Baaghi TV

Category: سیاست

  • 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ: شہزاد قریشی) پاکستان میں نہ تو 71ء جیسے حالات ہیں اور نہ ہی 24کروڑ عوام کا ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت ہی نہیں بلکہ اسے جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیاء اور اسلامی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے۔ دیوالیہ ہونے کی رٹ ناکام ہوگئی اور اب 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ملکی معیشت اور سٹاک ایکسچینج کے عشاریئے اور مہنگائی میں کمی جیسے اشارے بتا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت عوام کی بہتری اور پاکستان کی ترقی کے لئے اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہیں اور حالات بتدریج بہتری کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

    آئے روز سڑکوں پر ادھم مچانے میڈیا پر ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے کی بجائے قومی اسمبلی اور سینٹ میں سنجیدہ بحث اور تجاویز کے ذریعے قومی سیاسی پارٹیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کو معاشی بحرانوں سے نکالنا ہوگا۔ تمام سیاسی پارٹیوں اور ان کی لیڈر شپ کو مہنگائی غربت اور سماجی ناانصافیوں میں پسے ہوئے عوام اور قومی اداروں کی مضبوطی کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے اور وطن عزیز کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربانی دینے کی مثال قائم کرنا ہوگی کیونکہ اگر پاکستان ہے تو سیاست بھی ہے اور اقتدار اور حزب اختلاف کے استحقاق ہیں اسی لئے سب سے پہلے استحقاق پاکستان اور استحقاق عوام کو ترجیح دیں ورنہ تاریخ کسی بھی غدار کو معاف نہیں کرے گی۔

  • نوابزادہ خالد خان مگسی کے قافلے پر حملہ.تلخ حقائق . عبدالرزاق مگسی

    نوابزادہ خالد خان مگسی کے قافلے پر حملہ.تلخ حقائق . عبدالرزاق مگسی

    ڈیرہ مرادجمالی۔31 مئی 2024

    نوتال اور بختیار آباد کے درمیان قومی شاہراہ پر جمعرات کے روز ایم این اے نواب زادہ خالد خان مگسی پر ڈاکوؤں کی فائرنگ اور گارڈز کی جوابی فائرنگ سے ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے،اسی مقام پر دو گھنٹے قبل دو مسافر ویگنوں کو لوٹ لیا گیا کسی نے نوٹس نہیں لیا؟ خالد خان مگسی پر فائرنگ کا واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی دیکھتے ہی دیکھتے بلوچستان حکومت سمیت تقریبا بااثر شخصیات نے واقعہ کی مزمت کی اور فوری ڈاکوؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا اور وزیر اعلی نے نوٹس لیکر نصیرآباد اور کچھی انتظامیہ سے رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور ہر وہ غلط کام کی مذمت ہونے چاہیے لیکن قومی شاہراہ اور لنک سڑکوں پر جس طرح بختیار آباد، نوتال کے درمیان، بختیار آباد، بھاگ روڈ، نوتال، گنداوہ روڈ بختیار آباد اور لینڈسے (لمجی) کے درمیان، ڈنگڑا قومی شاہراہ پر اس کے علاوہ ہر دوسرے یا تیسرے دن مسلح ڈاکو مسافر بسوں ویگنوں۔ٹرکوں سمیت چھوٹے گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں اور خواتین کو لوٹ لیا جاتا ہے لیکن ان غریب عوام، ڈرائیورز،اور خواتین کے لیے نہ صوبائی حکومت،نہ سرداران،و دیگر بااثر شخصیات جو نواب زادہ خالد خان مگسی کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی طرح حرکت میں کیوں نہیں آتے کوئی وزیر نواب سردار یا بااثر شخصیات نے یک زبان ہو کر مزمت نہیں کیا لیکن بلوچستان کے سارے سردار نواب سرمایہ دار جاگیردار وزیر،مشیر پارلیمانی سیکرٹریز صوبائی و وفاقی حکومت ایک ہوگے لیکن غریب عوام کے لئے یہ اشرفیہ کبھی ایک نہیں ہونگے لیکن ووٹ غریب عوام سے لیکر اسمبلیوں میں پہنچ جانے کے بعد وزیر، مشیر و پارلیمانی سیکرٹری بن کر خوب عوامی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ کر صوبے اور ملک کو دیوالیہ کیا جاتا ہیں لیکن عوام اور تاجروں کو آئے روز بازاروں قومی شاہراہوں پر دن دھاڑیں اور رات کے اندھیروں میں ڈاکو لوٹ مار کرنے کے ساتھ گاڑیاں نہ روکنے پر فائرنگ کی جاتی ہے کئی مسافر اور ڈرائیورز زخمی اور ہلاک ہو جاتے ہیں ان کے لیے کوئی نواب سردار یا وزیر بیان تک دینا گوارا نہیں کرتے اس طرح نواب زادہ کےلیے حکومت سمیت تمام بااثر شخصیات ایک پلیٹ فارم پر متحدہ ہوئے اسی طرح عوام کے لئے درد محسوس کرتے ہوئے متحدہ ہوجائے تو بلوچستان امن کا گوارا بن جائے گا اسی دوہرے معیار کی وجہ سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال گمبھیر سے گمبھیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ملک غریبوں کا نہیں بلکہ امیروں سرمایہ داروں،اور اشرفیہ کا ملک ہے

