Baaghi TV

Category: سیاست

  • صوبائی دارالحکومت لاہور بدحالی کا شکار.تحریر:ملک سلمان

    صوبائی دارالحکومت لاہور بدحالی کا شکار.تحریر:ملک سلمان

    نواز شریف کی یہ خوبی سب سے منفرد ہے کو انہوں نے پنجاب اور پاکستان کو جدید سہولیات سے آراستہ بھی کیا لیکن اس کی قدیم تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے بھی عملی اقدامات کیے۔ تہذیب و ثقافت کا گہوارہ اور تاریخی اہمیت کے حامل لاہور کی قدیمی حیثیت کی بحالی کے اعلان سے لاہور سے محبت کرنے والے ہر فرد نے اس فیصلے پر شدید خوشی کا اظہار کیا۔ دنیا بھر میں موجود لاہوریوں نے اسے لاہور اور پنجاب کی سیاحت کے فروغ کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہوئے قدیم ثقافت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ ایک طرف نواز شریف لاہور کو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے جارہے ہیں تو دوسری طرف لاہور لاقانونیت کی عملی شکل اور تجاوزات کا اڈا بن چکا ہے۔
    دنیا بھر میں صوبائی دارلحکومت کو ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ماضی میں جب شہباز حکومت میں لاہور کی تعمیروترقی پر تنقید ہوتی تھی تو میں ناقدین کو سمجھاتا تھا کہ لاہور صوبائی دارلحکومت ہے اور دنیا کے تمام ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ آپ صوبائی ہیڈکوارٹر کو سب سے زیادہ ڈویلپ کرتے ہیں۔ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ میں سارا پاکستان لاہور کو رشک نگاہوں سے دیکھتا تھا۔
    اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔
    ویسے تو پورے پنجاب کی ٹریفک پولیس ہی ٹک ٹاکر، کام چور اور غیرقانونی پارکنگ مافیا کی ساتھی ہے لیکن لاہور ٹریفک پولیس کا شمار نااہل اور کرپٹ ترین میں ہوتا ہے۔ ابھی تک بغیر نمبر پلیٹ،بلیک پیپر،راڈ لگاکر چھپائی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوسکی۔
    کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔
    ٹی ڈی سی پی سائٹ سیننگ بس سروس سے لاہور کو ایکسپلور کروانے کا اچھا انتظام کیا گیا ہے لیکن تجاوزات اور بے ہنگم ٹریفک کے باعث اس سہولت سے پوری طرح سے لطف اندوز ہونا ممکن نہیں ہو رہا۔
    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائدمالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پچاس کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور کی ہدایات کے باوجود میونسپل کارپوریشن اور اسسٹنٹ کمشنرز احکامات پر عمل درآمد کرکے اپنی منتھلی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔
    لاہور میں 20فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔ چھوٹے موٹے چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کرنا شروع کی ہوئی ہیں تو متعدد مقامات پر حکومتی اداروں کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ رہائشی علاقوں میں قائم سرکاری دفاتر کے سامنے اور لیف رائٹ والے گھروں نے بیچ سڑک پتھر رکھ کر رکاوٹیں قائم کی ہوئی ہیں کہ کوئی سرکاری گاڑی پارک نہ ہوجائے۔ قانون کی رٹ ختم ہوچکی ہے۔ گھروں کی باہر سرکاری زمین پر نرسریاں اور گارڈ روم بنائے جارہے ہیں۔ کار شو رومز اور کار مکینک لاہور کی تمام سڑکوں پر قابض ہو کر بیچ سڑک دکانداری کررہے ہیں۔
    خوش آئند بات ہے کہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ ٹک ٹاکر نہیں ہیں اور پروفیشل پولیسنگ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران کی دیانت داری، میرٹ اور فرض شناسی کا ہر کوئی معترف ہے جس کے نتیجے میں آج لاہور پولیس کا شمار دنیا کی بہترین پولیس میں ہورہا ہے۔
    سرکاری زمینوں پر قائم غیر قانونی ہاؤسنگ پراجیکٹس،کمرشل مارکیٹوں اور دیگر تعمیرات کا ماہانہ کرایہ سرکاری افسران کھا رہے ہیں۔باغوں کے شہر لاہور کے پارکس کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہے ہیں۔ ایل ڈی اے کے افسران تو مہینوں میں کروڑ پتی ہوجاتے ہیں لیکن شہریوں اور حکومتی مفاد کے کام نہیں ہوتے۔ لاہور کے آدھے سے زائد پیٹرول پمپ کسی بھی طور پر رجسٹریشن کی بنیادی شرائد پر پورا نہیں اترتے اور کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں سب اپنا حصہ وصول کر”اوکے“ کی این او سی دے رہے ہیں۔

    تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی کامیابی کے چانسز بھی معدوم ہیں کیونکہ اکثر تحصیلوں میں PERA کا چارچ اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلداروں کے پاس ہے۔ وہی قاتل وہی منصف کے مصداق اگر یہ اسسٹنٹ کمشنرز اور تحصیلدار اتنے ہی اچھے ہوتے تو سرکاری زمینوں پر قبضے ہی کرواتے۔ اسی طرح انڈرٹریننگ پیریڈ مکمل کرکے PERAمیں آنے والے نئے بچوں نے کام تو شروع نہیں کیا لیکن سوشل میڈیا پر دن رات ویگو ڈالوں کے ساتھ فوٹو سیشن اور ڈالہ گردی کرتے ضرور نظر آرہے ہیں۔PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر اس کیلئے ریگولر افسران بھرتی کیے جائیں جو مقامی اسسٹنٹ کمشنرز کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم اور ڈی جی کو کرسکیں۔ فی الحال تو ایسا ہوتا ممکن نہیں لگ رہا کیونکہ PERAکے افسران اسسٹنٹ کمشنرز سے جونئئیر بیچ کے ہیں اور خود کو انکا ماتحت ہی تصور کرتے ہیں۔

    مریم نواز اپنی وزارت اعلیٰ میں سات دفعہ تجاوزات کے خاتمے کا الٹی میٹم دے چکی ہیں لیکن بیوروکریسی تجاوزات ختم کروانے میں سیریس نہیں۔تجاوزات فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا۔
    اگر سی سی ڈی 30دن میں جرائم کا خاتمہ کرسکتی ہے تو ضلعی افسران ایک سال میں تجاوزات ختم نہیں کرواسکتے تھے؟ سب ممکن ہے لیکن اس کیلئے حرام کی کمائی چھوڑنا پڑتی ہے۔

