Baaghi TV

Category: سیاست

  • ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز میرٹ ،وقت کی پابندی ،رائٹ مین فار رائٹ جاب ہے ۔بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان راستوں کا انتخاب کر کے صوبے پنجاب میں انقلاب برپا کر دیا ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے پنجاب کی سول بیورو کریسی کن راستوں پر چل پڑی ہے چیف سیکرٹری پنجاب سمیت صوبائی سیکرٹریوں نے اپنے الگ راستوں کا انتخاب کر لیا ہے، ڈینگی کو لے کر سول بیورو کریسی اور پنجاب کی انتظامیہ جو اقدامات کر رہی ہے وہ نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب بلکہ عوام سے کھلے مذاق کے مترادف ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض یا دیگر امراض قابو پانے کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت کے افسران اور فیلڈ سٹاف کی ہوتی ہے اور وہ کامیابی سے مستعدی سے ان امراض پر قابو پاتے ہیں۔ مگر ڈینگی کو لے کر پنجاب بھر کی سول انتظامیہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر تمام محکموں کے ضلعی سربراہان کی بے سود میٹنگز اور فوٹو سیشن کاوشوں نے کیا ڈینگی کے بے قابو جن پر کنٹرول کر لیا ہے ہفتے میں چار پانچ دن ڈینگی کی میٹنگ سے دیگر محکموں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے دیگر محکموں کے افسران عام آدمی کو میسر نہیں ہوتے بلکہ ان روزانہ کی میٹنگز سے خود کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز، عوام اور ان کے مسائل کے حل سے بہت دور ہو چکے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران کو مکمل ذمہ داریاں ایک ہی بار سونپ کر فیلڈ سٹاف سے کارکردگی مانگی جائے اور دیگر محکموں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں پرفارم کرنے کا موقع دیا جائے نہ کہ تعلیم، بلڈنگ، سماجی بہبود اور دیگر محکمے اپنے اپنے فوکل پرسن کے ذریعے فوٹو سیشن کی تصاویر بھیج کر ڈینگی کی سب اچھا کی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کریں پنجاب کے ہسپتالوں کے وارڈز ڈینگی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں عملی طور پر نہ تو مکمل سپرے کیا جا رہا ہے اور نہ ہی گندے و صاف پانی کے گڑھوں کو ختم کیا جا رہا ہے قد آدم سے بلند گھاس بوٹیاں ڈینگی مچھروں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، صفائی کے ایس او پیز تو ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جبکہ ہسپتالوں میں بھی صفائی کا انتظام نہیں نظر آرہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران بشمول سیکرٹری صحت وزیر صحت کو فیلڈ میں نکل کر انسپکشن کر کے وزیراعلیٰ پنجاب کو ضلعی افسران انتظامیہ و صحت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں

  • ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی،قوم حیران
    ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش،25کروڑ عوام کی کسی کو فکر نہیں
    پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے فلاحی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی سازش
    دو اور دو چار ہوتے ہیں،سیاستدانوں کا آئین پر حساب کتاب کمزورکیوں ؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    سیاست کی دنیا میں دھند بڑھتی ہی جا رہی،باران رحمت کاانتظار،قوم حیران،کسی کو پچیس کروڑ عوام کی فکر نہیں،پنجاب میں عوام کی اس دھند زدہ سیاست میں فکر نظر آرہی،پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی خدمت کے ایجنڈے پر نوجوانوں کے ذریعے حملہ کیا گیا،من گھڑت کہانی بنا کر ترقی کرتے پنجاب کو عالمی سطح پر بدنام کیا گیا،ایسے تماشوں کا وزیراعلیٰ پنجاب کو مزید انتظار کرنے اور ان تماشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ تماش بینوں کا کام صرف تماش بینی ہوتا ہے،اسلام آباد میں آئین کو لے کر سیاسی تماشے ہو رہے ہیں آئین کو ڈھال بنا کر سیاسی و مذہبی جماعتیں کون سا کھیل کھیلنے میں اور ایک دوسرے سے جیتنے میں مصروف ہیں جبکہ آئین تو دو اور دو کی طرح بالکل آسان ہے آئینی سوال کو مشکل ترین بنا دیا گیا،سب کو معلوم ہے آئین کیا ہے اکثریت کیا ہے معلوم نہیں ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لے کر حساب کتاب کیوں کمزور ہے؟ تاہم بات سمجھ سے بالاتر ہے کون کس کے ساتھ کیا گیم کھیل رہا ہے،امریکی سیاستدان الیکشن میں مصروف ہیں،دنیا کی نظریں امریکی انتخابات پر لگی ہیں ڈونلڈ ٹرمپ یا کملا ہیرس ،وائٹ ہائوس کانیا مکین کون ہوگا امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی کامیابی یقینی ہو سکتی ہے امریکی عوام کی اکثریت کوئی معاوضہ لئے بغیر ٹرمپ کی انتخابی مہم چلا رہی، اگر ٹرمپ کامیاب ہو گئے تو ان کی بھرپور توجہ معیشت پر ہوگی،امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اپنی صدارت کا آخری دورہ یورپ کا کر لیا ہے، یورپی یونین کی چند ریاستیں ٹرمپ کی دوسری صدارت کا خیر مقدم کریں گی۔
    تجزیہ

