الحمدللہ اس ارض پاک پاکستان کے باشندوں کو میرے رب نے بہت کشادہ قلب عطاء کیا ہے جس میں امت کا درد موجود ہے،الحمدللہ اس ارض پاک نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر امت کے مفلسوں،مظلوموں اور مصیبت زدگان کی مدد کی ہے جس کاماضی بھی گواہ ہے اور حال بھی گواہ ہے،1990 کی دہائی انسانی تاریخ کے اُن المناک ادوار میں شمار ہوتی ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، ظلم اور جبر نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا،یورپ میں بوسنیا کے مسلمان نسل کشی کا شکار ہوئے تو خطے میں پہلے سے جاری افغان جنگ نے بھی کروڑوں افراد کو دربدر کر رکھا تھا،دوسری سمت چیچنیا میں بھی جنگ نے لاکھوں چیچن لوگوں کو سخت پریشان کر دیا تھا،ایسے حالات میں پاکستان وہ ملک بن کر سامنے آیا جس نے نسل، زبان اور جغرافیہ سے بالاتر ہو کر مظلوم انسانوں کو گلے لگایا،1994 کے دوران بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں ظالم درندہ صفت سرب افواج کے ہاتھوں قتلِ عام، اجتماعی قبروں کی دریافت اور جبری ہجرت نے عالمی ضمیر کو ہلا دیا
6 اپریل 1992 کو بوسنیا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا تو سرب فورسز نے جنگ شروع کر دی جس سے بوسنیا کے مختلف شہروں پر حملے شروع ہوئے،1992 تا 1993 میں بوسنیا کے شہر سرایوو، موستار، برچکو میں شدید لڑائیاں جاری رہیں اور شہری علاقوں میں محاصرے اور تباہی جاری ہو گئی،1993 میں اقوام متحدہ نے بوسنیا میں امن زونز کا اعلان کیا لیکن بہت سے علاقے محصور اور غیر محفوظ ہو گئے تو 1994 میں بوسنیا کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے،کچھ ممالک نے انہیں پناہ دی تھی جن میں پاکستان بھی شامل ہے جس نے مہاجرین کو عارضی پناہ دی تھی،یہ مہاجرین اسلام آباد اور گردونواح میں مقیم رہے تھے
11 سے 31 جولائی 1995 کو سربرینیتسا نسل کشی میں تقریباً 8,000 بوسنیائی مسلمان مرد اور جوان لڑکے شہید ہوئے تھے
نومبر 1995 کو امریکی ثالثی کے تحت ڈیتون امن معاہدہ پر مذاکرات شروع ہوئے،دسمبر 1995 کو Dayton Peace Accords پر دستخط ہوئے اور جنگ رسمی طور پر ختم ہو گئی اور بوسنیا کو دو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا جس کے بعد
1996 تا 1997 تک مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع ہوا ، اس نازک وقت میں پاکستان نے نہ صرف بوسنیا کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کی تھی بلکہ ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو پاکستان لا کر عارضی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ دی جنہیں اسلام آباد اور دیگر محفوظ مقامات پر قائم کیمپوں میں عزت، تحفظ، خوراک، علاج اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں،جواب میں بوسنیائی باشندے آج بھی پاکستان کو خاص عزت دیتے ہیں
یہی وہ پاکستان ہے جو اس سے قبل اور اس کے ساتھ ساتھ افغان پناہ گزینوں کا سب سے بڑا میزبان بھی بن چکا تھا
سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان خاندان پاکستان آئے اور دہائیوں تک یہاں مقیم رہے،پاکستان کی عوام نے اپنی محدود وسائل کے باوجود افغان مہاجرین کو اپنے شہروں، دیہات، بازاروں اور گھروں میں جگہ دی، افغان پناہ گزینوں نے بھی پاکستان کی معیشت، مزدوری، تعمیرات، تجارت اور کاروبار میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستانی معاشرے کا حصہ بن کر رہے،وقت گزرتا گیا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گی جسکی بڑی حد تک اسلامی نظام سے مماثلت تھی تاہم اس کے باوجود بھی افغان باشندے اپنے وطن جانے کو تیار نا ہوئے کیونکہ ان کو علم تھا یہ امن بھی عارضی ہو گا،وقت گزرتا گیا اور افغان پناہ گزین جعلی طریقے سے شناختی کارڈ بنوا کر باقاعدہ پاکستان کے شہری بننا شروع ہو گئے،نیز ان افغان لوگ نے مختلف قسم کے جرائم کیساتھ ساتھ جنگی جرائم میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا جس سے پاکستان کو سخت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑانیز افغان گورنمنٹ نے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو کھلے عام پناہ دینا شروع کر دی جس کو پاکستان نے عالمی سطح پر درجنوں بار ثابت بھی کی مگر افعان اپنے میزبان پر بھاری ہوتا چلا گیا ہے مجبوراً پاکستان کو سختی سے ان کو نکالنا پڑا جو سلسلہ آج دن تک جاری ہے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب افغان باشندے موجود ہیں جس میں سے محض 20 فیصد سے بھی کم واپس گئے ہیں