  • یوم تکبیر پر سفر اور نواز شریف کا عوامی خطاب، تجزیہ : شہزاد قریشی

    یوم تکبیر پر سفر اور نواز شریف کا عوامی خطاب، تجزیہ : شہزاد قریشی

    گذشتہ دن اپنے دیرینہ و مخلص دوست وسینیٹر اور رہنما پروفیسر عرفان صدیقی کی صحبت جمیلہ میں اسلام آباد سے لاہور یوم تکبیر کی مرکزی تقریب میں شرکت کے لئے سفر کرنے کا شرف حاصل ہو ا اور سینیٹر ناصر بٹ بھی ہمارے ہم رکاب تھے ہم خیال ہم عمر اور مہم ہمدم دوستوں کا اکٹھا سفر اور ایک ہی منزل اور ایک ہی لیڈر و عظیم لیڈر سے ملاقات کے اشتیاق نے ہمارے سفر کو انتھک اور خوشگوار بنا دیاجونہی ہماری گاڑی اسلام آباد سے لاہور کے لئے موٹر وے پر پہنچی تو کون محب وطن اور ترقی پسند ہے جس کے دل سے میاں نواز شریف کے جذبہ دل اور غنچہء شوق کی خوشبو کا اعتراف نہ اُبلتا ہوسینیٹر پروفیسر عرفان صدیقی ، سینیٹر ناصر بٹ اور میری اپنی گفتگو میں جو تجزیہ کرنے لگے کہ اگر میاں نواز شریف پشاور اسلام آباد لاہور فیصل آباد ، لواری ٹنل اور دیگر موٹر ویز نہ بناتے تو آج کا پاکستان کیسا ہوتاشیر شاہ سور ی دور کا گرینڈ ٹرنک روڈ کوہستان برہان بٹالہ پاک وطن کی وہ بسیں ہوتیں جوراولپنڈی سے فیصل آباد کا سفر 14 گھنٹے میں کرتی تھیں اور جب مسافر ان سے اترتے تھے تو انہیں اپنے گھر والے بھی نہ پہچان سکتے تھے تاجر کئی دن تک اپنے ساز وسامان کے پہنچنے کا انتظار کرتے رہتے تھے اور آئے دن گاڑیوں کے خطرناک حادثات کی خبریں اخبارات کے پہلے صفحات کی زینت بنتی تھیں اور سوال یہ بھی آیا کہ اگر نواز شریف موٹر وے نہ بناتے تو کوئی اور بناتا؟ جی بالکل نہیں کیونکہ ان کے ہم عصر ایک اور وزیرا عظم اس پر تنقید کرکے موٹر وے کی چوڑائی کم کر گئی تھیں جس کا پچھتاوا آج بھی قوم کو ہےکیا آج ہم اتنے طویل موٹر ویز بنا سکتے ہیں ؟ جی بالکل نہیں کیا آج ہم میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے منصوبے شروع کر سکتے ہیں جی بالکل نہیں ہماری معاشی حالت ابتر ہو چکی ہے
    سینیٹر پروفیسر عرفان صدیقی نے نکتہ اٹھایا اگر میاں نواز شریف سی پیک کی تکمیل کر چکے ہوتے اور کراچی لاہورا سلام آباد تاکاشغر دو رویہ ریل ٹریک بن کر چالو ہو چکا ہوتا تو پھر پاکستان کہاں کھڑا ہوتاہم سب کا جواب تھا کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتادنیا کے بڑ ےبڑے برانڈراپنی مصنوعات کے کارخانے پاکستان میں لگاتے اور اپنی مصنوعات کی ترسیل دوسرے دور دراز ممالک میں کررہے ہوتےبیرون ملک سے پاکستانی لیبر واپس آکر اپنے دیس میں روزی کما رہی ہوتی پاکستان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ یوتھ ڈنکیاں لگاکر سات سمندر پار ڈوب نہ رہی ہوتی اور پاکستان کا برین ڈ رین نہ ہوتالاہور پہنچ کر حسب معمول سینیٹر پرویز رشید کی مہمانداری نصیب ہوئی تو ان کے گرد میاں نواز شریف کے مخلص دوستوں کا ہجوم دیکھ کر دل بے ساختہ کہہ اٹھابقول اقبال و فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
    میاں نواز شریف نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے خطاب میں عوام کے دل موہ لئے اور یہ خطاب بلاشبہ ایک تاریخی خطاب ہے جس میں انہوں نے سات سال کے عرصہ میں جلا وطنی اور اقتدار سے زبردستی علیحدگی صادر فرمانے والے ٹولے کی نشاندہی بھی کی اور اس سے پاکستان کے ترقی کے سفر میں ناقابل تلافی رخنہ اندیزی کاتذکرہ کیاانہوں نے نشاندہی کی کہ کس طرح پاکستان کو سی پیک کی منزل سے گمراہ کرنے کے لیے انہیں لندن پلان اور ا س وقت کی عدلیہ کی ملی بھگت کا نشانہ بنایا گیا اور ایک نااہل قیادت کو پاکستان کی تقدیر سے کھیلنے کا کھلا موقع فراہم کیا گیا
    میاں نواز شریف نے موٹر ویز سے لے کر ایٹمی دھماکوں تک صنعتی انقلاب سے سی پیک ا ور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک جتنے بھی اقدامات کیے کا ذکر کیا ان کارناموں کوفیض احمد فیض کے ایک قطعہ میں تخلیق کیا جا سکتا ہے
    قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
    اورنکلیں گے عشاق کے قافلے
    جن کی راہ طلب میں ہمارے قدم
    مختصر کر چلے درد کے فاصلے

  • نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کی قیادت میں ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی قوتوں اور عوام کو ریاستی اداروں پر تنقید پر اکسانے والے پاکستان سے مخلص نہیں ۔ریاستی و قومی ادارے ہی وطن عزیز کی بقا اور استحکام کے ضامن ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔ وطن عزیز کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لئے کہنہ مشق سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو کہ میاں نوازشریف کی صورت میں ہی موجود ہے۔ تمام تر سپر پاور کے دبائو کو نظرانداز کر کے 28 مئی کو ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے دفاع کوناقابل تسخیر بنانا اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا، وطن عزیز میں موٹرویز کا جال بچھا کر معیشت کے پہیے کو نئی رفتار بخشی۔ نوجوانوں کے لئے آسان قرضے، پیلی ٹیکسی کی آسان قسطوں پر فراہمی کے ذریعے بیروزگاری پر قابو پانے جیسے اقدامات کے بعد میاں نوازشریف نے تکمیل پاکستان کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کو دور کیا ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں صنعتکار پاکستان سے اپنی ملوں کو اٹھا کر دوسرے ہمسایہ ممالک کا رخ کر رہے تھے اور مختصر عرصے میں چائنا سے معاہدے کر کے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا۔

    میاں نوازشریف کی انتھک کوششوں کا سلسلہ جاری رہا اور سی پیک کے منصوبے اور گوادر سی پورٹ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستان کو بیرونی قرضوں سے نجات اور ایشین ٹائیگر بنانے جیسے اقدامات کے تمام حلقے معترف ہیں۔ اگر اس وقت دھرنا سیاست کے ذریعے چینی صدر کے دورے کو منسوخ نہ کرایا جاتا تو آج پاکستان کا معاشی منظر نامہ مختلف ہوتا۔ اگر سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جاتے تو آج پاکستان معاشی طور پر خودکفیل بن چکا ہوتا۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو اعلیٰ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کر کے میاں نوازشریف کی غیر متزلزل قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کے ایک اور یوم تکبیر منانے کا عزم کرنا چاہئے۔

  • عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عوامی فنڈز کا استعمال،کرپشن سے بچاؤ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے محکمہ تعمیرات اور بلدیات کو گلیات اور سڑکوں کی تعمیر سے قبل ویسٹ مینجمنٹ اور سیوریج اور واٹر سپلائی لائنوں کی ضروری مرمت کے احکامات اور کوالٹی کنٹرول کی ترجیحات کو مدنظر رکھنے جیسے اقدامات قومی سرمائے کے درست استعمال کی جانب قابل تحسین قدم ہے جس سے عوامی فنڈز کو باقاعدہ پلاننگ کے تحت استعمال کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار میں گلیات اور سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوتے ہی دوسرے ہفتے میں واٹر سپلائی یا ٹیلی فون یا گیس والے بنی بنائی گلی سڑک کو اکھاڑ کر چلے جاتے تھے جس سے گلی نالی کی پے درپے تعمیر پر ترقیاتی گرانٹوں کا زیاں اور ٹھیکیدار کلچر کا فروغ دیکھنے میں آیا اور سیاسی اثر و رسوخ حتیٰ کہ بلدیات کے ملازمین نے ہی اپنے رشتے داروں کو ٹھیکیدار رجسٹر کراکے اپنے خاندانوں کی چاندیاں کیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ بلدیات اور تعمیرات کے محکموں کے پلاننگ شعبوں اور مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندے کسی پراجیکٹ پر کام شروع کرنے سے قبل نیچے موجود ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں کی مرمت و تبدیلی کیلئے کلیئر کریں اور ٹھیکیدار کی مانیٹرنگ پر مقامی نمائندوں کو فوکل پرسن اور اہلیان علاقہ و محلہ کے ایماندار افراد کی کمیٹی کو کوالٹی کنٹرول میں شامل کیا جائے جو کہ کنکریٹ کے میٹریل کی کوالٹی اور کام مکمل ہونے کے بعد اس کی آبیاری کو بھی ٹھیکیدار سے یقینی بنائے. آئے روز گلیوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور اہلیان محلہ کی جانب سے خود ہی نالی یا گیس کنکشن کی کھدائی کے ذریعے یا جگہ جگہ سپیڈ بریکر بنانے کی بلا روک ٹوک روش کو بھی مقامی انتظامیہ اور پولیس اپنی کاروائی میں شامل رکھے بلدیاتی افسران اور محکمہ تعمیرات کے افسران جن میں ایس ڈی او‘ ایکس ای این‘ سب انجینئر‘ بلدیہ کے سی او اور کلرک صاحبان جس دیدہ دلیری کے ساتھ 10فیصد کمیشن کی رواجی کمائی کے عادی ہوچکے ہیں اس کے بغیر وہ ٹھیکیدار کا چیک سائن نہیں خرتے اس کرپشن کا قلع قمع بھی ہونا چاہئے تاکہ عوام کا فنڈ مکمل طور پر عوام پر ہی خرچ ہو نہ کہ افسر شاہی کے نذر نذرانوں کی نذر ہو۔

  • دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی

    دبئی لیکس،پاکستانی سیاستدان اور بے بس عوام، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تازہ ترین خبر کے مطابق دوبئی لیک سامنے آئی ہے۔ چلئے کوئی کمیٹیاں بنا دیں۔آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائیگا۔ دوبارہ پھر کسی نواز شریف جیسے فرد واحد کو عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے اور باقی کے افراد کو چھوڑ دیا جائے۔ نواز شریف کو پانامہ نہیں بچوں سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دی گئی تھی۔ تاہم دوبئی لیک سے ثابت ہو چکا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لئے تمام راستے صاف ہیں بلکہ موٹر وے کی صاف راستے ہیں کوئی رکاوٹ نہیں، ہمارے بیوروکریٹس ، دیگر اعلیٰ افسران ، سیاستدان ، اشرافیہ ، لوٹ مار، منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کے ننگے ناچ میں مشغول ہے۔ بدقسمت ملک میں بسنے والے کروڑوں عوام کس کرب میں مبتلا ہیں اس سے ان کو کوئی سرورکار نہیں۔ بے حسی، بے پناہ مہنگائی ،بے قابو غربت ، غیر معمولی حدوں کو چھونے لگی ہے۔

    حکومت میں ہوتے ہوئے حزب اختلاف کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ اصلیت ہے مگر اس میں جوش کا پتہ نہیں،ہیرو ہیں جن کے کارنامے نہیں۔ تاریخ ہے جس میں واقعے نہیں۔ تبدیلی کی رفتار ہے جیسے اگر کوئی طاقت حرکت میں رکھنے والی ہے تو محض کیلنڈر ۔ محلاتی سازشوں اور درباری تماشوں میں محو ہیں۔ ہر بار معیشت کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ سیاست نظر آتی نہیں رہی مفاد ذاتی سیاست کا دورہے ۔ ایمان۔ ضمیر۔ وفا جیسی چیزیں سیاستدانوں کے لئے بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ آج کا سیاستدان کل کا جس پارٹی کو گالیاں دیتا ہے پھر دوسری پارٹی بدل کر گالی د ینے والی پارٹی کے لئے تالیاں بجاتا ہے۔ سیاستدان کی وفاداری تبدیل ،ضمیر تبدیل ، معیار تبدیل، خیال تبدیل ،ان حالات میں منی لانڈرنگ ، کالا دھن سفید نہ ہو تو کیا ہو۔ جن کی اپنی کوئی منزل نہ ہو۔ وہ پاکستان اور عوام کے رہبر کیسے کہلوا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے یہ خطہ ہی نہیں ہے یہ ساری دنیا خدا پاک کی ملکیت ہے ۔ قرآن پاک کا مطالعہ کریں ،سرکش انسانوں کی داستانیں بھری پڑی ہیں اور عبرت حاصل کرتے وقت توبہ کریں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انقلابی اقدام.مگر…تجزیہ: شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے میرٹ پر اسسٹنٹ کمشنر صاحبان کی تقرریاں کرکے سفارش اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ریاستی مشینری کو عوام کی دہلیز پر ان کے مسائل حل کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈویژنل کمشنر ایسے عہدے ہیں جن کا سیاست سے پاک ہونا بہت ضروری ہے اسی طرح پولیس کے محکمہ میں تھانہ سے لے کر آئی جی کے آفس تک کے افسران کو بھی اپنی پیشہ وارانہ آزادی سے کام کرنا چاہئے اور ان افسران کو سیاسی مداخلت سے بے نیاز ہو کر کام کرنا چاہئے جبکہ مقامی منتخب نمائندوں مثلاً ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کو بھی بے جا مداخلت سے اجتناب برتنا چاہئے البتہ علاقے کی عوام کی بہتری اور فلاح کے لئے منصوبوں کی نشاندہی اور ان انتظامی افسران کی راہنمائی کے لئے مشاورت کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ کی عوام کی بہتری اور ترقی کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور ان کی کاوشوں کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلا سفارش تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر حضرات مہنگائی کے کنٹرول‘ تجاوزات کے خاتمے‘ پبلک ٹرانسپورٹ میں بین الاضلع اور مقامی روٹوں پر ٹرانسپورٹروں کی کرایوں میں اضافے سے لوٹ مار‘ جعلی ادویات اور اشیاء خوردنی میں ملاوٹ پیٹرول پمپوں میں ڈیزل پٹرول میں ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی اور خصوصاً پٹواری مافیا کے قلع قمع کرنے میں کوشاں نظر آنا چاہئے اور غفلت لاپرواہی اور کرپشن میں ملوث پائے جانے والے افسران کے خلاف وزیراعلیٰ صاحبہ کو بھی عوامی شکایات پر نوٹس لینے اور تادیبی کارروائی کرنے کا ایک موثر نظام بھی فعال کرنا ہوگا تاکہ کرپشن فری انتظامی مشینری عوام کی خدمت میں مصرف عمل موجود ہے۔

