ہم نے قائد اعظم کے دیگر بہت سے اقوال کے ساتھ ساتھ اس قول پر بھی جتنا عمل کیا ہے اس کا جو نتیجہ ہونا چاہیے تھا وہ آج پاکستانی عوام اس کو بھگت رہی ہے ۔اب تک ہمارے رہنماوں (مذہبی ہوں یا سیاسی)کی اکثریت نے نفرت کے بیچ ہی بوئے ہیں جس کی فصل پک کر اب تیار ہو چکی ہے۔ایمان ،اتحاد ،تنظیم کی افادیت کو سوائے چند ایک رہنماوں کے کوئی اس کو اہمیت نہیں دے رہا ایمان امید ہے ،ایمان امنگ ہے ،ایمان یقین محکم ہے ۔دل قوت ایمان سے اگرمعمور ہو تو انسان ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کر سکتا ہے ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے ، اللہ سبحان تعالی کی رحمت کی امید کہ وہ محنت کی جزا دے گا اور اللہ سبحان تعالی کی سزا کا خوف جو بداعمالی ،سستی سے ناکامی کی صورت میں مل سکتی ہے ۔یہاں یہ نکتہ بھی ہے کہ خوف ہو گا تو مزید محنت ہوگی احتیاط ہو گی ۔اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ (مفہوم حدیث ﷺ ) ایمان کے تین درجے ہیں پہلا یہ کہ اگر کوئی شخص کسی برائی کو ہوتا دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے دوسرا یہ کہ اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے روکے تیسرا یہ کہ اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے نچلا درجہ ہے ۔آج پھرپاکستان بھر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں میں قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے ۔ چیونٹی کتنی کمزورہوتی ہے لیکن یہ مل کر اپنے سے کئی گنا بڑے مردہ جھینگر کو آسانی سے گھسیٹ لے جاتی ہیں۔ اس طرح جن لوگوں میں اتحادواتفاق یکسانیت اور یگانگت ہوتی ہے وہ مشکلات کے پتھروں کو اپنی یکجہتی کی ضربوں سے پاش پاش کر دیتے ہیں۔ اتحاد واقعی طاقت ہے۔ اسلام اتحاد کا پیام لایابھائی چارہ کا درس دیا بلکہ اس پر عمل بھی کیا ، اسلام کے ارکان اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔ نماز تمام امتیازات کو مٹا کر اتحاد کا سبق دیتی ہے۔ایک ہی صف میں کھڑے ہو گے محمودو ایاز والا منظر بن جاتا ہے۔حج مسلمانان عالم میں اتحاد عمل کی روح پھونکتا ہے اورتبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے۔ روزہ میں تمام مسلمان ایک وقت سحری و افطاری کرتے ہیں ۔اور نماز تراویح کا ایک ساتھ ادا کرنے سے محلے،گاوں میں اتحاد و تفاق پیدا ہوتا ہے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ ہم میں اتحاد کی کمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ارکان اسلام کو پابندی سے ادا نہیں کرتے ۔ دین اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر اگر دنیا میں دیگر مذاہب اور دیگر تمام مکتب فکر کی بات کریں دیکھیں تو وہاں بھی یہ معلوم ہو گا کہ قومیں اتحاد ہی کی بدولت کامیاب و فتح مند ہوتی ہیں۔ اور دوسری طرف قومی اتحاد کی تباہی میں جو عناصر ہیں ان میں ذاتی فائدہ، مطلب پرستی، اقتدار کی ہوس مال و زر اور قوم پرستی زر پرستی وغیرہ اس فہرست میں شامل ہیں۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی کہلاتے ہیں۔صحابہ نے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کر دیکھایا کہ تم اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک تم دوسرے کے لیے وہی پسند نہ کرو جو اپنے لیے کرتے ہو(مفہوم حدیث) اسلام کی ابتدائی فتوحات میں قومی اتحاد ایک خاص اہمیت کا حامل تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس اتحاد میں کمی واقع ہوتی گئی۔اس کی وجوہات میں دشمنوں کی شازش کے ساتھ ساتھ اپنوں کی مہربانیاں بھی شامل ہیں حتی کہ صورت حال خانہ جنگی تک جا پہنچی ہے۔ خانہ جنگی میں جتنا اپنوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ دشمنوں سے نہیں پہنچتا۔ اگر پاکستانی قوم اپنے قائد کے فرمان اتحاد ،ایمان،تنظیم پر ہی عمل کر لیتی تو موجودہ نااتفاقی کی صورت حال کبھی پیدا نہ ہوتی آج ہماری قوم کا نااتفاقی پر اتفاق ہے اور اتحاد پر اختلاف ہے۔تنظیم ،ڈ سپلن اور نظم و ضبط انسانی کر دار کا سرمایہ ہوتا ہے تنظیم میں برداشت کرنا ،صبر کرنا انتظار کرنا وغیرہ کے عناصر ہوتے ہیں ۔اسلامی احکام و فرائض کو دیکھیں تو نظم و ضبط کا حیرت انگیز منظر نظر آتا ہے ۔ نماز کو ہی لیں ،وقت ،ترتیب ،قطار،ایک ساتھ قیام ،رکوع،سجدہ اور سلام وغیرہ ۔دکھ کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت میں قطار بنانا،صبر کر کے اپنی باری کا انتظار کرنا ،ڈسپلن و ترتیب سے کام کرنا نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کے بر عکس ترقی یافتہ ممالک (جن کی اکثریت کی غیر مسلم ہے)میں دیکھیں تو آپ کو ہر کام ترتیب ،ہر شخص میں نظم و ضبط نظر آتا ہے ۔ان کی ترقی کا یہی راز ہے اور ہم ایک آزاد ملک کے باسی ہیں اس لیے ایسی پابندیوں سے آزاد ہیں پھر اس پر فخر بھی ہے اور بے شرمی کی انتہا ہے کہ اس کا احساس بھی نہیں ہے ۔ آپ پاکستان کے موجودہ حالات دیکھ لیں ہر طرف افراتفری ہے ،نفسانفسی ہے ، سارے غیر مسلموں نے مل کر نیٹو فوج بنائی ، کرنسی ایک کی ،اوراتحاد میں جو فائدے ہیں ان کا ثمر بھی اک عرصے سے ان کو مل رہا ہے دنیا پر ان کی حکمرانی ہے ۔ ایمان ،اتحاد ،اتفاق اور تنظیم وغیرہ کی باتیں اب ہماری نصابی کتب میں ہی رہ گئی ہیں ، جسے پڑھ پڑھ کر ہم بور ہو چکے ہیں اورعوام و خواص کے کن پک گئے ہیں ایمان ،اتحاد تنظیم کی باتیں سن سن کر ۔ اس لیے بھی آپ کو مزید بور نہیں کرتے اور اس دعا کے ساتھ کالم کا اختتام کرتے ہیں کہ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اے خدا اے کار ساز تو ہی ہماری قوم و ملک کو ہدایت دے اور ہمارے ملک کی حفاظت فرما ۔اسے تمام آفات سماوی و اراضی سے محفوظ رکھ۔اے ہمارے اللہ ہمارے حکمرانوں ،اپوزیشن اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی قائد اعظم کے اس قول ایمان ،اتحاد اور تنظیم پر عمل کرنے کی تو فیق دے ۔
Category: سیاست

کمیٹی کمیٹی کا کھیل
کمیٹی کمیٹی کا کھیل
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستان میں آج کل ایک عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ حکومتی اعلانات کی گونج ہوا میں بلند ہوتی ہے، لیکن جب بات عوام تک پہنچتی ہے تو وہ محض ایک سراب بن کر رہ جاتی ہے۔ آج کی ایک بڑی خبر یہ ہے کہ "پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے دائرہ کار میں توسیع پر غور، حد 301 یونٹ رکھنے کی تجویز” زیرِ بحث ہے۔ یہ خبر سن کر ایک لمحے کے لیے دل کو تسلی ہوئی کہ شاید اب غریب اور متوسط طبقے کو کچھ ریلیف ملے گا، لیکن جیسے ہی اس خبر کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا تو یہ محض ایک اور بلند بانگ دعویٰ لگا،جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے گی۔ یہ خوشخبری موبائل فون پر کال ملنے پر ان کی آواز میں سنائی گئی کہ بجلی سستی کر دی گئی ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔ نیا سلیب سسٹم متعارف کر کے بجلی کے بلز میں اضافہ کر دیا گیا، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے خون کے آخری قطرے کو بھی نچوڑ لیا۔ اسی طرح چینی کی قیمتوں پر نوٹس لیا گیا، کمیٹیاں بنائی گئیں، دکھاوے کی کارروائیاں کی گئیں اور اعلانات کی حد تک چینی سستی ہو گئی۔ لیکن بازاروں میں چینی اب بھی 200 روپے فی کلو سے کم پر دستیاب نہیں۔ بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہوئیں، لیکن ایک رپورٹ کے مطابق مافیا نے اس کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچنے دیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایک بار کسی چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ پھر کبھی کم نہیں ہوتی، چاہے عالمی منڈی میں اس کی قیمت چند سینٹ ہی کیوں نہ رہ جائے۔
اب بات کرتے ہیں پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی توسیع کی تجویز کی۔ خبر کے مطابق وزیراعظم نے پروٹیکٹڈ صارفین کے حوالے سے شکایات کا نوٹس لے کر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 201 یونٹ سے بڑھا کر 301 یونٹ کرنے پر غور کرے گی۔ موجودہ نظام کے تحت اگر کوئی صارف 201 یونٹ بجلی استعمال کر لیتا ہے، تو وہ اگلے چھ ماہ تک پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر ہو جاتا ہے اور اسے ماہانہ تقریباً 5 ہزار روپے اضافی بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسی زیادتی ہے جس نے غریب اور متوسط طبقے کے صارفین کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اراکینِ اسمبلی نے بھی اسے صارفین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے کہ صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے اگلے چھ ماہ تک اضافی بل ادا کرنا پڑے۔
