Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاست میں بھی ملاوٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں بھی ملاوٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    میاں محمد نواز شریف نہایت ہی زیرک مدبراور سیاسی دائو پیچ کے ماہر سیاستدان ہیں۔ نواز شریف کے زمانہ وزارت عظمٰی کے دوران نجی شعبہ کے تعاون سے ملکی صنعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی۔ غازی بروتھا اور گوادر بندرگاہ جیسے منصوبے شروع کیے گئے۔ سندھ کے بے زمین ہاریوں میں زمینیں تقسیم کی گئیں۔ وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات مستحکم کئے گئے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی دی گئی ۔ لیکن بدقسمتی سے اُن کی حکومت کو ہر بار کسی نہ کسی بہانے گرا دیا گیا۔ عوام کے منتخب وزیراعظم کو کبھی خاندان سمیت جلا وطن کردیا گیاکبھی اٹک قلعہ میں بند کردیا گیا۔ کبھی راولپنڈی سے لاہور جیلوں میں بند کردیا گیا ۔ جواں سال بیٹی کو بھی والد کے ساتھ جیل میں بند کردیا گیا۔ نواز شریف اور مریم نواز شریف کو کون سمجھائے سیاست کے معیار بدل گئے ۔سیاست کے آداب بدل گئے۔ مسلم لیگ(ن) سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت نہ جانے کن لوگوں کے پاس چلی گئی ۔ قوم ایک ہنگامے کا نام بنتی جا رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے اندر سے نئی سیاسی جماعتیں وجود میں آنے لگیں۔ نواز شریف کے دور اقتدار کی حکومتی پالیسیوں سے اتفاق یا اختلاف الگ بات ہے تاہم نواز شریف شرم وحیا والے حکمران تھے آج بھی نواز شریف کے حسن سلوک کا اعتراف کیا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی گلیاروں میں ہنگامے کی ایک وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے اور اس فقدان کا سامنا مسلم لیگ(ن) کو بھی ہے۔ معاشی بحران اتنا بھی بے قابو نہیں جسے حل نہیں کیا جا سکتا ۔ نواز شریف کے نامزد کردہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کیا پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہیں بچایا؟

    لیکن نواز شریف کی ہی جماعت کے کچھ لوگوں نے اسحاق ڈار کو نشانے پر رکھا۔ جس طرح پورے ملک میں خوراک ملاوٹ شدہ دستیاب ہے اسی طرح سیاست میں بھی ملاوٹ ہو چکی ہے ۔ ملاوٹی سیاستدانوں نے عوام کی زندگیوں میں زہر گھول دیا ہے ۔ پنجاب میں یکے بعد دیگرے واقعات نے ہلا کر رکھ دیا ہے بہاولپور یونیورسٹی اور دوسرا گھریلو معصوم بچی پر وحشیانہ تشدد، یونیورسٹی کی بچیاں اور گھریلو ملازمہ گلشن وطن کا سرمایہ ہیں ۔ ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو اس طرح کے واقعات نہ ہوتے مگر افسوس 75 سال ہو گئے ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ انسانیت سوز وحشیانہ پن کے سدباب کے قانون پر سختی سے عمل کیا جائے۔

  • سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات کے علاقوں بحرین، مدین، کالام جانے کا اتفاق ہوا، دوستوں کے ہمراہ لاہور سے جمعہ کی شب تین بجے روانگی ہوئی، ناشتہ اسلام آباد میں کرنے کے بعد تالاش پہنچے وہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد کالام تک کا سفر کرنا تھا، راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کی جانب سے ظہرانے کے بعد سفر کا نئے سرے سے آغاز ہوا،محترم عابد بخاری صاحب "ہمسفر” تھے جن کا ہر تھوڑی دیر بعد "خطبہ” ہوتا تھا جس میں وہ سوات کی خوبصورت وادی کا تعارف کرواتے تھے اور علاقے کے عوام کو درپیش مسائل، کے ساتھ ساتھ خطبہ میں سیاسی تڑکا بھی لگاتے تھے، سیدو شریف ایئر پورٹ سے گزرے ،منزل کالام تھی، اورجب ہمیں بخاری صاحب نے بتایا کہ روڈ سیلاب کی وجہ سے خراب ہے مزید تین سے چار گھنٹے لگیں گے، یہ سن کر اپنے تو ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ رات تین بجے کے لاہور سے نکلے ہوئے تھے، کیا کرتے،بامر مجبوری، سیٹ پر بیٹھے، شیشے کے ساتھ سر لگایا اور سونے کی ناکام کوشش کی ، البتہ میری ساتھ والی سیٹ پر موجود بٹ صاحب نے تو شاید ایک ہفتے کی نیند ہی دوران سفر میں پوری کر لی

    گزشتہ برس شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے سوات بپھر گیا تھا، کالام میں معروف ہنی مون ہوٹل مکمل طور پر دریا میں بہہ گیا تھا تو اسکے علاوہ بھی املاک کو نقصان پہنچا تھا، اگست 2022 میں سیلاب آیا تھا اور نقصان ہوا تھا، اب تقریبا ایک برس بعد اس علاقے کی طرف گئے تو انتہائی المناک مناظر دیکھے، دریا کنارے ہوٹل،دکانیں، عمارتیں، سب کے نیچے سے پانی بہہ رہا، مکین چھوڑ چکے، سیلاب کے بعد سڑک کو کم ا ز کم دس فٹ اونچا کرنا پڑا، بحرین میں صورتحال یہ ہے کہ عمارتیں تباہ ہو چکیں، کسی بھی وقت گر سکتی ہیں ، ہوٹل ویران پڑے ہیں، سڑک کی حالت ایسی کہ بقول بخاری صاحب کے اگر سڑک صحیح ہوتی تو ہم دو گھنٹے میں پہنچ جاتے لیکن سڑک صحیح نہ ہونے کی وجہ سے چار گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا.