  • جعلی مزدور  جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    جعلی مزدور جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    یر سال یکم مٸی کو مزدوروں کا عالمی دن اور ہر 3 مٸی کو صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے ٠ اس کے علاوہ بھی مختلف موضوعات پر ہر سال عالمی دن مناٸے جاتے ہیں جن میں خواتین کا دن ، ماں کا دن ، باپ کا دن ، زمین پانی و دیگر کٸی موضوعات شامل ہیں ٠ یہ ایک بہت اچھا اور مثبت عمل اور اچھی روایت ہے ٠ ایسے دن یا ایّام کے منانے سے ان موضوعات کے حوالے سے حقاٸق جاننے اور اصلاح کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے ٠ جن کے ماحول اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ٠ مٸی کے مہینے میں مزدوروں ، صحافت اور ماٶں کے عالمی دن مناۓ جاتے ہیں ٠ بقول نواب اسلم رٸیسانی ڈگری ڈگری ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا نقلی لیکن بہت اچھا ہوا کہ نواب صاحب نے بعد میں اپنے کہے پر معذرت کر لی تھی ٠ ہمارے ذہن میں بھی شاید اور اکثر یہ خیال آتا ہوگا کہ مزدور مزدور ہوتا ہے صحافی صحافی ہوتا ہے ماں ماں ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا جعلی ٠ لیکن اصل اور نقل میں فرق کرنا لازمی بھی ہے اور انصاف کا تقاضا بھی ورنہ اصل اور نقل کو ایک سمجھنے سے انسان اور معاشرے کا بڑا نقصان ہوتا ہے اور اس میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کو فروغ ملتا ہے ٠ جھوٹے پر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے لعنت بھیجتے ہیں اور جھوٹ ہی تمام براٸیوں کی جڑ ہے ٠

    دھوکہ دہی کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے کسی کے ساتھ دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہو تو اس انسان کی بربادی واضح ہو جاتی ہے ٠ لیکن افسوس اس وقت بھی ہوتا ہے جب تعلیم کے شعبے سے وابستہ استاد لیکچرر ہوتا ہے مگر جھوٹ بولتے ہوۓ خود کو پروفیسر کہلاتا ہے یہاں تک کہ وہ رٹاٸر بھی لیکچرر کی حیثیت سے ہوتا ہے مگر پھر بھی خود کو پروفیسر ہی لکھتا اور کہلاتا ہے ٠ جب ایک استاد ہی تمام عمر جھوٹ بولتا اور لکھتا رہے تو اس کے اس کذب اور جھوٹ کے خود اس کی ذات پر اس کے شاگردوں پر اس کے خاندان پر اور معاشرے پر کس طرح منفی اثرات مرتب ہوتے ہوں گے ؟ طب یا صحت کے شعبے سے وابستہ افراد جن میں ڈسپنسر ، میڈیکل ٹیکنیشن ، نرسنگ اردلی اور وارڈ بواۓ وغیرہ بھی خود کو ڈاکٹر کہلاۓ تو اس معاشرے اور سماج کی کیا صورتحال ہوگی ؟ ایسی دیگر کٸی مثالیں ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اصل جج اصل وکیل اصل سیاستدان اصل ساٸنسدان اصل سپاہی اصل سپہ سالار اصل عالم و فاضل اور اصل مولوی اور مولانا و مفتی وغیرہ کی پہچان کیسے اور کس طرح ہو یہ وہ سوال اور وہ مسٸلہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے ٠

    ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل مزدور وہ ہے جو سردی ہو یا گرمی مشکل ہو یا آساں وہ اپنے فراٸض نیک نیتی اور پوری دیانتداری کے ساتھ سر انجام دیتا ہے اور اس کی یہ محنت عبادت بھی بنتی ہے اور حلال رزق کا باعث بھی ٠ ایسے ہی مزدور کیلیٸے مشہور حدیث مبارکہ ہے کہ ”الکاسب حبیب اللّٰہ “ یعنی محنت کرنے والا اللّٰہ کا دوست ہے ٠ یہ اس انسان اور اس مزدور کے لیے کتنا بڑا اعزاز ہے اور کتنی بڑی کامیابی ہے جس کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اپنا دوست بناتا ہے ٠ گزشتہ یکم مٸی کو بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں مزدوروں کے حوالے سے مستری مزدور یونین کا ایک جلسہ منعقد ہوا ٠ اس یونین کے صدر ہارون الرشید عرف لیاقت چکھڑا نے جلسے سے اپنے خطاب میں جو باتیں کیں وہ رلادینے والی تھیں ٠ اس نے بتایا کہ بارش خدا کی رحمت ہوتی ہے لیکن ہم مزدوروں کے لیے رحمت کے بجاۓ اس لیٸے زحمت ثابت ہوتی ہے کہ اس دن ہمیں کام نہیں ملتا اور ہم خالی ہاتھ اپنے گھر واپس جاتے ہیں ٠ اور اس دن ہمیں بھوکا رہنا پڑتا ہے ٠ انہوں نے کہا کہ ہم مزدوروں کا جینا تو ویسے بھی امتحان اور سخت آزماٸش تو ہے ہی مگر مرنا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ فوت ہونے والے کی تدفین کیلیۓ کفن کی رقم بھی نہیں ہوتی اور مزدورں کو قرض یا ادھار دینے والا بھی کوٸی نہیں ہوتا ٠ لیاقت علی نے یہ بھی بتایا کہ مزدوروں کی اکثریت کو سر چھپانے کیلیۓ اپنا ذاتی مکان بھی نہیں ہوتا ٠ کرایہ کے مکان میں زندگی مزید مشکل گزرتی ہے ٠ یعنی دوسروں کے لیے گھر اور محل بنانے والے اپنے گھر سے محروم رہتے ہیں ٠ ایسی اور بھی انہوں نے درد بھری باتیں بتاٸیں جن پر الگ سے کالم لکھنے کی ضرورت ہے ٠ اسی یکم مٸی کو ایسے لوگ بھی خود کو مزدور اور مزدور رہنما کہلاتے ہیں جو انتہاٸی بد دیانت کام چور کرپٹ اور بلیک میلر ہوتے ہیں جو مزدوروں کے حقوق کا سودا کرتے ہیں ٠ ایسے سرکاری ملازم جو یونین کی آڑ میں نہ صرف خود ڈیوٹی نہیں کرتے بلکہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی بھرتی کرا لیتے ہیں اور وہ بھی گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں ٠ خود یونین لیڈر بن کر اپنے محکمہ سے ماہانہ لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتے ہیں اور اپنے ہی مزدور ملازمین کا استحصال کرتے ہیں ٠ اور دنیا کے مزدورو ایک ہو جاٶ کا نعرے لگواتے ہیں ٠ مزدور اتحاد اور مزدور مزدور بھاٸی بھاٸی کا منافقانہ نعرہ لگوا کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں ٠ یہی وہ جعلی مزدور ہیں جو اپنے محکمہ میں کرپشن بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کا بازار گرم رکھے ہوٸے ہوتے ہیں ٠ لاکھوں اور کروڑوں کی پراپرٹی کا مالک بنتے ہیں ٠ اور یہی مزدوروں کے لیڈر اور رہبر بنے ہوٸے ہیں ٠ حالانکہ اصل مزدور تو وہ مرد و خواتین بچے اور بوڑھے ہیں جو کھیتوں سڑکوں کارخانوں ہوٹلوں ریستورانوں گیراجوں ورکشاپس اور گھروں وغیرہ میں کام کرتے ہیں ٠ تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور گھروں میں کام کرنے والی بچیاں اور خواتین تشدد کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جنسی زیادتی کا نشانہ بن جاتی ہیں ٠ مگر افسوس کہ ہماری اسلامی ریاست اپنے محنت کش اور مزدور مرد و خواتین بچوں اور بوڑھوں کو عزت روزگار اور تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے ٠