یہاں وزیراعظم شہباز شریف کے لاڈلے اور ہونہار وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی پھرتیوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ان کی غیر دانشمندانہ اور عوام دشمن پالیسیاں مسلم لیگ (ن) کے لیے نوشتہء دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ اویس لغاری کی پالیسیوں نے بجلی کے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے، خاص طور پر پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے حوالے سے 201 یونٹ والی سلیب، جو وزارتِ توانائی اور نیپرا کی جانب سے جان بوجھ کر نافذ کی گئی، ایک ایسی پالیسی ہے جس نے غریب صارفین کی کمر توڑ دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی نہ صرف صارفین کے لیے ظالمانہ ہے بلکہ اس سے حکومتی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اویس لغاری کا سیاسی ماضی بھی گواہ ہے کہ وہ جہاں ہری گھاس دکھائی دیتی ہے، وہاں جمپ لگانے میں دیر نہیں کرتے۔ ان کی پارٹی بدلنے کی تاریخ اس بات کی عکاس ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ بات حیران کن نہیں کہ ان کی موجودہ پالیسیاں بھی عوام کے بجائے ذاتی یا گروہی مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کا نتیجہ لگتی ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے گی اور کابینہ کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ تجویز ہے کہ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 200 یونٹ سے بڑھا کر 300 یونٹ کیا جائے، یا کم از کم اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ 201 یونٹ استعمال کرنے کی صورت میں صرف اسی ماہ کے لیے نان پروٹیکٹڈ شرح لاگو ہو، نہ کہ اگلے چھ ماہ تک۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اویس لغاری کے وزیرتوانائی ہوتے ہوئے، بننے والی یہ پالیسیاں اور کمیٹیاں کیا واقعی عوام کو ریلیف دے سکیں گی؟ یا یہ بھی محض ایک اور دکھاوا ثابت ہوگا؟
یہ تمام صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہےکہ کیا یہ سب کچھ واقعی غریب آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کیا جا رہا ہے، یا یہ محض ایک اور دکھاوا ہے؟ موجودہ حکومت دعوے تو بڑے بڑے کرتی ہے، لیکن جب بات عمل کی آتی ہے تو عوام کو وہی پرانی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والا صارف عموماً کم آمدنی والا ہی ہوتا ہے۔ ایسے صارفین کے لیے بجلی کے بلز میں اضافہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ اگر حکومت واقعی غریب آدمی کو ریلیف دینا چاہتی ہے، تو اسے نہ صرف پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد بڑھانی چاہیے بلکہ اس نظام کو بھی شفاف بنانا چاہیے تاکہ کوئی صارف غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔
اس کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے پیچھے جو مافیا کام کر رہا ہے، اس کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔اور مافیا کو دی جانے والی مفت بجلی فوری طور پر بندکی جائے ،تاکہ اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور دیگر متعلقہ ادارے صارفین سے زیادتی کر رہے ہیں۔ اگر ایک صارف ایک ماہ میں 201 یونٹ استعمال کر لیتا ہے، تو اسے چھ ماہ تک سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ اسی طرح، چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے بھی ایک منظم مافیا کام کر رہا ہے، جو عالمی منڈی میں کمی کے باوجود پاکستانی صارفین کو ریلیف نہیں دیتا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف کمیٹیاں بنانے اور اعلانات کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرے۔ پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی حد کو 301 یونٹ تک بڑھانا ایک اچھا قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلز کے نظام کو سادہ اور صارف دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ اگر حکومت یہ سب کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا، اور وہ اعلانات جو خوشخبری کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، محض ایک مذاق بن کر رہ جائیں گے۔ اویس لغاری کی پالیسیوں نے مسلم لیگ (ن) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اور اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی، تو یہ پارٹی کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستانی عوام اب اس "کمیٹی کمیٹی کے کھیل” سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل کمیٹیاں بنا کر نکالنے کا رواج محض ایک سراب ہے، جس کی تعبیر شاید کبھی نہ ملے۔ اگر عوام کو یقین ہوتا کہ یہ اعلانات اور کمیٹیوں کی رپورٹیں حقیقت میں تبدیل ہو جائیں گی، تو شاید وہ خوشی سے مر جاتے۔ لیکن فی الحال، یہ سب کچھ ایک مذاق لگتا ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہو رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب، اب کمیٹیوں کا یہ کھیل ختم ہونا چاہیے۔ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کا اعلان کریں، جس پر فوری عملدرآمد ہو اور عوام کو ریلیف ملتا ہوا نظر آئے۔


مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل روشن، آئندہ وزیر اعظم ہونگی،تجزیہ:شہزاد قریشی
مریم نواز اور حمزہ شہباز کو ذمہ داریاں دی جائیں تو مسلم لیگ ن مزیدمقبول ہوجائے گی
بلاول بھٹو کو مزید کام کرنے کی ضرورت،پی ٹی آئی عمران سے شروع ہوکر عمران پر ختم
فضل الرحمان کا مستقبل صرف اتحاد،جماعت اسلامی آمدہ الیکشن میں نمایاں کردار اداکریگی
تجزیہ ،شہزاد قریشی
بھارت اور پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بھارت کا آئندہ کا مستقبل راہول گاندھی ہے تاہم کانگریس اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پا لے اور اتحاد مضبوط بنا لے تو بھارت کے آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار راہول گاندھی بن سکتے ہیں تاہم نریندر مودی کا کرشمہ ابھی تک موجود ہے بھارتی اپوزیشن کو متحد رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز پارٹی میں واضح قیادت کا رول ادا کر رہی ہیں امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مریم نواز کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، وہ پارٹی کے اندر ایک مضبوط امیدوار برائے وزیر اعظم ہو سکتی ہیں اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کو تنطیم سازی کی ضرورت ہے، ڈویژن اور ضلعی سطح پر کارکنوں اور دیگر مقامی ن لیگ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت اگر مریم نواز اور حمزہ شہباز پر خصوصی توجہ دے تو دونوں ن لیگ کی قیادت اور دیگر امور احسن طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں حمزہ شہباز تنظیمی معاملات میں مہارت رکھتے ہیں خاص طور پر پنجاب کی سیاست میں تا دم تحریر ن لیگ میں کوئی دھڑے بندی نہیں نواز شریف کی قیادت میں یہ جماعت متحد ہے، بلاول بھٹو زرداری سندھ میں پارٹی پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں اگر پی پی پی پنجاب اور کے پی کے میں دوبارہ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے تو بلاول بھٹو کی گفتگو اور ویژن نوجوانوں کے لئے پرکشش ہے، بلاول بھٹو کو عملی سیاست میں مزید تجربے اور مقامی حمایت کی ضرورت ہےپی ٹی آئی عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی ختم ہوتی ہے مستقبل میں اس سیاسی جماعت کی قیادت کون کرے گا یہ ایک سوالیہ نشان ہے عمران خان دوسری سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کی طرح بڑھاپے کی طرف گامزن ہیں ملک کی مذہبی جماعتوں کو لیکر اگر تجزیہ کیا جائے تو جماعت اسلامی قدیم ترین مذہبی و سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے کراچی اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں اچھا خاصا اثر دکھایا ہے کراچی میں خاص طور پر نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے میں جماعت اسلامی کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے جماعت اسلامی کا مستقبل مکمل طور پر اس کی عملی قیادت اور عوام سے رابطہ کی بنیاد پر طے ہو گا آمدہ قومی انتخابات میں جماعت اسلامی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے،
