Baaghi TV

Category: سیاست

  • بھٹو خاندان کی تاریخ میں نصرت بھٹو کا کردار ، ایک روشن چراغ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو خاندان کی تاریخ میں نصرت بھٹو کا کردار ، ایک روشن چراغ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کے صفحات میں کچھ نام ایسے رقم ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے وہ استقامت قربانی اور حوصلے کے استعارے بن جاتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو مرحومہ انہی میں سے ایک تھیں وہ عورت جس نے اپنی انکھوں کے سامنے اپنے شوہر کو تختہ دار تک جاتے دیکھا بیٹے کو لہو میں لت پت پایا۔ بیٹیوں کو جدوجہد کی بھٹی میں جلتے دیکھا مگر وہ ایک لمحے کے لیے کمزور نہ پڑیں۔ ان کا نام نصرت بھٹو تھا لیکن نصرت پاکستان بن گئیں۔ جب ظلم اپنی انتہا کو چھو رہا تھا جب ہر دروازے پر آہنی زنجیریں اور دیواروں پر سناٹے تھے تب وہ ایک ماں نہیں ایک تحریک بن گئیں۔ مارشل لاء کے اندھیرے دور میں جب بھٹو کا نام لینا جرم تھا تب نصرت بھٹو نے اس نام کو اپنے دل پر کندہ کر لیا۔ وہ جیلیں دیکھتی رہیں ان کی آنکھوں میں آنسو ضرور آئے مگر ان آنکھوں میں اور آنسوؤں میں شکست نہیں تھی عزم کا عکاس تھا۔ نصرت بھٹو نے نہ صرف اپنی فیملی بلکہ پوری قوم کے حوصلے کو سہارا دیا۔ میر مرتضٰی بھٹو کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا بینظیر بھٹو کو بار بار قید و جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ نصرت بھٹو ان سب دکھوں کو دبا کر قوم کو کہتی رہیں یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی سیاسی جدوجہد کا اصل زیور صبر ہے انتقام نہیں۔ نصرت بھٹو نے اپنے خاندان کو نہیں ایک نظریے کو زندہ رکھا وہ بھٹو خاندان کی وہ چٹان تھیں جن کے سائے میں تاریخ نے کئی طوفان دیکھے مگر ان کے ایمان کا چراغ کبھی بجھا نہیں۔

    بھٹو خاندان کی اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہر صفحے پر نصرت بھٹو کی خاموش آنکھیں نظر آتی ہیں جن میں آنسو نہیں روشنی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جس نے بینظیر بھٹو کو جمہوریت کی علامت بنایا اور پیپلز پارٹی کو قربانی اور جدوجہد کا نشان۔ ملکی سیاسی تاریخ میں نصرت بھٹو کا نام ایک مجاہدہ اور ایک عہد کی علامت کے طور پر ہمیشہ روشن رہے گا۔ دوسری جانب خاتون بیگم کلثوم نواز مرحومہ تھیں جس نے اپنے خاوند نواز شریف کی رہائی کے لیے جدوجہد کی۔ اسلام آباد آبپارہ سے لاہور تک سفر میں ان کے ساتھ گاڑی میں خواجہ سعد رفیق، راولپنڈی کی ایک خاتون طاہرہ اورنگزیب تھیں بڑے بڑے نام نہاد ن لیگی رہنماؤں نے کلثوم نواز مرحومہ کو اکیلا چھوڑ دیا۔ مسلم لیگ ن کے انتہائی اہم عہدے پر فائز ایک شخص نے آبپارہ میں خود گرفتاری دے دی تاکہ بیگم کلثوم نواز کے ساتھ سفر نہ کرنا پڑے۔ نواز شریف سمیت اعلٰی قیادت جیلوں میں بند تھی بیگم کلثوم نواز کے ساتھ جو کچھ ہوا ایک عالم گواہ ہے۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے جدوجہد کو جاری رکھا جیلیں بھی کاٹیں اور اپنے اوپر بنائے گئے مقدمات کا سامنا کیا اور اپنی جماعت کو زندہ رکھا۔ ماضی قریب کے اکابرین نے جمہوریت، آزادی اظہار اور حقوق انسانی کے لیے جدوجہد کی۔ بیگم نصرت بھٹو جیسے اور بیگم کلثوم نواز جیسے درخشاں ستاروں سے ہمارا دامن بھرا ہوا ہے خالی نہیں۔

  • گلی گلی نگر نگر  ، دو نومبر! دو نومبر،تحریر : ریاض احمد احسان

    گلی گلی نگر نگر ، دو نومبر! دو نومبر،تحریر : ریاض احمد احسان

    مینارِ پاکستان،بادشاہی مسجد اور اسکی مضافاتی فضاؤں میں ولولوں اور جذبوں کا طوفان ہے،زمین کے ذرے ذرے میں ایک نیا عزم جاگ رہاہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ورکرز کنونشن قریب ہے وہ لمحہ جس کی دھڑکن ملت کے سینے میں تیزی سے دھڑک رہی ہے، وہ دن جب لاہور کے مینار سے پھر نعرۂ تکبیر کی صدائیں ایک نئی توانائی کے ساتھ بلند ہوں گی

    اہلِ ایمان جانتے ہیں کہ یہ وہی مینار ہے جس نے غلامی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلایا تھا،جس کے سائے تلے قوم نے اپنے وجود اور مستقبل کا اعلان کیا تھا آج پھر وہی مینار پکار رہا ہے آج پھر وہی فضا گواہ بننے والی ہے کہ اس قوم کا ضمیر جاگ چکا ہے،اس کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں اور اس کے کارکن میدان میں اتر چکے ہیں اس وقت ملک کا کوئی گوشہ،کوئی کونا ایسا نہیں جہاں اس پیغام کی گونج نہ پہنچی ہو۔

