Baaghi TV

Category: سیاست

  • قابل افسران کو میدان میں لانے کی ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قابل افسران کو میدان میں لانے کی ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے کرپشن اور نااہلی کا شکار ہیں، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ ہر سرکاری افسر یا ہر ادارہ بدعنوان ہے۔ پاکستان کی پولیس، سول بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں میں آج بھی ایسے بے شمار افسران موجود ہیں جو ایمانداری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قانون کی حکمرانی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فرائض کو صرف نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔
    بدقسمتی سے ہمارے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایسے قابل اور باصلاحیت افسران کو اکثر وہ جگہ نہیں دی جاتی جہاں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بہت سے ایسے افسران جو فیلڈ میں جا کر بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں، عوام کے مسائل حل کر سکتے ہیں اور ریاست کی رٹ مضبوط کر سکتے ہیں، انہیں دفتروں میں محدود کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی صلاحیتیں کاغذی کارروائیوں تک محدود ہو جاتی ہیں جبکہ میدانِ عمل میں وہ نتائج سامنے نہیں آتے جو آ سکتے تھے۔

    پنجاب کی مثال لی جائے تو یہاں پولیس اور سول انتظامیہ میں ایسے کئی افسران موجود ہیں جو نہ صرف دیانتدار ہیں بلکہ جدید سوچ بھی رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مسائل کے حل کے لیے منصوبے اور نئی سوچ موجود ہے۔ لیکن اگر ایسے لوگوں کو عملی میدان میں اختیار اور موقع نہ دیا جائے تو ان کی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اچھے منصوبے صرف کاغذوں یا چند دفاتر تک محدود رہ جاتے ہیں۔

    ریاست کے ذمہ داران کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی نظام کی بہتری کے لیے صرف قوانین یا اعلانات کافی نہیں ہوتے، بلکہ درست لوگوں کو درست جگہ پر تعینات کرنا سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر قابل، ایماندار اور باصلاحیت افسران کو فیلڈ میں ذمہ داریاں دی جائیں اور ان پر اعتماد کیا جائے تو نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔

    یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم عمومی مایوسی اور منفی سوچ سے باہر نکلیں۔ اگر چند افراد کی وجہ سے پورے نظام کو بدنام کر دیا جائے تو اس سے ان ایماندار لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان اچھے افسران کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور نظام کو اس انداز میں ترتیب دینا چاہیے کہ قابلیت اور دیانتداری کو آگے آنے کا موقع ملے۔

    مختصر یہ کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں صحیح مواقع، اختیارات اور میدان دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ریاستی نظام کو مزید مضبوط بنا سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کی بہتری اور ملک کی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

  • دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر طرف گولیوں کی ترتراہٹ،خوف کی فضاء،دنیا میں امن کب ہوگا؟
    طاقتوراندھے،کمزور دہائیوں تک محدود،بارود برسانے والوں کاہاتھ کون روکےگا؟
    انسان نے چاند اور جدید ٹیکنالوجی دیکھ لی ،نفرت اور آگ کا دریا عبورنہ کرسکا ،کیوں؟
    زمین اللہ کی ملکیت،تنازعات کا حل مذاکرات،پھر جنگ کیسی،ذمہ داری کون لےگا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    لکھیں تو کیا لکھیں؟ جب فضا ءمیں بارود کی بو ہو، معصوم جانیں مٹی تلے دب رہی ہوں اور دنیا بھر میں عام آدمی خوف کے سائے میں جی رہا ہو تو الفاظ بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں، آج ہر طرف جنگی ماحول نے دلوں کو بوجھل کر دیا ہے، سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ امن کہاں ہے؟دنیا میں اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے موجود ہیں، قراردادیں بھی منظور ہوتی ہیں، بیانات بھی جاری ہوتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ، گولیاں رکتی نہیں، بم گرتے رہتے ہیں اور عام آدمی سسکتا رہتا ہے،مسئلہ اداروں کی موجودگی کا نہیں، ان کے مؤثر اور غیر جانبدار کردار کا ہے،جب عالمی فیصلے طاقتور ممالک کے مفادات کے تابع ہو جائیں تو انصاف کمزور پڑ جاتا ہے اور انسانی حقوق محض کاغذی الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے صرف مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں، بڑی طاقتیں اپنی انا اور مفادات سے بالاتر ہو کر جنگ بندی کو یقینی بنائیں، اسلحے کی دوڑ کو روکا جائے اور تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے،