    سیلاب نے تو گزشتہ برس تباہی مچائی ہی مچائی، لیکن سڑک کی تباہی اور مرمت نہ ہونے میں کچھ سیاسی وڈیروں کا بھی ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو اونچا نیچا دکھانے کے لئے عوام کو ریلیف دلوانے کی بجائے پریشان کرتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں فوتگی ہوتے ہی جنازے پر پہنچ جاتے اور الیکشن ہو جائے تو اسکے بعد انکا باپ بھی مر جائے تو اسکے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوتے،بحرین، مدین سے کالام تک سڑک اگرچہ سیلاب سے بھی تباہ ہوئی تا ہم کچھ ایسے مقامات ہیں جہاں سیاسی چپقلش نے پل نہیں بننے دیئے، اگر ان مقامات پر پل بن جاتے تو راستے مزید آسان ہو جاتے، تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید جو حالیہ دنوں میں روپوش اور سیکورٹی اداروں کو مطلوب ہیں اور ن لیگی امیر مقام کے مابین سیاسی چپقلش سوات کے باسیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے تو وہیں آنیوالے سیاحوں کے لئے بھی کسی اذیت سے کم نہیں، اگر پل بنوانے کا کام امیر مقام کرواتے تو مراد سعید رکوا دیتے اور اگر مراد سعید کرواتے تو امیر مقام رکوا دیتے، کے پی میں اگرچہ تحریک انصاف کی نو برس حکومت رہی، مراد سعید وفاقی وزیر بھی رہے صوبے میں حکومت تحریک انصاف کی تھی لیکن مقامی بیوروکریسی میں زیادہ اثرورسوخ امیر مقام کا ہونے کی وجہ سے کام رکے رہے، یوں دونوں بڑی جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں،سیاح آتے تو ہیں لیکن ایک بار کالام تک سڑک پر سفر کر کے شاید دوبارہ نہ آنے کا دل میں ارادہ کرتے ہوں گے، سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو سہولیات دی جائیں انکی مشکلات میں اضافے کی بجائے کمی کی جائے، ایک بار چترال جاتے ہوئے ٹنل سے گزرے جو پرویز مشرف نے بنائی تھی اور پھر اسی وجہ سے وہ چترال سے الیکشن جیتے تھے کیونکہ انہوں نے وہاں‌کے مکینوں کی ایک بڑی مشکل حل کر دی تھی، سوات کے باسیوں کو بھی چاہئے کہ جو بھی عوامی مفادات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو انکو الیکشن میں سبق سکھانا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دس برس بھی سوات کے باسی اسی ایک سڑک کو روتے رہیں گے ،ابھی تک بھلا ہو پاک فوج کا، جو سیلاب کی تباہی کے بعد سڑک کی مرمت پر کام کر رہی ہے، دس پندرہ فٹ سطح زمین سے ،پچھلی سڑک سے مزید سڑک کو اونچا کیا گیا مٹی ڈالی گئی تب جا کر سڑک استعمال کے قابل ہوئی تا ہم ابھی بہت کام ہونا ہے اور یوں لگ رہا ہے آنیوالے ایک دو برس اس کی تکمیل کو لگ جائیں گے، افواج پاکستان کے جوان جہاں ملکی سرحدوں پر چوکس ہیں وہیں قدرتی آفات میں ہنگامی امداد ، ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف کا کام بھی کرتے ہیں، اب سڑک کی تعمیر و مرمت کیا یہ سول حکومت کا کام نہیں؟ بحرین سے کالام تک 34 کلومیٹر سڑک ہے مگر موجودہ حالت میں یہ سفر دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا تو اگلے دو سے تین برس مشکلات ہی رہتی ہیں ، سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہو جاتی اور کئی مقامات پر تو ایسے لگتا کہ شاید ابھی گاڑی گئی ،ایک طرف دریا ،اور انتہائی خطرناک سڑک، ایسے میں اس سفر میں سیاح لطف اندوز ہونے کی بجائے موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں

    دریا کے دوسری طرف کے باسیوں کی بحرین و دیگر علاقوں میں آمدورفت کے لئے چیئر لفٹ لگی ہوئی ہیں جو بہہ گئیں، جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ایک مقام پر عارضی پل بنایا تھا، اسی مقام پر پل بناتے ہوئے دو رضاکار دریائے سوات میں گر گئے اور انکی موت ہو گئی تھی،سیلاب نے خوبصورت وادی کی حالت ایسی کر دی کہ وہاں کے مکین بھی اب وہ علاقہ چھوڑ رہے کیونکہ جب بھی بارشیں ہوں "گٹے گٹے پانی” کی بجائے سیلاب ہی آتا اور ابھی پچھلی بحالی ہوئی نہیں ہوتی اور نئی تباہی پھر نئے سرے سے،

    گزشتہ برس سیلاب سے دکانیں، ہوٹل، مکان گرے، ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد مکانات، 50 کے قریب ہوٹلز تباہ ہوئے تھے ، اور ابھی تک وہ تباہ حال ہی ہیں، مکین علاقہ چھوڑ چکے، لاہور پریس کلب کے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد بھی ٹور میں ہمراہ تھے، انہوں نے جب سوات میں تباہی کے مناظر دیکھے تو کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ "یہ عذاب الہیٰ ہے” عابد بخاری چند منٹ کے وقفے سے مسلسل خطبہ دیئے جاتے رہے اور ہم سنتے رہے،امجد بخاری بھی عابد بخاری کا ساتھ دیتے رہے لیکن زیادہ نہیں، کالام میں ہنی مون ہوٹل دریائے سوات میں بہہ گیا تھا، کالام سے واپسی پر دن کی روشنی میں تباہی کے مناظر نظر آئے، ایک رپورٹ کے مطابق جب سیلاب آیا تو کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت تھی،اور تحریک انصاف کے ان حلقوں سے منتخب نمائندے ان ایام میں اپنے علاقوں میں ہونے کی بجائے بیرون ملک سیر کر رہے تھے جس کی وجہ سے مقامی لوگ نالاں نظر آئے، سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان تھے، جس میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے تھا، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود نہیں تھے دونوں غیر ملکی دورے پر تھے،میاں شرافت جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر لندن میں تھے، ۔سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، نہ تو سیلاب متاثرین کو ملے اور نہ ہی انکی مدد و ریلیف کے لئے کوئی اقدام اٹھایا تھا،یہی وجہ ہے کہ اب بھی سوات کے باسیوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھے جذبات نہیں ہیں،گزشتہ قسط میں سوات میں موجودہ حالات پر عوام کی رائے،،،تحریر کر چکا ہوں

    نوٹ، اگلی قسط "ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے،” ہو گی

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1683823400559726594

     

  • سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں نوبرس حکومت کی، عمران خان کو 2013 میں پہلی بار کے پی میں ہی حکومت ملی تھی اور دوسری بار بھی 2018 میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی، اب خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات، خصوصا مراد سعید جو ان دنوں روپوش ہیں اور نو مئی کے واقعات میں سیکورٹی اداروں کو مطلوب بھی ہیں کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں دیں؟ نو برسوں میں پی ٹی آئی نے کیا کیا؟ ہمیں تو اب سمجھ لگ رہی ،پٹھانوں کو دیر سے سمجھ لگتی لیکن جب لگ جائے تو پھر اگلے کو گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں،عمران خان نے حکومت جانے کے بعد پختونوں کا استعمال کیا، اور ملک دشمنی کی تمام حدیں عبور کر لیں، ریڈ لائن عمران خان نہیں بلکہ پاکستان ہے اور سوات کے لوگ پاکستانی ہیں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک شہری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا مراد سعید کا حلقہ دیکھ لو، پی ٹی آئی کتنی غیر مقبول ہو چکی کہ یہاں کی عوام نے تحریک انصاف کے جھنڈے تک اتار دیئے ہیں، کوئی اکا دکا گھرانہ ایسا نظر آتا ہے جہاں تحریک انصاف کا جھنڈا لگا نظرآئے ، مراد سعید کی روپوشی کے بارے شہریوں کا کہنا تھا کہ لیڈر کبھی چھپتا نہیں بلکہ حالات کا مقابلہ کرتا ہے، نو مئی والے دن بہکاوے میں آئے لوگ اب تک جیلوں میں ہیں ، ان کی زندگیاں تباہ ہو چکیں اور عمران خان زمان پارک میں اور مراد سعید کا پتہ ہی نہیں ، ایسے لیڈر کا کیا فائدہ جو مشکل انے پر کارکنان کو ڈھال بنا کر خود بھاگ نکلے

    مراد سعید کے شہر ،حلقہ انتخاب میں رکشہ ڈرائیور، کریانہ سٹور کے مالک، سکول ٹیچر سمیت کئی شہریوں سے بات ہوئی،سوائے ایک کے سب کا یہی کہنا تھا کہ تحریک انصاف بائے بائے، ایک شہری جس نے نام بتانے سے گریز کیا کہا کہ ایک ماہ قبل دبئی سے آیا ہوں، میرا ووٹ عمران کا ہے اور اسی کو ووٹ دیں گے جب اس سے پوچھا گیا کہ تحریک انصاف کہاں ہے، کہیں کوئی پرچم نہیں ، نام و نشان تک نظر نہیں آ رہا کہ تحریک انصاف یہاں ہے بھی یا نہیں جس پر اس کا کہنا تھا کہ یہاں کا موسم ایسا ہے، بارشیں آتی ہیں، ہوائیں چلتی ہیں جھنڈے کپڑے کے ہوتے اور وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکتے پھٹ جاتے ہیں، ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ جھنڈا لگانے پر جیل جانے کا ڈر بھی ہوتا ہے اس وجہ سے بھی لوگ جھنڈے نہیں لگا رہے

    سوات پرامن ہے اور اس امن کے لئے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عوام نے قربانیاں دیں، ہم ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے
    چند ماہ قبل مراد سعید اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ طالبان سوات آ گئے ہیں اور انہوں نے کئی مقامات پر قبضہ کر لیا ہے، مراد سعید نے تحریک انصاف کے ورکرز کے ساتھ جلوس بھی نکالا تھا ،اس حوالے سے جب کبل کے مقامی شہریوں سے بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ کونسے طالبان؟ کیسے طالبان؟ شہریوں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ پختونخوا متاثر ہے ، اسکا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان دشمن آ جائیں اور ہم بیٹھے رہیں، مراد سعید کا تومشن ہی کچھ اور تھا وہ چاہتا تھا کہ یہاں کی عوام کو سیکورٹی اداروں کے خلاف کھڑا کیا جائے اور ہمدردیاں حاصل کی جائیں ،افواج پاکستان یہاں‌ موجود ہیں اور یہاًں کی عوام کی حفاظت کر رہی ہیں،ملک دشمنوں کے لئے یہاں‌کوئی جگہ نہیں، سوات پرامن ہے اور اس امن کے لئے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عوام نے قربانیاں دیں، ہم ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے اگر کوئی بھی ملک دشمن اس علاقے میں آیا اور امن کو خراب کرنے کی کوشش کی تو ایسی صورت میں ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ بلکہ اگلی صفوں میں ہوں گے،

    سوات کے مقامی شہری جو بات کرتے ہوئے تھوڑا گھبرا بھی رہے تھے، تاہم جب انہیں تسلی دی گئی کہ نہ تو آپ کی تصویر بنا رہے نہ ہی ویڈیو ریکارڈ کر رہے اور نہ ہی نام نشر ہو گا تو وہ کھل کر بولے اور کہا "پی ٹی آئی نے ہمیشہ اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا، یہاں سوات میں چند ماہ قبل ذاتی دشمنی کی بنا پر ایک سکول وین پر حملہ ہوا تھا جس میں دو طالبات زخمی ہوئی تھیں، تحریک انصاف کی مقامی قیادت نے اس حملے کو بھی طالبان سے جوڑ دیا، اگرچہ دہشت گردی مسئلہ ہے اور دہشت گرد کہیں بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،سکول وین پر فائرنگ والا واقعہ ذاتی لڑائی تھی تاہم پروپیگنڈہ کیا گیا، حقیقت سامنے آنے کے بعد بھی پروپیگنڈہ کرنیوالوں کو شرمندگی نہیں ہوتی”،جس مقام پر شہریوں سے بات ہو رہی تھی بالکل اس کے دائیں جانب آڑو کا باغ تھا، شہری نے باغ گھمانے کی دعوت دی اور کہا کہ باغ گھوم لیں لیکن اب اسوقت آڑو نہیں لگے ہوئے ،ختم ہو چکے، اگر سوات کے آڑو کھانے ہیں تو بازار جا کر کھلا سکتے ہیں، شہری کا شکریہ ادا کیا، بات آگے بڑھی تو شہری کا کہنا تھا کہ سوات کے پہاڑ کلئئر ہیں کہیں کوئی دہشت گرد نہیں، اگر کوئی دوسرے علاقے سے آ جائے تو بھی اسے چھپنے کا موقع نہیں دیں گے، سیکورٹی فورسز الرٹ ہوتی ہیں اور یہاں کے شہری اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں، تحریک انصاف نے جو اداروں کے خلاف عوام کو کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی وہ ناکام ہوئی اور محب وطن پختونخواہ گھڑی چور کی بجائے اپنے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ ہیں،

