Baaghi TV

Category: سیاست

  • پی ٹی آئی احتجاج،کیا  حکومت صرف بڑھکیں مارنے  کیلیے ہے؟

    پی ٹی آئی احتجاج،کیا حکومت صرف بڑھکیں مارنے کیلیے ہے؟

    پاکستان میں گزشتہ چند دنوں سے احتجاجی تحریک نے سیاسی اور سماجی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لئے اسلام آباد کی جانب احتجاج کا اعلان کیا، جس کے بعد اسلام آباد اور پنجاب میں جاری ان احتجاجات نے حکومت کی حکمت عملی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں ڈی چوک تک پہنچ چکے ہیں،پرتشدد احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکار ،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے،حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کیں، راستے بند کئے، کینیٹینر لگائے،اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیا، اس کے باوجود پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، احتجاجی شرپسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور ان کی جانب سے اہم مقامات تک پہنچنا اس بات کا غماز ہے کہ حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور فوج کے جوانوں کی شہادتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    اسلام آباد میں جاری احتجاجی تحریک نے شہر کے متعدد علاقوں کو بند کر رکھا تھا، اور کنٹینرز کی مدد سے سڑکوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود، احتجاجی گروہ ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس پر حکومت کی حکمت عملی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ احتجاجی تحریک کے شرپسند ایک ایک انچ آگے بڑھتے رہے، اور حکومت کی جانب سے صرف بیانات اور بڑھکیں دینے کے سوا کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔

    مختلف سیاسی رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے حکومتی رٹ کو ایک بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ حکومت نے اس تماشے کے لیے کنٹینرز کیوں لگائے؟ اگر سڑکیں بند کی گئی تھیں اور راستے روکے گئے تھے، تو ان اقدامات کا کیا مقصد تھا؟ اور یہ تمام انتظامات کس لیے کیے گئے جب احتجاجی شرپسند ایک کے بعد ایک قدم آگے بڑھتے رہے؟اسلام آباد سے داخلی و خارجی راستوں کو بندش، میٹرو بند، ریلوے سٹیشن بند، ہوٹلز،گیسٹ ہاؤس بند،اس سب اقدامات کے باوجود سوال اٹھتا ہے کہ حکومت نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟ اسی دوران، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کی شہادت اور زخمی ہونے کے واقعات نے عوام کے ذہنوں میں مزید شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ ان تمام واقعات نے حکومت کی بے بسیت اور بے تدبیری کو اجاگر کیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ احتجاجی تحریک کے پیچھے "خفیہ ہاتھ” کارفرما ہیں، لیکن اب یہ بیانات بے کار ثابت ہو رہے ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات ابھرنے لگے ہیں کہ اگر حکومت اس قدر کمزور ہے کہ وہ چند کلومیٹر کے علاقے کو بھی کنٹرول نہیں کر سکتی، ایک طرف احتجاجی تحریک کی شدت بڑھتی جا رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی طرف سے نہ کوئی موثر حکمت عملی سامنے آ رہی ہے اور نہ ہی کوئی حقیقی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چند دنوں سے حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محض بیانات دے رہے ہیں، جب کہ عوام کی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ولیس کے جوانوں کی قربانیاں ہو رہی ہیں، دوسری طرف حکومت محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اگر حکومت یاست کی رٹ کو قائم نہیں رکھ سکتی،عوام کا تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا، تو ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت کا کام کیا ہے؟ کیا یہ حکومت صرف بڑھکیں مارنے اور بیانات دینے کے لیے ہے، یا پھر اسے عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے؟ ریاست کی طاقت کو محض شوپیس کی طرح نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اسے حقیقی چیلنجز کے سامنے ثابت کرنا ہوگا۔

    موجودہ حالات واقعی حکومت کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت عملی اقدامات کرے، نہ کہ صرف بیانات دے کر حالات کو نظر انداز کرے۔9مئی کے واقعے سے بڑا واقعہ رونما ہو چکا، حکومت اب تک کیا کرتی رہی، بلوائیوں نے پاکستان کو پہلے بھی نقصان پہنچایا اب بھی پہنچا رہے ہین، بشریٰ بی بی کی قیادت میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا رہا ہے، ایسے میں حکومت کو سخت ردعمل ،فوری ایکشن کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے………

