Baaghi TV

Category: سیاست

  • آئینی ترامیم اور اختیارات کی کشمکش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترامیم اور اختیارات کی کشمکش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کے چند ممالک ایسے ہیں جن کے جمہوری ڈھانچے آئینی تحفظات اور سول آزادیوں کی روشنی میں انہیں بہترین جمہوری ممالک کے طور پر اکثر سراہا جاتا ہے۔ ناروے، سویڈن، ڈنمارک، یورپی ممالک سمیت امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، فرانس، سوئٹزرلینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے 1947 کے بعد انڈیا ایکٹ 1935 عارضی آئین کے طور پر اپنایا۔ 1956 میں پہلا تحریری آئین آیا لیکن 1958 میں مارشل لگا اور آئین منسوخ کر دیا گیا۔ 1962 میں جنرل ایوب خان نے نیا آئین دیا جو صدارتی نظام پر مبنی تھا۔ پھر ممتاز عوامی لیڈر مسٹر بھٹو نے پارلیمانی جمہوری آئین بنایا جس کو 73 کا آئین کہا جاتا ہے۔ یہ آئین ایک پارٹی کا نہیں بلکہ تمام جماعتوں کا مشترکہ معاہدہ تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان، جے یو پی، ان سب نے مل کر 1973 کے آئین پر دستخط کیے۔ پھر 1977 اور 1988 ضیاء الحق مرحوم کے دور میں 1985 کو آٹھویں ترمیم کی گئی صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا آرٹیکل 58 ٹو بی پھر آئین کا توازن بگڑ گیا۔ پھر محترمہ بینطیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ادوار 1988 ،تا 1999 میں سیاسی کشمکش کے باعث پارلیمانی نظام کمزور رہا صدر کا استعمال بار بار ہوا۔ پھر جنرل مشرف مرحوم کے دور 1999 میں 2008 ، 17ویں ترمیم 2003 صدارتی اختیارات بحال کیے گئے۔ پھر جمہوریت کی بحالی کے بعد اٹھارویں ترمیم 2010 صوبائی خود مختاری بحال کی گئی۔ صدر کے اختیارات کم اور پارلیمنٹ کے زیادہ، جنرل ضیاء الحق مرحوم اور مشرف مرحوم کے ادوار میں کی گئی تبدیلیوں کا توازن درست کیا گیا۔

    1973 کا عظیم آئین درجنوں ترامیم کی وجہ سے اس کا اصل ڈھانچہ پیچیدہ ہو گیا۔ تاہم اس آئین کے بنیادی اصول اسلام، وفاق، جمہوریت، آزادی، مساوات، سماجی انصاف اب بھی وہی ہیں جو 1973 کے آئین میں طے ہوئے تھے۔ 1973 کا آئین دراصل پاکستان کی قوم، سیاست اور مذہب کے درمیان ایک تاریخی مفاہمت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آئیں مگر اس آئین کی روح اب بھی اتحاد اور جمہوریت کی علامت ہے۔ اب ایک بار پھر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر بحث جاری ہے۔ پیپلزپارٹی نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ صوبائی خود مختاری پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔ اس شق کے حق میں ووٹ نہیں دیا جائے گا دوسری کئی شقوں کے علاوہ مجسٹریٹی نظام کو بھی ووٹ نہیں دیا جائے گا۔ مجسٹریٹی نظام دراصل نوآبادیاتی دور کی ایک انتظامی وراثت ہے۔ جب انتظامیہ ہی عدلیہ کا کردار ادا کرے تو انصاف غیر جانبدار نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر ایک ہی انتظامی افسر پولیس کی تفتیش کی نگرانی بھی کرے اور سزا بھی دے تو انصاف کیسے غیر جانبدار ہوگا؟ آئینی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 175 عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرتا ہے۔ مجسٹریٹی نظام میں عوامی نمائندے کمزور اور بیوروکریسی طاقتور ہو جاتی ہے بہتر راستہ یہ ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کی مکمل علیحدگی برقرار رکھی جائے۔ جوڈیشل نظام کو مضبوط کیا جائے نہ کہ انتظامیہ کو عدالتی کردار دیا جائے۔ پیپلز پارٹی آرٹیکل 243 کی حمایت کرے گی۔ پارلیمنٹ میں جو موجود ارکان اسمبلی یاد رکھیں جمہوریت کی بنیاد صرف پارلیمنٹ، قانون یا اقتدار نہیں بلکہ وہ اعتماد اور خدمت ہے جو عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان قائم ہو۔ عوام کے بنیادی مسائل روزگار، تعلیم، صحت، انصاف پر توجہ دے۔ اگر پارلیمنٹ صرف اقتدار کی سیاست میں مصروف رہے اور عوامی مشکلات نظر انداز ہوں تو جمہوریت ایک نظام نہیں بلکہ ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

  • قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران متعدد مواقع پر یہ دعوی کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کروانے یا جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے۔ ایسے بیانات سے وقتی طور پر عالمی توجہ ضرور حاصل ہو جاتی ہے مگر خطے کے دیرینہ اور اصل مسلے یعنی کشمیر پر امریکی پالیسی ہمیشہ خاموش اور مبہم رہی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تر تناؤ، سرحدی جھڑپوں اور بداعتمادی کی جڑ مسلہ کشمیر ہے۔ جب تک اس تنازع کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں واضح طور پر تسلیم شدہ ہے۔ امریکہ اگر واقعی خطے میں امن کا خواہاں ہے تو اسے محض جنگ بندی کروانے یا کشیدگی کم کروانے کے بیانات سے آگے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے عملی اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

    طاقتور ممالک کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ وقتی بحرانوں کو سنبھالیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی پالیسی اختیار کریں تاکہ تنازعات کی جڑیں ختم ہو سکیں۔ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور امن کی بات کرتا رہا ہے مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی برادری کی سرد مہری کے باعث یہ مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ نتیجتا لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے کشیدگی بڑھ جاتی ہے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور خطے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ امن صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ انصاف سے آتا ہے اور انصاف تب ہی ممکن ہے جب کشمیر کے عوام کو وہ حق دیا جائے جس کا وعدہ ان سے برسوں پہلے کیا گیا تھا۔

