Baaghi TV

Category: سیاست

  • بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    الحمدللہ اس ارض پاک پاکستان کے باشندوں کو میرے رب نے بہت کشادہ قلب عطاء کیا ہے جس میں امت کا درد موجود ہے،الحمدللہ اس ارض پاک نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر امت کے مفلسوں،مظلوموں اور مصیبت زدگان کی مدد کی ہے جس کاماضی بھی گواہ ہے اور حال بھی گواہ ہے،1990 کی دہائی انسانی تاریخ کے اُن المناک ادوار میں شمار ہوتی ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، ظلم اور جبر نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا،یورپ میں بوسنیا کے مسلمان نسل کشی کا شکار ہوئے تو خطے میں پہلے سے جاری افغان جنگ نے بھی کروڑوں افراد کو دربدر کر رکھا تھا،دوسری سمت چیچنیا میں بھی جنگ نے لاکھوں چیچن لوگوں کو سخت پریشان کر دیا تھا،ایسے حالات میں پاکستان وہ ملک بن کر سامنے آیا جس نے نسل، زبان اور جغرافیہ سے بالاتر ہو کر مظلوم انسانوں کو گلے لگایا،1994 کے دوران بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں ظالم درندہ صفت سرب افواج کے ہاتھوں قتلِ عام، اجتماعی قبروں کی دریافت اور جبری ہجرت نے عالمی ضمیر کو ہلا دیا

    6 اپریل 1992 کو بوسنیا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا تو سرب فورسز نے جنگ شروع کر دی جس سے بوسنیا کے مختلف شہروں پر حملے شروع ہوئے،1992 تا 1993 میں بوسنیا کے شہر سرایوو، موستار، برچکو میں شدید لڑائیاں جاری رہیں اور شہری علاقوں میں محاصرے اور تباہی جاری ہو گئی،1993 میں اقوام متحدہ نے بوسنیا میں امن زونز کا اعلان کیا لیکن بہت سے علاقے محصور اور غیر محفوظ ہو گئے تو 1994 میں بوسنیا کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے،کچھ ممالک نے انہیں پناہ دی تھی جن میں پاکستان بھی شامل ہے جس نے مہاجرین کو عارضی پناہ دی تھی،یہ مہاجرین اسلام آباد اور گردونواح میں مقیم رہے تھے

    11 سے 31 جولائی 1995 کو سربرینیتسا نسل کشی میں تقریباً 8,000 بوسنیائی مسلمان مرد اور جوان لڑکے شہید ہوئے تھے
    نومبر 1995 کو امریکی ثالثی کے تحت ڈیتون امن معاہدہ پر مذاکرات شروع ہوئے،دسمبر 1995 کو Dayton Peace Accords پر دستخط ہوئے اور جنگ رسمی طور پر ختم ہو گئی اور بوسنیا کو دو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا جس کے بعد
    1996 تا 1997 تک مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع ہوا ، اس نازک وقت میں پاکستان نے نہ صرف بوسنیا کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کی تھی بلکہ ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو پاکستان لا کر عارضی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ دی جنہیں اسلام آباد اور دیگر محفوظ مقامات پر قائم کیمپوں میں عزت، تحفظ، خوراک، علاج اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں،جواب میں بوسنیائی باشندے آج بھی پاکستان کو خاص عزت دیتے ہیں

    یہی وہ پاکستان ہے جو اس سے قبل اور اس کے ساتھ ساتھ افغان پناہ گزینوں کا سب سے بڑا میزبان بھی بن چکا تھا
    سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان خاندان پاکستان آئے اور دہائیوں تک یہاں مقیم رہے،پاکستان کی عوام نے اپنی محدود وسائل کے باوجود افغان مہاجرین کو اپنے شہروں، دیہات، بازاروں اور گھروں میں جگہ دی، افغان پناہ گزینوں نے بھی پاکستان کی معیشت، مزدوری، تعمیرات، تجارت اور کاروبار میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستانی معاشرے کا حصہ بن کر رہے،وقت گزرتا گیا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گی جسکی بڑی حد تک اسلامی نظام سے مماثلت تھی تاہم اس کے باوجود بھی افغان باشندے اپنے وطن جانے کو تیار نا ہوئے کیونکہ ان کو علم تھا یہ امن بھی عارضی ہو گا،وقت گزرتا گیا اور افغان پناہ گزین جعلی طریقے سے شناختی کارڈ بنوا کر باقاعدہ پاکستان کے شہری بننا شروع ہو گئے،نیز ان افغان لوگ نے مختلف قسم کے جرائم کیساتھ ساتھ جنگی جرائم میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا جس سے پاکستان کو سخت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑانیز افغان گورنمنٹ نے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو کھلے عام پناہ دینا شروع کر دی جس کو پاکستان نے عالمی سطح پر درجنوں بار ثابت بھی کی مگر افعان اپنے میزبان پر بھاری ہوتا چلا گیا ہے مجبوراً پاکستان کو سختی سے ان کو نکالنا پڑا جو سلسلہ آج دن تک جاری ہے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب افغان باشندے موجود ہیں جس میں سے محض 20 فیصد سے بھی کم واپس گئے ہیں

    چیچنیا میں 1994 تا 1996 اور 1999 تا 2009 تک جنگی حالات،خانہ جنگی کے باعث کئی ہزار چیچن شہری جنگ اور تباہی سے بچنے کے لئے پاکستان آئے،یہ تعداد افغان یا بوسنیائی مہاجرین کے مقابلے میں بہت محدود تھی، ان مہاجرین کو بھی زیادہ تر اسلام آباد، راولپنڈی اور شمالی علاقوں میں عارضی رہائش اور امداد دی گئی،پاکستانی اسلامی تنظیموں اور خیراتی گروہوں نے انہیں خوراک، رہائش اور تعلیم کے مواقع فراہم کئے اور انہیں بلکل احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک غیر ملک میں ہیں بلکہ افغان و بوسنیائی پناہ گزینوں کی طرح انہیں بھی وہی ہسپتال ،سکول،کالجز و دیگر سہولیات مہیا کی گئیں جو ہر پاکستانی کے پاس تھیں مطلب ان کو ہر لحاظ سے ایک پاکستانی شہری کے برابر سہولیات حاصل تھیں، زیادہ تر چیچن مہاجرین نے جنگ کے بعد یا یورپ کے دیگر ممالک کی طرف واپس جانے یا منتقل ہونے کا راستہ اختیار کیا
    اور پاکستان کو بڑے باعزت طریقے سے خیر آباد کہا اور آج بھی وہ اس پاکستانی قربانی پر فطرت جذبات سے لبریز ہو کر پاکستان کو بڑی عزت و تکریم سے پکارتے ہیں