    پی ٹی آئی مظاہرین کا ڈی چوک پر خاتون صحافی قراۃ العین شیرازی پر تشدد

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    کچھوے کی چال، واقعی چال ہے؟.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    پاکستان کی موٹر وے اور پنڈی و اسلام آباد اور مری کے تعلیمی ادارے بوجہ مرمت بند رہیں گے۔ یہ اعلان تو سنا دیا گیا۔ مگر بتایا نہیں گیا کہ مرمت کس کی ہورہی ہے۔ سکول اور موٹر ویز پر تو مرمتی ٹھیکے داروں نے گندگی نگاہ تک نہیں ڈالی۔ خیر چھوڑیے۔۔۔۔۔
    سنا ہے کہ قیدی آزاد ہے،اور بادشاہ فیصلے کرنے میں مفلوج۔ جسے سیاہ ست نہیں آتی تھی، اس نے ڈنگی لگا کر آنے والوں کو وخطہ ڈالا ہوا ہے۔ آزاد قیدی نے جمہوریت کے چیمپئنز کے منہ سے نہ صرف نقاب اتار ڈالا ہے۔بلکہ میدان چال میں اپنا خیمہ اتنا مضبوط کر ڈالا ہے کہ اس کے مخالفین کا سانس خود اپنی چالوں سے گھٹ رہا ہے۔
    پہلے حکومتوں کے سیاسی مخالفین اپنے مطالبات کے لیے ملک کی شاہراؤں کو بند کرتے تھے۔مگر اس بار آزاد قیدی نے تاریخ بدل ڈالی۔ جیل کے سلاخوں کے پیچھے بیٹھا وہ شخص اس قدر مقبول ہوگیا ہے کہ وہ جیل میں بیٹھ کر دھرنوں اور جلسوں کا اعلان کرتا ہے۔ اور اس کے مخالفین کو ایک روز پہلے ہی نہ صرف کچھ اہم شاہرائیں بلکہ ملک کو عملی صورت میں بند کرنا پڑ جاتا ہے۔
    24 نومبر کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اڈیالہ جیل سے فائنل کال کا اعلان کیا۔ اور کارکنان کو اسلام آباد اپنی رہائی کی غرض سے ہر حال میں پہنچنے کا کہا۔ تاکہ احتجاج کرکے شہر اقتدار کو بند کیا جائے۔ اور حکومت سے مذکرات اور مطالبات منوائے جائیں۔ مگر حکومت نے اپنے سیاسی مخالف کی خواہش خود ہی پوری کر دی۔ 23 نومبر کو ملک کی اہم ترین موٹر ویز اور شاہراؤں کو حکومت نے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا۔ اور ملک کی تقریباً 60 فی صد آبادی کو گھروں اور اپنی گلیوں میں محصور کر دیا گیا۔ دوسری جانب علی امین گنڈا پور کے پی کے کے تمام تر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کےلیے روانہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کے قافلے میں سرکاری ملازم، سرکاری مشینری اور بعض اطلاعات کے مطابق پولیس فورسز کے لوگ بھی شامل ہیں۔ جو تاحال 25 نومبر شام 7 بجے اسلام آباد نہیں پہنچے۔

    کیا یہ کچھوے کی چال، آزاد قیدی کی چال تو نہیں؟۔ حکومتی رپورٹس کے مطابق احتجاج کی صورت میں ملک کی معیشت کو 190 ارب کا روزانہ نقصان ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی تو احتجاج ہی اس لیے کر رہے ہیں کہ حکومت معاشی دباؤ میں آکر ان کے مطالبات مانے۔ مگر حکومت نے 23 نومبر کو خود ہی ملک کو بند کردیا۔ اور قیدی کی چال کو مزید کامیاب بنانے کےلیے راہ ہموار کی۔ علی امین گنڈاپور جس رفتار سے چل رہے ہیں لگتا یہی ہے کہ یہ کچھوے کی چال 27٫26 نومبر کو بھی چلے گی۔ اور یوں حکومتی حلقوں میں ٹینشن بڑھے گی۔”علی امین گنڈاپور جب لیٹ آئے گا تو ٹینشن بڑھے گا، جب علی امین گنڈاپور زیادہ لیٹ آئے گا تو زیادہ ٹینشن بڑھے گا”۔
    یوں 24 نومبر کو شروع ہونے والا احتجاج 26 نومبر کو شروع ہوگا،لیکن ختم ہونے کا وقت نہیں مقرر۔ مگر تاحال ڈوبتی معیشت کو 580 ارب کا مزید غوطہ دیا جا چکا ہے۔ اور کئی ارب کا مزید خسارہ ہوگیا،مگر قیدی کو معیشت نہیں رہائی چاہیے

  • اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کی خاطر مذہبی تاویلیں،رب کو ناراض نہ کریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی ،قتل و غارت گری، سماجی معمول کا درجہ اختیار کر جائیں، رشتے مٹ رہے ہوں، احساس ماند پڑ جائے، بیروزگاری، ناخواندگی عام ہو ۔۔کوئی راستہ کوئی منزل نظر نہ آئے ۔ بدعنوانی اور منافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر لیں تو سیاست اور جمہوریت کیسی؟ ان حالات میں ریاست کی حالت کیا ہوگی؟ تاہم بدترین داخلی انتشار کے باوجود پاک فوج اور جملہ اداروں نے ریاست کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی اپنی حفاظت میں لیا ہوا ہے۔ یاد رکھیئے! ریاست کے نگہبانوں کو فساد اور انتشار کا سدباب کرنا آتا ہے ریاست کے استحکام پر کسی فرد واحد کو اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ ریاست کے استحکام کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے دیوار چین کی طرح کھڑے ہیں۔

    قوم نے طویل تین مارشل لاء دیکھے موجودہ صدی کے پیروں، نام نہاد گدی نشینوں ، ججز، وڈیروں، سیاستدانوں، نام نہاد دانشوروں، سرمایہ داروں نے ان مارشل لاء لگانے والوں کا بھرپور ساتھ دیا ،میڈیا نے بھی بھرپور ساتھ دیا الزام صرف فوج پر نہیں لگایا جا سکتا۔ میاں محمد نوازشریف کو تین بار حکومت سے علیحدہ کیا گیا اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ہی آتی ہے۔ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعت میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے، پانامہ لیکس ایک غلط اور بے بنیاد مقدمہ بنا کر نوازشریف اور اسکے خاندان کو بدنام کیا گیا اس مقدمے کے پیچھے سیاستدان ہی تھے، عمران خان جو آج جمہوریت آئین کی بات کرتے تھکتے نہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری حکومت کیخلاف سازش میں کیوں شامل ہوئے؟ 2018ء کے الیکشن میں انہوں نے کس طرح کامیابی حاصل کی وہ کن ملاحوں کی مدد سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ،نوازشریف کا اس وقت گناہ کیا تھا؟ 2024ء کے الیکشن پر سینہ کوبی کرنے والے بتا سکتے ہیں 2018ء کا الیکشن ہی تھا؟

    یاد رکھیئے۔ پاکستان کی سیاست سیاستدانوں اورنام نہاد جمہوریت سے امریکہ سمیت عالمی دنیا آگاہ ہے سوشل میڈیا جھوٹ بولنے کی فیکٹریاں ہیں بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا بھی سوشل میڈیا کا اسیر بن چکا ہے۔ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت نام نہاد پیروں اور گدی نشینوں، نام نہاد عالم دین، خدا کے عذاب سے ڈرتے نہیں روز محشر خدا کی عدالت میں کس منہ سے کھڑے ہوں گے پاکستان کی سرزمین بھی خدا پاک کی ملکیت ہے اس سرزمین پر بسنے والے خدا پاک کی مخلوق ہے اپنے اقتدار اور اختیارات کی خاطر مذہبی تاویلیں دے کر خدا پاک کو ناراض نہ کریں دین اسلام پر عمل کریں

  • پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں جاری عدم استحکام، سیاست اور عالمی تناظر.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک میں جاری عدم استحکام ،سیاسی جماعتوں کے آپس میں تنازعات ،ان تنازعات سے پاکستان بطور ریاست اور بے بس لاچار عوام ۔جمہوریت سیاسی رہنمائوں کو پکار رہی ہے اب اس میں فتوے لگانے والوں نے بھی شمولیت اختیار کرلی ہے۔ فتویٰ تو ملاوٹ شدہ خوراک ادویات فروخت کرنے والوں پر لگانا چاہئے۔ فتویٰ صفائی نصف ایمان ہے ،جو اپنی دکانوں گلی محلوں کی صفائی نہیں کرتے جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں ان کے خلاف فتوے جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس علمائے کرام اور مشائخ ایک حدیث پر عمل کروانے سےقاصر ہیں ’’جس نے ملاوٹ کی ، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ دین اسلام کا ذمہ اگر اللہ تعالیٰ نے نہ لیا ہوتا تو آج کا مسلمان اسے کب کا گنوا چکا ہوتا ۔مسلم امہ کا ہدف دین اسلام کی سربلندی نہیں ،اپنی ذاتی نفسیات خواہشات ذاتی مفادات کے گرد گھومتا ہے مسلم امہ کا ہر کام مذمت تک محدود ہے۔

