Baaghi TV

Category: سیاست

  • سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار،کاروائی کیوں نہیں؟تحریر:ملک سلمان

    پابندی کے باوجود سرکاری افسران بلاخوف و خطر ٹک ٹاک سٹار بن کر ویڈیو بناؤ مہم چلا رہے ہیں۔جیسے ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے ویسے ہی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ورنہ افسران اور گلی کے آوارہ لونڈے لپاڑے ایک جیسے نظر آنے لگیں گے۔
    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر شو آف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔تمہاری سیلف پروجیکشن محکمے کی عزت نہیں بدنامی اور شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔

    سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں،شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔

    ایسے افسران کو نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے ان کی ویڈیوز بنا کر بےعزت کرنا۔ ہم آئے روز ڈرامہ دیکھتے ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا گیا۔ یہ سارا کچھ ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں، سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کیلئے کی جانی والی فنکاریاں اور جعل سازیاں ہیں۔ڈی پی او اپنے ایس ایچ او کو جبکہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیلیدار اور پٹواری کو ایڈوانس ٹاسک دیتے ہیں کہ میرے آنے پر بہترین استقبال ہونا چاہئے اور پروفیشنل ویڈیو گرافرکو بلانا۔آپ غور کریے گا پھول پہنانے اور پتیاں پھینکنے والے سارے منشیات فروش،زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔

    گذشتہ دنوں ایک ایڈیشنل آئی جی ملنے آئے اور سوشل میڈیا کے ذکر پر انہوں نے اس بات کا اقرارکیا کہ فنکاریاں اور سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران نے ناصرف اپنے حلف سے روگردانی اور اختیارات سے تجاوز کیا بلکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بھی شرمسار کیا۔ان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن میں سب سے زیادہ بدنامی اور عوامی نفرت پولیس ڈیپارٹمنٹ نے سمیٹی۔لیکن بہت سارے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر سول افسران پولیس سے زیادہ بڑے اور گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔انہوں نے اپنا موبائل میرے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو دیکھ کر بتائیں کہ یہ اسسٹنٹ کمشنر ٹھیک ہے،ویڈیو دیکھ کر میں نے ان سے کہا کہ سر یہ ہرگز اسسٹنٹ کمشنر نہیں ہوسکتا۔کسی نے فیک اکاؤنٹ بنایا ہو گا ورنہ اسسٹنٹ کمشنر اس قدر واحیاتیاں کیوں کرے گا؟ کوئی بھی آفیسر اس قدر جاہل اور بے شرم تو ہونہیں سکتا، بیوروکریسی کا معیار اتنا بھی نہیں گر سکتا کہ ایسے گندے انڈے بھی آفیسر بن جائیں۔لیکن مجھے غلط ثابت ہونا پڑا کیونکہ یہ اسسٹنٹ کمشنر کا ذاتی اکاؤنٹ تھا۔ابھی میری حیرانی ختم نہیں ہوئی تھی انہوں نے ایک خاتون کی ویڈیو دکھائی تو میں نے کہا کہ خواتین پر تنقید مناسب نہیں ویسے بھی کوئی مجبور عورت ہوگی جو سوشل میڈیا کے زریعے پیسے کمانا چاہتی ہے یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سٹیج ایکٹریس نہیں بلکہ یہ بھی سرکاری ملازم ہے۔

    اگر سرکاری گاڑی اور پروٹوکول ساتھ نہ ہو تو سرکاری افسران سڑکوں اور چوراہوں پر جس طرح کی بیہودہ حرکتیں اور ایکٹنگ کی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں انکو لونڈا لپاڑا سمجھ کر کسی سپاہی نے پکڑ کر تشریف لال کر دینی ہے بعد میں بتاتا پھرے گا کہ میں مراثی نہیں افسر ہوں۔بقول سنئیر افسران سیلف پروجیکشن والے ذہنی مریض ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف

    ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف

    ایران کے بعد پاکستان؟ اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفٰی بڈانی
    پاکستان کی سینیٹ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی حالیہ تقریر نے ایک بار پھر پاکستان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے تاریخی بیانیے کو زندہ کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا حوالہ دیا، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2011 میں کہا تھا کہ "ایران کے بعد پاکستان ہماری نظر میں ہوگا۔” یہ بیان اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کی جوہری طاقت اسرائیل کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا وہ اقتباس ہے جو اسرائیل کے بانی وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے دیا تھا جو مبینہ طور پر 1967 میں The Jewish Chronicle (UK) میں شائع ہوا تھاکہ "عرب ہمارے دشمن نہیں ہیں کیونکہ ہم ان کو جانتے ہیں اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی ہمارے پاس ہے۔ ہمارا اصل دشمن پاکستان ہے کیونکہ پاکستان اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔” موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی اور پاک بھارت تنازعات میں اسرائیلی کردار نے اس دشمنی کو نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

    1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اس کے عرب ممالک کے ساتھ تنازعات عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کبھی سفارتی سطح پر استوار نہ ہوئے۔ پاکستان نے فلسطینی کاز کی غیر متزلزل حمایت کی اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے پلیٹ فارم سے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں جب اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف فتح حاصل کی تو پاکستان نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا لیکن سفارتی طور پر عرب ممالک کی بھرپور حمایت کی۔ صدر ایوب خان کی قیادت میں پاکستان نے OIC کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا جو عرب اسرائیل تنازعے کے تناظر میں اسلامی ممالک کے اتحاد کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنا۔

    1973 کی عرب اسرائیل جنگ نے اس اتحاد کو مزید مستحکم کیا۔ OPEC کے رکن ممالک خاص طور پر سعودی عرب نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کے خلاف تیل کی پابندی عائد کی جسے "تیل کا ہتھیار” کہا گیا۔ اس اقدام نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا اور پاکستان نے اس کی سیاسی حمایت کی، جو اس کے فلسطینی کاز اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کے نظریاتی موقف کا عکاس تھا۔ پاکستانی فضائیہ کے افسران نے اردن اور شام میں اسرائیلی طیاروں کے خلاف شجاعت سے لڑائی لڑی، جو پاکستان کی عرب کاز سے وابستگی کا ثبوت ہے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس نے اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اقوامِ متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی وکالت کی۔

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام جو 1974 میں بھارت کے جوہری دھماکے کے بعد تیزی سے ترقی کرتا چلا گیا، نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل کے لیے بھی تشویش کا باعث بنا۔ 1980 کی دہائی میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور بھارتی ایجنسی را (RAW) کے درمیان تعاون کی خبریں سامنے آئیں، جن کا مقصد مبینہ طور پر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو سبوتاژ کرنا تھا۔ 1984 میں اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو "خطرہ” قرار دیا اور 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی تجربات کیے تو یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے۔ بھارتی صحافیوں اور مغربی مبصرین نے "Project Blue Star II” نامی ایک مبینہ منصوبے کی تفصیلات شائع کیں، جس کے تحت را اور موساد نے پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔پاکستان کی چوکس ہونے کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوا، لیکن اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسرائیل پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے کتناخوفزہ اور مخالف ہے.

    حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسرائیل کھل کرپاکستان دشمنی میں سامنےآیا۔ مئی 2025 میں بھارت نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کیے، جن میں لاہور، کراچی اور بہاولپور جیسے کئی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستانی فورسز نے ان حملوں کو ناکام بنایا لیکن اسرائیلی سفیر رووین آزار کی جانب سے بھارت کے "دفاعی حق” کی حمایت نے اس دشمنی کو مزید عیاں کر دیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں را اور موساد ملوث ہیں، جن میں کراچی میں چینی انجینئرز پر حملے اور گوادر میں سرمایہ کاری کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ بھارت 2004 سے اسرائیلی فالکن کنٹرول سسٹم سمیت جدید ہتھیار حاصل کر رہا ہے اور اسرائیلی ٹیکنالوجی اب بھارتی عسکری مشن کا اہم جزو بن چکی ہے۔

    موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو ایک غیر مستحکم خطے میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور ایران پر حملوں کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔اور رواں ہفتے اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا.جنگ میں تبدیل ہوتا یہ منظر نامہ ،اس کے علاوہ پاکستان جو جغرافیائی طور پر ایران کے قریب ہے، اس سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ ایران کے بعد پاکستان کو اسرائیلی ایجنڈے کا ہدف بنانا، جیسا کہ اسحاق ڈار نے نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو کے حوالے سے خبردار کیا، پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس کی دفاعی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے اور اسے ہدف بنانے کی کوئی بھی کوشش خطے میں ایک بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔

    پاکستان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی جڑیں نظریاتی اختلافات، فلسطینی کاز کی حمایت اور پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے متعلق اسرائیلی خدشات میں پیوست ہیں۔ بن گوریان کا بیان تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور اس دشمنی کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں اسرائیلی ڈرونز اور فوجی تعاون واضح دکھائی دیا، نیز ایران اسرائیل تنازعے کی بڑھتی ہوئی شدت، پاکستان کے لیے نئے چیلنجز پیش کرتی ہے۔

    پاکستان کو اس بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف اپنی جوہری صلاحیت کی حفاظت شامل ہے بلکہ سفارتی سطح پر OIC اور دیگر عالمی فورمز کے ذریعے اپنے موقف کو مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے مبینہ گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوگا اور خطے میں اپنے اتحادیوں، خاص طور پر سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنا ہوگا۔

    ایران کے بعد پاکستان اسرائیل کی نظریاتی جنگ کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے، جیسا کہ نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو اور اسحاق ڈار کے بیان سے عیاں ہے۔ یہ کوئی واہمہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو عشروں سے جاری جغرافیائی سیاسی چالوں اور بین الاقوامی سازشوں سے جڑی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے پاکستان کی جوہری طاقت کو مسلسل خطرہ سمجھا جاتا رہا ہے اور بھارت اس ایجنڈے کا علاقائی شراکت دار بنا ہوا ہے۔ آج جب مشرق وسطیٰ ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے تو پاکستان کو اپنی جوہری صلاحیت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو نئے عالمی تناظر میں ترتیب دینا ہوگا۔ یہ "ایشیا پیسیفک کولڈ وار” کا دور ہے، جہاں دشمن نہ صرف سرحدوں پر ہے بلکہ عالمی سازشوں کے جال میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگابلکہ عالمی برادری میں اپنی آواز کو زیادہ موثر انداز میں اٹھانا ہوگا تاکہ وہ اس نظریاتی جنگ میں اپنی بقا اور خودمختاری کو یقینی بنا سکے۔

  • جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    جلتی انسانیت اور حکمرانوں کی خاموشی،مفادات. تجزیہ: شہزاد قریشی

    مفادات کا معاملہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ کتنے دن گذر گئے ایران اسرائیل جنگ کو عالمی قوتیں اور دیگر ممالک خاموش ہیں۔ انسانوں کو آگ کے شعلوں میں جلتا دیکھ کر بھی عالمی قوتوں اور دیگر عالمی حکمرانوں کی خاموشی کے پیچھے مفادات ہی تو ہیں۔ اس سے قبل غزہ ، روس،یوکرائن ، کشمیر اوردیگر دنیا کے وہ ممالک جہاں انسانوں کو آگ کے شعلوں کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ یاد رکھیئے یہ زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، انسانوں کے بسنے کے لئے یہ زمین خدا پاک نے بنائی۔ انسانوں پر کسی طاقتو رکا ظلم اللہ تعالیٰ کو گوارہ نہیں ، و ہ پاک ذات انسانوں پرظلم برداشت نہیں کرتی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی سے دونو ں جانب ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس سے قبل یمن ،لبنان ، شام و انسانوں کے قتل عام سے عالمی قوتیں آگاہ ہیں۔ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے کس کام کے ؟ امریکہ ، چین ، روس اور دیگر عالمی قوتیں کس کام کی ؟ ان کو بے گناہ انسانوں جن میں بچے بوڑھے ، عورتیں شامل ہیں ، ان کی چیخیں کیوں نہیں سنائی دیتی ؟ مشرق وسطی کو موت ، تباہی سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران اسرائیل کی جنگ میں کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ٹرمپ دونوں کو میز پر بٹھا سکتا ہے مذاکرات کروا سکتا ہے ۔دونوں کی چابیاں ٹرمپ کے پاس موجود ہیں۔ ٹرمپ ایران کو اسرائیلی حملوں سے بچا سکتا ہے۔ اُمید ہے امریکی صدر انسانی ہمدردی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ بقول( ساحر لدھیانوی)؎
    خون اپنا ہویا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر
    جنگ مشرقی میں ہو یا مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر

    عالمی قوتیں امریکہ ہویا چین دیگرممالک اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر تیسری عالمی جنگ سے محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یورپی طاقتوں کو ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے زورد ینا چاہیئے۔ آج دنیا کوتباہ کن انسانی ،سیاسی ،اقتصادی اور ماحولیاتی نتائج کے ساتھ خطرناک تصادم میں لپیٹنے کا خطرہ ہے۔ اقوام عالم اپنا کردارا دا کرے ۔ مسلم ممالک جذباتی نعروں سے نکل کر علم اور عمل کے راستوں کا انتخاب کریں۔

  • معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ

    معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ

    معیشت کی تباہی: سیاست، کرپٹ نظام اور عوام پر بوجھ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہر دورِ حکومت اپنے ماضی کو بھول کر جانے والی حکومت پر سارا ملبہ ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عوامی شعور میں کمی اور زبان بندی کے ساتھ انصاف کرنے والے اداروں کی خاموشی ہے۔ عوام الناس کے مسائل پر آئیں، آج بات کرتے ہیں بجٹ کے حوالے سے، جو عوام پچھلے 76 سالوں سے ایک ہی سرکاری سطح کے قصیدہ کی صورت سنتی آ رہی ہے۔

    ہر سال کی طرح جب حکومتیں بجٹ پیش کرتی ہیں، تو ایک بار پھر عوام کو یہ سننے کو ملتا ہے کہ معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے، وسائل محدود ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں، اور "قوم کو قربانی دینی ہو گی”۔ لیکن قوم کب تک قربانی دیتی رہے گی؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ قربانی واقعی قوم دے رہی ہے یا صرف غریب اور متوسط طبقہ؟ کیا اشرافیہ، وزرا، بیوروکریٹس اور سیاسی اشرافیہ کسی قربانی میں شریک ہیں؟ جی ہاں، ہماری موجودہ آبادی کے ساتھ ساتھ وہ بھی قصور وار ہیں جو ابھی اس دنیا میں نہیں آئے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا وہ بھی بڑھتے ہوئے ٹیکس، مہنگائی اور بیروزگاری کی بھٹی میں جل رہے ہیں؟ جواب نہایت تلخ اور سادہ ہے: "نہیں”۔

    پاکستان کی معیشت آج جس نہج پر کھڑی ہے، وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومتی دور کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی، اقربا پروری، کرپشن اور بیوروکریسی کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ سب کو سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے، مگر کب تک؟ جو بھی حکومت آئی، اس نے اپنے مفادات کے گرد پالیسی گھمائی۔ ہر حکومت کا نعرہ "معاشی بہتری” تھا، لیکن نتیجہ "مزید قرض، کمزور روپیہ، بڑھتی مہنگائی” نکلا۔

    ملکی سیاست میں ہم اکثر سیاست دانوں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی اصل اقتدار کی روح رواں تھی اور رہے گی، جب تک انصاف کا نظام پاکستان میں رائج نہیں ہوتا۔ فائل کو روکنا، منصوبے کو دبانا، منظورِ نظر ٹھیکیدار کو نوازنا، اور قانون کی تشریح اپنے فائدے کے مطابق کرنا — یہ سب اُس بدعنوان نظام کا حصہ ہے جو کئی دہائیوں سے عوام کی امیدوں کو نگل رہا ہے، اور دور تک اس کے بارے میں کوئی واضح تبدیلی آتی نظر نہیں آ رہی۔

    اربوں روپے کے فنڈز صرف کاغذوں میں استعمال ہوتے ہیں، حقیقت میں سڑکیں، سکول، ہسپتال، ڈرینج، ٹیکنالوجی، سب کچھ خالی خول رہ جاتا ہے۔

    2024 کے سروے کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 7 سے 10 ارب ڈالر کرپشن کی نذر کر دیتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ذمّہ دار کون ہے؟ شاید اس کا جواب آپ کو بھی معلوم نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر سال اپنی معیشت کو اتنا نقصان خود اپنے ہاتھوں سے پہنچاتے ہیں، جتنا کوئی بیرونی دشمن بھی نہ دے سکے۔

    کرپشن صرف نوٹ کھانے کا نام نہیں، یہ نااہل افراد کو بھرتی کرنا، یہ پاکستان کے تمام اداروں میں ہے۔ کوئی بھی سرکاری بلکہ نیم سرکاری ادارے بھی اس ترقی میں شامل ہیں۔ غیر شفاف ٹینڈرز، سیاسی وفاداری پر تقرریاں اور اپنے لوگوں کو نوازنے کا مجموعہ ہے۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ ایک معمول بن چکا ہے۔

    جب عوام کو آٹا، چینی، دوائی اور روزگار کے لیے لائنوں میں کھڑا ہونا پڑے اور ان کے "خادمِ اعلیٰ” بیس گاڑیوں کے پروٹوکول میں گزر رہے ہوں، تو یہ صرف معاشی عدم توازن نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن بھی ہے۔

    اربوں روپے ہر سال وزیروں، مشیروں، سفیروں، کمشنروں، سیکریٹریز اور اعلیٰ عہدے داران کے پروٹوکول، گاڑیوں، دفاتر، غیر ملکی دوروں اور تقریبات پر خرچ کیے جاتے ہیں ، یہ وہ پیسہ ہے جو صحت، تعلیم اور عوامی فلاح پر لگنا چاہیے۔

    ہر بار معاشی بحران آئے تو پہلا ہدف عوام بنتی ہے:

    بجلی مہنگی، ماہرِ اقتصادیات ایسا فارمولا بنا دیتے ہیں کہ آپ کی عقل دنگ رہ جاتی ہے، جیسے 200 یونٹ اور 201 یونٹ کا فارمولا شاید دنیا میں پہلی بار استعمال کیا گیا ہو۔گیس پر سبسڈی ختم،پیٹرول پر لیوی،اشیائے خور و نوش پر ٹیکس،ادویات مہنگی،تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ، مگر تنخواہیں معمول کے مطابق جبکہ مہنگائی کا تناسب عوام کی سوچ سمجھ سے بالاتر۔

    عوام کو بتایا جاتا ہے کہ "یہ سب ملکی بقاء کے لیے ہے” لیکن اشرافیہ کے لیے بقاء کا کوئی بحران نہیں، ان کے لیے تو یہ سارا نظام ایک محفوظ جنت ہے۔
    یہ سب باتیں تنقید نہیں بلکہ زمینی حقیقتیں ہیں۔ حل بھی موجود ہیں، اس پر آنے والے کالم میں بات کریں گے۔

