Baaghi TV

Category: سیاست

  • مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر
    شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
    عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد اور انقلابی منصوبہ "مریم کی دستک” متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان شہریوں کے لیے نہایت مفید ہے جو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے قاصر ہیں یا جنہیں وہاں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "مریم کی دستک” کے ذریعے حکومت نے نہ صرف اپنی خدمات کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچایا ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو سہولت بخش بھی بنایا ہے۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا منصوبہ ہے جو 65 سے زیادہ سرکاری خدمات کو موبائل ایپ اور ویب پورٹل کے ذریعے شہریوں کی دہلیز پر فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو سرکاری دفاتر میں وقت اور وسائل ضائع کرنے سے بچانا اور تمام ضروری خدمات کو ان کے گھر تک پہنچانا ہے۔یہ منصوبہ درج ذیل اہم خدمات فراہم کرتا ہے:
    1. ڈومیسائل سرٹیفکیٹ2. ایف آئی آر کی کاپیاں
    3. پیدائش کے سرٹیفکیٹس4. لرنرز ڈرائیونگ لائسنس
    5. ای-اسٹیمپنگ
    یہ خدمات عوام کے لیے نہایت کارآمد ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو اپنے کام کے دوران وقت نہیں نکال سکتے یا جنہیں نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔یہ منصوبہ خواتین اور بزرگوں کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ خواتین جو گھریلو کاموں یا بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتی ہیں، اکثر سرکاری دفاتر جانے کے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ بزرگ افراد، جن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا یا دفتر پہنچنا مشکل ہوتا ہے، بھی اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے مددگار,وہ افراد جو نوکریوں یا کاروبار کے سلسلے میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں، اکثر سرکاری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ "مریم کی دستک” نے ان کے لیے خدمات کا حصول آسان بنا دیا ہے۔ اب وہ موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں اور تمام خدمات ان کے گھر تک پہنچائی جاتی ہیں۔

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا انقلابی استعمال
    "مریم کی دستک” ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمت کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ موبائل ایپ اور ویب پورٹل کا استعمال حکومت کی جانب سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف عوام کے لیے وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں رش کو بھی کم کرتا ہے۔

    سرکاری دفاتر کی مشکلات کا خاتمہ
    ماضی میں، سرکاری دفاتر میں طویل قطاروں، وقت کی بربادی، اور عملے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی شکایات عام تھیں۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے "مریم کی دستک” متعارف کرائی گئی ہے، جو ان تمام مشکلات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

    بدعنوانی کا خاتمہ
    اس منصوبے کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے سرکاری خدمات میں بدعنوانی کے امکانات کو ختم کیا ہے۔ اب عوام براہ راست خدمات حاصل کرتے ہیں، جس سے درمیانی افراد کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اور بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔

    معاشی فوائد
    "مریم کی دستک” نہ صرف عوام کے وقت کی بچت کرتی ہے بلکہ ان کے مالی وسائل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے، لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے تمام ضروری خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

    چیلنجز اور ان کا حل
    ہر نئے منصوبے کی طرح "مریم کی دستک” کو بھی چند چیلنجز کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنا ضروری ہے:
    1. ڈیجیٹل خواندگی
    دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ اکثر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہوتے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
    2. انٹرنیٹ کی دستیابی
    دیہی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ناکافی ہے، جو اس منصوبے کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حکومت کو انٹرنیٹ کی رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔
    3. سائبر سیکیورٹی
    ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کو شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
    "مریم کی دستک” بلاشبہ ایک انقلابی اقدام ہے جو حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف عوام کی زندگیوں کو آسان بنایا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی بحال کیا ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو مزید وسعت دے اور دیگر خدمات کو بھی اس نظام کا حصہ بنائے۔ مزید برآں شہریوں کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مناسب مہمات چلائی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا ماڈل ہے جسے دوسرے صوبے اور ادارے بھی اپناتے ہوئے اپنی خدمات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ اقدام عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مثالی ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تعبیر کی جانب اہم قدم ہے۔

  • پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے امیدیں ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

    پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے امیدیں ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ اس کا عمران خان کی سیاسی راہ پر کیا اثر پڑے گا۔ اگرچہ یہ عمران خان کے حامیوں میں کچھ امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن ٹرمپ کی صدارت کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی جغرافیائی سیاست کی پیچیدگیاں کسی بھی پیش گوئی کو مشکوک بناتی ہیں۔ حکمت عملی کے مفادات، سفارتی چالاکیاں، اور ذاتی اتحاد غیر متوقع طور پر حالات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

