Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان کے چیلنجوں کی عکاسی

    پاکستان کے چیلنجوں کی عکاسی

    آرگنزا، جو اپنی سراسر خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، پاکستانی معاشرے کو درپیش جدوجہد کا ایک دلچسپ متوازی رکھتا ہے۔ آرگنزا اس کی لچک کی طرح قابل ذکر سختی کا مظاہرہ کرتا ہے، تاہم، جب ٹوٹ جاتا ہے، تو تانے بانے کی نازک سالمیت ناقابل تلافی طور پر بکھر جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے چیلنجوں نے پاکستانی عوام کی صلاحیتوں کا امتحان لیا ہے

    اس بے نقاب ہونے کی پہلی علامات COVID-19 وبائی مرض کے دوران واضح تھیں۔ بڑھتی ہوئی لاگت اخراجات اور قلت عام ہو گئی بے شمار لوگ اپنی روزی روٹی کھو بیٹھے تھے صنعتی بندش اور پیداوار میں کمی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا، اس کے ساتھ انٹر سٹیٹ بینکنگ میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ صارفین کی قوت خرید میں آنے والی کمی نے سماجی تانے بانے کو مزید تناؤ کا شکار کردیا۔

    ان مشکلات کے درمیان، اداروں کے لیے احترام کا ایک تکلیف دہ مرحلہ سامنے آیا، جس کی منصوبہ بندی پی ٹی آئی کی قیادت میں اہم شخصیات نے کی۔ ایک تفرقہ انگیز "ہم بمقابلہ ان” بیانیہ کو برقرار رکھا گیا، جس نے بڑھتے ہوئے پولرائزیشن کو فروغ دیا اورمعاشرتی بندھن توڑ دیئے۔ اسی بگاڑ کا ہی نتیجہ تھا کہ 9 مئی کے پریشان کن واقعات ہوئے اور فوج کی تنصیبات پر براہ راست حملہ کیا گیا جو کہ بغاوت کا ایک واضح مظہر ہے

    اگست 2023 تک ملک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سامنا کر رہا ہے جسکی وجہ سے شہریوں پر معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے مختلف علاقوں میں لوگوں کو احتجاج کرنے اور سڑکوں پر آنے پر مجبور کردیا ہے۔ جبکہ اب ان مظاہروں نے بے شمار شکلیں اختیار کر لی ہیں، جن میں یوٹیلیٹی دفاتر پر حملوں سے لے کر بڑھتے ہوئے بلوں کو پورا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ہونے والی خودکشیوں جیسے افسوسناک واقعات شامل ہیں۔ عدم اطمینان کی یہ لہر آئی ایم ایف پروگرام میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے عام شہری کے لیے ریلیف کے امکانات پر شکوک و شبہات مزید بڑھ جاتے.

    ایک قوم کی بنیاد اس کے شہریوں اور ریاست کے مابین پوشیدہ معاہدے پر ہوتی ہے، شہری فرض شناسی سے ٹیکس کے ذریعے اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور اس کے بدلے میں ریاست ان کو تعلیم، سہولیات، انصاف، روزگار اور جان و مال کے تحفظ تک رسائی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری دیتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہ معاہدہ نامکمل وعدوں کی وجہ سے متاثر ہوا ہے، اس کی واضح مثال پاکستانی آئین کے آرٹیکل 25 اے میں موجود ہے جس میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا اہتمام کرنا شامل ہے جبکہ ریاست کی جانب سے ان وعدوں کو مکمل طور پر پورا کرنے میں ناکامی نے سماجی معاہدے یا آئین میں درج چیزیں کمزور کردی ہیں.