    میڈیا بھی اپنی ذمہ داری سمجھے اور جنگ کو سنسنی خیزی کے بجائے انسانی المیے کے طور پر پیش کرے، سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام اجتماعی آواز کو اتنا مضبوط بنائیں کہ حکمرانوں کو امن کا راستہ اختیار کرنا پڑے،یہ زمین خدا کی امانت ہے، اسے نفرت اور آگ کا میدان بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، اگر طاقت انصاف کے تابع ہو جائے تو جنگیں رک سکتی ہیں، اگر قیادت میں اخلاص آ جائے تو خون بہنا بند ہو سکتا ہے،ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ انسان چاند پر پہنچ گیا، سمندروں کی گہرائیاں ناپ لیں، ٹیکنالوجی کی بلندیاں چھو لیں، مگر اپنی ہی زمین پر امن قائم نہ کر سکا اور اپنے ہی جیسے انسان کو تحفظ نہ دے سکا،بقول شاعر، دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

  • اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر!
    پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت
    یہ وقت جذباتی نعرےنہیں، بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے،داخلی محاذ مضبوط رکھنا ہوگا
    خامنہ ای کی شہادت ہرمسلمان دکھی،جذباتی بیانات اورانتشار سے گریزکرنا ہوگا

    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، خطے میں کشیدگی، سفارتی دباؤ اور طاقت کے توازن کی نئی کوششوں کے درمیان پاکستان نے جس احتیاط، تدبر اور توازن کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھایا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے،پاکستان نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی جائے،اس وقت بھی وزارتِ خارجہ، مسلح افواج اور دیگر قومی ادارے ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں فیصلے کر رہے ہیں، ایسے حالات میں جذباتی بیانات، اندرونی انتشار یا غیر ذمہ دارانہ تنقید نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے،علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر مسلم دنیا میں غم اور افسوس کی فضا ءہے، کسی بھی بڑے رہنما کی شہادت خطے میں جذبات کو بھڑکا سکتی ہے، لیکن ایسے وقت میں دانشمندی اور بردباری ہی قوموں کو بحران سے نکالتی ہے، دکھ اور غم اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور داخلی استحکام ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے،پاکستان اس وقت جس حکمت اور توازن کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہ دراصل اپنی سرزمین، اپنی عوام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی جیسے معاملات میں ذمہ داری، احتیاط اور اتحاد ناگزیر ہوتے ہیں،یہ وقت انتشار کا نہیں، اتحاد کا ہے، یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے، اگر ہم اپنے داخلی محاذ کو مضبوط رکھیں گے تو بیرونی دباؤ خود بخود کمزور ہو جائے گا، پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

  • امن کمزوری نہیں،ترجیح مذاکرات ہونی چاہئے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کمزوری نہیں،ترجیح مذاکرات ہونی چاہئے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ ہے، اور دوسری طرف جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔ یوکرین ہو، فلسطین اور اسرائیل کی کشیدگی ہو یا سوڈان کی خانہ جنگی—ہر جگہ جدید اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور اس کے دھماکوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں فضا، مٹی اور پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔

    جنگ اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ اس کے اثرات بیماریوں، ماحولیاتی تباہی اور نفسیاتی صدمات کی صورت میں نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ باریک زہریلے ذرات ہواؤں کے ذریعے سرحدوں سے پار جا سکتے ہیں، اس لیے نقصان کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کو متاثر کرتا ہے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے موجود ہیں، مگر طاقتور ممالک کے مفادات اکثر امن کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی پائیدار حل نہیں دیتی۔ یہ لاشیں، بیمار معاشرے اور آلودہ فضا چھوڑتی ہے۔ اللہ پاک نے یہ زمین انسانوں کے رہنے کے لیے بنائی، اسے پاک صاف فضا عطا کی، تاکہ انسان سکون اور امن سے زندگی گزار سکے۔ خدا کے لیے اسی خدا کی زمین پر انسانوں کی زندگیاں اس طرح ختم نہ کی جائیں۔ بے گناہوں کا خون بہانا اور زمین کو بارود سے بھر دینا اللہ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہتھیاروں کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ امن کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی بقا اور اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔

  • پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں ،تحریر:ملک سلمان

    پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں ،تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ روز سے ہونے والی پاک افغان کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرے کے باوجود میرے سمیت سارا پاکستان بہت سکون اور اطمینان میں ہے۔ سحری افطاری، فرینڈز گیدرنگ، کاروبار اور کھیل کے میدان سب ویسے ہی آباد ہیں۔
    ابھی سحری کی تیاری ہے اور رات کی افطاری کے لیے دوستوں کو انوائٹ کر چکے ہیں۔ کسی کو بھی جنگ کی فکر نہیں سب روٹین کے کاموں میں مشغول ہیں کیونکہ سارے پاکستان کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ہماری بہادر افواج افغان دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
    مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنے سے 10 گنا بڑی بھارتی فوج کو جس طرح سے شکست دی پوری دنیا اس کی معترف ہے۔ جنگی بخار میں مبتلا بھارت کے سات سے زائد رافیل طیارے اور ان کا ناقابل تسخیر ایس 400 ڈیفنس سسٹم تباہ کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔
    افواج پاکستان پر قوم کا اعتماد اور یقین یہی وہ طاقت ہے جو افواج کے جوانوں کو ہر طرح کے خطرے سے ٹکرا جانے کا جذبہ دیتی ہے۔

    سارا پاکستان روٹین لائف انجوائے کر رہا ہے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ جب بھی وطن کو ضرورت ہوگی تو پاک آرمی کے جوان و افسران خود ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے لیکن عوام پاکستان کو خراش بھی نہیں آنے دیں گے۔ پاکستانی عوام تاریخ سے اگاہ ہے کہ وطن عزیز کیلئے راشد منہاس بن کر موت کو ترجیح دیں گے لیکن اس کی ایک انچ پر بھی دشمن کے ناپاک قدم نہیں پڑنے دیں گے۔
    افواج پاکستان کا سالانہ بجٹ صرف ساڑھے سات ارب ڈالر ہے۔

    مسلح افواج کیلئے سالانہ بجٹ کے لحاظ سے امریکہ، چائنہ اور روس کے بعد بھارت چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان چالیسویں نمبر پر ہے۔ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والا پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کی موسٹ پاورفل افواج میں ٹاپ تھری میں ہے۔ بلوچستان ٹرین ہائی جیکنگ کو جس طرح ناکام بنا کر تمام مسافروں کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ایسا کامیاب آپریشن دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں دیکھا گیا، اس لیے پاکستان آرمی کے اس کامیاب آپریشن کو درجنوں ممالک کی "وارسٹڈی” کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بیسوں ممالک کی آرمی کے سنئیر افسران جنہوں نے ملکی کمانڈ کرنی ہوتی ہے وہ "وارکورس” کیلئے نیشنل ڈفینس یونیورسٹی اسلام آباد آتے ہیں۔ پاکستان کی بہادر افواج کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔

    میں خود بھی روٹین معاملات میں مگن ہوں اور آپ سے بھی یہی کہوں گا کہ آپ اپنی روزمرہ لائف کو انجوائے کریں لیکن اس خود اعتمادی، سکون اور تحفظ کا باعث بننے والی افواج پاکستان کیلئے دل سے شکریہ افواج پاکستان ضرور کہیں، فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ہیش ٹیگ میں دشمن ممالک بھارت اور افغانستان کو مینشن کرکے بتائیں کہ ہم بے فکر ہیں، یہ دیکھو کھیل کی میدانوں میں، ریسٹورنٹ اور تفریح گاہوں میں میں انجوائے کررہے ہیں کیونکہ ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور افواج پاکستان ہماری محافظ ہے۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہر مشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

    maliksalman2008@gmail.com

  • افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے کھڑی ہے۔ اگر علاقائی کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ آگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون زیادہ ذمہ دار ہے اور کون آگے بڑھ کر قیادت کا کردار ادا کرتا ہے۔

