Baaghi TV

Category: سیاست

  • عمران خان کی آئی ایم ایف سے خط و کتابت،حل یا دشمنی؟

    عمران خان کی آئی ایم ایف سے خط و کتابت،حل یا دشمنی؟

    اڈیالہ جیل میں سائفر،توشہ خانہ اور دوران عدت نکاح کیس کی سزا کاٹنے والے سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر آئی ایم ایف سے رجوع کیا ہے ،ایسا تیسری بار ہوا ہے کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا،پہلے 2014 کے دھرنے کے دوران اور پھر 2022 میں عمران خان کی حکومت کی تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف سے پی ٹی آئی نے رجوع کیا تھا،عمران خان خان بار بار آئی ایم ایف سے اس وقت رجوع کرتے ہیں جب وہ خود کو نقصان میں محسوس کرتے ہیں،اور وہ اپنے فائدے کے لئے قوم کے مفادات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    نسیم زہرہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے خط و کتابت پر ،پاکستان کی انتخابی سیاست میں آئی ایم ایف کو گھیرنے کی کوشش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ایسا اقدام نہ صرف بے بنیاد اور غیر پیشہ ورانہ ہے بلکہ آئی ایم ایف کے مینڈیٹ سے بھی باہر ہے مزید یہ کہ، یہ پاکستان کو نمایاں طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے، ملک کی سنگین مالی اور اقتصادی حالت کے پیش نظر فوری طور پر درکار مالی امداد میں تاخیر ہو سکتی ہے

    امریکی فرموں کے ساتھ تحریک انصاف کا کام 2001 سے چل رہا ہے جب ایک امریکی لابنگ فرم، ایل جی ایس ایل ایل سی جس کی قیادت اسٹیفن پینے کر رہی تھی، 2024 میں، فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان (FDP) کے فیاض قریشی نے واشنگٹن ڈی سی میں پی ٹی آئی کی ہدایت پر مبینہ طو ر پر اسی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں، یہ اقدام پاکستان کو فنڈز کو "انسانی حقوق کے مسائل” سے جوڑنے کی کوششوں کے الزامات کے درمیان سامنے آیا ہے، جو انہیں بالواسطہ طور پر پی ٹی آئی کے ایجنڈے سے جوڑتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ لابنگ فرم کے ساتھ حالیہ معاہد اس وقت ہوا جب عمران خان نے امریکی حکومت کے خلاف امریکی سفارت کار ڈونلڈ لو اور جنرل باجوہ کی مبینہ سازشوں کے ذریعے اپنی حکومت کو گرانے کے الزامات لگائے۔

    پاکستان کے ممتاز ماہر سیاسیات اور تجزیہ کار فرخ سلیم نے 22 فروری 2024 کو اپنی ٹویٹ میں عمران خان کی آئی ایم ایف کے ساتھ خط و کتابت کے حوالے سے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی ہے۔ کرنسی، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو ممکنہ نقصان، اس نے عمران خان کے کسی بھی قیمت پر اقتدار کے حصول کے بارے میں بھی خطرے کی گھنٹی بجائی،

    عمران خان کے اقدامات سے ان کی قیادت اور پاکستان کے استحکام اور بین الاقوامی تعلقات پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ کسی کے حقوق کی وکالت کرنا قابل ستائش ہے، عمران خان کی ذاتی اور قومی مفادات میں فرق کرنے میں ناکامی ملک کی فلاح کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔عمران خان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذاتی عزائم اور محاذ آرائی سے بالاتر ہو کر پاکستان کی بھلائی کو ترجیح دیں۔

  • انتقامی سیاست کا باب بند کرنا ضروری، تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتقامی سیاست کا باب بند کرنا ضروری، تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ کہانی آج کی نہیں کئی سال پہلے کی ہے انتخابات میں دھاندلی قوم کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے، سینٹ کے اجلاس میں سینیٹر عرفان صدیقی، سینیٹر مشاہد حسین نے بھی اس کا اظہار کیا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب سیاسی قائدین ہی دے سکتے ہیں،اقتدار اور اختیارات کے سوداگر اس میں خود ملوث ہیں، سینیٹر عرفان صدیقی نے 2018ء اور اب 2024ء میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا ذکر کیا اور کے پی کے انتخابات کا بھی ذکر کیونکہ ایک جماعت پی ٹی آئی دھاندلی زدہ انتخابات تو قرار دیتی ہے مگر کے پی کے انتخابات کو شفاف قرار دیتی ہے، تاہم خدا نہ کرے قوم انتشار کی سیاست کے راستوں پر چل کر ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جائے جو پہلے ہی معیشت اور دیگر معاشرتی مسائل کی وجہ سے گرداب میں ہے،تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی جس میں چین بھی شامل ہے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اسلامی جمہوریہ میں عدم استحکام نہیں دیکھنا چاہتے،اب چونکہ مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں جاری انتشار کو روکنے کے لئے اپوزیشن سے انتقامی سیاست کو دفن کر کے اس ملک اور عوام کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں کیوںکہ سیاست میں تشدد ہٹلر کا مذہب تھا، ہٹلر اور ہلاکو خان کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اسلامی راستوں کا انتخاب کیا جائے،