  • ووٹ وعدے اور فاصلے،تحریر: شاہد یوسف

    ووٹ وعدے اور فاصلے،تحریر: شاہد یوسف

    ہمارے معاشرے میں سیاست کا موسم جب آتا ہے تو منظر ہی بدل جاتا ہے گلیوں میں رونقیں بڑھ جاتی ہیں وعدوں کی بارش ہونے لگتی ہے اور عوام کے دروازے اس طرح بجتے ہیں جیسے برسوں کی رفاقت ہو امیدوار جھک کر سلام کرتے ہیں چائے پیتے ہیں تصویریں بنواتے ہیں اور دلوں میں امیدیں جگاتے ہیں کہ اب شاید تبدیلی آئے گی اب شاید عام آدمی کی عزت بحال ہوگی مگر الیکشن جیتنے کے بعد جیسے منظر پہاڑی راستے کی طرح اچانک موڑ بدل لیتا ہے وہی لوگ جو کل تک عوام کے قدموں میں بیٹھتے تھے آج ہجوم سے دور پروٹوکول کے حصار میں نظر آتے ہیں فون کا جواب تک ملنا مشکل ہو جاتا ہے اور عوام کی آوازیں اقتدار کے بند دروازوں میں گم ہو جاتی ہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ عام آدمی کے دکھ سکھ میں شریک ہونا بھی ان کے لیے غیر ضروری مشقت سمجھا جاتا ہے غریب کے گھر فوتگی ہو جائے تو وہاں ان کے قدم نہیں پہنچتے عام آدمی کا غم شاید ان کے مصروف شیڈول میں جگہ نہیں پاتا خوشیوں میں بھی ان کی آمد صرف ان گھروں تک محدود رہتی ہے جہاں طاقت پیسہ اور اثر و رسوخ ہو جیسے دعوت اور تعزیت بھی اب طبقاتی نظام کے تابع ہو گئی ہو اور یہاں ایک سوال شدت سے جنم لیتا ہے آخر یہ کن کے نمائندے ہیں کیا وہ چند خاندانوں کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے کیا وہ صرف ان ہاتھوں کے مرہون منت ہیں جن کے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر سیاست کی بریفنگ لی جاتی ہے اگر نہیں تو کیا انہیں احساس ہے کہ تخت تک پہنچانے والے ہاتھ ان خاص محفلوں میں نہیں بلکہ عام گھروں چھوٹے ووٹروں کچی گلیوں اور سادہ لوگوں کی انگلیوں میں ہوتے ہیں اقتدار کا راستہ عوام کے دلوں اور ووٹوں سے ہو کر جاتا ہے نہ کہ دوچار خوشامدی مشیروں اور چند بااثر خاندانوں کی چوکھٹوں سے پھر کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل طاقت وہی عام آدمی ہے جسے وہ بعد میں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے فراموش کر دیتے ہیں –

    اصل مسئلہ سیاست دانوں کا نہیں ہماری خاموشی کا ہے ہم ہر بار جذبات میں بہہ جاتے ہیں اور اگلے الیکشن تک اپنی ناراضگی کو سلا دیتے ہیں جب تک عوام سوال نہیں اٹھائیں گے جواب بھی نہیں ملے گا جب تک ہم یاد نہیں دلائیں گے کہ ووٹ عبادت بھی ہے اور ذمہ داری بھی تب تک ہمارے دروازے صرف انتخابی موسم میں ہی بجتے رہیں گے وقت ہے سوچنے کا ووٹ کے روز ہماری دہلیز پر جھکنے والے کل بھی اسی طرح جھکتے رہیں یہی اصل جمہوریت ہے ورنہ پھر یہی ہوگا وعدوں کے موسم اور پھر طویل فاصلوں کی سرد ہوا-

  • آئینی ترمیم ،پارلیمانی اختلافات، پیپلز پارٹی کے مؤقف پر سب کی نظریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترمیم ،پارلیمانی اختلافات، پیپلز پارٹی کے مؤقف پر سب کی نظریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں میں دن بدن دھند میں اضافہ ہو رہا ہے عوام حیران و پریشان ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس اور سینٹ میں بیٹھے اپنے نمائندوں کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں اپنی حکومتوں، اپنے اقتدار کی تو فکر ہے ملک اور عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کو فکر نظر نہیں آرہی۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں بیٹھے ارکان اسمبلی ملک اور قوم کے دعویداروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام ان سے مایوس ہو رہی ہے۔ آئین بنانے والوں نے تو بڑا خوبصورت آئین بنا کر دیا تھا آئین کی کتاب میں سب کچھ درج ہے مگر ہمارے ارکان پارلیمنٹ کا حساب کتاب آئین کو دیکھ کر کمزور نظر آتا ہے۔ آئینی سوال دو اور دو چار کی طرح بالکل آسان ہے مگر پھر بھی ان سے حل نہیں ہو رہا اگر یہ حل نہیں ہو رہا تو عوام سمجھنے پر مجبور ہے کہ ہم انہیں کیوں ووٹ دیتے رہے۔ آج کل نئی آئینی ترمیم کا بڑا شور ہے کہ نئی آئینی ترمیم کی جا رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے نواسے بلاول بھٹو نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے نئی آئینی ترمیم میں شامل شقوں کے حوالے سے قوم کو بتا دیا ہے۔ اب پیپلز پارٹی اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے گی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اس موجودہ آئینی ترمیم میں جو کی جا رہی ہے اس میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن کے کچھ مرکزی لیڈروں کو خبروں کے مطابق اعتراض بھی ہے۔ اس نئی آئینی ترمیم میں مجسٹریٹی نظام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    پاکستان میں 2001 تک مجسٹریٹی نظام ایک ضلع انتظامیہ پر مبنی عدالتی و انتظامی ڈھانچہ تھا۔ ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ایگزیکٹو مجسٹریٹ، جوڈیشل مجسٹریٹ ہوا کرتے تھے۔ ایگزیکٹو مجسٹریٹ امن و امان، عوامی شکایات، جرائم کی ابتدائی سماعت اور چھوٹے تنازعات حل کرتے تھے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ فوجداری مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ 2001 میں پرویز مشرف مرحوم کے دور میں لوکل گورنمنٹ آرڈر کے ذریعے ایگزیکٹو اور جوڈیشل اختیارات الگ کر دیے گئے یعنی انتظامیہ اور عدلیہ تقسیم کر دی گئی۔ ایگزیکٹو اور عدلیہ کے اختیارات ایک ہی ہاتھ میں ہونے سے قانونی ماہرین کے مطابق درست نہیں ڈپٹی کمشنر یا مجسٹریٹ اکثر حکومتِ وقت کے دباؤ میں فیصلے کرتے تھے ماضی میں بہت سے کیسز میں مجسٹریٹ نظام عوامی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بنے۔ آج بھی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کے مترادف ہے۔ آزاد کشمیر میں مجسٹریٹی نظام جزوی طور پر اب بھی موجود ہے جبکہ اسلام اباد میں بھی مجسٹریٹی نظام موجود ہے۔