    بلوچستان کے ریگزاروں سے لے کر وادیٔ سوات کے نیلگوں چشموں تک، سندھ کے صحراؤں سے پنجاب کے زرخیز کھیتوں تک، کشمیر کے برف پوش پہاڑوں سے کراچی کے ساحلوں تک ایک ہی ولولہ ہے، ایک ہی جذبہ ہےایک ہی خواب ہے، ایک ہی پکار ہے اور ایک ہی دعوت ہے کہ دو نومبر کو مینارِ پاکستان کے سائے تلے قوم اپنی وحدت کا مظاہرہ کرے گی، اپنے ایمان کی تجدید کرے گی، اپنے عہدکو نبھانے کے لیے عزمِ تازہ سے جسم باندھے گی کہ آج اساتذہ اپنے شاگردوں کو جوشِ ملی کا سبق دے رہے ہیں،علماء و مشائخ محراب و منبر سے ملت کو اتحاد کی دعوت دے رہے ہیں۔تاجر اپنے دکانوں پر، مزدور اپنے کارخانوں میں، کسان اپنے کھیتوں میں، طلباء اپنے ہاسٹلز میں اور وکلاء اپنے بار رومز میں سب ایک ہی آواز میں لبیک مینارِ پاکستان ،لبیک مرکزی مسلم لیگ کہتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ فاتح قوم اور متحد قوم کا حقیقی چہرہ اور تعارف پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہی ہے

    اوورسیز پاکستانی بھی جذبات کے دریا بن گئے ہیں
    لندن کی سڑکوں سے، نیویارک کے ایونیو سے، دبئی کے بازاروں سے، جدہ و مدینہ کی مقدس فضاؤں سے وہ سب ایک ہی نعرہ دہرا رہے ہیں کہہم ارضِ پاک کے ساتھ ہیں، ہم نظریۂ پاکستان کے محافظ ہیں

    وہ جو دیارِ غیر میں ہیں ان کے دل آج بھی اسی خاک سے بندھے ہیں جسے علامہ اقبال نے “ارضِ پاک” کہا تھا، جس کے لیے قائدِ اعظم نے اپنی جوانی، اپنی صحت، اپنی زندگی نثار کر دی تھی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قائدین سے کارکنان تک دن رات سرگرم عمل ہیں،کہیں بینر لگ رہے ہیں، کہیں وال چاکنگ ہو رہی ہے، کہیں گلیوں میں ترانے گونج رہے ہیں،کہیں تربیتی نشستیں ہو رہی ہیں،کہیں دعوتی دسترخوان سجائے جا رہے ہیںآئی ٹی اسپیشلسٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آسانیاں اور آسودگیاں بانٹتے دکھائی دے رہے ہیں،گرافکس والے اپنا ہنر آزما رہے ہیں،شعبہ خدمتِ خلق مکمل فعال،متحرک اور توانا ہے
    شعبہ میڈیکل مکمل فعال ہے ،ورکرز کنونشن کی حفاظت پر مامور لوگ سربسجدہ ہو کر اللہ رب العزت کی مدد مانگ رہے ہیں ،جماعتی ترجمان مین اسٹریم میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا تک کی موثر اور جامع رہنمائی کر رہے ہیں،عدالتوں کے وکلاء عدل کے ایوانوں سے نکل کر پیغامِ وحدت عام کر رہے ہیں۔تاجر و صنعتکار اپنی مجلسوں میں وطن کی تعمیر کا عہد دہرا رہے ہیں۔اساتذہ اپنے شاگردوں میں اُمید کے چراغ جلا رہے ہیں۔اور کسان وہی مٹی کے بیٹے اپنے کھیتوں میں پسینہ بہاتے ہوئے کہہ رہے ہیں..ہم نے زمین سے سونا اگایا، اب ہم قوم کے دلوں میں اُمید اگائیں گے اور اپنے پانیوں پر پہرہ دیں گے..ان کے چہرے دھوپ سے تمتمائے ہوئے ہیں لیکن ان آنکھوں میں روشنی ہے، ایمان کی روشنی، وطن کی محبت کی روشنی۔

    یہ صرف ایک ورکر کنونشن نہیں یہ قوم،ملک اور سلطنت کی روح کا احیاء ہے۔
    یہ مینارِ پاکستان کے عہد کی تجدید ہے، یہ قراردادِ لاہور کے وعدے کی تکمیل ہے۔
    یہ وہ دن ہے جب قوم اپنے خالق کے حضور سرِ نیاز جھکائے گی، اپنے وطن سے وفا کا عہد دہرائے گی
    اور کہے گی
    ہم نظریۂ پاکستان کے سپاہی ہیں، ہم اتحاد، ایمان اور نظم کے پرچم دار ہیں
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اسی بیانیے کا اظہار کیا ہے کہ قومیں نعرے یا دعوے سے نہیں۔کردار سے بنتی ہیں
    اور کردار اسی وقت جنم لیتا ہے جب دلوں میں ایک مقصد، ایک درد اور ایک سوز بیدار ہو۔
    دو نومبر کا دن وہی سوز جگانے والا دن ہے۔
    دو نومبر کا سورج گواہ ہوگا
    کہ یہ قوم بکھری نہیں، متحد ہے
    مایوس نہیں، پرعزم ہے
    خاموش نہیں، بول رہی ہے
    اور اس کی زبان پر ایک ہی پیغام ہے
    ایمان، اتحاد، نظم
    یہی ہماری پہچان ہے

