Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک نہایت اہم، لازمی، اور قومی حیثیت کا حامل پروگرام ہے جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی بلکہ اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ پروگرام پورے ملک کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا دفاع ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کو ملک کے تمام شہریوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے یکجہتی کے ساتھ حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ پاکستان میں سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن اس اسٹریٹجک پروگرام کے حوالے سے ملک بھر میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اور قوم ایک ہی صفحے پر ہیں کہ اس پروگرام کی حفاظت اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانا قومی مفاد میں ہے۔ اس بات کا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک مفادات پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام میں بنیادی طور پر ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور جوہری طاقت کے تحفظ پر زور دیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان اپنی خودمختاری اور سالمیت کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس بات کا بھرپور پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت جیسے خطے میں موجود دیگر ممالک بھی اسی طرح کی دفاعی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات اصولی نہیں ہیں اور یہ کسی نہ کسی طرح کی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امریکہ کے اسٹرٹیجک فیصلوں پر پاکستان کا موقف یہ ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کے مفادات کے خلاف اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کا اسٹریٹجک پروگرام اس کی خود مختاری اور دفاع کے لیے ہے، اور اسے بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    پاکستان کی سیاسی قیادت، عوام اور تمام ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام نہ صرف اس کی دفاعی صلاحیتوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ یہ قومی مفاد اور خودمختاری کی ضمانت بھی ہے۔ اس لیے، پاکستان ہر قسم کی بیرونی مداخلت یا اس پروگرام میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتا ہے، اور یہ پیغام پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر قانونی یا ناجائز مداخلت کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    تحریر؛مہر اقبال انجم

    baaghi blogs

  • پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست

    پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو خطے میں استحکام اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابل اعتماد کم سے کم رکاوٹ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس بات کا اظہار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے متعدد مواقع پر کیا ہے، جہاں انہوں نے پاکستان کی جوہری صلاحیت کی اہمیت اور اس کی پائیداری کو اجاگر کیا۔

    پاکستان کا جوہری پروگرام دفاعی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ مکمل طور پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے کے خلاف ایک مؤثر اور متوازن دفاع فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں دیگر جوہری طاقتیں بھی موجود ہیں۔

    پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی پالیسی کا بنیادی مقصد دفاعی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی حکمت عملی میں جوہری ہتھیاروں کو محض ایک “رکاوٹ” کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ جارحانہ استعمال کے لیے۔
    پاکستان میں جب بات قومی سالمیت، اسٹریٹجک اثاثوں اور میزائل پروگرام کی ہوتی ہے، تو تمام سیاسی جماعتیں یکجا ہوتی ہیں۔ اس بات کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی اپنی تقاریر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے ملک کی قومی سلامتی کے محافظ ہیں اور اس پر تمام سیاسی قوتوں کا اتفاق ہے۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قومی سلامتی اور استحکام کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہے۔ ہر پاکستانی کے لیے ملک کی حفاظت اور سالمیت مقدس ہے، اور اس میں کسی بھی نوعیت کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان کی جوہری پالیسی عالمی سطح پر ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر تسلیم کی گئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو صرف دفاعی مقاصد کے لیے رکھنے کی بات کی ہے اور اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ جوہری تنازعات میں ملوث نہیں ہوگا جب تک کہ کسی جارحیت کا سامنا نہ ہو۔ پاکستان کا یہ موقف عالمی برادری میں اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں مثبت ردعمل کو جنم دیتا ہے اور اس کے دفاعی مقاصد کو تسلیم کیا جاتا ہے۔پاکستان کی عوام اپنی فوج اور دفاعی اداروں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، اور یہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے واضح ہے۔ ملک کے دفاعی ادارے قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور عوام کی حمایت اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک مشترکہ قومی عزم موجود ہے۔پاکستان کی جوہری صلاحیت نہ صرف ملک کی سلامتی کی ضامن ہے، بلکہ یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی عالمی سطح پر اس کے نیک نیتی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے دفاعی اثاثوں کو مکمل احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے گا۔

