Baaghi TV

Category: سیاست

  • اگلا وزیراعظم کون ،بلاول بھٹو یا علیم خان؟

    اگلا وزیراعظم کون ،بلاول بھٹو یا علیم خان؟

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے پنجاب میں اپنی حالیہ انتخابی مہم کے دوران حکمت عملی کے ساتھ تحریک انصاف سے نواز یا نو نواز کی بحث پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ گیلپ پولز اور بلومبرگ کی جانب سے نواز کی حمایت کے باوجود حقیقت بالکل مختلف ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت اس وقت کم ترین سطح پر ہے، نواز شریف کے لئے وزرات عظمیٰ کا چوتھی بار عہدہ سنبھالنا ایک دور کا خواب لگتا ہے جو شاید پورا نہ ہو،

    جہانگیر ترین اور آصف زرداری دونوں نمبر گیم کھیلنے کے ماہر ہیں۔ انتخابی عمل میں آزاد امیدوار بڑی تعداد میں موجود ہیں جس کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ قانون کے مطابق ان آزاد امیدواروں کو انتخابی نتائج کے تین دن کے اندر کسی بھی پارٹی میں شامل ہونا ضروری ہے۔

    لاہور کے حلقہ این اے 127 میں سخت ترین مقابلہ متوقع ہے جہاں پی ٹی آئی کے ظہیر کھوکھر بلاول بھٹو کو سخت چیلنج دیں گے۔ اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کے عطا تارڑ کی پوزیشن کمزور ہے۔ کھوکھر، جسے سیاہ گھوڑا سمجھا جاتا ہے، فتح حاصل کر سکتا ہے، جیسا کہ دو ہفتے قبل باغی ٹی وی کے پروگرام یاسمین کی بیٹھک میں پیش گوئی کی تھی۔

    ایک اور دلچسپ پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔ پی ٹی آئی آزاد امیدواروں کی حمایت کے لیے "پراکسیز” استعمال کر سکتی ہے، ممکنہ طور پر مجلس وحدت مسلمین اور جے یو پی شیرانی سے اتحاد ہو سکتا ہے۔ اگر یہ حقیقت بن جاتی ہے تو "نئی” پی ٹی آئی کے اندر عمران خان کے مستقبل کا مشاہدہ کرنا دلچسپ ہوگا۔ کیا وہ نئی قیادت کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور ہو جائیں گے؟ حکومت بنانے میں کچھ ہفتوں کا وقت لگے گا، مارچ تک شاید حکومت بن جائے۔ یہ پیشین گوئی 3 فروری کو نشر ہونے والے پروگرام یاسمین کی بیٹھک میں بھی کی گئی تھی۔

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گھر میں قید میں رکھنے کے بھی اثرات ہیں۔ اگرچہ اس کے گھر میں قید کرنا،بنی گالہ کو سب جیل میں تبدیل کرنا قابل احترام ہے، لیکن سخت قید کی سزا نہیں ہے۔ سیاست میں آنے والے اکثر قیمت کے ساتھ آتے ہیں،وہ شاذ و نادر ہی آزاد ہوتے ہیں،
    موجودہ صورتحال انتہائی غیر متوقع ہے، جس کے نتیجے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا،

  • سیاست میں جھوٹ کی فیکٹریاں، کوئی پوچھنے والا نہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاست میں جھوٹ کی فیکٹریاں، کوئی پوچھنے والا نہیں،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قصہ مختصر ،8 فروری کو الیکشن کے بعد ہمیں وہ صدر اور وزیراعظم ملے گا جس کے ہم مستحق ہیں،بلاشبہ لفظ جمہوریت ایک عمدہ لفظ ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں سیاسی قائدین نے اس لفظ جمہوریت کو بے کار بنا دیا ہے امریکہ میں صدارتی امیدوار ٹرمپ اور بائیڈن ایک دوسرے کو بوڑھا قرار دے رہے ہیں اب ان دونوں میں نوجوان کون ہے اس کا فیصلہ امریکی عوام کریں گے،تاہم ہمارے ملک میں آئین، جمہوریت، قانون کو ہمارے سیاستدانوں نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے جیسے پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں عوام سے ایک مذاق کیا تھا آج پھر الیکشن کا اور ووٹ لینے کا وقت قریب ہے پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چل کر عوام کو گھر دینے کا وعدہ کر رہی ہے عوام سن رہے ہیں کوئی پیپلزپارٹی سے سوال کرے وہ کون سے وسائل ہیں جو بروئے کار لاکر ان سہولیات سے عوام کو فیض یاب کریں گے، تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ مگر کیسے؟

