Baaghi TV

Category: سیاست

  • کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے تحریک انصاف کے اندر افراتفری اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، تحریک انصاف میں تقسیم در تقسیم ہونے کے اشارے مل رہے ہیں، بھٹو جب جیل میں تھے تو بڑی بڑی قدآور شخصیات نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا،پیپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی کچھ ایسی صورتحال سے تحریک انصاف گزر رہی ہے،تحریک انصاف کا دور حکومت کوئی حیران کن نہیں تھا تبدیلی کا نعرہ اور احتساب کے گرد تحریک انصاف کا دور حکومت صرف اور صرف نوازشریف کے گرد گھومتا رہا ،نوازشریف ان کی بیٹی مریم نوازان کے سمدھی سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر کو کچلا گیا یہ احتساب نہیں بلکہ صرف ایک خاندان کے خلاف انتقام تھا،سینیٹر اسحاق ڈار کے تو ذاتی گھر پر قبضہ کر لیا گیا تحریک انصاف تسلیم کرے کہ ان کے دور حکومت میں عام آدمی کی زندگی قابل رحم ہو چکی تھی احتساب اور انتقام کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا،

    تحریک انصاف کے دورمیں سفارتی سطح پر بری طرح ناکامی ہوئی، کشمیری مسلمانوں پر بھارتی ظلم کی ایسی ایسی کہانیاں ہیں جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ،تحریک انصاف کے دور میں کشمیری بدترین لاک ڈائون کا شکار رہے ہیں عمران خان بھارت پر دبائو ڈلوانے میں ناکام رہے، کوئی بھی حکومت اگر عام آدمی کو زندہ رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتی تو اسے حکومت نہیں کہا جا سکتا، آج کی مخلوط حکومت نے بھی بجٹ میں عادمی کے لئے کوئی پلان نہیں دیا غریب آدمی کے مسائل پر مٹی ڈال دی گئی ہے،گزشتہ 75 سالوں میں قوم اور پاکستان بطور ریاست وعدوں اور تقریروں پر زندہ ہیں محض سبز باغ ہیں جن کے برگ و بار پر دھول اور سیاہی کی ایک موٹی تہہ جمتے جمتے نظر کا دھوکہ بن چکی ہے راہزن رہنمائوں کا بہروپ دھار چکے ہیں،انصاف کا لفظ فقط سننے کی حد تک ہے جب کسی معاشرے میں انصاف اٹھ جاتا ہے وہ معاشرہ ایک مردہ ڈھانچے کی مثال ہوتا ہے، سیاست کی سرکس میں ملک و قوم کو ایک سے بڑھ کر ایک مداری نصیب ہوا ان مداریوں کی وجہ سے آج ملک و قو م کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا کہ امریکی کانگریس میں وطن عزیز کے نظام پر تحریک پیش ہوئی بلاشبہ ہم ترقی پذیر ہیں مگر کسی طاقتور ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری آزاد ریاست کیخلاف تحریکیں پاس کرتا پھرے،یہ دن بھی سیاسی مداریوں نے ہی قوم کو دکھایا۔ ملک کے عزت، وقار کا کچھ تو خیال کریں۔