    آخر میں ، آرگنزا کی کہانی پاکستانی معاشرے کی آزمائشوں اور مصائب کے لئے ایک دردناک استعارہ کے طور پر کام کرتی ہے، جس طرح خوبصورتی نازک لیکن لچکدار ہے، اسی طرح قوم اپنی نازک لیکن پائیدار لچک سے نبرد آزما ہے۔ آگے بڑھنے کے راستے کے لیے ٹوٹے ہوئے دھاگے کو درست کرنے، مشترکہ اقدار کی تجدید عہد اور چیلنجوں سے ٹوٹے ہوئے سماجی روایہ کو ازسرنو زندہ کرنے کی اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ اتحاد، فعال حکمرانی اور مشترکہ بھلائی کے عزم کے ذریعے ہی پاکستان زیادہ امید افزا مستقبل تشکیل دے سکتا ہے۔

  • نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملک بھر میں مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں بے دریغ اضافے پر جاری احتجاج اور مظاہروں میں عوامی نمائندوں کی عدم شرکت جمہوری سیاست کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ سیاستدانوں اور عوام کے درمیان واضح ہوتا ہوا خلا کیسے پُر ہو گا؟عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی اور بے راہنما قیادت پر مظاہرے جمہوریت نہیں جمہوریت کے دعویداروں پر سوالیہ نشان ہے ؟ عوامی احتجاج سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کرتا ہے کہ بیمار لا علاج ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود زندگی کو گھائل کرنے والے عذابوں کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ ملکی جمہوریت اور سیاسی نظام دنیا کے کسی کونے میں ا س طرح کا نظام انسانیت کو آسودگی اور آسائش دینے سے قاصر ہے ۔ موجودہ سیاسی نظام بدعنوانی اورمنافقت اخلاقیات کا درجہ اختیار کر چکی ہیں۔ جب ہر طرف مجبوری و محکومی کا راج ہو تو سیاست بھلا کیسی ہوگی ؟ ہمارا جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ خود سیاستدان ہی ہیں۔ سیاست روبہ زوال ہے ۔

    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں عوام مہنگائی سے چلااٹھے تھے پھر پی ڈی ایم کی حکومت میں مہنگائی کے تابڑتوڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگائے ۔ ٹاک شوز میں دولت مندوں کے پارٹیوں کے نمائندے ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں یہ محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں۔آج پاکستان اور عام آدمی کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کے ذمہ دار سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی وسائل سے توجہ ہٹا کر قرضوں پر ہی انحصار کیا جس کا خمیازہ آج عوام بھگت رہی ہے۔

  • بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    از: صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری
    (سابق ممبر قومی اسمبلی و پنجاب اسمبلی، سابق ضلع ناظم شیخوپورہ )

    ‏مریم نواز، بلاول بھٹو، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف سارا جتھا لے کر مہنگائی مکانے آئے تھے لیکن مہنگائی مکانے کے لیے ظالموں نے عوام کو ہی ختم کرنے کا فارمولا بنادیا، اچھا ہے نہ عوام رہے گی اور نہ پھر مہنگائی۔

    بہرحال جب تک عوام ہے ان کے ریلیف کے لیے موجودہ بجلی بحران پر کچھ اہم ضروری سفارشات نگران وزیراعظم پاکستان کے سامنے پیش کر رہا ہوں جن پر عملدرآمد سے فوری طور پر بجلی بحران پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔۔
    1. ملک بھر کی مارکیٹوں کو غروبِ آفتاب کے ساتھ پابند کر دیں تا کہ صرف اور صرف دن کی روشنی میں کاروبار کیا جائے، آذان مغرب کے ساتھ ہی تمام دکانیں ماسوائے کھانے پینے کی اشیاء والی والی دکانوں کے بند کر دی جائیں اور اسی طرح آذان عشاء تک میڈیکل اسٹورز کے علاؤہ بقایا تمام دکانیں بھی مکمل طور پر بند ہو جانی چاہیں ۔ جس نے بھی خریداری کرنی ھے دن کی روشنی میں کرے۔

    2- ملک بھر میں تمام ٹرانسفارمرز کے ساتھ انفرادی میٹر لگایا جائے اور کسی ایک ریٹائرڈ محلےدار یا کسی ایک ذمہ دار فرد کو اس ٹرانسفارمر کے تمام بل جمع کرنے کی ڈیوٹی دی جائے ، جس پر مناسب اجرت دے دی جائے اس طرح ہر ٹرانسفارمر کا سارا حساب ہو تا رہے گا اور بجلی چوری گراؤنڈ لیول سے ختم ھو جائے گی ۔