    maliksalman2008@gmail.com

  • گالی،الزام،بدتمیزی پاکستانی قوم کا کلچر ٹھہرا،ہم کب سدھریں گے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    گالی،الزام،بدتمیزی پاکستانی قوم کا کلچر ٹھہرا،ہم کب سدھریں گے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بارش نے کئی شہر ڈبو دئیے،ہر بات کی ذمہ دار حکومتیں نہیں ،کیا ہم خود شہری آداب پورے کرتے ہیں ؟
    بارشوں سے امریکہ جیسے ممالک میں نظام زندگی مفلوج ہوا ،کسی نے حکومت کو مورود الزام نہیں ٹھہرایا
    کوڑا شاپر میں بند کرکے نالوں کی نذر کرنا وطیرہ،بارش میں سیوریج سسٹم بند کیوں نہ ہو،اخلاقیات کہاں گئیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر مغرب کے کئی ممالک کوحالیہ بارشوں کی وجہ سے جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، فطرت کا مزاج ایک جیسا نہیں رہتا، موسلادار بارشیں ہوں تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے، موجودہ دور میں انسان تو ایک دوسرے کو کوستے رہے ہیں، اب موسموں کے تیور بھی بدلنے لگے ہیں، حالیہ بارشوں سے پاکستان ، بھارت ،سری لنکا،بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک میںنے تباہی مچائی ہے، پنجاب ہی نہیں ملک کے مختلف صوبے شدید بارشوں کی لپیٹ میں ہیں، دنیا میں شدید بارشوں کے دوران جانی ومالی نقصان کی خبریں،تباہ کاری زیر آب شہروں کی خبریں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر آرہی ہیں، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے، جہاں بارشوں کو بھی سیاسی رنگ دیا جاتا ہے اور جس صوبے میں شدید بارشیں ہو ،تباہی ہو، اُس کا ذمہ دار صوبے کی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے ، لاہور میں بارش عذاب کیوں بنتی ہے ؟ بارش کے بعد گلی محلے اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے کی وجہ نالوں کی صفائی کا نہ ہونا ،دوسری وجہ عوام کی اکثرت بالخصوص عورتیں گھر کی اور کچن کی صفائی کرتے وقت ایک شاپر میں سارا گند کوڑے دان کی بجائے گلی محلے سے گزرتے نالے میں پھینک دیتی ہیں ،جس سے نالوں کا بلند ہو جانا ،دوسرا سوریج سسٹم نکاسی آب کا نظام ، عوام کو اپنے اعمال درست کرنے چاہئیں اور متعلقہ اداروں کو بھی ،حکومت پنجاب کو چاہیے ناقص سیوریج سسٹم میں بہتری لانے سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے ، عوام بھی صفائی کا خیال رکھیں، بحیثیت قوم ہم زوال کے دور سے گزر رہے ہیں ،ہم ایک گستاخ قوم بنتے جا رہے ہیں،اللہ تعالی کے احکامات اور نبویﷺ کی سنت سے دور ہوتے جا رہے ہیں،اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا، ناپ تول میں کمی ، دھوکہ دہی بڑے چھوٹے کی تمیز جاتی رہی، پارلیمنٹ ہائوس سے لے کر سوشل میڈیا پر گالی گلوچ دینے والا ہمارا ہیرو کہلاتا ہے، دلیل سے بات کرنے والوں کو ذلیل کیا جاتا ہے ،

    ہم اہل پاکستان مسلمان ہیں موجودہ دور میں ہمارے اخلاق ناقابل برداشت حد تک تُرش اور تند ہو گئے ہیں، گالی گلوچ ہمارا شغل بن چکا ہے ، ہمیں اخلاقی عظیم کے حامل رسول کریم ﷺکے امتی ہونے کے ناطے ہر ممکن حد تک اپنے اخلاق میں سنت نبویﷺ کی جھلک کو لانا ضروری ہے ، اخلاق حُسنہ مومن کا سرمایہ حیات ہے÷

  • غزوہ ہند کا سندور،تحریر:غنی محمود قصوری

    غزوہ ہند کا سندور،تحریر:غنی محمود قصوری

    غزوہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جنگ کے ہیں اور غزوہ ہند سے مراد ہند،ہندوستان کی جنگ ہے
    سندور ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سرخی کے ہیں
    سندور نارجی یا سرخ رنگ کا ایک پاؤڈر ہوتا ہے جو شادی شدہ ہندو عورتیں اپنے سر کی مانگ میں لگاتی ہیں تاکہ شوہر سے وفاء رہے اور اس کی عمر دراز رہے

    نبی رحمت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ ہند بارے احادیث موجود ہیں
    غزوہ ہند ہو چکا یا ہو رہا یا پھر ہو گا یہ ایک الگ موضوع ہے تاہم میں بات کرتا ہوں گزشتہ دو ماہ قبل غزوہ ہند یعنی پاک ہندو جنگ کی جس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہند کو لگام ڈالی گئی اور کتے کی طرح اسے بھونکنے اور بھاگنے پر مجبور کیا گیا

    ہمارے ازلی اور کمینے دشمن ہندوستان نے ہمارے اور اپنے قیام سے ہی ہم پاکستانیوں کو نقصان ہی نقصان پہنچایا ہے اور کوشش کی ہے کہ پاکستان صفحہِ ہستی سے مٹ جائے،تاہم بفصل ربی ہم پہلے سے پھلے پھولے ہیں اور قیامت تک ہمارا رب ہمیں ایسے ہی ترقی دیتا رہے گا ان شاءاللہ،ہندوستان نے ارض پاکستان میں ہر طرح کی تخریب کاری کروائی جس کیلئے اس نے پاکستان کے اندر قومیت،وصوبائیت،لسانیت اور فرقہ پرستی کے نام پر دہشت گرد جماعتوں کو کھڑا کیا اور ان کو فنڈنگ و ٹریننگ دے کر اور ہتھیار تھما کر پاکستان کے خلاف کرکے اپنے مقصد کی یلغاریں کروائیں تاہم وہ آج دن تک ناکام ہے اور رہے ان شاءاللہ

    ایسی ہی ایک یلغار رواں سال ماہ رمضان میں اس نے اپنے پالتو دہشت گرد خارجی گروہ بلوچ لبریشن آرمی سے کروائی ،11 مارچ 2025 کو بلوچستان کے علاقے میں جعفر آباد ایکسپریس ٹرین کو بی ایل اے کے کارندوں نے ہندوستان کے ایماء پر ہائی جیک کیا اور سوچا کہ نہتے مسافروں بشمول عورتوں اور بچوں کے وہ ان کو ڈھال بنا کر اپنے مطالبات تسلیم کروا لے گا تاہم الحمدللہ ہماری فورسز نے تاریخ کا ایک انتہائی مشکل ترین آپریشن چند گھنٹوں میں مکمل کیا اور ٹرین مسافروں کو بحفاظت بازیاب کروا کر ٹرین ہائی جیک کرنے والے خوارج کو قتل کیا اور اس کے مکمل پروف دنیا کے سامنے رکھے کہ کسطرح ہندوستان نے اپنے پالتو کتوں کے ذریعے پاکستان کو زک پہنچائی،ہندوستان کی پالیسی ہر بار کی طرح اس بار بھی ناکام ہوئی اور الٹا و دنیا کی نظروں میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر آ گیا

    مکار ہندو نے اپنی مکاری اور دہشت گردی کو معصومیت اور مظلومیت میں بدلنے کیلئے ایک چال چلی اور 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں لائن آف کنٹرول سے بہت دور پہلگام کے مقام پر خودساختہ طور پر 28 سیاحوں کو قتل کرکے اس کا الزام مقامی کشمیری آزادی پسند مسلح جماعت ڈی ریزسٹنس فورس یعنی TRF پر لگا دیا اور شور مچایا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں آئی ایس آئی نے کی اور ساری فنڈنگ و اسلحہ بارود پاک فوج نے دیا اور اس کی معاونت لشکر طیبہ اور چند جہادی پاکستانی لوگوں نے کی ہے لہذہ میں بدلہ لونگا