    ہماری سیاست میں جھوٹ، افواہ سازی ایک فیکٹری کی حیثیت رکھتی ہے،مہنگائی، بیروزگاری کے عذاب میں مبتلا عوام کو جھوٹے وعدوں پر اپنا گرویدہ بنا کر انہیں خط غربت سے نیچے گرانا سیاست نہیں انتقام ہے،سیاستدانوں کی اکثریت نے اور کچھ موقع پرستوں نے پاک افواج کو اور جملہ اداروں کو بدنام کیا جسے کسی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا،یہ کہاں کی عقلمندی ہے کون سی سیاست ہے ملکی دفاع پر مامور افواج اور جملہ اداروں کو بدنام کیا جائے کیا کبھی کسی نے سوچنے کی زحمت گواراکی کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقاءحاصل ہے اداروں کو بدنام کرنا ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے،ان اداروں کی ایک اہمیت ہے 8 فروری کوعوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت غور کریں کس سیاسی جماعت نے کیا وعدے کئے اور کتنے وعدوں پر عمل کیا؟ اور آج ہم کس مقام پر کھڑے ہیں، پارلیمنٹ ہائوس میں جانے والے راستوں پر کس سیاسی جماعت کو اکثریت سے کامیاب کرنا ہے۔

  • عمران خان کو سزا: آگے کیا ہوگا؟

    عمران خان کو سزا: آگے کیا ہوگا؟

    عمران خان کو سزا: آگے کیا ہوگا؟

    سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیم 203 کے تحت عدالت نے باضابطہ فرد جرم عائد کی ،اسکے بعد سیکشن 3 سیکشن سی اور 9 کے تحت بیان کردہ الزامات کے نتیجے میں دونوں کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

    عمران خان کے سرکردہ وکلاء کو آئندہ انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ ملنے کے ساتھ قانونی کارروائی تنازعات کی زد میں آ گئی تھی۔ عدالتی سماعتوں سے عمران خان کے وکلاء کی غیر حاضری کی وجہ سے عدالتی کاروائی کو آگے بڑھانے کے لیے سرکاری وکلاء کی تقرری کی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے سزا ملنے کے بعد عدالت کے باہر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی قانونی ٹیم کو گواہوں سے جرح کرنے کا موقع نہیں دیا گیا،تیزی سے سماعت اور گواہوں کو نمٹانے سے مقدمے کی شفافیت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    سائفر کیس میں عمران خان کے ملوث ہونے کا لنک حوالہ کے لیے ذیل میں دیا گیا ہے:

    حالیہ پیش رفت کے اثرات آئندہ انتخابات تک پھیلے ہوئے ہیں، آزاد امیدوار جنہیں تحریک انصاف نے نامزد کر رکھا ہے، انکا الیکشن کے بعد الگ ہونے کا امکان ہے، 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ آزاد اراکین کو انتخابی نتائج کے تین دن کے اندر کسی پارٹی میں شامل ہونا ہو گا، اور پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے نزدیک انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کے بعد انتخابی نشان اور پارلیمانی پارٹی کی حیثیت کھو چکی ہے.

    توشہ خانہ کیس میں بھی عمران خان کی قانونی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں۔سابق وزیر اعظم عمران خان، اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنادی گئی،بشریٰ بی بی کو بھی گرفتار کر لیا گیا،۔ دونوں کو 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر فائز رہنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

    ایک حالیہ پیش رفت میں، تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تاکہ عمران خان سے ان کے سیاسی فیصلوں،بشمول قومی اسمبلی سے علیحدگی، جنرل باجوہ اور فیض کے خلاف الزامات سمیت دیگر امور کے بارے میں بات کی جا سکے، یہ وہ الزام تھا جوعمران خان نے پہلے امریکہ کو اپنی پارٹی کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد لگایا تھا، عمران خان کی جانب سے سیاسی فائدے کے لیے سائفر کا مبینہ استعمال کیاگیا، جیسا کہ اعظم خان کے ساتھ بات چیت میں انکشاف ہوا، ان کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ان کے قومی اسمبلی سے نکلنے اور صوبائی حکومتوں کو تحلیل کرنے پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ ارشادبھٹی کا کہنا ہے کہ خان کے جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ (کامران شاہد شو)

