Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان میں سیاسی ومعاشی بحران،غیر یقینی صورتحال،حل کیا؟

    پاکستان میں سیاسی ومعاشی بحران،غیر یقینی صورتحال،حل کیا؟

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ حالیہ دنوں میں ہنگامہ خیز ہو چکا ہے، مجوزہ آئینی پیکج کی وجہ سے نہ صرف حکومتی اتحادی بلکہ اپوزیشن میں اختلافات دیکھنے میں آئے، آئینی ترامیم جو آئینی ابہام کو حل کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے لائی گئیں اس سے معاملہ حل ہونے کی بجائے مزید سیاسی تقسیم ہوئی ، ڈان نیوز کے مطابق، آئینی ترمیم کو فی الحال روکا گیا ہے،وفاقی وزیر قانون نے تجویز دی ہے کہ اس میں دیگر جماعتوں کے تاثرات کی بنیاد پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ آئینی ترامیم نے سیاسی اختلاف کو مزید ہوا دی ہے، خاص طور پر سپریم کورٹ کا 11 جولائی 2024 کا ایک تاریخی فیصلہ ،جس میں کئی مسائل ہیں، یہ فیصلہ اس فریق کے حق میں ہو گیا جو کیس میں فریق ہی نہیں تھا، اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا،

    پاکستان کو سیاسی چیلنجز کے ساتھ ساتھ شدید معاشی مسائل بھی درپیش ہیں۔ گزشتہ 30 برسوں کے دوران، ملک نے محنت کی پیداواری صلاحیت میں سب سے کم شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے، جو معاشی صحت اور معیار زندگی کا ایک اہم اشارہ ہے۔پاکستانی معیشت قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے، ایک ایسا قرضوں کا چکر ہے جو ختم نہیں ہو رہا،کیونکہ پالیسی ساز بار بار ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے قلیل مدتی قرضوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ یہ بیل آؤٹ ایک "اخلاقی خطرہ” پیدا کرتے ہیں جہاں حکومت ضروری معاشی اصلاحات میں تاخیر کرتے ہوئے پوری قیمت برداشت کیے بغیر خطرات مول لینا جاری رکھتی ہے۔جس کے نتیجے میں پاکستان قرضوں کے جال میں پھنس گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری 2024 تک، اگلے سال کے لیے بیرونی قرضوں کی سروسنگ تقریباً 29 بلین ڈالر ہوگی جو کہ ملک کی متوقع ڈالر کی آمدنی کے 45 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے باوجود حکومت بامعنی پالیسی تبدیلیاں نافذ کرنے یا اخراجات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
    ایسی غیریقینی صورتحال میں کیا کوئی حل نظر آتا ہے؟

  • ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    امریکی انتخابات عالمی دنیا کی اس وقت توجہ کا مرکز ہیں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ سپُرپاور ہے امریکی صدارتی امیدواروں کی توجہ امریکی عوام ، معیشت ، خارجہ پالیسی ، جدید سے جدید ٹیکنالوجی ، موسمیاتی تبدیلی ،دفاع اور نیٹو، عالمی صحت اور وبائی امراض کی روک تھام ، امیگریشن بارڈر سیکورٹی ، اسرائیل غزہ اور مشرقی وسطی ، روس یو کرین جنگ، تجارت ، موضوع ہیں۔

    ہماری پارلیمنٹ کا موضوع آئینی تبدیلی ، جلسے ،جلوس ،دھرنے کمیٹیاں ، ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں ، ملازمت میں توسیع ، بحیثیت قوم ہم قوم اورپاکستانی نہیں کوئی بلوچی ، کوئی سندھی ، کوئی کے پی کے ، کوئی پنجابی کی صدائیں بلند کرتا نظر آرہا ہے کہیں سے بھی میں پاکستانی ہوں کی صدائیں بلند ہوتی نظر نہیں آرہی۔ عالمی دنیا کو ایک طرف رکھیں ۔ ہمارے قریب ترین ممالک ایران کسی اپلائی سے سوال کریں وہ اپنا تعارف ایرانی بتانے پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ افغانستان افغانی جبکہ ہمارے ہاں اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ایک صوبہ کی حکومت نے خارجہ پالیسی کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ کے پی کے کی حکومت افغانستان سے مذاکرات کا اعلان کرتی ہے۔ لگتاہے ہم مخلوق خدا ضرور ہیں مگر ایک قوم نہیں۔ ہم خدا کی زمین پر حکمرانی کرتے ہیں مگر طرز حکمرانی خداکے حکم کو نظر انداز کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں جس پارلیمنٹ میں بیٹھی ہیں۔یہ 1970 کے اُن سیاستدانوں کو ضرور یاد کریں کیا اُن سیاستدانوں کا ملک وقوم کو لے کر کردار یہ تھا؟