    جب دنیا اس بدلتے ہوئے ڈرامے کا مشاہدہ کر رہی ہے، تو امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اور عمران خان کی سیاسی تقدیر کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ یہ کہانی اتنی ہی متحرک اور غیر متوقع ہو سکتی ہے جتنی وہ واقعات جو اب تک اس کی تشکیل کا سبب بنے ہیں۔آنے والی انتظامیہ کے لیے پاکستان کو ترجیحات میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم،عمران خان کی جماعت، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، اس امید میں ہے کہ ٹرمپ کی فتح سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کو کم کر سکتی ہے۔ یہ امید اس کے باوجود ہے کہ عمران خان نے 2022 میں یہ الزامات لگائے تھے کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کی داخلی سیاست میں مداخلت کی تاکہ انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرف کیا جا سکے،یہ ایک دعویٰ جسے واشنگٹن اور اسلام آباد دونوں نے مسترد کر دیا تھا۔

    عمران خان کی برطرفی کے بعد اور پی ٹی آئی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن، جس میں عمران خان کی گرفتاری اگست 2023 سے ہو چکی ہے، کے دوران امریکہ نے زیادہ تر خاموشی اختیار رکھی ہے، اور اس معاملے کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ کی پچھلی مدت میں پاکستان نے امریکہ سے بنیادی طور پر افغانستان کے تنازعے کی وجہ سے تعلقات استوار کیے تھے۔ تاہم، ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں، تو پاکستان کو نظرانداز کرنے کا امکان ہے کیونکہ انتظامیہ عالمی سطح پر درپیش زیادہ اہم مسائل جیسے غزہ، یوکرین اور امریکہ،چین کی کشیدگی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ پاکستان کی داخلی سیاسی صورت حال آئندہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکمت عملی کے مفادات سے ہم آہنگ ہونے کا امکان نہیں رکھتی۔

    ٹرمپ عمران خان کے لیے چمکتے ہوئے زرہ پوش سپہ سالار بننے کے امکانات بہت کم ہیں

  • ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی قوم کی اکثریت اپنی فوج اور جملہ اداروں سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہے فوج کے خلاف غلیظ زبان کا استعمال اور پروپیگنڈہ کوئی نہیں بات نہیں، پہلے بھی پاک فوج کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈہ کئے گئے عوام کی اکثریت نے کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا۔ یہ وہی فوج ہے جس نے ضرب عضب اور ردالفساد میں خودشہید ہو کر ملک میں انتہا پسندی کا اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا، ضرب عضب نواز شریف کے دور حکومت میں شروع ہوا فوج کے ساتھ پولیس نے بھی بھاری قربانیاں دیں جبکہ عام شہری بھی دہشت گردی کی زد میں آئے۔ یاد رکھیئے پاکستان دشمن قوتوں اور بالخصوص بھارت سے ایک فو ج ہی ہے جو پاکستان اور عوام کو بچا سکتی ہے ۔ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعدو ضو ابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے ۔

    سیاستدانوں اپنی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں پر توجہ دیں۔ جس ملک میں سیاستدان گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کچھ نہ کر سکے جس ملک کے سیاستدانوں کے ہی ہاتھوں تین بار نواز شریف کی حکومت کو چلتا کیا گیا وہاں کیسی سیاست اور کیسی جمہوریت ؟حقیقی آزادی اورتبدیلی کا نعرہ لگانے والے بتا سکتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے خاتمے میں اُن کا کیا کردار تھا؟ کیا وہ کردار جمہوری تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ سیاست کے کنگ کانگ تادم تحریر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ عالمی دنیا میں پاکستان کی سیاست اورجمہوریت اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ آج ملکی معیشت کہاں کھڑی ہے ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ عام آدمی بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟

    پنجاب میں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے اپنی حکومت اگر عوامی خدمت پر رُخ موڑ دیاہے تو کیا آج بھی اُن کے خلاف سازشیں نہیں ہو رہی؟ سیاستدان بتائیں ہم اگر غربت کی لکیر سے اگر نیچے گر رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یاد رکھیئے موجودہ صدی میں وہ ملک ترقی کریں گے جن کی آبادی تعلیم یافتہ ہوگی اور وہ جدید ٹیکنالوجی ضروریات کو سمجھ سکتی ہوگی۔وطن عزیز کے نوجوان اپنی بھرپور توجہ تعلیم پر دیں وطن عزیز کا مستقبل میں آپ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں۔ اپنے اپنے حلقے کے نام نہاد سیاستدانوں سے سوال کریں۔ مصنوعی نعرہ لگانے والے سیاستدانوں سے سوال کریں ہم ترقی پذیر کیوں ہیں، ترقی یافتہ کیوں نہیں؟ سمجھ نہیں آتا روز محشر ہمارے سیاسی ٹائیکون کس کس چیز کا حساب دیں گے

  • شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اداروں کے کردار پر تنقید یا ان کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن حالیہ واقعات میں شہباز گل جیسے سیاسی رہنما کی جانب سے ایسے بیانات اور حرکات سامنے آئی ہیں جنہوں نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ قومی وحدت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اسلام آباد میں ایک حالیہ ناکام احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کے 128 اہلکار مختلف وجوہات کی بنا پر ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو سکے۔ اس واقعے کے بعد افسران نے ان اہلکاروں کی لسٹیں تیار کیں اور ان سے جواب طلبی کا عمل شروع کیا۔ ڈیوٹی سے غیر حاضری ایک سنگین معاملہ ہے، خاص طور پر جب یہ معاملہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط سے جڑا ہو۔ لیکن اس پر شہباز گل کا ردعمل ایک غیر متوقع اور متنازعہ تھا۔

    شہباز گل نے اپنی ٹویٹ میں غیر حاضر اہلکاروں کو "ہیرو” قرار دیا اور انہیں یقین دلایا کہ اگر موجودہ حکومت انہیں نکال بھی دیتی ہے تو ان کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں بحال کیا جائے گا اور انعامات سے نوازا جائے گا۔ یہ بیان نہ صرف کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایک عوامی رہنما کی جانب سے ایک حساس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا عکاس بھی ہے۔شہباز گل کی یہ سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔شہباز گل کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک عوامی شخصیت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانا ایک سنگین حرکت ہے۔ یہ عمل اداروں میں نظم و ضبط کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔قومی سلامتی کے ادارے اور قانون نافذ کرنے والی فورسز ملک کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان اداروں میں بے چینی یا تقسیم پیدا کی جائے تو اس کا نتیجہ نہ صرف حکومتی رٹ کی کمزوری بلکہ عوامی اعتماد کے فقدان کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔شہباز گل کا ماضی متنازع کردار کا حامل رہا ہے

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شہباز گل نے قومی اداروں کے خلاف اس قسم کے بیانات دیے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان آرمی کے خلاف متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں بغاوت کے مقدمے گرفتار کیا گیا، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے بیماری کا بہانہ بنایا اور عدالتوں میں اپنی حالت پر آنسو بہائے۔ وھیل چیئر پر بیٹھ کر آکسیجن ماسک لگانے کا ڈرامہ کیا۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب سخت بیانات دے کر اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری جانب قانونی گرفت سے بچنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔

    قانونی اور اخلاقی پہلو کے لحاظ سےقانون کے مطابق، سرکاری اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری یا ان کی جانب سے احکامات کی تعمیل نہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دیگری اہلکاروں کے لیے ایک مثال قائم ہو۔ دوسری طرف، کسی بھی سیاسی رہنما کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی فورم پر ایسے بیانات دے جو قانون کی حکمرانی یا اداروں کے نظم و ضبط کو متاثر کریں۔شہباز گل کے حالیہ بیانات صریحا کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں، جو ایک قابل سزا جرم ہے۔ ان کے بیانات کا مقصد بظاہر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، لیکن اس کے نتائج زیادہ سنگین اور خوفنا ک ہو سکتے ہیں۔ ایسے بیانات عوام میں اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان اہلکاروں کو بھی غلط پیغام دیتے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اہمیت دیتے ہیں۔اداروں اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری بہت اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں قومی اداروں کی مضبوطی اور یکجہتی انتہائی اہم ہے۔ سیاست دانوں اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ عوام اور اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں، نہ کہ تنازعات کو ہوا دیں۔ شہباز گل جیسے رہنماؤں کو اپنی بیان بازی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن یہ اختلافات ایسے بیانات کی شکل میں نہیں ہونے چاہییں جو قومی سلامتی یا اداروں کی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں۔ شہباز گل جیسے رہنما اگر واقعی عوامی خدمت کے جذبے سے سیاست میں ہیں، تو انہیں قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دینی ہوگی۔شہباز گل جیسے افراد اگر امریکہ میں بیٹھ کر امریکی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کریں تو انہیں سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی قوانین، خاص طور پر "Sedition Act” اور دیگر قومی سلامتی کے قوانین، کسی بھی فرد کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیتے۔ امریکی حکومت ایسے بیانات یا اقدامات کو ریاست کے خلاف جرم سمجھتی ہے، اور ایسے افراد پر فوری طور پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے، چاہے وہ امریکی شہری ہوں یا غیر ملکی۔ شہباز گل جیسے بیانات کی مثال امریکہ میں ممکن نہیں کیونکہ وہاں اداروں کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔پاکستان میں بھی ان جیسے افراد کے لئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔شہباز گل کے بیانات ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کے لیے اخلاقی تربیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مزید یہ کہ ایسے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے جو عوامی بیانات کے ذریعے قومی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہباز گل کو یاد رکھنا چاہیے کہ قومی ادارے کسی بھی جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست کے ہیں، اور ان کی حفاظت اور عزت ہر پاکستانی کا فرض ہے۔پاکستان کو ایک مضبوط اور متحد قوم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری اور رہنما اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور اپنے الفاظ و افعال کے ذریعے قومی وحدت کو مضبوط کرے، نہ کہ اسے نقصان پہنچائے۔شہباز گل کے اس طرز کے بیانات ۔ سیکورٹی اداروں کے لئے بھی ایک چیلنج ہے