    ان تین ممالک کے مہاجرین کے علاوہ مملکت پاکستان نے پاک بھارت جنگ 1971 کے بعد بہت سے بنگلہ دیشیوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی جن میں سے بیشتر آج بھی پاکستان بھر خاص کر کراچی میں آباد ہیں،اسی طرح ایران میں 1979 کے رجیم چینج کے بعد سیاسی مخالفین اور اقلیتی شورش کے بعد بہت سے ایرانیوں نے صوبہ بلوچستان کے علاقوں میں پناہ لی ،عراق کی خلیجی جنگ 1991 کے بعد بیشتر عراقیوں نے پناہ کیلئے پاکستان کا رخ کیا جنہیں پاکستان نے خوش آمدید کہا ،ارض انبیاء مملکت شام میں 2011 کی خانہ جنگی میں بہت سے شامی مہاجر پاکستان میں پوری آزادی اور عزت سے رہے،قبلہ اول فلسطین کے باسی بھی مختلف ادوار میں خاص کر 1967 کے بعد پاکستان میں پناہ لینے پہنچے جہاں ان کو شاندار پروٹوکول کیساتھ مرحبا کہا گیا،اسی بناء پر وہ آج بھی پاکستان کو خاص پیار اور محبت سے نوازتے ہیں

    تاجکستان میں 1992 تا 1997 کے دوران تاجک خانہ جنگی کے نتیجے میں،پاکستان نے مظلوموں کے لئے اپنی مملکت کے دروازے کھولے اور انہیں عارضی پناہ فراخ دلی سے دی گئی تھی،2012 میں برما میں خانہ جنگی اور مسلم کشی کے دوران میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کے باعث بہت سے افراد پاکستان آئے تو انہیں عارضی رہائش، خوراک اور ابتدائی تعلیم فراہم کی گئی تھی، زیادہ تر یہ مہاجرین بعد میں دیگر ممالک منتقل ہو گئے تھے،جو کہ آج بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمیں پوری عزت کیساتھ قبول کیا گیا تھا،نیز آج بھی انڈین مقبوضہ کشمیر سے ہزاروں خاندان ہجرت کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں مکمل آزادی اور پوری عزت کیساتھ سکونت پذیر ہیں

    دنیا بھر کے مہاجرین کو پناہ دینے کے یہ واقعات پاکستان کی انسانیت اور مہمان نوازی کی مثال ہیں جہاں محدود تعداد کے مہاجرین کو بھی محفوظ پناہ دی گئی اور افغانستان کے بے یارو مددگار اور بے سروساماں کی بہت بڑی تعداد کو بھی گلے سے لگائے رکھا،آج جب مہاجرین کے مسئلے کو محض بوجھ سمجھا جاتا ہے، تو بوسنیا،چیچنیا اور افغان و دنیا بھر کے مسلمان مہاجرین کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کے لئے دروازے کھولیں ہیں چاہے وہ یورپ کے مسلمان ہوں یا ہمسایہ افغان بھائی یاپھر روس کی ریاست چیچنیا کے مسلمان ،پاکستان ہمیشہ حاضر رہا ہے

  • گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    نام تو اس کا’’ گل پلازہ ‘‘ تھایعنی پھول پلازہ ۔ ’’ گل ‘‘ ۔۔۔۔مطلب پھول جو دیکھنے میں بھی خوشنما ہوتا ہے لوگوں کے لئے خوشیاں بانٹتا اور خوشبو بکھیرتا ہے لیکن کراچی کا ’’ گل پلازہ ‘‘ لوگوں کے لیے موت کا کنواں اور دہکتا ہوا الاؤ بن گیا۔ ایسا الاؤ جس نے پھول نہیں، جس نے چشم زدن میں 80زندہ انسان جلائے۔گل پلازہ لوگوں کیلئے ایسا الاؤ بن گیا جس نے خوشبو نہیں، راکھ بکھیری۔ جس نے زندگی نہیں، موت بانٹی ۔ کراچی کے اس بدقسمت پلازے میں لگنے اور بھڑکنے والی آگ کوئی اچانک حادثہ نہ تھی، یہ برسوں سے سلگتی ریاستی بے حسی تھی جو اُس دن شعلوں کی صورت پھٹ پڑی۔ یہ آگ لکڑی، کپڑے یا کیمیکل سے نہیں لگی ۔ یہ آگ غفلت، لالچ، رشوت ، مجرمانہ خاموشی اور بدانتظامی سے لگی ہے ۔اب تک 80سے زائد زندگیاں اس الاؤ میں جل کر راکھ چکی ہیں۔لیکن اصل سانحہ اعداد و شمار نہیں بلکہ اصل سانحہ وہ 30 لاشوں کی باقیات ہیں جو ایک ہی دکان سے ملیں،وہ جلی ہوئی ہڈیاں، وہ ٹوٹے ہوئے دانت، وہ راکھ میں دبے سوختہ جسم جو اپنی شناخت اور پہچان تک کھو چکے ہیں ۔۔۔جن کا ڈی این اے تک بھی ممکن نہیں۔

    سوچئے! جب اپنے بیٹے کی راہ تکتی ماں کو لاش نہیں صرف راکھ ملے ، جب باپ کو قبر نہیں صرف ایک تھیلی دی جائے۔ جب ورثا سے کہا جائے کہ شناخت ممکن نہیں تو اس ماں کے درد اور انتظار کیا کا نام کیا رکھا جائے؟ یہ کیسا نظام ہے ، جہاں انسان جل کر راکھ ہو جائے مگر فائلیں زندہ رہیں؟ چیخیں جو فائلوں میں دب گئیں ، آگ کے شعلوں میں گھرے وہ معصوم بچے، جو آخری لمحے میں ماں کو پکار رہے تھے، وہ بزرگ جو چل نہیں سکتے تھے، وہ محنت کش جو رزق کی تلاش میں آئے تھے، وہ خواتین جو زندگی کی امید لے کر گھروں سے نکلی تھیں۔۔۔۔سب کی چیخیں نظام کی بہری دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آئیں۔ کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ، کوئی فائر الارم نہیں ، کوئی اسپرنکلر نہیں ، کوئی راستہ نہیں ، بس شعلے تھے ۔۔۔۔۔۔اور موت کے بھیانک قہقہے تھے ۔