    حکمرانوں کولیکر اپوزیشن اور اپوزیشن کو لیکر مذہبی جماعتوں تک نے مسخرے پن کی حدود کو کراس کردیا ہے۔یہ ریاست اور ملکی خزانے پر بوجھ ہیں۔ ملکی اداروں پی آئی اے اور دیگر اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ ملکی وسائل سے توجہ ہٹا دی گئی ہے ۔ خدا کی پناہ عالمی دنیا میں یہ آواز کہیں سے نہیں آتی کہ یہ جج میرا یہ جج تیرا ،عدلیہ جیسے ادارے اور ملکی سلامتی جیسے اداروں کو جلسے،جلوسوں ،چوراہوں ، گلی کوچوں اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا لیا گیاہے ۔یہ جانتے ہوئے کہ وطن عزیز اور عوام کو معاشی بُحران کا سامنا ہے پارلیمنٹ میں بہت سے نام نہاد رہنما ہیں کسی نے معاشی بُحران کا حل پیش نہیں کیا آج کی سیاست ،آج کی جمہوریت ، آج کی پارلیمنٹ ،ایک افسوسناک عکاس ہے۔ کسی کی توجہ معاشی بُحران نہیں ذاتی بُحران ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ موجودہ حالات میں وطن عزیز میں جمہوریت کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
    دل تباہ تو ہی کچھ بتا ہمیں
    چمن پہ کیوں خزاں کا رنگ چھا گیا

  • سیا ست کا کھیل نہیں دستور خدمت ضروری۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیا ست کا کھیل نہیں دستور خدمت ضروری۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    اگر آپ سیاستدان ہیں تو سیاست کریں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جن مسائل کا سامنا جمہور کو ہے ان کو حل کریں۔ آئین قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔وطن عزیز کی مظلوم غربت، بیروزگاری، مہنگائی کی ماری عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے ریاستی اداروں کیخلاف بھڑکانے سے گریز کریں ان ریاستی اداروں کی وجہ سے ریاست چل رہی ہے سیاست کرنے کے لئے ایک مستحکم ریاست کا وجود ضروری ہے۔ جوش خطابت میں ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس پچیس کروڑ عوام کی نمائندگی کی جگہ ہے پولیس کا پارلیمنٹ ہائوس کے اندر داخل ہو کر ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کرنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کردار قابل تحسین ہے ایاز صادق کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے نوازشریف کی تربیت کے اثرات ایاز صادق میں نظر آئے جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے میں عمران خان کی سیاسی تربیت نظر آئی بلکہ پوری قوم نے دیکھی۔ اس وقت ملکی سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اس کی بنیادی وجہ سیاسی گلیاروں میں لیڈر شپ کا فقدان ہے لیڈر شپ کے فقدان کے ساتھ سیاسی جماعتوں میں درباری مزاج کے حامل افراد کی اکثریت موجود ہے حکمرانوں سمیت سیاسی اور مذہبی جماعتو ں میں درباری کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

    اس وقت واحد صوبہ پنجاب ہی نظر آرہا ہے جہاں عوامی مسائل کو حل کرنے بھرپور توجہ دینے کی کوشش جاری ہے سول بیورو کریسی انتظامیہ پولیس کو روزانہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب ہدایت دیتی دیکھی جا سکتی ہیں باقی کے صوبوں میں سیاست جاری ہے جبکہ پنجاب میں عوامی مسائل حل کرنے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے وزیراعلیٰ پنجاب کی پشت پر میاں محمد نوازشریف کی تربیت اور رہنمائی اور ان کی ٹیم کی معاونت اور تجربہ شامل ہے۔ صوبہ پنجاب میں محکمہ تعلیم ہو یا محکمہ صحت ،زراعت ہو یا جنگلات ،انتظامیہ ہو یا پولیس وزیراعلیٰ کی قیادت کا احساس اور خدمت کی جھلک ملتی ہے وزیراعلیٰ کا آفس عوامی خدمت کا مرکز بنا ہے دیگر صوبہ کے چیف ایگزیکٹو صاحبان کے لئے قابل تقلید ہونا چاہئے۔ سیاست سیاست کا کھیل ختم کر کے الخدمت الخدمت کا دستور اپنانا ہوگا تاکہ استحکام پاکستان کا سفر جاری رہے۔

  • بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آمریت سے لے کر جمہوریت اور جمہوریت سے لے کر آمریت کے دور حکمرانی دیکھے ۔موجودہ دور کی سیاست کے انداز بدل گئے ۔ سیاستدانوں کی وفاداری تبدیل بھی ہوتے دیکھی مگرموجودہ بحران ناقابل فراموش ہے اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا یہ بھی ایک سوال ہے ۔ کیا اس موجودہ بحران جو وطن عزیز میں دیکھا جا سکتا ہے اگر سیاسی قائدین ، مذہبی قائدین اور انصاف کا نظام اس بات کا تادم تحریر اندازہ نہیں لگا سکا کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اور اُس کا حل کیا ہے اور کہیں سے یہ آواز بھی نہیں آرہی اس موجودہ بحران کے بارے میں کیا کرنا ہے ۔موجودہ بحران سیاست اور جمہوریت کو تباہ کر رہا ہے موجودہ بحران پر اگر کسی نے توجہ نہ دی تو ایک ناقابل یقین ،اخلاقی تباہی سے آگے کسی اورچیز میں بدل دے گا۔ ملکی سیاسی جماعتوں کی توجہ کا مرکز صرف اقتدار ، اختیارات اورطاقت رہ گئی ہے ۔ اس میں وہ مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں جنہیں اقتدار کی عادت پڑی ہے اور وہ ملکی بڑی سیاسی جماعتوں کے دوراقتدار میں ہمسفر رہے۔ آج جن مسائل کا پاکستان کا بطور ریاست اور عام آدمی کو سامنا ہے وہ ہے ملکی معیشت اور مہنگائی سیاسی جماعتوں نے ان مسائل کو اپنی فہرست سے نکال دیا ہے۔ آپ اگر اس وقت پورے ملک کا جائزہ لیں نتیجہ اخذ کریں کیا کسی جماعت کی توجہ معیشت اور مہنگائی پر ہے ؟ پاکستان اورعوام کو اس دلدل سے نکالنے کا راستہ کسی نے دکھایا ؟ اس وقت جو سیاسی جماعتوں کے درمیان جنگ ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ مقبول کون ہے ۔ مقبولیت کا انداز بھی عالمی دنیا سے الگ تھلگ ہے ۔ملکی سرحدوں کے محافظ پاک فوج اورجملہ اداروں کے خلاف بات کرنا مقبولیت کہا جاتا ہے ۔ عالمی دنیا یں مقبولیت ملک و قوم کی خوشحالی کا نام ہے۔ وطن عزیز میں مقبولیت پاک فوج اورجملہ اداروں کو نشانے پر رکھنا مقبولیت کا نام ہے کیا یہ سیاست اور جمہوریت ہے ؟عالمی دنیا میں ملکی سلامتی کے ان اداروں کے بارے میں اس طرح کی زبان کا استعمال نہیں کیا جاتا جس طرح ماضی حال وطن عزیز میںکیا جا رہا ہے۔پنجاب ،سندھ ،بلوچستان ، کے پی کے کی سول بیورو کریسی اور مرکزی بیوروکریٹ اپنا چلن بدلیں۔اس ریاست کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچا دیا گیاہے

    بابائے قوم کے اس پاکستان کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اپنی پوسٹنگ اور ہوس زر سے باہر نکلیں ۔ زمین آسمان کی ملکیت خدا پاک کی میدان حشر کو سامنے رکھیں اختیارات کی باز پُرس ہوگی وہاں کوئی سیاسی سفارشی نہیں ہوگا ،ہوش کریں۔

  • عمران خان اسرائیل کا اتحادی ہے؟

    عمران خان اسرائیل کا اتحادی ہے؟

    ٹائمز آف اسرائیل میں عینور بشیروا کے ایک بلاگ کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں کافی شور مچا ہوا ہے وہ اپنے بلاگ میں لکھتی ہیں کہ، "ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ سمتھ خاندان کے توسط سے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جو پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے پر غور کرنے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو اعتدال پر لانے کی خواہش کا اشارہ دیتے ہیں۔”