    2021 کے بعد قائم ہونے والی افغان عبوری حکومت کو عالمی سطح پر مکمل تسلیم تو نہیں کیا گیا، مگر عملی سطح پر مختلف ممالک اس کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاری، تجارتی تعلقات اور سیاسی رابطے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہی اثر و رسوخ خطے میں امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا؟ اگر معاشی تعاون جاری رہ سکتا ہے تو سیکیورٹی ضمانتوں اور انسدادِ دہشت گردی کے واضح اقدامات کو اس سے مشروط کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

    علاقائی سطح پر سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ترکی ایسے بااثر ممالک ہیں جو نہ صرف معاشی طاقت رکھتے ہیں بلکہ سفارتی محاذ پر ثالثی کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ دوحہ سے لے کر دیگر علاقائی تنازعات تک، یہ ممالک بارہا مذاکرات کی میز سجانے میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ریاستیں محض تماشائی یا سرمایہ کار نہ رہیں بلکہ ضامنِ امن بن کر سامنے آئیں، مشترکہ علاقائی کانفرنس بلائیں، سرحدی سلامتی اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف مربوط حکمت عملی طے کریں اور واضح پیغام دیں کہ خطے کو کسی نئی جنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    دوسری طرف پاکستان کی صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑتا آیا ہے۔ بے شمار جانوں کی قربانی اور بھاری معاشی نقصانات کے باوجود اس نے اپنی دفاعی صلاحیت اور ریاستی عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، مگر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اصل ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ کشیدگی کو سفارت کاری، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے کم کیا جائے۔

    بین الاقوامی تناظر میں اگر افغانستان میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ وسط ایشیا کی ریاستیں، خلیجی ممالک، حتیٰ کہ یورپی خطہ بھی مہاجرین کے نئے بحران، انتہا پسند عناصر کی نقل و حرکت اور تجارتی و توانائی راہداریوں پر دباؤ کی صورت میں اس کے اثرات محسوس کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ کسی ایک سرحد یا دو طرفہ کشیدگی کا نہیں بلکہ عالمی امن اور معیشت کا سوال بن چکا ہے۔
    آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ علاقائی قیادت فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی اپنائے، اقتصادی تعاون کو سیکیورٹی اقدامات سے جوڑے، اور عالمی طاقتوں کو بھی فعال سفارتی کردار ادا کرنے پر آمادہ کرے۔ اگر خلا پیدا ہوا تو شدت پسند قوتیں اسے پُر کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں بروقت فیصلہ نہیں کرتیں تو حالات ان کے لیے فیصلے کر دیتے ہیں۔

    جنگ کی گونج سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی، مگر دانشمندانہ قیادت تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ آج خطے کو اسلحے کی نمائش نہیں، بصیرت، تدبر اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ فیصلہ طاقت کا نہیں، قیادت کا ہے،اور یہی قیادت آنے والی نسلوں کے امن کی ضامن بن سکتی ہے۔

  • ہماری ترجیحات  صرف پروٹوکول  یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہماری ترجیحات صرف پروٹوکول یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    وقت نے ثابت کر دیا کہ ہماری ترجیحات عوامی نہیں کیونکہ پچھلے 78 سالوں سے ہم بطور پاکستان ایک لیبارٹری کا کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کبھی ہم الف انار سے آگے نہیں بڑھ سکے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے برسر اقتدار لوگوں کو اپنے پروٹوکول سے عرض ہے اور اگر ہم الف انار سے آگے نکل گئے تو الف سے اللہ پڑھ لیا تو لوگوں کے ذہنوں میں اللہ کی محبت جاگنے لگے گی جو کہ پروٹوکول والوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اس لیے الف انار ہی کافی ہے ۔

    پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ڈی سی، اے سی اور پرائس کنٹرول والے ادارے بے بس نظر آتے دکھائی دیتے ہیں شائد سسٹم میں خرابیاں ہیں جو ہم دور نہیں کرنا چاہتے پکڑ دھکڑ ایف آئی آر حوالات میں بند کرنا جو حل نہیں مسلئہ کی روح کو سمجھنا ضروری ہے جو ہم کرنا ہی نہیں چاہتے ۔

    بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار سکڑ رہے ہیں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ لیکن اگر ہمارے ریاستی اور انتظامی رویّوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اصل مسائل معیشت، روزگار اور عوامی فلاح نہیں بلکہ پروٹوکول، نمائشی دورے اور عہدوں کی شان و شوکت بن چکے ہیں۔

    آج بھی کسی سرکاری شخصیت کی آمد کی اطلاع ملے تو سڑکیں بند، ٹریفک معطل اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ معمول کی بات ہے۔ مریض ایمبولینس میں انتظار کرتے رہتے ہیں، طلبہ امتحان کے لیے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی وقار کا تقاضا عوام کو تکلیف دینا ہے؟ یا اصل وقار عوام کی سہولت اور خدمت میں ہے؟

    بدقسمتی سے ہمارے ہاں پروٹوکول ایک انتظامی ضرورت سے بڑھ کر اختیار اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔ لمبے لمبے قافلے، درجنوں گاڑیاں، غیر ضروری سکیورٹی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ایک ایسا کلچر بن چکا ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔دوسری طرف ملک کی معیشت کمزور ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر ہیں۔لاکھوں کی تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں جن میں ڈاکٹر انجینئر اور پڑھا لکھا طبقہ دیدارِ غیر کی پرواز کرچکا ہے اور باقی انتظار میں ۔چھوٹے کاروبار مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ صنعتوں کی رفتار سست ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کی اولین ترجیح معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور عوامی ریلیف ہونی چاہیے، لیکن عملی طور پر زیادہ توجہ نمائشی سرگرمیوں اور رسمی تقریبات پر دی جا رہی ہیں۔

    یہ پروٹوکول کلچر صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے میں بھی سرائیت کر چکا ہے۔ عہدہ، دولت یا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد خود کو عام شہری سے مختلف اور برتر سمجھنے لگے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم اور احساسِ محرومی کو بڑھا دیا ہے۔ جب ایک عام شہری دیکھتا ہے کہ قانون اور سہولیات سب کے لیے برابر نہیں تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں اعلیٰ حکام سادگی کو ترجیح دیتے ہیں، عوام کے درمیان بغیر غیر ضروری پروٹوکول کے آتے جاتے ہیں، اور ریاستی وسائل کا ہر ممکن بچاؤ کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کارکردگی کو اہمیت دی جاتی ہے، نمود و نمائش کو نہیں۔جب کہ اسلام بھی اس منع کرتا ہے ۔

    پاکستان کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے جب کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ غیر ضروری پروٹوکول اور نمائشی اخراجات کو کم کر کے وسائل کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کا عہدہ اختیار نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری ہے۔مگر یہ اب تک ممکن نہیں ہوسکا بہرحال امید قوی ہے اتنا انتظار مزید کرنے سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے خاص طور پر ضلعی اور مقامی سطح پر بھی اس سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عوامی مسائل—ٹوٹے ہوئے روڈ، سیوریج کے مسائل، پینے کے پانی کی کمی، سرکاری اداروں کی کارکردگی—ان پر توجہ دینے کے بجائے اگر سارا زور استقبال، پروٹوکول اور رسمی سرگرمیوں پر ہو تو عوام کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ دونوں مل کر ایک نئی سوچ کو اپنائیں۔ سادگی، خدمت اور کارکردگی کو عزت دی جائے ووٹ والی بات الگ ہے جبکہ نمود و نمائش اور غیر ضروری پروٹوکول کی حوصلہ شکنی کی جائے۔مگر کون کرے گا جو پروٹوکول کے دلدادہ ہیں حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی طاقت لمبے قافلوں یا بند سڑکوں میں نہیں، بلکہ خوشحال عوام، مضبوط معیشت اور برابر کے نظام میں ہوتی ہے۔جب حکمرانی کا مرکز عوام بن جائیں گے تو ترقی خود راستہ بنا لے گی۔ پہلے قوم بننا ضروری ہے ، آخر کب تک امید کا دامن تھامے رکھو گے ؟

  • امریکہ اور ایران: جنگ کی آہٹ یا سفارت کی ضرورت؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران: جنگ کی آہٹ یا سفارت کی ضرورت؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے۔ کبھی جوہری پروگرام کا معاملہ، کبھی مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی جنگ، اور کبھی اسرائیل سے وابستہ تنازعات،یہ سب عوامل دونوں ممالک کو بارہا آمنے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