    آزاد کشمیر میں پچھلے دنوں امن و امان کے مسائل اور احتجاجی واقعات دیکھے گئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مجسٹریٹی نظام ہونا کافی نہیں۔ یہ نظام عمل درامد، شفافیت اور قانون کی غیر جانبداری کے بغیر موثر نہیں ہو سکتا۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے وطن عزیز میں جہاں پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی کمزور ہے ایک متوازن ہائبرڈ ماڈل زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ مثلا چھوٹے جرائم یا امن و امان کے معاملات میں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے محدود اختیارات جبکہ عدالتی فیصلے مکمل طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس ہوں۔ اصل مسئلہ نظام کی بحالی نہیں بلکہ اس کی دیانت دارانہ عملداری ہے۔

  • چار سال میں چوتھا وزیراعظم ،تحریر: علی ابن ِسلامت

    چار سال میں چوتھا وزیراعظم ،تحریر: علی ابن ِسلامت

    پاکستان کی تاریخ میں دو بار تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانےکی کوشش کی گئی ، یکم نومبر 1989 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد 12 ووٹوں سے ناکام ہوئی، اگست 2006 میں شوکت عزیز کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام رہی، نواز شریف کے بعد عمران خان دوسرے وزیر اعظم تھے جنہوں نے رضا کارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لیا تھا،تیسری بار آخر کار عمران خان کے خلاف 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرار داد میں ووٹ دے کر 9 اپریل 2022 کی رات فارغ کر دیا، یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانےوالے پہلے وزیر اعظم بن گئے

    تحریک عدم اعتماد کا اصول یہ ہوتا ہے کہ آئین کے مطابق اگر صدر مملکت کو لگے کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھو چکا ہے تو وہ اجلاس طلب کر کے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہتا ہے، ہم اس بات یہ ناواقف ہوتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد سے جمہوریت کو سیاسی عدم استحکام ، حکومتی کاموں میں رکاوٹ اور آئینی بحران جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس بات سے آج پاکستانی قوم خوب واقف ہو چکی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد ایک ایسا آئینی بحران پیدا ہوا جس سے نکلنے کیلئے آج کی مقتدرہ اور سیاسی مشینری کو امریکہ اور دوسرے ممالک جیسی طاقتوں کی ضرورت پڑ رہی ہے ، اب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کیلئے متحرک ایک نئے تجربے کی اُڑان میں مصروف ہے، یعنی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں سیاسی انتشار جاری ہے، پاکستان مسلم لیگ نواز کے مقرر کردہ وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد پیش کی جائے گی، جس پر وفاق میں اتحادی حکومت ن لیگ کو ئی اعتراض نہیں، یہاں سوال یہ ہے کہ تجربہ کار نواز لیگ کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ کشمیر میں جمہوریت کا نعرہ ذاتی مفادات تک محدود ہو چکا ہے،سال 2021 میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی ،اس کے بعد آج 2 نومبر 2025 تک تین وزیر اعظم آ چکے ہیں جبکہ چوتھے وزیر اعظم کو لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں،پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور کشمیر کی ذاتی جماعت کشمیر کی تباہی کی ذمہ دار ہیں لیکن کوئی بھی یہ بات ماننے سے انکاری ہے، 1975 سے لیکر اب تک تمام سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت کر چکی ہیں

    آج صدر زرداری صاحب نے گلگت بلتستان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے، پہلے پیپلز پارٹی چار بار آزاد کشمیر میں حکومت کر چکی،وزیراعظم راجہ ممتاز حسین راؤ 1990، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 1996، سردار محمد یعقوب خان2009، چوہدری عبدالمجید 2011 سے 2016 تک اقتدار میں رہے، یہ سب پیپلز پارٹی کے تھے، آج کشمیر میں الیکشن میں صرف 8 ماہ ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ اگر چار بار اقتدار میں رِہ کر پیپلز پارٹی کشمیر کی آزادی میں ناکام رہی تو ان 8 ماہ میں تحریک عدم اعتماد سے کشمیر کو آزادی دلا سکتے ہیں؟ سب کا جواب ہو گا نہیں، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آٹھ ماہ کا اقتدار میں بھی ہماری سیاسی جماعتیں چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں ، در اصل ہماری جماعتیں جمہوریت، عوام اور آئین کیلئے نہیں بلکہ اقتدار، وسائل اور مفاد کیلئے ذاتی سودے کرتی ہیں جس کا عوام چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ڈائرکٹلی اور اِن ڈائریکٹلی عوام اداروں اور جمہوریت کو ہوتا ہے
    قطع تعلق اس کہ کشمیری عوام ہی ان کے خاتمے کیلئے کچھ کرے مگر نہیں ، جب کسی غیر سیاسی طاقت کی سپورٹ حاصل ہو کشمیر میں تاریخی احتجاج ضرور ہوتے ہیں ، اور پھر جب سیاسی طاقتیں آئین کی بالا دستی کیلئے قانون نافذ کرتی ہیں تو ان کو نان سٹیٹ ایکٹرز کا نام دے کر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، 2006 کے بعد بننے والی اسمبلی میں بھی 5 سال کے دوران 4 وزیراعظم آئے تھے اس لیے میں کہتا ہوں کہ سازشوں کے الزام لگانے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ محلاتی سازشوں میں آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا کوئی ثانی نہیں ، یہ ایسی سر زمین ہے جہاں 1975 سے لیکر آج تک ہر وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے خفیہ میٹنگز ہمیشہ جاری رہتی ہیں ، لہذا آج بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے

    آزاد کشمیر میں چار سال کے دوران چوتھا وزیراعظم ، سوال پھر وہی کہ ضرورت کیا ہے، اگر یہ دلیل ہے کہ اگلا وزیر اعظم سب بدل دے گا تو یہ سب پہلے کیوں نہیں ہوا؟ یہ عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے، 2021 میں مینڈیٹ تو تحریک انصاف کو ملا تھا لیکن 11 اپریل 2023 کو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے نااہل کردیا تھا، جبکہ اس سے پہلے 4 اپریل 2022 کو سردار قیوم نیازی کو اپنی پارٹی پی ٹی آئی ہی نے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا تھا، چوہدری انورالحق نے 21 اپریل 2023 کو آزاد جموں اور کشمیر کے پندرھویں وزیراعظم کا حلف اٹھا یا تھا، اب اگر پیپلز پارٹی ضمیر کے سودے کرنے میں کامیاب ہو گئی اور کشمیریوں نے اس کام کیلئے خوش آمدید کہا تو چار سال میں چوتھا وزیر اعظم آئے گا، آخر کار آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو قُل کائنات کا مالک حشر میں ضرور پوچھے گا کہ ضمیروں کے سودے کر کے انسانی حقوق کے دعوؤں کے باوجود حلف کی خلاف ورزی کیوں کی؟

    رہنما صدر پیپلز پارٹی آزادکشمیر آج کے دن تک چوہدری یاسین ہیں،موصوف کا حلقہ آزاد کشمیر کا سب سے پسماندہ حلقہ ہے ایک بھی سڑک درست حالت میں نہیں جنگلات پر قبضے اور خود مافیا کا سرغنہ ہے، پیپلز پارٹی آزا د کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کا حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 تھا،الیکشن 2021 میں ایل اے 10 کوٹلی 3 میں دو بڑی سیاسی شخصیات سابق وزیر سردارفاروق سکندر خان مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر اور پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر چودھری محمد یاسین ایک دوسرے کے مد مقابل تھے ۔ یاد رہے سردار فاروق سکندر الیکشن 2016 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر 26 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور وزیر بنے تھے، کوٹلی ضلع کشمیر کا ایک اہم ضلع ہے لیکن یہاں سہولیات عوام کو نہیں دی جاتی ہیں اور سیاحت کو بھی محدود کر دیا گیا ہے، سردار فاروق سکندر سابق وزیر اعظم اور سابق صدر سردار سکندر حیات کے بیٹے ہیں

    آزاد کشمیر میں 23 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور مسلم کانفرنس میں جھگڑے کے بعد احتجاج ہوا تھا جس میں فورسز کا نقصان بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ جس کا ایک نقطہ یہ تھا کہ کابینہ کا حجم 20 وزراء اور مشیران تک محدود ہو گا جبکہ سیکرٹریز کی تعداد بھی بیس سے زائد نہیں ہو گی مگر آج طاقتوروں نے سوچ لیا ہے کہ بیس وزراء اور مشیر تو کیا ہم تختہ ہی الٹ دیتے ہیں لہذا وہ سب کچھ انہوں نے کر دکھایا، اب سوال یہ کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ وہی ہو گا جو آج وفاق اور صوبوں میں ہو رہا ہے، یعنی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، آئین کی خلاف ورزی اور طاقت کا زور۔افتخار نسیم کی ایک غزل کا شعر ہے کہ۔۔
    ہر طرف عام ہے بدنام سیاست کا چلن
    صبر سے کام لو جذبات پہ قابو رکھو
    اور میں کشمیری قوم سے کہوں گا کہ ۔۔
    زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے
    آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ،ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی بساط،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ،ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی بساط،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ اور بھارت کا دفاعی معاہدہ اس معاہدے کا مقصد بھارت کو چین کے خلاف ایک علاقائی توازن قوت کے طو رپر مستحکم کرنا ہے۔ واشنگٹن کے لئے بھارت ایک ڈیمو کریٹک پارٹنر اور ایشیا میں ایک انسدار چین محور کا حصہ ہے ۔ چونکہ پاکستان چین اسٹریٹیجک اتحادی ہے(سی پی ای سی ) اور دفاعی تعاون کی بنیاد پر لہذا پر لہذا یہ معاہدہ پاکستان کو بالواسطہ طور پر ہدف بناتا ہے۔ پاکستان کو چین کے ساتھ دفاعی اور تیکنیکی شراکت کو تیز کرنا ہوگا پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانا مشکل ہوگا امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے اور چین سے قربت برقرار رکھنا ایک نازک توازن بن جائے گا ۔ ایسے دفاعی معاہدے اکثر اندرونی سیاست میں ایک جذباتی قوم پرستانہ ردعمل پیدا کرتے ہیں اپوزیشن اور میڈیا اسے خطرے کی گھنٹی کے طور پر پیش کریں گے کہ بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی حکومت کو تازہ ترین حالات کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں اور مذہبی جماعتیں امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کو لے کر ناکام خارجہ پالیسی کے طور پر استعمال کریں گی ۔ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کرنے کے لئے سفارتی مہم شروع کرنی پڑ سکتی ہے ۔ پاکستان کو اب احساس خطرہ کی بجائے احساس توازن سے کام لینا ہوگا۔ یہ وقت ردعمل دینے کا نہیں بلکہ ایک واضح دیر پا دفاعی اور سفارتی پالیسی اپنانے کا ہے ۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور پاکستان کو اپنے فیصلے جذبات سے نہیں حکمت اور حقیقت کی بنیاد پر کرنے ہوں گے ۔ یہ معاہدہ صرف اس لئے نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کا ہے ۔ سی پیک اور امریکی تعلقات کا توازن یہی پاکستان کا اصل امتحان ہے ۔ بین الاقوامی اتحاد نئی شکلیں لے رہے ہیں یہ معاہدہ ہمارے لئے خطرہ نہیں دانشمندی سے سفارتی راستہ اپنانا ہوگا۔ سوال یہ نہیں امریکہ بھارت کا معاہدہ کیا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ پاکستان اب اس نئے عالمی منظرنامے میں اپنا مقام کہاں بناتا ہے ؟ ملکی سیاسی و مذہبی جماعتیں اقتدار کی جنگ سے باہرنکل کر وطن عزیز کے مسائل پر توجہ دیں ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔

  • پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان اس وقت نہایت نازک جغرافیائی اور سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔ کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی اور سرحدی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مجروح کیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے اندرونی سیاسی منظر نامہ کسی اور سمت میں جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر جب قومی سلامتی اور خطے کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے ملکی سیاسی جماعتوں کی تمام توجہ کشمیر میں حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کے کھیل پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پارلیمانی چالوں اور سیاسی جوڑ توڑ کے اس دور میں یہ احساس کم ہی نظر آتا ہے کہ ملک بیرونی دباؤ اور اندرونی کمزوریوں کے درمیان پھنس چکا ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں معمولی سیاسی غلطی بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ سیاسی قیادتوں کو اس موقع پر صبر و تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دینا ہی اصل قیادت کی پہچان ہوتی ہے۔

    اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں باہمی اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر ملک کی مجموعی سلامتی، معیشت اور سفارتی محاذ پر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ دنیا بھر میں جب بھی ریاستیں داخلی خلفشار میں الجھتی ہیں تو بیرونی قوتیں اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادتیں قومی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں سفارتی سطح پر مضبوط موقف اختیار کریں اور عوام کو یہ اعتماد دلائیں کہ ملک کی بقاء اور استحکام سب سے مقدم ہے۔ اقتدار کی سیاست ہمیشہ کے لیے نہیں مگر قومی مفاد ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اگر سیاسی قوتوں نے حالات کی سنگینی کو نہ سمجھا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیے تقسیم اندرونی ہو تو دشمن کو کسی بڑی محنت کی ضرورت نہیں رہتی اس وقت پاکستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر ملک کے اندرونی سیاسی ماحول کا عدم استحکام نہ صرف قومی یکجہتی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ دشمن قوتوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔ سیاسی چال بازیوں اور اقتدار کی جنگ کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرکے قومی سلامتی اور استحکام پر توجہ دی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں بحران کے وقت متحد رہتی ہیں تو ہر مشکل پر قابو پا لیتی ہیں۔

  • کشمیر کی وزارت عظمیٰ،عہدہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کشمیر کی وزارت عظمیٰ،عہدہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر اس وقت سیاسی بے یقینی اور عوامی اضطراب کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وہاں بدامنی، احتجاج اور عوامی بے چینی میں اضافہ اس امر کا تقاضا کر رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ سیاسی جماعتیں ہوش مندی کا مظاہرہ کریں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفاد اور سفارتی وقار سے جڑا ہوا ایک حساس مسئلہ ہے۔ ایسے میں وہاں کی قیادت کا انتخاب کسی سیاسی مصلحت یا ذاتی وفاداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، اہلیت اور عوامی اعتماد کے معیار پر ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عہدوں کی تقسیم میرٹ کی بجائے سیاسی قربت اور مفاد پرستی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر یہی رویہ آزاد کشمیر میں بھی دہرایا گیا اور کسی بد کردار یا کرپٹ فرد کو وزیراعظم کے عہدے پر بٹھایا گیا تو اس کے نتائج خطرے ناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ عوامی اعتماد مزید مجروح ہوگا انتظامی نظام کمزور پڑے گا۔ آزاد کشمیر کو اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو دیانت دار، بصیرت اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہو جو محض اقتدار کی کرسی کی خواہش نہ رکھتا ہو بلکہ عوامی نمائندگی کے اصل جذبے کے تحت اپنی ذمہ داری نبھائے۔

    کشمیر کے عوام باشعور ہیں وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شفافیت اور انصاف چاہتے ہیں پاکستان کی سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال محض ایک صوبائی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی اور بین الاقوامی وقار سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وہاں ایک باکردار، قابل اعتماد اور دیانت دار قیادت سامنے لائی جائے ورنہ بداعتمادی اور انتشار کی لہر ایک بڑے سیاسی بحران میں بدل سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کا عہدہ کوئی عام سیاسی کرسی نہیں بلکہ یہ قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار سوچیں کشمیر کے عوام کسی سیاسی جماعت کے سیاسی تجربات کے میدان نہیں وہ ایک باوقار قوم ہے جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے پرچم کے سائے میں اپنی وفاداری نبھائی۔ اگر کسی کرپٹ، بدکردار یا نااہل شخص کو وزیراعظم بنا دیا گیا تو یہ محض ایک تقرری نہیں ہوگی بلکہ کشمیر کے عوام پر قاری ضرب ہوگی۔

  • اسرائیل امریکہ کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسرائیل امریکہ کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    کہا جاتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی ہر بات ماننے کیلئےمجبور ہے ، کیوں اور کیسے امریکہ اسرائیل کی یرغمالی میں آجاتا ہے؟آئیے جانتے ہیں آج یو ایس کا پارلیمنٹ، کارٹونز، فلمیں ، تعلیمی ادارے آج سب جیوش اور اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں ،یو ایس کی ٹاپ یونیورسٹیز کے بیس فیصد پروفیسرز، ٹاپ کی چالیس فیصد فرم اور انڈسٹری کے ملازمین، انسٹھ فیصد مصنف اور ڈائریکٹر، پچاس فیصد دانشور جیوش ہیں۔