    اس مصنف کا خیال ہے کہ سیاست معاشیات سے چلتی ہے۔ عالمی حرکیات ایک تبدیلی سے گزر رہی ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب تھے جس سے اقتصادی تجارت میں تعاون کا ایک نیا بلاک کھل جاتا، بہت سی دوسری قومیں بالخصوص مشرق وسطیٰ کی اقوام نے بھی اس کی پیروی کی ہوگی۔ اگر اسرائیل مخالف لائن کو کھینچنا جاری رکھا جاتا تو پاکستان اس سے باہر ہو جاتا۔

    مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی لیڈر سیاسی طور پر اندرونی اور بیرونی طور پر حمایت حاصل کرنے کے لیے کسی چینل کا استعمال کرتا ہے، تو اسے مختلف سطحوں پر ایسے فیصلے لینے ہوتے ہیں جو اس ملک کے بہتر مفادات سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ یہاں، امریکی صدر کے امیدواروں کی انتخابی مہم کی مالی اعانت بارے بات کرتے ہیں۔ منتخب امیدواروں کے لیے لابنگ کو عام طور پر اوسط امریکی کی طرف سے ناراضگی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ وہ اسے اثر و رسوخ یا رشوت خوری سے تعبیر کرتے ہیں۔

    دوسرا ناگوار زاویہ معاملات میں دوغلا پن ہے۔ وزیر اعظم کے طور پر اپنی مدت کے دوران عمران خان نے کسی غیر یقینی شرائط میں اس بات کی حمایت کی ہے کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اسرائیل کے ساتھ کبھی بھی معاملات کو معمول پر نہیں لایا جائے گا۔ انہوں نے ہمیشہ غزہ میں نسل کشی کی شدید مذمت کی ہے۔اگر 2022 کو یاد کریں تو مسجد اقصیٰ کے امام شیخ عکرمہ صابری نے عمران خان کو امت مسلمہ کا رہنما قرار دیا ۔ 2023 میں اس نے بین الاقوامی برادری کو طالبان کی نئی حکومت کی حمایت کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے افغان طالبان کی مدد سے طالبان جنگجوؤں کو قبائلی اضلاع میں بھی منتقل کیا تھا۔ تاہم، وہ زیادہ تعداد میں نقل مکانی نہیں کر سکے کیونکہ باقی صوبے تعاون پر تیار نہیں تھے

    امت مسلمہ اور اسرائیل کے بارے میں ایک موقف اختیار کرنے کے بعد اسرائیلی اخبار میں شائع ہونے والا بلاگ چونکا دینے والا ہے۔ ہمارے لوگوں کے پاس بنیاد پرستی کے لیے ایک اندرونی میکانزم موجود ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا کسی رہنما کو عوامی طور پر اعلان کردہ پالیسی کے خلاف پردے کے پیچھے براہ راست تضاد میں کام کرنا چاہیے؟

  • تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    تحریک انصاف انتشار کا دوسرا نام

    پاکستان میں سب سے زیادہ پرتشدد احتجاج کی تاریخ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کو جب جب جلسے کی اجازت ملی، تب تب اس نے انتشار کو فروغ دیا۔
    پی ٹی آئی کو 2014 میں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، پی ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا۔ ڈی چوک کا آدھا حصہ جلا دیا، کئی عمارتوں پر حملہ کیا جن میں جیو کا دفتر اور علاقے کا اسپتال شامل تھے۔

    2016 میں انہیں احتجاج کی اجازت دی گئی، انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کو بند کرنے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کو اسلام آباد اور پنجاب پولیس پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی فورس کو وفاقی حکومت کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کروایا۔ انہوں نے پولیس افسران پر حملے کیے، ان کی وینز کو جلایا، جبکہ عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ان پر پٹرول بم بھی پھینکے۔

    25 مئی 2022 کو انہیں اسلام آباد کے باہر احتجاج کی اجازت دی گئی لیکن انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر کی سڑکوں کو جلایا۔ اس کی توہین عدالت کا کیس ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
    9 مئی کو انہیں عمران خان کی گرفتاری پر پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، لیکن انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس اور 200 سے زیادہ دیگر مقامات کو جلا دیا۔
    ان کے وزیر اعلیٰ جلسے سے پہلے اس بات پر ریکارڈ پر ہیں کہ وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے اور عمران خان کو جیل سے نکالیں گے۔