    بھارت نے پہلگام حملہ پر بہت ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی اور خود کو مظلوم ظاہر کروایا تاہم اس کے اپنے ہی لوگوں نے سوال کر دیا کہ ایک چھوٹے سے خطے مقبوضہ کشمیر میں 11 لاکھ ہندوستانی فوج تعینات ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ حملہ آور باہر سے آکر آرام سے کاروائی کرکے چلے گئے؟اس سوال پر ہندوستان اور بھی پریشان ہوا اور اپنی سبکی مٹانے کیلئے اور خود کو بڑا بہادر ظاہر کرنے کیلئے پاکستان پر حملے کی دھمکی لگا دی

    ہندوستان نے 7 مئی کو رات کی تاریکی میں پاکستان کے شہروں مریدکے اور بہاولپور میں حملے کئے اور اس آپریشن کو سندور کا نام دیا اور پہلگام حملے کا بدلہ لینے کا بہانہ بنایا،مریدکے میں جامع مسجد ام القریٰ اور اس سے ملحقہ سرکاری ہیلتھ اور ایجوکیشنل کمپلیکس کو نقصان پہنچا اس حملے میں 3 افراد شہید اور 2 زخمی ہوئے،بہاولپور میں مرکز سبحان اللہ پر حملے میں 13 افراد شہید اور 37 افراد زخمی ہوئے نیز ہندوستان نے مظفر آباد و دیگر علاقوں پر بھی جارحیت کرتے ہوئے پاکستانی نہتی عوام کو شہید کیا اور مسجدوں و دیگر املاک کو نقصان پہنچایا،پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارتی جارحیت کو رکھا تاہم بھارت نے ہمارے اس فعل کو ہماری کمزوری جانا اور پاکستان پر اسرائیلی ڈرونز بیجھنے شروع کئے جسے پاک فوج و سویلینز نے مل کر مار گرایا،بھارت کی اس جارحیت پر پاکستان نے احتجاج کیا اور وارننگ دی کہ اگر ہندوستان باز نا آیا تو پھر ہمارا جواب پوری دنیا دیکھے گی،پاکستان نے 10 مئی کی صبح نماز فجر کے بعد سنت کے مطابق ہندوستان پر بیلسٹک میزائل فتح ون سے اپنے آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا
    پاکستانی فوج نے ہیوی ترین آرٹلری فائرنگ کی اور پاکستان ائیر فورس کے عقابوں نے ہندوستان میں گھس کر اس کے ملٹری و ائیر بیسز اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تک تباہ کئے،ہمارے شیر دل ہیکرز نے بھارتی ٹی وی چینلوں کی لائیو نشریات،ان کی ریل سروس،ڈیم سسٹم،ائیر لائن کنٹرول و دیگر نظاموں پر کنٹرول کر لیا حتی کہ اس کے جدید ترین لڑاکا طیارے رافیل اور جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم ایس 400 تباہ کیا،ہندوستان میں پاکستان کے اس جوابی وار میں ہو گا عالم طاری ہو گیا ،بھارت پاکستان کے رحم و کرم پر رہ گیا ،حسب سابق کی طرح ہندوستان نے امریکہ،سعودی عرب،قطر و دیگر ممالک کی منت کی اور 10 مئی کو ہی سیز فائر کی منت کی جسے پاکستان نے بھی مان لیا

    79 سال تک ہندوستان نے جو جعلی طور پر اپنا نام بدمعاشی میں پیدا کیا تھا وہ محض 65 منٹ میں پاکستان نے ختم کر دیا ،حالات یہ بن گئے کہ ہندوستان کی مسلمان کرنل صوفیہ قریشی کو ملک چھوڑنا پڑا اور وہ آج بھی گمنام ہے،اسی طرح رافیل پائلٹ شیوانگی بھی گمنام ہے ہندوستان اسے آج دن تک میڈیا کے سامنے نہیں لا پایا
    الحمدللہ پاکستانی فوج اور عوام نے ملک کر ہندوستان کو ایسا جواب دیا کہ دنیا کے ہر ملک کی زبان سے نکلا کہ اگر جنگ بندی نا ہوئی تو ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا،الحمدللہ بیشتر چیک پوسٹوں پر آج بھی پاکستانی فوج کا قبضہ ہے اور وہ نریندر مودی جو جگا بن کر جنگ کی باتیں کیا کرتا تھا آج اپنی ہی عوام سامنے منہ چھپاتا پھر رہا ہے کیونکہ پاکستان نے اسے غزوہ ہند میں سندور لگا دیا ہے

    امید ہے ہندوستان اب کئی دہائیوں تک جنگ کی بات نہیں کرے گا کیونکہ پاکستان نے پراکسی وار کرتے ہوئے بنگلہ دیش،نیپال،سری نکا و دیگر ہمسایہ ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر ہندوستان کو خطے میں تنہاء کر دیا ہے
    بڑی امید ہے اب ہندوستان کی عورتیں بھی سمجھ چکی ہونگیں کہ سندور لگانا درازی عمر اور وفاء نہیں بلکہ ایمان و تقوی ہی سب کچھ ہے

  • سعودی عرب کا  اثر و رسوخ اور غزہ و کشمیر کے مسئلوں میں کردار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سعودی عرب کا اثر و رسوخ اور غزہ و کشمیر کے مسئلوں میں کردار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    غزہ کی منظم تباہی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام روکنے کے لئے مسلم ممالک کے مذمتی بیانات جو صدیوں سے جاری ہے واحد راستہ ایک امام کے پیچھے کھڑے ہوجائیں وہ امام سعودی عرب ہے۔ سعودی عرب دوسرے اسلامی ممالک کو ساتھ لے کر عالمی طاقتوں سے مذاکرات کرے تاکہ غزہ اور کشمیر کا فیصلہ ہوسکے۔ غزہ میں مزید ہلاکتوں کو روکنے کا واحد راستہ یہی ہے عالم اسلام کے ممالک سعودی عرب کی امامت میں عالمی قوتوں سے مذاکرات کریں۔ سعودی عرب کے موجودہ حکمران اچھی پوزیشن میں ہیں وہ عالمی قوتوں پر دبائو ڈال کر اچھا فیصلہ کروانے کی پوزیشن میں ہیں۔ سعودی عرب عالم اسلام کی مرکزی طاقت ہے کئی اسلامی ممالک پر سفارتی اثر رکھتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعاون ہے۔ سعودی عرب امریکہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب بالواسطہ طور پر غزہ جنگ بندی میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے عرب ممالک اور دیگر دنیا کے اسلامی ممالک اپنی قیادت سعودی عرب کے سپرد کریں تو سعودی عرب اور امریکہ سمیت دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے فیصلے کروانے میں کردار ادا کرسکتا ہے مشرق وسطی کے بعض ممالک جن میں مصر ہے وہ بھی کردار ادا کرے مصر کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر یہ قدیمی جنگ جو صدیوں سے جاری ہے پہل کرنی چاہئے۔ مسئلہ کشمیر کو لے کر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں ہوچکی ہیں جنگوں کے علاوہ سفارتی کوششیں ہوچکی ہیں مگر بھارت ہندو بن کر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان بن کر اگر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ مسئلہ حل ہوجاتا ،بھارت میں انسانیت مرچکی ہے جن عالمی طاقتوں کے سامنے انسانوں کا قتل عام ہورہا ہے وہ اپنے اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کے طاقتور ترین ملک اپنے مفادات کی زنجیر میں بندھے ہیں۔ انسانوں کے درمیان نفرتوں’ تعصبات اور جنگوں کا سلسلہ شاید اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک مفادات دفن نہیں کرتے۔ سچ تو یہ ہے کہ عالمی سیاسی کھلاڑیوں نے مکر و فریب کے کیا کیا جال بچھا رکھے ہیں۔ دنیا کی اکثریت جن کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں انسان جنگوں کو پسند نہیں کرتے وہ عالمی دنیا میں امن چاہتے ہیں۔