جمعیت علمائےاسلام مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے اس جماعت کا مستقبل کئی عوامل پر منحصر ہے جن میں سیاسی اتحاد عوامی تائید اس جماعت کا مکمل انحصار مولانا فضل الرحمان کی شخصیت پر ہے اگر نئی قیادت نہ ابھری تو مستقبل میں یہ جماعت کمزور ہو سکتی ہے ملک کی دیگر چھوٹی سیاسی جماعتوں کا بھی مستقبل کمزور نظر آتا ہے تاہم ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مستقبل شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہونا چاہیے الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے یہ ادارہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھتا ہے

کچے میں خونیوں کا راج ،کیا ریاست ختم ہوگئی ہے؟
کچے میں خونیوں کا راج ،کیا ریاست ختم ہوگئی ہے؟
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں ماہی چوک کے قریب شیخانی پولیس چوکی پر کچے کے ڈاکوؤں نے رات کی تاریکی میں راکٹ لانچرز اور جدید اسلحے سے حملہ کر کے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر دیا، جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے پانچ بہادر اہلکار شہید اور دو شدید زخمی ہو گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو بھی ہلاک ہوا۔ شہید ہونے والے اہلکاروں میں محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین شامل ہیں، جن کی قربانی نے ایک بار پھر کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور ان کی بے خوف کارروائیوں کو آشکار کر دیا ہے۔ یہ حملہ کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں برسوں سے جاری ڈاکوؤں کی دہشت گردی کی ایک خونریز داستان کا تسلسل ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق شہید ہونے والے تین اہلکاروں کا تعلق بہاول نگر سے تھا جبکہ دو کا رحیم یار خان سےاور یہ تمام اہلکار گزشتہ چھ ماہ سے کچے کے انتہائی خطرناک علاقے میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اور ان کی تدفین مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او عرفان علی سموں پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور جوابی کارروائی کی قیادت کی جبکہ ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں جب کچے کے ڈاکوؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا ہو۔ سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں نے پولیس چوکیوں اور گشت پر موجود دستوں پر متعدد خونریز حملے کیے ہیں۔ مثال کے طور پر 2024 میں کندھ کوٹ سندھ میں دھودھر پولیس چوکی پر 20 سے زائد ڈاکوؤں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے۔ اسی طرح 2022 میں گھوٹکی کے علاقے رونتی میں ڈاکوؤں کے حملے میں ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت پانچ اہلکار شہید ہوئے۔ 2024 میں رحیم یار خان کے ماچھکہ میں پولیس کی گاڑیوں پر راکٹ حملے میں 12 اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوئے۔ ان حملوں میں اب تک سینکڑوں پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اگست 2024 تک صرف رحیم یار خان میں 17 اہلکار شہید ہوئے ہیں اور شدید زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کئی زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے ہوں گے۔ ان شہادتوں کے پیچھے انسانی المیوں کی ایک لمبی فہرست ہے. ہر شہید اہلکار کے خاندان کی کہانی دل دہلا دینے والی ہے، جہاں نوجوان لڑکیاں بیوہ ہوئیں، بچے یتیم ہوئے اور مائیں اپنے جوان بیٹوں کے جنازوں پر بین کرتی رہیں۔ مثال کے طور پر ماچھکہ حملے میں 12 اہلکاروں کی شہادت سے کم از کم 12 خاندان متاثر ہوئے، جن میں بیوائیں، یتیم بچے اور بوڑھے والدین شامل ہیں اور ان خاندانوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیاں ناقابل بیان ہیں جنہیں ریاست کی بھرپور مدد کی ضرورت ہے۔
کچے کے ڈاکوؤں نے نہ صرف پولیس بلکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان کی دہشت گردی کی کارروائیاں صرف سڑکوں پر گشت کرنے والے اہلکاروں تک محدود نہیں بلکہ وہ شہروں اور دیہاتوں میں گھس کر شہریوں کو اغوا کرتے ہیں، ان پر تشدد کرتے ہیں اور تاوان نہ ملنے کی صورت میں بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 2024 میں کشمور، سندھ میں تین ہندو تاجروں کو اغوا کیا گیا، جنہیں بعد میں بازیاب کرایا گیا جبکہ گھوٹکی میں 10 شہری یرغمال بنائے گئے اور رحیم یار خان میں کانسٹیبل احمد نواز کو اغوا کیا گیا، جن کی تشدد زدہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا۔ کشمور میں 2023 میں راولپنڈی سے ایک شخص کو کاروباری جھانسے میں اغوا کیا گیا اور تاوان نہ ملنے پر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکوؤں کے نیٹ ورک دور دراز کے علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ڈاکو زنجیروں میں جکڑے یرغمالیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں، جن میں وہ تشدد اور تاوان کے مطالبات دکھاتے ہیں، یہ ویڈیوز ریاست کو براہ راست چیلنج کرتی ہیں اور عوام میں مایوسی پھیلاتی ہیں۔ 2024 تک شکارپور، کشمور، گھوٹکی، سکھر اور جیکب آباد میں 40 شہری یرغمال تھے، اور تاوان کی عدم ادائیگی پر کئی شہریوں کو وحشیانہ تشدد کے بعد قتل کیا گیا، جیسے کہ 2024 میں ایک پرائمری ٹیچر اللہ رکھیو نندوانی کا قتل۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ڈاکوؤں کی دہشت صرف پولیس تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی ان کے ظلم کا شکار ہیں اور انہیں ریاستی تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شیخانی چوکی حملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کی اور ڈی پی او رحیم یار خان کو ڈاکوؤں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا، ان کا کہنا تھا کہ بزدلانہ حملوں سے پولیس کا مورال پست نہیں ہوگا اور شہید اہلکاروں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیانات محض رسمی ہیں؟ کیا ماضی میں ایسے بیانات کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں؟ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشنز دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن نتائج صفر ہیں۔ 1990 کی دہائی میں کئی آپریشنز ہوئے، لیکن ڈاکو ہر بار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔ 2016 میں آپریشن میں چھوٹو گینگ کے 22 پولیس اہلکاروں کے اغوا کے بعد فوج کی مدد سے آپریشن کیا گیا، لیکن ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہ ہو سکا اور چھوٹو گینگ کے کئی ارکان فرار ہو گئے یا بعد میں دوبارہ منظم ہو گئے۔
2024 میں سندھ میں پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن شروع کیا، لیکن ڈاکوؤں کی کارروائیاں جاری رہیں، جو ان کی جڑوں کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔اور اب 2025 میں شیخانی چوکی حملے کے بعد سرچ آپریشن تیز کیا گیا، لیکن گرفتاریاں محدود ہیں۔ یہ صورتحال سوالات پیدا کرتی ہے کہ آخر ڈاکوؤں کا خاتمہ کیوں نہیں ہوتا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں،کچے کا علاقہ جغرافیائی طور پر مشکل ہے، جہاں گھنے جنگلات، جھاڑیاں اور پانی کے راستے ڈاکوؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کام کرتے ہیں اور یہ علاقہ پولیس کے لیے رسائی میں دشوار گزار ہے اور ڈاکو اس جغرافیے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ڈاکوؤں کے پاس جدید اور خطرناک اسلحہ موجود ہے، جس میں راکٹ لانچرز، خودکار ہتھیار اور حتیٰ کہ طیارہ شکن بندوقیں بھی شامل ہیں، جو پولیس کے روایتی اسلحے سے کہیں بہتر ہیں اور یہ انہیں پولیس پر برتری فراہم کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، مقامی زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی مبینہ پشت پناہی ڈاکوؤں کو تحفظ دیتی ہے، یہ سیاسی سرپرستی ڈاکوؤں کو قانون کی گرفت سے بچاتی ہے اور انہیں مزید مضبوط بناتی ہے۔ سندھ اور پنجاب کی پولیس کے درمیان تعاون کی کمی بھی ڈاکوؤں کو سرحد پار فرار ہونے میں مدد دیتی ہے، جس سے ان کا تعاقب مشکل ہو جاتا ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ڈاکوؤں نے کبھی کسی مقامی سردار، وڈیرے، وزیر، مشیر، ایم این اے یا ایم پی اے کے عزیز کو کیوں اغوا نہیں کیا؟ کیوں ان سے بھتہ نہیں مانگا؟ کیوں ان کے خاندان ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں؟ یہ سوالات ایک گہری سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کشمور کے طاقتور جاگیردار سردار تیغو خان تیغانی پر ڈاکوؤں کی پشت پناہی کے الزامات ہیں، لیکن ان کے خاندان کو کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔ کچے کے علاقوں میں زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی لاکھوں ایکڑ اراضی ہے، جہاں ڈاکو کاشتکاری کرتے ہیں اور اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں۔ ڈاکوؤں کو مقامی افراد سے معلومات ملتی ہیں، جو انہیں پولیس کی نقل و حرکت سے باخبر رکھتے ہیں، یہ معلومات انہیں پولیس کے آپریشنز سے بچنے میں مدد دیتی ہیں۔ سندھ کے سابق وزیر داخلہ نے 2024 میں اعتراف کیا کہ جب تک زمینداروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، ڈاکوؤں کا خاتمہ ناممکن ہے۔ یہ کوئی سائنس یا ریاضی کا معمہ نہیں، بلکہ ایک کھلا راز ہے کہ ڈاکوؤں کی پشت پناہی مقامی طاقتور طبقات کرتے ہیں اور جب تک ان سرپرستوں کا احتساب نہیں ہوگا، کچے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
کچے کے ڈاکوؤں کا راج کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ہے۔ پولیس کے جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، شہری خوف کے سائے میں جی رہے ہیں، لیکن ڈاکوؤں کی دہشت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا یہ ریاست کی ناکامی ہے یا دانستہ خاموشی؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف مذمتی بیانات اور عارضی آپریشنز کے بجائے ایک مستقل اور جامع حل تلاش کرے، اس کے لیے مقامی پولیس کو بھرتی کیا جائے جو کچے کے علاقوں سے واقف ہوں اور مقامی جغرافیہ کو سمجھتے ہوں، جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جائیں تاکہ پولیس کو ڈاکوؤں کے مقابلے میں بہتر اسلحہ اور رسائی کے لیے جدید گاڑیاں دی جائیں، پولیس اہلکاروں کو کچے کے علاقوں میں کارروائیوں کے لیے خصوصی تربیت دی جائے اور وہاں بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیا جائے اور سب سے بڑھ کر طاقتور زمینداروں اور سیاسی شخصیات کی پشت پناہی کا خاتمہ کیا جائے جو کہ وہ اصل جڑ ہے جو ڈاکوؤں کو زندہ رکھے ہوئے ہے، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ضروری ہے، اور بین الصوبائی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ سندھ اور پنجاب کی پولیس اور رینجرز کے درمیان موثر رابطہ کاری اور مشترکہ آپریشنز ڈاکوؤں کے فرار کے راستے بند کر سکیں۔ اگر یہ سب نہ ہوا تو شیخانی چوکی جیسے واقعات ہوتے رہیں گے اور پولیس کے جوانوں کی قربانیاں رائیگاں جاتی رہیں گی۔ ہم شہید اہلکاروں محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امن کی قیمت خون سے ادا کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس خون کی قدر کرے گی اور کچے کو واقعی امن کا گہوارہ بنائے گی؟


وفاقی محتسب، واپڈا گردی کے سامنے امید کی آخری کرن
وفاقی محتسب، واپڈا گردی کے سامنے امید کی آخری کرن
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
یہ کالم سنی سنائی باتوں پر مبنی نہیں بلکہ میری ذاتی آپ بیتی ہے۔ اس میں جو کچھ لکھا ہے نہ وہ افسانہ ہے، نہ مبالغہ آرائی اور نہ ہی الفاظ کا کوئی جادو۔ میں ایک ایماندار میپکو صارف ہوں، برسوں سے اپنے خون پسینے کی کمائی سے بجلی کے بل ادا کر رہا ہوں۔ نہ کبھی میٹر سے چھیڑ چھاڑ کی، نہ بجلی چوری کا گناہ کیا۔ لیکن جب میں نے اپنے علاقے میں کھلم کھلا بجلی چوری دیکھی، ٹرانسفارمرز سے لٹکتے کنڈے اور منظم انداز میں لائنوں پر چوری دیکھی تو میرا ضمیر جاگ اٹھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاؤں گا۔ مگر افسوس! میری ایمانداری ہی میرے لیے جرم بن گئی۔ میں نے ایکسئین، ایس ڈی او اور لائن سپرنٹنڈنٹ کو تحریری شکایات دیں، ثبوت دیے اور اپیل کی کہ چوروں کو پکڑیں، ایماندار صارفین کو ناجائز ڈیٹیکشن بل بھیج کر سزا نہ دیں۔ لیکن ہوا یہ کہ مجھے ہی سزا دے دی گئی، میپکو کے ناخداؤں نے میرے نام 14 ہزار روپے سے زائد کا ناجائز ڈیٹیکشن بل جاری کر دیا۔ مجھے یہ سزا میری ایمانداری کی پاداش میں دی گئی۔جب میں اس بل کے خلاف اپنی سب ڈویژن کے ایس ڈی او کے پاس گیا تو بجائے جواب کے مجھے ہٹ دھرمی سے حکم دیا گیا کہ بل ہر صورت ادا کرنا ہوگا۔ میں نے دلیل دی کہ اگر کوئی چوری کی ہوتی تو اس کا کوئی ثبوت ہوتا، میرا میٹر، میرا لوڈ، سب کچھ تمہارے سسٹم میں موجود ہے۔ تم نے چوروں کی بستی کے ٹرانسفارمر سے کنکشن لینا میرا جرم بنا دیا اور مجھے ہی چور ٹھہرا دیا۔ میرے پوچھنے پر کہ کیا ثبوت ہے تمہارے پاس یہ ناجائز بل بھیجنے کا، ایس ڈی او موصوف نے کہاکہ”سب کوبھیجا ہے اور تمہیں بھی یہ بھرنا پڑے گا!” جس پر میں نے جواب دیا کہ میں عدالت میں انصاف کے لیے جاؤں گا، چاہے مجھے سپریم کورٹ تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے جہاں تک ممکن ہوگا کوشش کروں گا۔ اس کے بعد میں ایک سینئر وکیل دوست کے پاس گیا اور انہیں اپنا دُکھڑا سنایا کہ میرے ساتھ میپکو نے یہ ظلم کیا ہے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ میرا کیس کورٹ میں فائل کریں اور مجھے اس ظلم سے نجات دلائیں۔ اس وکیل دوست نے جو مجھے جواب دیا، وہ انتہائی مایوس کن تھا،انہوں نے کہا "میرے بھائی! آپ کا بل صرف 14,000 روپے ہی تو ہے، جمع کرائیں اور اپنی جان چھڑائیں۔ عدالتوں کے چکر میں آپ کو یہ بل معلوم نہیں کتنا مہنگا پڑے گا کیونکہ آپ کو ہمارے اس عدالتی نظام سے انصاف نہیں ملے گا۔ پوری کچہری چوری کی بجلی پر چل رہی ہے، جہاں سبھی اس چوری میں ملوث ہوں، آپ کے حق میں کیسے فیصلہ آ سکتا ہے؟ میں آپ کا کیس عدالت میں فائل نہیں کر سکتا، بس آپ جائیں بل جمع کرائیں۔”
اس جواب نے مجھے انتہائی مایوس کیا اور یہ بات واضح ہو گئی کہ کرپشن کس قدر ہمارے اداروں میں جڑیں پکڑ چکی ہے۔ کچہری سے نکل ہی رہا تھا کہ ایک دوست عابد خان لشاری سے ملاقات ہو گئی۔ انہیں تمام ماجرا سنایا تو انہوں نے ایک آدمی کو فون کیا اور کہا کہ "یہ ہمارے سینئر صحافی دوست ہیں، یہ آپ کے پاس آ رہے ہیں، ان کی رہنمائی کریں، انہیں کیا کرنا چاہیے؟” میں عابد خان لشاری کے بتائے ہوئے آدمی کے پاس پہنچا تو اس بندے نے مجھے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان خیابانِ سرور میں وفاقی محتسب کا دفتر کھل رہا ہے، وہاں جائیں، درخواست دیں۔ ادھر سے آپ کو مکمل انصاف ملے گا۔ اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آپ آن لائن وفاقی محتسب کو بھی درخواست بھیج سکتے ہیں اور ساتھ میں میپکو ہیڈکوارٹر کو بھی درخواست رجسٹری کرا کر بھیج دیں۔ اس بھلے بندے کے کہنے پر میں نے درخواستیں لکھیں، آن لائن وفاقی محتسب کو درخواست بھیجی، ساتھ میں میپکو ہیڈکوارٹر ملتان بھی درخواست بذریعہ رجسٹری ڈاک بھیج دی۔ جس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ درخواست پاکستان پوسٹ والوں نے دریائے چناب میں بہا دی یا میپکو ہیڈکوارٹر کی ردی میں گم ہو گئی۔
تو خیر کچھ دنوں بعد ایک سرکاری نمبر سے کال آئی جس میں مجھے بتایا گیا کہ وہ وفاقی محتسب کے ریجنل آفس سے بات کر رہے ہیں اور مجھ سے چند ضروری سوالات پوچھے گئے اور پھر بتایا کہ کل آپ کی تاریخ ہے، آپ ہمارے آفس اپنے کیس کی سماعت کے لیے تشریف لائیے گا۔ سب سے پہلے جب میں وفاقی محتسب کے ریجنل آفس ڈیرہ غازی خان پہنچا تو وہاں موجود سٹاف نے میرے ساتھ ایسا خوبصورت برتاؤ کیا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں کوئی ان کا وی آئی پی مہمان ہوں۔ کرسی پر بٹھایا گیا، فوری طور پر ایک ملازم نے پانی پیش کیا۔ اس کے بعد میرے آنے کا مقصد پوچھا تو میں نے بتایا کہ کل فون کال آئی تھی، آج مجھے کیس کی سماعت کے لیے بلایا گیا ہے۔ پھر مجھے ایک نوجوان اپنے لیگل آفس میں لے گیا جہاں ایک خوبصورت نوجوان لیگل ایڈوائزر موجود تھا، جس نے اپنے تعارف میں بتایا کہ اس کا نام ملک ارباب رحیم ہے۔ میرے کاغذات کی جانچ کے بعد بتایا کہ آپ کا کیس سیکنڈ فلور پر ریجنل انچارج ڈاکٹر محمد زاہد صاحب سماعت کریں گے۔ ایک ملازم میرے ساتھ بھیجا جو مجھے کمرہ سماعت میں لے گیا۔ جب میں نے آفس کے اندر جانے کی اجازت طلب کی تو مجھے فوری اور باعزت طریقے سے کہا گیا کہ تشریف لائیے!