    سوات کے باسیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں ،عوام کو خواب دکھاتی ہیں اور پھر انکے خوابوں کی تعبیر کی تکمیل نہیں ہونے دیتیں، عمران خان کو پختونوں نے مسیحا سمجھا، دو بار حکومت دی لیکن وہ تو اللہ معاف کرے، دوران عدت ہی نکاح کر بیٹھا، ایسے شخص پر کیسے یقین کریں جو پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست بنانا چاہتا ہے تا ہم اسکا اپنا کردار اسکے برعکس ہے،پختونخواہ کے شہری جو اپنی خواتین کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیتے ،اس معاملے میں سخت گیر ہیں، اسی حوالہ سے بات کرتے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ عمران خان پر اعتماد کر کے ہم نے گناہ کبیرہ کیا، زمان پارک میں کیا کچھ ہوتا رہا؟ کیا عمران خان کی بیوی بھی کبھی دھرنے میں باہر بیٹھی تھی؟ کوئی ایک ویڈیو یا تصویر، دوسروں کی بیویوں ، بیٹیوں کو ڈھال بنانے والا عمران خان ،اسکے لئے حریم شاہ جیسے کردار ہی ٹھیک ہیں، جب شہری سے سوال کیا گیا کہ حریم شاہ کو جانتے ہو؟ جس پر شہری کا کہنا تھا کہ حریم شاہ …نام ہی ایسا ہے، اور اسکو کون نہیں جانتا، ایسی خواتین ہی عمران خان کی پسندیدہ ہیں، عورت کا لفظی معنی کیا ہے وہ عمران خان جانتا ہی نہیں، اگر جان لیتا تو کم از کم زمان پارک کو زنان پارک نہ بناتا

    آنیوالے الیکشن میں کس کو ووٹ دیں گے؟ اس سوال پر شہری کا کہنا تھا کہ جو بھی بہتر ہو گا اسکو ووٹ دیں گے، جماعت اسلامی ، والے اچھے لوگ ہیں، کام بھی اچھے کرتے ہیں ووٹ کے حقدار اس طرح کے لوگ ہیں لیکن الیکشن آئیں گے تو دیکھیں گے کہ کس کو ووٹ دینا ہے. اس بار کم از کم پی ٹی آئی کو تو ووٹ نہیں دیں گے، وہ کام جو ہمارا پڑوسی ملک بھارت کئی برسوں میں نہیں کر سکا وہ پی ٹی آئی نے ایک دن میں کر دیا، بھلا وہ کیسا پاکستانی ہے جو فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنائے، وہ کیسا پاکستانی ہے جو شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرے، عمران خان کی بیوی کو اگر کوئی پنکی کہے تو عمران خان کو دکھ ہوتا تو انکو کس نے یہ حق دیا تھا کہ افواج پاکستان کی تنصیبات پر حملے کرو، پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا، نیازی نے جہاں جھوٹوں کے ریکارڈ بنائے وہیں ملک دشمنی کے بھی ریکارڈ بنائے اور اس کے یہ کارنامے تاریخ میں سنہری حروف نہیں بلکہ سیاہ حروف میں لکھے جائیں گے.

    نوٹ….قسط اول.
    اگلی قسط میں گزشتہ برس کالام میں سیلاب سے ہونیوالی تباہی کے مناظر پر مشتمل ہو گی

  • کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    سینیٹر اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہ صرف بچایا بلکہ مایوسی کا شکار ہونے والی بزنس کمیونٹی کو معاشی اعتماددیا اور بیرون ملک سرمایہ کاروں کو اس مشکل گھڑی میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب بھی کیا ۔ جس کی ملک وقوم کو شدید ضرورت تھی۔ وزارت خزانہ کے اختیارات سنبھالتے ہی ملکی معیشت کو بے یقینی کے منجدھار سے نکالنے کے لئے ایک انتھک ملاح کیط رح وطن عزیز کو ڈیفالٹ ہونے سے بچالیا۔ ڈیفالٹ ڈیفالٹ کی صدائوں کے شور میں اسحاق ڈار ایک چٹان کی طرح ڈٹے رہے ۔ ایک ہی جوا ب تھا اللہ کی مدد سے پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔ اب اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں تو اُس کے پیچھے بھی ملکی معیشت کا مستقبل ہے ۔ اسحاق ڈار موجودہ اور مستقبل کے معاشی درپیش چیلنجز سے مکمل باخبر ہیں موجودہ وطن عزیز کی معاشی پالیسیوں کو بلا تعطل جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بحث جاری ہے ۔ الیکشن کب ہوں گے اگر ہوں گے تو وزیراعظم کون ہوگا مسلم لیگ(ن) اورپیپلزپارٹی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں مذاکرات کررہی ہیں تاہم ابھی تک اس موضوع پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت محمد نواز شریف کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتی ہے جبکہ آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔تاہم کرسی ایک اور اُمیدوار دو ہیں۔ا لیکشن ان سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھی جماعتیں موجود ہیں جو الیکشن میں حصہ لیں گی ۔ اس سلسلے میں پنجاب فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ غیر جانبدار سروے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ ہو گاتاہم کچھ حلقوں میں پیپلزپارٹی اور مذہبی جماعتیں بھی سیٹیں حاصل کریں گے۔ آمدہ قومی انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی ۔ انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنے گی وہ پی ڈی ایم طرز کی ہی حکومت ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی اور افواہ سازی سے کام نہ لیا جائے صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے صاف اور شفاف الیکشن اپنے مقررہ وقت پر کرائے جائیں۔

  • نگران حکومت، الیکشن اور خواہشات، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نگران حکومت، الیکشن اور خواہشات، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    اگلے ماہ حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے۔ انتخابات کب ہوں گے یہ ایک بڑا سوال ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے آئین میں صاف لکھا ہے کہ انتخابات کب ہونے چاہیں پھر بھی اگر یہ سوال سر اٹھا رہا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب حکومت تین ماہ اور کے پی کے کی حکومت تین ماہ تک تھی مگر آئین کی حد کو کراس کرگئیں اور نگران حکومتیں ہی بدستور کام کررہی ہیں۔ کیا مرکز میں بھی ایسا ہونے جارہا ہے۔ کیا شہباز شریف کی حکومت کو ہی آگے چلایا جائے گا؟ کیا نگران حکومت جو مرکز میں ہوگی اسے لمبا کرکے عبوری حکومت میں تبدیل کردیا جائے گا؟ اور عبوری حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف ہی ہوں گے؟ اس طرح کی خبروں اور اطلاعات سے انتخابی عمل ایک معمہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم یہ خواہشات ہیں۔ سب کی خواہشیں اندازے ہیں ان خواہشوں کے آگے بند باندھنے کے لئے بھی تو کوئی کھڑا ہے۔ عوام کی اکثریت پریشانی کے دور سے گزر رہے ہیں بازاروں میں لوٹ مار مچی ہے امن او مان کا مسئلہ ڈاکو دن دیہا ڑ لوٹ رہے ہیں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ بے روزگاری اور مہنگا ئی ہے۔ میڈیا نگران حکومت اور آمدہ قومی انتخابات کو لے کر روزانہ نئے تبصرے کر رہا ہے۔ تاہم الیکشن کو لے کر معاملہ کافی پیچیدہ ہو رہا ہے۔