  • شنگھائی تعاون تنظیم،پاکستان کے لئے تجارتی روابط ،معاشی ترقی کیلئے ضروری

    شنگھائی تعاون تنظیم،پاکستان کے لئے تجارتی روابط ،معاشی ترقی کیلئے ضروری

    شنگھائی تعاون تنظیم کی توجہ آہستہ آہستہ رکن ممالک کے اقتصادی روابط اور ترقی کی طرف منتقل ہو رہی ہے جبکہ رکن ممالک کے ساتھ پائیدار اقتصادی تعلقات قائم کرنے کی منتقلی سے فائدہ اٹھانے کا یہ ایک اچھا موقع ہے، شنگھائی تعاون تنظیم ایک علاقائی فورم کے طور پر ابھری ہے جس کا مقصد تیزی سے عالمی اقتصادی، سماجی اور سفارتی تبدیلیوں کے درمیان تمام رکن ممالک کی تعمیر اور مضبوطی ہے جس کے نتیجے میں طاقت کا ڈھانچہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے، جہاں چین سب سے طاقتور معاشی کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر نمودار ہواہے اور عالمی اقتصادی اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے لئے اصلاحات کے لئے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہا ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام سرحدی انتظام اور سلامتی سے متعلق معمولی مسائل کو حل کرنے کے لئے عمل میں لایا گیا لیکن بعد میں اس میں توسیع کردی گئی، شنگھائی تعاون تنظیم حجم اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے اس کے ارکان دنیا کی آبادی کا تقریبا40 فیصد پر مشتمل ہیں اور ان کی جی ڈی پی 24 بلین امریکی ڈالر ہے، ان کے پاس 20 فیصد تیل اور 44 فیصد گیس کے ذخائر ہیں،سعودی عرب اور دیگر خواہش مندوں کی شمولیت سے مارکیٹ کا حجم، توانائی کے وسائل کا حصہ (تیل اور گیس)اور اقتصادی حجم میں مزید اضافہ ہوگا،یہ واحد تنظیم ہے جو چار جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک (چین، روس، بھارت اور پاکستان) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو ارکان کی میزبانی کرتی ہے، 2004 میں چینی وزیر اعظم نے ایس سی او کے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدوں کے لئے کام کریں،2005 میں چین نے اس پر مزید غور و خوض کے لیے 100 ایکشن دستاویز بھی پیش کی تھیں،2018 میں سربراہان مملکت کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ بین العلاقائی تجارت کے لیے تجارتی طریقہ کار کو آسان بنایا جائے، 2019 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں ایک بار پھر ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ اقتصادی تعاون اور تجارت بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں،2024 میں ارکان نے سربراہ مملکت کے اجلاس میں دوسری ترقیاتی حکمت عملی کی منظوری دی،اراکین نے تجارت، سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا اور سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے میں نجی شعبوں کو شامل کرنے کے لئے خصوصی پہل کی،چین اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہا ہے اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو فروغ دے رہا ہے اور مثالی طور پر آگے بڑھ رہا ہے،گزشتہ چند سالوں میں اس نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ اپنی تجارت میں اضافہ کیا ہے،س وقت چین شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے،شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے پاس شنگھائی تعاون تنظیم کی اقتصادی صلاحیت، اس کے پلیٹ فارمز اور اس کے رکن ممالک کے اقدامات سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع ہے۔

    وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کے اعداد و شمار بہت زیادہ نہیں ہیں کیونکہ پاکستان کی ازبکستان کو مجموعی برآمدات 27.91 ملین امریکی ڈالر، قازقستان کو 107.2 ملین ڈالر، تاجکستان کو 32 ملین ڈالر اور کرغزستان کو 10.6 ملین امریکی ڈالر ہیں، امپورٹ کے محاذ پر صورتحال ایک بار پھر ویسی ہی ہے،ا
    زبکستان سے پاکستان کی درآمدات 32.3 ملین امریکی ڈالر، قازقستان سے 1.9 ملین ڈالر، تاجکستان سے 202 ملین ڈالر اور کرغزستان سے 309 ملین امریکی ڈالر ہیں، روس ایک اور بہت اہم ملک ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم معماروں میں سے ایک ہے روس معروف معیشتوں اور ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے،یہ ایک سپر پاور تھی اور اب بھی بین الاقوامی معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے، بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی روس کو کل برآمدات صرف 88 ملین امریکی ڈالر ہیں اور اس کی درآمدات کی مالیت 885 ملین امریکی ڈالر ہے، تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان اور روس اپنی پریشان کن تاریخ پر قابو پانے اور اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،شنگھائی تعاون تنظیم اور چین نے دونوں ممالک کو برف پگھلانے کا موقع فراہم کیا اور اب دونوں ممالک مزید بہتری پر کام کر رہے ہیں، روس گوادر بندرگاہ کو تجارت اور رابطے کے لیے استعمال کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، ان اقدامات سے تجارت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی،

    سب سے پہلے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک کی منڈیوں کا مطالعہ کرنا ہوگا، اس مقصد کے لیے پاکستان کو ان ممالک کی منڈیوں اور انتظامی ڈھانچے کا مطالعہ کرنے کے لیے مستقل ادارے قائم کرنے چاہئیں، تمام ممالک کی منڈیوں اور گورننس کے ڈھانچے کی جامع تفہیم سے پاکستان کو ایک دانشمندانہ اور معروضی پالیسی وضع کرنے میں مدد ملے گی، دوسرا یہ کہ پاکستان کو تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے جدید طریقے تلاش کرنے چاہئیں، بھارت پاکستان کا پڑوسی ملک ہے، کشیدگی ضرور ہے مگر بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر کر کے تجارت بحال ہونی چاہئے، بھارت کے ساتھ روابط کو بہتر کرنے کے لئے پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے.

    تحریر:محمد راشد

  • ایس سی اواجلاس،اور بالاخر آگیا وہ شاہکار تھا جس کا سب کو انتظار،تحریر: حنا سرور

    ایس سی اواجلاس،اور بالاخر آگیا وہ شاہکار تھا جس کا سب کو انتظار،تحریر: حنا سرور

    شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کاسربراہی اجلاس 15 اکتوبر پاکستان میں منعقد ہوگا۔یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ خطے میں اقتصادی تعاون، سیکیورٹی اور ماحولیاتی مسائل جیسے اہم امور پر بات چیت کو فروغ دے۔ ایس سی او کے اس اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے، علاقائی استحکام کو بہتر بنانے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے منصوبوں پر زور دیا جائے گا۔پاکستان اس اجلاس کے ذریعے اپنی حیثیت کو مضبوط کر سکتا ہے اور خطے میں اقتصادی تعاون اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایس سی او کے رکن ممالک دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسند جیسے مسائل پر تعاون کرتے ہیں۔