  • قسطوں میں مرتی عوام

    قسطوں میں مرتی عوام

    قسطوں میں مرتی عوام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی گلیوں، محلّوں، دیہی چوپالوں اور شہری بازاروں میں جو خاموشی پھیلی ہے، وہ سکون کی علامت نہیں، بلکہ طوفان سے پہلے کی گھمبیر خاموشی ہے۔ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر فرد معاشی بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، اور سوال یہ نہیں کہ غصہ کب اُبلے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس غصے کا رُخ کس طرف ہو گا۔ برسوں سے جاری مہنگائی، بے روزگاری، اور ریاستی پالیسیوں کی ناکامی نے ایک عام پاکستانی کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب "جینا” بھی ایک جرم بن چکا ہے۔

    وفاقی بجٹ 2025-26 عوام کے زخموں پر نمک بن کر گرا۔ ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات دینا، نقد ادائیگی کی حد متعین کرنا اور ڈیجیٹل انوائسنگ کو لازمی قرار دینا ایسے فیصلے ہیں جنہوں نے تاجر برادری کو خوف، غصے اور احتجاج کی جانب دھکیل دیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر نے خبردار کیا کہ یہ پالیسیاں کاروبار کو تباہ اور ملکی معیشت کو مفلوج کر دیں گی۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس 21 ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو خیر باد کہہ چکی ہیں،کیا یہ کسی معاشی زوال کی ابتدانہیں ہے؟

    بجلی کے بل اس قوم کے لیے اب صرف ایک بل نہیں بلکہ ہر ماہ آنے والی معاشی سزائے موت بن چکے ہیں۔ ناقص ٹرانسمیشن نظام کے باعث صارفین پر 69.09 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت نے ایک طرف یونٹ ریٹس میں معمولی کمی کا اعلان کیا مگر دوسری طرف فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، سرچارجز اور ٹیکسز کی بھرمار نے تنخواہ دار اور دیہاڑی دار مزدورطبقے کی کمر توڑ دی۔ کراچی کے رہائشی محمد معین کی بات دل چیر دیتی ہے وہ کہتا ہے کہ "روز روز ٹکڑوں میں مرنے کے بجائے حکومت ایک ہی بار بم گرا دے”یہ ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ ایک قوم کا نوحہ ہے۔

    ٹیکسوں کا بوجھ بھی اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ چھوٹی گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں اضافہ، کاربن ٹیکس، اشیائے خورونوش اور تعلیم پر بالواسطہ ٹیکسز نے عام شہری کی زندگی مزید مہنگی اور ناقابلِ حصول بنا دی ہے۔ اب تنخواہ صرف بلز اور گزارے کے لیے بھی کافی نہیں۔ بنارس ٹاؤن کراچی کا رہائشی عبدالرحمان کہتا ہے کہ "دو وقت کی روٹی، بجلی کا بل اور بچوں کی تعلیم اکٹھے نہیں چل سکتے۔” وہ شخص کس امید پر جئے گا جس کے ہاتھ میں پیسہ نہیں، پیچھے ریاست نہیں اور آگے راستہ نہیں؟

    معاشی تباہی کے ساتھ سماجی تباہی بھی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ژوب میں نو مسافروں کے اغوا اور قتل، کراچی میں حمیرا اصغر جیسی فنکارہ کی لاش،یہ سب ایک ایسے معاشرے کی تصویریں ہیں جہاں زندگی بے معنی اور موت بے خبر ہو چکی ہے۔ ایسے واقعات صرف جرائم نہیں، وہ ریاستی اور سماجی ناکامی کی علامت ہیں۔

    ریاستی بیانیہ اب بھی تضاد اور ابہام کا شکار ہے۔ ماہرین معیشت جیسے ڈاکٹر قیصر بنگالی ایف بی آر کے اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیتے ہیں، جب کہ ڈاکٹر اعجاز نبی اسے معاشی استحکام کی نوید بتاتے ہیں۔ ایسے بیانات عام آدمی کے ذہن میں مزید الجھن اور بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ لوگ اب جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ان کی مشکلات کا ذمہ دار کون ہے؟ اور یہ جاننے کا حق انہیں آئین دیتا ہے، سیاست نہیں۔

    قدرتی آفات جیسے حالیہ بارشیں، سیلاب اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے ریاستی نااہلی کو ننگا کر دیا ہے۔ لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں بجلی بند، سڑکیں ڈوبی اور ہسپتال تک پہنچنا محال ہوا۔ کیا یہی ریاستی خدمت ہے؟ جب قدرتی آفت بھی ظلم میں حکومت کا ساتھ دینے لگے، تو عوام کہاں جائیں؟

    ان سب مسائل نے عوام کو احتجاج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ 19 جولائی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال صرف تاجروں کا مسئلہ نہیں، یہ ایک قومی اجتماعی اضطراب کا مظہر ہے۔ #NoToUnfairTaxes، #ElectricityRelief جیسے سوشل میڈیا ٹرینڈز محض ہیش ٹیگز نہیں، یہ عوام کی چیخیں ہیں جو اب آن لائن سے آف لائن آنے کو بیتاب ہیں۔ اگر حکومت نے ان آوازوں کو سننے سے انکار جاری رکھا تو ان کے قدم ایوانِ اقتدار کی دہلیز پر ہوں گے۔

    سول نافرمانی اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک عملی امکان بن چکی ہے۔ عوام کے پاس اب چند ہی راستے بچے ہیں کہ پرامن احتجاج، بلوں کا بائیکاٹ یا مکمل بغاوت اور اگر یہ سب کچھ انتشار کے بغیر ہو تو یہ اس قوم کی تہذیب کا ثبوت ہو گا لیکن اگر ریاست نے پھر بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ کا رخ بدلنا بھی ممکن ہو جائے گا۔

    شمسی توانائی جیسے متبادل موجود ہیں مگر ہر شخص کی پہنچ سے دور ہیں۔ اصل حل تو حکومتی سطح پر ریفارمز اور عوام دوست پالیسیوں میں ہے۔ وہ وقت آ گیا ہے جب طاقتور طبقہ اپنے اللّے تللّے چھوڑے، مراعات کم کرے اور عوام کو جینے کا حق دے۔ ورنہ جب قسطوں میں مرتی ہوئی قوم کا صبر ختم ہوتا ہے تو پھر وہ خود فیصلہ کرتی ہے کہ جینا کیسے ہے۔