    ایسی پارٹی پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا ہمارے پولیس افسران کی جانیں اور عوامی انفراسٹرکچر اتنے سستے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کو اس پر ناچنے دیں اور عوام اس کی قیمت ادا کرے؟

    https://twitter.com/AmjadHBokhari/status/1832827929723646257

    تجزیہ:سید امجد حسین بخاری

  • بلوچستان ، اتحاد و یکجہتی کی ضرورت۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلوچستان ، اتحاد و یکجہتی کی ضرورت۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    بلوچستان کو لے کر اور سردار اختر مینگل کے استعفیٰ تک بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور جن تازہ ترین حالات سے بلو چستان سے گذر رہا ہے ۔ اسی صورت حال سے نواز شریف کے دور حکومت میں گزر رہا تھا جس پر نواز شریف نے قابو پانے کے لئے اپنی جماعت کا قتدار قربان کیا تھا۔ نواز شریف نے سب سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔اچکزئی اور مینگل سے بھی نواز شریف کی دوستی تھی وہ بلوچستان کے حالات کو درست کرنے کے لئے نئی قیادت سامنے لائے سب کو خوش کرنے کی کوشش کی ۔ بلوچستان میں آج بھی نواز شریف جیسا کردار حالات کا رُخ موڑ سکتا ہے۔ لیکن کیا کہا جائے ہم نے بحیثیت قوم بھی اور بحیثیت سیاسی جماعتوں نے اپنے قائدین سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا بقول میر:
    ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے۔ درد و غم جمع کئے کتنے تو دیوان کیا
    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے اُن کا بیان کریں۔کون سا داغ نکال کر دل سے ثبت سرے دیوان کریں

    مسلم لیگ (ن) سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت اور نام نہاد مرکزی قیادت نام نہاد رہنما بقراط اور سقراط ایسے مسخرے لوگوں سے ریاست اور قوم کا واسطہ پڑا ہے کہ خدا کی پناہ ۔ ان کی نااہلی ، بدعنوانی ،اور کردار کی گراوٹ کاخمیازہ بلوچستان ہی نہیں ۔پورا ملک بھگت رہا ہے ۔ انتشار اور منافرتوں کے زہر پھیلتے جا رہے ہیں ۔ بلوچستان میں سامراجی طاقتیں لوٹ مار کے لئے آپس میں دست و گریبان ہیں۔ وطن عزیز کایہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے کسی زمانے میں یہاں کی خوبصورتی کے نظارے دیکھنے کے لئے سیاح آیا کرتے تھے۔ پاک فوج جملہ ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ جانوں کانذرانہ دے کر نہ صرف صوبہ بلوچستان بلکہ وطن عزیز کی حفاظت قوم کو دہشت گردوں سے بھی بچا رہی ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ،مذہبی جماعتیں حکمران اور اپوزیشن اقتدار کی جنگ سے باہر نکل کر بلوچستان میں اپنا کردار ادا کریں ۔ دشمنان پاکستان کا مقابلہ فوج اور جملہ اداروں پر ہی نہیں کچھ ذمہ داری آپ پر بھی ہے ۔نواز شریف کی طرح اگر اپنا اقتدار بھی قربان کرنا پڑتاہے تو وہ بھی کریں۔ضرب عضب سے لے کر رد الفساد تک پاک فوج ،جملہ اداروں ، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے قربانیاں دے کر وطن عزیز میں امن بحال کیا ہے۔ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا ۔ اس کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ورنہ تاریخ آپ کو کوڑے دان میں پھینک دے گی۔