  • قانون کے ساتھ ٹریفک پولیس کا کھلواڑ،تحریر:ملک سلمان

    قانون کے ساتھ ٹریفک پولیس کا کھلواڑ،تحریر:ملک سلمان

    میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب ٹریفک پولیس کی لاقانونیت اور فاشزم پر نہیں لکھنا کیونکہ انکو اثر تو ہونا نہیں اور اس ٹاپک پر بار بار لکھ کر میں خود بھی اکتا چکا ہوں۔
    جب قانون کے ساتھ کھلواڑ کر کے پنجاب ٹریفک پولیس100 ارب ماہانہ کے قریب کمائی کر رہی ہے تو قانون کی پاسداری کرکے وہ اپنی "ایزی منی” اور "پکی روزی” پر لات کیوں ماریں گے۔ چھوٹے سے چھوٹے ضلع کی ٹریفک پولیس بھی کروڑوں روپے ماہانہ ہاتھ مارتی ہے جبکہ بڑے اضلاع میں یہ رقم ماہانہ اربوں روپے میں ہوتی ہے.
    میرے کالم کی وساطت سے طلبہ و طالبات نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ٹریفک پولیس کے رویوں کی شکایت کرتے ہوئے وارڈنز کو باڈی کیم لگانے کی تجویز دی تھی اور ساتھ یہ بھی گزارش کی تھی کہ ٹریفک وارڈن کو طلبہ کے خلاف ایف آئی آر کی اندراج سے روکا جائے۔ طلبہ کی اپیل پر فوری ایکشن لیتے ہوئے اگلے ہی دن وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک مینجمنٹ پر میٹنگ کال میں ٹریفک وارڈنز کے رویوں میں بہتری اور فوری طور پر باڈی کیم لگانے کا حکم دیا تھا۔
    سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے دو دوست الیکٹریکل انجینئرحمزہ اور انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر کرنے والا شیراز سی ایس ایس کرنے کا خواب لیے امتحان کی تیاری کیلئے لاہور مقیم ہیں۔
    مڈل کلاس خاندان کے یہ بچے سستا ڈنر کرنے کیلئے مزنگ پراٹھے کا رخ کرتے ہیں اور مزید بچت کیلئے مزنگ پراٹھا کے ساتھ عابد مارکیٹ کارنر والے کھوکھے سے کولڈ ڈرنک لینے کیلئے گئے تو چند میٹر کا رانگ وے اختیار کرنے پر ٹریفک پولیس نے ایف آئی آر دے دی۔ رانگ وے پر چالان کی سہولت موجود ہے تو ایف آئی آر کا اندراج لازم کیوں؟ جب طالب علم درخواست کرتے رہے کہ ہم بوتل لینے آئے ہیں غلطی ہوگئی تو انہیں جرمانہ کرکے بھی سبق دیا جاسکتا تھا کہ نا کہ ایف آئی آر کرکے بچوں کا ریکارڈ کالا کرنا ضروری تھا۔ میڈم وزیراعلیٰ نے ٹریفک قوانین کے خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں میں قانون کا ڈر اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کا جذبہ پیدا ہو۔ لیکن گزارش ہے کہ قانون کا اطلاق صرف معزز شہریوں پر ہی کیوں؟ اسی عابد مارکیٹ کا جائزہ لے لیں، ناجائز پارکنگ، رکشوں اور لوڈر گاڑیوں کا رانگ وے استعمال کی وجہ سے ہر وقت ٹریفک جام رہنا معمول ہے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں، یہی صورت حال باقی لاہور اور پورے پنجاب کی ہے۔

    ٹریفک پولیس کے اس اندھے پن کا علاج میری سمجھ سے باہر ہے جنہیں بغیر ہیلمٹ اور بنا بیلٹ والے عام شہری تو نظر آ جاتے ہیں لیکن بنا نمبر پلیٹ والے پبلک ٹرانسپورٹر اور سرکاری گاڑیاں نہیں۔
    اگر کسی کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تو ان ٹریفک پولیس والوں کے خلاف ہونا چاہئے جو اس سرکاری وردی کو داغدار کرکے ناجائز پارکنگ مافیا اور بلانمبر پلیٹ ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کرتے ہیں۔
    آئی جی پنجاب کو چاہئے کہ وزیراعلیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تمام ٹریفک اہلکاروں کو باڈی کیم لگائے جائیں اور انسپکٹر سے نچلے رینک تک دوران ڈیوٹی سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے بنا نمبر پلیٹ رکشوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف بھی بلا تفریق کاروائی کا حکم صادر کیا تھا۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ کے حکم کے باوجود بلانمبر پلیٹ پبلک و پرئیویٹ نمبرز کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی وجہ وہی ہے کہ کاروائی نہ کرنے کے بدلے ہزار روپے فی رکشہ و دو ہزار روپے مزدہ بس ملتا ہے جبکہ کاروائی کرکے ریگولر کمائی کا خاتمہ۔ میڈم وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب کو چاہئے کہ ایک سال سے زائد عرصہ سے آپ ٹریفک پولیس کی منتیں ترلے کرکے اپنا وقت ضائع کرتے رہے اور یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ چوری، ڈکیتی، اغوا، قتل و دہشت گردی کیلئے استعمال ہوتے آرہے ہیں۔ ہر طرح کی مبہم و بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی کا اختیار پولیس اور سی سی ڈی کو دیا جائے کیونکہ بغیر شناخت سڑک پر آنا بھی سنگین جرم اور دہشت گردی کے مترادف ہے۔

    گزشتہ آرٹیکل میں فوڈ اتھارٹی کے حوالے سے ذکر کیا تو سینکڑوں شہریوں نے کیمیکل ملے جعلی دودھ، مردہ جانوروں کے گوشت اور ایکسپائر اشیاء کی سر عام فروخت پر فوڈ اتھارٹی کی لاپرواہی، ملاوٹ اور گراں فروش مافیا کی سرپرستی کی شکایات کے دھیڑ لگا دیے۔
    وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مزید فعال اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ کمپلینٹ سیل کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہر محکمے کے خلاف شکایات کیلئے بیوروکریسی کی بجائے ریٹائرڈ آرمی افسران یا نئے سول افسر بھرتی کیے جائیں جو ایمانداری سے وزیراعلیٰ تک رپورٹ پہنچائیں نہیں تو وہی ہوگا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ بیج میٹ اور سنئیر افسر کی وجہ سے شکایات ردی کی ٹوکری کی نظر ہوجائیں گی۔
    ملک سلمان