    حقیقت یہ ہے کہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا امکان کم ضرور ہے، مگر خطرہ بہرحال موجود رہتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ ایران کوئی کمزور ملک نہیں۔ اس کے پاس میزائل صلاحیت موجود ہے، خطے میں اس کے اتحادی گروہ ہیں، اور آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام پر اس کا جغرافیائی اثر نمایاں ہے۔ دوسری طرف ایران بھی سمجھتا ہے کہ براہِ راست جنگ اس کی معیشت اور داخلی استحکام کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اسی لیے دونوں ممالک عمومی طور پر براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں، مگر محدود کارروائیاں یا پراکسی محاذ آرائی کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتی ہے۔

    اگر خدانخواستہ جنگ شروع ہوتی ہے تو سب سے پہلے خلیجی خطہ متاثر ہوگا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک، جہاں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات موجود ہیں، دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے۔عراق، شام اور لبنان جیسے ممالک پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ ایران کے اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ ممالک ممکنہ پراکسی جنگ کا میدان بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں دہشت گردی، خانہ جنگی اور سیاسی افراتفری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

    ایران کے پڑوسی ممالک بھی اس صورت حال سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ پاکستان کو سرحدی کشیدگی، مہاجرین کے ممکنہ دباؤ اور سفارتی توازن کے نازک مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ترکی اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کریں گی، مگر معاشی اثرات سے بچنا آسان نہیں ہوگا۔عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت کو سست روی کا شکار کر سکتا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت صف بندی کریں گی، جس سے عالمی سیاست میں نئی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔

    لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی بدامنی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایک اور جنگ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مسئلے کا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہے۔

  • بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بسنت بے شمار خرابیوں، بربادیوں کا مجموعہ، معاشرتی اقدار اور ریاستی رٹ کے قتلِ عام کی علامت بن گئی ۔ جس کی قیمت معصوم شہری اپنی جانوں، اعضا اور محنت کی کمائی سے ادا کرتے رہے ، اگر چہ بسنت کو خوشی کے ایک تہوار کا نام دیا حالانکہ یہ خوشی کا تہوار نہیں بلکہ ایک ایسا خونی تہوار اور سفاکیت کی علامت بن گیا جس کی ڈور تلوار کی طرح گردنیں کاٹ دیتی ہے ، موٹر سائیکل سوار موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ، جس کے شیشے، کیمیکل اور دھات سے بنے دھاگوں نے شہر میدانِ جنگ بنا دیے !

    پرویز مشرف حکومت کے خاتمہ کے بعد جب نئے انتخابات ہوئے تو پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے انھوں نے بسنت منانے ، پتنگیں اڑانے پر سخت پابندی لگا دی ۔ اس پابندی کی وجہ سے پنجاب کے عوام نے سکھ اور سکون کا سانس لیا ۔ کئی سال تک پنجاب میں امن اور سکون رہا لیکن معلوم نہیں کیا وجہ بنی کہ میاں شہباز شریف کی بھتیجی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو یہ سکون پسند نہ آیا انھوں دوبارہ سے سرکاری سطح پر بسنت منانے اور پتگیں اڑانے کی اجازت دے دی ہے ۔ شنید ہے کہ لاہور کے بعد پنجاب کے باقی شہروں میں بھی یہ ہندووانہ خونی تہوار منایا جائے گا ۔