    پاکستان کو تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔اور ایس سی او اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی جو پاکستان تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تجارتی رابطوں کو بڑھا سکتا ہے اور سرمایہ کاری کے مواقع حاصل کر سکتا ہے، خاص طور پر چین اور روس جیسے بڑے معیشتوں کے ساتھ۔اور اسی ایس سی او کے ذریعے پاکستان علاقائی انفراسٹرکچر پروجیکٹس میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے جیسے کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI)، جس سے ملک کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی رابطے مضبوط ہوں گے۔اس ایس سی او کے اجلاسوں کی میزبانی اور تنظیم میں فعال کردار سے پاکستان کی عالمی سطح پر سفارتی حیثیت مضبوط ہوگی، اور اسے خطے میں ایک پل کا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ ایس سی اوکے اندر توانائی کی تقسیم اور وسائل کے استعمال کے حوالے سے تعاون کے امکانات ہیں، جس سے پاکستان کو توانائی بحران کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔اس ایس سی او کے زریعے پاکستان نہ صرف اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں مدد حاصل کر سکتا ہے بلکہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا سکتا ہے۔پیارے پاکستانیو ایس سی او کے ڈھیر سارے فوائد جاننے کے بعد آپ یہ بات تو سمجھ چکے ہوں گے کہ جیسے ہی پاکستان دشمنوں نے عالمی شنگھائی اجلاس اس بار پاکستان میں ہونے کی خبر سنی تو تمام دشمن حواس باختہ کیوں ہو گے۔کیوں اچانک ہی عمران خان نے دھرنوں جلسوں کی کال دے دی کیوں اچانک سے بلوچستان میں ماہ رنگ بلوچ ایکٹو ہو گئی کیوں خیبرپختونخواہ میں پہلے پولیس اور فوج کو آمنے سامنے کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر اچانک ہی منظور پشتین کو جرگے کے زریعے لاونچ کر دیا گیا۔۔تو میرے پیارے پاکستانیوں یہ تھی وہ پاکستان دشمنوں کی چالیں شنگھائی کانفرنس پاکستان میں منسوخ کروانے کی خاص کر چینی وزیراعظم کا دورہ منسوخ کروانے کی۔لیکن دشمنان پاکستان یہ بھول چکے تھے کہ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں۔تم کتنا ہی رستہ روکو یہ نور اندھیرے میں روشنی کی کرن نکال ہی لیتا ہے.

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی کانفرنس،دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں،شرجیل میمن

  • ایس سی اوکانفرنس،علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد .تجزیہ: شہزاد قریشی

    ایس سی اوکانفرنس،علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد .تجزیہ: شہزاد قریشی

    نواز شریف اور مقتدر حلقے ملکی ترقی اور خشحالی کے راستے پر گامزن
    نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والے آج بھی ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے پر بضد
    ایس سی او کانفرنس کا انعقاد اسحاق ڈار کی کامیاب سفارت کاری کا کرشمہ

    پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا عزم میاں نواز شریف کی قیادت کا خاصہ ہے،اسلام آباد میں شنگھائی تعاون کونسل کے رکن ممالک کا سربراہی ا جلاس منعقد ہونا علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہے اور پاکستان کے علاقائی ترقی اور باہمی تعاون میں کردار کا اعتراف ہے، شنگھائی تعاون کونسل کے سمٹ اجلاس میں پاکستان کے روشن مستقبل اور ترقی کی راہیں پوشیدہ ہیں،اس تناظر مین پاکستان کے عوام کو ترقی اور تنزلی ، استحکام اور انتشار ،اتحاد اور امن اوربدامنی کے راستوں میں تفریق کرنی ہوگی، میاں نواز شریف اور مقتدر حلقے پاکستان کی ترقی ، امن ،استحکام اور باہمی اتفاق کے راستوں پر گامزن ہیں جبکہ چند ناعاقبت اندیش سیاسی و لسانی عناصر اپنے مذموم مقاصد اور ذاتی عناد اور مفاد کی خاطر ادھر اُدھر دھرنا دھونس کی سیاست کے طبل بجا کر شنگھائی تعاون کونسل کے اجلاس میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان ہجوموں میں ” نک دا کوکا” نچنے دا دل کردا” ۔ ” پروگرام وڑگیا” کے بے مقصد نعرے نوجوان نسل کو پاکستان کی حقیقی منزل سے دور کررہے ہیں، اس سے قبل 2014 ء میں ہمارے پاکستان کے قابل فخر دوست چین کے صدر کے دورے کے عین وقت پر منسوخی نے سی پیک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور پھر نئے پاکستان کے نام نہاد نعرے میں پاکستانی قوم نے اخلاقی اور تعلیمی انحطاط ، ترقی سے تنزلی اور اداروں میں سُست روی کا ایسا دور دیکھاجس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے،پاکستان میں شنگھائی تعاون کونسل کا اجلاس میاں نواز شریف،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کامیاب سفارت کاری کا کرشمہ ہے،جس کے اثرات تمام خطے پر پڑیں گے اور خصوصاً پاکستان کا علاقائی ترقی میں کردار نمایاں ہوگا،عوام کی ترقی کی راہوں کا انتخاب مبارک ہو۔