    آپ نے کبھی محسوس کیا کہ جن چیزوں کیلئے امریکہ دوسرے ملکوں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے،انہی چیزوں کیلئے اسرائیل امریکہ کو مذاکرات کے ذریعے مجبور کر کے اپنا کام کروا لیتا ہے، بیشک موجودہ ایران اسرائیل جنگ ہو یا یمن سعود ی جنگ میں امریکہ کے ذریعے اسرائیل کا تسلط، شام ہو یا عراق، مصر ہو یا یمن، لبنان ہو یا فلسطین ۔۔۔ کسی بھی جگہ اسرائیل امریکہ کی پناہ میں نہیں آیا ، بلکہ امریکہ کو ہر جنگ شروع کروانے کیلئے اسرائیل کی ضرورت پیش آتی رہی، آج جب ٹرمپ آیا تو جنگیں بند کروانے کا سہرا اپنے نام کر رہا ہے۔

    یو ایس نے سعودی عرب سے یمن وار میں یہ کہہ کر سپورٹ واپس لے لی تھی کہ اس وار میں لاکھوں لوگ مارے جا رہے رہیں،لیکن یہاں پر اگر نقطہ دیکھا جائے تو پوری دنیا کے پریشر کے باوجود امریکہ جنگ بندی معاہدے پر ابھی تک عمل نہیں کروا سکا۔ جبکہ ٹرمپ کو ایک روز خود اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہو کر کہنا پڑا تھا کہ امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا، اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ امریکہ اسرائیل کو استعمال کر رہا تھا بلکہ یہاں واضح نظر آیا کہ اسرائیل امریکہ کو استعمال کر چکا تھا ۔صدر ٹرمپ آج کہہ رہے ہیں کہ میں جنگیں بند کروا چکا ہوں اور دنیا میں امن میرے دور میں آئے گا، جبکہ جوبائیڈن نے کہا تھا کہ غزہ فلسطین کا واقعہ کوئی جینو سائیڈ (نسل کشی ) نہیں ہے۔

    اسرائیل کیسے امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے یہ چیز قابل توجہ اور سمجھنے والی ہے، ایک اسرائیلی این جی او ہے جس کا مالک (STEVE J. ROSEN سٹیو ۔ جے ۔ روزن ہے) سٹیو ۔ جے۔ روزن نے کہا تھا کہ میں اگر خالی رومال بھی دوں تو امریکی ستر ایم پی ایز چوبیس گھنٹے سے پہلے مجھے دستخط کر کے دے دیں گے ، یہ بات ایک اسرائیلی این جی او کا چیف کہہ رہا تھا ۔

    اسرائیل کا امریکہ میں اس قدر ہولڈ ہے کہ اسرائیل این جی او ز امریکہ میں اسرائیل مخالف رکن ہو امریکہ میں ہی الیکشن ہروا دیتے ہیں اور سب سے اہم بات کہ اس بات کو وہ ٹویٹر جیسے پلیٹ فارم پر بتا بھی دیتے ہیں اور امریکہ نیتن یاہو کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے بڑی اچھی حکتِ عملی کے ساتھ اپنی لابی ڈپلو میسی بنا کر رکھی ہوئی ہے،اسرائیل نے امریکہ کی یونیورسٹی سے لیکر میڈیا تک اور انڈسٹری سے لیکر یوایس گورنمنٹ تک اپنا ایسا پروپیگنڈا کرنے والا دماغ بٹھا کر رکھا ہوا ہے۔ مشہور کارٹون سپر بُک دیکھیں تو اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور یہودی تاریخ بہت اعلیٰ ہے، سپر بک کارٹون سیریز کا ایپی سوڈ چوبیس دیکھیں تو اس میں بتایا گیا ہے کہ یروشلم میں آغاز سے ہی جیوش رہا کرتے تھے جن پر بہت زیادہ ظلم ہوا ، تو اس لیے اس سیریز کا مین کیرکٹر گریٹ وال آف چائنا جیسی دیوار بنانے کا آغاز کرتا ہے جو دیوار یہودویوں کی حفاظت کرے گی۔دوسری ایک مشہور سیریز (The prince of egypt)ہے۔ دی پرنس آف اجپت سیریز میں بتایا گیا ہے کہ مصر کا راجا جیوش کو بچاتا ہے، اور پھر اس سیریز میں مین کردار آ کر مصر میں یہودیوں کو دوبارہ رہنے کی اجازت دلواتا ہے، یہ سب کارٹونز میں امریکہ میں دکھایا جا ہے ، یعنی اسرائیل اور یہودیوں نے شروع سے ہی امریکن کے دماغوں میں نرم رویہ اسرائیل کو لیکر دکھایا تاکہ کل کو کوئی مسئلہ بھی در پیش آجائے تو امریکن کو یہی لگے کہ اسرائیل اور یہودی بہت اچھے ہیں اور امریکنز کی ہمدردی ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ ہو گی۔

    امریکہ کی یونیورسٹیوں کے سلیبس میں اسرائیل کا بیانیہ اور اینگل دکھایا جاتا ہے، ہر کوئی امریکن یا امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والا ہے وہ اسرائیل یا یہودیوں کو ہر معاملے میں ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پبلیکشن ہاؤسز جیوش کی ہسٹری، یروشل کی ہسٹری، جیوش کے پراسیکیوشن کی کہانیاں ریگولرلی پبلش کرتے رہتے ہیں، اور رپورٹ کیمطابق اس سب پروپیگنڈا کے پیچھے جو آرگنائزیشن ملوث ہے اس کا نام (institute of curriculm services) ہے۔