    سیاسی جماعتیں ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ الیکشن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ تاہم کراچی سے پنجاب اور اسطرح ملک بھر میں جرائم میں اضافہ سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس وقت انتظامیہ اور پولیس نام کی کوئی شے ملک میں موجود نہیں سیاستدانوں نے اپنی سیاسی دوکان قائم رکھنے کے لئے پولیس اور انتظامیہ کو تقسیم کر دیا ہے۔ پسند ناپسند کی بنیاد پر پولیس افسران اور انتظامی افسران کا تقرر کیا جا رہا ہے۔ سینئر افسران کو کھڈے لائن لگا کر جونیئر افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے جس کے نتائج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ کراچی سے پنجاب اور دوسرے صوبوں میں اغواء‘ ڈکیتی‘ چوریاں ‘ منشیات ‘ قمار بازی کے اڈے دیگر بڑھتے ہوئے جرائم کا کوئی اور ذمہ دار نہیں ہمارے با اختیار حکمران ہیں جو اس وطن عزیز کے خود ساختہ مالک ہیں انکے فیصلوںسے عوام کی اکثریت دکھی ہے ۔

  • عمران خان کا دوہرا معیار، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    عمران خان کا دوہرا معیار، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی خدمت میں بقول شاعر: اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے۔ اکیلے پھر رہے ہو یوسف کاررواں ہو کر ۔ گفتگو انسان کی پہچان کی وہ واحد سیڑھی ہے جس کے چڑھنے سے ہی انسان کی وسعت ظرف اور اخلاق کی مسافت معلوم ہو جاتی ہے۔ اخلاق و آداب کا گھونٹ پیا بھی ہے یا علم کے سمندر میں صرف غوطہ زن ہو کر عملی میدان میں نکل پڑا کامیاب شخص وہی کہلاتا ہے جو اپنی حدود میں رہتا ہے ہر وہ شخص خسارے میں رہتا ہے جو اپنی حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا نعرہ قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین اور جمہوریت دوست مگر اپنے دور حکمرانی کیا انہوں نے اس ضمن میں کچھ کیا؟ جس کشتی میں سوار ہو کر اقتدار میں آئے تھے ملاحوں نے ساتھ کیوں چھوڑا؟ سچ تو یہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی سیاست میں سسپنس ، بڑھکیں، لڑائی مارکٹائی، سازشیں، امید نا امیدی کے ساتھ غداری، یہودی ایجنٹ، بھارتی ایجنٹ، سکیورٹی رسک، وغیرہ ہماری سیاست میں بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے مہذب معاشروں اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں کسی کو بغیر ثبوت اس نوعیت کے الزامات سے نہیں نوازا جاتا ایک دوسرے کا احترام جمہوریت کی لازمی شرط ہے۔

    الیکٹرانک میڈیا پر بحث جاری ہے کہ نوازشریف کب وطن واپس آئیں گے وہ آئیں گے بھی یا نہیں کیا کسی نے اس بحث میں سوال کیا ایک منتخب وزیراعظم کو تین بار اقتدار سے ہی نہیں اٹک قلعہ، اڈیالہ جیل، کورٹ لکھپت جیل، جلاوطن، ہوائی جہاز کی سیٹ کے ساتھ کیوں باندھا گیا؟ منتخب وزیراعظم کو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی کیوں؟ ملک کے تین بار وزیراعظم کو تاحیات نااہل کر دیا گیا کیوں؟ ہمارے سیاستدانوں، ذمہ داران ریاست سے گزارش ہے کہ عالمی دنیا معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں سعودی عرب کی پوری قوم سعودی وژن 2030 پروگرام کے تحت معاشی اور سماجی اصلاحات پر مل کر کام کر رہی ہے حالیہ جاپانی وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ جبکہ یوری یونین اور جاپان ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر رہے ہیں واحد ایجنڈا معیشت ہے۔ بھارت افانستان کے راستے ہماری ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششوں میں مصروف ہے بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہماری فوج سینہ سپر ہے تاہم ملکی سیاستدانوں کو ملکی ترقی عوام کی خوشحالی مستحکم معیشت کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • روشن پاکستان  گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    روشن پاکستان گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    گرین پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے زرعی انقلاب کی بات کی ہے بلاشبہ اس وقت ملک کو ترقی کی طرف اگر لے کر جانا ہے تو زرعی انقلاب لانا ہوگا۔ اگر صدق دل سے حکومت اور بیورو کریسی سمیت انتظامیہ ، بورڈ آف ریونیو ،زراعت پر توجہ دے تو آنے والے سالوں میں پاکستان نہ صرف ترقی کر سکتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض نہیں رہے گا۔ ایسے ایجنڈے سر فہرست رکھ کر ایک روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ گرین پاکستان پر عمل کرکے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا بھی ایک ذریعہ ہے ۔ گرین انیشیٹوجسے سعودی عرب نے 2021 ء میں شروع کیا تھا سعودی حکام پر خطے کے لئے دو رس اقتصادی مواقع پیدا کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جنگ میں اثر کو بڑھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ گرین انیشیٹو پر اگر عمل کیا جائے تو پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ چین اور یورپی ممالک بھی مدد کریں گے۔ سبز معیشت میں چین کی منصوبی بندی سرمایہ کاری حیران کن ہے جسے یورپی یونین تسلیم کرتی ہے ۔