    بلاشبہ یہ ایک درد ناک سانحہ اور المیہ ہے جس پر اب طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔ کوئی کہہ رہا ہے آگ شارٹ سرکٹ سے لگی اور کوئی کہہ رہا ہے کہ آگ اچانک لگ گئی ۔ کوئی کچھ کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ ۔ یہ تمام قیاس آرائیاں درحقیقت قاتل کو بچانے کی کوشش ہے۔ یہ آگ کسی دکان دار نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی مزدور نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی ، یہ آگ اچانک نہیں بڑھکی یہ آگ ان بچوں نے بھی نہیں لگائی جو اس میں زندہ جل گئے بلکہ یہ آگ اُس نظام نے لگائی ہے ،جو پلازے بنانے کی اجازت تو دیتا ہے ، مگر انسان بچانے کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ یہ آگ اس نظام نے لگائی ہے جو پلازے بنانے کی اجازت کو دیتا ہے لیکن پلازے کے مالکان کو سیفٹی فائر سسٹم کی تنصیب اور ہنگائی راستے بنانے کے احکامات جاری نہیں کرتا ۔

    ہم سمجھتے ہیں سانحہ گل پلازہ۔۔۔۔۔ حادثہ نہیں بلکہ اجتماعی قتل عام ہے ، یہ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نوحہ ہے۔ وہ مرد و خواتین جو صبح گھروں سے نکلے کہ شام کو بچوں کے لیے روٹی لائیں گے وہ شام کو خود کفن بن گئے۔ زندگی بھر کی وہ جمع پونجی جو دکانوں میں لگی تھی خود بھی جل گئی اور اپنے مالکوں کو بھی جلا گئی ۔ آج ان گھروں میں نہ ہنسی ہے ، نہ چراغ اور نہ امید ہے ۔۔۔۔۔۔صرف بین ہیں ، آہیں ہیں اور سناٹا ہے ۔
    گل پلازہ میں جلنے والوں میں کئی ایسے تھے جو آگ سے نہیں مرے بلکہ دم گھٹنے سے مرے ہیں ۔وہ لوگ جو سیڑھیوں کی طرف دوڑے مگر راستے بند تھے ، جو کھڑکیوں کی طرف لپکے مگر سلاخیں نصب تھیں، جو چھت کی طرف بھاگے مگر دروازہ مقفل تھا وہ سب آگ سے پہلے مایوسی میں مر گئے۔

    یہ کیسی عمارت تھی جس میں داخلہ تو آسان تھا مگر نکلنے کا راستہ نہیں تھا ؟ کراچی جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے معاشی شہ رگ ہے لیکن یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں بازار بنتے ہیںمگر زندگی کے لیے نہیں بلکہ موت کے لیے؟ آگ میں گھرے اور شعلوں میں لپٹے لوگوں نے یقینا باہر نکلنے کی ہر ممکن کوشش کی ہوگی ۔ انھوں نے مدد کیلئے اپنے پیاروں کوفون بھی کئے ہوں گے ۔ وہ آخری فون کالز جو کبھی نہیں ملیں ۔ اس سانحے میں کچھ موبائل فون جلے ہوئے ملے کچھ بجتے رہے مگر اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ کسی نے آخری لمحے ماں کو فون کیاہو گا کہ امی یہاں آگ لگ گئی ہے ! کسی نے دم آخریں بیوی کو پیغام بھیجا ہو گا کہ بچوں کا خیال رکھنا ۔ یہ وہ پیغامات ہیں جو موبائل میں محفوظ رہ گئے لیکن پیغام بھیجنے والے راکھ ہو گئے۔ کفن بھی پورا نہیں، قبر بھی ادھوری ہے یہ کیسا المیہ ہے کہ کچھ لاشوں کے لیے پورا کفن بھی میسر نہیں۔کہیں ہڈیوں کو کپڑے میں لپیٹا گیاکہیں راکھ کو ڈبوں میں رکھا گیااور ورثا سے کہا گیا یہی ہے جو بچ سکا ہے۔
    سوچیے!
    جس جسم نے عمر بھر مشقت کی جس ہاتھ نے بچوں کو پالا ، جس پیشانی نے سجدے کیے وہ اب چند ہڈیوں میں سمٹ گیااور ریاست کے ضمیر پر راکھ کی تہہ بن کر سوالیہ نشان بن گیا ۔

    اب تو تحقیقات نے بھی نظام کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ سانحے کے بعد تحقیقات ہوئیں تو سچ اور زیادہ بھیانک نکلا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کمشنر کراچی کو سات فائلیں پیش کیں تین فائلیں گل پلازہ کے زیر التواء عدالتی مقدمات کی باقی فائلیں خلافِ ضابطہ تعمیرات کی جو اپنے دامن میں دولت کی ہوس کی کئی المناک اور شرمناک داستان لیے ہوئے ہے ۔ یعنی یہ پلازہ غیر قانونی تھا، متنازع تھا اور خطرناک تھا ۔ پھر بھی آباد رہا ، کاروبار ہوتا رہا اور آخرکار یہ پلازہ کتنے ہی زندہ انسانوں کا مقتل اور مدفن بن گیا ۔پلازے کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تو ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے صرف 5 فیصد حصے میں فائر سیفٹی سسٹم۔ ہنگامی اخراج کے راستے ناپید اور آگ بجھانے کے آلات غائب !

    تو سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ۔۔۔۔۔؟ سانحے کا سب سے لرزا دینے والا پہلو یہ ہے کہ کئی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ ڈی این اے نہ ہونے کی وجہ سے باقیات ورثا کے حوالے کرنا بھی ایک کرب ناک مرحلہ بن چکا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز دروازے پر بیٹھتی ہے وہ بیوی جو ہر فون کال پر چونک اٹھتی ہے وہ بچہ جو پوچھتا ہے ابو کب آئیں گے؟

    ان سب کو کون جواب دے گا؟ آگ میں جل کر شہید ہونے والوں کے ورثا کا ایک ہی مطالبہ اور قوم کا بھی مطالبہ اور قوم کے ضمیر کی آواز بھی ہے کہ اگر آج بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور بازار، کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا۔ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں یہ پورے پاکستان کا المیہ ہے۔ہر شہر میں ایسے ہی جلتے ہوئے اور بارود کے ڈھیر پر کھڑے کمرشل اور رہائشی پلازے خاموشی سے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔

    سانحہ گل پلازہ میں ہمارے لیے سبق ہے کہ آئندہ کے لیے کمرشل اور رہائشی پلازوں کی تعمیر میں تمام تر حفاظتی اقدامات کئے جائیں ۔ اب صرف آنسو کافی نہیں، صرف بیانات کافی نہیںبلکہ فوری طور پر ملک گیر فائر سیفٹی ایمرجنسی، تمام کمرشل و رہائشی عمارتوں کافوری اور شفاف آڈٹ یقینی بنایا جائے ۔ بغیر سیفٹی عمارت بند کی جائیں ۔ اس لئے کہ سیفٹی کے بغیر پلازہ براہِ راست قتل گاہ ہے ۔ لہذا یسے تمام پلازے فوری سیل کیے جائیں اور ان کے مالکان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے ۔

  • کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی یہودی،سیاست ’’بازاری‘‘ کیوں؟ تجزیہ،شہزاد قریشی

    کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی یہودی،سیاست ’’بازاری‘‘ کیوں؟ تجزیہ،شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاستدانوں نے ملکی وقار ،اقدار کا جنازہ نکال دیا،الزام تراشی جمہورٹھہری
    ہر ریاست میں زمینی حقائق پر فیصلے ہوتے ہیں ،پاکستان کو استثنیٰ حاصل نہیں
    سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت،معیشت کی مضبوطی اور بہترین خارجہ پالیسی ہونا چاہیے
    مشکلات کے باوجود مملکت خداداد قائم،پاک فوج نے ہمیشہ دوام بخشا،خون سے آبیاری کی
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    سیاست یا الزام تراشی؟پاکستانی سیاست ایک طویل عرصے سے ایک خطرناک روش پر گامزن ہے، جہاں دلیل، کارکردگی اور عوامی خدمت کی جگہ الزام تراشی، بہتان اور ایک دوسرے کو ’’ایجنٹ‘‘ قرار دینے کا چلن عام ہو چکا ہے، کوئی یہودی ایجنٹ ہےتوکوئی بھارتی،یہ وہ زبان ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے آ رہے ہیں، افسوس کہ اس روش نے قومی سیاست کو تماشا بنا دیا ہے،یہ طرزِ سیاست نہ صرف قومی وقار کے منافی ہے بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہے، پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، جس کے اپنے مفادات، ترجیحات اور عالمی ذمہ داریاں ہیں،بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات میں ہر ریاست کو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں، پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں، ریاستی فیصلوں کو بیرونی ایجنڈے سے جوڑنا دراصل اپنی ہی ریاست کی کمزوری کا اعلان کرنے کے مترادف ہے،سیاست کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کا حل، معیشت کی بہتری، خارجہ محاذ پر مؤثر کردار اور داخلی استحکام ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست ذاتی دشمنیوں اور وقتی فائدے کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، اختلافِ رائے کو غداری اور سیاسی مقابلے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے، جس کا نقصان براہِ راست عوام اور ریاست دونوں کو ہو رہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اگر آج پاکستان اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود قائم ہے تو اس کے پیچھے پاک فوج اور دیگر ریاستی اداروں کی قربانیاں، استقامت اور ذمہ دارانہ کردار شامل ہے،ان اداروں نے ہر مشکل وقت میں ریاست کو سہارا دیا،سیاسی قیادت اکثر باہمی لڑائیوں میں الجھی رہی، قوم اب اس تماشے سے اکتا چکی ہے، عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مہنگائی کیسے کم ہو گی،روزگار کیسے بڑھے گا، تعلیم اور صحت کے شعبے کیسے بہتر ہوں گے، اور پاکستان عالمی برادری میں ایک باوقار اور مضبوط کردار کیسے ادا کرے گا۔

    ’’ایجنٹ‘‘ کے نعروں سے معیشت سنبھلتی ہے نہ ریاست مضبوط ہوتی ہے،وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، الزام تراشی ترک کریں، کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کریں اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں، اگر سیاست کا معیار یہی رہا تو تاریخ سخت سوال کرے گی کہ جب ملک کو سمت کی ضرورت تھی،تب رہنما تماشے میں مصروف کیوں تھے،پاکستان کو نعروں کی نہیں، وژن کی ضرورت ہے

  • ٹرمپ کے   کلب میں خوش آمدید  ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ٹرمپ کے کلب میں خوش آمدید ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    انوار الحق کاکڑ 14 اگست 2023 سے 3 مارچ 2024 تک پاکستان کےآٹھویں نگراں وزیر اعظم رہے ،انوار الحق کاکڑ کو سمجھا جاتا ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے نمائندہ کے طور پر سامنے آتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ نگران وزیر اعظم کیلئے ان کا نام شہباز شریف نے دیا تھا اور شہباز شریف کن کے آدمی ہیں آج اس حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے۔ نگران وزیر اعظم کا نام اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے ذریعے دیا جانا تھا اور راجہ ریاض نے صادق سنجرانی سمیت 2 قریبی ساتھیوں کے نام دئیے تھے جبکہ شہباز شریف نے دوسری ملاقات میں راجہ ریاض کو انوارالحق کاکڑ کے نام کی پرچی دیکر کہا تھا کہ نام تجویز کریں، انوارالحق کاکڑ کے علاوہ شہباز شریف نے راجہ ریاض کو کوئی اور نام دیا ہی نہیں تھا، اب آپ کو واضح ہو جانا چاہیے کہ کاکڑ صاحب کتنے اہم ہیں اور کن کے اہم ہیں۔