    پاکستان کی جوہری طاقت ایک طاقتور دفاعی رکاوٹ کے طور پر خطے میں امن کی ضمانت ہے، اور اس کی قومی یکجہتی اور سلامتی ہر پاکستانی کے لیے سب سے اہم ہے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صف میں ہیں، اور اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ پاکستان کا دفاع اور استحکام کسی بھی قیمت پر محفوظ رکھا جائے گا۔

    baaghi blogs

  • میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا پاس رکھنا ہوگا۔ پاکستان خطے میں واحد ملک ہے جو چار ممالک، بھارت، چین، افغانستان اور ایران کے درمیان میں موجود ہے ان چار ممالک کی زمینی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کو اپنی سلامتی اور دفاعی پالیسی خارجہ پالیسیان چار ممالک کے موڈ اور ذہین کو مدنظر رکھ بنانا پڑتی ہے۔ ان چار ممالک میں بھارت پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کی ترقی و سالمیت اور خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ اور عالمی دنیا گواہ ہے بھارت براستہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا پاکستان کے پاس اس کے ثبوت بھی ہیں۔ امریکہ کو پاکستان جس نے نائن الیون سے قبل اور اسکے بعد جانی و مالی قربانیاں دیں،

    اس طرح کی پابندیاں امریکہ کو خود سوچنا ہوگا حالیہ پابندیوں سے دنیا کو کیا پیغام دیا ہے؟ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں دنیا کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کا بغور جائزہ لے کر سیاست کریں ملکی سلامتی کے پیش نظر اپنی فوج اور جملہ اداروں کیخلاف سازشوں سے باز رہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو چوکنا رہنا ہوگا جو کچھ اسلامی ممالک میں ہو رہا ہے اس کا بغور جائزہ لیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں نے بڑی قربانیاں دے کر ملک و قوم کو دہشت گردی سے آزاد کرایا بحیثیت قوم ہمیں وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ وطن عزیز کی سلامتی کے ضامن اداروں کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ملک کو داخلی اور خارجی دبائو سے بچا کر رکھنے والی پاک فوج اور اس کے جملہ ادارے ہی ہیں۔

    سیاسی گلیاروں میں جو اس وقت ماحول ہے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاک فوج اور اسکے جملہ ادارے دہشت گردی کا تن تنہا سامنا کر رہے ہیں امریکہ کو یہ نظر کیوں نہیں آتا پاک فوج اور جملہ ادارے داخلی سلامتی اور امن و امان کے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں امریکہ پاکستان کی داخلی خودمختاری کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ملک کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کئی ہمسایہ ممالک کے دورے کر چکے ہیں وہ اپنے ہمسایہ ممالک کو اپنے موقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔ امید ہے وہ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان پر اس طرح کی پابندیوں سے آزاد کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے.

  • میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    امریکہ نے حال ہی میں پاکستان کی بیلسٹک میزائل بنانے والی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جس پر پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستانی حکام اور عوام نے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے، اور اسے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ اور اس کے دفاعی مفادات کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔

    پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاعی ضروریات کو پورا کرے۔ بیلسٹک میزائل پروگرام جو پاکستان نے تیار کیا ہے، مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانا اور کسی بھی بیرونی خطرے سے نپٹنے کے لیے موثر دفاعی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے قومی مفاد میں ہے اور اس کا کوئی غیر قانونی پہلو نہیں ہے۔امریکہ کا یہ اقدام پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ امریکہ نے جب اپنے دفاعی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقسام کے ہتھیار تیار کیے ہیں اور دنیا بھر میں ان کا استعمال کیا ہے، تو پاکستان کو اپنے دفاعی حقوق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے؟ امریکہ کے دوہرے معیار اس وقت واضح ہیں جب وہ ایک طرف اپنی فوجی طاقت بڑھاتا ہے اور دوسری طرف دوسرے خودمختار ممالک کو اپنے دفاعی پروگرامز کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں پاکستان کے دفاعی شعبے پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہیں۔ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شامل کمپنیاں عالمی سطح پر اپنا کام جاری رکھتی ہیں اور ان پابندیوں سے نہ صرف ان کمپنیوں کے کاروبار پر منفی اثرات پڑیں گے بلکہ پاکستان کی دفاعی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی خودمختاری کے بارے میں امریکہ کی طرف سے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ وہ پاکستان کے فیصلوں کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔جو پاکستانی عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے.

    پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاعی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔پیپلز پارٹی کی جانب سے رضا ربانی، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے اس موقع پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر اپنے دفاعی حقوق کا تحفظ کرے گی۔ پاکستان کی افواج اور دفاعی ادارے ملک کی خودمختاری اور دفاع کے لیے جان کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

    پاکستان نے امریکہ کے دوہرے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ خود بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال میں مصروف ہے، اور وہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی فوجی مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں وہ دوسرے خودمختار ممالک کی دفاعی ترقی پر پابندیاں عائد کرنے کا حق کیسے رکھتا ہے؟ امریکہ کا یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ دنیا بھر میں اس کے دوہرے معیار کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔پاکستان کے عوام اور حکومت نے اس بات پر واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی حقوق کی حفاظت کے لیے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاکستان کی حکومت اور افواج اپنے ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کریں گے۔ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اپنے قومی مفادات میں متحد ہیں اور اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کی بیلسٹک میزائل کمپنیوں پر عائد کی جانے والی پابندیاں ایک غیر منصفانہ اقدام ہے جو نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان کا بیلسٹک میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ پاکستان اپنے دفاعی حقوق کے لیے کسی بھی قسم کے دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گا اور عالمی سطح پر اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔پاکستان کی میزائل پروگرام پر امریکی پابندی سےپاکستان کی عوام کو امریکہ کی پاکستان دشمنی کھل عیاں ہوگئی ہے،اسکاجواب پاکستانیوں کوہر لیول پر دینا ہے ، اور پاکستانی دیں گے، پاکستانی قوم وطن عزیز کے دفاع کے لئے پاکستان کے عسکری ،دفاعی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور رہے گی.
    baaghi blogs

  • قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قبضہ مافیا،لینڈ مافیا کے ہاتھوں بےگناہ قتل،ذمہ دار کون،تجزیہ:شہزاد قریشی

    توجہ برائے عدالت عظمیٰ! عدالت عالیہ ! ذمہ داران ریاست راولپنڈی اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں گزشتہ کئی سالوں سے لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کے ہاتھوں کئی بے گناہ لوگ قتل ہو چکے ہیں اس قتل عام میں مبینہ طورپر محکمہ مال کے اعلیٰ افسران، سول انتظامیہ، آرڈی اے راولپنڈی ، پولیس اور وہ سیاسی کردار جو لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں ملوث ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے حیرت ہے عام آدمیوں کا قتل عام راولپنڈی اور اس کے گرد و نواح میں ہو رہا ہے اور ان قبضہ مافیا اور لینڈ مافیا کو کوئی لگام دینے والا نہیں کیا ریاستی ادارے بے بس ہیں؟

    گزشتہ دنوں راولپنڈی سے چند کلومیٹر کے فاصلے گوجرخان میں ہائوسنگ سوسائٹی کی تقریب میں اندھا دھند فائرنگ میں والدین کا واحد سہارا بیٹا قتل ہو گیا جدید اسلحہ سے فائرنگ اتنی شدید کی گئی پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جس ہائوسنگ سوسائٹی میں فائرنگ ہوئی آرڈی اے راولپنڈی اس سوسائٹی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے جبکہ اسی سوسائٹی کے خلاف نیب راولپنڈی میں انکوائری بھی ہو رہی ہے دو سو سے زائد افراد نے درخواستیں دے رکھی ہیں ان دو سو افراد کا سوا دو ارب روپیہ غیر قانونی لے چکی ہے۔ راولپنڈی میں اس طرح کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جن ہائوسنگ سوسائٹیز کو آرڈی اے راولپنڈی غیرقانونی قرار دے چکی ہے وہ دن دیہاڑے ریاستی اداروں کے سامنے اربوں روپیہ کیسے حاصل نہیں کر سکتے؟