    بین الاقوامی سیاستدان نئے امریکی صدر ٹرمپ کو اور ان کے دنیا کے ساتھ معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ نئے امریکی صدر بل کلنٹن بھی نہیں بائیڈن بھی نہیں ٹرمپ ہنری کسنجر کی طرح دانشور یا جمی کارٹر کی طرح شائستہ نہیں ہو سکتے لیکن کاروبار، سرمایہ کاری کے پس منظر سے آنے والے امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں ان کے فائدے میں ہے، نئے امریکی صدر ٹرمپ تجزیہ کاروں کی زبان استعمال نہیں کرتا اور تجزیہ کار سیاستدانوں کی شائستگی یا چالبازی کے لئے نہیں جانا جاتا، ٹرمپ نے اپنے سابقہ دور صدارت میں دنیا بھر کے مسلمان ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا تھا ٹرمپ کو اس وقت امریکی سیاستدانوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ایک بار پھر امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات مستحکم ہوں گے ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ، غزہ، لبنان کی جنگ کو ختم کروا سکتے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دیں گے معاہدوں اور پابندیوں کے ذریعے دیکھیں گے جنگوں سے نہیں دیکھیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کی صورت میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگا۔ مشرق وسطیٰ کو نئی تبدیلیوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ یاد رہےموجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے ادوار میں دنیا میں بغیر جنگ کے حکومت کی ہے

  • ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی کامیابی اور پاکستانی دانشوروں کے لایعنی تبصرے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدارتی ا نتخابات اور ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ہمارے دانشور اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایسے ایسے تبصرے شروع کردئیے ان تبصروں سے نہ تو امریکہ کو فرق پڑتا ہے نہ پاکستانی معاشرے پر ان تبصروں سے کوئی نقصان یا فائدہ ہوتا ہے جس معاشرے کو تباہ کرتے ہیں، نجومی درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش ، جھوٹے راوی ، غنڈے خود ساختہ حق اور سچ کے دعویدار زائچے بنانے والے خوشامدی موقع پرست سیاستدان افواہ پھیلانے والوں کی بہتات ہو ،الیکٹرانک میڈیا پر معاشرے کو سدھارنے کی باتیں کی جائیں، خوراک اور ادویات میں ملاوٹ کے خلاف جہاد کریں، مخلوق خدا کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف جہاد کریں۔ امریکی صدر کو کسی نجومی ، کسی زائچے بنانے والے نے کامیاب نہیں کروایا امریکہ میں موجود مخلوق خدا نے کامیاب کروایا ہے۔

    امریکہ بطور ریاست اور ٹرمپ بطور امریکی صدر کو بین الاقوامی تنازعات کا سامنا ہے ، امریکی پالیسی اُسی راستے پر چلتی رہے گی تاہم امریکی پالیسی کا انداز اور لہجہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جیت ایک خبر کی کہانی اور سیاسی پنڈتوں کے لئے موضوع بحث ہے کچھ زیادہ نہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی سعودی حکمرانوں کے لئے بھی اچھی خبر ہے ٹرمپ کے ساتھ سعودی حکمرانوں کے اچھے تعلقات ہیں تاہم دیکھنا ہوگا کہ اسرائیل فلسطین ،لبنان ،ایران کے درمیان جاری جنگ کو ٹرمپ اور سعودی حکمران کیا کردار ادا کرتے ہیں ، بائیڈن کی رخصتی اورٹرمپ کی آمد دنیا میں جاری جنگی ممالک میں کیا رُخ دیتی ہے ٹرمپ کے مزاج و انداز میں کیا کوئی تبدیلی آئے گی؟تاہم پاکستان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کیا ہوگی اس کے لئے چند ماہ انتظار کرنا پڑے گا

  • آؤٹ آف ٹرن چیف جسٹس.تحریر:تصدق حسین

    آؤٹ آف ٹرن چیف جسٹس.تحریر:تصدق حسین

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں حال ہی میں کی گئی 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت طے طریقہ کار کے مطابق جج جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ سب سے سینیئر جبکہ جسٹس منیب اختر دوسرے نمبر پر سینیئر ترین جج تھے۔نئی آئینی ترمیم سے قبل تو یہ پہلے ہی سے سب کو معلوم ہوتا تھا کہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر آئندہ کون بیٹھے گا کیوں کہ عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سینیئر ترین جج ہی آئندہ کے لیے چیف جسٹس ہوتا تھا۔