    لنک

    جیسے جیسے قانونی کارروائی شروع ہوئی.سیاسی تناؤ بڑھتا جاتا ہے، عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہو گا، جس کے اثرات پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر پڑتے ہیں۔

  • آنیوالی حکومت کے لیے چیلنجز، تجزیہ، شہزاد قریشی

    آنیوالی حکومت کے لیے چیلنجز، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے 8 فروری کے انتخابات کے بعد آنے والی حکومت کو بہت سی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی تبدیلی جس سے پاکستان اور عوام ، خوشحالی کی زندگی گزار سکیں۔ پاکستان کو کسی ایسے وزیراعظم کی ضرورت نہیں جو اقتدار او اختیارات کے خود بھی مزے لوٹے اور کابینہ کے ارکان بھی عیاشیاں کریں۔ اور عوام اندھیروں میں زندگی گزارے سب سے پہلا کام معیشت کو مستحکم کرکے ، بجلی اورگیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے ۔ بے روزگاری اور مہنگائی پر توجہ دے۔ ملکی وسائل پر توجہ دے کر ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے نجات دلائے ۔ خارجہ پالیسی پر از سر نو توجہ دے ۔ سیاستدانوں کو سڑکوں کی سیاحت سے نکل کر ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔دھرنا ہو گا مرنا ہوگا کی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست سے عوام بیزار ہو چکی ہے ۔

    دنیا میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں ۔ نئی پالیسیاں سامنے آرہی ہیں۔ سیاستدان ایک ذمہ دار قوم کا اور سیاستدان کا ثبوت دیں۔ صدق دل سے اس ملک و قوم کے لئے اپنے آپ کو تبدیل کریں۔ آج سے 40,30 سال بعد اس ملک کو چلانے کی ذمہ داری نوجوانوں پر ہوگی۔ پڑھے لکھے نوجوانوں پر خصوصی توجہ د یں انہیں کا ہل اورناکارہ نہ بنائیں نوجوانوں کو نااُمیدی کی غار میں دھکیل دیا گیا ہے نوجوان بھی اپنے آپ کو اس ملک کے لئے کسی کے پروپیگنڈے میں نہ آئیں وطن عزیز کو آپ پر ناز ہے وطن عزیز کا آپ مستقبل ہیں۔آنے والی حکومت سے گذارش ہے کہ آپ کی ترجیحات ہیں ۔ ملک کے نوجوان سر فہرست ہونے چاہئیں ان کے لئے روزگار کے لئے اچھی جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں۔ سیاسی گلیاروں میں ایسے ایسے منظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا تصور ممکن نہ تھا۔

  • 9وزیر اعظم،4عام انتخابات،2024انتخابات کتنےسابق وزرائے اعظم میدان میں؟

    9وزیر اعظم،4عام انتخابات،2024انتخابات کتنےسابق وزرائے اعظم میدان میں؟

    نجی ٹی وی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کی 70 سالہ سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اتنے حیران کن واقعات سامنے آئیں گے ، صرف وزرائے اعظم کے عہدہ سنبھالنے ، عہدے پر قائم رہنےا ور گھر روانگی کی تاریخ بھی بہت دلچسپ ہے ۔

    پاکستان کی 20سالہ انتخابی تاریخ کی بات کریں تو 4 جنرل الیکشن2002،2008،2013اور2018 کا انقعاد ہوا ۔آئین پاکستا ن کے مطابق وزیر اعظم بھی چار ہونے چاہیے مگر یہاں سابق وزیر اعظموں کی تعداد ڈبل سے ایک زیادہ یعنی9ہے۔ 9وزیر اعظم وفاق میں عوام کے نمائندے کے طور پر اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوئے۔سوال یہ ہے کہ 8فروری کو ہونے والے انتخابات میں کون کون سے سابق وزرائے اعظم حصہ لے رہے ہیں؟
    سابق وزرائے اعظم کن کن حلقوں سے الیکشن لڑیں گے؟
    ملک میں آئندہ ماہ ہونےوالے انتخابات میں صرف 4سابق وزرائے اعظم حصہ لے رہے ہیں ۔ان میں مسلم لیگ ن کے سربراہ اور تین بار وزیر اعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف اور ان کے بھائی میاں محمد شہباز شریف شامل ہیں جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی انتخابی میدان میں اپنی قسمت پھر سے آزمائیں گے۔یہ چاروں سابق وزرائے اعظم کن کن حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں انکی تفصیل درجہ ذیل ہے۔