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف ایک زیرک سیاستدان ہیں جو کچھ مسلم لیگ ن کے ساتھ بطور جماعت کیا گیا وہ ایک الگ ہی داستان ہے لیکن یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سیاست میں اقتدار کے لئے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے نوازشریف نام کے بھی شریف ہیں اور ایک شریف انسان بھی ہیں،نوازشریف نے موجودہ وقت میں جب ملک و قوم معیشت کی وجہ سے انتہائی نازک اور تکلیف دہ حالات سے گزر رہے ہیں ملک میں جاری نفرت کی فضا کو کم کرنے کے لئے جو کردار ایک بار پھر ادا کیا اور برداشت کیا وہ قابل تحسین ہے تاہم ملکی سیاست میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے تاج و تخت کے حصول کی خاطر بادشاہ اپنے باپ بیٹوں اور بھائیوں تک کا خیال نہیں کرتے، مریم نوازشریف چونکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ بننے جا رہی ہیں ،انہیں پنجاب میں گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا،خوشامدی ٹولے سے بچنا ہوگا قوموں کو مایوس کرنے والے کو تاریخ کے صفحات جگہ نہیں دیتے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر عام آدمی کے لئے ترقی کا سفر شروع کریں۔

  • لیڈر شپ کا فقدان،مسائل کی اصل وجہ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    لیڈر شپ کا فقدان،مسائل کی اصل وجہ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    فوج اور عدلیہ دنیا میں کسی بھی ریاست کے حتمی ستون ہوتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان دونوں اداروں کا ہر معاملہ کو لے کر بے دریغ استعمال ریاست کو کمزر کرنے کے مترادف ہے ۔ ان دو اہم ریاستی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا ، جلسے ، جلوسوں میں موضوع بحث بنا کر عالمی دنیاکو ہم اپنے ملک کا کیسا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ ہم ایسی چنگاریاں چاروں طرف پھیلا رہے ہیں جس سے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ اصل میں جو اس وقت ملک میں کہرام مچا ہے اس کہرام کی وجہ سیاسی جماعتیں ہیں سیاسی جماعتوں میں یزیدی اور حسینی ٹولے موجود ہیں۔ اقتدار اور اختیارات نے انہیں نیم پاگل بنا دیا ہے۔ایک دوسرے کو زچ کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

    یاد رکھیے عالمی سطح پر سیاسی منظر نامے بدل رہے ہیں جمہوریت کا پنپ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے سیاسی لیڈر شپ کو اُس کی مقبولیت سے محروم کرنے کا نقصان ملک و قوم کا ہوتا ہے نہ ملک ترقی کرتا ہے او رنہ عوام کے بنیادی مسائل حل ہوتے ہیں۔ نہ جمہوریت مستحکم ہوتی ہے جن سیاسی لیڈروں کی اپنی ہی جماعتوں میں یزیدی ٹولے موجود ہیں اور اپنے قائدین کے مخبر ہوں وہ قائدین اپنی مقبولیت کھو بیٹھتے ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت میں مخبروں کی لائن لگی ہے۔
    بقول شاعر نہ لو انتقام میرے ساتھ ساتھ چل کے۔
    ہماری سیاست اور جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ ایسے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جاتا ہے جن کو پاکستان او رعوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہی نہیں۔ صرف دھواں دھار تقریر کرنے سے سیاستدان نہیں کہلایا جا سکتا ۔ ایسے لوگ مخبر او ر خوشامدی کہلو اسکتے ہیں،سیاستدان نہیں۔