  • عزم استحکام کی مخالفت کرنیوالے کس کی خدمت کر رہے ؟تجزیہ ،شہزاد قریشی

    عزم استحکام کی مخالفت کرنیوالے کس کی خدمت کر رہے ؟تجزیہ ،شہزاد قریشی

    ملکی و قومی سلامتی کے پیش نظر جب سے عزم استحکام کا ذکر ہوا ہمارے کچھ سیاستدانوں نے اپنے ہی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ہے جسے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے آپریشن عزم استحکام کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے، ملک و قوم کی سلامتی کے حوالے سے نوازشریف کے فیصلہ کو درست قرار دیا جا سکتا ہے دوسری طرف سوشل میڈیا اور کچھ دانشوروں کو بھی اس آپریشن عزم استحکام پر تنقید کا موقع مل گیا ہے ،دنیا بھرکے ممالک کے اپنے داخلی و خارجی ضوابط ہوتے ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کا میڈیا ضوابط کار کے مطابق عمل کرتا ہے مگر ہمارا میڈیا معاشرتی قانونی و اخلاقی حدود پھلانگ کر بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال چکا ہے سلامتی امور اور خارجہ سطح کے معاملات اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ اس موضوع پر بولنے اور لکھنے سے قبل سو بار سوچنا پڑتا ہے ملکی و قومی سلامتی کو مدنظر رکھ کر بولنا اور لکھنا پڑتا ہے، ملک دشمن طاقتوں نے پاکستان کو چاروں اطراف سے ہر محاذ پر گھیر رکھا ہے ایسے نازک موقع پر پاک افواج اور جملہ اداروں کی کردار کشی کرنے والے کون سی اور کس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟

    وطن عزیز میں گزشتہ چند ماہ سے دہشت گردوں کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں بالخصوص دہشت گردوں کے نشانے پر دو صوبے ہیں بلوچستان اور کے پی کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں دہشت گرد حملہ کر کے افغانستان چلے جاتے ہیں افغانستان میں ان کی پشت پناہی بھارت کی خفیہ ایجنسی راکرتی ہے پاکستان میں چین کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے سب سے بڑا منصوبہ سی پیک ہے جس پر کبھی کام رک جاتا ہے اور کبھی شروع ہو جاتا ہے سی پیک منصوبہ پاکستان کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے چین کے بعد کئی ممالک سرمایہ کاری کرنے پر رضامند ہیں 2040ء میں چین سی پیک کےتحت ٹرین کا نیا نظام قائم کرے گا، ملک دشمنوں کو یہ منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا پاک فوج اور جملہ ادارے ہر قیمت پر اس منصوبے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں چینی انجینئروں اور ماہرین کا دفاع بھی پاکستان نے کرنا ہے، اس منصوبے سے وطن عزیز کی معیشت مستحکم ہوگی تو عوام خوشحال ہونگے لہٰذا ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے آپریشن عزم استحکام ہی آپشن ہے کوئی دوسرا راستہ نہیں، ملک و قوم کی خدمت کا نعرہ لگانے والے سیاستدان موجودہ حالات جس سے پاکستان اور عوام دونوں سفر کر رہے ہیں آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے وہ کس کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں؟

  • غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے دور حکومت سے لے کر موجودہ مخلوط حکومت تک غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے چلا اٹھے ہیں، ان کی حکومتوں کے دور میں ان کے نمائندے ٹاک شوز میں مہنگائی کو اپنے پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کی باتوں میں درد اور تکلیف نہیں ہے جس کی اذیت کا شکار عام انسان ہو رہے ہیں،مہنگائی کے وار سیاست پر براجمان دولت مندوں کے لئے محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں، عام آدمی مہنگائی کے تابڑ توڑ حملوں سے زخمی ہو رہے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں، عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی اب بجلی کے بل دیکھ کر اذیت ناک عذاب میں کراہنے لگی ہے ،موجودہ بجٹ کوغریب کش بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے غریب دوست بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،موجودہ بجٹ محض اعداد و شمار کے ہیرپھیر اور نئے ٹیکسوں کے گورکھ دھندہ کے سواکچھ نہیں،

    سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی متحرک
    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی عام آدمی کا یہی حال تھا اور آج کی مخلوط حکومت میں وہی پرانا جال ہے کھلاڑی تبدیل ہو ئے ہیں، میری عمر کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہوگا 1985ء میں نوازشریف نے تعمیر پاکستان کا نعرہ لگایا تھا ،پنجاب اور مرکز میں بلاتفریق عوام کی خدمت کی گئی کھیت سے منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر دیہات میں سرکاری سکولوں اور کالجوں کی تعمیر ترقی کے وہ سنگ میل تھے جنہوں نے عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی، پھر نواشریف کے وزارت عظمیٰ کے دور میں ملک میں صنعتی پیداوار، نوجوانوں کو آسان قرضے ، پیلی ٹیکسی اور کسانوں کو ٹریکٹر دیئے، نوازشریف کے ہم رکاب آج کے وزیر خارجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے آج صوبہ پنجاب میں نوازشریف کی بیٹی نے بطور وزیراعلیٰ عوام کی حقیقی خدمت کا بیڑا اٹھارکھاہے پنجاب کی حد تک صوبے کیےعوام کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف نظر آرہی ہیں، سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے اس وقت سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی قیادت کے اقدامات کو عوام تک پہنچا نے اور مخالفین کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن کے نام نہاد اکابرین وزیروں،مشیروں کے جھنڈے گاڑیوں پر سجا کر عوام سے دور ہو گئے بلکہ اپنی جماعت کا دفاع کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں، نوازشریف کا ماضی حال مستقبل وطن عزیز کی ترقی کے لئے وقف ہے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ان کے بدترین مخالفین بھی اعتراف کر رہے ہیں آخر کیا مصلحت حائل ہے کہ ان کے ٹکٹ پر ایوانوں میں براجمان ہونے والے نام نہاد رہنما خاموش ہیں؟

  • عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام کسی ملک کے خلاف ہے نہ بے گناہ شہریوں کے خلاف ،یہ اُن کے خلاف ہے جو پاکستان کے عام شہریوں اور پاکستان کو بطور ریاست کمزور کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں ، پاکستان کے عوام، مسلح افواج ،پولیس اور جملہ اداروں نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے ،جبکہ بھارت پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے میں دنیا میں افوا ہ سازی کا کام کرتا رہا ہے، ماضی کے ان تمام واقعات کی قوم اور دنیا گواہ ہے، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج اور جملہ اداروں نے ملکی بقا اور سلامتی کے پیش نظر بلوچستان سے ٹی ٹی پی کی دفاعی شوریٰ کے سربراہ کو بھی گرفتار کیا ہے جس کی پشت پناہی بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کررہی ہے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانہ ’’ را ‘‘ کا د فترہے گرفتار کمانڈر نےکئی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، ان حالات میں کیا پاک فوج اور جملہ اداے پاکستان اور بے گناہ عوام کو ان دہشت گردوں کے حوالے کردیں ؟ اس کا واحد حل ضرب عضب کی طرز پر آپریشن عزم استحکام ہے، بلوچستان سے ٹی ٹی پی کے کمانڈر کی گرفتاری اور آپریشن عزم استحکام پر پاک فوج ا ور جملہ اداروں پر زہر افشانی محبان وطن کو افسردہ کرگئی،مولانا فضل الرحمان ، محمود خان اچکزئی اور تحریک انصاف سے بھی صبر نہ ہوا انہوں نے ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر زہر افشانی شروع کردی،کیا پاک فوج اور جملہ ادارے بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے دیں ؟ اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملکی معیشت مستحکم ہوئی تھی اور اب آپریشن عزم استحکام سے بھی ملک میں امن ہوگا اور معیشت بھی مستحکم ہوگی،حیرت ہے ہماری سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ ہائوس میں موجود ایسے افراد جو اقتدار کے مزے پاکستان میں لوٹتے ہیں اور جب بات ملکی بقا اور سلامتی کی آجائے تو پاکستان دشمنوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں اور اپنی ہی فوج اور جملہ اداروں پر طرح طرح کے لیبل چسپاں کرتے ہیں ملکی سلامتی کے اداروں کا وقارمجروح کرتے ہیں ان نام نہاد سیاستدانوں کو کس نام سے پکاروں فیصلہ عوام کریں ؟

  • امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے اراکین نے بابنگ دہل یہ اقرار کر لیا ہے کہ ان کی تمام سیاسی جدوجہد کا محور صرف اور صرف صہیونی پالیسیوں اور بھارتی لابیوں کی حمایت اور اس کے اثر و رسوخ کے ذریعے اقتدار کا حصول ہے

    قومی اسمبلی میں جمعۃ المبارک کو جو قرارداد پیش کی گئی اس کے اہم نکاتوں میں سے سب سے اہم نکات امریکی کانگرس سے یہ مطالبہ بھی تھا کہ وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے بہیمانہ مظالم، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد کے خلاف بھی اپنا موقف اختیار کرے اور اس کی مذمت کرے