    سابق وزیر اعظم میں محمد نواز شریف قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے اپنی قسمت آزمائیں گےجس میں کے پی کےضلع مانسہرہ حلقہ این اے 15اور پنجاب کے ضلع لاہور این اے 130 شامل ہیں ۔سابق وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ضلع لاہور سے این اے 123 سےضلع قصور سے این اے 132سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ضلع ملتان سے قومی اسمبلی کی نشست این اے148سے اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ضلع راولپنڈی سے این اے52 سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
    چاروں سابق وزرائے اعظم کے مد مقابل امیدوارکون؟
    پیپلزپارٹی کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے مد مقابل آزاد امیدوار (تحریک انصاف کے حمایت یافتہ۔انتخابی نشان پیالہ) طارق عزیز بھٹی ایڈووکیٹ ،مسلم لیگ ن کے راجہ محمد جاوید اخلاص اور جماعت اسلامی کے چودھری عابد حسین ہیں۔

    میاں محمد نواز شریف این اے 15 مانسہرہ سے حصہ رہے ہیں ۔اس حلقے میں ان کے مد مقابل آزاد امیدوار (تحریک انصاف کے حمایت یافتہ )شہزادہ محمد گستاسف خان ،جمعیت علماء اسلام نےمفتی کفایت اللہ ،پیپلزپارٹی کے زرگل خان،جماعت اسلامی کے خالد خان یوسفزئی ہوں گے۔لاہور این اے 130کی بات کریں تو یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا آبائی حلقہ اور گڑھ کہلاتا ہے۔اس حلقے سے نواز شریف کے مد مقابل آزاد امیدوار (تحریک انصاف کی حمایت یافتہ ،انتخابی نشان لیپ ٹاپ)ڈاکٹر یاسمین راشد، پیپلزپارٹی سے اقبال احمد خان،جماعت اسلامی کے خلیق احمد بٹ ہیں۔

    سابق وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف پنجاب سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔این اے 123لاہور سے ان کے مد مقابل آزاد امیدوار (تحریک انصاف کے حمایت یافتہ انتخابی نشان ریڈیو) افضال عظیم ایڈووکیٹ ،پیپلزپارٹی کے رانا ضیاء الحق،اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔

    ضلع قصور سے این اے 132سے ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار(پاکستان تحریک انصاف کا حمایت یافتہ۔انتخابی نشان کرکٹ وکٹ)سردار محمد حسین ڈوگر،پیپلزپارٹی کے شاہین صفدر اور جماعت اسلامی کے نعیم حیدر ہیں۔

    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مد مقابل آزاد امیدوار(تحریک انصاف کا حمایت یافتہ،انتخابی نشان گھڑیال)بیرسٹر تیمور ملک،مسلم لیگ ن کے احمد حسین ڈیہڑ ہیں ۔
    2018 ان حلقوں میں کون جیتا کون ہارا؟
    این اے 15مانسہرہ 2018 کے الیکشن میں اس حلقے سے مسلم لیگ ن کامیاب ہوئی،تحریک انصاف کے امیدوار زر گل 20ہزار ووٹوں کے مارجن سے ہار گئے تھے۔واضح رہے رزگل خان تحریک انصاف کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔این اے 130نواز شریف کے اس حلقےکی بات کریں تو 2018 کے انتخابات میں یہ حلقہ این اے 125تھا جہاں سے میاں محمد نواز شریف تا حیات نااہلی کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑ سکے تھے ان کی جگہ وحید عالم خان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر123066ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مد مقابل تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد17ہزار186ووٹوں کے مارجن سے شکست کھا گئی تھیں۔