    اے فرزندانِ پاکستان!دو نومبر کا یہ ورکرز کنونشن آپ کو اکٹھا کر رہا ہے
    اپنے خالق کے نام پر، اپنے شہیدوں کے لہو پر، اپنے قائد کے خواب پر
    محسنِ شہ رگ پاکستان کی ہدایت پر
    آؤ دو نومبر کو مینارِ پاکستان کی آغوش میں وعدہ کریں
    کہ ہم اس ملک کو جہالت سے علم کی طرف
    نفرت سے محبت کی طرف
    انتشار سے استحکام کی طرف
    مایوسی سے عزم و یقیں کی طرف
    خدمتِ ذات سے خدمتِ انسانیت کی طرف
    بے راہ روی سے ذمہ داری کی طرف
    تخریب سے تعمیر کی طرف
    بے روزگاری سے روزگار کی طرف
    بے ہنری سے ہنر کی طرف
    اور بدامنی سے امن کی طرف
    لے کر جائیں گے
    یہی ہے اصل انقلاب — یہی ہے اصل پاکستان
    اور یہی ہے
    گلی گلی نگر نگر _،،،دو نومبر!دونومبر
    کا ایک مقصد اور نامکمل پیغام کہ ابھی بہت سی باتیں،حکمت عملیاں ،منصوبے اور سرپرائز باقی ہیں

  • پاکستانی عوامی نمائندے خوف کی علامت کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی عوامی نمائندے خوف کی علامت کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کے ہر مہذب اور جمہوری ملک میں پارلیمنٹ وہ ادارہ سمجھا جاتا ہے جہاں عوام کی آواز سنی جاتی ہے ان کے مسائل حل کیے جاتے ہیں اور ان کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔ وہاں کے پارلیمنٹیرین اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں ان کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہوتا ہے۔ وہ عوام کے درمیان رہتے ہیں ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے طرز عمل سے اپنے ملک کی عزت وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے ہمارے ملک کے کہیں پارلیمنٹیرین جو عوامی نمائندے کہلاتے ہیں عوام میں خوف اور اضطراب کی علامت بن چکے ہیں۔ اُن کے ارد گرد پانچ، پانچ، چھ، چھ مسلح گارڈز ہوتے ہیں۔ جدید اسلحہ اور کلاشنکوف سے لیس قافلے عوامی سڑکوں پر دوڑتے نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً عوام جنہیں ان نمائندوں سے امید اور تحفظ کا احساس ہونا چاہیے ان کے سامنے خود کو غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کرتی ہے۔ یہ رویہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے

    عوامی نمائندہ وہ ہوتا ہے جو اپنے کردار، علم اور خدمت سے لوگوں کے دل جیتے۔ نہ کہ اپنی طاقت اور اسلحے کے زور پر جب عوام کے نمائندے ہی عوام کو خوفزدہ کرنے لگیں تو پھر ریاستی اداروں، قانون اور انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونا لازمی ہے۔ اس وقت وزیراعلٰی پنجاب جنہوں نے صوبے میں گڈ گورننس، میرٹ اور عوامی فلاح کے لیے کئی بہترین اقدامات کیے ہیں یہ امید ہے کہ وہ اس سنگین مسلے پر بھی توجہ دیں۔ ضروری ہے کہ ملک کی تمام اسمبلیوں میں ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی یا عوامی نمائندہ ذاتی مسلح گارڈز رکھنے کا مجاز نہ ہو۔ اگر ریاست اپنے عوام کی حفاظت کی ضامن ہے تو پھر کسی عوامی نمائندے کو اپنی ذاتی فورس بنانے کی ضرورت نہیں۔ بہت ہو چکا وقت ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرین اپنی اصل ذمہ داریوں کی طرف لوٹیں۔ وہ قانون سازی جو عوام کے حق میں ہو، وہ پالیسیاں جو تعلیم، صحت اور انصاف کو مضبوط بنائیں اور وہ اقدامات جو ملک میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ نہیں بلکہ عوام کا اعتماد اور محبت ہے اگر ہمارے عوامی نمائندے اس حقیقت کو سمجھ لیں اور نہ صرف عوام کا خوف ختم ہوگا بلکہ پاکستان کا سیاسی کلچر بھی مثبت سمت اختیار کرے گا۔ عوام نمائندوں سے خوف نہیں امید چاہتی ہے وہ امید جو خدمت، انصاف اور کردار سے جنم لیتی ہے۔ اگر عوامی نمائندے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی عادات اور رویوں میں تبدیلی لے آئیں تو یقیناً پاکستان ایک مہذب پرامن اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔

  • جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیویارک، واشنگٹن، ڈی سی، شکاگو، میامی، اور لاس اینجلس، میں امریکہ بھر کے شہروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف (NO KINGS) کے مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی. وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد امریکی صدر کے خلاف یہ پہلا بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے. امریکی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہ احتجاج پورے یورپ میں امریکی سفارت خانوں کے باہر ہوا۔ مظاہرین نے NO KINGS کے نام سے احتجاج کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر خود کو جمہوری لیڈر کے بجائے بادشاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ امریکی سیاسی روایت میں بادشاہ کا تصور نہایت حساس ہے کیونکہ امریکہ کی بنیاد ہی برطانیہ کی بادشاہت کے خلاف بغاوت میں رکھی گئی تھی۔ اس لیے جب ایک صدر خود کو اس علامت کے ذریعے پیش کرے تو یہ سیاسی شعور رکھنے والے امریکیوں کے لیے جمہوریت پر خطرے کی گھنٹی محسوس ہوتی ہے۔ لاکھوں مظاہرین نے NO KINGS کو جمہوریت کے دفاع کے نعرے کے طور پر اپنایا. اس سے حزبِ مخالف کو ایک مضبوط اخلاقی موقف ملا کہ وہ عوامی سطح پر صدر کی طاقت کے حد سے زیادہ کہ استعمال کے خلاف ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ قدامت پسند ریپبلکن ووٹرز نے بھی اس نعرے سے اتفاق کیا حالانکہ وہ ٹرمپ کے حامی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے یہ تحریک پارٹی لائن سے آگے بڑھ کر جمہوری اصولوں کی بات کر رہی ہے۔ ٹرمپ کی ویڈیوز نے آن لائن دنیا میں طنز اور جوابی بیانیوں کی جنگ چھیڑ دی۔ مظاہرین نے ٹرمپ کے KING TRUMP کو الٹا استعمال کیا. NO KINGS کا بیش ٹیگ ٹویٹر پر چند گھنٹوں میں ایک ٹرینڈ بن گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سیاسی طنز دو دھاری تلوار ہے جس سے مقبولیت کے ساتھ ساتھ مخالفت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ویڈیو نے امریکی معاشرے میں پہلے سے موجود تقسیم ڈیموکریٹس بمقابلہ ریپبلکن، شہری، اور دیہی علاقوں کو مزید گہرا کر دیا۔ ایک طبقہ اسے اظہارِ آزادی کہہ کر دفاع کر رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے عوام کی تذلیل سمجھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کی سیاست اب صرف پالیسی نہیں بلکہ جذباتی وفاداری کے جذبات پر مبنی ہے۔

    امریکی نوجوان طبقہ جو عام طور پر سیاست سے دور رہتا ہے اس بار سوشل میڈیا کے ذریعے سرگرم ہوا تحریک نے ان کے لیے جمہوریت اور عوامی NO KINGS آواز کی معنویت کو زندہ کیا یعنی سیاسی شمولیت میں اضافہ ممکن ہوا اس کے مستقبل کی سیاست پر اثرات پڑھیں گے۔ پارٹی کے اندر بعض سینئر رہنماؤں نے نجی طور پر تشویش ظاہر کی کہ ایسی ویڈیو اعتدال پسند ووٹرز کو دور کر سکتی ہیں۔ کچھ پارٹی رہنما اس رجحان کو (CULT POLITICS) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو روایتی ریپبلیکن اقتدار جیسے ادارہ جاتی احترام کے خلاف جا رہی ہے۔

    دوسری طرف ڈیموکریٹس نے اس واقعے کو بے انتخابی بیانیہ میں شامل کر لیا ہم بادشاہ نہیں چاہتے ہمیں عوامی حکمرانی چاہیے۔ اگر یہ بیانیہ موثر رہا تو آئندہ انتخابات میں اسے سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔ کنگ ٹرمپ ویڈیو محض طنزیہ ویڈیو نہیں رہا یہ اب امریکی سیاست کی نئی علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف یہ طاقت کی سیاست کی نمائندگی کرتا ہے دوسری طرف یہ عوام کی خود مختاری کے دفاع کی علامت بن گیا ہے۔ لہذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ ویڈیو دراصل امریکی جمہوریت کے بیانیہ کی جنگ کا نیا محاذ بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہیے اور اپنا رخ جمہور کی طرف موڑ لینا چاہیے انتخابی اصلاحات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت عوامی دباؤ کے تحت اصلاح کرتی ہے تو وہ اصلاح نہیں بلکہ پسپائی ہوتی ہے۔ جس طرح آج لاکھوں افراد صدر ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر نکلے، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں جمہوریت لڑکھڑا چکی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ملک میں قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کو مستحکم کرنے پر توجہ دینا ہوگی اور ان ممالک سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔

  • عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں

    عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے

    وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے

    پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی ہے فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جذبے، ایمان اور قربانی کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ قوم کے اجتماعی شعور میں ایک خلا پیدا ہوا یہی خلا آج پاکستان کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب نے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ مذہبی جماعتوں نے دین کو خدمت خلق کے بجائے سیاسی طاقت کے اصول کا ذریعہ بنایا۔ عوام جو تعلیم اور شعور کی کمی کا شکار ہیں ان نعروں اور مذہبی جذبات کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ یہ وہی کیفیت ہے جس میں عقل پر جذبہ غالب آ جاتا ہے۔ تحریکِ لبیک جیسی دوسری جماعتیں اپنے مخصوص واقعات پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج تو کرتی ہیں مگر ان کے اقدامات سے ریاستی نظام، عوامی زندگی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا فلسطین و اسرائیل کے درمیان امن کی بات کر رہی ہے۔ جبکہ ہم ذرا سوچیے اپنی ہی زمین پر انتشار کا منظر دنیا کو دکھا رہے ہیں۔