    راولپنڈی کے ریاستی اداروں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے راولپنڈی اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی یہ سوسائٹیز غریب دیہاتی لوگوں کی زرعی زمینوں پر قبضے میں بھی ملوث ہیں جبکہ سرکاری زمینوں پر بھی محکمہ مال کی ملی بھگت کئے جا رہے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کا بیشتر حصہ قبضہ مافیا کے قبضے میں ہے سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ ملک کے مظلوم عوام کی مقبوضہ ذاتی ملکیت پر بھی قبضے کئے جا رہے ہیں قبضہ مافیا ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے قبضہ مافیا ایک ایسی طاقت بن چکی ہے جس کے قبضے میں کئی بااثر لوگ اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ملک اور ریاست کے سسٹم کو ان قبضہ مافیا نے یرغمال بنا رکھا ہے ذمہ داران ریاست اگر حرکت میں نہ آئے تو ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے اور ہوگا

  • اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں

    اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں

    اپنے رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج کا دور سیاست کے رنگوں میں رنگا ہوا ہے۔ ہر طرف سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر اپنے ذاتی مفادات کے لیے عوام کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔ جھوٹے وعدے، نفرت انگیز بیانات اور ذاتی حملے سیاست کا ایک عام منظر بن چکے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیاستدان ہر حد پار کر لیتے ہیں لیکن اس سب کے پیچھے چھپے حقیقی نقصانات پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔

    سب سے بڑا نقصان عوام کے قیمتی رشتوں کا ہوتا ہے۔ سیاست کے نام پر ہم اپنے قریبی رشتہ داروں، محلے داروں اور حتیٰ کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ تعلقات خراب کر لیتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کی بنا پر ہم ان لوگوں سے دور ہو جاتے ہیں جو ہمارے اپنے ہوتے ہیں۔ یہ اختلافات نفرت میں بدل جاتے ہیں اور ہم اپنے ہی لوگوں کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف وہی سیاستدان، جن کے لیے ہم لڑ رہے ہوتے ہیں، اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنی کرسیوں کی فکر کر رہے ہوتے ہیں۔

    سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فیک نیوز اور نفرت انگیز بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ بیانات لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ ان بیانات کے ذریعے سیاسی لیڈران اپنی چالاکیوں کو مزید مؤثر بناتے ہیں اور عوام کو تقسیم در تقسیم کر دیتے ہیں۔

    اس سیاسی کھیل کا سب سے زیادہ اثر سماجی ہم آہنگی پر پڑرہاہے۔ معاشرہ نفرتوں کا شکار ہوتاجارہا ہے، امن و سکون ختم ہو چکاہے اور لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکے ہیں۔ جب کوئی قومی بحران یا عوامی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو یہی سیاستدان کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کا واحد مقصد اپنے اقتدار کو بچانا ہوتا ہے اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاستدانوں کے یہ کھیل وقتی ہیں لیکن ان کے اثرات دیرپا ہیں۔ ہمیں اپنی دانشمندی اور شعور سے ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ذاتی تعلقات کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں۔ ہمیں اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کرنی چاہئیں اور ایسی سیاست کا حصہ نہیں ببنا چاہئے جو ہمارےسماج اور خوبصورت رشتوں کو تباہ کرے۔

    اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ ہمیں سیاسی لیڈروں کے جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فیک نیوز سے بچنا چاہیے۔ ہمیں اپنے رشتوں کو اہمیت دینی چاہیے اور ان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنے معاشرے کو ایک مثبت اور تعمیری سمت میں لے جانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    نوجوانوں کا کردار اس میں بہت اہم ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم یافتہ، باخبر اور سماجی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھنے والا بنانا ہوگا۔ اگر ہماری نسل سیاسی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئی تو ہماری معاشرتی اقدار ختم ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اور والدین دونوں اس بات پر زور دیں کہ نوجوان سیاست کو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر سمجھیں۔