    پہلی مرتبہ 1994 میں سب سے سینیئر ترین جج کی بجائے جسٹس سجاد علی شاہ کو اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی ایڈوائس پر چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا۔1994 میں چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی ریٹائرمنٹ پر جسٹس سعد سعود سپریم کورٹ میں سب سے سینیئر ترین جج تھے لیکن اس وقت سینیارٹی لسٹ میں سجاد علی شاہ تیسرے نمبر پر تھے لیکن انہیں چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔بےنظیر بھٹو کو اس وقت کے صدر پاکستان فاروق لغاری نے برطرف کر دیا تھا اور جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے پاس گیا تو چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ان کی برطرفی کے صدارتی فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔چیف جسٹس سجاد علی شاہ اپنے دور میں خاصے متنازع رہے۔انہوں نے 1997 میں، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے دور میں جب 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر پاکستان سے وزیراعظم اور قومی اسمبلی کو برطرف کرنے کا اختیار ختم کیا تھا تو سجاد علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے ان کے اختیارات کو بحال کر دیا تھا۔لیکن اسی روز جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ نے وہ فیصلہ معطل کر دیا جس سے ناصرف چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت سے اختلافات کھل کر سامنے آئے بلکہ عدلیہ بھی منقسم ہو گئی۔

    انہی حالات میں منقسم عدلیہ کے بعض ججوں نے سجاد علی شاہ کو بطور چیف جسٹس ماننے سے انکار کیا اور سپریم کورٹ کی کوئٹہ میں رجسٹری نے ان کی تعیناتی پر سوالات اٹھائے اور پھر عدالت کے 10 رکنی بینچ نے ان کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفیکشن مسترد کر دیا تھا اور یوں ان کے دور کا اختتام ہوا۔

    سپریم کورٹ میں خلاف معمول ایک اور چیف جسٹس اس وقت سامنے آئے جب تین نومبر 2007 کو اس وقت کے صدر سابق جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کر دیا تھا۔جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی تو اس وقت سپریم کورٹ کے سینیئر ترین ججوں میں عبدالحمید ڈوگر چوتھے نمبر پر تھے لیکن ایمرجنسی کے بعد دیگر سینیئر ججوں نے صدر کے عبوری حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اٹھانے سے معذرت کی تھی مگر عبدالحمید ڈوگر نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا تھا اور انہیں چیف جسٹس بنا دیا گیا۔ایمرجنسی کے خاتمے پر جب آئین بحال کیا گیا تو عبدالحمید ڈوگر سمیت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں نے دوبارہ حلف بھی اٹھایا۔چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے بطور پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی اور اس کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو نظریہ ضرورت تحت بھی جائز قرار دیا تھا۔ان کے دور میں بھی عدلیہ منقسم رہی اور عدلیہ کی بحال کے لئے وکلاء تنظیموں نے بھرپور مہم بھی چلائی اور پھر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ پر معزول کیے گئے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2009 کو بحال کر دیا گیا۔

    اب جبکہ سینیارٹی لسٹ پر تیسرے نمبر پر موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے اور وہ 26 اکتوبر سے یہ منصب سنبھالیں گے تو ان کے لئے ایک اہم چیلنج عدلیہ کو مزید منقسم ہونے سے بچانا بھی ہو گا۔
    اگرچہ کئی وکلاء رہنما اور تنظیموں کی طرف سے جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیف جسٹس تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور انہوں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیا ہے لیکن اگر عدالت عظمٰی کے موجودہ ججوں کی اکثریت کی انہیں حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو ان کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانا قدرے آسان ہو گا
    tasadeq

  • ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ڈینگی کا وار ، محکمہ صحت پنجاب کی کارکردگی،مریم کو افسران کا دھوکہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا راز میرٹ ،وقت کی پابندی ،رائٹ مین فار رائٹ جاب ہے ۔بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان راستوں کا انتخاب کر کے صوبے پنجاب میں انقلاب برپا کر دیا ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے پنجاب کی سول بیورو کریسی کن راستوں پر چل پڑی ہے چیف سیکرٹری پنجاب سمیت صوبائی سیکرٹریوں نے اپنے الگ راستوں کا انتخاب کر لیا ہے، ڈینگی کو لے کر سول بیورو کریسی اور پنجاب کی انتظامیہ جو اقدامات کر رہی ہے وہ نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب بلکہ عوام سے کھلے مذاق کے مترادف ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض یا دیگر امراض قابو پانے کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت کے افسران اور فیلڈ سٹاف کی ہوتی ہے اور وہ کامیابی سے مستعدی سے ان امراض پر قابو پاتے ہیں۔ مگر ڈینگی کو لے کر پنجاب بھر کی سول انتظامیہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر تمام محکموں کے ضلعی سربراہان کی بے سود میٹنگز اور فوٹو سیشن کاوشوں نے کیا ڈینگی کے بے قابو جن پر کنٹرول کر لیا ہے ہفتے میں چار پانچ دن ڈینگی کی میٹنگ سے دیگر محکموں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے دیگر محکموں کے افسران عام آدمی کو میسر نہیں ہوتے بلکہ ان روزانہ کی میٹنگز سے خود کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز، عوام اور ان کے مسائل کے حل سے بہت دور ہو چکے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران کو مکمل ذمہ داریاں ایک ہی بار سونپ کر فیلڈ سٹاف سے کارکردگی مانگی جائے اور دیگر محکموں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں پرفارم کرنے کا موقع دیا جائے نہ کہ تعلیم، بلڈنگ، سماجی بہبود اور دیگر محکمے اپنے اپنے فوکل پرسن کے ذریعے فوٹو سیشن کی تصاویر بھیج کر ڈینگی کی سب اچھا کی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کریں پنجاب کے ہسپتالوں کے وارڈز ڈینگی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں عملی طور پر نہ تو مکمل سپرے کیا جا رہا ہے اور نہ ہی گندے و صاف پانی کے گڑھوں کو ختم کیا جا رہا ہے قد آدم سے بلند گھاس بوٹیاں ڈینگی مچھروں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، صفائی کے ایس او پیز تو ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جبکہ ہسپتالوں میں بھی صفائی کا انتظام نہیں نظر آرہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران بشمول سیکرٹری صحت وزیر صحت کو فیلڈ میں نکل کر انسپکشن کر کے وزیراعلیٰ پنجاب کو ضلعی افسران انتظامیہ و صحت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں

  • ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی،قوم حیران
    ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش،25کروڑ عوام کی کسی کو فکر نہیں
    پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے فلاحی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی سازش
    دو اور دو چار ہوتے ہیں،سیاستدانوں کا آئین پر حساب کتاب کمزورکیوں ؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    سیاست کی دنیا میں دھند بڑھتی ہی جا رہی،باران رحمت کاانتظار،قوم حیران،کسی کو پچیس کروڑ عوام کی فکر نہیں،پنجاب میں عوام کی اس دھند زدہ سیاست میں فکر نظر آرہی،پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی خدمت کے ایجنڈے پر نوجوانوں کے ذریعے حملہ کیا گیا،من گھڑت کہانی بنا کر ترقی کرتے پنجاب کو عالمی سطح پر بدنام کیا گیا،ایسے تماشوں کا وزیراعلیٰ پنجاب کو مزید انتظار کرنے اور ان تماشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ تماش بینوں کا کام صرف تماش بینی ہوتا ہے،اسلام آباد میں آئین کو لے کر سیاسی تماشے ہو رہے ہیں آئین کو ڈھال بنا کر سیاسی و مذہبی جماعتیں کون سا کھیل کھیلنے میں اور ایک دوسرے سے جیتنے میں مصروف ہیں جبکہ آئین تو دو اور دو کی طرح بالکل آسان ہے آئینی سوال کو مشکل ترین بنا دیا گیا،سب کو معلوم ہے آئین کیا ہے اکثریت کیا ہے معلوم نہیں ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لے کر حساب کتاب کیوں کمزور ہے؟ تاہم بات سمجھ سے بالاتر ہے کون کس کے ساتھ کیا گیم کھیل رہا ہے،امریکی سیاستدان الیکشن میں مصروف ہیں،دنیا کی نظریں امریکی انتخابات پر لگی ہیں ڈونلڈ ٹرمپ یا کملا ہیرس ،وائٹ ہائوس کانیا مکین کون ہوگا امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی کامیابی یقینی ہو سکتی ہے امریکی عوام کی اکثریت کوئی معاوضہ لئے بغیر ٹرمپ کی انتخابی مہم چلا رہی، اگر ٹرمپ کامیاب ہو گئے تو ان کی بھرپور توجہ معیشت پر ہوگی،امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اپنی صدارت کا آخری دورہ یورپ کا کر لیا ہے، یورپی یونین کی چند ریاستیں ٹرمپ کی دوسری صدارت کا خیر مقدم کریں گی۔
    تجزیہ