    چوبیس جنوری 2026 کو انوار الحق کاکڑ نے ایک سخت بیان دیا جو کہ ان کا اپنا تجزیہ یا موقف نہیں بلکہ انہی اہم لوگوں کا پیغام تھا جنہوں نے نگران وزیر اعظم بنوایا تھا، کاکڑ صاحب نے نرم لہجے میں گرم بات کر کے بتایا کہ ٹرمپ کے غزہ پیس پلان میں شامل ہونا حکومت کا فیصلہ ہے کل کو اس کے نتائج بھی حکومت کو ہی بھگتنے پڑیں گے، کاکڑ صاحب کا یہ بیان ایک دھماکہ ہے ان لوگوں کیلئے جو آج ٹرمپ اور امریکہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ 28 مئی 1998 کو جب پاکستان نے امریکہ کی مخالفت کر کے ایٹمی حملے کر دئیے تو جنگ نیوز کی شہہ سرخی تھی کہ پاکستان کی امریکہ کو جھنڈی۔آج کے منظر نامے کے بعد مجھے خدشہ ہے کہ دشمن ملک کو یہ موقع نہ مل جائے کہ اپنے اخبارات میں شہ سرخی لگائیں کہ امریکہ کی مشرقِ وسطی کو جھنڈی ۔ معذرت کہ ساتھ کہ عامر خان کی فلم پی کے کا یہ ڈائیلاگ تو نہیں کہہ سکتا کہ سرفراز دھوکہ دے گا لیکن یہ بات میں بہت سوچ سمجھ کہ کہہ رہا ہوں کہ امریکہ پاکستان کو دھوکہ دے گا۔ اور اسی بات کا خطرہ انوار الحق کاکڑ کو ہے دوسری جانب بڑوں نے انوارالحق کاکڑ کے ذریعے پیغام پہنچا کر خود کو بیچ میں سے نکال دیا ہے کہ یہ فیصلہ تو در اصل حکومت کا ہے مقتدرہ کا نہیں۔ کل جب اللہ نہ کرے بُرا وقت آئے گا تو بڑے بیچ میں سے نکل جائیں گے اور ووٹ کو عزت دینے والوں کا نعرہ واپس آ جائے گا اور عمران خان کی طرح کہہ رہے ہوں گہ ہمیں استعمال کیا گیا تھا۔

    انوار الحق کاکڑ مارچ 2018 میں مسلم لیگ ن کی حمایت سے آزاد حیثیت سے چھ سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم اسی مہینے وہ مسلم لیگ ن سے منحرف ہونے والے اس گروپ کا حصہ بن گئے تھے جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی ۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ سیاست کی نگری میں احسان کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ طاقت اور طاقتوروں کی ہاں میں ہاں ہی کامیابی کا راز ہے کیو نکہ وہ کہتے ہیں ہو جا تو سب کچھ ہو جاتا ہے۔مجھے کبھی لگتا ہے کہ اُن کو بھی امریکہ کی چالوں کا پتہ ہے لیکن وہ نزلہ کبھی بھی خود پر نہیں آنے دیں گے۔

    مسلم ممالک میں امن کے نام پر پچھلے 60 سالوں میں جو اُدھم مچا ہوا ہے اس کی کوئی بات نہیں کرتا ، امریکہ اور مغرب ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے نام پر آئے ، پچھلے چالیس سال سے امن کے نام پر سوا پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کو مار دیا ہے۔ مغرب کے کسی ملک میں ایسی کوئی جنگ نہیں ہوئی جہاں پچھلے چالیس سال میں جہاں امریکہ نے مداخلت کر کے کہا ہو کہ امن کیلئے ہم آئے ہیں پھر اسی ملک پر قبضہ کر لیا ہو۔ پہلے افغانستان، پھر شام، عراق اور ایران میں آج کچھ جاری ہے سب کے سامنے ہے۔ صر ف غزہ فلسطین میں 62 ہزار سے زائد لوگ شہید اور 31 لاکھ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں لیکن تب امریکہ اور ان مغربی طاقتوں کو امن یا د نہیں آیا ، آج غزہ بورڈ آف پیس کے نام سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ذاتی کلب بنا چکے ہیں جس میں 60 ہزار بچوں اور خواتین کا قاتل نیتن یاہو بھی شامل ہے۔

    الجزیرہ نے پیس بورڈ تقریب کے دن ہی ٹرمپ کے اس ڈھونگ کا پردہ فاش کیا اور بتایا کہ ٹرمپ بورڈ آف پیس میں 11 صفحات کے چارٹر میں جس میں8 چیپٹر اور 13 آرٹیکل ہیں ، ایک بار بھی غزہ کا نام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسا غزہ امن بورڈ ہے جس میں غزہ ہی شامل نہیں جبکہ ظلم کرنے والا اسرائیل اور اسکا حمایتی امریکہ شامل ہے۔ جس دن بورڈ پر دستخط کیلئے ایک میدان لگا اسی دن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ ۔ جابر بادشاہوں اور قانون کو مطلوب مجرموں کا گروہ ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہو گیا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کی 8 قرار دادیں امریکہ نے جبکہ 6 اسرائیل نے ویٹو کیں اب وہی امریکہ غزہ میں امن لائے گا، کیسا انصاف اور نظام جبکہ اس کو ماننے والے اندھے، گھونگے اور بہرے بن چکے ہیں۔ نائب وزیر اعظم آئرلینڈ نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں سنگین خطرات کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔

    دنیا میں یہودی آبادی کل ڈیڑھ کروڑ کے قریب جبکہ مسلمان دو ارب ہیں۔ یہودی حاکم اور غالب ہیں جبکہ مسلمان محکوم اور مغلوب۔ ایسا کیوں؟ یروشلم پوسٹ جو کہ اسرائیل کا اخبار ہے اس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی آذربائیجان سے تیل کی درآمد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اسرائیل ترک بندرگاہ کے ذریعے آذربائیجان سے تیل درآمد کرتا ہے، اسرائیل اپنے ضرورت کا 46% تیل آذربائیجان سے خریدتا ہے ۔میری نظر میں غزہ و فلسطین کو دھوکہ دینے والے سب سے بڑے منافق یہ مسلم ممالک ہیں ۔سب مسلم ملک ساتھ مل گئے اور کافر سمجھے جانے والے ممالک ظلم کے خلاف کھڑا ہونے سے انکاری ہیں۔

    جس دن غزہ امن بورڈ پر دستخط ہو رہے تھے اس دن غزہ میں اسرائیل کے حملے سے 11 فلسطینی شہید ہوئے، غزہ میں چھ بہنوں کا 17 سالوں کے بعد پیدا ہونے والا والدین کا اکلوتا بیٹا شدید سردی سے جاں بحق ہو گیا۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ کونسا امن اور کونسا بورڈ؟ آپ اندازہ کریں صرف وہ ممالک جہاں ڈکٹیٹر شپ، آمرانہ نظام، شاہی حکومتیں، ہابرڈ نظام والا ڈرامہ ہے وہ ہی ٹرمپ کے ساتھ اس بورڈ میں شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان اسرائیل،اردن،آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، ویتنام،قازقستان،ارجنٹینا،بیلاروس، مراکش ۔تو کیا فرانس، برطانیہ، اٹلی میں اتنے بڑے غزہ کے حق میں جو مظاہرے ہوئے تھے وہ لوگ اور حکمران اسرائیل ، امریکہ کی چالوں سے واقف نہیں تھے ؟