    صحافت کے شعبے میں بھی جعلسازی اور دھوکہ دہی کا راج ہے ٠ یہ فرق کرنا بہت مشکل لگتا ہے کہ اصل صحافی کون ہے ٠ صحافت ایک بہت ہی معزز پیشہ ہے ٠ صحافی کا بڑا مقام اور مرتبہ ہے ٠ آزادی صحافت کی بات کی جاتی ہے ٠ یہ بھی طے کرنا ابھی باقی ہے کہ آزادی ہے کیا چیز آزادی کی حد کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے ٠ ہمارے یہاں تو سیاستدان حضرات آزادی اور حق و سچ کی صحافت اس کو سمجھتے ہیں جس کے تحت ان کے مخالفین کے خلاف لکھا جاۓ اور خود ان کی تعریف کی جاٸے ٠ خواہ وہ خود کتنا ہی کرپٹ بدعنوان ظالم اور بد کردار ہی کیوں نہ ہو ٠ اگر صحافی اس کے بارے میں سچ لکھتا ہے تو وہ صحافی اس کی نظر میں بلیک میلر بن کر سزا کا مستحق بن جاتا ہے ٠ جبکہ سرکاری اداروں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں لکھنا صحافی کیلیۓ مزید مشکل بن جاتا ہے اور سیکوریٹی اداروں کے بارے میں لکھنا گویا موت کو دعوت دینا یا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے ٠ اس لیٸے حق اور سچ لکھنے والے صحافی کیلیۓ صحافت قدم قدم پر آزماٸش اور شدید خطرات کا باعث بنتی ہے ٠ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافی مشکلات اور خطرات میں گھرے رہتے ہیں ٠ اب تک دنیا بھر میں ہزاروں مرد و خواتین صحافی حق اور سچ لکھنے پر قتل کیٸے جا چکے ہیں ٠ قید و بند اور تشدد کے واقعات تو حقیقی صحافیوں کیلیۓ آٸے روز کے معمولات میں شامل ہیں ٠ مگر یہاں بھی مزدور پروفیسر اور ڈاکٹر وغیرہ کی طرح اصل اور جعلی صحافی میں فرق پیدا کرنا بڑا اہم مسٸلہ ہے ٠ صحافت کے شعبے میں ایسے افراد گھس آۓ ہیں کہ اصل صحافی کی پہچان ہی مشکل بن گٸی ہے ٠ سوشل میڈیا میں تو یہ مسٸلہ اور بھی پیچیدہ بن گیا ہے ٠ اب تو ہر دوسرا اور تیسرا شخص صحافی بنا ہوا ہے ٠ ایسے صحافیوں کو نہ تجربہ ہے نہ مہارت اور نہ ہی تربیت ٠ ان کا مقصد معاشرے کی اصلاح و بھلاٸی اور مساٸل کی نشاندہی نہیں بلکہ ناجاٸز عزت دولت اور شہرت حاصل کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ٠ جس کیلیۓ وہ ہر غلط کام خوشامد چاپلوسی اور جھوٹ لکھ اور بول کر نہ صرف خوش اور مطمٸن ہوتے ہیں بلکہ اپنے شرمناک کرتوتوں پر فخر بھی کرتے ہیں ٠ لوگوں پر رعب جمانے اور بلیک میل کرنے کی غرض سے اور خود کو معزز اور مشہور ثابت کرنے کیلیۓ بڑے نامور لوگوں کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بنوا کر سوشل میڈیا میں پوسٹ کر کے فخر محسوس کرتے ہیں ٠ حالانکہ کسی بڑے عہدیدار کے ساتھ تصویر بنوانا احساس کمتری کا واضح ثبوت ہوتا ہے ٠ اس کے علاوہ جو اوپری سطح کے اینکر یا صحافی ہیں ان میں کچھ ایسے صاحبان اور صاحباٸیں بھی ہیں جو نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں یا تو لوگوں کو مرغوں کی طرح لڑاتے ہیں یا پھر سوال بھی خود کرتے ہیں جواب بھی خود دیتے ہیں ٠ مہمانوں کو بولنے ہی نہیں دیتے اس لیٸے وہ بیچارے اپنا مدعا بیان ہی نہیں کر پاتے اور یہ بھی آزادی صحافت کا ایک حصہ ہے ٠ اس طرح کے لوگ ہی خود کو صحافی سمجھتے ہیں ٠ اس لیٸے آزادی صحافت سے پہلے یہ بھی سوچنا ہے کہ اصل اور جعلی صحافی کی پہچان کیسے ہو اس کے بعد ہی آزادی صحافت کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا ٠