    اسی طرح فلم انڈسٹری پر، ہالی ووڈ اس وقت اربوں بلین ڈالرز کی انڈسٹری ہے جہاں فنڈنگ کا اہم کردار ہوتا ہے، ہالی ووڈ فلمیں تو پوری دنیا میں دیکھی جاتی ہیں اگر اس میں فنڈنگ کے ذریعے پروپیگنڈا کر لیا تو ایک سوپچانوے مما لک میں آپ کا بیانیہ پہنچ جائے گا، انیس سو ساٹھ میں ایک فلم آئی جس کا نام تھا ایکسوڈس(۔Exodus)تھا ۔ اس فلم میں ورلڈ وار ٹو کے بعد جیوش مہاجرین کی فلسطین پہنچنے کی کوشش کو دکھایا گیا ہے، یہ فلم اسرائیل کے جنم کی کہانی کو بھی بیان کرتی ہے، پھر دو ہزار پانچ میں ایک فلم آئی جس کا نام Munichتھا۔۔ اس فلم میں ایک کہانی بتائی گئی جب انیس سو بہتر میں میونک اولمپکس کیلئے اسرائیل کے آٹھ کھلاڑی گئے تھے جن کو ایک فسطین کے جہادی گروپ نے مار دیا تھا ، اس فلم میں بتایا گیا کہ کیسے اسرائیل پھر اس دہشت گرد گروپ سے اپنا بدلہ لیتا ہے، کیونکہ اس فلم میں اسرائیل فلسطین اور جیوش مخالف ہر شخص کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔میڈیا میں بھی اسرائیل کا اچھا خاصا کنٹرول ہے، غزہ اسرائیل وار میں بھی اموات کی تعداد کم بتائی جاتی رہی، ا مریکہ کے بڑے سے بڑے نیوز اخبارات کے جو ٹاپ لکھاڑی ہیں ان میں اکسٹھ پرو اسرائیلی ہیں،ٹاپ تھری نیوز کمپنیز کے مالک جیوش ہیں، یہ تاریخی حوالوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا جس سے امریکہ اور اسرائیل دہائیوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • دو نومبر :مینار پاکستان کی  طرف سے دعوت نامہ،تحریر:ریاض احمد احسان

    دو نومبر :مینار پاکستان کی طرف سے دعوت نامہ،تحریر:ریاض احمد احسان

    دو نومبر وہ دن جب مینارِ پاکستان پھر سے اپنی تاریخ کی روح سے ہمکلام ہونے والا ہے
    یہ وہ مینار ہے جو فقط پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ قوم کے عزم، ایمان اور نظریے کا مجسم اظہار ہے اس کے سائے میں وہ تعبیریں سانس لیتی ہیں جو اقبالؒ اور قائداعظمؒ نے دیکھیں مینارِ پاکستان آج پھر اپنی فصیلوں سے ایک صدا بلند کر رہا ہےکہ اے اہلِ وطن! میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں اپنے عہد کی تجدید کے لیے، اپنے نظریے کی حفاظت کے لیے، اپنی وحدت کے استحکام کے لیے،اپنی ریاست کی تعمیر کے لیے،اپنی معیشت کی مضبوطی کے لیےدو نومبر کو مینارِ پاکستان کی فضائیں پھر سے زندہ ہوں گی یہاں ایک قوم اپنے شعور کے ساتھ جمع ہوگی،ایک نظریہ اپنے اظہار کے ساتھ نمایاں ہوگا اور ایک ملت اپنی نئی سمت کے تعین کے لیے صف بستہ ہوگی۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ہونے والا یہ تاریخی ورکرز کنونشن فقط ایک سیاسی اجتماع نہیں یہ دلوں کی بیداری، جذبوں کی تجدید،عزمِ تازہ سے جسم باندھ لینے کا اعلان اور روحِ پاکستان کے احیاء کا لمحہ ہے۔یہ وہ وقت ہے جب اہلِ سیاست و ریاست، علماء و مشائخ، اہلِ قلم و دانش، تاجر و صنعتکار، قانون دان و صحافی سب ایک عزم کے ساتھ مینارِ پاکستان کے دامن میں جمع ہوں گے تاکہ وطن کی تقدیر کے نئے باب کو رقم کیا جا سکے-مینارِپاکستانآج در در محبت و خلوص بھری دعوت لے کر دستک دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں وہ مینار ہوں جس کے سائے تلے تمہارے بزرگوں نے ایک نقشہ کھینچا تھا ایسا نقشہ جس کے رنگ نظریے،سوچ،ایمان، قربانی اور استقلال سے بھرے ہوئے تھے انہی فصیلوں کے نیچے وہ قرارداد پڑھی گئی تھی جو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا اعلان بن گئی۔ آج وقت ہے کہ ہم اس عہد کو پھر سے زندہ کریں، اس مینار کو پھر سے آباد کریں اس قرارداد کو اپنی رگوں میں دوڑتا ہوا محسوس کریں .

    آج مشرقی و مغربی سرحدوں پر تنی ہوئی بندوقیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وطن کی آزادی صرف ایک نعمت نہیں ایک ذمہ داری بھی ہے۔دشمن ہماری وحدت کے در و دیوار پر وار کرتا ہے تو ہمیں اپنی صفوں کو اتنا مضبوط کر دینا ہے کہ کوئی بھی دراڑ نہ ڈال سکے یہ کنونشن ان غازیوں اور شہداء کے نام ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں جن کے خون سے یہ سبزہلالی پرچم باوقار ہے جن کے لہو نے زمینِ وطن کو مقدس بنایا۔ہم ان کے وارث ہیں اور یہ وراثت ہمارے ایمان، ہماری سیاست، اور ہماری قومیت کی اساس ہے۔

    آج وطن کے اندرونی حالات بھی ہمیں پکار رہے ہیں۔ سیاسی انتشار نے سوچ کو منتشر کر دیا ہے، فرقہ واریت نے دلوں میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں اور ذاتی مفادات نے قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے لیکن مینارِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں فرقوں سے نہیں، نظریے سے بنتی ہیں۔ وہ نظریہ جس نے ہمیں ایک ملت بنایا تھا آج پھر ہماری رہنمائی کا طلبگار ہے۔ آئیں،اس نظریے کو زندہ کریں۔ اپنے اندر سے تعصب کے بت پاش پاش کریں،بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ختم کریں اور پاکستان کو اس کے اصل مقصد سے ہم آہنگ کریں-اسلامیت، انسانیت اور پاکستانیت کے ملاپ سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو امن، عدل اور محبت کی خوشبو سے خود بھی مہکے اور اسی مہک کا پرچار بھی کرے

