹ رکھنے کی تجویز” زیرِ بحث ہے۔ یہ خبر سن کر ایک لمحے کے لیے دل کو تسلی ہوئی کہ شاید اب غریب اور متوسط طبقے کو کچھ ریلیف ملے گا، لیکن جیسے ہی اس خبر کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا تو یہ محض ایک اور بلند بانگ دعویٰ لگا،جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔

    وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے گی۔ یہ خوشخبری موبائل فون پر کال ملنے پر ان کی آواز میں سنائی گئی کہ بجلی سستی کر دی گئی ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔ نیا سلیب سسٹم متعارف کر کے بجلی کے بلز میں اضافہ کر دیا گیا، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے خون کے آخری قطرے کو بھی نچوڑ لیا۔ اسی طرح چینی کی قیمتوں پر نوٹس لیا گیا، کمیٹیاں بنائی گئیں، دکھاوے کی کارروائیاں کی گئیں اور اعلانات کی حد تک چینی سستی ہو گئی۔ لیکن بازاروں میں چینی اب بھی 200 روپے فی کلو سے کم پر دستیاب نہیں۔ بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہوئیں، لیکن ایک رپورٹ کے مطابق مافیا نے اس کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایک بار کسی چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ پھر کبھی کم نہیں ہوتی، چاہے عالمی منڈی میں اس کی قیمت چند سینٹ ہی کیوں نہ رہ جائے۔

    اب بات کرتے ہیں پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی توسیع کی تجویز کی۔ خبر کے مطابق وزیراعظم نے پروٹیکٹڈ صارفین کے حوالے سے شکایات کا نوٹس لے کر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 201 یونٹ سے بڑھا کر 301 یونٹ کرنے پر غور کرے گی۔ موجودہ نظام کے تحت اگر کوئی صارف 201 یونٹ بجلی استعمال کر لیتا ہے، تو وہ اگلے چھ ماہ تک پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر ہو جاتا ہے اور اسے ماہانہ تقریباً 5 ہزار روپے اضافی بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسی زیادتی ہے جس نے غریب اور متوسط طبقے کے صارفین کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اراکینِ اسمبلی نے بھی اسے صارفین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے کہ صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے اگلے چھ ماہ تک اضافی بل ادا کرنا پڑے۔

    یہاں وزیراعظم شہباز شریف کے لاڈلے اور ہونہار وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی پھرتیوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ان کی غیر دانشمندانہ اور عوام دشمن پالیسیاں مسلم لیگ (ن) کے لیے نوشتہء دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ اویس لغاری کی پالیسیوں نے بجلی کے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے، خاص طور پر پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے حوالے سے 201 یونٹ والی سلیب، جو وزارتِ توانائی اور نیپرا کی جانب سے جان بوجھ کر نافذ کی گئی، ایک ایسی پالیسی ہے جس نے غریب صارفین کی کمر توڑ دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی نہ صرف صارفین کے لیے ظالمانہ ہے بلکہ اس سے حکومتی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اویس لغاری کا سیاسی ماضی بھی گواہ ہے کہ وہ جہاں ہری گھاس دکھائی دیتی ہے، وہاں جمپ لگانے میں دیر نہیں کرتے۔ ان کی پارٹی بدلنے کی تاریخ اس بات کی عکاس ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ بات حیران کن نہیں کہ ان کی موجودہ پالیسیاں بھی عوام کے بجائے ذاتی یا گروہی مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کا نتیجہ لگتی ہیں۔

    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے گی اور کابینہ کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ تجویز ہے کہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 200 یونٹ سے بڑھا کر 300 یونٹ کیا جائے، یا کم از کم اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ 201 یونٹ استعمال کرنے کی صورت میں صرف اسی ماہ کے لیے نان پروٹیکٹڈ شرح لاگو ہو، نہ کہ اگلے چھ ماہ تک۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اویس لغاری کے وزیرتوانائی ہوتے ہوئے، بننے والی یہ پالیسیاں اور کمیٹیاں کیا واقعی عوام کو ریلیف دے سکیں گی؟ یا یہ بھی محض ایک اور دکھاوا ثابت ہوگا؟

    یہ تمام صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہےکہ کیا یہ سب کچھ واقعی غریب آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کیا جا رہا ہے، یا یہ محض ایک اور دکھاوا ہے؟ موجودہ حکومت دعوے تو بڑے بڑے کرتی ہے، لیکن جب بات عمل کی آتی ہے تو عوام کو وہی پرانی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والا صارف عموماً کم آمدنی والا ہی ہوتا ہے۔ ایسے صارفین کے لیے بجلی کے بلز میں اضافہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ اگر حکومت واقعی غریب آدمی کو ریلیف دینا چاہتی ہے، تو اسے نہ صرف پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد بڑھانی چاہیے بلکہ اس نظام کو بھی شفاف بنانا چاہیے تاکہ کوئی صارف غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔

    اس کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے پیچھے جو مافیا کام کر رہا ہے، اس کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔اور مافیا کو دی جانے والی مفت بجلی فوری طور پر بندکی جائے ،تاکہ اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور دیگر متعلقہ ادارے صارفین سے زیادتی کر رہے ہیں۔ اگر ایک صارف ایک ماہ میں 201 یونٹ استعمال کر لیتا ہے، تو اسے چھ ماہ تک سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ اسی طرح، چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے بھی ایک منظم مافیا کام کر رہا ہے، جو عالمی منڈی میں کمی کے باوجود پاکستانی صارفین کو ریلیف نہیں دیتا۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف کمیٹیاں بنانے اور اعلانات کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرے۔ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 301 یونٹ تک بڑھانا ایک اچھا قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلز کے نظام کو سادہ اور صارف دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ اگر حکومت یہ سب کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا، اور وہ اعلانات جو خوشخبری کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، محض ایک مذاق بن کر رہ جائیں گے۔ اویس لغاری کی پالیسیوں نے مسلم لیگ (ن) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اور اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی، تو یہ پارٹی کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

    آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستانی عوام اب اس "کمیٹی کمیٹی کے کھیل” سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل کمیٹیاں بنا کر نکالنے کا رواج محض ایک سراب ہے، جس کی تعبیر شاید کبھی نہ ملے۔ اگر عوام کو یقین ہوتا کہ یہ اعلانات اور کمیٹیوں کی رپورٹیں حقیقت میں تبدیل ہو جائیں گی، تو شاید وہ خوشی سے مر جاتے۔ لیکن فی الحال، یہ سب کچھ ایک مذاق لگتا ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہو رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب، اب کمیٹیوں کا یہ کھیل ختم ہونا چاہیے۔ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کا اعلان کریں، جس پر فوری عملدرآمد ہو اور عوام کو ریلیف ملتا ہوا نظر آئے۔

  • مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز اور حمزہ شہباز کو ذمہ داریاں دی جائیں تو مسلم لیگ ن مزیدمقبول ہوجائے گی
    بلاول بھٹو کو مزید کام کرنے کی ضرورت،پی ٹی آئی عمران سے شروع ہوکر عمران پر ختم
    فضل الرحمان کا مستقبل صرف اتحاد،جماعت اسلامی آمدہ الیکشن میں نمایاں کردار اداکریگی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بھارت اور پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بھارت کا آئندہ کا مستقبل راہول گاندھی ہے تاہم کانگریس اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پا لے اور اتحاد مضبوط بنا لے تو بھارت کے آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار راہول گاندھی بن سکتے ہیں تاہم نریندر مودی کا کرشمہ ابھی تک موجود ہے بھارتی اپوزیشن کو متحد رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز پارٹی میں واضح قیادت کا رول ادا کر رہی ہیں امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مریم نواز کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، وہ پارٹی کے اندر ایک مضبوط امیدوار برائے وزیر اعظم ہو سکتی ہیں اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کو تنطیم سازی کی ضرورت ہے، ڈویژن اور ضلعی سطح پر کارکنوں اور دیگر مقامی ن لیگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت اگر مریم نواز اور حمزہ شہباز پر خصوصی توجہ دے تو دونوں ن لیگ کی قیادت اور دیگر امور احسن طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں حمزہ شہباز تنظیمی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں خاص طور پر پنجاب کی سیاست میں تا دم تحریر ن لیگ میں کوئی دھڑے بندی نہیں نواز شریف کی قیادت میں یہ جماعت متحد ہے، بلاول بھٹو زرداری سندھ میں پارٹی پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں اگر پی پی پی پنجاب اور کے پی کے میں دوبارہ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے تو بلاول بھٹو کی گفتگو اور ویژن نوجوانوں کے لئے پرکشش ہے، بلاول بھٹو کو عملی سیاست میں مزید تجربے اور مقامی حمایت کی ضرورت ہے

    پی ٹی آئی عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی ختم ہوتی ہے مستقبل میں اس سیاسی جماعت کی قیادت کون کرے گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے عمران خان دوسری سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کی طرح بڑھاپے کی طرف گامزن ہیں ملک کی مذہبی جماعتوں کو لیکر اگر تجزیہ کیا جائے تو جماعت اسلامی قدیم ترین مذہبی و سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے کراچی اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں اچھا خاصا اثر دکھایا ہے کراچی میں خاص طور پر نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے میں جماعت اسلامی کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جماعت اسلامی کا مستقبل مکمل طور پر اس کی عملی قیادت اور عوام سے رابطہ کی بنیاد پر طے ہو گا آمدہ قومی انتخابات میں جماعت اسلامی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے،

    جمعیت علمائےاسلام مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے اس جماعت کا مستقبل کئی عوامل پر منحصر ہے جن میں سیاسی اتحاد عوامی تائید اس جماعت کا مکمل انحصار مولانا فضل الرحمان کی شخصیت پر ہے اگر نئی قیادت نہ ابھری تو مستقبل میں یہ جماعت کمزور ہو سکتی ہے ملک کی دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کا بھی مستقبل کمزور نظر آتا ہے تاہم ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مستقبل شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہونا چاہیے الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے یہ ادارہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھتا ہے