    یہ صرف ایک غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ عوام کا صبر اب لبریز ہے۔ حکومت، بیوروکریسی، اشرافیہ،سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب بند ٹوٹتا ہے تو وہ نہ صرف پانی بہاتا ہے بلکہ دیواریں بھی گراتا ہے اور نظام بھی۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب ریاست کے لیے فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے کہ یا تو عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے یا پھر تاریخ کے ملبے تلے دفن ہونے کو تیار ہو جائے۔

    یہ ملک کے ہر اس فرد کی آواز ہے جو مہینے کے آخر میں بل دیکھ کر سانس روکتا ہے، جو بچوں کو سکول چھوڑنے پر مجبور ہے، جو دوا کے لیے لائن میں مرتا ہے اور جس کے صبر کا بند قسطوں میں ٹوٹتا جا رہا ہے۔

  • حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام

    حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام

    حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف بے رحم حکومتی پالیسیاں ہیں جو سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور تاجروں پر ٹیکسوں کا ایسا بوجھ ڈال رہی ہیں جو عملاً کاروبار کو دفن کرنے کے مترادف ہے تو دوسری جانب ایک تھکی ہاری، بے حال اور دبے ہوئی عوام ہے جو روز مہنگائی، بیروزگاری اور بڑھتے ہوئے بلوں کے طوفان میں اپنی سانسیں گن رہی ہے۔ مگر اس دو انتہاؤں کے درمیان جو سب سے حیران کن فرق ہے وہ ردعمل کا ہے،جیساکہ تاجر متحد ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور عوام چپ چاپ "جوتے” کھاتی رہتی ہے۔

    حالیہ بجٹ 2025-26 کے خلاف بزنس کمیونٹی کے واضح اور بھرپور ردعمل نے اس تاثر کو مزید مستحکم کیا ہے کہ یہ طبقہ جانتا ہے کہ اپنی آواز کیسے منوانی ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر اکرام الحق، پاکستان سپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ مسعود اختر اور دیگر تمام کاروباری نمائندوں نے متفقہ طور پر نہ صرف بجٹ کو مسترد کیا بلکہ 19 جولائی کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان بھی کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ 37A اور 37B جیسے "کالے قوانین” بزنس کو تباہ کرنے کی سازش ہیں اور آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے مقامی صنعتوں کی گردن مروڑی جا رہی ہے۔

    یہ تمام بیانات اور فیصلے بتاتے ہیں کہ تاجر طبقہ نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھتا ہے بلکہ منظم، متحد اور باہمی اتفاق سے ان کا مقابلہ بھی کرتا ہے۔ اُن کے پاس ادارے ہیں، پلیٹ فارم ہیں، قیادت ہے اور سب سے بڑھ کر شعور ہے کہ کب، کہاں اور کیسے اپنی طاقت کو استعمال کرنا ہے۔

    اب آئیے دوسری طرف دیکھیں تو وہ عوام جس پر ہر مہینہ بجلی کے بلوں کی صورت میں قہر نازل ہوتا ہے، جس کے باورچی خانے میں آٹا، چینی، گوشت اور سبزیاں خواب بن چکے ہیں جو روز کسی نہ کسی خاندان کی خودکشی کی خبر سن کر بھی چپ رہتی ہے۔ واپڈا کی "سلیب گردی” ہو یا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ہر مسئلہ براہ راست عوام کو متاثر کرتا ہے۔ پھر بھی کوئی اجتماعی احتجاج، کوئی ملک گیر تحریک، کوئی شٹر بند ہڑتال نظر نہیں آتی۔

    اس عوامی خاموشی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ایک مؤثر قیادت اور تنظیم کی عدم موجودگی ہے۔ عوام کے پاس نہ کوئی چیمبر آف کامرس ہے، نہ کوئی نمائندہ آواز، نہ ہی وہ متحد ہونے کے کسی پلیٹ فارم پر متفق ہیں۔ دوسرا، خوف اور مایوسی نے دلوں کو مردہ کر دیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ "کچھ نہیں بدلے گا”، اور اس سوچ نے انہیں بے عملی کی قبر میں دفن کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کی غیر موجودگی اور میڈیا کی مصلحت پسندی نے اس بے حسی کو اور بھی مضبوط کر دیا ہے۔

    تاجروں کی ہڑتال ہمیں بتاتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے، تنظیم میں اثر ہے اور قیادت میں سمت ہے۔ اگر عوام ان اصولوں کو اپنائیں تو وہ بھی اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ لیکن کیا وہ ایسا کریں گے؟ کیا وہ اپنی بے بسی کو طاقت میں بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ یا پھر وہی "جوتے کھاتی عوام” بن کر تماشائی بنی رہے گی؟

    اس موقع پر ایک پرانی کہاوت یاد آتی ہے کہ”سو پیاز اور سو جوتے۔” جب بادشاہ نے مجرم کو اختیار دیا کہ وہ یا تو سو پیاز کھائے یا سو جوتے سہے، تو اس مجرم نے پہلے پیاز کھانے شروع کیے۔ مگر جب برداشت نہ رہی تو جوتوں کی سزا قبول کی اور آخر کار دونوں پورے کیے،سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی سہے۔

    آج پاکستانی عوام بھی اسی دو راہے پر کھڑی ہے۔ وہ ہر روز "پیاز” کی صورت میں مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہی ہے اور "جوتوں” کی صورت میں ذلت، بے بسی، استحصال اور خاموشی برداشت کر رہی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ عوام کب تک سو پیاز اور سو جوتے دونوں سہتی رہے گی؟ کیا وہ تاجروں کی طرح اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑی ہو گی؟ کیا اب وقت نہیں آیا کہ "تماشائی” کی حیثیت سے نکل کر "تحریک” کا حصہ بن جایا جائے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے؟ یہ فیصلہ اب صرف عوام نے ہی کرنا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتی ہے۔