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی کانگرس کے بعض اراکین کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان میں منعقدہ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور یہ قرارداد امریکی کانگرس سے منظور کرانے میں پاکستان دشمن قوتیں بالخصوص صیہونی اور بھارتی لابی اور مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم اراکین تھے جن کے ان دونوں لابیوں سے قریبی تعلقات ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بانی مخصوص سیاسی جماعت کی مکمل آشیرباد حاصل ہے

    افسوس ناک بات یہ ہے کہ مخصوص سیاسی جماعت کے حامیوں نے آج جس قرارداد کو پھاڑ کر ریزہ ریزہ کیا وہ قرارداد دراصل غزہ، مقبوضہ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت میں پیش کی گئی تھی

    یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مخصوص سیاسی جماعت کا یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ وہ صیہونی طاقتوں اور بھارتی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اس قرارداد کو پھاڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔؟

    یہاں یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ کیا وہ اسرائیل اور بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔۔؟

    افسوس ان نام نہاد مذہبی جماعتوں اور اسلام کا نعرہ بلند کرنے والی شخصیات پر بھی ہے جو آج مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر مظلوم مسلمانوں کے خلاف صف آرا نظر آئیں-

    یہ ایک تاریخی سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے – کیا اقتدار کی ہوس نے مخصوص سیاسی جماعت کو اندھا گونگا اور بہرا کر دیا ہے ۔۔۔۔؟

    کیا ایبسولوٹلی ناٹ(Absolutely Not) کا نعرہ اب اقتدار کے حصول کے لیے ایبسولیوٹلی یس(Absolutely Yes) میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔؟۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • ہم زوال پذیر کیوں ، کبھی سوچا؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    ہم زوال پذیر کیوں ، کبھی سوچا؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں ملکی تاریخ کا آئیے مل کر سوچیں ہم کیوں زوال پذیر ہیں ہماری معیشت کیوں سال ہا سال مستحکم نہیں ہوتی؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ کہاں شگاف ہے کہاں غلطیاں ہیں کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے اور ایسا کون سا گناہ ہے سختیاں پریشانیاں ختم ہونے کو نہیں آتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں مگر اسلام کی الف پر بھی عمل نہیں کرتے؟ یاد رکھیئے پروردگار کا قانون ہے خداپاک کا قانون قرآن پاک کی صورت میں موجود ہے کہیں ہم قرآن پاک اور سیرت النبی کا مطالعہ کرنا اور اس پر عمل کرنا تو نہیں چھوڑ گئے؟ کہیں ہم موت اور اس کے بعد روز محشر میں خدا پاک کے حضور اپنے اعمال کے ساتھ کھڑا ہونا تو نہیں بھول گئے؟ دوسری جانب رخ کریں تو بابائے قوم محمد علی جناح نے مجلس قانون ساز میں اپنے پہلے خطاب میں جن قباحتوں سے باخبر کیا تھا ہم ان قباحتوں پر عمل پیرا ہیں بابائے قوم کا خطاب اچھے دنوں میں نصاب میں پڑھایا جاتا تھا اب وہ نہیں پڑھایا جاتا۔ 25کروڑ عوام کو سیاستدان اور مذہبی جماعتیں جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بے وقوف نہیں بناسکتیں عوام کسی ایسے شخص پر اعتبار نہیں کرتے جو ریاست‘ ریاستی اداروں اور عوام کا وفادار نہ ہو اب تو پچیس کروڑ عوام کا سیاسی و مذہبی جماعتوں پر اعتماد اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے اب تو ملک کی بے بس مجبور لاوارث اور مظلوم عوام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو کوستے سنے گئے ہیں کہ ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے ہمارا ایک طوفاں جب پہنچا لب ساحل تو کیا ہوگا یہ سوچو تم۔

    پروردگار کے قانون سے دوری اور بابائے قوم کے فرمودات سے روگردانی ایسے میں اس کا انت اور نتیجہ کیا برآمد ہوسکتا ہے اسے جاننے کے لئے کسی عقل افلاطون کی ضرورت نہیں دیوار پر لکھا صاف نظر آرہا ہے۔