    نام نہاد تفریح کے نام پر معصوم شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی گئیں ۔ اس خونی ہندووانہ رسم کی وجہ سے کئی بچے یتیم ہوئے ، عورتیں بیوہ ہوئیں اور لاتعداد گھر اجڑ گئے ہیں ۔ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ بسنت تفریح نہیں بلکہ ایک قاتل سرگرمی بن چکی ہے۔
    کہنے کی حد تک ایک ڈور ہے ، ایک پتنگ ہے اور ایک وہ ہے جو اس پتنگ کو اڑانے والا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک قاتل ڈور ہوتی ہے جو ا نسانی لاشیں گراتی ہے ۔ بسنت کے دوران استعمال ہونے والی ڈوریں براہِ راست انسانی قتل کا ذریعہ بن چکی ہیں۔یہی وجہ ہے اس بار بھی کئی افراد موت کے گھاٹ اترے اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے ، کئی افراد کے سر قلم ہوئے یا گردن کٹنے جیسے ہولناک حادثات کی وجہ سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔یہ ایک ایسا قبیح عمل ہے کہ جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار، مزدور، طالب علم یہاں تک کہ اسکول جاتے بچے محفوظ نہیں۔
    اس دفعہ جب بسنت منائی گئی اس دن سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی، ڈاکٹر اور نرسیں اضافی ڈیوٹیاں انجام دیتے رہے ، ریاست لاکھوں روپے صرف اس لیے خرچ کرتی ہے کہ چند لوگ آسمان پر کاغذ اڑا سکیں۔
    سوال یہ ہے کہ یہ اخراجات کس نے ادا کئے ؟
    کیا ریاست نے ؟ نہیں۔
    کیا حکومت نے ؟ نہیں۔
    یہ قیمت عام شہری، ٹیکس دہندہ اور متاثرہ خاندانوں سے وصول کی گئی ۔
    بسنت کا سب سے تاریک پہلو وہ معصوم بچے ہیں جو چھتوں پر پتنگ لوٹتے ہوئے گر کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یا جن کی گردن قاتل ڈور سے کٹ جاتی ہے۔ ان بچوں کے والدین کے لیے بسنت ایک دن نہیں بلکہ عمر بھر کا زخم بن جاتی ہے ، کوئی قانون، کوئی روایت، کوئی ثقافت اس دکھ کا مداوا نہیں کر سکتی۔
    بسنت کی وجہ سے صرف معاشی نقصان ہی نہیں ہوتا بلکہ چھتوں سے زیادہ قبرستان آباد ہوتے ہیں ۔
    بسنت کو سیاحت اور معیشت کے فروغ کا ذریعہ قرار دینے والے یہ حقیقت جان بوجھ کر چھپاتے ہیں کہ اس تہوار سے ہونے والا مالی اور جانی نقصان اس کے مبینہ فوائد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بجلی کے تار کٹتے ہیں ، ٹرانسفارمر جلتے ہیں ، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہوتی ہے ، عمارتوں، گاڑیوں اور سولر سسٹمز کو نقصان پہنچتا ہے ، پولیس، ریسکیو اور ہسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے
    افسوس کہ بسنت مافیاجس میں صنعتکار، سیاست دان اور بااثر حلقے شامل ہیں بڑے بڑے پلازوں اور حویلیوں کی چھتوں پر پتنگیں اڑاتے جبکہ لاشیں ہمیشہ غریبوں کے حصے میں آتی ہیں۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بات مت بھولیں کہ ہمارے دین نے انسانی جان کو سب سے قیمتی قرار دیا ہے۔ ایک جان کا ضیاع پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ایسے میں ایک ایسی سرگرمی جو مسلسل جانیں لے رہی ہو، اسے ثقافت کے نام پر جائز قرار دینا بدترین اخلاقی دیوالیہ پن ہے ۔
    معاشرے وہی ترقی کرتے ہیں جو تفریح اور ذمہ داری کے درمیان حد قائم رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے یہ حد کب کی پار کر لی ہے۔
    میڈیا اور اشرافیہ کا کردار بھی قابل افسوس ہے ۔میڈیا بسنت کو رنگین مناظر، ڈرون شاٹس اور موسیقی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اشرافیہ محفوظ فارم ہاؤسز اور بلند عمارتوں پر جشن مناتی ہے، جبکہ سڑکوں پر مرنے والے عام لوگ ہوتے ہیں۔یہ طبقاتی تفریق بسنت کو مزید قابلِ نفرت بنا دیتی ہے۔ حل کیا ہے؟ حل کوئی مشکل نہیں، بس نیت کی ضرورت ہے مکمل اور مستقل پابندی قاتل ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے پر پابندی اور ناقابلِ ضمانت سزائیں ۔
    اس سلسلہ میں عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ جب تک لاشوں کے بدلے صرف بیانات آتے رہیں گے تب تک بسنت قاتل ہی رہے گی۔
    آخری سوال
    کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم ہیں جو چند گھنٹوں کی تفریح کے لیے اپنے بچوں کی جانیں قربان کرنے پر تیار ہیں؟یا پھر اب بھی وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں ۔۔۔۔بسنت یا انسان۔۔۔۔؟ یہ فیصلہ ریاست کو بھی کرنا ہے، معاشرے کو بھی اور ہر اس فرد کو بھی جو بسنت کو محض تفریح کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
    یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ بسنت پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی تھی جو قیمتی انسانی جانوں کے مسلسل ضیاع کے بعد لگائی گئی تھی۔ عدالتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خود حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی تھیں کہ بسنت ایک خطرناک، جان لیوا اور ناقابلِ کنٹرول سرگرمی بن چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود حالیہ برسوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری سرپرستی میں بسنت منانے کا اقدام نہ صرف افسوسناک بلکہ اخلاقی، انتظامی اور انسانی سطح پر مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
    جب ایک حکومت خود اس سرگرمی کو فروغ دے جس پر وہ ماضی میں پابندی لگا چکی ہو تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ریاستی فیصلے لاشوں کی تعداد کے مطابق بدلتے رہیں گے؟ کیا وہی سرگرمی جو کل قاتل تھی، آج محض اس لیے ثقافت بن گئی کہ سیاسی فائدہ یا وقتی مقبولیت حاصل کی جا سکے؟ یہ دوغلا پن دراصل عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی جانوں کی کوئی مستقل قدر نہیں، سب کچھ سیاسی مفاد کے تابع ہے۔
    سرکاری سطح پر بسنت کی اجازت دینا درحقیقت بسنت مافیا کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے، جو اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جب حکومت خود پشت پناہی کر رہی ہے تو پابندی، قانون اور احتیاط کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اس سرکاری سرپرستی نے نہ صرف قانون کی ساکھ کو مجروح کیا ہے بلکہ ان تمام خاندانوں کے زخم بھی ہرے کر دیے ہیں جنہوں نے ماضی میں بسنت کی نذر ہو کر اپنے پیارے کھوئے تھے ۔
    یہ فیصلہ دراصل ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے:آج بسنت، کل کوئی اور جان لیوا روایت۔۔۔۔ یوں ریاست خود اپنے شہریوں کی قاتل بن جاتی ہے۔