    خلیجی ممالک ۔ چین ، یورپی ممالک میںک و ئی لینڈ مافیا نہیں راولپنڈی سمیت پنجاب گوجرانوالہ ، شیخوپورہ ، لاہور اور اسی طرح دیگر شہروں میں ہائوسنگ سوسائٹی والوں نے زرعی زمینوں اورسرکاری زمینوں پر محکمہ جنگلات کی زمینوں پر قبضے کرکے پاکستان کے حسن کو تباہ کردیا ہے ۔ پٹواریوں ، تحصیلداروں گرداروں اور ضلعی اور تحصیل کی انتظامیہ کی ملی بھگت نے پاکستان کو بطور ریاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور پہنچا رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کی رپورٹ کے مطابق صرف گوجر خان میں 384 کنال سرکاری رقبہ ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے جس میں جنگلات بھی شامل ہیں۔ آرڈی اے راولپنڈی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری زمینوں جس کی مالیت کروڑوں ہی وہ ان ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے اور اکثریت غیر قانونی بھی ہیں۔ آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان کا خواب روشن پاکستان گرین پاکستان پورا ہو سکتا ہے اگر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر ان قبضہ مافیا جنہوں نے سرکاری زمینوں پر قبضے کئے ،زرعی زمینوں اور جنگلات کو برباد کیا ۔ اس کا آغاز راولپنڈی ڈویژن سے لے کر پنجاب ، کے پی کے اور صوبہ سندھ تک بڑھایا جائے ۔ اربوں کی سرکاری زرعی زمینوں کو واگزار کرایا جائے ۔ روشن پاکستان اور گرین پاکستان کی سب سے بڑی رکاوٹ قبضہ مافیا ہے۔ قبضہ مافیا ملک میں ایک طاقت بن چکا ہے ۔ جس کے قبضے میں ملک کے کئی بااثر لوگ ہیں جو اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ا ن کے کاموں میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی اربوں مالیت کی اراضی جس میں زرعی زمین سمیت محکمہ جنگلات کی زمینیں ہیں قبضہ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ا ن قبضہ مافیا ا ور ملک کے بااثر افراد نے ملک اور ریاست کے سسٹم کو یرغمال بنارکھا ہے۔

  • گیند آئی ایم ایف کی کورٹ میں

    گیند آئی ایم ایف کی کورٹ میں

    12 جولائی کو آئی ایم ایف کے بورڈ کی میٹنگ ہو گی جس میں اس امر کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کو نو ماہ کا نیا قرض پروگرام دیا جائے یا نہیں‌ ؟ حضور ،نوماہ؟ پیسہ لینے کے لئے تبدیلیاں کریں، ایک ایسی چھپی ہوئی اصطلاح کے لئے جسے ابھی تک آئی ایم ایف نے عوام کے لئے ظاہر نہیں کیا، اور اس برس 77 بلین ڈالر کے قابل واپسی کو واپس کریں
    قابل واپسی؟
    نہیں!
    قابل عمل؟
    نہیں!

    یہ معاملہ یہاں تک کہ اگر یو اے ای اور سعودی عرب آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کے بعد مجموعی طور پر 46 بلین ڈالر کی سرمایہ کریں،اگر اور کب ؟ دونوں صورتوں میں یہ فنڈنگ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہو گی،پاکستان نے 2022-23 کے ابتدائی معاہدے کے تحت آئی ایم ایف کے زیادہ تر مطالبات پر عمل درآمد کیا تھا جب آئی ایم ایف نے دستبرداری اختیار کی تھی۔ تو اس معجزاتی شام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کن شرائط پر منظوری دی تھی کہ اس کے بعد نو ماہ کا معاہدہ ہوا ؟

    پاکستان کو صرف قرضوں کی ادائیگی کو پورا کرنے کے لیے 77 بلین ڈالر کی ضرورت ہے اور اس میں یکم جولائی 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں بین الاقوامی قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ‘ایس بی پی کے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر 5,270.9 ملین ڈالر تھے۔ . اس طرح، 23 جون 2023 تک پاکستان کے پاس موجود کل مائع غیر ملکی ذخائر 9,340.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔‘‘ (پاکستان آبزرور)

    کیا کوئی سیاسی نظام معاشی بحران سے نمٹ سکتا ہے؟ نہیں، سینئر تجزیہ کار شہاب جعفری نے کچھ دن پہلے وی لاگ یاسمین کی بیٹھک میں بات کی،معاشی ماہر شہاب جعفری کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی سیٹ اپ کے لیے ووٹوں، وعدوں، مراعات کی ضرورت ہوتی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سخت قدم اٹھانے کی صورت میں اڑان بھرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں صورتوں میں، یہ عام آدمی کے لیے مشکل صورتحال ہو گی، مہنگائی بڑھے گی، پیٹرول ،ڈیزل بڑھے گا
    کوئی حل؟
    ہم ان دنوں میں ایک دن جاگیں گے اور حقائق کا سامنا کریں گے،

  • میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں،تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں،تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں

    حیدرعلی صدّیقی

    یہ نالہ و فریاد ہے امت مسلمہ کی بیٹی عافیہ کی، اس عافیہ کی جو ایک جرم ناکرده کی پاداش میں امریکی جہنم نما جیل میں 86 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ عافیہ صدیقی نے حفظ قرآن کے بعد امریکہ کی صف اول کی یونیورسٹی (MIT) سے ڈگری حاصل کی۔ نائن الیون کے بعد وہ پاکستان واپس آکر اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگی۔
    عافیہ کیس کا مطالعہ کرنے سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ عافیہ بالکل بھی امریکی شہری نہیں ہے جیسا کہ کچھ مغرب زدہ افراد نے سمجھ رکھا ہے۔ اور نہ ہی اس نے ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن کے الزامات امریکہ نے لگائے اور ہمارے سیدھے سادہ لوگوں نے بغیر تحقیق کے قبول بھی کیے ہیں۔ بات یہ ہے کہ 30 مارچ 2003ء کو عافیہ اپنے بچوں سمیت کراچی سے راولپنڈی جارہی تھی کہ راستے میں وہ اغوا ہوئی اور پھر پانچ سال تک عافیہ کا کچھ پتہ چلا اور نہ اس کی بچوں کا۔ یہ پانچ سال وہ کہاں اور کس کے قبضے میں تھی؟ یہ وہ سوال ہے جو اس کہانی کا محور ہے اور جو امریکی فریب اور ناٹک کے وجہ سے آنکھوں سے مخفی رہا ہے۔ در حقیقت یہ پانچ سال بھی عافیہ امریکی FBI کے قبضے میں تھی اور بگرام ائیر بیس میں قیدی نمبر 650 کے نام سے بند تھی۔ اس راز کا انکشاف برطانوی خاتون صحافی مریم یوآن ریڈلے نے اسلام آباد میں 6 جولائی 2008ء کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ جب اس انکشاف کے ساتھ امریکہ کا مکروہ چہرہ واضح ہوا تو امریکہ نے جو چپ باندھی تھی وہ کھل گئی اور بالاخر امریکہ کے پاس اس اقرار کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ عافیہ کو انھوں نے گرفتار تو کیا ہے لیکن 2008ء میں اور افغانستان سے۔