  • یوم دفاع پاکستان،قوم آج بھی فوج کے ساتھ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    یوم دفاع پاکستان،قوم آج بھی فوج کے ساتھ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    6 ستمبر1965 ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کھی نہ بھولنے اور سبق آموز دن ہے۔ پڑوسی ملک بھارت نے رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کردیا وطن عزیز کے غیور اور متحد ملک نے دشمن کے جنگی حملہ کا پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا۔ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔1965 ء کی جنگ نے ثابت کردیا کہ جنگیں ریاست عوام اورفوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ قوم کی اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اور جانثاری جرات مندانہ جذبے نے مل کر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پاک فوج نے ہر محاذپر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو پیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ پاک فوج کے افسروں اورجوانوں نے اسلحہ بارود کے ساتھ ساتھ وطن عزیز اور قوم کی حفاظت کے لئے اپنے جسموں کے ساتھ بارود باندھ کر دشمن کی فوج اور ٹینکوں کو قبرستان بنا دیا۔ بلاشبہ اے پتر ہٹاں تے نیًں وکدے توں لبھدی پھرینیں بازارکڑے ۔

    یہی وہ پتر ہیں جنہوں نے اپنے جسموں کے ساتھ بارود باندھ کر وطن عزیز اور قوم کے لئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ پاک فوج نے ثابت کیا کہ ہم زندہ قوم ہیں اور جان دے کر اپنی آزادی کو بچاتے ہیں۔ یاد رکھیئے آج دنیا بدل گئی نئی اور جدید ٹیکنالوجی آگئی۔ دنیا کے کئی ممالک میں جنگیں جاری ہیں آج ہمارا دشمن ایک نہیں کئی ممالک میں ایٹمی پاکستان اور ایک طاقت ور ترین فوج کی حامل ریاست ہمارے ظاہری اور خفیہ طاقتوں کو پسند نہیں اس لئے جب تک ہمارا دشمن زندہ یہ ۔ ہمارا یوم دفاع بھی زندہ ہے کل بھی یوم دفاع تھا اور آج بھی یوم دفاع ہے۔ جب پاکستان دشمن قوتیں وطن عزیزکے خلاف سازشوں میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرتی رہیں پاک فوج آج بھی پاکستان کا دفاع ہر محاذ پر کرتی رہیں گی اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ یوم دفاع کے موقع پر وہ سیاستدان ،وہ فوجی حکمران ،وہ سائنسدان، وہ انجنیئر جو اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے خراج تحسین کے قابل ہیں۔ جنہوں نے 1965 ء کی جنگ کے بعد اپنا دفاع مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان سیاستدانوں میں نواز شریف سابق وزیراعظم کے اس کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے دبائو کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا۔

  • پارلیمنٹ ہاؤس یا ذاتی مفادات کے تحفظ کا ڈیرہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ ہاؤس یا ذاتی مفادات کے تحفظ کا ڈیرہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    عام آدمی کی بہتری کیلئے آج تک کوئی قانون سازی نہ ہوئی
    ملازمتیں ملی نہ مہنگائی کم ہوئی،جو آیا اپنی جنگ لڑتا رہا

    وائٹ ہائوس کا مکین کون ہوگا؟ڈونالڈ ٹرمپ یا کیملا ہیرس، پوری دنیات کی نظریں امریکی انتخابات پر ہیں، جبکہ دونوں صدارتی امیدواروں کا امریکی عوام کیلئے موضوع معیشت ہے، دونوں امریکی صدارتی امیدوار اپنے معاشی پیغامات کو آگے بڑھا رہے ہیں تاہم ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں امریکی عوام کی توجہ کا مرکز ہیں،امریکی معیشت اور امریکی مفادات دونوں ہی اُمیدواروں کے لئے اہم ہیں،اسی کا نام جمہوریت اور جمہور کی خدمت ہے، دونوں امیدواروں کی تقریریں امریکی مفادات اور عوام کے مفادات کے لئے ہیں،