    یہ اجتماع اُن کارکنوں کے نام بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں قوم و ملت کے لیے وقف کر دیں جو گلی گلی، بستی بستی پاکستان کے نام پر روشنی پھیلاتے رہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ان محنت کشوں، غازیوں، اور نظریاتی سپاہیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے خدمت کو شعار بنایا۔ دو نومبر ان سب کے عزم و ایثار کا دن ہے، ان کی قربانیوں کے اعتراف کا دن ہے، ان کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔

    آئیں، ہم سب مینارِ پاکستان کی سمت چلیں کہ یہ عزت و عظمت والا مینار ہمیں بلا رہا ہے
    اور یہ کہہ رہا ہے کہ اپنے دلوں کو نظریے کی روشنی سے منور کرو، اپنی صفوں کو وحدت کے رشتے سے جوڑو، اپنی زبانوں کو نفرت کے نہیں محبت کے کلمات سے آراستہ کرو۔ یہ ملک تمہاری امانت ہے، اسے وفا سے سنبھالو
    دو نومبر کو مینارِ پاکستان اپنے بازو پھیلائے اعلان کر رہا ہوگا
    یہ وہ دن ہوگا جب پاکستان اپنی تاریخ کے اوراق سے مدد لیتے ہوئے نیا عہد لکھے گا۔
    یہ وہ لمحہ ہوگا جب ہم اپنے شہداء کے خون سے وفا کا عہد نبھائیں گے
    اور جب ساری قوم ایک آواز میں کہے گی
    ہم پاکستان کے ہیں، پاکستان ہمارا ہے
    ہم اس کے دفاع، وحدت اور وقار کے محافظ ہیں۔
    اے اہلِ پاکستان
    دو نومبر کو مینارِ پاکستان آپ کو بُلا رہا ہے
    کیا تم اس پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہو؟
    اے اوورسیز پاکستانیو! تم جو دیارِ غیر میں بھی وطن کی مٹی کی خوشبو میں سانس لیتے ہو کیا تم اس صدا پر لبیک کہو گے؟
    اے اہلِ صحافت! تم جو قلم کو امانت اور سچائی کو عبادت سمجھتے ہو کیا تم اس آواز میں اپنی آواز ملاؤ گے؟
    اے صنعت و تجارت کے امین لوگو! تم وہ ہو جن کے کارخانے اور دکانیں وطن کی معیشت کی دھڑکن ہیں کیا تم مینارِ پاکستان کی اس پکار پر سینہ تان کر کہو گے
    لبیک، ہم حاضر ہیں
    کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء
    یہ وقت کتابوں کے حرفوں سے نکل کر تاریخ کے صفحوں پر عمل لکھنے کا ہے
    اٹھو کہ مینارِ پاکستان تمہیں اپنے پرچم اور اپنے نظریے کی گواہی دینے کے لیے بلا رہا ہے
    اے علماء و مشائخ! تم جو منبر و محراب کے وارث ہو تمہاری زبانوں سے نکلنے والا ایک ایک لفظ قوم کی سمت بدل سکتا ہے کیا تم بھی مینارِ پاکستان کے سائے میں امت کی وحدت کا علم بلند کرو گے؟
    اے بار و بینچ کے نگہبانو تم تو وہ ہو
    جن کے فیصلے تاریخ کے دھارے موڑ سکتے ہیں کیا تم اس وطن کے دستور اس کے وقار اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ بن کر مینارِ پاکستان کی پکار کا جواب دو گے؟
    اے سُرخ سیبوں کی سرزمین یعنی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے والے غیرت مندو کیا تم محسنِ شہ رگِ پاکستان کی ہدایت پر مینارِ پاکستان پہنچو گے؟
    اے اہلِ ایمان! اے اہلِ غیرت
    مینارِ پاکستان تمہیں پکار رہا ہے
    وہ مینار جس کی اینٹ اینٹ میں قومی وحدت کی خوشبو ہے، جس کے سایے تلے قراردادِ آزادی نے انگڑائی لی تھی آج پھر اپنے فرزندوں کو وارم اپ ہونے کی صدا دے رہا ہے
    اے عزت والو!
    اٹھو! کہ یہ مٹی تمہاری غیرت کا قرض مانگتی ہے
    اٹھو! کہ تاریخ پھر تمہارے نقشِ قدم کی گواہ بننا چاہتی ہے
    مینارِ پاکستان کا وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب میدان تمہیں بلا رہا ہے
    کہ آؤ اور اس دھرتی کے نام پر پھر سے نعرۂ تکبیر بلند کرو
    اے وطن کے سپاہیو! اے علم و قلم کے امین لوگو
    یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں یہ وقت للکارنے کا ہے
    یہ وقت ہے کہ تمہارے لبوں سے “اللہ اکبر” کی گونج فضا میں گھل جائے
    اور مینارِ پاکستان کی چوٹی پر وہی روشنی اتر آئے
    جو کبھی 1940 کے دنوں میں دلوں سے اٹھی تھی اور تاریخ بن گئی تھی
    اے غیرت والو
    اب تمہاری باری ہے
    کہ تم بھی اپنی صفوں کو یکجا کرو، اپنے عزم کو پختہ کرو
    اور دنیا کو دکھا دو کہ یہ قوم ابھی زندہ ہے
    یہ قوم ابھی جھکی نہیں، یہ قوم ابھی مٹی نہیں
    اے جوانو
    مینارِ پاکستان تمہیں بلاتا ہے
    کہو لبیک اس پکار پر
    اور تاریخ کے نئے باب میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھ دو
    اٹھو کہ قوم تمہاری راہ تک رہی ہے
    اٹھو کہ وطن تمہارے قدموں کی چاپ سننا چاہتا ہے
    لبیک کہو… کہ یہی لمحہ ہے، یہی عہد ہے، یہی وطن کی پکار ہےیہی مینارِ پاکستان کی پرخلوص دعوت ہے،یاد رہے کہ مینارِ پاکستان میں ہوں،مینارِ پاکستان آپ ہیں اور مینارِ پاکستان
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہے
    کیا تم لبیک کہتے ہو؟
    ریاض احمد احسان