    3- فیکٹریوں اور کارخانوں میں بجلی کے لوڈ کو مینج کرنے کے لیے ہفتہ وار پر ضلع کے مطابق پلان ترتیب دیا جائے اور اس کے مطابق ہر فیکٹری کو پانچ دن بغیر لوڈ شیڈنگ کے بجلی فراہم کی جائے اور باقی دو دن مختلف اضلاع میں مختلف ایام میں فیکٹریوں کو مکمل چھٹی دی جائے اور اس طرح پورے ہفتہ میں بجلی کا لوڈ ہر ضلع کے مطابق مینج ھو جائے گا۔

    4- ملک بھر میں ہر ادارے اور ہر فرد سے بجلی کی فری سہولت ختم کر دی جائے، واپڈا ملازمین سمیت تمام ادارے اپنی استعمال شدہ بجلی کا بل لازمی جمع کروائیں۔

    5- ملک بھر کی تمام عبادت گاہوں کو بجلی فری سہولت فراہم کی جائے تاکہ اجتماعی عبادتگاھوں کا بوج تمام شہری برداشت کریں۔

    یہی سفارشات 2014 میں وزیر پانی و بجلی عابد شیر علی کو بھی پیش کی مگر عملدرآمد نہ ھوا ، جو کہ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔اگر ان سفارشات پر آج بھی عمل درآمد ہو جائے تو فوری طور پر بجلی بحران پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

  • بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر ایک نگراں حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اضافے اور بے تحاشا ٹیکسوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے درمیان ملک کے داخلی معاملات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تکنیکی حل نکالنے کی کوششوں کے بجائے ٹیکسوں کی بھرمار عوام کا معاشی قتل کر رہے ہیں، ملک کا معاشی عدم استحکام برقرار ہے اور بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حالیہ برسوں میں حکومتی تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شہریوں کے لیے ایک سنگین صورتحال کا باعث بنا ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی سیاسی قیادت میں تبدیلیوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا ہے، جس میں منتخب حکومتوں کی جگہ اتحادیوں اور اب نگراں انتظامیہ نے لے لی ہے۔ بدقسمتی سے، اس سیاسی ہنگامے نے معاشی عدم استحکام میں حصہ ڈالا ہے، جس میں افراط زر کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔خاص طور پر خوراک اور توانائی جیسے ضروری شعبوں سے منسلک ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ٹیکسوں کی بھرمار سے ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے عوام پر اہم مالی بوجھ پڑا ہے۔ الیکٹرک بل، جو کہ بہت سے شہریوں کے لیے بنیادی تشویش ہے، میں سو گنا تک اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ٹیکس کا پیچیدہ نظام ہے۔

    پاکستان میں بجلی کے بلوں میں موجود یونٹس پر آنے والے بل کا تعین اس کے استعمال کے مطابق یونٹوں کی تعداد کرتی ہے۔ سو یونٹس سے کم بجلی ٹیرف میں فی یونٹ قیمت پانچ سو یونٹ والے بل سے نسبتاً کم ہو گی۔ لیکن اسی بل میں حکومت ٹیکسوں کی مد میں جو صارفین کی جیب پر ڈاکہ ڈالتی ہے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو فی یونٹ فنانسنگ کاسٹ چارج .43 پیسہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد شروع ہوتی ہے ٹیکسوں کی لمبی قطار۔ جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں دس فیصد سے لے کر پچیس فیصد تک، آمدنی ٹیکس بھی پانچ فیصد سے بیس فیصد، سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ یا ڈی ایم سی 1.86 سے آٹھ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر ای ڈی023. سے 23. فیصد ، الیکٹریسٹی ڈیوٹی 87. سے 2 فیصد، ایکسٹرا ٹیکس 3فیصد سے دس فیصد، گھریلو صارفین سے ٹی وی فیس 35 روپے، Further tax دو سے پانچ فیصد، آر ایس ٹیکس تین سے پانچ فیصد، ایف پی اے کا آر ایس ٹیکس 0.08 سے دو فیصد، ایف پی اے پر جی ایس ٹی0.3 سے 1 فیصد، ایف پی اے پر 0.05 فیصد Further tax, پراگ آئی ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ سے پندرہ فیصد، پراگ جی ایس ٹی پیڈ ایفوائے ٹیکس پانچ فیصد سے اٹھارہ فیصد، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ایک فیصد سے پندرہ فیصد، ایف سی سرچارج چار سے دس فیصد، بل ایڈجسٹمنٹ پانچ سے پندرہ فیصد، ٹوٹل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو فیصد سے دس فیصد تک ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ اگر ہم ان سب ٹیکسوں کو اکٹھا کریں تو یونٹوں کے استعمال کے حساب سے ٹوٹل پچاس فیصد سے سڑسٹھ فیصد کے درمیان ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ ان کو اگر ہم مزید مختصر کریں تو ‏آسان الفاظ میں گھریلو صارفین سے 51 روپے فی یونٹ قیمت میں، ایندھن 6 روپے، 15 روپے بجلی گھر کرایہ، 16 روپے حکومت کا ٹیکس، 6.5 روپے دوسروں کو مفت یا سستا دینے کی مد میں اور آخر میں 6.5 روپے فی یونٹ بجلی چوری ہونے کا نقصان وصول کیا جاتا ہے۔ اسی شرح سے کمرشل صارف سے 66 سے اسی روپے فی یونٹ تک قیمت وصول کی جاتی ہے۔