    قوموں کی ترقی علم اور عمل کے دو ستونوں پر کھڑی ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً ایک عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کا المیہ یہ نہیں کہ وسائل نہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ شعور نہیں۔ جب عوام علم سے روشنی حاصل کریں گے وہ کسی کے جال میں نہیں پھنسیں گے نہ مذہبی جذبات کے نہ سیاسی نعروں کے۔ اور جب قوم باشعور ہو جائے گی تو پاکستان واقعی وہی بنے گا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا ایک روشن، باوقار اور متحد قوم۔ پاکستان ایک عظیم مقصد کے تحت معرضِ وجود میں آیا تاکہ مسلمان ایک آزاد وطن میں اپنی دینی، تہذیبی اور فکری شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خواب کہیں دھندلا سا ہو گیا۔ آج قوم ایک ایسے دورہ رائے پر کھڑی ہے جہاں جذبات نے عقل پر غلبہ پا لیا ہے اور قوم علم و شعور سے محروم نظر آتی ہے۔ پاکستان کے عوام کے دل میں مذہب کی محبت بے پناہ ہے مگر اسی جذبے کا غلط استعمال بعض مذہبی و سیاسی گروہ اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تعلیم و شعور کی کمی کے باعث عوام اُن نعروں کے پیچھے لگ جاتے ہیں بغیر یہ سوچے اس کا نتیجہ ملک و ملت پر کیا پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں تحریکِ لبیک کے مظاہرے اور سڑکوں کی بندش نے ملک کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا۔ ہر مہذب قوم کا دارومدار علم اور عمل پر ہوتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی حقیقی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ معاشرے میں دلیل کی جگہ نعروں نے لے لی ہے اور برداشت کے بجائے نفرت نے جنم لیا ہے۔

    پاک فوج اور جملہ ادارے ہمیشہ سے پاکستان کی سلامتی، وقار اور بقاء کی ضامن رہی ہے۔ جیسے ایک مرغی اپنے بچوں کو باز یا چِیل کے حملے سے بچانے کے لیے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے ویسے ہی پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ عناصر خواہ وہ بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہوں یا اندرونی انتشار پھیلانے والے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ اور افوائیں پھیلاتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کا مقصد قوم اور فوج کے درمیان اعتماد کی دیوار کو گرانا ہے حالانکہ فوج وہ ادارہ ہے جس نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس قوم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ وطن عزیز کو اپنے اصل مقصد کی طرف واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں۔

  • جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں

    پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے

    سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی

    سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قومی اداروں پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے جس کی تازہ مثال وزیر اعلٰی کے پی کے کی جذباتی تقریر ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    جنوبی ایشیائی ملک خاص طور پر بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پچھلے چند سالوں میں جمہوری عمل کمزور ہوتا دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ ہے۔ اگر ملک کی سیاسی جماعتوں نے منظم طریقے سے نیچے تک مضبوط اندرونی جمہوریت پر توجہ نہ دی تو قومی سیاست میں ان کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کی صورتحال ایک دہائی میں عوامی حکمرانوں کے سیاسی خلا، اظہار رائے اور انتخابی مقابلے جیسے عناصر ظاہر ہوئے جن کے باعث جمہوریت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ انتخابات میں تنازع اور شفافیت کے الزامات لگے۔ سری لنکا کی بھی یہی صورتحال ہے معاشی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں طرز حکمرانی میں دیکھی گئی اقتصادی بد انتظامی اور سیاسی مرکزیت جمہوری اداروں کو تیزی سے کمزور کرتی گئی۔ یہی صورتحال نیپال میں دیکھی گئی مسلسل سیاسی عدم استحکام بار بار کابینہ میں تبدیلیاں اور آئینی جمہوری خامیوں نے جمہوری تسلسل کو متاثر کیا۔ اگرچہ بعض اوقات عدلیہ یا پارلیمانی طریقے سے بحال بھی ہوئی، ان ممالک میں مرکزی قیادت اور قائدانہ مرکزیت طاقت کا حد سے زیادہ مرکزیت میں جمع ہونا، ادارہ جاتی کمزوری، آزاد عدلیہ، میڈیا اور سیکیورٹی اداروں میں توازن کمزور ہونا معاشی بد انتظامی، عوامی ناراضگی اور سیاسی بحران نے جنم لیا۔ موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں الگ الگ انداز میں ظاہر ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، ضلعی ڈویژن اور تحصیل سطح پر باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کی خراب صورتحال، سیاسی عدم استحکام پاکستان کے ملکی نوجوانوں جو پاکستان کا مستقبل ہیں ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ہر جماعت کے آئین میں شفاف امیدوار چننے کے ضوابط، شکایات کے میکنزم اور مدت طے کرنی ہوگی۔ مقامی لیڈرز، ووٹر، رجسٹریشن، انتخابی ضوابط فورم اور ورکشاپس کے انتظامات کرنے ہوں گے۔ پارٹی فنڈنگ کے اخراجات کے باقاعدہ آڈٹ اور عوامی خلاصے پر توجہ دینی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو پالیسی سازی، امیدواروں کی نشاندہی اور شفاف الیکشن کرانا ہوں گے۔ نوجوان و خواتین لیڈر شپ پروگرام اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ صرف طاقت حاصل کرنے کے بجائے واضح پالیسی پر ایجنڈا بنائیں اور اس کی پیمائش کریں۔ سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی۔ قیادتوں کو بااختیار بنانے سے عوامی نمائندگی بہتر ہوگی۔ سیاسی جماعتیں صرف حکومت حاصل کرنے پر مرتکز رہیں گی جو تنظیمی کمزوریاں، جمہوریت کے بحران میں بدل سکتی ہیں۔ پارٹی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے ساتھ شراکت ضروری ہے۔ قطع تعلقی ہمیشہ جنگ زدہ لسانیت مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اندرونی اصلاحات کے بجائے صرف زبانی دعوے کریں تو عوام کا اعتماد کمزور ہوگا جس کے اثرات جمہوریت پر پڑھیں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں تو صوبائی، ضلعی سطح کی شاخیں، خود مختار فنڈ ریزنگ اور مقامی نمائندگی کو مضبوط کریں۔ نوجوان و خواتین کی قیادت کی مضبوطی اور پالیسی بیسڈ سیاست قائم کریں تاکہ پاکستان جمہوری تسلسل میں مستحکم رہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں تبھی کامیاب ہوں گی جب وہ عملی اقدامات کریں گی ورنہ پاکستان کی جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اپنے قومی اداروں جس میں پاک فوج جملہ اداروں اور پولیس پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور تو کر سکتا ہے مضبوط نہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال وزیراعلٰی خیبر پختون خواہ کی تازہ ترین تقریر ہے جسے ایک جذباتی تقریر کہا جا سکتا ہے۔

  • اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا

    نیتن یاہو کو آگاہ کیا گیا اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا

    امریکی صدر کا پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کرنا پاکستان کی عوام اور عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی باہمی رہائی اور امن معاہدے پر مصر میں دستخط ہو گئے ہیں۔ یہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سفارتی اور بڑی کامیابی ہے۔ علاقائی استحکام میں اضافہ ہوگا ارد گرد کے ممالک کے لیے بھی امن و خوشحالی لائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کی جیت ہے، جنگ کی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ماضی میں ایک مجوزہ معاہدے کی بنیاد پر قرارداد 2735 منظور کی تھی۔ جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر زور دیا گیا تھا مگر اس کی عملی پیش رفت ہمیشہ محدود رہی اور نقصان کا دائرہ وسیع ہوا۔ موجودہ معاہدے کی امریکہ، مصر، ترکی، قطر اور دیگر ممالک معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں جو ایک مثبت بین الاقوامی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ امید ہے غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع ملے گا اور خوراک، پانی، دوائیں وغیرہ کی فراہمی بہتر ہوگی۔ امریکہ نے اس معاہدے کی بہت شدت سے حمایت کی ہے اور اس معاہدے کو تاریخی کامیابی کہا ہے۔ مصر نے ثالث کا کردار نبھایا ہے اور اجلاس کی میزبانی کی۔ عرب ممالک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اسے استحکام کا راستہ قرار دیا ہے یہ معاہدہ ایک ابتدائی نقطہ عروج ہے۔ امید ہے امریکہ، مصر، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک جو اس معاہدہ میں شامل ہیں وہ کسی کو خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ تاہم اس کا کریڈٹ عالمی مبصرین امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو دے رہے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پہلے کھیلتا ہے، تدبیریں کرتا ہے، پیش قدمی کرتا ہے، پیچھے ہٹتا ہے، گولی چلاتا ہے، یاد کرتا ہے اور راستہ بدلتا ہے، ساری دنیا اس کی حرکات و سکنات کو دیکھتی ہے، وہ عالمی سطح کا رونالڈو ہے، وہ بالی وڈ کے سٹارز سے زیادہ پرجوش ہے، وہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے اور یقین دلاتا ہے، وہ دھمکی دیتا ہے پھر معاہدہ کرتا ہے، وہ انتہائی حد تک جانے کا بہانہ کرتا ہے پھر کم سخت شرائط کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے، عالمی مبصرین کے مطابق دنیا اس کے مزاج کے مطابق اپنی رفتار طے کر رہی ہے، وہ سوشل میڈیا میں ہلچل مچانے کے لیے کافی ہے، وہ ایک شعلہ بیاں خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہے، اس کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے، ناراض ہو جاتا ہے، مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا۔ مبصرین نے کہا ہے کہ ان کے معاونین انکی لامتنائی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی تاریخ کے عظیم ترین صدر ہیں کیونکہ وہ ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے۔ غزہ کی جنگ کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے، کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، مغربی کنارے کا کوئی الحاق نہیں ہوگا۔ حماس اپنے ہتھیاروں اور سرنگوں کو الوداع کہہ دے گی اور غزہ پر حکمرانی بند کر دے گی۔ فلسطینی اتھارٹی کا انحصار ان اصلاحات پر منحصر ہے جو وہ انجام دے گی۔ صورتحال ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو کو اگاہ کیا کہ اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا۔ امید ہے اس کا نتیجہ بھی کامیاب رہے گا۔ دوسری طرف امریکی صدر جو پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کر رہے ہیں جو پاکستان کی عوام اور پاک فوج کی عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارت حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

  • بھارت کی افغانستان  میں دلچسپی پاکستان  کے لئے براہ راست سلامتی  کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور دہشت گردی کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کے ذکر نے ہلاکر رکھ دیا تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط شدہ اس دستاویز پر عمل نہ کرنا بقول شاعر:
    مجروح قافلے کی میری داستان یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں ،مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے۔ ذرا سوچئے ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ کیوں یہ آگ بھڑک اُٹھتی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ بات تو طے ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور آج بھی ملوث ہے ۔ علاقائی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے نہ صرف خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کی ہیں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے بھارت کی افغانستان میں دلچسپی کوئی نہیں بات نہیں۔ 2001 کے بعد بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جن میں سے ،سلم ڈیم ، افغان پارلیمنٹ بلڈنگ اور مختلف سڑکوں وتعلیمی منصوبوں کی تعمیر شامل ہے ۔ یعنی بھارت وسط ایشیا تک اپنی رسائی بڑھانا اور پاکستان کے مغربی اثر کو محدود کرنا ہے ۔ طالبان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بھارت پھر افغانستان کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے جو ظاہرکرتا ہے کہ دہلی اپنی نرم طاقت کی حکمت عملی دوبارہ فعال کررہا ہے ۔ بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ہے۔ خاص طورپر کے پی کے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں۔ بھارت افغانستان تعاون علاقائی تجارت، مفادات خصوصا سی پیک اور وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے منصوبوں پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔ چین ، ایران اورروس افغانستان میں استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے اپنے مفادات ہیں۔