    2018 میں یہ حلقہ این اے 132تھا جہاں سے میاں محمد شہباز شریف ہی کامیاب ہوئے تھے انہوں نے تحریک انصاف کے امیدوار محمد منشاسندھو کو 46ہزار 771ووٹوں سے شکست دی تھی۔سابق وزیر اعظم شہباز شریف جس حلقے سے الیکشن لڑ رہےہیں گزشتہ انتخاب میں اس حلقے سے راشید احمد خان 1لاکھ ووٹ لے کر کامیا ب ہوئے انہوں نے تحریک انصاف کےامیدوار سردار راشد طفیل کو 50ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔راجہ پرویز اشرف 2018 کےانتخابات میں اپنے حلقے سے 1لاکھ 25ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا حلقہ 2018میں این اے 154تھا تحریک انصاف کے احمد حسین ڈیہڑ کامیاب ہوئے تھے انہوں نے یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبد القادر گیلانی کے بیٹے کو 10ہزارو وٹوں کے مارجن سے شکست دی تھی۔واضح رہے احمد حسین ڈیہڑ اب مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے ہیں۔
    کیاان حلقوں میں اب بھی کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے؟
    انتخابی سیاست کا پہلا اصول ،انتخابی ٹکٹ اس حلقہ کا حاصل کیا جائے جہاں کامیابی یقینی ہو ۔اگر 4سابق وزرائے اعظم کےانتخابی حلقوں کو دیکھا جائے تو سب نے ان حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جہاں جیت یقینی ہو۔میاں محمد نواز شریف مانسہرہ سے اپنے داماد کپٹن صفدر کے آبائی حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔دوسرا اہم حلقہ لاہور گوالمنڈی مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے۔

    سینئر صحافی مبشر بخاری کا کہنا ہے کہ ’اس حلقے میں 2018کے مقابلے میں کانٹے دار مقابلہ نہیں ہو گا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جیل میں ہیں اور ان کی انتخابی مہم اس طرح سے نہیں ہو رہی جیسے گزشتہ انتخابات میں ہوئی۔

  • کرپٹ افسران کے اثاثے کیسے بڑھے، تحقیقات ضروری، تجزیہ: شہزاد قریشی

    کرپٹ افسران کے اثاثے کیسے بڑھے، تحقیقات ضروری، تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں پاک فوج کی کاوشیں اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی کاوشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ پولیس کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور میں تین دن رہنے کے بعد پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ۔ آئی جی پنجاب کی محکمانہ فلاح و بہبود سمیت لاہور کو جرائم پیشہ افراد سے محفوظ بنانے کی کاوش پر آئی جی پنجاب کی اور ان کی ٹیم کے کرداروں کو بالخصوص ڈی آئی جی احسن یونس جو سیف سٹی کے انچارج ہیں، لاہور کو محفوظ بنانے میں ان کے کردار کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ نگران وزیراعلیٰ کے جاری منصوبوں جو عوامی فلاح کے ہیں امید ہے الیکشن کے بعد کامیاب ہونے والی سیاسی جماعت جاری رکھے گی۔ سیف سٹی کا دائرہ کار پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں بڑھایا جا رہا ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی۔ پنجاب سمیت راولپنڈی میں تعینات قابل محنتی افسران تعینات ہیں لیکن کچھ افسران ایسے بھی تعینات ہیں جو نگران وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب کے لئے سوالیہ نشان ہیں.

    راولپنڈی میں تعینات سی پی او کی محنت ،تگ و دو کی وجہ سے اغواء برتاوان گاڑیوں کی چوریوں میں کمی واقع ہوئی لیکن کچھ ڈی ایس پی اور ایس پی کے عہدوں پر تعینات ایسے افسران ہیں جو اعلیٰ پولیس افسران کے لئے بدنامی کا باعث ہیں سیاستدانوں کے اثاثوں کی تحقیقات تو ہوتی ہیں اگر پنجاب سمیت راولپنڈی میں تعینات پولیس افسران کے اثاثوں کی تحقیقات ہوں تو عوام کو معلوم ہوگا کہ ان کے بھرتی کے وقت کیا اثاثے تھے آج بڑے بڑے فارم ہائوسز کے مالک کیسے بن گئے۔ لینڈ مافیاز، ڈرگز مافیا، سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والے افراد سے یارانے، بڑے بڑے جوئے کے اڈے چلانے والوں سے ماہانہ بھتہ، ڈی جی نیب کو سیاستدانوں کے علاوہ ان افسران کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دینا ہوگی۔

    بلاشبہ آنے والی حکومت اگر ایمانداری سے ملک چلانا چاہتی ہے تو اسے وطن عزیز اور عام آدمی کو ان مافیاز سے محفوظ بنانا ہوگا۔ ملکی وسائل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ حسد اور لالچ سے پاک سول بیورو کریسی افسران اور پولیس افسران کو تعینات کرنا ہوگا سچ پوچھئے تو پاکستان بطور ریاست کرپٹ ترین سیاستدانوں، کرپٹ ترین پولیس افسران سول انتظامیہ، قصیدے لکھنے ، بولنے والے دانشوروں سے تنگ آچکی یہ خدا کی زمین پر اور پاکستان پر بوجھ ہیں ان کو اتار پھینکیں۔