جب میں ڈاکٹر محمد زاہد صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور مسئلہ پوچھا۔ میرے بتانے پر انہوں نے میری درخواست والی فائل منگوائی اور تفصیل سے اسے پڑھا اور مجھ سے انتہائی شفقت بھرے انداز میں سوالات پوچھے جن کے میں نے جوابات دیے۔ پھر ڈاکٹر زاہد صاحب نے واپڈا والوں کو بلایا اور ان سے میرے بل سے متعلق تمام ریکارڈ فوری طور پر طلب کیا۔ واپڈا یا میپکو کے ذمہ داران میرے خلاف کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ثابت نہ کر سکے، جس پر وفاقی محتسب نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔ یہ فیصلہ میرے لیے واپڈا کے ظلم، دھونس اور دھاندلی کے بعد ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ یہ محسوس ہوا کہ اگر تمام ادارے اپنے اندر خود احتسابی کا مؤثر نظام قائم کرتے تو عوام کو کبھی اس طرح کی اذیت سے نہ گزرنا پڑتا۔ یہ کرپشن ہی ہے جس نے کسی بھی محکمے میں خود احتسابی کو اپنے ہاں قدم ہی نہ رکھنے دئے۔
ایک ماہ بعد وفاقی محتسب اسلام آباد سے توثیق شدہ فیصلہ موصول ہوا۔ جب میں اس فیصلہ کی کاپی لے کر واپڈا کے آر او آفس گیا تو وہاں نئے فسانے میرے منتظر تھے۔ آر او نے اس فیصلے پر نوٹ جاری کرکے مجھے متعلقہ کلرک راشد کے پاس بھیجا۔ جب اس کلرک بادشاہ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ آپ ایکسئین آفس میں ذاکر صاحب کے پاس جائیں۔ جب وہاں پہنچا تو آفس کھلا تھا لیکن سیٹ پر کوئی موجود نہیں تھا۔ باہر موجود ایک بندے سے پوچھا کہ ذاکر صاحب کون ہیں اور کہاں ملیں گے تو اس بندے نے جواب دیاکہ "تیسرا دن ہے میں مسلسل انتظار کر رہا ہوں، مجھے ابھی تک نہیں ملا۔” چوتھے دن خوش قسمتی سے میری ذاکر صاحب سے ملاقات ہو گئی، کہنے لگے کہ آج میرے پاس ٹائم نہیں ہے، میں وفاقی محتسب جا رہا ہوں، آپ کل تشریف لائیے گا۔ جب میں اگلے دن ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا اس فیصلہ کی کاپی آپ مجھے دے کر جائیں، دو تین دن بعد آنا۔ اسے کاپی کرا دی۔ اور تیسرے دن ذاکر صاحب کی دی گئی پیشی پر پہنچا تو مجھے ان کی طرف سے بھاشن دیا گیا کہ آپ اشفاق صاحب کے پاس جائیں۔ اس دن مجھے ڈھونڈنے سے بھی کہیں پر اشفاق صاحب نہ ملے۔ پھر اگلے دن اشفاق سے ملاقات ہو گئی تو جناب نے حکم جاری کیا کہ آپ کا فیصلہ ابھی تک ہمارے ہاں نہیں پہنچا! میں نے کہاکہ "جناب اسلام آباد سے فیصلہ جاری ہوئے 43 دن ہو چکے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہمیں آپ کا فیصلہ نہیں ملا؟” جس پرجواب دیا گیا کہ آپ کا فیصلہ میپکو ہیڈ کوارٹر میں پڑا ہوگا، وہ بھیجیں گے تو ہمارے پاس آئے گا۔
تھک ہار کردوبارہ وفاقی محتسب کے ریجنل آفس پہنچا، ڈاکٹر زاہد سے ملاقات کی اور انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا۔ جس پر انہوں نے دوبارہ نوٹس لیا، ایمپلیمنٹیشن لیٹر سمیت واپڈا/میپکو کے ذمہ داران کو طلب کیا۔ جنہوں نے پھر اگلے ہفتے عمل درآمد کی رپورٹ جمع کرائی اور مجھے بھی وفاقی محتسب سے عمل درآمد کے لیٹر کی کاپی جاری ہوئی۔ جب اگلے روز میں اپنے نئے بل اور عمل درآمد کی کاپی لے کر آر او آفس گیا تو انہوں نے اس لیٹر دیکھنے کے بعد اپنے ریمارکس لکھے اور مجھے کہا کہ آج راشد چھٹی پر ہے، حسنین بیٹھا ہے، اس کے پاس جائیں، وہ آپ کو بل بنا کر دے گا۔ جب حسنین کے پاس گیا تو وہاں ایک اورحکم میرا منتظر تھا کہ آپ یہ تمام کاغذات لے کر اشفاق کے پاس جائیں، وہی اس پر عمل درآمد کرائے گا۔ جب اشفاق کے پاس پہنچا انہوں نے پھر حکم دیا کہ آپ سوموار یعنی پانچ روز بعد آنا۔ میں نے کہا: "ایسا کیا مسئلہ ہے؟ جب آپ لوگوں نے رپورٹ وفاقی محتسب میں جمع کرا دی ہے تو میرا بل ٹھیک کیوں نہیں ہو سکتا؟” جس پر اشفاق نے جواب دیا کہ ادھر رپورٹ تو ہم نے جمع کرا دی تھی لیکن ابھی تک ایکسئین کے سائن ہونا باقی ہیں۔ میں نے جب پوچھا کہ جب ایکسئین کے سائن نہیں ہوئے تو پھر ایمپلیمنٹیشن لیٹر وفاقی محتسب کو کیسے جمع کرا دیا ہے؟ یہ جو کاپی ہے اس پر کس کے سائن ہیں، دوسری کون سی اتھارٹی ہے جو انہیں بائی پاس کر رہی ہے؟ میں نے کہاکہ "مہربانی کریں، حسنین کو بتائیں اور میرا نیا بل جاری کروائیں۔” جس پر اشفاق نے کہا کہ آپ دوبارہ حسنین کے پاس جائیں اور میری یہ نشانی دیں کہ میں نے ابھی ان سے فون پر بات کی ہے تو وہ تمہیں نیا بل جاری کر دے گا۔
کئی بار سیڑھیاں اوپر چڑھتے اور اترتے ٹانگیں درد کرنے لگیں اور شدید گرمی میں سانس بھی پھولنے لگا۔ اس دوران میں دوبارہ حسنین کے پاس پہنچا اور اسے نشانی بتائی تو اس نے کہاکہ ٹھہرو ،میں بل بنا دیتا ہوں۔” میں نے اسے کہا کہ ڈیٹیکشن بل جمع نہ کرانے کے باعث اس بل میں جرمانے لگے ہوئے ہیں، جب اصل رقم ہی ختم ہو گئی ہے تو جرمانہ کس چیز کا، وہ بھی ختم کرکے بل بنائیں۔ اس نے مجھے بل اور دوسرے کاغذات واپس کرتے ہوئے کہاکہ "آپ کا بل نہیں بنتا، جائیں آپ جہاں سے بنوا سکتے ہیں بنوا لیں۔ ہمیں جو عدالت کا حکم ہے ہم اسی پر عمل درآمد کریں گے۔” اس کے بعد دوبارہ آر او کے پاس گیا، اسے اپنا مسئلہ بتایا اور کہا کہ جب اصل رقم ہی ختم ہو گئی ہے تو اس رقم کا جرمانہ کیسا؟ جس پر انہوں نے میرے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک درخواست لکھیں، میں جرمانے ختم کر دیتا ہوں۔ درخواست پر جرمانے ختم کرانے کا آرڈر لے کر دوبارہ حسنین کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا، سوموار کو راشد آئے گا تو آپ کا بل وہی درست کرے گا۔ پھر تین دن گزرنے کے بعد سوموار کو میپکو کمپلیکس پہنچا، سب سے پہلے حسنین سے ہی ملاقات ہوئی، جس نے کہا کہ آپ راشد کے پاس جائیں۔ جب راشد کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ آپ حسنین کے پاس جائیں۔ مجھ سمیت بیشتر سائلین شٹل کاک بن گئے! پھر تھک کر میں دوبارہ آر او کے پاس گیا تو آر او نے راشد کو ڈائریکٹ کہا کہ آپ ان کا بل بنا دیں۔ اس حکم کے بعد بھی مجھے تقریباََ ڈیڑھ گھنٹہ کھڑا رکھنے بعد بل بنایا گیا، جس پر میں نے آر او کا شکریہ ادا کیا اور پنجاب بینک جا کر بل ادا کیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس طرح وفاقی محتسب بے مثال کام کر رہا ہے، باقی محکمے کیوں نہیں کرتے؟ اور وفاقی محتسب کے دیے گئے ریلیف پر واپڈا/میپکو کے اہلکار فرعون کیوں بن جاتے ہیں؟ کیوں عوام کو اپنے جائز حقوق کے لیے اس قدر دھکے کھانے پڑتے ہیں؟ یہ تمام واقعات ہمارے نظام میں موجود سرخ فیتہ شاہی اور کرپشن کی واضح مثال ہیں۔ کاش پاکستان میں ایسا کوئی انقلاب آئے جہاں تمام ادارے اپنے اندر خود احتسابی کا مربوط نظام قائم کر سکیں اور وفاقی محتسب کے دیے گئے فیصلوں کے خلاف روڑے نہ اٹکائیں۔ عوام کے لیے انصاف کو آسان اور فوری بنایا جائے تاکہ جس طرح مجھے وفاقی محتسب سے ریلیف ملاہے اسی طرح ہر مظلوم کے حصے میں بھی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آئے اور انہیں اپنے حقوق کے لیے دربدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔


بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟
بی آئی ایس پی، قوم کو بھکاری بنانے کی سازش تو نہیں؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستان میں غربت کے خاتمے اور کمزور طبقات کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کے ساتھ شروع کیا گیا "بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام” (BISP) آج ایک ایسے سوالیہ نشان کی صورت اختیار کر چکا ہے جو ارباب اختیار کے دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان وسیع خلیج کو واضح کرتا ہے۔ یہ پروگرام، جو 2008 میں غریب خاندانوں، بالخصوص خواتین کو مالی معاونت فراہم کر کے انہیں معاشی بھنور سے نکالنے کے نیک مقصد کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، اب خود کرپشن، ناانصافی اور عوامی تضحیک کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ کروڑوں غریب پاکستانیوں کی آنکھوں میں امید کی کرن جگانے والا یہ پروگرام آج قوم کو کشکول تھمانے اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ کیا یہ واقعی غربت مٹانے کی کوشش ہے، یا پھر حکمرانوں کی جانب سے قوم کو مستقل بھکاری بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش؟جب BISP کے تحت گھر گھر سروے کا اعلان ہوا تو عوام نے امید کی کہ شاید اب واقعی حق داروں کو ان کا حق ملے گا۔ دعویٰ کیا گیا کہ مستحق خاندانوں کی شناخت شفاف طریقے سے ہوگی، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ یہ سروے گھر گھر نہیں کیے گئے، بلکہ ان کا عمل مخصوص ایجنٹوں کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے عوامی بھلائی کو اپنی ذاتی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ اطلاعات کے مطابق، ہر سروے ایجنٹ نے مستحق خواتین کے نام شامل کرنے کے لیے مبینہ طور پر 2000 سے 3000 روپے فی خاتون بطور رشوت لیے۔ اس کے نتیجے میں، وہ گھرانے جو حقیقتاً مدد کے مستحق تھے، وہ اس فہرست سے باہر رہ گئے، جبکہ رشوت دینے والے غیر مستحق افراد مستفید ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا۔ BISP کے ذریعے جو سہ ماہی قسط یعنی 13500 روپے کی رقم دی جاتی ہے، وہ بھی مکمل طور پر مستحق خواتین تک نہیں پہنچ پاتی۔ ایک بار پھر وہی ایجنٹ یا مقامی بینک عملہ میدان میں آتے ہیں اور فی قسط 1000 سے 2000 روپے "کٹوتی” کے نام پر اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ غریب عورتیں، جو پہلے ہی کسمپرسی کا شکار ہوتی ہیں، وہ اس کٹوتی کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر رہتی ہیں کیونکہ یہ پیسہ ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوامی پوسٹس اور رپورٹس اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ غریب خواتین کو یہ رقم حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے، اور کٹوتی کے بعد ان کے ہاتھ میں بہت کم رقم آتی ہے۔ کیا یہی ریاستی ریلیف ہے؟ یا یہ قوم کو بھکاری بنانے کا نیا انداز؟