  • امریکی ایوان کی قرارداد گمراہ کن

    امریکی ایوان کی قرارداد گمراہ کن

    جب بھی پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوتی ہے، معیشت بہتر ہونے لگتی ہے اور سماجی سکون پیدا ہونے لگتا ہے، پاکستان دشمن قوتیں پریشان ہوجاتی ہیں اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کرنے لگ جاتی ہیں، پروپیگنڈہ کیا جاتا ہےا ور سازشیں کی جاتی ہیں، صیہونی اور سرمایہ دار قوتیں اپنے پیادوں کو پاکستان میں ترقی نہیں دیکھا چاہتی، پاکستان کی معاشی بہتری انکو پسند نہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں ایک جان بوجھ کر مہم چلائی جاتی ہے تاکہ ہمدردی کے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے انہیں متاثرہ فریق کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ آپریشن گولڈسمتھ 2.0 کا ایجنڈا بعض اختلافی سیاسی حلقوں کے سیاسی فائدے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا ہے، جو پاکستان میں صیہونی قوتوں کے ایجنٹ ہیں اور صرف اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ واقعات کی ایک عجیب و غریب پیشرفت میں، صرف دو دھڑے سیکورٹی آپریشن عزم استحکام کے آغاز کی شدید مخالفت کر رہے ہیں، ایک پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دوسرا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)۔

    امریکی قرارداد کا اصل مقصد عمران خان کے لئے مراعات لینا
    امریکی کانگریس کی قرارداد 901 درحقیقت پاکستان کے اندرونی مسائل پر عالمی سطح پر سیاست کرکے اور اس بار آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی آڑ میں پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے لیے مراعات حاصل کرنا ہے۔ جب کہ آپریشن گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، ملک کی معاشی واپسی مسلح افواج اور عوام کی حمایت سے اس طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس وقت قرارداد 901 کو پیش کرنا، پاکستان کی ترقی کو خطرے میں ڈالنے کی سیاسی کوشش دکھائی دیتی ہے نہ کہ اس کے عوام کی مدد کے لیے ایک حقیقی اقدام۔ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے مبینہ طور پر حمایت کا اظہار، قرارداد 901 درحقیقت گمراہ کن ہے۔ سول اور ملٹری قیادت کے درمیان پائیدار تعاون کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کے غیر متزلزل جذبے کے ساتھ، پاکستان عالمی معیشت میں ایک بڑا کھلاڑی بننے کے لیے تیار ہے۔ معاشی استحکام اور ترقی کا راستہ اگرچہ مشکل ہے لیکن پاکستان کا عزم اور سٹریٹجک وژن ایک روشن مستقبل کا وعدہ کرتا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام سے سال 2013 کا منظر یاد آگیا جب وطن عزیز میں دہشت گردی اور انتہا پسندی عروج پر تھی اور بجلی کی عدم دستیابی سے ملک میں اندھیروں کا راج تھا اسی دوران میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے سے قبل اعلان کیا کہ دہشت گردی اور بجلی کے بدترین بحران کا خاتمہ ان کا ٹاپ ایجنڈا ہو گا، اقتدار سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے سب سے پہلے اے پی سی کال کی جس میں عمران خان سمیت تمام جماعتوں نے شرکت کی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی جس کی قیادت سینیٹر عرفان صدیقی نے کی .اس حوالے سے جب سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی پر نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا اعلان کیا اورضرب عضب کا آغاز ہوا ،