  • ہر جماعت میں مسخروں اور مخبروں کی بھرمار،جمہوریت کیسے مستحکم ہو؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر جماعت میں مسخروں اور مخبروں کی بھرمار،جمہوریت کیسے مستحکم ہو؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز نے حقیقی تبدیلی کا رخ موڑ دیا،صوبے کی قسمت بدلنے کیلئے کوشاں
    بھارت میں مودی اور حواریوں نے مسلمانوں پر زمین تنگ کردی،مسجدوں سے مند رنکل رہے

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں مخبروں کے مزے ہیں، سیاسی جماعتوں میں مسخرے پن کی حدوں کو کراس کرنے والے اور مخبروں کی تعدا د میں اضافہ ہو چکا ہے، ان حالات میں جمہوریت کیسے مستحکم ہو سکتی ہے، بھارت کو ہی لیجئے وہاں کوئی بھارتی مسلمان جو کہیں بھی کسی شعبے میں مامور ہے، اس کی زندگی کے درپے ہیں آج کل ایک کے بعد ایک مسجد اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے نیچے بھگوان کی مورتی نکل رہی ہے ،ہندوئوں نے اب اجمیر شریف کا رخ کر لیا ہے ،بھارتی عدالتیں قانون و آئین کا مذاق بنا رہی ہیں بھارت میں خانہ جنگی کا ماحول ہے ،ہندو بھارت میں موجود مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ،بھارت میں مسلمان محفوظ نہ عیسائی م، مودی حکومت پشت پناہی کر رہی ہے ،بھارتی فوج انتظامیہ ، ہندوئوں کے ہم رکاب ہے، بھارتی عدالتیں ان کی ہم خیال ہیں،

    ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور ان کی ہم رکاب چھوٹی سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں نے رونقیں لگارکھی ہیں ،بدتمیزی اور بداخلاقی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،پاکستان اس وقت بدتمیزی، بداخلاقی، جھوٹ، فریب، جعلی ویڈیو، جعلی آڈیو کی زد میں ہے، ایک ہمارے سابق وزیراعظم اڈیالہ جیل میں شطرنج کھیل رہے ہیں کوئی نہ کوئی ایسی چال چلتے ہیں ،امریکہ سے مغربی ممالک کے میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف ہو جاتا ہے تاہم ان کی جماعت میں مخبروں کا اضافہ ہو رہا ہے،یہ جماعت بھی مستقبل میں کے پی کے تک محدود ہوتی نظر آتی ہے، پنجاب میں مریم نواز اور نوازشریف خود اور ان کے چند ساتھیوں کی توجہ کام پر ہے ،ایک کے بعد ایک مریم نواز کے ترقیاتی منصوبے، میرٹ نے صوبہ پنجاب میں تبدیلی کا رخ موڑ دیا ہے، بے گھر لوگوں کو گھر، زراعت، صفائی کے منصوبوں نے مسلم لیگ ن پنجاب کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے ،مریم نواز کی توجہ عوام کے مصائب پر کم کرنے پر ہے ،پنجاب میں تبدیلی کا نعرہ اور حقیقی آزادی کے دونوں نعروں کو مریم نواز نے بے معنی نعرہ بنا دیا ہے،مسائل میں گھرے ہوئےعوام کی توجہ دھرنوں سے ہٹ کر مریم نواز کے ترقیاتی منصوبوں کی طرف ہو چکی ہے، کے پی کے حکومت، سندھ حکومت اور باقی صوبوں کو بھی چاہیے،عوامی مسائل پر توجہ دیں، افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعد و ضوابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہے اور دے رہا ہے، سیاسی جماعتیں اپنی سیاست پر توجہ دیں یاد رکھیئے عوام کی اکثریت سیاستدانوں کی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں کا حل فوج کے پاس ہی دیکھتے ہیں۔

  • پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی انتشار سے نکل کر عالمی دنیا کی بدلتی صورت حال پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کوایسی قیادت کی ضرورت ہے جوپاکستان کو داخلی انتشار سے نکال کر قوم کو متحد کرسکے ۔ دنیا میں تبدیلیاں ہونے والی ہیں خاص کر امریکی نو منتخب صدرٹرمپ نے برکس کے رکن ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ ڈالر کے متبادل کرنسی کے مقابلے میں وہ خاموش رہنا پسند نہیں کریں گے امریکہ مستقبل میں برکس ممالک کے ساتھ اگر برقرار رکھے گا تو ٹیکس کے معاملے میں ان ممالک کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ ٹرمپ برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ تلخی سے اظہار کررہے ہیں ابھی تک برکس کے رکن ممالک نے ڈالر کے متبادل کے طور پر دوسری کرنسی کو متعارف کرانے کے کسی بھی فیصلے پر ابھی تک مُر نہیں لگائی۔ برکس رکن ممالک کے لئے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ مستقبل کی پیش بندیوں کا اظہار کرتے ہوئے ڈالر کے خلاف ترچھی نگاہ بھی نہ ڈالیں۔ برکس کے رکن ممالک میں چین ، روس ، برازیل ، جنوبی افریقہ ، مصر ، ایران ،ہندوستان اور متحدہ عرف امارات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ مستقبل قریب میں امریکہ بھارت اور مودی کی خود ساختہ دوستی کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہیں ہوگے یا تو بھارت کو برکس کے رکن ممالک سے باہر آنا ہوگا یا پھر امریکہ سے اس سلسلے میں بات کرنا ہوگی جو ناممکن ہے کہ امریکہ چپ چاپ برکس کو ڈالر سے دور ہوتے برداشت کر سکے گا۔

    ۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی توجہ کا مرکز پانچ وسطی ایشیائی قازستان ، کرغزستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان پر بھی ہو سکتی ہے وسطی ایسیاء امریکہ کے لئے جغرافیائی طور پر اہم ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے پاس وسطٰی ایشیا میں امریکی مصروفیات کو نئی شکل دینے اور اس اہم خطے میں مضبوط امریکی موجودگی کو محفوط بنانے کا منفرد موقع ہے۔ یاد رکھیے پاکستان اس خطے کا ایک اہم ملک ہے پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کو صدق دل سے قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے داخلی انتشار سے نکل کر ایک مضبوط معاشی اور پھر مستحکم پاکستان کی جانب سفر کرنا ہوگا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ دنیا بھرمیں سفارتخانوں کے سفیروں کو دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق اپنی خدمات سرانجام دینی ہوگی بالخصوص وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھیں بین الاقوامی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی پر توجہ دیں۔

  • پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پی ٹی آئی کا تبدیلی سے تباہی تک سفر میں "بشریٰ” کا اہم کردار

    پاکستان تحریک انصاف کسی زمانے میں تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ پارٹی ایک نئے بحران سے دوچار ہے اور تبدیلی سے پاکستان کی تباہی کا سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے، عمران خان سے بشریٰ بی بی کی شادی ہونے کے بعد سے ہی تبدیلی کا سفر تباہی کے راستے پر چل پڑا تھا، بشریٰ بی بی، عمران خان کی اہلیہ اور پارٹی کی غیر رسمی حکمران شخصیت ہیں، جن کے اقتدار کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف پارٹی کے اندر، بلکہ عمران خان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔عمران خان کی رہائی کے لئے ڈی چوک جانے کی ضد، اور پھر وہاں سے فرار، اسکے بعد پارٹی اجلاس میں رہنماوں کے ساتھ بدتمیزی، ہر انگلی بشریٰ بی بی کی طرف اٹھ رہی ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کو گھر سمجھ لیا ہے

    پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک بڑے جھٹکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے قانونی معاملات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو بشریٰ بی بی نے زوم میٹنگ کے دوران انتہائی غلط انداز میں مخاطب کیا جس کا بشریٰ کو حق نہیں تھا کیونکہ بشریٰ کا پی ٹی آئی کورکمیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ زبردستی اجلاس میں آئیں اور نہ صرف سلمان اکرم راجہ بلکہ سب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بدتمیزی کی، پارٹی رہنماؤں کو بے شرم، بے غیرت تک کہا،سب نے سن لیا لیکن سلمان اکرم راجہ بولے اور بشریٰ کو کھری کھری سنائیں، آج سلمان اکرم راجہ نے عمران خان سے جیل میں ملنے کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہو سکی جس کے بعد وہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