  • بنیان المرصوص اور ہم.تحریر ۔ جان محمد رمضان

    بنیان المرصوص اور ہم.تحریر ۔ جان محمد رمضان

    الحمدللہ بنیان المرصوص کے ہم فاتح ہوئے جس پر دنیا کے باشعور پڑھے لکھے ان پڑھ لوگوں نے ہماری افواج کے اس معرکہ حق کو سراہا بلکہ کہا اور دنیا کے بڑے بڑے میڈیا چینلز و اخبارات میں افواج پاکستان کے فاتح ہونے پر تعریفوں کے اداریئے و کالم لکھے گئے مگر اندرون ملک دشمن جو ابھی تک اس معرکہ حق کو ماننے کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں اور اس جنگ کو فرضی جنگ قرار دیتے ہیں وہ لوگ اس جنگ کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل ایسے ہی بن گئے یہ سب فلمی تھا بغض اور ملک دشمنی کی انتہا ھے کہ یہ لوگ دوران جنگ بھی سوشل میڈیا پر افواج پاکستان پر بھونکتے رھے کیا ان لوگوں نے ڈرون تباہ ہوتے نہیں دیکھے کیا ان لوگوں نے فضائیہ کے شاہینوں کا جنگی جنون نہیں دیکھا کیا ان لوگوں نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کو چلتے نہیں دیکھا کیا ان لوگوں سے اپنے باپ مودی کو اور اس کے حواریوں کو روتے ہوئے نہیں دیکھا یہ سب دنیا نے دیکھا مگر ان ملک دشمنوں نے دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھا جو بڑی بڑی باتیں کرتے تھے ان کو بارڈرز پر ڈیوٹی دینی چاہیئے ہم جنگ کے قابل نہیں ہمارے پاس تیل ختم ھے وہ سب پراپیگنڈا اللہ تعالیٰ نے ختم کردیا اور ان انتشاریوں کے باپ مودی نے جنگ میں پہل کی بعد ازاں پھر مرشدِ اعظم امت مسلمہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب نے بنیان المرصوص کی طرح دشمن کو جواب دیا جس کے نتیجے میں دشمن کے ایئر بیس تباہ کردئیے ٹیکنالوجی کا سسٹم تباہ کردئیے دشمن کو بلین ٹریلین ڈالرز کا نقصان پہنچایا جس پر اس انتشاری ٹولے کے دادا ابو نے مرشدِ اعظم امت مسلمہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب سے معافی مانگی اور جنگ روکنے کا مطالبہ کیا جس پر امن پسند ملک ہونے کے ناطے ہم نے جنگ روک دی اور اس جنگ کے ہم فاتح قرار پائے جس پر عوام نے اپنے فاتح بنیان المرصوص کے ہیرو جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو فیلڈ مارشل کیلئے منتخب کیا ہم نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا تھا کہ فیلڈ مارشل سے بھی بڑا کوئی اعزاز ھے تو وہ مرشدِ اعظم امت مسلمہ جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو ملنا چاہیئے اور الحمدللہ رب العالمین نے مرشدِ اعظم کو فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا گیا اور ہم عوام اپنے مرشدِ اعظم امت مسلمہ فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں سوتے ہوئے جنگ کا فاتح بنایا اس ہائبرڈ وار میں انہوں نے بیرونی دشمنوں کیساتھ ساتھ اندرون ملک دشمنوں کو بھی ننگا کیا جو لوگ اس جنگ کو دشمن کی خوشنودی کے لئے فرضی جنگ کہہ کر رہے ہیں وہ اپنی ماں بہن بیٹی کا کی عصمت کی قسم کھا کر بتائیں کہ یہ جنگ فرضی تھی جس میں ہمارے قیمتی جوانوں نے شہادتوں کو ملک کی بقاء کیلئے اہم سمجھا اور قربان ہوئے

    اے دشمنان اسلام اب تجھے سبق ھم دیں گے
    دین ھے ہمارا اسلام اور ہم نگہبان ہیں اس کے

  • مریم نواز مقبولیت کی معراج پر پہنچ گئیں،عوامی پذیرائی مقدر ٹھہری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز مقبولیت کی معراج پر پہنچ گئیں،عوامی پذیرائی مقدر ٹھہری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اعلیٰ سول و پولیس افسر وزیراعلیٰ کے بازو،کاش !وزراء بھی عوام کے خادم بن جائیں
    بجٹ پر پی پی بھی نالاں،اپوزیشن صرف بانی تک محدود،جماعت اسلامی عوام کی آواز
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    وفاقی بجٹ کو لے کر پیپلزپارٹی اور وزیر دفاع کے بیانات کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہی قرار دیا جا سکتا ہے، اپوزیشن کے وہی پرانے بیانات عمران سے لے کر عمران تک ہی سامنے آئے ،عام آدمی کی نمائندگی جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق، موجودہ امیرجماعت اسلامی اورنائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کے بجٹ کو لے کر کررہے ہیں، جماعت اسلامی جیسی بڑی اور نظریاتی جماعت سے یہی توقع تھی جماعت اسلامی کی قیادت ماضی اور حال میں بھی صاف ستھری ہے ،جماعت اسلامی کی درویشی ایک پرانی روایت ہے جو اب تک چلی آرہی ہے ،جماعت اسلامی کے ماضی اور حال کے عمائدین کی درویشانہ زندگی کوئی راز نہیں، میں خود اس کا گواہ ہوں، ملکی تاریخ میں درجنوں بجٹ پیش کئے گئے ، بجٹ کے سینکڑوں صفحات اور کاغذوں کے ڈھیر پارلیمنٹ میں موجود ارکان اسمبلی بھی نہیں پڑھتے ، عام آدمی بجٹ کے ان ڈھیروں کا غذات کو کیا پڑھے گا،عام آدمی کو صرف یہ پتا ہے کہ وہ اپنے کچن اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کیسے پوری کرے گا؟ پنجاب میں مریم نواز کی پذیرائی کی بنیادی وجہ بنیادی ضروریات کی اذیت ناک کی محرومی میں سلگتے ہوئے عوام کی مظلومیت کے ساتھ ان کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیںیہ بھی ممکن ہے مریم نواز جس زور اندازسے سیاست میں اُبھر رہی ہیں اور سیاست کی انتہا پر جار ہی ہیں۔ مستقبل میں سیاسی گلیاروں میں اہم کردار ادا کریں ۔ پولیس سے لے کر سول انتظامیہ وزیراعلی پنجاب کے ہمسفر ہیں۔ بالخصوص آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کی جانب سے کھلی کچہریاں میرٹ ، گڈ گورننس ، پولیس کے اعلی افسران اور سول انتظامیہ کے اعلی افسران تک عوام کی رسائی نے وزیراعلی پنجاب کی مقبولیت کا سبب بن رہے ہیں۔

    اگر پنجاب میں صوبائی کابینہ کے وزراء بھی اپنے ٹیلی فون عوام کے لئے کھلے رکھیں تو وزیراعلی پنجاب کی گڈ گورننس ایک مثالی ہو سکتی ہے مگر صوبائی وزراء عوام سے دور ہیں ۔ اسی طرح صوبائی سیکرٹری بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ پنجاب میں وقت پر دفاتروں میں افسران کا نہ ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟ وزیراعلی کو اپنے وزراء اور وقت کی پابند ی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، وقت کی پابندی بیدار قوموں کی نشانی ہے، اللہ تعالیٰ نے نظام کائنات کی بنیاد پابندی وقت پر رکھی ہے