    دوسری جانب دنیا کی توجہ بھی معیشت پر ہے، وطن عزیز کے نام نہاد سیاستدانوں کی پارلیمنٹ میں اگر تقریریں سنیں تو ذاتی مفادات سے شروع ہوکرذاتی مفادات کی قانون سازی پر ہی ختم ہوتی نظر آتی ہیں،عام آدمی کے مسائل اور ریاست کو درپیش مسائل کا ذکر دب کر رہ گیاہے، ایسی قانون سازی جس سے عام آدمی کو فوائد حاصل ہوں نظرہی نہیں آتی، کیاپارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے سیاستدانوں کو احساس ہے کہ ملکی معیشت ، وسائل ،صحت کی پالیسیاں ، بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات پاکستان کی آنے والی نئی نسل کے لئے کوئی پالیسی،ریاست کو مستحکم بنانے کی پالیسی ،اگر ایسا نہیں تو پھر پارلیمنٹ ہائوس کیا اپنے مفادات کی جنگ لڑنے کی جگہ ہےیا عام آدمی اور ریاست کے مفادات کی بات کرنے کی جگہ ہے؟پارلیمنٹ کو سیاسی جماعتوں کے قائدین کی خوشامد، ذاتی مفادات، پروٹوکول ، اختیارات اور صرف اقتدار کی جنگ لڑنے کی جگہ بنا دیا گیاہے، کیا پارلیمنٹ میں قوم کے لئے کوئی قانون سازی کی گئی ہے؟ کوئی ایسا قانون جو ہماری اجتماعی اقدار کی عکاسی کرتا ہو ؟ کیا یہ جگہ ملازمتوں میں توسیع دینے کے لئے ہے ؟ یا پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کی جگہ ہے ؟پھر اپنی ناکام سیاست ناکام جمہوریت کا ملبہ پاک فوج پر جو سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے پر ڈالنے کا کیا جواز ؟ کیا پارلیمنٹ میں آئی پی پیز کے ہاتھوں ،بجلی کے بلوں تلے دبے عوا م کے حق میں کوئی آواز اٹھے گی ؟ ملاوٹ ،منافع خوری ، مل مافیا اور لینڈ مافیا کے خلاف کوئی آوازاٹھے گی ؟اگر ان کا جواب نفی میں ہے تو پھر اس کو سلطانی جمہور کہا جائے یا سلطانی مجبور ،میرا سوال یہی رہے گا ریاست کے ذمہ داران نے آج تک عام آدمی کیلئے کیا کام کیا،جو آیا اپنے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ور چلتا بنا

  • پاکستانی معیشت میں بہتری کی نوید اور قیصر بنگالی کا استعفی: حقیقت یا فتنہ؟

    پاکستانی معیشت میں بہتری کی نوید اور قیصر بنگالی کا استعفی: حقیقت یا فتنہ؟

    آج کی ایک خوش خبری یہ ہے کہ پاکستان کی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تعاون سے خوراک کی برآمدات میں رواں مالی سال کے ابتدا میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ درآمدات میں 18 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ ترقی پاکستانی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا قدم ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    تاہم، دوسری طرف ماہر معاشیات قیصر بنگالی کی جانب سے تین حکومتی کمیٹیوں سے استعفیٰ دینا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بنگالی صاحب کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت خود وزراء اور سرکاری افسران کے اخراجات میں کمی کرنے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ اگر معیشت کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تو قیصر بنگالی کا استعفیٰ ان کوششوں سے کیوں متصادم ہے؟

    یہ اقدام ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی ناکامی کے بعد بھی کچھ عناصر ملک میں انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ بنگالی صاحب کا استعفیٰ ایسے وقت میں دینا، جب معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، سوالیہ نشان ہے۔ کیا ان کا یہ اقدام ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے؟ یا یہ محض ایک سیاسی چال ہے تاکہ عمران خان اور ان کے حامی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر معاشی بہتری کو روکنے کے لیے نیا بیانیہ بنا سکیں؟

    یہ وقت ہے کہ حکومت اور عوام مل کر ملک کو ان سازشی عناصر سے ملک کو محفوظ بنائیں جو ملکی مفادات کے بجائے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ قیصر بنگالی کا استعفیٰ ایک واضح پیغام ہے کہ حکومت کے صفحوں میں موجود کچھ عناصر ابھی بھی ملک دشمنی کے راستے پر گامزن ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ایسے عناصر کو الگ کر کے حکومت کو صاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ ملکی ترقی کے سفر میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس، احسن شاہ کے گھر سے رقم برآمد،ایک اور مبینہ ملزم گرفتار

    امیر بالاج قتل کیس، شوٹر مظفر مالشیا نہیں بلکہ طیفی بٹ کا گن مین تھا

    امیر بالاج کو قتل کرنے والی ٹیم کے سرغنہ کی شناخت

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور موبائیل فوٹیج،ایک اور ملزم سامنے آ گیا

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور حملہ آور گرفتار،تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،اہم پیشرفت،ریکی کرنیوالا دوست گرفتار

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس: نامزد ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے رابطہ

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،حملہ آور کی لاش ورثا کے حوالے

    ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج قتل،طیفی بٹ مقدمے میں نامزد