چیچنیا میں 1994 تا 1996 اور 1999 تا 2009 تک جنگی حالات،خانہ جنگی کے باعث کئی ہزار چیچن شہری جنگ اور تباہی سے بچنے کے لئے پاکستان آئے،یہ تعداد افغان یا بوسنیائی مہاجرین کے مقابلے میں بہت محدود تھی، ان مہاجرین کو بھی زیادہ تر اسلام آباد، راولپنڈی اور شمالی علاقوں میں عارضی رہائش اور امداد دی گئی،پاکستانی اسلامی تنظیموں اور خیراتی گروہوں نے انہیں خوراک، رہائش اور تعلیم کے مواقع فراہم کئے اور انہیں بلکل احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک غیر ملک میں ہیں بلکہ افغان و بوسنیائی پناہ گزینوں کی طرح انہیں بھی وہی ہسپتال ،سکول،کالجز و دیگر سہولیات مہیا کی گئیں جو ہر پاکستانی کے پاس تھیں مطلب ان کو ہر لحاظ سے ایک پاکستانی شہری کے برابر سہولیات حاصل تھیں، زیادہ تر چیچن مہاجرین نے جنگ کے بعد یا یورپ کے دیگر ممالک کی طرف واپس جانے یا منتقل ہونے کا راستہ اختیار کیا
اور پاکستان کو بڑے باعزت طریقے سے خیر آباد کہا اور آج بھی وہ اس پاکستانی قربانی پر فطرت جذبات سے لبریز ہو کر پاکستان کو بڑی عزت و تکریم سے پکارتے ہیں
ان تین ممالک کے مہاجرین کے علاوہ مملکت پاکستان نے پاک بھارت جنگ 1971 کے بعد بہت سے بنگلہ دیشیوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی جن میں سے بیشتر آج بھی پاکستان بھر خاص کر کراچی میں آباد ہیں،اسی طرح ایران میں 1979 کے رجیم چینج کے بعد سیاسی مخالفین اور اقلیتی شورش کے بعد بہت سے ایرانیوں نے صوبہ بلوچستان کے علاقوں میں پناہ لی ،عراق کی خلیجی جنگ 1991 کے بعد بیشتر عراقیوں نے پناہ کیلئے پاکستان کا رخ کیا جنہیں پاکستان نے خوش آمدید کہا ،ارض انبیاء مملکت شام میں 2011 کی خانہ جنگی میں بہت سے شامی مہاجر پاکستان میں پوری آزادی اور عزت سے رہے،قبلہ اول فلسطین کے باسی بھی مختلف ادوار میں خاص کر 1967 کے بعد پاکستان میں پناہ لینے پہنچے جہاں ان کو شاندار پروٹوکول کیساتھ مرحبا کہا گیا،اسی بناء پر وہ آج بھی پاکستان کو خاص پیار اور محبت سے نوازتے ہیں
تاجکستان میں 1992 تا 1997 کے دوران تاجک خانہ جنگی کے نتیجے میں،پاکستان نے مظلوموں کے لئے اپنی مملکت کے دروازے کھولے اور انہیں عارضی پناہ فراخ دلی سے دی گئی تھی،2012 میں برما میں خانہ جنگی اور مسلم کشی کے دوران میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کے باعث بہت سے افراد پاکستان آئے تو انہیں عارضی رہائش، خوراک اور ابتدائی تعلیم فراہم کی گئی تھی، زیادہ تر یہ مہاجرین بعد میں دیگر ممالک منتقل ہو گئے تھے،جو کہ آج بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمیں پوری عزت کیساتھ قبول کیا گیا تھا،نیز آج بھی انڈین مقبوضہ کشمیر سے ہزاروں خاندان ہجرت کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں مکمل آزادی اور پوری عزت کیساتھ سکونت پذیر ہیں
دنیا بھر کے مہاجرین کو پناہ دینے کے یہ واقعات پاکستان کی انسانیت اور مہمان نوازی کی مثال ہیں جہاں محدود تعداد کے مہاجرین کو بھی محفوظ پناہ دی گئی اور افغانستان کے بے یارو مددگار اور بے سروساماں کی بہت بڑی تعداد کو بھی گلے سے لگائے رکھا،آج جب مہاجرین کے مسئلے کو محض بوجھ سمجھا جاتا ہے، تو بوسنیا،چیچنیا اور افغان و دنیا بھر کے مسلمان مہاجرین کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کے لئے دروازے کھولیں ہیں چاہے وہ یورپ کے مسلمان ہوں یا ہمسایہ افغان بھائی یاپھر روس کی ریاست چیچنیا کے مسلمان ،پاکستان ہمیشہ حاضر رہا ہے