    اگر ہم نے اپنی توانائیاں صحیح سمت میں لگائیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ترقی کرے گا۔ ہمارا مقصد ایک ایسا معاشرہ ہونا چاہیے جہاں اختلافات احترام کے ساتھ حل کیے جائیں، مسائل پر توجہ دی جائے، اور نفرتوں کے بجائے محبت اور اتحاد کا پرچار کیا جائے تاکہ ہم اپنے قیمتی رشتے سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچاسکیں.

  • چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست میں بلند و بانگ دعووں، تند و تیز زبان، اور خود کو ہر چیز سے برتر سمجھنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا پہلو تھا جس پر نہ صرف ان کے حامی بلکہ ان کے مخالفین بھی اکثر بات کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ اپنی شخصیت کو اس قدر اہم اور منفرد سمجھا کہ سیاست میں دوسرے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اور بات چیت کرنے کی ضرورت کو کم ہی محسوس کیا۔عمران خان اکثر اپنے حریفوں کو کمتر سمجھتے ہوئے ان سے بات کرنے کی بجائے ان کے خلاف تنقید کرنے میں مگن رہتے تھے۔ ان کی زبان میں وہ تکبر کی ایسی جھلکیاں نظر آتی ہیں جو کبھی کبھار حد سے تجاوز کر جاتی تھیں۔

    عمران خان نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ کبھی بھی نواز شریف، شہباز شریف، اور ان کے حامیوں سے بات نہیں کریں گے۔ وہ ہمیشہ اپنی پوزیشن کو مستحکم اور بہتر سمجھتے تھے اور اپنے مخالفین کو ’’چور‘‘ اور ’’ڈاکو‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ ان کے مطابق، یہ سب لوگ صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کرنا وقت کا ضیاع ہوگا۔عمران خان کا انداز اس قدر سخت تھا کہ وہ عام طور پر دوسرے سیاسی رہنماؤں کے لیے نہ صرف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے، بلکہ ان کے کردار کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے۔ ایک موقع پر، عمران خان نے کہا تھا کہ "میں اور بات کروں گا، میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گا، میں ان چوروں سے بات کیوں کروں؟” ان کا یہ تبصرہ نواز شریف اور ان کی جماعت کے خلاف تھا۔

    اسی طرح، انہوں نے شہباز شریف کو بھی اکثر نشانہ بنایا اور کہا کہ "شہباز شریف میرے ہوتے ہوئے کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتا”۔ ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر سب سے طاقتور شخصیت ہیں، اور ان کے مقابلے میں کسی کو جگہ نہیں مل سکتی۔عمران خان کی زبان کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو ’’ڈیزل‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اس پر جنرل باجوہ نے انہیں مشورہ دیا کہ سیاست میں احترام باقی رہنا چاہیے، لیکن عمران خان نے اس مشورے کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ "اگر ڈیزل کو ڈیزل نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟” ان کی یہ بات ایک طرف تو ان کے تکبر کی نشاندہی کرتی تھی، دوسری طرف ان کے اندر اپنے مخالفین کے لیے عدم احترام اور نفرت کا اظہار بھی کرتی تھی۔

    عمران خان نے نواز شریف کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ "نواز شریف کا کھانا بند کر دوں گا، کمرے کا اے سی بند کر دوں گا، اور ان کی جیلیں عام قیدیوں جیسی بنا دوں گا۔” ان کا یہ انداز سیاست میں ایک نئی سطح پر تکبر اور غصے کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے مخالفین کو سیاسی طور پر شکست دینا چاہتے تھے، بلکہ ان کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔

    عمران خان کے یہ تمام دعوے اور سخت بیانات آج اللہ کی قدرت کے سامنے جھک چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وہ خود کو غیر متزلزل اور ناقابل شکست سمجھتے تھے، لیکن آج ان کے سامنے حقیقت کچھ اور ہے۔ آج جب وہ خود سیاست کے میدان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تو وہ وہی باتیں اور بیانات واپس یاد کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے مخالفین کے بارے میں کہے تھے۔عمران خان آج اڈیالہ جیل میں ہیں اور اسی شہباز شریف سے جن سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے، عمران خان اب خود چور بھی ثابت ہو چکا ہے اور بات بھی کرنے کو تیار ہے، لیکن آگے سے عمران خان کی سننے کو کوئی تیار نہیں۔ عمران خان کی ساری تکبر اور رعونیت کا جواب اللہ کی طرف سے ایک قدرتی ردعمل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ان کے خلاف جو الزامات اور کرپشن کے کیسز بنے، وہ آج ان کے پیچھے ہیں۔ ان کی سیاسی طاقت جو کبھی بے پناہ تھی، اب کمزوری میں تبدیل ہو چکی ہے۔

    عمران خان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا باب ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور ان کے رویے نے نہ صرف ان کے حامیوں بلکہ مخالفین کو بھی حیران کن طور پر متاثر کیا ہے۔ آج ان کے سامنے ایک نئی حقیقت ہے جس کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص اپنی تکبر اور غرور کے ساتھ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا، اور اللہ کی قدرت ہر شخص کو اس کی حقیقت دکھا دیتی ہے۔

  • خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان  پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہماری قوم ہر دو چار سال بعد تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہے یعنی انتخابات قوم اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد ماضی میں دیکھے۔ تحریکیوں کا بھی دور دیکھا۔ پی این اے ، یو ڈی ایف ، ایم آرڈی ،ملی یکجہتی کونسل ،اسلامک فرنٹ ، اسلامی جمہوری اتحاد ، متحدہ شریعت محاذ ، تحریک نظام مصطفی ، تحریک تحفظ نبوت ، تحریک ناموس رسالتۖ ، تحریک ناموس صحابہ۔ قومی ہیروز کے کئی روپ دیکھے ، مارشل لاء دیکھے ،جمہوری حکومتیں دیکھیں۔ آمریت اور جمہوریت کو ساتھ ساتھ چلتے دیکھا۔ مگر ا فسوس نہ معیشت مستحکم ہو سکی اور نہ ہی علماء کرام آپ ۖ کی ایک حدیث مبارک پرعمل کروا سکے۔ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ملک کے تمام صوبے ملاوٹ کی زد میں ،کھانے پینے سے لے کر ادویات تک سرے عام ملاوٹ ہو رہی ہے ۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ کاسہ گدائی ہاتھ میں لے کر دنیا میں گھوم رہے ہیں۔ ریاست سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسائل میں گری قوم کو بنگلہ دیش اور اب شام کی مثالیں دے کر خوف زدہ کیا جا رہاہ ے ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے ، کیا کبھی کسی نے سوچا؟ ان افواہوں کا اثر ملک وقوم پر کیا پڑتا ہے ؟

    جہاں تک عرب ممالک کاتعلق ہے ، کشمیری مائوں ، بہنوں ،بچوں ،نوجوانوں اور بوڑھوں کا بھارتی افواج نے قتل عام کیا۔ عرب ممالک بھارت میں سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ فلسطین میں کیا ہوا اور کیا ہو رہاہ ے۔ عرب ریاستیں جو اپنے پیسے کی بناء پر اُچھلتی ہیں۔وہ بھی غزہ کی صورت حال کو سامنے رکھاجائے تو ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ ان مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاتھ میں کیسے چڑھ گئے جو سیاستدان کو جانتے تک نہیں یہ اپنے عزیزوں کے ساتھ بھی دست و گریبان ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہتان تراشیوں کے نشتر چلائے جا رہے ہیں ،جمہوریت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھوڑے بے لگام ہو جائیں۔ سیاسی بداخلاقیاں ، بہتان تراشی،افوا سازی ، کیا عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو نقصان نہیں پہنچا رہی ؟ سیاسی قائدین اس ملک پر رحم کریں ۔ اس ملک کے وقار میں اضافہ کریں۔ اپنے ذاتی مفادات ، اختیارات اور پروٹوکول کی خاطر ملکی وقار کو دائو پر لگانے سے گریز کریں

  • ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    پاکستان کی سیاست میں اکثر نئے بیانیے اور تبدیلی کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن جب حقیقت کی گہرائی میں جایا جاتا ہے تو سامنے ایک تلخ اور بدبودار سچائی آتی ہے۔ "امریکی غلامی نا منظور” کا نعرہ لگانے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج کس قدر بدلے ہوئے حالات میں ہے، یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ پی ٹی آئی، جو کبھی خودمختاری اور غیرت کی باتیں کرتی تھی، آج اس حد تک گر چکی ہے کہ وہ اپنے ہی نعروں کا مذاق اُڑا کر انہیں دھوکہ دینے والے عناصر کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

    آج سے چند سال قبل، جب پی ٹی آئی نے "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کیے تھے، تو اُس وقت جماعت نے خود کو قوم کی آواز اور آزادی کا علمبردار تصور کیا تھا۔ لیکن اب یہ جماعت اپنے سابقہ دعووں اور نعروں سے مخلص نہیں رہی۔ اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آج پی ٹی آئی کی قیادت ایسی شخصیات کے دربار میں جا کر مدد کی بھیک مانگ رہی ہے، جو کبھی خود اس کے مذموم بیانیے کا حصہ تھے۔رچرڈ گرینل ایک ایسا نام ہے جو سیاست، سفارتکاری، اور متنازعہ بیانات کے لحاظ سے خاصا معروف ہے۔ وہ ایک امریکی سفارتکار ہیں، جن کا ماضی کئی سیاسی و اخلاقی معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ گرینل کا تعلق ایک ایسے شخص سے ہے جو اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی متنازعہ رہا ہے، اور اس کے جنسی رجحانات بھی اس کی سیاست میں ایک اہم عنصر بن چکے ہیں۔یہ وہی رچرڈ گرینل ہیں جنہوں نے ہم جنس پرستی کے عالمی پرچار میں نمایاں کردار ادا کیا اور خود کو سرٹیفائیڈ ہم جنس پرست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گرینل نے جرمنی میں اپنی تعیناتی کے دوران نہ صرف سفارتی اصولوں کی پامالی کی بلکہ اپنی غیر اخلاقی حرکات سے بھی کئی بار شہرت پائی۔ ایسے شخص کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کرنا پی ٹی آئی کے لیے نہ صرف ایک اخلاقی دھچکا ہے، بلکہ اس سے اس جماعت کی خودمختاری اور آزادی کے دعووں کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔

    جو جماعت کبھی خودمختاری اور غیرت کی دعویدار تھی، وہ آج اس قدر گر چکی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے سامنے جھک رہی ہے جو نہ صرف ان کے نعروں کا مذاق اُڑاتا ہے، بلکہ ان کے سیاسی و اخلاقی نظریات کے بھی مخالف ہے۔ یہ حقیقت ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی، جو کبھی "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کرتی تھی، آج اپنے ہی نعرے کو نظرانداز کر کے امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار سے مدد کی درخواست کر رہی ہے۔اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس نے اپنے نظریات، بیانیے، اور عوامی حمایت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ آج پی ٹی آئی کا دعویٰ "نیا پاکستان” بنانا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک "سیاسی منافقت کا شاہکار” بن چکا ہے۔پاکستان کی سیاست میں ایک نیا بیانیہ اور تبدیلی کی بات کی جاتی ہے، لیکن جب ہم پی ٹی آئی کی موجودہ پوزیشن کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جماعت نے اپنے اصولوں اور مفادات کی خاطر اپنے عوامی نعرے کو قربان کر دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی کا نیا پاکستان "سیاسی منافقت” کا نمونہ بن چکا ہے، جہاں پر کسی بھی اصول یا نظریے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    اگر پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے پچھلے بیانیے کو نظرانداز کر کے رچرڈ گرینل جیسے متنازعہ شخص کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کی فکر کر رہی ہے۔ یہ سیاسی منافقت ہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے اور وہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آخرکار پی ٹی آئی کے نظریات کہاں گئے؟آج پی ٹی آئی نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ صرف اس کے سیاسی مفادات کو بڑھا رہا ہے لیکن اس سے اس جماعت کی اخلاقی اور نظریاتی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں۔ "امریکی غلامی نہیں منظور” کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی آج امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار کے سامنے جھک کر اپنی بے عزتی کروا رہی ہے۔اس صورتحال نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ سیاست میں اصول اور نظریات کی حقیقت محض ایک دکھاوا ہوتی ہے، جب تک کہ وہ شخص اپنے مفاد میں نہ ہوں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو جماعت عوامی حمایت اور آزادی کے نعرے لگاتی ہے، وہ بھی وقت کے ساتھ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لیتی ہے، جب وہ اقتدار کے حصول کے قریب پہنچتی ہے۔