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، یا کسی کی ماں 13500 روپے کے لیے لمبی لائنوں میں ذلیل ہو۔ کیا یہ ہمارا اسلامی، مشرقی اور اخلاقی معاشرہ ہے؟ خواتین جو اپنے گھروں میں پردے اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہیں، انہیں سرعام قطاروں میں کھڑا کر کے ان کی عزت پامال کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں بے غیرت ایجنٹ ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے رشوت لیتے ہیں، اور کئی بار ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ "یہ امداد نہیں، بلکہ قوم کو بھکاری بنانے کا منصوبہ ہے۔” یہ الفاظ درحقیقت کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی آواز ہیں جو اس تذلیل کو روز دیکھتے اور جھیلتے ہیں۔ اگر حکمران واقعی قوم سے مخلص ہوتے، تو یہی پروگرام معاشی خود انحصاری کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ بجائے محض وظیفہ دینے کے، حکومت کو چاہیے تھا کہ ان خاندانوں کے سربراہان یا بے روزگار نوجوانوں کو "ون ٹائم گرانٹ” جاری کرتی تاکہ وہ اپنا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرتے۔ اس کے بعد ہر چھ ماہ بعد ان کے کاروبار کی انسپیکشن کی جاتی، بہتری کے لیے رہنمائی کی جاتی، اور انہیں عزت کے ساتھ جینے کا موقع دیا جاتا۔ مگر شاید حکمران چاہتے ہی نہیں کہ قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہو۔ انہیں ایک ایسی قوم چاہیے جو ہر سہ ماہی پر کشکول لے کر لائنوں میں لگے، عزت نفس قربان کرے، اور در در کی ٹھوکریں کھائے۔
بی نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو غریب خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا تھا، کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ پروگرام غربت کو کم کرنے کے بجائے قوم کو محتاج بنا رہا ہے، اور عوام کے ہاتھ میں کشکول تھما رہا ہے۔ اگر حکمرانوں کی ترجیحات میں قوم کی فلاح شامل ہو، تو وہ اس پروگرام کو ایک بھکاری بنانے والی مشین سے تبدیل کر کے ترقی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ رشوت خور ایجنٹوں اور کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ شفاف ڈیجیٹل سروے کرایا جائے جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے مکمل ہو، نادرا کے ڈیٹابیس سے منسلک کر کے اور مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر کے مستحقین کی درست شناخت یقینی بنائی جائے۔ BISP کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہنر مند تربیت، چھوٹے قرضوں، اور کاروباری رہنمائی پر خرچ کیا جائے۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے مفت ہنر مندی کورسز (جیسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، یا زرعی تربیت) شروع کیے جائیں تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ نقد امداد کی بجائے، بے روزگار نوجوانوں یا گھر کے سربراہوں کو ایک دفعہ کے لیے گرانٹ (مثلاً 1 سے 2 لاکھ روپے) جاری کی جائے جس سے وہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کر سکیں۔ امداد کی تقسیم کو ایجنٹس کے بجائے براہ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس یا موبائل ایپلیکیشنز (جیسے ایزی پیسہ یا جاز کیش) کے ذریعے کیا جائے۔ ہر تقسیم کے بعد آڈٹ کیا جائے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو۔
حکمرانوں کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قوم کو خیرات نہیں، عزت چاہیے۔ یہ 13500 روپے کی سہ ماہی قسط اگر کسی ماں بہن کی عزت نفس کو پامال کر دے، اسے سڑکوں پر ذلیل کر دے، اور رشوت خوروں کی ہوس کا شکار بنا دے تو یہ ریلیف نہیں بلکہ ریاستی جرم ہے۔ جو ریاست اپنی خواتین کو معاشی تحفظ دینے کے بجائے بازاروں میں قطاروں میں کھڑا کر دے، وہ ریاست نہیں بلکہ تماشا بن جاتی ہے۔ اگر واقعی حکمران فلاحی ریاستِ کا خواب سچ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی قوم کو کشکول سے نجات دینی ہوگی، خیرات کے بجائے خودداری سکھانی ہوگی اور بھیک مانگنے کے بجائے روزگار پیدا کرنا ہوگا۔ قوموں کی ترقی وظیفوں سے نہیں بلکہ عزت، محنت اور شفاف نظام سے ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکمران اپنی ترجیحات بدلیں، ورنہ یہی قوم ایک دن سوال کرے گی کہ کیا تمہیں بھکاری بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا یا باوقار زندگی کی امید پر؟ اب یہ فیصلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ قوم کو عزت دیتے ہیں یا اسے مزذلت کے اندھیروں میں دھکیلتے رہتے ہیں۔


1958سے آج تک، پاکستانی عوام پر برستا قہر
1958سے آج تک،پاکستانی عوام پر برستا قہر
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
پاکستانی عوام پر برستے اس قہر کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ آئیے، آج تاریخ کے اوراق پلٹ کر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ ظلم کے خلاف ایک ایسی فریاد ہے جو دہائیوں پر محیط ہے۔ یہ اس درد کی داستان ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں گھر کر چکا ہے، جب وہ مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری، قرضوں، اور طاقتور اشرافیہ کے مظالم تلے دب کر زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔ یہ اس قوم کے خون نچوڑنے والے نظام کے خلاف ایک احتجاجی نوحہ ہے۔ یہ سطریں عوام کے لیے ہیں، ان کی چیخوں، ان کے دکھوں اور ان کی بے بسی کی نمائندگی کرتی ہیں۔جب ایک ماں بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہ کر پائے، جب ایک باپ بجلی کا بل دیکھ کر دل تھام لے، جب ایک نوجوان روزگار کی تلاش میں مایوس ہو جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ عوام سے جینے کا حق کس نے چھینا؟ مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی اور ریاستی نااہلی نے عوام کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جینا ایک بوجھ بن چکا ہے۔ آٹا، چینی، دال، سبزی اورسب کچھ عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک شہری کی تحریر نے یہ درد یوں بیان کیاکہ "تنخواہ وہی، بل دوگنے، زندگی جہنم بن چکی ہے!”جس کا جواب واضح ہےکہ وہ اشرافیہ جو اس ملک کی دولت کو اپنی مٹھی میں قید کیے بیٹھی ہے ،ان میں سیاستدان، جرنیل، سرمایہ دار، جاگیردار ودیگرشامل ہیں جو عوام کے خون سے اپنی سلطنتیں قائم کرچکے ہیں۔
آئی ایم ایف سے لیے گئے اربوں ڈالر کے قرضے بظاہر معیشت کو سہارا دینے کے لیے ہوتے ہیں مگر اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟ کیا یہ پیسہ عوام کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوا؟ کیا اس سے ہسپتالوں میں ادویات آئیں؟ کیا روزگار کے مواقع پیدا ہوئے؟ نہیں! یہ قرضے صرف اشرافیہ کے بینک اکاؤنٹس میں پہنچتے ہیں اور ان کی عیاشیوں کا ایندھن بنتے ہیں۔ معروف معیشت دان ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے ڈی ڈبلیو کو انٹرویو میں واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط نے پاکستانی عوام پر مہنگائی کا بم گرایا، مگر اصل مجرم وہ حکمران ہیں جو ان رقوم کو عوام کی فلاح کے بجائے اپنی جائیدادیں بنانے پر لگاتے ہیں۔ آج گھی ،کوکنگ آئل،بجلی اور پٹرول کی قیمتوں نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔ قرضے عوام نے نہیں کھائے مگر ان کی قیمت عوام ہی چکا رہے ہیں۔
کرپشن وہ ناسور ہے جس نے اس قوم کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ گندم سکینڈل، شوگر مافیا، جعلی انوائسز، پانامہ لیکس وغیرہ یہ سب وہ زخم ہیں جو حکمران طبقے نے عوام کے اعتماد پر لگائے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے مطابق صرف گزشتہ برس 873 ارب روپے کی جعلی انوائسز پکڑی گئیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ یہ اس قوم کا خون ہے جو چوسا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کی 30 شوگر ملز میں سے 9 شریف خاندان، 5 زرداری خاندان اور باقی ان کے اتحادیوں کے قبضے میں ہیں۔ یہ وہی طبقہ ہے جو اقتدار میں آکر قومی خزانے کو اپنے خاندانی کاروبار میں بدل دیتا ہے۔ اور جب کوئی سوال اٹھاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ "یہ سب سیاست ہے!”