  • پاک چین تعلقات میں تناؤ؟

    پاک چین تعلقات میں تناؤ؟

    پاکستانی حکام نے جمعہ کو اطلاع دی کہ دہشت گردوں نے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی کان پر صبح سویرے حملہ کیا جس میں کم از کم 20 مزدور ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں،راکٹوں اور دستی بموں سمیت بھاری ہتھیاروں سے لیس حملہ آوروں نے قدرتی وسائل سے مالامال دور افتادہ علاقے دکی میں کان کنوں کے رہائشی مکانوں کو نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے سے قبل کان کنی کے سامان کو بھی آگ لگا دی۔ایک مقامی ہسپتال کے طبی عملے نے تصدیق کی کہ بچ جانے والے کم از کم سات زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ زیادہ تر متاثرین بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نسلی پشتون تھے، ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں کم از کم تین افغان مہاجرین شامل ہیں۔

    یہ واقعہ ایک حالیہ خودکش کار بم دھماکے کے بعد پیش آیا ہے، جس کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ میں کراچی کے ہوائی اڈے کے قریب قبول کی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں دو چینی انجینئرز ہلاک اور کم از کم 10 دیگر زخمی ہوئے، جن میں ایک چینی باشندہ اور مقامی سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ چینی متاثرین کراچی کے بندرگاہی شہر میں بیجنگ کی جانب سے بنائے گئے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کے ملازم تھے۔

    2017 سے اب تک پاکستان میں کم از کم 21 چینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین حملوں کے جواب میں، چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ اس کی مکمل تحقیقات کرے، قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، اور ملک میں کام کرنے والے چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات کو بڑھائے۔

    چینی شہریوں پر حملوں سمیت جاری تشدد سے پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کا خطرہ ہے، خاص طور پر سی پیک منصوبوں کے تناظر میں، 15-16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ سربراہی کانفرنس کے ساتھ، بڑھتا ہوا عدم استحکام ایک اہم چیلنج پیش کر رہا ہے۔پاکستانی حکومت کو اپنی سلامتی اور معاشی استحکام کی خاطر دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے تاکہ امن کی بحالی اور اپنے اہم مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

  • پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات  ضروری.تحریر:عاصمہ بنگش

    پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات ضروری.تحریر:عاصمہ بنگش

    حکومت کو پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں

    حالیہ واقعات، خصوصاً خیبر پختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ارکان کی جانب سے مبینہ طور پر ایک پولیس گاڑی کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ، اسے محض ایک وقتی غصے کا اظہار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ، اور اس جیسے بے شمار دوسرے واقعات، پی ٹی ایم کی دشمنانہ کارروائیوں میں ایک خطرناک اضافہ کی عکاسی کرتے ہیں ایک تحریک جو حقوق کے لیے جدوجہد سے بڑھ کر انتہاپسندی کی حدود پار کر چکی ہے۔ پی ٹی ایم کے دہشت گرد نیٹ ورکس، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کی خودمختاری کے لیے براہِ راست اور سنگین خطرہ ہیں۔ حکومت کو اب صرف ان عناصر کو قابو میں رکھنے کے بجائے، ایک زیادہ جارحانہ اور جامع حکمت عملی اپنانی ہو گی تاکہ ان نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

    پی ٹی ایم نے بارہا پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور ریاست مخالف قوتوں کا سہولت کار ثابت ہوئی ہے۔ اپنے آغاز سے ہی اس تحریک نے اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر کے ساتھ سازباز کی ہے تاکہ ملک کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی سے تعلقات کے شواہد بارہا سامنے آ چکے ہیں، جن میں ٹی ٹی پی کے کارندوں کو پی ٹی ایم کے اجتماعات میں کھلم کھلا شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ محض ایک حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم نہیں، بلکہ ایک ایسا گروہ ہے جس نے دہشت گرد عناصر کے ساتھ مل کر ملک کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ پی ٹی ایم پر انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت پابندی عائد کرنے کا حکومتی اقدام نہ صرف ضروری تھا بلکہ اس میں تاخیر بھی ہو چکی تھی۔