  • گجر خان گرین بس سروس  پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گجر خان گرین بس سروس پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گجر خان گرین بس سروس کو صرف پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کر دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک عوامی سہولت کے وژن کو محدود کرنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ جب مریم نواز شریف نے گجر خان سے راولپنڈی تک آرام دہ اور محفوظ سفری سہولت کا اعلان کیا تو اس کا بنیادی مقصد طلبا و طالبات، بزرگ شہریوں، ملازمت پیشہ افراد اور خصوصاً خواتین کو باوقار اور سستا سفر فراہم کرنا تھا۔لیکن اگر اس سروس کو شہر کے مرکزی مقامات تک پہنچانے کے بجائے پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود رکھا گیا ہے تو اس سے اصل فائدہ اٹھانے والے طبقات کو مکمل سہولت میسر نہیں آ سکے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر کالجز، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور دفاتر جانے والوں کے لیے منزل تک رسائی ہی اصل سہولت ہوتی ہے، نہ کہ نصف راستے تک۔

    ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کے اس اقدام سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید نچلی سطح پر منصوبہ بندی میں وہ سنجیدگی نہیں دکھائی گئی جس کی عوام توقع رکھتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ کی نیک نیتی اور عوامی ریلیف کے وژن کو بیوروکریسی کی سطح پر مکمل عملدرآمد نہ ملے تو ایسے منصوبے اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ٹریفک، سیکیورٹی یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا؟ اگر ایسا ہے تو عوام کو اعتماد میں لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ شفافیت ہی اعتماد کو جنم دیتی ہے۔گجر خان کے عوام خصوصاً طلبا، طالبات اور خواتین یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں مکمل اور براہِ راست سفری سہولت فراہم کی جائے، تاکہ حکومتی وعدہ عملی شکل میں نظر آئے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور گرین بس سروس کو اس کے اصل روٹ تک توسیع دے، تاکہ وزیراعلیٰ کے عوامی وژن کی حقیقی تعبیر سامنے آ سکے۔