  • عام انتخابات  2024،چیلنجز اور حقائق

    عام انتخابات 2024،چیلنجز اور حقائق

    انتخابات سیاسی میراتھن کی انتہا نہیں بلکہ خاتمے کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں انتخابی مہم کے دوران بے دریغ اخراجات کئے جاتے ہیں، جہاں ایک نشست جیتنا اکثر مالی فوائد کا گیٹ وے بن جاتا ہے۔ 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار آزادانہ طور پر الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں، جواپنی سیٹ جیتنے کے بعد سب سے زیادہ قیمت لگوا ئیں گے، اس طرح سیاسی منظر نامے کو پیچیدہ بنا دیا جائے گا۔

    متنازعہ دعوے اور ناقابل عمل وعدے:
    تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن کی جانب سے بلے کا نشان واپس لئے جانے کے بعد خواتین کی مخصوص نشستوں اور اقلیتوں کی نشستوں سے محروم کر دیا گیا، اس عمل سے تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں سیٹوں کی کمی ہو گی،اس سے آزاد امیدواروں کو حکمت عملی کے مطابق پوزیشن حاصل کرنے کے لئے کہا جائے گا۔ اس اخراج کے بارے میں آگاہی غیر روایتی موقف اختیار کرنے کے خواہشمند دعویداروں کی تعداد کو محدود کر سکتی ہے۔
    مزید برآں، سیاسی جماعتیں ایسے وعدے کر رہی ہیں جو آئی ایم ایف کے معاہدوں کی خلاف ورزیوں یا حکومت کے محدود مالی وسائل کی وجہ سے ناقابل تکمیل لگتے ہیں۔ اس طرح کے وعدے، گدھے کے آگے گاجر لٹکانے کے مترادف، ووٹروں میں غیر حقیقی توقعات کو فروغ دینے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

    منشور اور منفی بیانیہ:
    مسلم لیگ ن کا منشور، جو ابھی تک سامنے نہیں آ سکا، انتخابی مہم کے دوران سیاسی پارٹیاں مخالفین پر سیاسی حملہ کرنے کے روایتی حربے میں مصروف ہیں،ایک دوسرے کو کالی بھیڑیں کہا جا رہا ہے، موجودہ سماجی و اقتصادی ماحول میں یہ بیانیہ تیزی سے ناقابل قبول سمجھا جا رہا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی، اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایک پر امید بیانیہ کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ بے بنیاد الزامات سے ہٹ کر عملی حل کی طرف توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی عدم موجودگی آمدنی میں اضافے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے،

    کمزور حکومت کی توقع:
    انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے؟ نظر آ رہا ہے کہ ایک کمزور حکومت بنے گی، سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے، ممکنہ طور پر قومی مفادات پر مبنی متفقہ فیصلوں پر سمجھوتہ کرنا، یہ کمزوری ملک کو آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے واپس لے آتی ہے، کیونکہ سیاسی استحکام معاشی استحکام کے لیے اہم بن جاتا ہے۔

    نتیجہ:
    جیسے جیسے پاکستان 2024 کے انتخابات کے قریب آ رہا ہے، اسے کثیر جہتی چیلنجوں کا سامنا ہے جو روایتی سیاسی بیان بازی سے آگے بڑھتے ہیں۔ جیت کے بعد مالی مذاکرات سے لے کر ناقابل عمل وعدوں تک، سیاسی منظر نامہ ایک باریک بینی کا تقاضا کرتا ہے۔ مستقبل کے معاملات کو نیویگیٹ کرنے کے لیے ایک پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے منفی بیانیے سے نکلنا، حقیقت پسندانہ حل پر توجہ، اور قومی مفادات سے وابستگی ضروری ہے۔