  • دال بھی مہنگی ہوگئی

    دال بھی مہنگی ہوگئی

    دال بھی مہنگی ہوگئی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    پاکستان میں سالانہ بجٹ عام طور پر ترقیاتی اہداف، عوامی ریلیف اور خزانے کے توازن کا آئینہ ہوتا ہے مگر حالیہ بجٹ جسے ’ترقی کا بجٹ‘ قرار دیا گیا ہے، متوسط اور نچلے طبقے کے لیے مشکلات کا نیا در وا کر رہا ہے۔ اس بجٹ میں جہاں دفاعی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے وہیں ٹیکسوں کا ہدف ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 12.9 کھرب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد تک اضافے کی پیشگوئی کی جا چکی ہے جبکہ عوام کی قوت خرید پہلے ہی کم ترین سطح پر ہے۔

    حکومتی دستاویزات کے مطابق درآمدی دالوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 1.25 فیصد سے بڑھا کر 1.85 فیصد کر دی گئی ہے۔ دال جو ہر غریب پاکستانی کے دسترخوان کی واحد عزت ہوا کرتی تھی، اب وہ بھی آسودہ حال لوگوں کی چیز بنتی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب دال چنا 250–280 روپے میں دستیاب تھی مگر اب اس کی قیمت 360 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ دیگر اقسام، جیسے مسور، ماش اور مونگ بھی مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پیکٹ دودھ، چینی، گھی، چاول، آٹا سب پر بلاواسطہ سیلز ٹیکس کا نفاذ غریبوں کی زندگی اجیرن بنا رہا ہے۔

    مہنگائی صرف خوراک تک محدود نہیں رہی بجلی، گیس اور متبادل توانائی جیسے شعبے بھی اب عوام کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر کے حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کا خواب بھی مہنگائی کے کچرے دان میں پھینک دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف توانائی کے بحران میں اضافہ کرے گا بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی دھچکا ہے جو بلوں سے بچنے کے لیے سولر نظام کی جانب بڑھ رہے تھے۔

    جہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور پنشن میں 7 فیصد کا اعلان کیا گیا ہے، وہیں نجی شعبے، مزدور طبقے، دیہاڑی داروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے نہ کوئی مراعات دی گئیں نہ کسی ریلیف کی کوئی گنجائش رکھی گئی ہے۔ حکومت کے ترقیاتی دعوے اُس وقت کھوکھلے لگتے ہیں جب عام آدمی اپنی تنخواہ سے مہینہ مکمل نہیں کر پاتا اور بچے دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔

    بجٹ میں محصولات بڑھانے کی حکمتِ عملی غیرپیداواری طبقات پر بوجھ ڈال کر کی گئی ہے، بجائے اس کے کہ ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے یا بے نامی جائیدادوں اور آف شور اثاثوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔ دال اور دودھ پر ٹیکس لگا کر عوام سے قربانی مانگنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست نے سہولت کے بجائے آسان شکار کو چنا ہے ، وہ طبقہ جو سڑک پر آ کر احتجاج بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی عدالت سے رجوع کی سکت رکھتا ہے کیونکہ عدالتوں سے عام آدمی کو کبھی ریلیف نہیں مل سکتا کیونکہ عدلیہ بھی مراعات یافتہ طبقہ پر مشتمل ہے ۔

    اس سب کے باوجود حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ یہ بجٹ معیشت کو استحکام دے گا، معاشی اصلاحات کو فروغ دے گا اور قرضوں پر انحصار کم کرے گا۔ مگر جب بنیادی اشیاء ہی عوام کی پہنچ سے دور ہو جائیں، جب بجلی، گیس، دال، دودھ اور چینی پر ٹیکس لگ جائے تو استحکام کے خواب عام آدمی کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔

    یہ بجٹ خزانے کے لیے تو ممکن ہے کہ مثبت ہومگر عوام کے لیے یہ ایک زخم ہے جو ہر دن تازہ ہوتا ہے۔ ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ ٹیکس اصلاحات کا مطلب صرف ریونیو کا حصول نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ بوجھ کس پر ڈالا جا رہا ہے۔ جب دال بھی مہنگی ہو جائے تو اس کا مطلب صرف خوراک کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی رسوائی ہے، ایک پوری قوم کی بنیادی ضرورتوں کی توہین ہے۔

    ایسے میں سوال صرف یہ نہیں کہ لوگ کیا کھائیں گے بلکہ یہ ہے کہ وہ آخر جیئیں گے کیسے؟ دال وہ آخری چیز تھی جو غریب کے چولہے کو جلائے رکھتی تھی، اب وہ بھی چھن گئی ہے۔ حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ جب چولہا بجھ جائے تو صرف گھر نہیں، ریاستیں بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔ دال کی مہنگائی محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے جنازے کی پہلی گھنٹی ہے۔ اگر ریاست کو اب بھی ہوش نہ آیا تو آنے والا وقت صرف احتجاج کا نہیں، خدانخواستہ بغاوت کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بغاوت دال کے پیالے سے شروع ہوگی اور سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گی۔

  • غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو

    غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو

    غریب کی عید: نہ گوشت، نہ کپڑے، صرف بل اور آنسو
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور آیا ہو جب خوشیوں کی نوید بننے والی عید، عام شہری کے لیے یوں بوجھ، خوف اور کرب کی علامت بن گئی ہو۔ عیدالاضحیٰ جو کبھی بھائی چارے، ایثار اور قربانی کا مظہر ہوا کرتی تھی، آج بجلی کے بلوں، ہوشربا مہنگائی اور معاشی جبر کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ اس بار لاکھوں پاکستانی اس دلی کرب سے گزرے کہ وہ قربانی جیسے دینی فریضے سے بھی محروم رہ گئے اور ان کی محرومی کا سبب صرف غربت نہیں بلکہ وہ پالیسی ساز ہیں جنہوں نے نظام کو عوام دشمن بنا ڈالا ہے۔

    عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ نئے عالمی معیار کے مطابق روزانہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والا فرد غریب تصور کیا جاتا ہے اور اس پیمانے پر پاکستان کی 44.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ تعداد پہلے 39.8 فیصد تھی اور موجودہ معاشی دباؤ کے تحت یہ تناسب بڑھ کر 9 کروڑ سے تجاوز کر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 16.5 فیصد پاکستانیوں کی روزانہ آمدن 3 ڈالر سے بھی کم ہے جبکہ 88 فیصد سے زائد عوام 8.50 ڈالر روزانہ سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ لاکھوں خالی دسترخوان، ادھوری خوشیاں اور خون کے آنسو روتی کہانیاں ہیں۔