    مزید برآں، پی ٹی ایم کے غیر ملکی دشمن ایجنسیوں، خصوصاً افغانستان کے ساتھ گہرے روابط، صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پی ٹی ایم کو خفیہ حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اس تحریک کی بیان بازی اور اقدامات پاکستان کے بجائے افغانستان کے مفادات کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی خودمختار ملک ایسی تحریک کو برداشت نہیں کر سکتا جو بیرونی طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کے لیے پراکسی کے طور پر کام کرے۔ پی ٹی ایم اب محض ایک مقامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک وسیع تر اور خطرناک نیٹ ورک کا حصہ ہے جو پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اسی طرح، بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی طرف سے لاحق خطرہ بھی اتنا ہی تشویشناک ہے۔ جیسے پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی کے ساتھ روابط ہیں، ویسے ہی بی وائی سی کے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تشویشناک تعلقات سامنے آئے ہیں، جو کہ ایک بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم ہے اور عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر بے شمار حملوں کی ذمہ دار ہے۔ دونوں گروہ اپنے آپ کو "حقوق کی جدوجہد” کی زبان میں پیش کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال ایک اور تاریک ایجنڈے کی نشاندہی کرتے ہیں: علیحدگی، انتہاپسندی، اور تشدد۔

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

    حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی لگا کر درست قدم اٹھایا ہے، لیکن اب اسے بی وائی سی کے خلاف بھی اسی طرح کے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ پی ٹی ایم کی طرح، بی وائی سی بھی حقوق کی جنگ کی آڑ میں دہشت گردی اور ریاست کی تقسیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ کوئی بھی تنظیم، چاہے وہ اپنے مقصد کو کیسے بھی پیش کرے، دہشت گرد گروہوں جیسے بی ایل اے کی حمایت یا فروغ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    پاکستان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ پی ٹی ایم اور بی وائی سی صرف مقامی مسائل کی تحریکیں نہیں ہیں، بلکہ یہ غیر ملکی عناصر کی مدد سے چلنے والے بڑے منصوبے کا حصہ ہیں، جو ملک کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ ریاست کو فوری اور بھرپور طاقت کے ساتھ ان گروہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا تاکہ ان کے ایجنڈے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے سے پہلے ہی ناکام بنائے جا سکیں۔

    اگرچہ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن ان تحریکوں کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈز کو بے اثر کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے کلیدی رہنماؤں کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا، اور ریاست کو اپنے تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔ بہت زیادہ عرصے سے ان تنظیموں کو نظرانداز کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی انتہاپسندانہ نظریات کو فروغ دیا اور انتشار کو ہوا دی۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی ایسے گروہ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائے جو ملک کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔ پی ٹی ایم پر حالیہ پابندی ایک ضروری پہلا قدم تھا، لیکن بی وائی سی کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا چاہئے۔ یہ تنظیمیں، جو دشمن طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی سے چل رہی ہیں، کو بغیر کسی روک ٹوک کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہو گا اور ملک کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہو گا.

    کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،تنقید بند کی جائے
    سوشل میڈیا کے خطر ناک جراثیم کی ملکی اداروں پر تنقید کیوں،لگام کون ڈالے گا

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فرانکو جرمن جوڑی کئی دہائیوں سے یورپی یونین کا کلیدی پتھر رہاہے،اس مضبوط اتحاد کے ذریعے ہی اس بلاک نے اپنا راستہ برقرار رکھا اور بڑے استحکام کے ساتھ ترقی کی، عالمی بُحران کے دوران بھی یہ شراکت داری حل تلاش کرنے اور یوپی یونین کے اداروں پر اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، وطن عزیز کی موجودہ معاشی اور سیاسی بحران کا بغور جائزہ لیا جائے تو 2017 تک میاں محمد نواز شریف اور سینیٹر اسحاق ڈاراپنی خدمات سرانجام دیتے رہے،اس جوڑی نے بھی پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے ، دفاعی لحاظ سے بھی مضبوط کرنے میں اہم کردارا دا کیا ، دنیا بدل گئی سیاسی او رمعاشی بحران نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس جوڑی کی اہم اور غالب پوزیشن کو کمزور کرنے میں بہت سی سیاسی اور دیگر قوتوں کا ہاتھ رہا،جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام تاددم تحریر بھگت رہے ہیں، پاکستان کے معاشی مستحکم مستقبل بنانے کے لئے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نواز شریف کی قیادت اور ان کی معاشی ٹیم نے پاکستان کو غیر ملکی قرضوں سے نجات دلانے کے قریب تر پہنچا دیامگرنادیدہ قوتوں نے ایک ایسی سازش کی کہ ترقی کے راستوں پر چلتا پاکستان دوبارہ معاشی کھائی میں جاگرا، سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ غیر یقینی سیاسی صورت حال میں پاکستان معاشی مستحکم ہو سکے گا ؟