  • سب سے پہلے پاکستان ایجنڈہ ضروری، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سب سے پہلے پاکستان ایجنڈہ ضروری، تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (تجزیہ شہزاد قریشی) پاکستان کی مقتدرہ سیاست عوام اور میڈیا کو پاکستان سب سے پہلے رکھنا ہوگا۔ پاکستان کے مفادات، سالمیت اور بقا کو دائو پر لگا کر سیاست اور اقتدار کی دکان چمکانے والے کسی طرح بھی محب وطن نہیں، سوشل میڈیا بشمول الیکٹرانک میڈیا کو عوا م کے حقیقی مسائل اجاگر کرنے چاہئیں نہ کہ اپنی ریٹنگ کے چکر کی دوڑ میں قومی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے۔ پولیس کسی بھی معاشرے میں امن و امان اور عوام کی حفاظت کی ضامن ہوتی ہے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دستہ اول کے طور پر پولیس نے عوام کی جانوں کی حفاظت میں پولیس نے بھی بے پناہ قربانیاں دیں اور ایک تاریخ رقم کی۔ پولیس کو عوامی تذلیل اور تمسخر کا نشانہ بنانا اور سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کا ذریعہ بنانا دراصل عوام کو عدم تحفظ اور بے لگام معاشرے اور لاقانونیت کے جنگل میں دھکیلنے کے مترادف ہے، مسند اقتدار پر براجمان بعض سیاستدان نہ جانے کن آقائوں کو خوش کرنے کے لئے ٹی وی پر آکر زبان درازیوں اور بازاری جملہ بازیوں کے کرتب دکھا رہے ہیں اور نوجوانان قوم کو بے لگام آزادی کے خواب دیکھنے میں مشغول کر رہے ہیں قومی سیاستدانوں، مسند اقتدار پر براجمان شخصیات کے ہر قول و فعل حتیٰ کہ لباس اور حرکات و سکنات میں بے مثال سلیقہ نظر آنا چاہئے جو عوام اور خصوصاً نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے لیکن ناعاقبت اندیش ہستیاں عارضی اقتدار کے نشے میں سستی شہرت کے حصول کی خاطر نوجوان نسلوں کو گمراہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں ان کی تقلید کرنے والوں کو عراق ، یمن ، اردن ، لیبیا اور دیگر زوال کا شکار ہونے والے ممالک کی ماضی قریب کے حالات کا مطالعہ کرنا چاہئے وہ بھی ایسے ہی فتنوں اور جھوٹی آزادی کے خوابوں میں مبتلا ہو کر حقیقی آزادی سے محروم ہو گئے اور ان کی نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی گئیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدرہ، سیاست اور حکمرانوں کو مل بیٹھ کر وطن عزیز کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے اپنی حدود کے تعین اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے تمام اداروں کو عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لئے مخلص افسران کی تعیناتیوں کو عمل میں لانا ہوگا۔ ہر نئی حکومت نئے عہد و پیمان لے کر آتی ہے اور قومی سرمایہ کو کفایت شعاری سے استعمال کرنے کے وعدے لاتی ہے اور ان کے جانے پر دریافت ہوتا ہے کہ انہوں نے کمال ہوشیاری سے کرپشن کی جس کی زندہ مثال حالیہ گندم اسکینڈل میں تین سو ملین ڈالر کا ٹیکہ ہے، مقتدرہ اور حکمرانوں کو اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچا کر عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہئے۔

  • نواز شریف  کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    نواز شریف کی عوام دوست پالیسیاں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    میاں محمد نواز شریف سابق وزیراعظم کا مسلم لیگ (ن) کی مسند صدارت پر دوبارہ بیٹھنا پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت اشارہ ہے ،میاں نواز شریف کے جدید پاکستان کے وژن کے ادنیٰ سے ثبوت لاہور شہر میں اورنج ٹرین‘ میٹرو بس راولپنڈی اسلام آباد اور ملتان میں میٹر وبس، پاکستان بھر میں موٹر ویز کا جال بچھانے اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب کی تعبیر کی طرف سی پیک اور گوادر سی پورٹ جیسے میگا پراجیکٹ ہیں جبکہ راولپنڈی کو رنگ روڈ کے منصوبے کی منظوری اور اب اس پراجیکٹ پر عملی اقدامات ایسے منصوبے ہیں جن سے عوام کی زندگی میں سہولیات اور آسانیاں اور ترقی یافتہ انقلاب آتا ہے۔

    آج لاہور کی عوام شدید گرمی کے ایام میں ٹریفک جام کی اذیتوں سے آزاد ہو کر یورپ اور ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر اورنج ٹرین اور میٹرو بسوں کی سہولتوں سے فائدہ مند ہورہی ہیں اور خصوصاً خواتین کو اور طالبات کو لوکل ٹرانسپورٹ میں خوار ہونے سے نجات مل چکی ہے جو کہ میاں نواز شریف کی عوام دوست پالیسیوں کے عملی ثبوت ہیں۔

    ادھر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں عوامی گورنروں کی تقرریوں کے لئے سردار سلیم حیدر اور فیصل کریم کنڈی کی منظوری دے کر پارٹی کارکنوں کے دل جیت لئے ہیں جس سے جمہوری سیاست میں گراس روٹ سطح پر ورکروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ورکروں اور پسے ہوئے طبقے کو آگے لانا ہوگا کیونکہ گزشتہ ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی پر خاندان پرور سیاسی مداریوں کے قبضے نے بینظیر بھٹو اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفے کو پامال کئے رکھا جس سے پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کو دھچکا پہنچا۔ امید کی جاتی ہے کہ چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ابن الوقت ٹولے کی حوصلہ شکنی کرکے پنجاب بھر میں ورکروں کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں گے۔

    میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے حقیقت پسندانہ اقدامات سے وطن عزیز میں سیاسی اور جمہوری کلچر کو فروغ ملے گا اور سیاسی طاقتوں کو پرورش کی فضا ملے گی اور عوام کو سیاسی قیادت کے ثمرات ملیں گے۔

    qureshi