  • مسنگ پرسن اور واویلا،سب بے نقاب ہو گیا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسنگ پرسن اور واویلا،سب بے نقاب ہو گیا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    پاکستان کی 25 کروڑ عوام کو ایران سے یہ توقع نہیں تھی جو ایران نے کیا ۔ ایک طرف بھارت دوسری طرف احسان فراموش افغانستان، مسلح چھیڑ چھاڑ اس ماحول میں اب پاکستان کو بطور اسلامی ایٹمی پاور ریاست دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا ،پاک فوج کا اس موقع پر کردار قابل تحسین ہے ۔ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔مسنگ پرسن کو لے کر جو واویلا کیا جا رہا تھا اور پاک فوج اور جملہ اداروں پر الزامات لگائے جا رہے تھے وہ بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ۔ افسوس یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت پر مامور افواج اور جملہ اداروں کو ناحق تنقید کا نشانہ بنا کر اپنی سرزمین کے دشمنوں کو موقع فراہم کررہے ہیں۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اب مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

    اب اس جنگی ماحول میں انتخابات کیسے ہوں گے یہ ایک سوال ہے ،فوج پرائمری سکولوں میں انتخابات کی ڈیوٹی دے یا سرحدوں کی حفاظت کرے ۔ ؟ سیاسی جماعتوں کے قائدین آہستہ آہستہ انتخابی ماحول بنا رہے ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز نے جلسوں کا آغاز خود کردیا ہے مسلم لیگی رہنما اور نواز شریف کے قریبی ساتھی پرویز رشید نے بتایا کہ مزید جلسوں میں میاں نواز شریف خود شرکت کریں گے جبکہ بلاول بھٹو ، امیر جماعت اسلامی اور دیگر بھی جلسے کر رہے ہیں۔ تاہم یہ خبر نگران حکومت میں ملی ہے کہ آئی ایم ایف نے 70 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو دی ہے جبکہ یو اے ای نے قرض رول اوور کردیا ۔ اس وقت مہنگائی کو لے کر عام آدمی کی حالت قابل رحم ہے ۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بھاری بلوں نے عام آدمی کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے ۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔یہ عام آدمی وہ ہیں جو ملک کے حالات سے باخبر ہیں اور وطن عزیز کے ساتھ مخلص بھی ہیں اس وقت بُر ے حالات سے گزر رہے ہیں۔ ملک میں عد ل و انصاف قائم ہونا چاہیئے ۔ انصاف کا حصول ہر شہری کو بلا تفریق ہونا چاہیئے ۔

    ملکی سیاست میں دو سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں ایک جماعت نواز شریف کو لاڈلہ قرار دے رہی ہے یعنی عمران خان اور اُن کی جماعت ۔ کیا عمران نے جنرل مشرف( مرحوم) سے 70 سیٹیں نہیں مانگی تھی؟ کیا عمران خان کو جنرل ضیاء الحق نے بیٹا نہیں کہا تھا؟ کیا لاڈلہ بننے کی کوشش نہیں کی ؟ ۔ آپ کے 2018 ء میں ملاح کون تھے؟ جس کشتی میں سوار ہو کر وزارت عظمیٰ تک پہنچے ۔ اُس کشتی کے ملاح کون تھے ؟ بلاشبہ پی ٹی آئی مقبول جماعت اس پورے ملک میں مگر دوسروں پر الزام تراشی درست نہیں ، نواز شریف کو جواب میں بقول شاعر جواب دینا چاہیئے
    سورج کو لگے دھبہ قدرت کے کرشمے ہیں
    بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

  • بھارتی وزیر خارجہ کے ایران دورے کے موقع پر ایران کا پاکستان پر حملہ،مقاصد کیا

    بھارتی وزیر خارجہ کے ایران دورے کے موقع پر ایران کا پاکستان پر حملہ،مقاصد کیا

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ایران نے عین اس وقت تین اسلامی ممالک کے شہروں کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا بہانہ بنا کر حملہ کیا جب بھارتی وزیر خارجہ ایران کے دورے پر تھے۔ کیا ایران آیت اللہ خامنئی (مرحوم) کی پالیسی پر گامزن ہے یا بھارت کی خارجہ پالیسی پر؟ آیت اللہ خامنہ عالم اسلام کو ایک جگہ اکٹھا دیکھنا چاہتے تھے اسلامی ممالک کے شہروں پر حملہ ان کی پالیسی ہو ہی نہیں سکتی ،