یہ کہانی نئی نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ایوب خان کے دور (1958-1969) سے جڑی ہوئی ہیں، جب محض 22 خاندانوں کو ملکی معیشت کا کنٹرول دیا گیا۔آدم جی، سیہگل، حبیب، داؤد، ولیکہ، منو، فینسی،نشاط اور کریسنٹ جیسے خاندان یہ وہ خاندان تھے جنہیں ریاستی سرپرستی میں زمینیں، صنعتیں اور وسائل دیے گئے۔ گوہر ایوب، جو ایوب خان کے بیٹے تھے نے اپنے سسر جنرل (ر) حبیب اللہ خٹک کے ساتھ مل کر یونیورسل انشورنس اور گندھارا انڈسٹریز جیسی کمپنیوں کو پروان چڑھایا۔ گوہر ایوب کی سیاسی و کاروباری سرگرمیوں نے ریاستی وسائل کو خاندانی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کی۔ بی بی سی کے مطابق اس دور کی پالیسیوں نے سرمایہ دارانہ اشرافیہ کو اتنی طاقت دی کہ آج تک وہ طبقہ مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔
یہ 22 خاندان آج 42 ہو چکے ہیں اور بعض تجزیہ کار اس تعداد کو اس سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔ اگرچہ درست اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ اشرافیہ کے طبقات مسلسل پھیلتے جا رہے ہیں۔ شریف، زرداری، ترین، چوہدری اور دیگر خاندان ملکی معیشت، سیاست، زراعت، رئیل اسٹیٹ اور صنعت پر قابض ہو چکے ہیں۔ شوگر ملز، سیمنٹ، میڈیا ہاؤسز، بینکس ودیگر سب پر ان ہی کا راج ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریاستی مشینری تحفظ دیتی ہےاور قانون ان کے دروازے پر دستک دینے سے گھبراتا ہے۔ گوہر ایوب کی سرپرستی میں ایوب خان نے معیشت کو چند خاندانوں کے حوالے کیا، جنہوں نے نجکاری کے نام پر قومی ادارے خریدے اور پھر سیاست میں آ کر ان اداروں کو اپنی جاگیر سمجھا۔ بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق گوہر ایوب نے اپنے والد کے اقتدار سے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی اولاد کو بھی اسی ڈگر پر لگایا۔ ان کے بیٹے عمر ایوب آج بھی پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سیاسی میدان میں متحرک ہیں۔ یہ نسل در نسل اقتدار اور دولت کے سوداگر ہیں جو پاکستانی عوام کی تقدیر کے فیصلے اپنے محلات میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔
کیا یہ ظلم کبھی ختم ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں گونجتا ہے۔ جب تک اشرافیہ سے اقتدار اور دولت کا ارتکاز ختم نہیں ہوتا، جب تک قانون سب کے لیے یکساں نہیں ہوتا، جب تک عوام کو ان کا جائز حق نہیں ملتا، تب تک یہ قہر جاری رہے گا۔ جب تک عوام سیاسی شعبدہ بازی اور شخصیت پرستی سے باہر نہیں نکلیں گے، باشعور نہیں ہوں گے، سوال نہیں پوچھیں گے، احتساب نہیں کریں گے، تب تک یہی چند خاندان اس ملک کی سانسوں پر قابض رہیں گے۔ لیکن تبدیلی کی کنجی عوام کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس ظلم کو سہتے رہیں گے یا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔


عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟
عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
چینی اسکینڈل کے دھوئیں سے ابھی فضاء صاف نہیں ہوئی تھی کہ خوردنی تیل کے نرخوں کی آگ نے ایک اور معاشی سانحے کا دروازہ کھول دیا۔ عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتیں 24 فیصد تک کم ہوئیں لیکن پاکستان میں اس کے برعکس کوکنگ آئل 4.5 فیصد مہنگا کر دیا گیا۔ صارفین فی لیٹر 150 روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہو گئے اور اس کا فائدہ ان عوام دشمن مافیاز کو ہوا جو ہر بحران کو اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخر یہ منافع خور کون ہیں؟ ان پر ہاتھ ڈالنے سے حکومتی ادارے کیوں گھبراتے ہیں؟ اور اگر ریاستی مشینری بے بس ہے تو کیا عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے؟وزیر اعظم شہباز شریف نے رواں برس فروری میں عوام کو ریلیف دینے کے بلند بانگ دعوے کیےلیکن اپریل اور مئی میں بناسپتی مینوفیکچررز سے ہونے والے اجلاسوں کے باوجود قیمتیں کم نہ ہو سکیں۔ کیا یہ ریلیف محض سیاسی دعوے تھے یا پھر پسِ پردہ مفادات نے ہر کوشش کو ناکام بنا دیا؟ عوام آج بھی انتظار میں ہے کہ حکومت مہنگائی کے سیلاب کے آگے کوئی بند باندھے گی، مگر اس سیلاب کے ساتھ اگر ریاست خود بہتی نظر آئے تو عوام جائے تو کہاں جائے؟
ادھر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے بجلی کے صارفین پر ایک اور بجلی گرائی ہے۔ 8 بجلی کی تقسیم کار کمپنیاںجن میں آئیسکو، لیسکو، میپکو، پیسکو، کیسکو، سیپکو، حیسکو، اور ٹیسکو ہیں جو 244 ارب روپے کی اوور بلنگ میں ملوث پائی گئیں۔ صرف ایک ماہ میں 2 لاکھ 78 ہزار صارفین کو 47 ارب روپے کے اضافی بل بھیجے گئے اور ملوث افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔
کیسکو نے زرعی صارفین کو 148 ارب روپے سے زائد کی اوور بلنگ کی، فیڈرز پر 18 ارب روپے کے جعلی بل ڈالے گئے، آڈٹ کے لیے ریکارڈ مانگا گیا تو کمپنیوں نے تعاون سے گریز کیا۔ آخر یہ کون سے بااثر لوگ ہیں جو قانون اور انصاف سے بالا تر ہیں؟
اب ایک اور تلخ حقیقت کی جانب توجہ درکار ہے کہ ہر سال جب بارشیں اور سیلاب آتے ہیں تو غریبوں کے گھر، مویشی، فصلیں اور زندگی کی ساری جمع پونجی بہا لے جاتے ہیں۔ کبھی کوہِ سلیمان کے پہاڑوں سے آنے والا سیلاب ہوتا ہے تو کبھی دریائے سندھ کا پانی اپنے کنارے توڑ دیتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی حکمران کے محل میں پانی داخل ہوا ہو؟ ان کے خاندان کا کوئی فرد سیلاب میں بےگھر ہوا ہو؟ یا ان کے بچے کسی ریلیف کیمپ میں فاقے سے بیٹھے ہوں؟
قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی، طوفان ہوں یا زلزلے، ہر آفت کا شکار ہمیشہ عام آدمی ہی کیوں ہوتا ہے؟ آخر یہ کیسی ریاست ہے جہاں حکمران تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں اور عوام ہر مصیبت کا ہدف بنتے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ حکمرانوں نے اپنے محلوں کے گرد حفاظتی بند باندھ رکھے ہیں؟ کیا ان کی طاقتور گاڑیاں، محافظ، بیرونِ ملک اکاؤنٹس اور ایلیٹ کلاس رابطے انہیں ان آفات سے بچا لیتے ہیں جو عوام کے لیے قیامت بن کر آتی ہیں؟
تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر اقتدار میں بیٹھے لوگ ان اسکینڈلز، اوور بلنگ، مہنگائی، قدرتی آفات اور دہشت گردی سے متاثر نہیں ہوتے تو کیا وہ عوام کے درد کو محسوس بھی کر سکتے ہیں؟ اور اگر محسوس نہیں کرتے تو پھر ان سے بہتری کی امید رکھنا محض فریب نہیں تو اور کیا ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ عوام حکمرانوں سے سوال کرے کہ ان اسکینڈلز میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟. عوام کو ریلیف دینا کس کی ذمہ داری ہے؟. کیا ان بااثر مجرموں کے کھرے ایوانِ اقتدار میں جا کر گم ہو جاتے ہیں؟. اگر حکمران واقعی ان اسکینڈلز میں ملوث نہیں تو پھر کارروائی کیوں نہیں ہو پاتی؟. اور سب سے اہم سوال کہ عوام کے اور کتنے امتحان باقی ہیں؟
دہشت گردی، پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی، بجلی کے بلوں کی "سلیب گردی” اور ہر طرف معاشی استحصال کا بازار گرم ہے۔ عوام آخر کب تک خاموش رہے گی؟ کیا یہ قوم قربانی کے بکرے بننے کے لیے بنی ہے؟
اب عوام کے لیے فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے یا تو وہ خاموش رہ کر مزید تباہی کے لیے تیار ہو جائیں یا پھر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ کیونکہ اب سوال یہ نہیں کہ کب ریلیف ملے گا بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی عوام کی ہے یا صرف چند خاندانوں کی جاگیر؟
کیونکہ اگر ریاست صرف امیروں کو بچانے کا نام ہے، تو غریبوں کے لیے اس ریاست کا کیا مطلب باقی رہ جاتا ہے؟


ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی
جھوٹ،فریب،افواہ سیاست ٹھہری،معاشرہ کیسے سدھرے گا؟
ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی حکمرانی ،انصاف سیاست کے معیارات،ہم کہاں کھڑے ہیں؟
بڑھتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،منبر ومحراب بھی خاموش،محاسبہ کون کریگا؟
وڈیروں کی ذاتی جیلیں،سوشل میڈیا ایٹم بم بن چکا،انصاف نہ قانون،عام عوام کہاں جائیں
تجزیہ ، شہزاد قریشی