    چین پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے معاشی راہداری قائم کرنا چاہتاہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ بھارت کی سرمایہ کاری اس کے راستوں سے ہو جیسے چاہ بہار پورٹ ۔ اس پیچیدہ ماحول میں پاکستان کو محتاط مگر متحرک سفارتکاری اختیار کرنا ہوگی ۔ پاکستان کو اپنے مفادات کویقینی بنانا ہوگا۔ چین، ایران ، ترکی اور روس جیسے ملک کے ساتھ پالیسی ہم آہنگی بڑھانا ناگزیر ہے ۔ عالمی فورمز پر پاکستان کو شواہد کے ساتھ بھارت کے کردار کو پیش کرنا چاہیئے۔ اندرونی استحکام کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا اصل مضبوط داخلی نظام ، سیاسی اتفاق رائے اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے ۔ بھارت افغانستان کے تعلقات کا بڑھانا خطے کے لئے نیا منظر نامہ تخلیق کررہا ہے ۔ پاکستان کے لئے یہ چیلنج ضرور ہے مگر خطرہ تب بنتا ہے جب وہ محض رد عمل میں پالیسی بنا ئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان حکمت عملی ، سفارتی کاری اور داخلی استحکام تینوں محاذوں پر متوازن اور سنجیدہ کردار ادا کرے۔ خطے میں امن و استحکام کادارومدار اسی بات پر ہے کہ ہر ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے یہی امن کی بنیاد ہے۔

  • نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے قربانی، ایثار اور ایمان کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے اپنے سپوتوں کے خون سے وفا کے چراغ جلائے، اور ہر دور میں دشمن کے سامنے سربلند رہی۔ آج جب فتنۂ خوارج اور دہشت گردی کے سائے ایک بار پھر امن کی روشنی کو گہنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو وطنِ عزیز کے فرزندانِ توحید پھر سے ایک عزمِ نو کے ساتھ میدان میں صف بستہ دکھائی دیتے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں قوم کے پاس ایک ایسی حکمتِ عملی موجود ہے جو محض قانون نہیں بلکہ ایک عہد، ایک پیمان، اور ایک عزم ہے—کہ وطن کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔پاک فوج کے ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس میں جو پیغام قوم کے نام آیا، وہ دراصل ریاستی عزم کی گونج تھی۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد ہی امن و امان کی ضمانت ہیں،

    قوم جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں میں جو جوان دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں، وہ محض سپاہی نہیں، بلکہ اس قوم کی غیرت اور ایمان کے امین ہیں۔ ان کی شہادتیں، ان کی قربانیاں کسی فرد یا ادارے کی نہیں، بلکہ پورے وطن کی اجتماعی میراث ہیں۔یہی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی بن کر جلتے ہیں، اور جن کے دم سے وطن کے افق پر امید کے دیے روشن رہتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت میں انتشار، منافقت یا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، فتنۂ خوارج نے ہی اس کی بنیاد رکھی۔آج بھی وہی ذہنیت، وہی زہر، نئے چہروں اور نئے ناموں سے وطنِ عزیز میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ عناصر کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اور کبھی آزادی کے نام پر قوم کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔انہی کے تعاقب میں افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، اور یہ قربانیاں اس بات کی ضمانت ہیں کہ قوم دہشت گردی کے اس اندھیرے کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر دم لے گی۔

    یہ کوئی راز نہیں کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہے۔ایک طرف وہ دہشت گردی کو فروغ دے کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف عالمی برادری کے سامنے امن کا علمبردار بننے کا ناٹک کرتا ہے۔مزید افسوس کا مقام یہ ہے کہ افغانستان، جو کبھی برادر اسلامی ملک کہلاتا تھا، آج خاموش تماشائی بن کر دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔کیا ایک اسلامی ہمسایہ ملک کا یہ شایانِ شان رویہ ہے؟کیا یہ امتِ مسلمہ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ وہ امن کے دشمنوں کے خلاف صف بستہ ہو جائے؟یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے، پاکستان کا صبر کمزوری نہیں بلکہ حکمت ہے، اور اس کی خاموشی تدبر کا مظہر۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان صرف ایک سرکاری پالیسی نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہری کا اجتماعی عہد ہے۔یہ پلان اُس فلسفے پر قائم ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف گولی سے نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، روزگار، گورننس، اور قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔جب خیبر پختونخوا میں گورننس بہتر ہوگی، جب بلوچستان کے نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں گے، جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا، تب ہی وہ خواب حقیقت بنے گا جس میں امن ایک نعمت نہیں بلکہ ایک فطری حق بن جائے گا۔

    یہ وقت تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے میں کردار ادا کرنے کا ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، فرقہ واریت اور سیاسی تقسیم کے زہر کو ترک کرنا ہوگا۔قوم کے ہر طبقے، ہر فرد اور ہر ادارے کو یہ عہد دہرانا ہوگا کہ یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم نہ ماضی میں جھکی ہے، نہ آج جھکے گی۔یہ قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، جس کے پیچھے ایمان کی قوت اور قربانی کا عزم ہے۔افواجِ پاکستان کے بہادر سپوت اور عوام کے مخلص دل ایک ساتھ کھڑے ہیں ایک ہی مقصد کے لیےمامن، استحکام اور مادرِ وطن کی حفاظت۔

    تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ وہ قومیں کبھی فنا نہیں ہوتیں جو اپنے شہداء کا خون ضائع نہیں جانے دیتیں۔
    آج جب دشمن چاروں جانب سے نفسیاتی، فکری اور عسکری حملے کر رہا ہے، تو ہمیں ایک ایسی صف میں کھڑا ہونا ہوگا جہاں کوئی کمزور کڑی نہ ہو۔یہی قومی یکجہتی، یہی ایمان، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔یہ وطن ہمارا ہے، اور ہم اس کے محافظ ہیں۔ہم اپنی جانوں سے زیادہ اپنے پرچم کو عزیز رکھتے ہیں۔ہم اس سرزمین کے ہر ذرے کی حفاظت کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کو تیار ہیں۔ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی فضاؤں میں امن کا پرچم پھر سے پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رہا ہوگا،اور شہداء کے خون سے سینچی گئی یہ دھرتی ہمیشہ کے لیے دہشت کے سائے سے آزاد ہو جائے گی۔

  • امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    کبھی کبھی قوموں پر ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب وہ اپنے وجود، اپنی بقا اور اپنی سمت کے تعین کے لیے خود سے سوال کرتی ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑا ہے ، ایک ایسا موڑ جہاں دشمن صرف سرحدوں کے پار نہیں بلکہ ہمارے اندرونی امن اور یکجہتی کو بھی للکار رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نعرہ ہمیں متحد کر سکتا ہے تو وہ ہے: نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد،ترجمانِ پاک فوج کی حالیہ پریس کانفرنس میں یہی پیغام پوری وضاحت سے سامنے آیا۔سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کے نکات قومی منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسا منشور جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوقوں سے زیادہ، ارادوں اور اتحاد سے جیتی جاتی ہے۔

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر ہمارے زخم ہرے کر دیے ہیں۔ ہمارے نوجوان شہید ہو رہے ہیں، ماؤں کے آنچل لہو سے تر ہو رہے ہیں، اور دشمن اپنی ناپاک سازشوں میں مصروف ہے۔ان حملوں کے پیچھے ازلی دشمن بھارت ہے، جو “فتنۂ خوارج” کے ذریعے وطنِ عزیز کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔کیا برادر اسلامی ملک کا یہ رویہ زیب دیتا ہے کہ پاکستان کے صبر اور بارہا احتجاج کے باوجود وہ ان عناصر کو روکنے میں ناکام رہے جو پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کا خون بہا رہے ہیں؟یہ صرف پاکستان نہیں، پوری امتِ مسلمہ کا اخلاقی امتحان ہے۔

    نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات صرف ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ وہ آئینہ ہیں جن میں ہم اپنی کمزوریاں اور ترجیحات دیکھ سکتے ہیں۔ ان نکات پر عملدرآمد ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ پلان سیاسی ترجیحات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کہیں فرقہ واریت کا زہر، کہیں صوبائی تعصب کی دیوار، اور کہیں مصلحت کی دبیز تہہ نے اس پلان کی روح کو ماند کر دیا۔اب وقت آگیا ہے کہ اس بھولی ہوئی ترجیح کو ازسرنو زندہ کیا جائے۔نیشنل ایکشن پلان کو محض کاغذی خاکہ نہیں بلکہ ریاستی عزم اور عوامی اعتماد کا استعارہ بنانا ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے ہمارے بہادر سپاہی اور جوان دراصل اس قوم کے وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں بھی روشنی بانٹتے ہیں۔ ان کی شہادتیں محض تاریخ کے اوراق نہیں بلکہ عہدِ وفا کی داستانیں ہیں۔یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری ملتِ پاکستان کی مشترکہ میراث ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وطن کی حفاظت کسی ایک فورس یا طبقے کی ذمہ داری نہیں ، یہ ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔

    دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اس کا مقصد ایک ہی ہے، انتشار، خوف اور بداعتمادی پھیلانا۔ لیکن یہ قوم وہی ہے جو بارہا لہو میں نہا کر بھی سر اٹھا کر کھڑی ہوئی۔افواجِ پاکستان اور عوام آج بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات سے نہیں، عزم اور تدبر سے کام لیں۔پاکستان کی سیکورٹی کی ضمانت ہماری افواج ہیں، مگر پائیدار امن کی بنیاد عوامی یکجہتی ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد، صوبوں میں بہتر گورننس، انصاف تک عام رسائی، اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی ہی وہ راستہ ہے جو قوم کو دوبارہ اعتماد اور سکون کی فضا مہیا کر سکتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ محض بندوقوں کی گھن گرج سے نہیں جیتی جا سکتی؛ اس کے لیے فکری بیداری، قومی شعور اور اجتماعی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے” محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے اور یہ عہد ہم سب کو نبھانا ہے۔آج جب دشمن ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، ہمیں اپنے گھر کے چراغ مضبوطی سے تھامنے ہیں۔یہی قومی اتحاد، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل، یہی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ یکجہتی ہمارا ہتھیار ہے، ہماری ڈھال ہے، ہمارا فخر ہے۔امن کی صبح دور نہیں، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کر لیں، اور اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک بار پھر متحد قوم بن جائیں،پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم کبھی جھکنے والی نہیں، اور یہ وطن ہمیشہ اپنے شہیدوں کے لہو سے زندہ رہے گا۔ یہ وقت قوم کے اتحاد، نیشنل ایکشن پلان کے احیاء اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا ہے۔ کیونکہ جب قوم اور فوج ایک ہو جائیں تو کوئی دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، پاکستان کے امن کو پامال نہیں کر سکتا۔