  • کمشنر راولپنڈی کا انتخابی دھاندلی کا اعتراف

    کمشنر راولپنڈی کا انتخابی دھاندلی کا اعتراف

    واقعات کے ایک چونکا دینے والے موڑ میں، کمشنر راولپنڈی نے انتخابات کے ایک ہفتے بعد، انتخابی دھاندلی میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ، انہوں نے نہ صرف اپنے ماتحتوں کو اس طرح کی بددیانتی میں ملوث ہونے کی ہدایت دینے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا بلکہ چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر بھی سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ پھانسی کے مستحق ہیں، انہیں پھانسی دی جائے،

    کمشنر راولپنڈی کے انکشافات کے بعد کئی سوالات سامنے آتے ہیں،ان انکشافات سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہو گا؟ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کو اس تنازع میں کیوں الجھایا گیا؟یہ واضح ہے کہ انتخابی عمل میں فارم 45،47 یا 48 کے اجرا میں عدلیہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا، نہ ہی عدالتی عملے کی انتخابات میں ڈیوٹی لگائی جاتی اور نہ ہی ان سے گنتی کروائی جاتی ، ایسے میں چیف جسٹس پر تو الزام بے بنیاد لگتا ہے، اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کمشنر راولپنڈی کو دھاندلی کا حکم دے اور دوسرا انکار کر دے تو چیف الیکشن کمشنر کو حکم نہ ماننے پر کمشنر کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس الزام میں قانونی میرٹ کا فقدان ہے، کیونکہ چیف الیکشن کمشنر راولپنڈی کے کمشنر پر کوئی اختیار نہیں

    اگرچہ یہ معلوم ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کمشنر راولپنڈی کی جانب سے نامزد کردہ دو افراد کی مخالفت کرتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ راولپنڈی کے کمشنر ان سے استعفیٰ اور سزا کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں،ذرائع کے مطابق کمشنر راولپنڈی ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) کا حصہ نہیں ہیں اور انہوں نے مونس الٰہی کے ذریعے ترقیاں حاصل کیں، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے انہیں ترقیاں فراہم کیں۔ وہ 8 مارچ 2024 کو ریٹائر ہونے والے تھے۔

    اس افسوسناک کہانی نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو داغدار کیا ہے، اور راولپنڈی کے کمشنر کے اس دعوے کی کہ اس نے خودکشی کا سوچا تھا، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے

    فارم 45 اور فارم 47 کے بارے میں جاری تنازعہ بھی کمیشن کی طرف سے ایک جامع انکوائری کی ضمانت دیتا ہے۔ کمشنر کو چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت فراہم کرنا ہوں گے، بصورت دیگر اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

    مزید برآں، سیاسی جماعتوں کو حکومت بنانے کے لیے ایک ڈیڈ لائن دی جانی چاہیے، اور آزاد امیدواروں کو ایک سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے کے لیے ٹائم فریم دیا جانا چاہیے۔ اس عمل میں تاخیر سے صرف غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے نصف سے زیادہ دوسرے علاقوں میں لڑائی سے بچنے کے لیے رفح کی طرف گئی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گاہیں اور وسیع خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مصر کو لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کا خدشہ ہے جنہیں شاید کبھی واپس جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
    مصر نے رفح پر حملے کے امکان پر کہا ہے کہ اگر اس نے رفح میں فوج بھیجی تو وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو معطل کر دے گا، اس سے محصور علاقے میں سپلائی روٹ بند ہو جائے گا۔ رفح غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد پر پھیلا ہوا ہے۔

    تل ابیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس بریگیڈ نے خود کو رفح میں رکھا ہوا ہے اور وہ اسرائیلی فوج پر نہ صرف فضائی حملے کر سکتے ہیں بلکہ اسے ایک زمینی اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔یہ صورتحال کسی اور ملک میں حماس اسرائیل جنگ کو بڑھا سکتی ہے۔ اپنے ملک سے فرار ہونے والے پھنسے ہوئے فلسطینیوں کو اسرائیل سینائی میں دھکیل سکتا ہے، جس سے مصر ان دس لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کو سنبھالنے پر مجبور ہو گا جو ان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خزانے پر معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

    مصر کو 40 ٹینکوں اور بکتر بند اہلکاروں کو غزہ کی سرحد پر منتقل کرنے پر مجبور کرنا پڑا تاکہ اس کی سرحدوں کے اندر کسی بھی منفی جھڑپ سے اس کے علاقے کی حفاظت کی جا سکے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل پہلے ہی رفح پر فضائی حملوں میں روزانہ 100 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر رہا ہے۔ جگہ کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ رفح کے 64 مربع کلومیٹر میں سے ہر ایک میں 22,000 لوگوں کا ہجوم ہے۔ یہ علاقہ پناہ گزینوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں جن سے صحت کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر ہیپاٹائٹس اے کا پھیلنا،خارش اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں، مناسب بیت الخلاء اور نہانے کی سہولیات کے فقدان سے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں

    برطانیہ اور امریکہ نے تل ابیب پر زمینی حملے کے لیے دباؤ ڈالا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ یہ حماس کو ختم کرنا اور ان کے اڈے کو تباہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اس سارے عمل میں غائب ہے، وہ کہاں ہے؟

  • سیاسی جوڑ توڑ اور مریم نواز کی ذمہ داری، تجزیہ: شہزادقریشی

    سیاسی جوڑ توڑ اور مریم نواز کی ذمہ داری، تجزیہ: شہزادقریشی

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    ملک میں ایک مخلوط حکومت کے لئے سیاسی جماعتیں جوڑ توڑ میں مصروف ہیں تاہم مخلوط حکومت کو ایک بھرپور مزاحمت کرنے والی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا، پیپلز پارٹی آدھا تیتر آدھا بٹیر والی سیاست کررہی ہے،وفاقی کابینہ میں تادم تحریر شمولیت سے انکاری ہے، آئینی عہدے لینے کا اعلان کرچکی ہے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف کو ووٹ بھی دینے کا اعلان کرچکی ہے،مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون ہیں جو وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد ہوئی ہیں بطور وزیراعلیٰ پنجاب ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لئے پنجاب میں گڈ گورننس کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں،

    پنجاب کی اکثریت کا روزانہ سول انتظامیہ اور پولیس سے واسطہ پڑتا ہے اگر صوبے میں میرا ڈی پی او میرا سی پی او میرا ڈپٹی کمشنر‘ کمشنر کے روایتی تبادلے کروانے والے ایم پی اے اور ایم این اے کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان کی سفارشات پر عمل کریں گی تو پھر پنجاب میں گڈ گورننس پر سوالیہ نشان ہوگا جبکہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت بھی نہیں ہوگی، صوبے کے دو افسران چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو فری ہینڈ دیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق پنجاب بھر میں تعیناتیاں کریں اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی مقررہ کردہ ٹیم کو ہر ماہ گڈ گورننس کی رپورٹ دیں،یکے بعد دیگرے پنجاب میں حکومتوں کی ناکامی انہی سفارشی ایم پی اے اور ایم این اے کی بدولت ہوئی، لاکھوں کا نذرانہ دے کر اپنی من پسند کی جگہ تبادلہ کروا کر مسلم لیگ ن اور وزیراعلیٰ کی گڈ گورننس کے لئے ایک سوالیہ نشان ہوں گے، نامزد وزیر اعلی کو صوبے کی سول انتظامیہ اور پولیس افسران کو عوام کی خدمت اور ہر خواص و عام کے لئے دروازے کھلے رکھنے اور فرائض کی کما حقہ ادائیگی کاپابند بنانا ہوگا، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں اگر صوبے کے افسران دن گیارہ بجے دفتر پہنچیں گے تو پنجاب میں گڈ گورننس کیسے قائم ہوگی۔

  • معاشی، معاشرتی،اخلاقی،سیاسی زوال کیوں؟ کبھی سوچا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی، معاشرتی،اخلاقی،سیاسی زوال کیوں؟ کبھی سوچا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم پچیس کروڑ عوام شاہ سے لے کر فقیر تک ملکی حالات کو لے کر پریشان رہتے ہیں اور اپنے اوپر آنے والے زوال کی وجوہات کی تلاش میں رہتے ہیں اور یہ زوال مختلف شکلوں میں آتا ہے ۔کبھی معاشی زوال، کبھی معاشرتی زوال ، کبھی اخلاقی زوال، کبھی سیاسی زوال، حیرت ہے آخر ہم سے کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے کہ ہم پر ہی زوال آتاہے۔ منبر و محراب سے دعائوں کی صدائیں بھی سنائی دیتی ہیں پھر بھی زوال۔ تلاش کرنے پر ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے من حیث القوم خدا اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کی حد تو کراس نہیں کر لی؟ ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں۔ کیا واقعی ہم خدا پاک کے بنائے قانون پر عمل کررہے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ہر کسی زوال کے ہم مستحق ہیں۔