    کہتے ہیں کہ جب تک کوئی مشورہ نہ مانگے تو نہیں دینا چاہیے لیکن میں ملک کی محبت میں طاقتوروں کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ابھی وقت آپ کا ہے ۔سوچ لیں کہ مستقبل قریب میں یہ نہ کہنا پڑے کہ ہمیں ڈیووس میں زبردستی لے جا یا گیا تھا اور ہم مجبور تھے اور اگر مجبور ہیں تو انوارالحق کاکڑ کی بات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ ریاست ماں ہوتی ہے اور پاکستانی معاشروں میں ماؤں کی عزت کیا ہے یہ لیکچر ہمیں آج سے 78 سال پہلے ایک سیاستدان نے دیا تھا۔ لہذا اگر مجبوری ہے تو بتائیں کہ مجبور کیوں ہوئے اور کس کے کہنے پر ؟ اور اگر اتنے مجبور ہیں کہ زبان پر کچھ نام آتے ہی پھسل جاتی ہے تو پھر آپ سب کو صدر ٹرمپ کے ذاتی کلب میں خوش آمدید۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوال مزید گہرا اور سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی شکایات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے، خصوصاً پنجاب، آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر حکمرانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، سرائیکی خطہ اور کراچی جیسے علاقوں میں یہ احساس مسلسل بڑھ رہا ہے کہ فیصلے اُن کی ضروریات کے مطابق نہیں ہو پاتے۔ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی کے لیے غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
    نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بہتر گورننس کو یقینی بناتے ہیں۔ جب دارالحکومت قریب ہو، فیصلہ سازی مقامی سطح پر ہو اور وسائل کی تقسیم علاقائی ضروریات کے مطابق کی جائے تو عوامی مسائل زیادہ تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی کئی کامیاب ریاستیں اسی ماڈل پر چل رہی ہیں جہاں انتظامی تقسیم کو ترقی کا ذریعہ بنایا گیا۔
    تاہم اس بحث کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی نہیں بلکہ ایک حساس آئینی اور سیاسی معاملہ ہے۔ اگر یہ عمل لسانی، نسلی یا سیاسی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے بھاری مالی وسائل، نیا انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے، جو اس وقت ایک مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔
    اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر اور کس مقصد کے تحت بننے چاہئیں۔ اگر مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، محرومیوں کا ازالہ اور ریاستی نظام کو مؤثر بنانا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ مطالبہ صرف سیاسی نعرہ یا وقتی فائدے کے لیے ہو تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر جذبات کے بجائے قومی مفاد، آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ ایک غیر جانبدار قومی کمیشن کے ذریعے آبادی، وسائل، انتظامی صلاحیت اور عوامی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ وسیع سیاسی مکالمہ اور اتفاقِ رائے کے بغیر اس سمت میں کوئی بھی قدم ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔
    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے عوام کی زندگی آسان بنانے، ریاست کو مضبوط کرنے اور احساسِ محرومی کم کرنے کا ذریعہ بنیں، تو یہ ایک قابلِ غور آپشن ہے—لیکن شرط یہ ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی، سیاست یا تقسیم کے بجائے تدبر، شفافیت اور قومی وحدت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

  • ٹرمپ امن بورڈ ، امید، خدشات اور عالمی سیاست،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ٹرمپ امن بورڈ ، امید، خدشات اور عالمی سیاست،تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیا گیا ’’ٹرمپ امن بورڈ‘‘ عالمی سیاست میں ایک نیا اور غیر روایتی اقدام ہے، جس میں مختلف ممالک کی شمولیت نے بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔ اس فورم کو بظاہر غزہ سمیت دیگر تنازعات میں جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    اس اقدام کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ طویل عرصے سے جاری خونریزی اور عدم استحکام کے شکار خطوں میں امن کی کوششوں کے لیے ایک نیا مکالمہ شروع ہوا ہے۔ اگر مختلف ممالک خلوصِ نیت کے ساتھ اس فورم کے ذریعے عملی اقدامات کریں، انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور متاثرہ عوام کی آواز کو سنا جائے تو یہ کوشش قابلِ ستائش قرار دی جا سکتی ہے۔

    تاہم، اس کے ساتھ سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے پہلے ہی امن، ثالثی اور انسانی حقوق کے لیے موجود ہیں۔ ایسے میں ایک نیا بورڈ کہیں بین الاقوامی اتفاقِ رائے کو تقسیم نہ کر دے۔ مزید یہ کہ بعض بڑی عالمی طاقتوں اور یورپی ممالک کی عدم شمولیت اس فورم کی عالمی ساکھ اور مؤثریت پر سوالیہ نشان ہے۔

    اصل کسوٹی یہ نہیں کہ کتنے ممالک اس بورڈ میں شامل ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ فورم عملی طور پر جنگ بندی، انصاف پر مبنی حل اور متاثرہ عوام کی بحالی میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ پلیٹ فارم محض سفارتی بیانات، سیاسی مفادات یا طاقت کے توازن تک محدود رہا تو امن ایک بار پھر ایک نعرہ ہی بن کر رہ جائے گا۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں امن کو سیاسی برتری کا ہتھیار بنانے کے بجائے انسانیت کے مشترکہ مقصد کے طور پر اپنائیں۔ ٹرمپ امن بورڈ اسی صورت میں کامیاب کہلائے گا جب وہ طاقت کے بجائے انصاف، مفاد کے بجائے انسان اور سیاست کے بجائے پائیدار امن کو ترجیح دے۔

  • مریم نواز کی خوش قسمتی، تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی خوش قسمتی، تجزیہ:شہزاد قریشی

    میرے نزدیک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں نہایت پیشہ ور، دیانتدار اور قوم سے مخلص پولیس افسران کی ٹیم ملی ہے۔ لاہور میں امن و امان، سیف سٹی کا مؤثر کردار اور رات گئے فیلڈ میں موجود اعلیٰ افسران اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اور پولیس ایک صفحے پر ہیں۔ یہی تسلسل رہا تو لاہور مزید ترقی کرے گا۔ میرے نزدیک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں پنجاب میں نہایت قابل، مخلص اور پیشہ ور پولیس افسران کی ٹیم میسر آئی ہے جو صوبے بالخصوص لاہور میں امن و امان کی صورتِ حال کو مؤثر انداز میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ افسران نہ صرف اپنی قوم سے خلوص رکھتے ہیں بلکہ نظم و ضبط، دیانت اور دینی اقدار کے بھی پابند ہیں۔ میں اس وقت لاہور میں موجود ہوں اور اگر عام شہری سے پوچھا جائے تو ایک واضح رائے سامنے آتی ہے کہ موجودہ دور میں لاہور میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کا کردار قابلِ تحسین ہے، جسے اب بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے اور غیر ملکی ماہرین آ کر اسے ماڈل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو پنجاب پولیس کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔

    لاہور جیسے بڑے شہر میں رات بارہ بجے تک پولیس کے اعلیٰ افسران کا خود فیلڈ میں موجود ہو کر نگرانی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قیادت اور عمل درآمد میں سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ آئی جی پنجاب، ڈی جی سیف سٹی، ڈی آئی جی آپریشنز اور دیگر افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔اگر یہی ٹیم اور یہی نظم و ضبط آئندہ دو برس برقرار رہا تو ان شاء اللہ لاہور نہ صرف امن کے اعتبار سے بلکہ ترقیاتی اور انتظامی لحاظ سے بھی ایک مثالی شہر بن کر ابھرے گا۔ بلاشبہ مریم نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسے افسران میسر آئے ہیں۔

  • بلوچستان کی سمت درست، فیصلے، اصلاحات اور ریاستی سنجیدگی،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان کی سمت درست، فیصلے، اصلاحات اور ریاستی سنجیدگی،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان طویل عرصے سے جن مسائل، شکوک اور ابہامات کا شکار رہا ہے، ان میں سرفہرست مسنگ پرسنز، کمزور گورننس، قانون کی غیر مؤثر عملداری اور ادارہ جاتی خلا شامل رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 22 واں اجلاس ریاستی سنجیدگی، سیاسی اعتماد اور انتظامی جرات کا واضح اظہار بن کر سامنے آیا ہے۔سب سے اہم اور غیر معمولی پیش رفت مسنگ پرسنز کے مسئلے پر مستقل اور قانونی فریم ورک کی منظوری ہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جسے برسوں تک سیاسی نعرے، جذباتی تقریریں اور بیرونی پروپیگنڈا تقویت دیتا رہا۔ مگر اس اجلاس میں حکومت نے جذبات کے بجائے قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے امتزاج کے ساتھ ایک واضح راستہ اختیار کیا۔ بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن رولز 2025 کے تحت مشتبہ افراد سے تفتیش مجاز پولیس افسر کی نگرانی میں ہوگی، اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے گی اور غیر قانونی حراست کے الزامات کا راستہ بند کیا جائے گا۔ یہ اقدام دراصل ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی بحالی کی کوشش ہے۔

    اسی تناظر میں بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریزم کی منظوری اس امر کی غماز ہے کہ حکومت دہشت گردی کو محض بندوق سے نہیں بلکہ فکر، تحقیق اور بحالی کے ذریعے بھی شکست دینا چاہتی ہے۔ یہ ایک جدید ریاستی سوچ ہے جو اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ انتہاپسندی صرف سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور فکری چیلنج بھی ہے۔کابینہ کی جانب سے وٹنیس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی منظوری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گواہوں کا خوف رہا ہے۔ اگر مدعی اور گواہ محفوظ نہیں تو عدالتیں بھی بے بس ہو جاتی ہیں۔ اس قانون سازی سے دہشت گردی اور سنگین جرائم کے مقدمات میں انصاف کی امید کو تقویت ملے گی۔

    انتظامی سطح پر دیکھا جائے تو میرٹ اور ڈیجیٹلائزیشن پر کابینہ کا زور خوش آئند ہے۔ محکمہ خزانہ میں آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے بھرتیوں پر اطمینان اور تمام محکموں میں مرحلہ وار ڈیجیٹل بھرتیوں کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اب سفارش کے نظام سے نکلنے کا عملی ارادہ رکھتی ہے، جو بلوچستان جیسے صوبے کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے۔انتظامی اصلاحات کے تحت پشین اور کوہ سلیمان کے نئے ڈویژن، زیارت کو لورالائی کے ساتھ منسلک کرنا اور بلدیاتی سطح پر نئی میونسپل کمیٹیوں کی منظوری عوامی سہولت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی طرف قدم ہے۔ اسی طرح محکمہ مذہبی امور کا خاتمہ اور ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ حکومتی ڈھانچے کو سادہ اور مؤثر بنانے کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

    تعلیم کے شعبے میں جعلی ڈگریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، کنٹریکٹ اساتذہ کی اسناد کی تصدیق اور جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر کی ہدایت اس پیغام کو واضح کرتی ہے کہ علم کے شعبے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ قومی نصاب کو 2026-27 سے صوبائی نصاب کا حصہ بنانا اور کوالٹی ٹیچرز کے لیے خصوصی پروگرام بھی دیرپا تعلیمی اصلاحات کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔چائلڈ لیبر کے خلاف 16 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت پر پابندی ایک ایسا فیصلہ ہے جو بلوچستان کو سماجی انصاف کی سمت میں لے جاتا ہے، جبکہ کوئٹہ میں فوڈ اسٹریٹ کے منصوبے جیسے اقدامات شہری زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش ہیں۔

    مختصراً، یہ کابینہ اجلاس بیانات سے زیادہ فیصلوں کا اجلاس تھا۔ اصل امتحان اب ان فیصلوں کے مؤثر اور غیر جانبدارانہ نفاذ میں ہے۔ اگر یہ قوانین اور اصلاحات زمینی سطح پر اسی روح کے ساتھ نافذ ہو گئیں جس کا اعلان کیا گیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان واقعی عارضی نعروں سے نکل کر مستقل حل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