    اسی تناظر میں پاکستان ٹینریز ایسوسی ایشن کی رپورٹ مزید افسوسناک تصویر پیش کرتی ہے، جس کے مطابق رواں برس عیدالاضحیٰ پر کھالوں کے حصول میں 30 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور قربانی میں واضح کمی ہے۔ جہاں پہلے ہر گلی میں اجتماعی قربانیوں کے کیمپ لگتے تھے، اب وہ یا تو خالی نظر آئے یا صرف نام کی سرگرمیوں تک محدود رہے۔ یہ صرف ایک مذہبی روایت کا زوال نہیں بلکہ ایک معاشرتی بحران کی عکاسی ہے۔

    بجلی کے ظالمانہ بل، نیپرا کی ناقابل فہم پالیسیاں اور وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں جاری سلیبز سسٹم نے لاکھوں پاکستانیوں کو معاشی طور پر دیوار سے لگا دیا ہے۔ صرف 199 یونٹس استعمال کرنے والے صارف کو 3 ہزار کا بل، اور 200 یونٹس ہوتے ہی 10 ہزار سے زائد کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس ناانصافی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایسے بلز جو نہ صرف آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ جعلی ڈیٹیکشن چارجز اور اوور بلنگ کے ذریعے لوگوں کو لوٹا جاتا ہے، آج لاکھوں پاکستانیوں کی خودکشیوں، بیماریوں اور ذہنی اذیتوں کا بنیادی سبب بن چکے ہیں۔

    فیصل آباد کا حمزہ، بہاولنگر کا ساجد، ٹیکسلا کا طاہر، گوجرانوالہ کی رضیہ بی بی، اور جہانیاں کی ایک ماں،یہ سب زندہ حقیقتیں ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بجلی کے بل صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ ظلم کی مہر ثبت کیے ہوئے وہ فرمان ہیں جو زندگی چھین لیتے ہیں۔ ان اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ واپڈا؟ نیپرا؟ وزیر توانائی؟ یا اس پورے نظام پر جو بجائے عوام کو ریلیف دینے کے، ان کے گلے میں قرض، مہنگائی اور مایوسی کا طوق ڈال دیتا ہے؟

    اور جب کوئی مظلوم آواز بلند کرتا ہے تو ریاستی ردِعمل صرف لاٹھی، آنسو گیس اور جھوٹے مقدمات کی صورت میں آتا ہے۔ گوجرہ، دیپالپور، کمالیہ، سرگودھاجیسے شہروں میں بجلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل، اپنے گھروں کی روشنی اور اپنی زندگی کی بھیک مانگنے کی جسارت کی۔

    ان سب کہانیوں کے بیچ سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ انصاف کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔ عدالتوں، تھانوں اور انتظامیہ کے رویے بتاتے ہیں کہ اس ملک کا غریب صرف ٹیکس دینے، بل بھرنے اور سسٹم کو چلانے کے لیے ہے،اسے سننے والا، بچانے والا یا سہارا دینے والا کوئی نہیں۔ انصاف کے نام پر صرف فیسیں، تاریخیں اور ذلت کی راہیں ہیں۔

    اس بار عیدالاضحیٰ غریب اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے لیے بہت مشکل حالات میں گزری۔ کئی گھرانوں کے حالات پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ جو لوگ گزشتہ سالوں میں دو سے تین قربانیاں کیا کرتے تھے، وہ اس بار قربانی سے قاصر رہے۔ ایک جاننے والے سے پوچھا کہ آپ نے قربانی کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’مہنگائی نے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر بجلی کے بل نے کچومر نکال دیا۔ سوچا تھا کہ اس بار اجتماعی قربانی میں شامل ہو جاؤں گا لیکن واپڈا نے 45 ہزار روپے کا بل تھما دیا۔ قربانی کے پیسے بھی بجلی کے بل کی نذر ہو گئے، اس لیے قربانی نہ کر سکا۔‘‘ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، ہزاروں بلکہ لاکھوں پاکستانی اسی طرح قربانی سے محروم رہے۔

    اس عید پر لاکھوں گھروں میں موت کا سناٹا چھایا رہا۔ نہ نئے کپڑوں کی چمک دکھائی دی، نہ گوشت کی خوشبو، نہ بچوں کی ہنسی۔ بس بجلی کے بل، نوٹس اور دھمکیاں ہیں۔ عید، جو کبھی خوشیوں کی علامت تھی، اب غریب کی زندگی، عزت اور خوابوں کی قربانی بن چکی ہے۔

    یہ خاموشی ٹوٹنی چاہیے۔ یہ کرب قلم سے نکل کر قانون بننا چاہیے۔ اگر بجلی کا بل کسی کی قربانی، کسی کی تعلیم، کسی کی دوا یا کسی کی زندگی چھین لے، تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بحران ہے۔ جب 44.7 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہوں اور ریاست انہیں نہ تحفظ دے، نہ ریلیف تو وہ ریاست کس کام کی؟ وہ پالیسی ساز جو صرف قرضے، مہنگائی اور نئے ٹیکسوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، کیا ان کے دل میں کبھی ایک عید نہ منا سکنے والے پاکستانی کا درد جاگا ہے؟

    غریب کی عید کون کھا گیا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ جب عید بھی ہمیں خوشی نہیں دے سکتی، جب قربانی بھی بجلی کے بل کھا جائیں، جب کھالیں بھی جمع نہ ہو سکیں، جب گوشت سے زیادہ آنکھوں میں آنسو ہوں، تو پھر عید کیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ غریب کی عید کون کھا گیا؟ وہ نظام، وہ وزیر، یا وہ پوری ریاست جو خاموش تماشائی بن چکی ہے؟ یہ خاموشی کب ٹوٹے گی؟

  • ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    پنجاب میں عید کے تینوں دن ناصرف الائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگایا گیا بلکہ پنجاب کی گلیاں بازار اور وہ جگہیں بھی صاف سھتری اور اجلی نظر آئیں جہاں اس سے قبل میونسپل کارپوریشن والے کبھی پہنچے ہی نہیں تھے، عید کے تینوں دن”ستھرا پنجاب“ اور ”شکریہ مریم نواز شریف“ ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ صفائی کے بہترین انتظامات پر پنجاب کا ہرشہری تعریف کیے بن نہ رہ سکا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس دفعہ جب عید پر پنجاب کی گلی کوچوں کی مکمل صفائی کا اعلان کیا اور انتظامی افسران نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پنجاب کا تاریخی گرینڈ صفائی آپریشن شروع ہونے لگا ہے تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ مشن اتنی جلدی اور واقعی کامیاب ہوجائے گا لیکن حکومت پنجاب نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔ ستھرا پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس پر ماضی میں بہت تنقید ہوتی رہی کہ اتنے زیادہ وسائل کے باوجود صفائی والا عملہ کام نہیں کر رہا لیکن اس ایک ہفتے میں ایسا انقلاب کیسے آگیا کہ کام چوری کی وجہ سے گالی بنے ویسٹ مینجمنٹ والے ہر طرف ایکٹو اور کام کرتے نظر آئے جبکہ پنجاب کی عوام تعریف کرنے پر مجبور ہوگئی۔ فرق صرف فیصلہ سازی، فوکس، چیک اینڈ بیلنس اور عوامی فیڈ بیک کیلئے وزیراعلیٰ شکایات سیل فعال کرنے کا تھا۔ وزیراعلیٰ نے صفائی مہم کی کامیابی کیلئے ستھرا پنجاب، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھی اس مہم کو کامیاب بنانے کا واضح ٹاسک دیا تھا۔ صفائی اور الائشوں کو ٹھکانے لگانے میں کوتاہی کی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا کہ جسے بھی شکایات ہو وزیراعلیٰ شکایات سیل پر واٹس ایپ کردے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے دوٹوک الفاظ اور زیرو ٹالرینس کے تحت صفائی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے کا حکم اور عوامی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر جاری کرنے سے سب کو احتساب کا ڈر تھا اس لیے مشن امپاسیل پاسیبل ہوگیا۔

    تاریخی اور کامیاب ترین صفائی مہم اور حقیقی ستھرا پنجاب کیلئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ناصرف مبارکباد بلکہ دل سے شکریہ بھی لیکن گزارش ہے کہ جس طرح آپ نے ستھرا پنجاب کو کامیاب کروایا اسے صرف پانچ دن کی مہم تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ باقاعدگی سے فالواپ لیتی رہیں اور اسی طرح عوامی شکایات اور فیڈبیک کیلئے وزیراعلیٰ سیل فعال رہنا چاہئے تاکہ محکمہ صفائی اور انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر موجود رہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھی پنجاب کی عوام نے آپ کو بہت زیادہ شاباش اور دعائیں دی تھیں لیکن ستمبر 2024سے شروع ہونے والا آپریشن ابھی تک نامکمل ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کے اعلان کو انتظامی افسران نے سابقہ حکومت کی طرح محض اعلان سمجھا اور فارگرانٹڈ لیتے ہوئے رسمی کاروائی کا جعلی فوٹو شوٹ کیا۔

    رواں سال جنوری میں مریم نواز شریف نے تجاوزات مافیا کے خلاف زیروٹالرینس کا حکم دیا تو یہ آپریشن بڑی کامیابی سے شروع ہوا، ہر کوئی تعریف کرنے پر مجبور ہوا کہ یہ پہلی وزیراعلیٰ ہیں جو قبضہ مافیہ کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ اشرافیہ کی سرپرستی میں بدمعاشیہ کے زیراثر چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمین کی واپسی اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے اقدامات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نوجوانوں کی مقبول ترین لیڈر بن کر ابھریں۔ انتظامی افسران کے تاخیری حربوں کی وجہ سے کئی مہینوں سے جاری آپریشن کے باوجود بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ہوسکا وجہ وہی کہ انتظامی افسران تجاوزات لگوا کر ملنی والی ریگولر کمائی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ رسمی آپریشن کے بعد تجاوزات وہیں واپس آجاتی ہیں۔ میڈم وزیراعلیٰ ستھرا پنجاب ایک ہفتے میں اس لیے کامیات ہوا کہ عوامی فیڈ بیک کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا تھا جس سے انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر تھا۔ یہاں چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمینوں کی واگزاری کا مشن ہے اس مشن کی کامیابی کیلئے وزیراعلیٰ انکروچمنٹ مانیٹرنگ سیل قائم کرنا چاہئے پھر اثر دیکھیے گا کہ تجاوزات دنوں میں ختم ہوں گی کیونکہ عوام بتائے گی کہ کس کس جگہ پر کس کا قبضہ ہے اور کون سے سیاسی اور انتظامی افراد یہاں سے بھتہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک سال سے مسلسل کوششوں کے باوجود پنجاب کی ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ، بلانمبر پلیٹ رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کاروائی نہیں کرتی کہ یہ بنا نمبر پلیٹ پبلک ٹرانسپورٹرز اور پارکنگ مافیا پنجاب کی ٹریفک پولیس، پنجاب ہائی ویز پولیس اور چیف ٹریفک آفیسرز کو مجموعی طور پر سو ارب سے زائد کی رقم ماہانہ دیتے ہیں۔
    پاکستان میں سب سے زیادہ جعلی اور کیمیکل ملادودھ پنجاب میں فروخت ہوتا ہے، گدھوں اور مردہ گوشت کی کہانیاں اس قدر عام ہیں کہ دوسرے صوبوں والے ہم پر میمز بناتے ہیں لاہور اور پنجاب والوں کو بکرے کا گوشت صرف عید پر ہی نصیب ہوتا ہے۔ غیر معیاری فوڈ آئٹمز کی وجہ سے ہسپتال بھرے پڑے ہیں لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی والے سارا دن ریسٹورنٹس سے خصوصی ڈسکاؤنٹ کیلئے مارے مارے پھر ہوتے ہیں اور بعد میں انکی چاکری کرتے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی میلوں ٹھیلوں کیلئے سپانسرشپ لیکر انھی فوڈ پراڈکٹس مالکان کے بینیفشری ہوکر ان کے خلاف کاروائی کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ میڈم وزیراعلیٰ، صحت مند پنجاب، ٹریفک مینجمنٹ اور تجاوزات فری پنجاب بھی آپ کے فلیگ شپ پروگرامات ہیں ان کیلئے بھی وزیراعلیٰ مانیٹرنگ سیل قائم کریں جہاں عوام واٹس ایپ کے زریعے فوری فیڈ بیک اور شکایات درج کروا سکیں۔ شکایات سیل اور خصوصی مانیٹرنگ سیل کی کامیابی کیلئے اس سیل کی سربراہی کسی ریٹائرڈ آرمی آفیسر کو دی جائے تاکہ زیروٹالرینس کے ساتھ جدید، صاف ستھرے، صحت مند، ماحول دوست اور تجاوزات فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
    maliksalman2008@gmail.com