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے میرا دم ،،آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے ،افواہ شر پسندوں کا بڑا ہتھیار، افواہ جھوٹ کی وہ منزل ہے جہاں سچ کی ایک نہیں چلتی اور بے بسی سچ کا مقدر بن جاتی ہے، افواہ جو تباہی پھیلاتی ہے، وہ ایٹم بم سے بھی ممکن نہیں، دنیا بھر کے اہل سیاست افواہ سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ملکی سیاست میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، آج کل یہ فریضہ سوشل میڈیا سرانجام دے رہا ہے ،عوام کو گمراہ ، ملک میں انتشار پیدا کرنے اپنے ہی ملک کی عسکری قیادت جملہ اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے کون سا قومی فریضہ ،کون سی قومی خدمت ہو رہی ہے؟ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن جیسا کردار ادا کرے، اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی سے کام نہ لیا جائے ،صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے جو حکومت کر رہا ہے وہ انصاف سے حکومت کرے ،حزب اختلاف پرامن حزب اختلاف کے فرائض سرانجام دے باقی سب غلط ہے اور غلطیوں پر فخریہ اعادہ احمق لوگ کرتے ہیں، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ سنتے سنتے عمر بیت گئی ،معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کے خلاف دھرنا دیکھا نہ لانگ مارچ نہ منبر و محراب نے اپنی ذمہ داری سمجھی، بحیثیت مسلمان ہماری ایمانداری نیکی تقوی دیانت داری پاکیزگی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے مدرسوں میں معصوم بچوں کو مار دیا جاتا ہے، جاگیرداروں اور وڈیروں نے اپنی عدالتیں اپنی جیلیں بنا رکھی ہیں کیا یہ قانون کی حکمرانی ہے، سوشل میڈیا اس گند کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتا؟ پی ٹی آئی کے اندرون اور بیرون ملک سوشل میڈیا کا نشانہ پاک فوج جملہ ادارے، نواز شریف اور مریم نواز ہی کیوں ہیں؟ کیا وہ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں؟ حکمران سیاسی جماعتیں علمائےکرام، گدی نشین، پیر خانے اور عوام اپنا محاسبہ کریں تو ملک افراتفری نفسا نفسی سے باہر نکل سکتا ہے، ہوس زر نے انسانوں کو انسانیت سے دور کر دیا ہے ، سول بیوروکریسی ، انتظامیہ، پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت ملک کے تمام ادارے اپنا اپنا محاسبہ کریں، تب ایک اچھا معاشرہ تشکیل پائے گا، امریکہ اور مغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل میں ہے، قانون کی حکمرانی، انصاف، ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے، ملکی سیاست میں بھڑکوں دھمکیوں اور ہلڑ بازی کا شدت اختیار کرتا رجحان بے سبب نہیں اس سے معاشرتی نظام تنزلی کا شکار ہوتا ہے ،خدارا !بس کیجیے معاشرے کو سدھارنے پر توجہ دی جائے
کہاں گئی شہباز سپیڈ؟
کہاں گئی شہباز سپیڈ؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
پاکستان کی سیاست میں شہباز شریف کا نام ایک ایسی رفتار کے ساتھ جڑا رہا ہے جو بظاہر نا ممکن کو بھی ممکن بنا دیتی تھی۔ جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو اُن کی شہرت اُن کی غیر معمولی انتظامی مہارت، منصوبوں کی تیزی سے تکمیل اور عوامی ریلیف پر مبنی پالیسیوں کی بدولت "شہباز سپیڈ” کے نام سے معروف ہوئی۔ لاہور میٹرو، آشیانہ اسکیم، دانش سکولز، فلائی اوورز اور ہسپتالوں کی بہتری کے منصوبے اُن کی شناخت بنے۔ لیکن آج جب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں تو عوام حیران ہے کہ وہی شہباز سپیڈ کہاں کھو گئی؟ کیونکہ اب مسائل کے انبار لگے ہیں، وعدے ادھورے ہیں اور عوامی ریلیف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ یہ سوچنا بجا ہے کہ کیا وہی شہباز شریف ہیں یا اب رفتار کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے؟ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ اب صرف فائلیں دوڑ رہی ہیں، عوام نہیں اور شہباز سپیڈ بس ایک سیاسی یادگار بن کر رہ گئی ہے۔جب وزیراعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ بجلی سستی کریں گے تو لوگوں کو امید بندھی۔ لیکن عملی طور پر وزارت توانائی نے ایسے اقدامات کیے کہ عوام پر مہنگائی کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے 201 یونٹ کا سلیب سسٹم متعارف کروا کر بجلی کے نرخ کئی گنا بڑھا دیے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے انکشاف کیا کہ آٹھ ڈسکوز نے 244 ارب روپے کی اووربلنگ کی، جس کا کوئی حساب نہیں۔ لاکھوں صارفین کو اضافی بل جاری ہوئے اور زرعی صارفین کو بھی 148 ارب سے زائد کی اووربلنگ کر دی گئی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بجائے ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے، سب کچھ فائلوں میں دبا دیا گیا۔ عوام پریشان ہیں، حکومت خاموش ہے اور ظلم کا سارا بوجھ شہباز سپیڈ کے سر ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ سب ظلم اویس لغاری نے کیے، شہباز سپیڈ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔
ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کا وعدہ بھی ہوا میں تحلیل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں گی، لیکن عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط نے ان کے ہاتھ باندھ دیے۔ پٹرول اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب چینی کا معاملہ لیں تو حکومت نے شوگر مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ چینی جو عام آدمی کے لیے ضروری تھی، اب ایک پرتعیش شے بن چکی ہے۔ یہ سب اس نظام کی خرابیاں ہیں جنہوں نے شہباز شریف کی رفتار کو باندھ رکھا ہے۔ ان کے ارادے جتنے بھی بلند ہوں، عملی پیش رفت ندارد۔ مگر یہ سب ناکامیاں شہباز سپیڈ کی نہیں، بلکہ مافیا نے شہباز سپیڈ کی ہینڈ بریک پر قبضہ جما کر بریک لگا دی ہے۔
معاشی بحران کے اس دور میں اشرافیہ کی مراعات میں اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ارکان اسمبلی، سپیکر اور وزراء کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا، ساتھ ہی ساتھ مفت بجلی، پٹرول، علاج، رہائش اور گاڑیوں کی سہولتیں بدستور جاری رہیں۔ کہا گیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے جاتے تو حکومتی اتحاد خطرے میں پڑ جاتا۔ دوسری جانب، پنشنرز، سرکاری ملازمین اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ آئی ایم ایف کو اشرافیہ کی ان مراعات پر کوئی اعتراض نہ تھا، لیکن جیسے ہی عوامی تنخواہوں میں اضافے کی بات آئی، قسط روکنے کی دھمکی دے دی گئی۔ یوں وسائل بالا طبقے کی جھولی میں ڈال دیے گئے اور عوام کو صرف قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ یہ سب دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ شہباز سپیڈ کی ناکامی نہیں بلکہ نظام کی وہ غلامی ہے جس نے شہباز سپیڈ کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔
واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپشن، اووربلنگ اور بجلی چوری جیسے معاملات نے حکومت کو اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔ کمپنیوں نے آڈٹ ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا، اربوں روپے کی خرد برد کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ کیا وزیراعظم اکیلے اس سب کا ذمہ دار ہیں؟ ہرگز نہیں۔ وزیر توانائی کی نااہلی، نیپرا کی خاموشی اور بیوروکریسی کی ملی بھگت نے عوام کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کا سوال بجا ہے کہ کہاں گئی شہباز سپیڈ؟ لیکن جواب یہ ہے کہ شہباز سپیڈ کو تو روک دیا گیا، لوٹنے والوں نے۔
دوسری طرف، عمران خان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے 90 دن میں کرپشن ختم کر دی، لیکن ان کے دور میں آٹا، چینی اور پٹرول کے اسکینڈلز سامنے آئے۔ جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور دیگر وزرا پر الزامات لگے، لیکن کسی کو سزا نہ ملی۔ رپورٹیں دبائی گئیں، قوم کو سبز باغ دکھائے گئے۔ شہباز شریف پر تنقید ضرور کریں، لیکن یہ بھی دیکھیں کہ کیا عمران خان کی رفتار نے عوام کو کچھ دیا؟ یا صرف تقاریر اور دعوے کیے؟ یہ دونوں رہنما عوامی خدمت کے دعوے دار ہیں، لیکن عوام کے مسائل آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں کل تھے۔ اور اسی لیے شہباز سپیڈ پر تنقید سے پہلے سچائی کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے۔
اگر کوئی توقع باقی ہے تو وہ صرف اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جب شہباز شریف اپنی پرانی رفتار کو دوبارہ زندہ کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل کو سمجھیں، کرپشن کے خلاف بھرپور کارروائی کریں، بیوروکریسی کو قابو میں لائیں اور فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ عوام اب صرف وعدوں سے نہیں، عمل سے مطمئن ہو گی۔ اگر شہباز سپیڈ کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو اب وقت ہے کہ فیصلے میدان میں کیے جائیں، صرف پریس کانفرنسوں میں نہیں۔ بصورتِ دیگر، شہباز سپیڈ صرف ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ جائے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شہباز سپیڈ واقعی اپنے پرانے ٹریک پر دوبارہ دوڑنے کے قابل ہو سکے گی؟ کیا وہ تمام رکاوٹیں عبور کر پائے گی جنہوں نے اس کی رفتار کو جکڑ رکھا ہے؟ کیا بجلی بحران، سلیب سسٹم کا خاتمہ اور اویس لغاری کی برطرفی ممکن ہو پائے گی؟ کیا عوام کو سستی چینی اور ایندھن دوبارہ میسر آ سکے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ سب کچھ شہباز سپیڈ ممکن بنا پائے گی؟ عوام ان سوالات کے جوابات کی منتظر ہے اور وقت ہی بتائے گا کہ شہباز سپیڈ پھر سے اپنا جادو جگا پاتی ہے یا نہیں۔