  • جنید صفدر کی شادی ، وزیراعلی پنجاب کی شاہ خرچیاں . تحریر: عائشہ اسحاق

    جنید صفدر کی شادی ، وزیراعلی پنجاب کی شاہ خرچیاں . تحریر: عائشہ اسحاق

    گزشتہ دنوں وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی نہایت شان و شوکت سے ہوئی۔ جو وزیراعلی صاحبہ کی اپنی ہی عائد کردہ ون ڈش پا لیسی کے بیان پر طمانچہ ثابت ہوئی۔ اس سے واضح ہے کہ یا تو وزیراعلی صاحبہ کی یاداشت کمزور ہے یا وہ اپنی طاقت کے نشے میں ہیں اور اس قدر پر اعتماد ہے کہ انہیں ان کی ایسی من مانیوں پر کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا۔ مغلیہ دور کی شاہانہ طرز زندگی اپنائے ہوئے بھارتی ڈریس ڈیزائنرز کے ڈیزائن کردہ قیمتی ملبوسات، بیش بہا قیمتی زیورات، دیگر غیر ملکی برانڈز پہنے ہوئے خاتون کی یہ تیاری انڈین اداکارہ سے کم نہیں یہ کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ ہیں جو اپنے ہی بیان میں کہتی رہیں کہ ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں۔ اس کے علاوہ ان کے باقی ٹولے نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔

    ان سے پوچھا جائے کہ اخر یہ شاہ خرچیاں کہاں سے ہوئی ہیں ؟ایسے سیاست دان اندھی، لولی اور بہری عوام کو کہتے ہیں کہ پاکستان نازک حالات سے گزر رہا ہے ملکی خزانہ خالی ہے جب کہ خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور عوام بھوک و افلاس اور دیگر مسائل میں سسک رہی ہے بات وہی ا جاتی ہے کہ ایک مخصوص ٹولہ 25 کروڑ عوام کے حقوق کو دبائے ہوئے ہے اور عوام غفلت کا شکار ہے ان کے مکاریاں عیاریاں اور دھوکے بازیاں مکمل طور پر عیاں ہیں عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

  • گوجرخان ترقی کی شاہراہ پر بکھرتا ایک خواب،تحریر :  قمرشہزاد مغل

    گوجرخان ترقی کی شاہراہ پر بکھرتا ایک خواب،تحریر : قمرشہزاد مغل

    مصلحت کوش مفسر! مری جرات تو دیکھ
    جس کو سب کہتے ہیں اندھیر، اسے رات تو دیکھ
    شہر در شہر بکھرتی ہوئی اس خلقِ خدا
    کی تباہی میں ذرا اپنے بھی حالات تو دیکھ

    کہنے کو تو گوجرخان پوٹھوہار کا دل ہے، لیکن آج یہ دل حکومتی بے حسی، انتظامی نااہلی اور سیاسی یتیمی کے باعث سسک رہا ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع یہ اہم ترین تحصیل، جو لاکھوں کی آبادی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، آج اپنے بنیادی حقوق کے لیے پکار رہی ہے۔ کیا یہ وہی پاکستان ہے جسے ہم 2026 میں ایک جدید ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے؟ تحصیل گوجرخان کی آٹھ سے دس لاکھ کی آبادی کے لیے ایک مکمل ہسپتال تک موجود نہیں۔ گوجرخان کے وسط سے گزرنے والی جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا بے ہنگم اژدھام اب صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع بن چکا ہے۔ فلائی اوور کی عدم موجودگی کسی المیہ سے کم نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں شہروں کے بیچ سے گزرنے والی شاہراہوں پر سگنل فری کوریڈورز اور فلائی اوورز دہائیوں پہلے بنائے جا چکے ہیں، مگر یہاں کی عوامی ضرورت کو فائلوں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ کیا حکمران کسی بڑے حادثے کے منتظر ہیں؟ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے لب پر واقع اس ہسپتال میں، جہاں ہر لمحہ حادثات کا خدشہ رہتا ہے، ایک نیورو سرجن تک میسر نہیں۔ ہیڈ انجری کا مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑتا ہوا پونے گھنٹے کی مسافت طے کر کے راولپنڈی جانے پر مجبور ہے، اور اکثر یہ سفر آخری سفر ثابت ہوتا ہے۔ شعبہ صحت کا منہ چڑاتی یہ حقیقت کہ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کلاس فور ملازمین کے رحم و کرم پر ہے جبکہ دو بجے کے بعد ایکسرے ڈیپارٹمنٹ عموما بند ملتا ہے جو صحت کے نظام پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

    مزید برآں یہاں کے باسیوں کا خون اتنا سستا ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات میسر نہیں محض چار لیب ٹیکنیشنز پر بلڈ بینک اور لیبارٹری کا چوبیس گھنٹے بوجھ ڈالنا انسانیت سوز رویہ ہے۔ جو او پی ڈی کے علاوہ لیبر روم، آپریشن تھیٹر سمیت دیگر ٹیسٹ 24 گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔جدید دور میں جہاں دنیا سمندر کے پانی کو میٹھا بنا کر گھر گھر پہنچا رہی ہے، گوجرخان کے شہری بھاری بھرکم بل بھرنے کے باوجود پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ سرکاری پانی کی سپلائی کا کئی کئی روز غائب رہنا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے۔ پانی زندگی ہے، اور گوجرخان کے عوام سے یہ زندگی چھینی جا رہی ہے۔

    تحصیل گوجرخان میں ہنرمند نوجوانوں کی فوج موجود ہے، لیکن حکومتی سطح پر صنعتی فروغ نہ ہونے کی وجہ سے بیروزگاری کا جن بے قابو ہو چکا ہے۔ یہاں صنعتی زونز کا قیام وقت کی ضرورت ہے تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار ملے۔ جب تک یہاں بڑے صنعتی پلانٹس نہیں لگیں گے، یہاں کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہی رہے گی۔ آراضی ریکارڈ سینٹر کی حالتِ زار یہ ہے کہ عوام اپنے ہی حق کے لیے سارا دن ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ متعدد کاؤنٹرز خالی پڑے ہیں اور ایک دو اہلکار کچھوے کی چال سے کام کر رہے ہیں۔ کیا ڈیجیٹل پاکستان کا خواب یہی ہے؟ اہلیان گوجرخان مطالبہ کرتے ہیں کہ گوجرخان جی ٹی روڈ پر فوری طور پر فلائی اوور کی تعمیر شروع کی جائے۔ ہسپتال میں نیورو سرجن، ایکسرے ٹیکنیشنز اور لیب عملے کی کمی فوری پوری کی جائے۔ پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نئے منصوبے شروع کیے جائیں۔ گوجرخان کو صنعتی زون قرار دے کر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جائے۔

    بقول شاعر
    اب بھی وقت ہے بدلو اپنا چلن ورنہ
    تاریخ کی زد میں آؤ گے تو مٹ جاؤ گے
    نہ تمہاری داستاں ہوگی نہ تمہارا نام ہوگا
    جب حق کے متلاشی سرعام نکل آئیں گے