    قارئین، پاک فوج اور جملہ اداروں نے لاتعداد قربانیاں دے کر امن بحال کیا نوازشریف کی سیاسی اور معاشی بصیرت کے بل بوتے پر ملک سے اندھیرے چھٹ گئے ، سینیٹر اسحاق ڈار جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے انکی کمال حکمت عملی اور دن رات محنت سے ملک میں معاشی استحکام بحال ہوا اور صنعتی ترقی کا آغاز ہوگیا سی پیک سے قوم میں اُمید کی کرن جاگی ، آج پھر ملک اُسی دوراہے پر کھڑا ہے ،عزم استحکام وطن عزیز سے دہشت گردی کے اُبھرتے ہوئے منحوس سائے ، معاشی بدحالی ، توانائی کا بحران اور دیگر مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب ملک میں امن ہو گا، وطن عزیز کے ان کھیلانوں میں امن کی ہریالی اُگانے کا بیڑا ایک بار پھر ضرب عضب کی طرح پاک فوج اور جملہ اداروں نے اٹھایا ہے تو اس میں بحث او ر دھوراں دھار تقریریں کیسی ؟ کیا پارلیمنٹ میں دہشت گردوں کے پروموٹرز اور سپورٹرز بیٹھے ہیں؟ سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ، ماضی میں دہشت گردی کے حوالے سے افواج پاکستان ، پولیس اور عوام نے لازوال جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جس پر ایک عالم گواہ ہے، ملک کے عظیم تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو ملک وقوم کی بقاء کے لئے آپریشن عزم استحکام کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا، ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ملک وقوم کے اولین مفاد میں ہے آخر کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟

  • معیشت  کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد ( رپورٹ،شہزاد قریشی) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کےہنڈرڈ انڈیکس کا 80 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنا ملکی تاریخ میں معیشت کی بحالی کی جانب مضبوط حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت ہے اور دیوالیہ دیوالیہ کی رٹ لگا کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ، ادھر گرڈ سٹیشنوں کا گھیرائو کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسی غیر سنجیدہ حرکات سے وہ ملک وقوم کی کوئی خدمت نہیں سرانجام دے رہے بلکہ عوام ان اوچھے ہتھکنڈوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلاشبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی جارحانہ بلندی نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے بلکہ حکومت پاکستان کی درست سمت سفر کی عکاس ہے،

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام وفاق کی اکائیوں یعنی صوبائی حکومتوں اور ریاستی و حکومتی اداروں کو یک جان ہو کر پورے اخلاص کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے روڈ میپ کی منزل کی جانب سفر جاری رکھ کر وطن عزیز کو مضبوط سے مضبوط بنانے کا عزم کرنا ہوگا، میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے وژن کو اگر ٹھیس نہ پہنچائی جاتی تو آج پاکستان نہ صرف ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتا بلکہ جی 20 کی صف میں کھڑا ہوتا، اب وقت آن پہنچا ہے کہ سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر میاں محمد نواز شریف کے وژن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ ملک معاشی طور مستحکم ہو اور عوام کو مہنگائی ،پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات مل سکے

  • نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    میاں نواز شریف کا سینٹ میں پارلیمانی پارٹی کے ممبران سے خطاب، پاکستان کے عوام کے لئے امید کی کرن اور سیاسی اکابرین کے لئے مشعل راہ ہے،میاں نواز شریف کے قول و فعل اور ان کے سیاسی افکار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کبھی مایوس ہوئے نہ پاکستان کی ترقی کا مشن ترک کیا اور نہ ہی عوام کی خدمت کی ترجیحات بدلیں میاں نواز شریف نے غل غپاڑے اور شور شرابے کی نام نہاد سیاست کا راستہ کبھی نہ اپنایا. انہوں نے اپنے اقتدار کھو جانے پر کبھی پاکستان کے مفادات کے خلاف نہ تو لب کشائی کی اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بیرونی مداخلت کو دعوت دی جبکہ یہاں تو ایک حادثاتی سیاستدان یہاں تک کہہ گزرے کہ اگر انہیں اقتدار سے ہٹانا تھا تو بہتر تھا بم پھینک دیتے،

    میاں محمد نواز شریف پاکستان کی ترقی، استحکام اور معاشی آزادی کی جنگ کے مجاہد ہیں اور یہ جہاد انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کی صورت میں آئندہ نسلوں کے لئے وقف کردیا ہے، نواز شریف کی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کو یہ تنبیہ کرنا کہ مہنگائی کے طوفان سے عوام کو ہر صورت بچایا جائے پاکستان کے عوام کےلئے دل موہ لینے والے تاثرات ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا خواب مسلم لیگ ن کے ہاتھوں ہی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

    nawaz