  • شنگھائی تعاون تنظیم،پاکستان کے لئے تجارتی روابط ،معاشی ترقی کیلئے ضروری

    شنگھائی تعاون تنظیم،پاکستان کے لئے تجارتی روابط ،معاشی ترقی کیلئے ضروری

    شنگھائی تعاون تنظیم کی توجہ آہستہ آہستہ رکن ممالک کے اقتصادی روابط اور ترقی کی طرف منتقل ہو رہی ہے جبکہ رکن ممالک کے ساتھ پائیدار اقتصادی تعلقات قائم کرنے کی منتقلی سے فائدہ اٹھانے کا یہ ایک اچھا موقع ہے، شنگھائی تعاون تنظیم ایک علاقائی فورم کے طور پر ابھری ہے جس کا مقصد تیزی سے عالمی اقتصادی، سماجی اور سفارتی تبدیلیوں کے درمیان تمام رکن ممالک کی تعمیر اور مضبوطی ہے جس کے نتیجے میں طاقت کا ڈھانچہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے، جہاں چین سب سے طاقتور معاشی کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر نمودار ہواہے اور عالمی اقتصادی اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے لئے اصلاحات کے لئے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہا ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام سرحدی انتظام اور سلامتی سے متعلق معمولی مسائل کو حل کرنے کے لئے عمل میں لایا گیا لیکن بعد میں اس میں توسیع کردی گئی، شنگھائی تعاون تنظیم حجم اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے اس کے ارکان دنیا کی آبادی کا تقریبا40 فیصد پر مشتمل ہیں اور ان کی جی ڈی پی 24 بلین امریکی ڈالر ہے، ان کے پاس 20 فیصد تیل اور 44 فیصد گیس کے ذخائر ہیں،سعودی عرب اور دیگر خواہش مندوں کی شمولیت سے مارکیٹ کا حجم، توانائی کے وسائل کا حصہ (تیل اور گیس)اور اقتصادی حجم میں مزید اضافہ ہوگا،یہ واحد تنظیم ہے جو چار جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک (چین، روس، بھارت اور پاکستان) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو ارکان کی میزبانی کرتی ہے، 2004 میں چینی وزیر اعظم نے ایس سی او کے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدوں کے لئے کام کریں،2005 میں چین نے اس پر مزید غور و خوض کے لیے 100 ایکشن دستاویز بھی پیش کی تھیں،2018 میں سربراہان مملکت کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ بین العلاقائی تجارت کے لیے تجارتی طریقہ کار کو آسان بنایا جائے، 2019 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں ایک بار پھر ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ اقتصادی تعاون اور تجارت بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں،2024 میں ارکان نے سربراہ مملکت کے اجلاس میں دوسری ترقیاتی حکمت عملی کی منظوری دی،اراکین نے تجارت، سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا اور سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے میں نجی شعبوں کو شامل کرنے کے لئے خصوصی پہل کی،چین اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہا ہے اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو فروغ دے رہا ہے اور مثالی طور پر آگے بڑھ رہا ہے،گزشتہ چند سالوں میں اس نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ اپنی تجارت میں اضافہ کیا ہے،س وقت چین شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے،شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے پاس شنگھائی تعاون تنظیم کی اقتصادی صلاحیت، اس کے پلیٹ فارمز اور اس کے رکن ممالک کے اقدامات سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع ہے۔

    وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کے اعداد و شمار بہت زیادہ نہیں ہیں کیونکہ پاکستان کی ازبکستان کو مجموعی برآمدات 27.91 ملین امریکی ڈالر، قازقستان کو 107.2 ملین ڈالر، تاجکستان کو 32 ملین ڈالر اور کرغزستان کو 10.6 ملین امریکی ڈالر ہیں، امپورٹ کے محاذ پر صورتحال ایک بار پھر ویسی ہی ہے،ا
    زبکستان سے پاکستان کی درآمدات 32.3 ملین امریکی ڈالر، قازقستان سے 1.9 ملین ڈالر، تاجکستان سے 202 ملین ڈالر اور کرغزستان سے 309 ملین امریکی ڈالر ہیں، روس ایک اور بہت اہم ملک ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم معماروں میں سے ایک ہے روس معروف معیشتوں اور ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے،یہ ایک سپر پاور تھی اور اب بھی بین الاقوامی معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے، بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی روس کو کل برآمدات صرف 88 ملین امریکی ڈالر ہیں اور اس کی درآمدات کی مالیت 885 ملین امریکی ڈالر ہے، تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان اور روس اپنی پریشان کن تاریخ پر قابو پانے اور اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،شنگھائی تعاون تنظیم اور چین نے دونوں ممالک کو برف پگھلانے کا موقع فراہم کیا اور اب دونوں ممالک مزید بہتری پر کام کر رہے ہیں، روس گوادر بندرگاہ کو تجارت اور رابطے کے لیے استعمال کرنے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، ان اقدامات سے تجارت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی،