    بلاشبہ پی ٹی آئی ایک مقبول جماعت ہے تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد عمران خان کی تبلیغ کا مرکز پختون خواہ ہی کیوں رہا؟ وہ افغانستان کی صورت میں گرفتار ہو گئے ؟ تحریک عدم اعتماد کے بعد اُن کا سارا فوکس احتجاج پر ہی کیوں رہا؟ سوشل میڈیا یوٹیوبر وطن عزیز کی مسلح افواج اور پاک فوج کو نشانہ کیوں بناتے رہے اور بنار ہے ہیں؟ بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر آخر عسکری اداروں کو ہی نشانے پر کیوں رکھا گیا ؟یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے،ملکی دفاعی اداروں اور اعلٰی عدلیہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے کیوں نشانہ بنایا جا رہاہے؟ریاست کو غیر مستحکم کرنے والے خطرناک جراثیم سے محفوظ کرنا کسی کی ذمہ داری بنتی ہے،ان خطر ناک جراثیم سے ملکی اداروں،معیشت اوراستحکام کو خطرہ ہے،سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،آئینی اصلاحات رواں ماہ کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں

  • پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کا کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جو وسائل سے مالا مال نہیں بدقسمتی سے مختلف محکموں میں ایسے افسران تعینات ہیں جن کو وطن عزیز کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہیں صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی میرٹ پالیسی، وقت کی پابندی، چٹ سکیم کا خاتمہ، یہ وہ اقدامات ہیں جو ترقی پذیر ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم اگر معاشی زوال پذیر ہیں تو اس کی ایک وجہ رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ مل کر سوچنا ہوگا کہاں شگاف ہے۔ کہاں غلطیاں ہیں، کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے۔ پنجاب حکومت کی توجہ عوامی مسائل کو حل کرنے پر لگی ہے بلاشبہ وسائل کی کمی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ اگر پنجاب کے محکموں کے اعلیٰ افسران اگر صدق دل سے وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی خدمت کے ہمسفر ہو جائیں تو وسائل کی کمی دور کی جاسکتی ہے پنجاب میں اربوں کا ریونیو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ راولپنڈی گوجر خان سمیت محکمہ جنگلات کی ہزاروں کنال زمینوں پر لینڈ مافیا قابض ہے جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے پنجاب بھر میں لینڈ مافیا سرکاری زمینوں پر قابض ہے حکومت پنجاب کو خوابیدہ افسران کو جگا کر اپنی کروڑوں اربوں کی قیمتی اراضی کو واگزار کرا کے اپنی ملکیت میں لے سکتی ہے جنگلات کو بازیاب کرا کے ماحولیات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جبکہ پنجاب بھر میں محکمہ اوقاف کی شہروں میں قیمتی پراپرٹی جن میں دکانیں، مکانات اور پلاٹ موجود ہیں جن کا کرایہ کوڑیوں ، چند سو روپے اور ہزار روپے ماہانہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ انہی جائیدادوں کے نزدیک عوام کی ملکیتی دکانوں، مکانوں اور پلاٹ کا کرایہ لاکھوں میں ہے۔ محکمہ اوقاف کے کارندے اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے وطن عزیز کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور صوبہ پنجاب کے خزانے کو بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ صاف و شفاف بے رحمانہ احتسابی عمل کو متحرک کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنے صوبے میں سرکاری ریونیو کو بڑھانے کے لئے محکمہ جنگلات، اوقاف، ٹی ایم اے، ضلعی کونسل اور دیگر سرکاری اراضیوں کو واگزار کرانے اور وسائل کے استعمال کے لئے حکومتی مشینری کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ صوبہ پنجاب میں خوشحالی، خودانحصاری اور ترقی کے بے مثال وہ دور شروع ہو سکے جو میاں محمد نوازشریف کا وژن ہے

  • ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف نے عوامی فلاح وبہبود کیلئے کئی سکیمیں شروع کردیں
    عوام کونواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک، یاد ہے ذرہ،ذرہ
    پی ٹی آئی احتجاجی سیاست ترک کرے،خیبر پختونخوا کے عوام کی تقدیر بدلے

    اسلام آباد (تجزیہ،شہزاد قریشی) ملکی ترقی کے راستے بند کرنے والے پاکستانی عوام کے لیڈر نہیں ہو سکتے،پاکستان بے پناہ جانی ومالی قربانیوں اور مسلمان پاک و ہند کی لازوال تحریک کے نتیجے میں بنا،نوجوانوں کو اپنے بزرگ اور عمر رسیدہ لوگوں سے پاکستان کی آزادی کے حالات وواقعات سے آگاہی لینی چاہیے،پاکستان کی قدر اُن سے پوچھیں جنہوں نے آزادی کی ہجرت میں اپنے پیاروں کی جان ومال ، گمشدگیوں کو برداشت کیا اور اپنوں کی عزتوں اور جانوں کو اپنے سامنے پا مال ہوتے دیکھا،پاکستانی قوم ایک عظیم قوم ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور محل وقوع اسے خطے میں اہم بناتا ہے، پاکستان میں شنگھائی کونسل کے ممبر ممالک کی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے وقار اور ترقی کے ثمرات کا ضامن ہے،پاکستان میں سی پیک ٹو کی تعمیر کا مرحلہ ، ریلوے میں انقلاب ،صنعتی ترقی اور اس میں بین الاقوامی شراکت داروں کی دلچسپی ملک میں خوشحالی ، قرضوں سے نجات ، افراط زر اور مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کے اشارے ہیں جن کو پاکستان کے دشمن گوارہ نہیں کر رہے،ادھر افواج پاکستان سرحدوں پر دشمنوں کو شکست دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج کے عظیم سپاہی جانوں کا نذرانہ دےرہے ہیں،استحکام پاکستان اور دفاع پاکستان کی جاری اس جنگ کے دوران عوامی اور قومی اتحاد میں رخنہ اندیزیاں ہرگز ناقابل برداشت ہیں اور محب وطن حلقے ایسی تعصباتی سیاست ، طبقاتی و لسانی تفریق،ریاستی اداروں سے ٹکرائو،جلائو ،گھیرائو اور بے معنی تکرار و جملے بازی،الزام طرازی کو سراسر ناپسندیگی کی نظر سے دیکھتے ہیں،

    اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ نواز ، سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی،بلوچستان میں بلوچوں کی حکومت اور کے پی کے میں اقتدار پی ٹی آئی کے پاس ہے، سب صوبائی حکومتوں کو عوام کی ترقی ،خوشحالی کا سوچنا ہوگا، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اورخدمت کی سیاست کو اپنا معیار اور شعار بنانا چاہیے، بلاشبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام دوست ، کسان دوست ، طلباء دوست ، مزدور دوست اور غریب دوست سکیموں کا آغاز کرکے صوبے کےعوام کی خدمت میں ریکارڈ اقدامات اٹھائے ہیں،وزیراعلیٰ کے پی کے کو بھی ایسے اقدامات کرکے عوام کی محرومیاں ختم کرنی چاہیے نہ کہ آئے روز جلسوں ،جلوسوں میں سرکاری وسائل کا ضیاع کرکے عوام کی محرومیوں میں اضافہ کریں،میاں محمد نواز شریف نے گذشتہ دنوں اپنی تقریر میں حکومتی ترجیحات اور پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کے لئے اٹھائے گئے جن اقدامات کا تذکرہ کیا ان میں کوئی مبالغہ نہیں، باشعور عوام کو میاں نواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک ہے اور ان کی حکومت کو ختم کرنے والے عناصر کی ناعاقبت اندیشی پر رنج و ملال بھی ہے، مقتدر حلقے اور موجودہ وفاقی حکومت ان غلطیوں کے ازالہ کے لئے کوشاں ہیں، عوام کو چاہیے کہ وہ پاکستان مخالف قوتوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور سب سے پہلے پاکستان کی ترجیح اپنائیں۔