    امریکہ کا یہ مؤقف کوئی سلیم العقل فرد تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ جہاں تک امریکہ کا یہ مؤقف حقائق اور واقعاتی شہادتوں کے خلاف ہے، اگر بالفرض اس کو مان بھی لیا جائے تو پھر عافیہ کو گرفتار کیوں کیا؟ اس بارے امریکہ کا ایک مؤقف نہیں بلکہ عافیہ کے گرفتاری کے بارے میں امریکہ کا مؤقف متزلزل اور تضادات کا شکار رہا ہے۔ کبھی کہا گیا کہ عافیہ پر غزنی کے ایک دکاندار کو شک گزرا تو گرفتار ہوئی، تو کبھی کہا گیا کہ وہ مسجد میں خودکش حملہ کرنے آئی تھی اور لوگوں نے پولیس کو بلا لیا، تو کبھی کہا گیا کہ وہ ایک مسجد کے سامنے نقشہ پھیلائی بیٹھی تھی، وہاں کی زبان نہیں جانتی تھی، اور اس پر لوگوں کو شک ہوا اور یہ گرفتار ہوئی۔ حتی کہ مسجد کے سامنے سے گرفتار ہونے کے دعوے میں بھی متضاد اقوال سامنے آئے ہیں، جتنا منہ اتنی بات۔
    جس الزام کے تحت امریکہ نے عافیہ کو گرفتار کیا تھا وہ یہ تھا کہ عافیہ القاعدہ کے مرکزی قیادت کے ساتھ وابستہ القاعدہ لیڈی ہے، اس کے قبضے سے دو پونڈ مہلک زہر برآمد ہوا، کچھ ڈاکومنٹس اور نوٹس دستیاب ہوئے ہیں جن میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کے طریقے لکھے گئے ہیں۔ گرفتاری کے بعد امریکہ کا مؤقف تھا کہ عافیہ کی گرفتاری امریکہ کے لیے ایک اہم حیثیت رکھتی تھی، اور وہ سات خطرناک ترین دہشتگردوں میں تھی، ان کو گرفتار کرکے امریکہ نے گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکہ کا یہ مؤقف سمجھ سے بالاتر ہے، بالفرض اگر عافیہ القاعدہ کے ساتھی تھی تو کیا وہ اتنے سادہ تھے کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ عورت کو اس طرح حملہ کےلیے (بقول امریکہ) کے بھیجے جس پر ایک دکاندار کو بھی شک گزرے؟

    لیکن امریکہ کے تضادات کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رکتا، گرفتاری کے بعد جب عافیہ کو 5 اگست 2008ء کو نیویارک کے وفاقی عدالت میں پیش کیا تو وہاں القاعدہ لیڈی، خودکش حملہ آور، القاعدہ کے ماتا ہری، القاعدہ کے لیے دھماکہ خیز اور مہلک وائرس بنانے والی وغیرہ جیسے الزامات کا بالکل ذکر بھی نہیں تھا۔ بلکہ وہاں امریکہ نے ایک الگ دعویٰ کیا کہ بگرام ائیر بیس میں عافیہ کے تفتیش کے لیے آئے امریکی فوجی اہلکار سے عافیہ نے اس کا رائفل چھین کر اس پر فائر کیا، اس نے امریکی شہری کو قتل کرنے کی کوشش کی جس سے وہ بچ گیا، اور گولی دیوار پر لگی جہاں سوراخ اب بھی نظر آرہا ہے، جواباً امریکی فوجی نے پستول سے دو گولیاں چلائے جو عافیہ کے پیٹ میں لگے۔
    جب عدالت کا مقدمہ اس دعوے کے تحت چلا تو پھر امریکہ کا جھوٹ واضح ہوگیا، کہ وہ رائفل تو سرے سے چلا ہی نہیں ہے، اس کے بیرل میں گولی اور بارود کا کوئی سراغ نہیں، نہ اس پر عافیہ کا فنگر پرنٹ ہے۔ اور دیوار میں جو سوراخ دکھتا ہے وہ ایک ویڈیو کے ذریعے جھوٹا ثابت ہوا کہ وہ تو اس واقعے سے بہت پہلے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ اور ساتھ میں افغان پولیس اور غزنی کے گورنر نے بھی اس مؤقف کی تردید کردی۔ سوال یہ ہے کہ ایک نہتی اور کمزور خاتون اتنی طاقتور کیسے ہوئی کہ وہ باقاعدہ ایک تربیت یافتہ فوجی کا رائفل چھین کر اس پر فائر کرے! اور رائفل بھی وہ جس کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ قید و بند کے تشدد زدہ کمزور خاتون سے اس کا اٹھایا جانا، اور پھر لاک کھول کر نشانے پر لگانا اور فائر کرنا عقل سلیم کے لیے ماننا کم از کم ممکن نہیں۔ جب عافیہ امریکہ کو القاعدہ کی حمایت کی جرم میں مطلوب تھی تو مقدمہ کے وقت ان الزامات کا ذکر کیوں نہیں تھا؟ جب ماہرین نے رائفل کے الزام کو جھوٹا ثابت کیا تو امریکہ نے اسے جھوٹا تسلیم کیوں نہیں کیا؟
    لیکن یہاں تو امریکہ کو صرف اپنی فوجی اہلکار پر یقین ہے، ساری شواہد و ماہرین اگر چہ رائفل کے کہانی کو جھوٹی ثابت کرچکے ہیں لیکن امریکی فوجی کہتا ہے تو عافیہ نے ضرور گولی چلائی ہوگی!
    امریکی ماہرین نے بھی اس کیس کو مبنی برظلم قرار دیا تھا کہ عافیہ مظلوم اور بے گناہ ہے۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک کہتا ہے کہ ”عافیہ صدیقی کا کیس میرے مشاہدے کے مطابق اب تک کا بدترین کیس ہے“۔ اسی طرح امریکی صحافی پیٹرا بارتوشےویچ کا کہنا ہے کہ ”میں نے امریکی مؤقف کی تفصیل پڑھتے ہی جان لیا تھا کہ عافیہ صدیقی بے گناہ ہے۔ امریکن شہریوں کے اس اقرار کے باوجود امریکہ نے ان کو بھی نظر انداز کیا۔
    امریکی قانون ہے کہ کسی بھی خاتون کی برہنہ تلاشی (سٹرپ سرچ) نہیں لی جاسکتی، لیکن بایں ہمہ کہ عافیہ پہلے سے ان کے ساتھ قید میں موجود تھی اور بار بار انھیں تلاشی اور جسمانی و ذہنی تشدد سے گزارا گیا تھا لیکن وکیل سے ملنے کے لیے باقی تکالیف کے علاوہ اسے اس اذیت ناک عمل (سٹرپ سرچ) سے بھی گزارا جاتا تھا۔ اس وقت مغرب کا انسانی ہمدردی اور حقوق نسواں کے قوانین شاید وائٹ ہاؤس کا چکر لگا رہے تھے!