  • بلوچستان پھر لہولہو،سیاسی  اورمذہبی لیڈر کہاں سو گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان پھر لہولہو،سیاسی اورمذہبی لیڈر کہاں سو گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے گناہ شہری اور جوان کب تک شہید ہوتے رہیں گے،کیا حملے روکنا صرف فوج کی ذمہ داری!
    بیورو کریسی اور سول انتظامیہ کس مرض کی دوا ،’’را‘‘ کا نیٹ ورک توڑنے کیلئے ایک ہونا ہوگا
    نواز شریف قوم کی امید، سابق وزیر اعظم موثر کردارادا کریں لوگوں نے آس لگالی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنی سمت درست کریں،مکالمے کو فروغ دیں، اپنا رُخ عوامی خدمت قومی اور بین الاقوامی مسائل جن کا ملک کو سامنا ہے اُن پر توجہ د یں، مسخرے پن سے باہر نکل کر سنجیدہ سیاست کریں، تب جا کر امریکہ سمیت عالمی دنیا سیاسی جماعتوں اور ملکی جمہوریت پر انحصار کرے گی ، سیاسی گلیاروںمیں وہی شور ،وہی ہنگامہ ایک دوسرے پر الزامات،کیا جو کچھ سیاسی گلیاروں میں ہو رہاہے اس سے استحکام پاکستان کا خواب مکمل ہوگا؟ بلوچستان اور ایشیاء کا خوبصورت ترین علاقہ سیاحتی علاقہ کے پی کے لہولہان ہے، کیا ملک کی سیاسی جماعتوں نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوچا کہ آخر وہ کون سا گناہ ہے جس کی سزا ہماری عوام کو مل رہی ہے؟ کیا پاکستان اور عوام کی سلامتی کے ذمہ دار صرف پاک فوج جملہ ادارے اور پولیس ہی ہیں ؟ سیاستدانوں ، مذہبی جماعتوں ، بیوروکریٹ ، بیورو کریسی اور انتظامیہ کی بھی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں،بلاشبہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کردار ادا کررہا ہے ، بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کا نیٹ ورک بلوچستان میں اور افغانستان میں پھیلا ہے، پاکستا ن میں موجود جو چھوٹے بڑے شہروں میں افغانی مبینہ طور پر اس میں ملوث ہو سکتے ہیں، بلوچستان میں بے گناہ لوگ شہید ہو رہے سیکیورٹی فورسز اور شہری ،یہ نہایت سنگین اور پیچیدہ مسئلہ ہے ، اس کو روکنے کے لئے ایک جامع پائیدار اور سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کو سفارتی ذرائع سے روکاجائے ، امریکہ یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں موجود سفارت کار اپنا کردار ادا کریں، اندرون ملک ایسے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ کوئی بیرونی قوت فائدہ نہ اُٹھا سکے، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بلوچستان کو لے کر اپنا کردار ادا کریں، صدقے دل سے اس لہولہان بلوچستان اور کے پی کے کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، اس سلسلے میں نواز شریف کی سربراہی میں تمام سیاسی قائدین گول میز کانفرنس میں فیصلہ کریں ، نواز شریف ملک کے ایک ممتاز سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی سیاست میں کئی دہائیوں تک فعال کردار ادا کیا ہے ، وہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں ، نواز شریف بطور سابق وزیراعظم اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، لاہور میں موجود نواز شریف ملک وقوم کے لئے اُمید ہے ،اپنا موثر کردار ادا کریں گے

  • حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین

    حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین

    حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان آج ایک ایسی کربلا سے گزر رہا ہے جہاں اس کے نوجوان، اس کا سب سے قیمتی اثاثہ، معاشی بدحالی، ہوشربا مہنگائی اور حکومتی بے حسی کے ہاتھوں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ 2023 سے جولائی 2025 تک، لاکھوں پاکستانی، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، نرسز، اور اساتذہ شامل ہیں، بہتر مستقبل کی تلاش میں ہجرت کر گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 کے پہلے تین ماہ میں 172,144 نوجوان روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہوئے جبکہ سیالکوٹ جیسے صنعتی شہر سے 4831 نوجوان، جن میں 60 فیصد تعلیم یافتہ تھے، نے وطن کو الوداع کہا۔ بدقسمتی سے، غیر قانونی سمندری راستوں سے یورپ جانے کی کوشش میں 343–353 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اعداد و شمار صرف ہندسوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہر اس خاندان کی چیخ و پکار ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔

    2023 میں 862,000 اور 2024 میں 727,381 پاکستانی ہجرت کر گئے، جن میں سے 45,687 ہنرمند افراد تھے۔ 2025 کے پہلے تین ماہ میں یہ تعداد 172,144 تک جا پہنچی، اور اگر چھ ماہ کے اعداد و شمار شامل کیے جائیں تو یہ تعداد کئی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ سیالکوٹ سے ہجرت کرنے والے 4831 نوجوانوں میں سے 60 فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، جو وطن میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار نہ ملنے کے باعث مشرق وسطیٰ، یورپ، اور امریکہ کی طرف رخ کر گئے۔ یہ "برین ڈرین” پاکستان کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ ملک اپنی باصلاحیت نسل کھو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک جیسے سعودی عرب، قطر، اور دبئی تعمیراتی اور ٹیکنیکل شعبوں میں ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں، لیکن یورپ جانے کی خواہش میں کچھ نوجوان غیر قانونی سمندری راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں انسانی سمگلرز ان کے خوابوں کا استحصال کرتے ہیں۔

    غیر قانونی ہجرت کے دوران سمندری سانحات نے پاکستانی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ 2023 سے جولائی 2025 تک، 343–353 پاکستانی بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس میں کشتیوں کے ڈوبنے سے ہلاک ہوئے۔ اٹلی کے کروٹون ساحل پر 27 فروری 2023 کو ہونے والے حادثے میں 6 پاکستانی ہلاک ہوئے، جن میں سے 2 کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی اور 4 لاپتہ رہے۔ یونان کے پلاس ساحل پر جون 2023 میں ایک کشتی ڈوبنے سے 241–251 پاکستانی ہلاک ہوئے، جن میں سے 111 مصدقہ اور 130–140 غیر مصدقہ ہیں۔ لیبیا کے ساحلوں پر مارچ 2023، فروری 2025، اور جولائی 2025 سے قبل کے واقعات میں 29–39 پاکستانی اپنی جان سے گئے۔ مراکش کے ساحل پر جنوری 2025 میں 13 اور بحر اوقیانوس میں 2 جنوری 2025 کو 44 پاکستانی ہلاک ہوئے، جب انسانی سمگلرز نے پیسوں کے تنازع پر کچھ افراد کو سمندر میں پھینک دیا۔ ہر ہلاکت ایک ماں کی چیخ، ایک باپ کی امید اور ایک خاندان کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کہانی ہے۔

    اس المیے کی جڑیں پاکستانی معاشرے کے معاشی اور سماجی حالات میں پیوست ہیں۔ 2023 میں افراط زر 46 فیصد تک جا پہنچا، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ آٹا، چینی اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ بجلی کے بل تین گنا اور ایندھن کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔ ایک عام پاکستانی خاندان اپنی آمدن کا 70 فیصد کھانے اور بجلی کے بلوں پر خرچ کر رہا ہے۔ بے روزگاری کی شرح 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور 4.5 ملین پاکستانی بے روزگار ہیں، جن میں سے 11.1 فیصد نوجوان ہیں۔ سیالکوٹ جیسے شہر جو صنعتی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے، وہاں بھی 60 فیصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔ ایک 33 سالہ خاتون جو برطانیہ ہجرت سے قبل دو نوکریاں کرتی تھی، کہتی ہیں کہ وہ گھریلو اخراجات پورے نہ کر سکیں۔ یہ حالات نوجوانوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    حکومتی بے حسی نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ وزراء خاص طور پر اویس لغاری جیسے ذمہ داران، جو توانائی کے شعبے کی نگرانی کرتے ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ بجلی کے ناقابل برداشت بل اور لوڈشیڈنگ نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر سبسڈیاں ختم کرنے سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، لیکن حکومت نے کوئی ٹھوس حل پیش نہیں کیا۔ سیاسی عدم استحکام جو 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے شروع ہوا، نے معاشی اصلاحات کو روک دیا۔ بونگے وزراء کی ناقص پالیسیوں نے عوام کا اعتماد ختم کر دیا ہےاور حکومتی دعوؤں کے باوجود مقامی روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ صنعتی زونز، کاروبار دوست پالیسیاں اور تعلیمی اصلاحات کے وعدے کاغذی رہے ہیں جبکہ پاکستانی معیشت زوال کا شکار ہے۔ 2023 میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 3 بلین ڈالر تک گر گئے جو صرف تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔

    غیر قانونی ہجرت کی طرف راغب ہونے کی وجوہات بھی رقت آمیز ہیں۔ انسانی سمگلرز دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو یورپ میں "سنہری مستقبل” کے جھانسے دیتے ہیں اور لاکھوں روپے لے کر انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ قانونی ہجرت کے لیے ویزوں کا حصول مشکل اور مہنگا ہے، جس سے نوجوان غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کچھ خاندانی دباؤ اور سماجی توقعات کے تحت خطرہ مول لیتے ہیں جبکہ دیگر کو سمندری سفر کے خطرات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ایک سروے کے مطابق 37 فیصد پاکستانی ہجرت کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل نظر نہیں آتا۔ یہ مایوسی پاکستانی معاشرے کی روح کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

    اس "برین ڈرین” کے نتائج تباہ کن ہیں۔ پاکستان اپنی باصلاحیت نسل کھو رہا ہے، جو معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ گجرات اور کوٹلی جیسے شہروں سے لاپتہ ہونے والے 100 سے زائد پاکستانیوں کے خاندان آج بھی انتظار میں ہیں۔ ایک ماں کا اپنے بیٹے کی لاش کے انتظار میں روتے ہوئے کہنا کہ "میں نے اسے پڑھایا، لیکن اسے نوکری نہ ملی” دل کو چیر دیتا ہے۔ یہ سانحات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حکومتی ناکامی اور عوام کو کچھ بھی ڈیلیور نہ کر پانے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تعلیمی نظام ملکی معیشت کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار نہیں کر رہا اور صنعتی ترقی کی کمی نے روزگار کے مواقع کم کر دیے ہیں۔ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے لیکن معیشت اس "یوتھ بلج” کو جذب کرنے سے قاصر ہے۔

    اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ مقامی روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے صنعتی زونز قائم کیے جائیں۔ ووکیشنل ٹریننگ اور ہنر مندی پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی اور عوام میں غیر قانونی ہجرت کے خطرات کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔ مہنگائی اور بجلی کے بلوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس پالیسیاں بنائی جائیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان اپنی ترقی کے خوابوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دے گا۔

    کیا ہم ہمیشہ اپنی قوم کے بہترین دماغوں کو بیگانہ سرزمینوں پر دفن ہونے کے لیے رخصت کرتے رہیں گے؟ کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم سوچیں، کیوں ہمارا نوجوان اپنے وطن سے ناامید ہے؟ کیا حکومتیں صرف اعداد و شمار پر آنکھیں بند رکھیں گی، یا ان ماؤں کی فریاد سنیں گی جن کے بیٹے سمندروں میں غرق ہو گئے؟ کیا ہم اس سسٹم کو بدلنے کے لیے کھڑے ہوں گے یا یوں ہی اپنی صلاحیتوں کو دفن ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ سوالات ہمارے سامنے ہیں، مگر کیا ہمارے پاس ان کے جوابات ہیں؟

  • حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں مہنگائی، چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بھاری بجلی کے بل عوام کی زندگیوں کو مفلوج کر چکے ہیں۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کا حالیہ بیان عوامی غصے میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں بجلی اس لیے مہنگی ہے کیونکہ اس کا استعمال کم ہے اور جب تک استعمال نہیں بڑھے گا، نرخوں میں کمی ممکن نہیں۔ یہ بیان عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے کیونکہ بجلی ایک سہولت نہیں بلکہ ضرورت ہے اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ایسی منطق عام آدمی کی بے بسی کا مذاق اڑاتی ہے۔

    اویس لغاری ناقص پالیسیوں اور غیر ذمہ دار بیانات کی وجہ سے عوامی نفرت کا محور بن چکے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب انہیں بجلی کے بڑھتے نرخوں اور سلیب سسٹم کے جال میں الجھا دیا گیا ہے۔ موجودہ بل عوام کی قوتِ برداشت سے باہر ہو چکے ہیں اور لوگ متبادل توانائی ذرائع جیسے سولر پینلز کی طرف مجبوراً رجوع کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مسلسل نرخوں میں اضافہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ محسوس ہوتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی حکومت کی پالیسیوں میں تضاد کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت چینی کی قیمت 190 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جو رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں 7.57 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمدات کا نتیجہ ہے۔ اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں نے آسمان کو چھو لیا۔ اب حکومت چینی درآمد کرنے جا رہی ہے، جس پر 55 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہوگی اور اس سے چینی کی قیمت 245 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عوام کو مہنگی چینی خریدنے پر مجبور کر کے شوگر مافیا کو ایک بار پھر اربوں روپے کا نفع کمانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس پوری صورتحال کو "چینی سکینڈل” اور "قانونی کرپشن” قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ یہ پالیسیاں کسی عوامی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقتور گروہوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ وزارتِ منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی خاموشی اور حکومتی مشینری کی بےحسی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ ایلیٹ طبقہ شوگر مافیا کے سامنے بےبس ہے۔

    دوسری جانب بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ چھوٹے کاروبار بڑھتے ہوئے بلوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو چکے ہیں اور ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں، جس سے بیروزگاری میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اویس لغاری کا دعویٰ کہ بجلی کی قیمتیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ اس کا استعمال کم ہے، عام شہری کے لیے ایک بے ربط اور غیر سنجیدہ جواز ہے۔ جب ماہانہ بجلی کے بل 10 سے 20 ہزار روپے تک جا پہنچیں تو کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے انہیں ادا کرنا کسی سزا سے کم نہیں۔

    نیپرا کی طرف سے کی گئی معمولی کمی جیسے 99 پیسے فی یونٹ، اس شدید مہنگائی کے سامنے بے اثر دکھائی دیتی ہے۔ عوام اب خود کو بچانے کے لیے سولر پینلز کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ریاستی ادارے اب ان کے مالی مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں۔ یہ وہ فضا ہے جس میں اعتماد کا رشتہ ریاست اور شہری کے درمیان ٹوٹنے لگتا ہے۔

    مہنگائی کا یہ طوفان صرف چینی اور بجلی تک محدود نہیں رہا۔ آٹا، دالیں، کوکنگ آئل، سبزی اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ سکھر میں آٹے کی قیمت 160 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھا دیے ہیں، جس سے ہر شے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    2025-26 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو صرف 10 فیصد اضافہ دیا گیا لیکن جب مہنگائی کی شرح 12 سے 15 فیصد سے زائد ہو تو یہ اضافہ دکھاوا معلوم ہوتا ہے۔ نتیجتاً متوسط اور نچلے طبقے نے تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات پر خرچ کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف بجٹ میں دیہاڑی دار مزدور کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے جو پہلے ہی بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہے، جس کے بچے سکول نہیں جا سکتے، جو بچوں کا علاج نہیں کرا سکتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور مزدور کے بچوں کو علاج کے بجائے موت کی نیند سلایا جا رہا ہے، جس کی تازہ مثال پاکپتن کے سرکاری ہسپتال میں گزشتہ ماہ ہونے والی بچوں کی 20 ہلاکتیں ہیں۔ اس کی انکوائری رپورٹ کچھ بھی ہو مگر غریب کے بچے تو مر گئے اور سوال یہ ہے کہ ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