    ایک طرف غزہ لہولہان ہے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں دوسری طرف ایران کی طرف سے پاکستان جو ایران کا ہمسایہ ملک بھی ہے اور اسلامی ریاست بھی بلوچستان پر راکٹ کے حملے نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردوں اور انتہاپسندی کا صفایا کر دیا ہے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن میں پاک فوج اور جملہ اداروں اور عوام نے جو قربانیاں دیں ایک عالم گواہ ہے آج بھی کبھی افغانستان کے ذریعے دہشت گردوں کو بھارت پاکستان میں داخل کر رہا ہے پاکستان ایک پرامن ملک ہے خطے میں امن چاہتا ہے پاکستان ایران سمیت افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک سے دوستی اور امن چاہتا ہے۔

    وزارت خارجہ نے اس واقعہ پر ایران سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا تاہم ایران کو بھی اپنی اس پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ تاکہ آئندہ کے لئے کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو جس سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے نائن الیون کے بعد بڑی قربانیوں کے بعد ملک میں امن بحال ہوا۔ دہشت گردوں نے پاکستان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا تھا۔ جانی اور مالی نقصان کی دنیا گواہ ہے۔

  • پاکستان کونازک موڑ پر پہنچانے والے کون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کونازک موڑ پر پہنچانے والے کون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    اہل سیاست اہل دانشور، یو ٹیوبر ، وی لاگر ، عام آدمی کو جو پہلے ہی ان گنت مسائل میں مبتلا ہے بتا رہے ہیں پاکستان نازک موڑ سے گذررہا ہے تاہم یہ نہیں بتا رہے کہ پاکستان کو نازک موڑ پر پہنچانے والے کون ہیں ؟ مظلوم اور معصوم عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے اپنے فالورز بڑھانے کے لئے ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکانے سے گریز کرنا ہو گا۔ امریکہ ایک بڑا مضبوط جمہوری ملک ہے وہاں پر بھی ایک چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہے۔ اسی طرح چائینہ سمیت مختلف ممالک میں چیک اینڈ بیلنس کے نظام موجود ہیں ۔ مصر میں جمہوریت آئی مگر صدر مرسی نے اختیارات کو اپنے گردجمع کرنا شروع کردیا پھر مصر میں مارشل لاء لگا اور مصر دوبارہ صدر حسنی مبارک کے زمانے کی طرف لوٹ گیا ۔ ترکی میں طویل مارشل لا گزرے پھر جمہوریت آئی۔ آج طیب اردوان کی شکل میں صدارتی نظام متعارف کرا دیا گیا ۔

    پاکستان کے آئین نے جمہوری حکومت اور ملک کے تمام اداروں کی حدیں مقرر کردی ہیں اگر آئین پرعمل کیا جائے تو پاکستان اور عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں صدقے دل سے وطن عزیز اور عوام کو مسائل سے نکالنے کے لئے اپنے منشور پر جو الیکشن میں دیا جائے اُس پر عمل کریں۔ ملک میں سیاسی رونقیں لگی ہیں۔ لاہور، کراچی اور ملک کے دیگر بڑے بڑے شہروں میں رونقیں یخ بستہ سردی کے موسم میں عوام کو گرمایا جا رہا ہے کہیں بلاول بھٹو ، کہیں جماعت اسلامی کے امیر ووٹروں کو گرما رہے ہیں۔ کہیں مریم نواز شریف اپنے مخصوص انداز میں ایک ماہر وکیل کی طرح عوامی عدالت میں ملک میں جمہوریت اور معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کررہی ہیں۔

    ایک بار پھر پنجاب کا شہر اوکاڑہ نواز شریف وزیراعظم کے نعروں سے گونج اٹھا۔ مریم نواز (ن) لیگ کا مقدمہ لڑنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی وہ (ن) لیگ اور نواز شریف کا مقدمہ عوامی عدالت میں لڑتی رہی ہیں۔ کراچی اور دیگر شہروں میں سیاسی قائدین کے سیاسی ڈیروں پر رونق لگی لاہور میں کسی زمانے میں بابائے سیاست نواب زادہ نصر اللہ مرحوم کے سیاسی ڈیرے آباد تھے آج کل لاہور میں نواز شریف لوٹ آئے ان کا سیاسی ڈیرہ مقبول ترین ہے اس طرح سیاست کا مرکز لاہور ہے۔ دیکھا جا رہا ہے کہ نواز شریف حالات پر نظرکس طرح رکھتے ہیں؟ موجودہ حالات کو وہ کس طرح اپنے حق میں ڈھالتے ہیں ۔اندھیرے مین ڈوبے پاکستان اور عوام کو روشنیوں کی طرف لے جانے میں کس طرح کامیاب ہوں گے۔