    عمران خان، جو کبھی اپنی جماعت کے قائد اور محسن سمجھے جاتے تھے، اب پارٹی کے معاملات میں اپنی ناکامی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کی خاموشی، یا شاید ان کی بے بسی، یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بشریٰ بی بی کے سامنے بے بس ہیں اور پارٹی کے اندر ان کی مضبوط گرفت کو تسلیم کرتے ہیں۔حکومت میں رہ کر بھی بشریٰ بی بی ہی درحقیقت وزیراعظم تھی، عمران خان تو ڈمی تھے، جس طرح بزدار کو ڈمی وزیراعلیٰ کہا جاتا تھا اسی طرح عمران خان ڈمی وزیراعظم اور انکا کنٹرول بشریٰ بی بی کے پاس تھا، تمام احکامات بشریٰ بی بی صادر کرتیں اور عمران خان من و عن عمل کرتے،

    پارٹی کے اندرونی حلقوں سے یہ شکایات آئی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے فیصلوں میں دخل اندازی کی ہے اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول نے پی ٹی آئی کی جڑوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان کا یہ طرز عمل تحریک انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے جو عمران خان نے شروع کیے تھے۔بشریٰ کو تو عمران گھریلو عورت کہتے تھے لیکن دو دن غیر مردوں کے ساتھ ایک کینٹینر پر رہنا، کارکنان سے خطاب اور انہیں پھر ڈی چوک جانے پر ابھارنا کیا یہ کسی گھریلو عورت کا کام ہو سکتا ہے، اصل میں بشریٰ بی بی پی ٹی آئی پر مکمل کنٹرول چاہتی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کی اندرونی سیاست کو ایک خاندان کی جاگیر بنا لیا ہے، جس میں صرف چند مخصوص افراد کو ہی اہمیت دی جاتی ہے، باقی سب کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں "انصاف” کا نعرہ لگایا تھا۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن اور سیاست میں تبدیلی لائیں گے۔ مگر آج، تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں سے منحرف ہو چکی ہے بلکہ یہ ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جس میں فیصلہ سازی اور طاقت کا مرکز ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا "انصاف” اب صرف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی ایک عوامی تحریک تھی یا صرف ایک خاندان کی جاگیر؟ اگر ہم پارٹی کے حالیہ فیصلوں اور بشریٰ بی بی کے اثرات کو دیکھیں تو یہ سوال جائز لگتا ہے۔ پارٹی کی قیادت میں موجود افراد کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور ہر اہم فیصلہ بشریٰ بی بی کے مشوروں یا ان کی مرضی کے مطابق لیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر دھڑے بندی کی وجہ بنی ہے، بلکہ اس سے کارکنان کا اعتماد بھی ٹوٹ رہا ہے۔

    تحریک انصاف کی موجودہ حالت ایک جھوٹے انقلاب کی موت کا اعلان کرتی ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کے تحت ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کے بارے میں آج ہر طرف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی تباہی، بشریٰ بی بی کے اقتدار کی تفصیلات اور عمران خان کی خاموشی نہ صرف ایک سیاسی المیہ ہے بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب کے نام پر ایک طاقتور طبقے نے پارٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔یقیناً، یہ تحریک انصاف کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے اور اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی اس بحران سے نکل پائے گی یا یہ پارٹی ایک خاندان کی سلطنت بن کر رہ جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    لاشوں کی سیاست،خوفناک کھیل.تحریر:وقار ستی

    پاکستان کی تاریخ کئی سانحات کی گواہ ہے، لیکن کچھ سانحات ایسے ہیں جو زخم بن کر رہ جاتے ہیں، اور کچھ ایسی سازشیں جو قوم کے شعور پر حملہ کرتی ہیں۔ لاشوں کی سیاست، جسے آج کے دور کی سب سے مکروہ اور شیطانی حکمت عملی کہا جا سکتا ہے، ان ہی سازشوں میں سے ایک ہے۔ یہ سیاست کسی نظریے کی جنگ نہیں بلکہ خوفناک اور خطرناک سازش ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوام کو گمراہ کرنا بلکہ ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ 9 مئی اور 26 نومبر اس شیطانی کھیل کی دو بدترین اور واضع مثالیں ہیں، جو سیاست کے نام پر پاکستان کی سالمیت پر حملہ تھے۔

    9 مئی اور 26 نومبر کو تحریک انتشار کے نام نہاد رہنماؤں نے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جو ملک کو خانہ جنگی کی دہلیز پر لے جائے۔ ان کے منصوبے کا بنیادی مقصد تھا خون بہے، لاشیں گریں، اور اس فساد کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جائے۔ 9 مئی کو قومی املاک اور دفاعی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جبکہ 26 نومبر کو قتل و غارت گری کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔

    لاشوں کی سیاست کے اس کھیل کو ہوا دینے میں سب سے بڑا کردار ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا ہے، جو سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیے عام کرتے ہیں۔ یہ عناصر، جو بظاہر آزاد صحافت کے علمبردار بنتے ہیں، درحقیقت پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف عوامی شعور کو مسخ کرنا ہے بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنا بھی ہے۔ 26 نومبر کے بعد جھوٹے بیانیوں اور جعلی خبروں کا جو طوفان کھڑا کیا گیا، اس نے واضح کر دیا کہ یہ عناصر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

    تحریک انتشار کے رہنماؤں نے احتجاج کو پرتشدد بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ علی امین گنڈا پور اور دیگر نے کھلے عام “مارنے اور مرنے” کی باتیں کیں، جبکہ اس مارچ سے قبل جو افغانی اسلحے سمیت گرفتار ہوئے انہوں نے ان کے ناپاک ارادوں کو بے نقاب کر دیاہے کہ یہ اسلحہ مظاہرین کے ہاتھوں قتل عام کے لیے استعمال کیا جانا تھا، تاکہ پاکستان میں بدامنی کی ایک ایسی لہر پیدا کی جا سکے جو قابو سے باہر ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی مہذب معاشرے میں اس طرح کی دہشت گردی کو سیاست کہا جا سکتا ہے؟

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہایت پیشہ ورانہ حکمت عملی سے اس انتشار کو قابو کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے؟ ان جھوٹے پراپیگنڈہ کرنے والوں، چاہے وہ سیاستدان ہوں صحافی ہوں یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہوں کو کب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یہ عناصر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہ جھوٹا پروپیگنڈہ صرف وقتی فساد نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کے لیے ایک طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر اس جھوٹ کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سازشی عناصر مستقبل میں مزید شدت سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومت،ریاست، عوام، اور میڈیا مل کر ان عناصر کے خلاف سخت موقف اپنائیں۔کیونکہ لاشوں کی سیاست دراصل پاکستان کی سالمیت پر ایک حملہ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی کھیل نہیں بلکہ ایک منظم عالمی سازش ہے، جس کا مقصد پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔ قوم کو اس وقت اتحاد اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ ان سازشوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ان کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنا اور ذمہ دران کو سخت سزا دینا ہی پاکستان کے وقار اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔ یہ وقت کسی نرمی یا رعایت کا نہیں بلکہ دشمنان وطن کو ہر محاذ پر شکست دینے کا ہے۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    انتشار،فساد،پی ٹی آئی کا وطیرہ

    پاکستان کی سیاست میں ایک طرف جہاں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے عوامی حمایت کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے کچھ ارکان اور رہنما اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اداروں اور عوام کے ساتھ دشمنی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مختلف مواقع پر احتجاج اور شور شرابے کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس میں ملک میں عدم استحکام اور تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان احتجاجات کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا یا سیاسی مخالفین کو کمزور کرنا ہوتا ہے، لیکن ان مظاہروں میں پُرتشدد واقعات اور غیر قانونی سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

    حال ہی میں پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے جدید ترین اسلحہ سے لیس شرپسندوں کو اسلام آباد بھیجا، جہاں ان لوگوں کا مقصد صرف دھرنا دینا نہیں تھا بلکہ 2014ء کی طرح پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ کرنا تھا۔ 2014ء میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا تھا، جو ایک سنگین قدم تھا اور جس نے ملکی جمہوریت کو نقصان پہنچایا تھا۔پی ٹی آئی کی سیاست میں پرتشدد احتجاج ایک معمول بن چکا ہے۔ پارٹی کے کارکنوں نے نہ صرف سڑکوں پر تشدد کی راہ اپنائی، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر حملے کیے، جس سے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ یہ حملے پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کی تضحیک کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش تھے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا یہ رویہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ ایک ایسی سیاست کی عکاسی کرتا ہے جس میں طاقت اور تشدد کو جواز بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس پر حملے اور سرکاری ٹی وی پر قبضے کی کوششیں اس بات کا غماز ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی میں پُرتشدد طریقے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔2014ء میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، جس میں پارٹی کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر حکومت کی عمارتوں کو گھیر لیا تھا۔ یہ دھرنا طویل عرصے تک جاری رہا، جس کی وجہ سے حکومتی اداروں کے کاموں میں خلل آیا اور ملک کے آئینی نظام کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ اس دھرنے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ان کے اقدامات نے پاکستان کی جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی کو چیلنج کیا تھا۔