    یاد رکھیئے! سرزمین پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اللہ ہی اس کا حاکم حقیقی ہے۔ کمال ہے اس زمین پر بسنے والے چند جاگیرداروں ، وڈیروں، صنعتکاروں، دولتمندوں نے خدا کی مخلوق کی زندگیوں کو عذاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ اقتدار اور اختیارات کی دوڑ میں اللہ تعالیٰ کے بنائے قانون کو پس پشت ڈال کر اپنی موت سے بے خبر انسانوں نے خدا کی زمین پر اپنے مرضی کے قانون نافذ کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ حد کراس کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس وقت ہمارا داخلی بحران، قومی معاملات ذاتیات اور خاندانوں پر مبنی سیاستدانوں نے پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات، اختیارات اور اقتدار کی جنگ شروع کر دی ہے۔

    حیرت ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو صوبائی سطح پر حکومتیں بنانے کا مینڈیٹ عوام نے دے دیا ہے حکومتیں بنائیں مخلوق خدا اور خدا کی ملکیت زمین کی خدمت کریں عوام کو درپیش مسائل اور ریاستی مسائل کو حل کریں عوام نے تو الیکشن میں سب کو برابر پیار دیا اب کس سچے پیار کی کی تلاش میں ہیں؟

  • تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کی غلطی

    تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کی غلطی

    5 فروری 2023 کو ایک بلاگ میں، میں ان سب سے پہلے لوگوں میں شامل تھی جس نے تحریک انصاف کی جانب سے آزاد امیدواروں کی حمایت کے لیے "پراکسیز” کے استعمال کے امکان کی اطلاع دی تھی کہ تحریک انصاف کے آزاد امیدوار ممکنہ طور پر مجلس وحدت المسلمین یاجے یو پی شیرانی میں شامل ہو ں گے۔ چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس نے آزاد امیدواروں کی شاندار برتری سے قبل عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی۔ اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ تحریک انصاف کے امیدوار ایم ڈبلیو ایم میں شامل ہوں گے، ایم ڈبلیو ایم قومی اسمبلی کی ایک نشست تحریک انصاف کی حمایت سے جیتی ہے

    تحریک انصاف کے آزاد امیدوار وں کی بڑی تعداد الیکشن جیت چکی ہے، خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کو سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے تا ہم تحریک انصاف نے سبق نہیں سیکھا ، تحریک انصاف مسلسل غلطیاں کر رہی، اور انکی غلطیوں کی فہرست میں اضافہ ہو رہا ہے،موجودہ پارلیمان کے مطابق مرکز میں حکومت بنانے کے لئے 169 سیٹوں کی ضرورت ہے،انتخابی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار، ن لیگ،پیپلز پارٹی کوئی بھی ایک دوسرے سے اتحاد کئے بغیر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،آزاد امیدواروں کا کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لئے نتائج کے بعد 72 گھنٹےکا وقت ہوتا ہے، تحریک انصاف کے جو آزاد امیدوار ہیں انکے لئے راستے کھلے ہیں، وہ کسی بھی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں، سابقہ پارٹی کے ساتھ چلنا انکی کوئی قانونی مجبوری نہیں،
    دوم، عمران خان جو اڈیالہ جیل میں ہیں انکی یہ ناقص سیاسی ذہانت کی عکاسی ہے کہ وہ کسی بھی دوسری جماعت سے ہاتھ ملانے سے انکار کر رہے ہیں جو الیکشن جیت چکی ہے، حالانکہ یہ وقت کی ضرورت ہے،ملک کی بھلائی کے لئے عمران خان کو اتحاد کر نا چاہئے
    سوم،تحریک انصاف کو قومی دھارے ، حکومت میں رہنے، مرکز میں مضبوط اتحاد بنانے، اور صوبوں میں مضبوط قدم رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی میں شامل ہونا چاہیے تھا ، تحریک انصاف کو جن سیٹوں‌پر لگتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ، ان پر دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کر سکتے ہیں جہاں سے ان سے مینڈیٹ چھینا گیا،

    تحریک انصاف کی طرح مسلم لیگ (ن) کے پاس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کوئی معاشی وژن نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے متعین کردہ خطوط پر عمل کرتے ہوئے بیک وقت آمدنی پیدا کرنا اور سیکیورٹی استحکام کے ساتھ برآمدات کے لیے منڈیوں کو پھیلانا آنے والی حکومت کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔

    پیپلز پارٹی کیوں؟ وجہ ظاہر ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں عمر کی اس حد تک جا پہنچے کہ انتخابات میں یہ ان کا آخری دور ہوسکتا ہے۔ مریم نواز اب بھی کسی بھی سنجیدہ انتظامی عہدے پر ایک غیر تجربہ شدہ ہیں، بلاول بھٹو زرداری چالیس کی دہائی کے اوائل میں ایک نوجوان ہیں اور ان کے آگے برسوں کی سیاست ہے۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے وہ پہلے ہی اپنے آپ کو شاندار طریقے سے اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ دوم، آصف زرداری اپنے مستقبل کے لیے اپنے دور کو کامیاب بنانے کے لیے بھر پور کوشش و محنت کریں گے، جس میں مالیاتی پہلو سے نمٹنا بھی شامل ہے۔

  • انتخابات ہو گئے،وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مقابلہ جاری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات ہو گئے،وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مقابلہ جاری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    قومی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ سیاسی جماعتوں اورمذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواروں جن کو پی ٹی آئی کی حمایت تھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایک بہت بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی ہے، نوازشریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنتے دکھائی دے رہے ہیں یا نہیں جبکہ تادم تحریر بلاول بھٹو بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے لئے دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ آصف علی زرداری آزاد امیدواروں سے رابطے کرر ہے ہیں تاہم نوازشریف نے پاکستان کو مشکل سے نکالنے کے لئے سب کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے آزاد امیدواروں کو بھی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی ذمہ داری صرف میری اور اسحاق ڈار کی نہیں سب پر ذمہ داری ہے۔

    امریکہ میں بھی صدارتی انتخابات کا وقت قریب ہے امریکی عوام بے چین ہے اور وقت کا انتظار کر رہے ہیں بائیڈن کا دور مہنگائی اور جنگوں کا غلبہ رہا۔ بائیڈن اور ٹرمپ ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہیں امریکہ اور امریکی عوام کے مفادات کے لئے دونوں میں کون فیورٹ ہے اس کا پوری دنیا کو انتظار ہے تاہم امریکی عوام کا اور صدارتی امیدواروں کا انحصار گیتوں پر نہیں منشور پر ہے ملک کی تمام جماعتوں نے منشور دیا مگر کیا کہنے پاکستان قوم کے منشور پڑھنے کے بجائے انتخابی گیتوں پر انحصار کیا کس جماعت کا گیت اور فنکار اچھا ہے تاہم ہماری انتخابی مہم کا دار و مدار منشور نہیں گیتوں پر رہا ہے۔ جو قوم کئی سالوں سے بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ سے ذہنی و مالی اذیت کا شکار ہے وہ الیکشن میں اگر منشور کے بجائے گیتوں پر انحصار کرے گی تو پھر ایسی قوم کا خدا ہی حافظ ہے ۔

  • انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات،پہلے مشکلات اور پھر امیدیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عین الیکشن کے وقت الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات کا اٹھنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شفاف الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے پریزائیڈنگ آفیسرز سے حلف اٹھانے کے بعد الیکشن کے عمل کا آغاز ایک احسن اقدام ہے۔ ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے نعروں سے فضا گونج رہی ہے مگر ملک کی ترقی آسان نہیں ہے۔ جب تک ملکی وسائل، تعلیم پر خصوصی توجہ نہیں دی جائے گی ترقی ممکن نہیں۔

    پاکستان زرعی ملک ہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے اس وقت ملک کی بظاہر تین بڑی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، جبکہ مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی، تحریک لبیک، جمعیت علمائے پاکستان، تمام جماعتوں کے حامی اپنے قائدین کو معاشی بحران سے دوچار پاکستان کو آخری امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آخری امید سے مرادمعیشت کو مستحکم کرنے والا قائد، پاک فوج اور جملہ اداروں کا کردار ملکی سلامتی ملکی بقا پر مرکوز ہے جس کا بھرپور عملی مظاہرہ ایران سے ہونے والی دراندازی پر منہ توڑ جواب دے کر کیا گیا۔ آٹھ فروری کے بعد منتخب ہونے والی سیاسی جماعت کو ملکی معیشت پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے عوام مہنگائی ، نوجوان بیروزگاری اور دیگر معاشرتی مسائل میں مبتلا ہیں ان کو مسائل سے نکالنے کی ذمہ داری نئی حکومت پر ہوگی۔ آیئے نئے وزیراعظم عہد کریں، ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کا عہد کریں۔