    سوشل میڈیا عوامی غم و غصے کا آئینہ بن چکا ہے۔ روزانہ درجنوں پوسٹس میں یہ شکوہ دہرایا جا رہا ہے کہ حکومت مکمل طور پر مافیاز کے کنٹرول میں آ چکی ہے اور غریب آدمی کے لیے اس ملک میں جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہی بے بسی، یہی ناانصافی اور یہی مسلسل معاشی دباؤ وہ بنیادیں ہیں جو عوامی بےچینی کو تحریک میں بدلتی ہیں۔ حکومتی پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان، ناقص منصوبہ بندی اور طاقتور طبقات کی خوشنودی پر مبنی فیصلے عوام کے صبر کو آزماتے جا رہے ہیں۔ چینی کی برآمدات کے بعد مہنگی درآمد، بجلی کے نرخوں میں من مانا اضافہ اور اویس لغاری جیسے وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ، یہ سب مل کر اس نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

    اب ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوالات انگاروں کی طرح دہک رہے ہیں کہ غریب کے بچوں کے لیے سکولوں کے دروازے کیوں بند کر دیے گئے؟ کیا تعلیم اب صرف امیروں کی میراث بن چکی ہے؟ سرکاری ہسپتالوں میں مزدوروں اور عام شہریوں کے بچوں کو "علاج” کے نام پر موت کیوں دی جا رہی ہے؟ بجلی کے سلیب گرد بلوں میں جکڑے لوگ کب تک خودکشیاں کرتے رہیں گے؟ مہنگی چینی، آٹا، دال اور ادویات خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے کب تک زندہ دفن کیے جاتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہر مہینے کے اختتام پر گھروں سے مہنگائی کا مارا جنازہ نکلے گا؟

    یہ سوالات صرف احتجاجی بینروں یا سوشل میڈیا پوسٹس کے نعرے نہیں ہیں بلکہ ایک مجبور قوم کی چیخیں اور اضطراب ہیں جو اپنے جینے کے حق کی بھیک مانگ رہی ہے۔ اور جب ایک قوم اپنے حقِ زندگی کے لیے سوال کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت اربابِ اختیار کے لیے فیصلہ کن گھڑی ہوتا ہے۔ اب تاریخ خاموش نہیں رہے گی،حکومتی بے حسی اور تکبر کی وجہ کتنے پاکستانیوں کےمزید جنازے اٹھیں گے؟،یہ سوالات کبھی نہ کبھی جواب مانگیں گے اور اگر اقتدار کے ایوانوں میں سننے والا کوئی نہ ہوا تو پھر عوام خود اپنے خون سے جواب لکھیں گے۔حکومتی ارباب اختیار کو اس وقت سے ڈرنا چاہیئے ،جب وہ کچھ کرناچاہیں گے تو اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی اور آناََ فاناََ سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے گا.

  • چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

    چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی

    چینی کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ: حکومتی وعدوں کی ناکامی اور عوام کی پریشانی
    تحریر: حبیب اللہ خان، نامہ نگار باغی ٹی وی بہاولپور
    پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف عوام کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ گزشتہ برس شوگر ملز مالکان اور ڈیلرز نے حکومت کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ چینی کی برآمد سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ برآمدات کے باوجود مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں یا دستیابی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

    ان دعوؤں کی بنیاد پر حکومت نے چینی کی برآمد کی اجازت دے دی اور پُر اعتماد انداز میں کہا کہ کرشنگ سیزن سے قبل نہ چینی کی قلت ہوگی، نہ قیمتیں بڑھیں گی، اور نہ ہی درآمد کی ضرورت پیش آئے گی۔ لیکن آج صورتحال مکمل طور پر اس کے برعکس ہے۔

    چینی کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں، مارکیٹ میں قلت پیدا ہو رہی ہے، اور اب حکومت کو دوبارہ چینی درآمد کرنے کے لیے ڈالرز خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ دسمبر 2024 میں جو چینی ایکس مل ریٹ پر 125 سے 130 روپے فی کلو دستیاب تھی، وہ اب ریٹیل مارکیٹ میں 190 سے 200 روپے فی کلو کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اوچ شریف میں چینی کی قیمت 6 روپے کے اضافے کے ساتھ 190 روپے، احمد پور میں 5 روپے اضافے سے 195 روپے، اور بہاولپور میں صرف ایک ماہ میں 10 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں قیمت 200 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

    شوگر ڈیلرز نے برآمدات کے ذریعے ڈالر تو ضرور کمائے، لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا۔ برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ بے معنی ہو جاتا ہے جب ملک کو دوبارہ وہی چینی درآمد کرنے کے لیے قیمتی ڈالرز خرچ کرنے پڑیں۔ یہ صورتحال حکومتی منصوبہ بندی میں خامیوں، شفافیت کی کمی اور فیصلہ سازی میں مفادات کے تصادم کو بے نقاب کرتی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے اس بحران کو جنم دیا؟ ماہرین کے مطابق چینی کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں شوگر ملز کی جانب سے پیداوار کے اعداد و شمار میں ہیر پھیر، برآمدات کو غیر ضروری طور پر ترجیح دینا، اور مقامی مارکیٹ کی طلب کو نظر انداز کرنا شامل ہیں۔ شوگر ملوں نے مبینہ طور پر پیداوار کو جان بوجھ کر کم ظاہر کیا تاکہ برآمدات کی اجازت حاصل کی جا سکے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی دستیابی متاثر ہوئی۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے نے بھی درآمدات کو مزید مہنگا کر دیا، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑا۔

    چینی ایک بنیادی ضرورت کی شے ہے، اور اس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کی قوتِ خرید پر ضرب لگا رہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ، جو پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، چینی کے اس ہوشربا اضافے سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیکریوں، مٹھائی فروشوں اور چینی استعمال کرنے والی دیگر صنعتوں پر بھی اس بحران کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بحران کا حل کیا ہے؟ حکومت کو فوری طور پر چینی کی برآمدات پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور مقامی ضروریات کو ترجیح دینی چاہیے۔ شوگر ملز کی پیداوار اور اسٹاک کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ اعداد و شمار میں ہیر پھیر روکی جا سکے۔ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سبسڈی یا دیگر اقدامات پر غور کیا جائے۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ بحران نہ صرف معیشت بلکہ سیاسی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ نہ صرف حکومتی وعدوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کی عدم موجودگی کا ثبوت بھی ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت سنجیدگی سے اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لے اور عوامی مفاد کو اولیت دے، ورنہ عوامی اعتماد اور ملکی معیشت دونوں شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