    سب سے پہلے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک کی منڈیوں کا مطالعہ کرنا ہوگا، اس مقصد کے لیے پاکستان کو ان ممالک کی منڈیوں اور انتظامی ڈھانچے کا مطالعہ کرنے کے لیے مستقل ادارے قائم کرنے چاہئیں، تمام ممالک کی منڈیوں اور گورننس کے ڈھانچے کی جامع تفہیم سے پاکستان کو ایک دانشمندانہ اور معروضی پالیسی وضع کرنے میں مدد ملے گی، دوسرا یہ کہ پاکستان کو تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے جدید طریقے تلاش کرنے چاہئیں، بھارت پاکستان کا پڑوسی ملک ہے، کشیدگی ضرور ہے مگر بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر کر کے تجارت بحال ہونی چاہئے، بھارت کے ساتھ روابط کو بہتر کرنے کے لئے پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے.

    تحریر:محمد راشد

  • ایس سی اواجلاس،اور بالاخر آگیا وہ شاہکار تھا جس کا سب کو انتظار،تحریر: حنا سرور

    ایس سی اواجلاس،اور بالاخر آگیا وہ شاہکار تھا جس کا سب کو انتظار،تحریر: حنا سرور

    شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کاسربراہی اجلاس 15 اکتوبر پاکستان میں منعقد ہوگا۔یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ خطے میں اقتصادی تعاون، سیکیورٹی اور ماحولیاتی مسائل جیسے اہم امور پر بات چیت کو فروغ دے۔ ایس سی او کے اس اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے، علاقائی استحکام کو بہتر بنانے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے منصوبوں پر زور دیا جائے گا۔پاکستان اس اجلاس کے ذریعے اپنی حیثیت کو مضبوط کر سکتا ہے اور خطے میں اقتصادی تعاون اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایس سی او کے رکن ممالک دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسند جیسے مسائل پر تعاون کرتے ہیں۔

    پاکستان کو تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔اور ایس سی او اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی جو پاکستان تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تجارتی رابطوں کو بڑھا سکتا ہے اور سرمایہ کاری کے مواقع حاصل کر سکتا ہے، خاص طور پر چین اور روس جیسے بڑے معیشتوں کے ساتھ۔اور اسی ایس سی او کے ذریعے پاکستان علاقائی انفراسٹرکچر پروجیکٹس میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے جیسے کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI)، جس سے ملک کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی رابطے مضبوط ہوں گے۔اس ایس سی او کے اجلاسوں کی میزبانی اور تنظیم میں فعال کردار سے پاکستان کی عالمی سطح پر سفارتی حیثیت مضبوط ہوگی، اور اسے خطے میں ایک پل کا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ ایس سی اوکے اندر توانائی کی تقسیم اور وسائل کے استعمال کے حوالے سے تعاون کے امکانات ہیں، جس سے پاکستان کو توانائی بحران کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔اس ایس سی او کے زریعے پاکستان نہ صرف اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں مدد حاصل کر سکتا ہے بلکہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا سکتا ہے۔پیارے پاکستانیو ایس سی او کے ڈھیر سارے فوائد جاننے کے بعد آپ یہ بات تو سمجھ چکے ہوں گے کہ جیسے ہی پاکستان دشمنوں نے عالمی شنگھائی اجلاس اس بار پاکستان میں ہونے کی خبر سنی تو تمام دشمن حواس باختہ کیوں ہو گے۔کیوں اچانک ہی عمران خان نے دھرنوں جلسوں کی کال دے دی کیوں اچانک سے بلوچستان میں ماہ رنگ بلوچ ایکٹو ہو گئی کیوں خیبرپختونخواہ میں پہلے پولیس اور فوج کو آمنے سامنے کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر اچانک ہی منظور پشتین کو جرگے کے زریعے لاونچ کر دیا گیا۔۔تو میرے پیارے پاکستانیوں یہ تھی وہ پاکستان دشمنوں کی چالیں شنگھائی کانفرنس پاکستان میں منسوخ کروانے کی خاص کر چینی وزیراعظم کا دورہ منسوخ کروانے کی۔لیکن دشمنان پاکستان یہ بھول چکے تھے کہ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں۔تم کتنا ہی رستہ روکو یہ نور اندھیرے میں روشنی کی کرن نکال ہی لیتا ہے.

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی کانفرنس،دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں،شرجیل میمن