    اب، 2024ء میں، پی ٹی آئی نے دوبارہ اسلام آباد میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مرتبہ ان کے احتجاج کا مقصد وفاقی حکومت کو کمزور کرنا اور اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔ تاہم، ایسے احتجاجوں سے نہ صرف ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا بلکہ عوام کی زندگی بھی متاثر ہوئی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی معیشتی مشکلات اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے غیر قانونی اقدامات ملکی استحکام کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک اور تشویش کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کی حکومت کے سرکاری وسائل کا استعمال کر کے احتجاج کو مزید منظم اور طاقتور بنانے کی کوشش کی۔ خیبر پختونخواہ میں حکومت کا اقتدار رکھنے والی پی ٹی آئی نے ریاستی وسائل کا استعمال کر کے عوامی احتجاج کی شدت بڑھانے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف حکومت کی انتظامیہ پر بوجھ بڑھا، بلکہ اس کے ذریعے ملک کی سیاسی فضا میں مزید تلخی پیدا ہوئی۔

    اس احتجاج کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے رہنما کی رہائی کے لیے پرتشدد احتجاج کیا۔ عمران خان پر بدعنوانی اور کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، اور ان کے خلاف کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ان پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، اور ان کی رہائی کے لئے کیے گئے احتجاجات دراصل ان مقدمات سے بچنے کی ایک کوشش ہیں۔بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے ان کے خلاف چلنے والی سماعتوں میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ عمران خان کے مقدمات کو طول دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ان پر لندن میں ضبط شدہ رقم کو وائٹ منی میں تبدیل کرنے کا الزام بھی ہے۔ ان الزامات سے متعلق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اس نوعیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

    کسی بھی جمہوری ملک میں ایسے پرتشدد احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کا پرتشدد احتجاج اور سیاسی مقاصد کے لئے غیر قانونی حربوں کا استعمال ایک تشویش کا باعث ہے۔ اس کے باوجود، پاکستان کے عوام اور ادارے ہمیشہ ان قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں جو ملک کے آئینی اور جمہوری اصولوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتی ہیں

  • قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم منتشر،سیاستداوں کے کردار کی ضرورت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے یقینی ، مایوسی ،فساد ،انتشار وطن عزیز کے گلشن میں کانٹے بکھیرنے کا کام جو جاری ہے ہر طرف کانٹے بکھیرے جا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں تماش بین افراد کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ بین الاقوامی دنیا میں ملک کے وقار، اس کی عزت کو داغدار کیا جا رہاہے ۔ قوم منتشر ہو چکی ہے ۔ منتشر قوم کے لئے نواز شریف، مولانا فضل الرحمان ، جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی میں موجود بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمسفر افراد اور دیگر سنجیدہ سیاستدان اپنا کردارادا کریں ۔پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ تلاش کریں۔ نواز شریف خود اس وطن عزیز کی عزت اور وقار کے لئے میدان میں نکلیں ۔ قیادت کریں سیاسی راہنمائوں کے دروازے پر دستک دیں- انہیں ایک جگہ جمع کریں وطن عزیز میں ترقی کے لئے جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے ۔ ملک کے معاشی حالات کیا ہیں ؟ سب جانتے ہیں ان حالات میں ملک کسی انتشار اور فساد ،قتل وغارت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

    کیا تخلیق پاکستان کا مقصد یہی تھاکہ یہاں بے روزگاری ،لاقانونیت ،ناانصافی ، بدانتظامی ، منافقت ، ملاوٹ ، ناجائزمنافع خوری ، اقربا پروری ، بے اصولی ، کرپشن کو فروغ دیا جائے ؟نہیں ،نہیں پاکستان اس کے لئے نہیں بنایا گیا تھا ہرگز نہیں خدا را بابائے قوم بزرگوں ،لاکھوں شہداء کی روحوں کو اتنا نہ تڑپائو ۔ اللہ کا خوف دلوں میں پیدا کرو۔ تبدیلی اور حقیقی انقلاب اور حقیقی آزادی والی جماعت سے گزارش ہے پاکستان کا قیام بذات خود ایک بہت بڑا انقلاب تھا محض نعرہ نہیں تھا ،پوری وضاحت کے ساتھ اس انقلاب کے مقاصد تھے۔بھارت سے مسلمانوں نے ہجرت کی ،سر کٹوائے ، گھر بار چھوڑے ، یہ سب انقلابی تھے جو بابائے قوم کی صاف ستھری اور بہادر قیادت میں انقلاب لے کر آئے پاکستان کی صورت میں اس گلشن میں کانٹے بکھیرنے کی بجائے اس گلشن کو آبادرکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔قصر دل میں نرم گوشہ رکھنے والے ہی دلوں پر راج کرتے ہیں ۔کائنات کی خوبصورتی حسن اخلاق میں ہے۔ چنگیز خان ،ہلاکو اور ہٹلر نے توانسانیت کا خون بہایا تھا اچھے الفاظ کی خوشبو سے ہی قبائے دل میں خوبصورت پھول کِھلتے ہیں