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

  • پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    پاکستان کی سیاسی فضاء ایک بار پھر ہلچل کا شکار ہے۔ تحریک انصاف اور حکومتی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور الزامات کی کشمکش جاری ہے، جس سے نہ صرف سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاست کے اصل کردار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    اڈیالہ جیل میں عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ ڈی چوک کے معاملے کو پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی جماعت کی فعالیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ عمران خان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ پارٹی کے اندرونی مسائل اور قیادت کی حکمت عملی سے مطمئن نہیں ہیں۔

    دوسری طرف سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرفان صدیقی نے سوال اٹھایا کہ کیا پرامن احتجاج الجہاد اور مارو کے نعروں کے ساتھ ہو سکتا ہے؟ انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے سول نافرمانی کی دھمکیوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ طلال چوہدری نے تحریک انصاف کے رویے پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کے اقدامات نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے۔ شیری رحمان نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال میں ایسی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔

    تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما شیر افضل مروت نے حالیہ سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان رابطے موجود ہیں، لیکن عوامی مسائل کے حل کی بجائے یہ رابطے ذاتی مفادات کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کردار کو بلاوجہ متنازعہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ تحریک انصاف کو ان سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کو کسی ایک فرد کی ذمہ داری قرار دینا غیر منصفانہ ہوگا۔

    اسی دوران قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ایاز صادق نے تجویز پیش کی کہ جماعتیں اپنے اندرونی مسائل حل کریں تاکہ مذاکرات شفاف انداز میں آگے بڑھ سکیں۔ اسد قیصر نے اس تجویز کو اپنی جماعت میں زیر غور لانے کا وعدہ کیا۔

    تحریک انصاف کی طرف سے سول نافرمانی کی کال اور حکومتی رہنماؤں کی سخت تنقید یہ ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات کا عمل شفاف ہونے کے بجائے سیاسی بیان بازی کا شکار ہو رہا ہے۔ حالیہ بیانات میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا نام باربار لیاجارہاہے جس پر حکومتی رہنماؤں کا الزام ہے کہ وہ تحریک انصاف کے سیاسی مفادات کو آگے بڑھاتے رہے۔ تحریک انصاف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

    پاکستان میں سیاسی کشمکش نے عوام کو ایک عجیب و غریب سیاسی جادو گری کا شکار بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ملک کی معیشت بے حد نازک حالت میں ہے وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے عوامی مسائل پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے اور سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    اگر سیاسی قیادت نے اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ نہ لیا تو یہ سیاسی سازشیں عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گی۔ اس وقت ملک کو صرف سیاسی افہام و تفہیم کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل کو ترجیح دی جا سکے۔ مذاکرات تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق اپنے سخت موقف میں نرمی لائیں اور عوام کی تکالیف کو سامنے رکھیں۔ بصورت دیگر یہ سیاسی کھیل ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل سکتا ہے۔