    امریکہ نے سارے حقائق و شواہد، انسانی حقوق اور مساوات کے اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے انتہائی چالاکی، تعصب، نفرت اور نسل پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عافیہ پر فرد جرم عائد کیا اور اسے 86 سال قید کی سزا سنائی۔ دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے امریکہ کا انسانی حقوق و ہمدردی کا قانون صرف اتنا ہے کہ ایک امریکی کو قتل کرنے کی کوشش پر 86 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے لیکن ایک غیر امریکی خاتون کو شک یا جھوٹ کی بنیاد پر گولی سے بھی داغا جاسکتا ہے، اور اس پر مستزاد اس پر قید و بند کی صعوبتیں، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد بھی روا رکھا جاسکتا ہے۔ عافیہ اگر مجرم تھی تو حقائق و شواہد امریکہ پیش کیوں نہیں کرتا! امریکی قانون دان ایلین شارپ ویٹفیلڈ کہتا ہے کہ ”یہ سب جھوٹ ہے، عافیہ صدیقی کے خلاف اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں“ (Put up or shut up)۔ شواہد و حقائق کے تحت ان کے ساتھ قانون کے تحت عادلانہ کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ لیکن یہ سارے الزامات ہیں جو امریکہ نے لگائے، اور ساری دنیا نے قبول کیے اور عافیہ پر ہونے والے امریکی مظالم پر خاموش تماشائی بنی، کیونکہ عافیہ امریکی اور مغربی شہری نہیں ہے ورنہ دنیا نے ایک کہرام مچانا تھا۔ در حقیقت عافیہ کی مظلومیت پر خاموش صرف دو افراد ہی رہ سکتے ہیں: ایک وہ جو اس کیس سے بالکل واقف ہی نہ ہو اور وہ عافیہ کو دہشتگرد سمجھتا رہے۔ دوم وہ جو اس کیس کی تفصیلات و جزئیات سے باخبر تو ہو لیکن بددیانتی کرتا ہو۔

    اب امریکہ کا جھوٹ ساری دنیا کے سامنے واضح ہوچکا ہے، لہذا اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کے تنظیموں اور دنیا کے تمام انسانوں کو امریکہ کے اس ظلم کے خلاف آگے آنا چاہیے اور اس جھوٹ پر لب کھولنا چاہیے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے اپنے پاکستان کی کارگردگی بھی صفر ہے، دنیا بھر کی انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی تنظیمیں خاموش ہیں، کیونکہ عافیہ کوئی لبرل خاتون نہیں ہے نا! ورنہ کب سے دنیا نے ایک شور برپا کرنا تھا۔ اب وقت ہوا چاہتا ہے کہ پاکستانی عوام، حکومت اور ادارے کھل کر امریکہ کے مظالم کی مخالفت کرے اور عافیہ کی رہائی کا سنجیدہ مطالبہ کرے، ورنہ ہم سب مجرم ہونگے۔

  • کیا امتیازی سلوک صرف پولیس کے نظام سے بالا، فرانسیسی نفسیات میں سرایت کرتا ہے؟

    کیا امتیازی سلوک صرف پولیس کے نظام سے بالا، فرانسیسی نفسیات میں سرایت کرتا ہے؟

    حالیہ واقعات میں، فرانسیسی پولیس کی طرف سے ایک 17 سالہ لڑکے کو گولی مار نے کے واقعے نے فرانس میں جاری تشدد کو ہوا دی ہے۔ جس سے فرانس کی پولیس میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی گہری جڑوں کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ متاثرہ شخص شمالی افریقی نژاد تھا، جو بنیادی رویوں اور تعصبات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ 2023 میں پولیس اسٹاپ کے دوران فائرنگ کا تیسرا واقعہ ہے۔ پچھلے سال اسی طرح کے تیرہ واقعات ہوئے جن میں سے تین 2021 میں اور دو 2022 میں ہوئے۔ ان تمام واقعات میں متاثر لوگ یا تو عرب ورنہ افریقی تھے۔

    فرانسیسی پولیس فورس کے اندر نسلی امتیاز کے اس بار بار ہونے والے نمونے کو اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل، کونسل آف یورپ، اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اجاگر کیا ہے۔ ان کی رپورٹیں اور نتائج ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں کہ مسئلہ ان الگ تھلگ واقعات سے زیادہ گہرا ہے۔

    مزید برآں، یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ مسئلہ پولیس سسٹم کے علاوہ بھی موجود ہے۔ فرانس کو بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی اجتماعی نفسیات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس کی ایک مثال 2021 کے "اینٹی علیحدگی پسندی” بل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جہاں ایک ترمیم کی منظوری دی گئی تھی، جس میں نابالغ بچوں کے پہننے والے نمایاں مذہبی نشانات، اور خواتین کی محکومیت کی علامت ہونے والے لباس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ ترمیم مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی گہری غلط فہمی کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ فرانس میں تقریباً 50 لاکھ مسلمان ہیں، لیکن ان میں سے صرف ایک حصہ یعنی تقریباً 2000 ، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے چہروں کو مکمل طور پر نقاب سے ڈھانپتے ہیں۔ لہٰذا، یہ قیاس آرائیاں کہ اس طرح کے لباس پوری مسلم آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، غلط بھی ہے اور امتیازی بھی۔ اسلام میں ہر عورت پردہ نہیں کرتی۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ یقیناً اسلامی روایت کی پیروی کرتے ہیں جیسا کہ ان کا حق ہے۔

    فرانس کو نہ صرف اپنے ناقص پولیس سسٹم کی اصلاح کرنی چاہئے، بلکہ اس میں موجود وسیع تر سماجی مسائل کو بھی حل کرنا چاہیے۔ پولیس افسران فرانسیسی معاشرے کے رکن ہیں۔ جب امتیازی سلوک کو کسی بھی چیز یا کسی سے مختلف کے لیے اجتماعی رویہ کے طور پر قبول کیا جائے، تو اس نوعیت کے واقعات کا رونما ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوئی ادارہ تنہائی میں موجود نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس معاشرے سے تشکیل پاتے ہیں جس کا وہ حصہ ہیں۔

    آخر میں، فرانس کو اپنی صفوں کے اندر نسلی امتیاز کو دور کرتے ہوئے، اپنے پولیس انتظامیہ کی ایک جامع تحقیقات کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی قوم کو اپنے وسیع تر معاشرتی رویوں اور تعصبات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے، فرانس ایک زیادہ جامع اور انصاف پسند معاشرے کی تعمیر کے لیے کام کر سکتا ہے، جدھر امتیازی سلوک کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