    ماہرین کی رائے میں ان حالات پر قابو پانے کے مختلف حل ہیں۔ جن میں سے چند نقاط پیش کئے گئے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کو ہموار کرنے سے صارفین پر بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں اور محصولات کی وسیع رینج پر دوبارہ غور کرنا، اور معقولیت کے لیے اختیارات تلاش کرنا، مجموعی اخراجات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
    قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری مہنگے جیواشم ایندھن پر انحصار کو کم کر سکتی ہے، بالآخر بجلی کی قیمتوں کو روک سکتی ہے۔ اس منتقلی کے مثبت ماحولیاتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم، اس رعایتی عمل کو اچھی طرح سے ترتیب دیا جانا چاہیے اور مؤثر طریقے سے تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    معاشی بحالی کے لیے مستحکم سیاسی ماحول کا قیام بہت ضروری ہے۔ شفاف طرز حکمرانی اور پالیسیاں جو شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتی ہیں اعتماد پیدا کر سکتی ہیں اور سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہیں، جو بالآخر ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

    توانائی کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور چوری کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا لاگت کو روکنے پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں سرمایہ کاری اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کے معاشی چیلنجز کثیر جہتی ہیں، جو سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، اور ٹیکس کے پیچیدہ نظام سے پیدا ہوئے ہیں۔ شہریوں پر پڑنے والا بوجھ، خاص طور پر بجلی کے بے تحاشا بلوں سے، فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس اصلاحات، توانائی کے تنوع، سبسڈی کی معقولیت، عوامی بیداری، سیاسی استحکام اور کارکردگی میں اضافہ پر مشتمل ایک جامع نقطہ نظر ضروری ہے۔ جیسے ہی قوم اس بحران سے گزر رہی ہے، پالیسی سازوں، ماہرین اقتصادیات اور شہریوں کی مشترکہ کوششیں مزید مستحکم اور خوشحال مستقبل کی جانب راہ ہموار کر سکتی ہیں

  • نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک  یادگار نشست کا احوال

    نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک یادگار نشست کا احوال

    آغا نیاز مگسی

    ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی منفرد شخصیت کے مالک ، بلوچستان کے سابق گورنر ، سابق وزیر اعلیٰ سابق وفاقی وزیر اور بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب محمد اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 میں بارکھان بلوچستان میں اپنے ننھیال کھیتران قبیلہ کے گھر میں پیدا ہوئے اور26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں ایک سانحے کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی یہ پراسرار موت بھی بہت سی دیگر نامور شخصیات کی طرح آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ مجھے ان کی نمازہ جنازہ کا منظر دیکھنے اور رپورٹنگ کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے جس میں اندرون بلوچستان سے شریک ہونے والا میں واحد صحافی تھا بلکہ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں ان کا صحیح موقف پیش کرنے کا اعتماد حاصل کرنے کے باعث تقریباً 9 سال تک ٹیلی فون پر ان کی خبریں میں پیش کرتا رہا ۔ یہی وجہ تھی کہ کوئٹہ کے بہت سے نامور صحافی کسی موضوع یا کسی اہم مسئلے پر ان کا موقف جاننے کیلئے مجھ سے رابطہ کر کے نواب صاحب کا موقف معلوم کرتے تھے اور اسی تعلق اور اعتماد کے تناظر میں 2005 میں نصیر آباد اور جعفر آباد کے سینیئر صحافی دوستوں عبدالستار ترین ، دھنی بخش مگسی ، شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری نے مجھے حکم دیا کہ میں نواب صاحب سے رابطہ کر کے ان سے ملاقات کیلئے وقت لے لوں ۔ میں نے نواب صاحب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جنہوں نے از راہ شفقت فرمایا کہ آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنے صحافی دوستوں کو میرے پاس لے آئیں ۔ میں نے دوستوں سے رابطہ کر کے نواب صاحب کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے ڈیرہ الله یار کے اپنے قبیلے کے ایک بااعتماد نوجوان دریحان بگٹی کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دیں ۔ ہم لوگ 12 دسمبر 2005 کو ڈیرہ الله یار سے ڈیرہ بگٹی کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے عبدالستار ترین کو زبردستی دو پہر کو کھانا کھلانے کیلئے روکا جس کی وجہ سے ہمیں کافی تاخیر ہو گئی۔ جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو ایک دو جگہ پر ہم کسی ضرورت کے تحت گاڑی سے نیچے اترے تو لوگ ہمیں کہتے کہ آپ نواب صاحب کے مہمان ہیں ؟ ہم نے حیرت سے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولے کہ نواب صاحب بہت دیر تک اپنی ” کچہری ” یعنی محفل میں آپ لوگوں کا انتظار کرتے رہے ۔ ہم پہلے نواب صاحب کے مہمان خانے گئے جہاں ہمارے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہمیں ان کی خلوت گاہ پہنچا دیا گیا ۔

    ہم جیسے ہی ان کی آرام گاہ میں داخل ہوئے انہوں نے از راہ مذاق کہا کہ میں تو اس انتظار میں تھا کہ بی بی سی ریڈیو سے کب خبر چلتی ہے کہ نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کیلئے ڈیرہ بگٹی جانے والے نصیر آباد اور جعفر آباد کے صحافی اغوا کر لیے گئے ہیں ۔ ان سے ملاقات میں ، میں نے اپنے صحافی دوستوں کا ان کے شہر اور صحافتی ادارے کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے تعارف کرایا جس کے بعد انہوں نے بلوچی رسم کے مطابق ہم سے بلوچی ” حال” لینا چاہا چناں چہ میں نے انہیں ” حال ” دیا اور ان سے ” حال” لیا جس کے بعد ان سے باقاعدہ انٹرویو / گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ۔ میرے دوستوں نے ان سے حالات حاضرہ کے مطابق سیاسی سوالات کئے جبکہ میں نے ان سے ذاتی نوعیت کے غیر سیاسی سوالات کئے جن میں ان کے رومان، مذہبی و فکری رجحان ، پسندیدہ شخصیات ، سیر وسیاحت اور خود کو ڈیرہ بگٹی تک محدود رکھنے کے متعلق سوالات شامل تھے جن کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں عشق بھی کیا، دنیا کے کئی ممالک کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر مرکوز ہیں اس لئے میں ڈیرہ بگٹی سے باہر نہیں نکلتا جبکہ 18 سال سے گوشت نہ کھانے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ مذہبی لحاظ سے بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہیں اس لئے ان کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے گوشت کھانا ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ شخصیات میں رابندر ناتھ ٹیگور اور ہٹلر کا نام لیا۔ دسمبر کی یخ بستہ رات میں ان کے ساتھ ہونے والی ہماری نشست رات 9 بجے سے صبح 3 بجے تک یعنی 6 گھنٹوں پر محیط تھی ۔ اس گفتگو کے دوران ایک بار ہمارے ایک دوست نے ان سے یہ سوال کیا کہ نواب صاحب آپ کبھی حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودیہ بھی گئے یا نہیں تو اس کے جواب میں خلاف توقع نواب صاحب نے ہمارے صحافی دوست سے تلخ لہجے میں سوال کیا کہ ابھی جو مگسی صاحب (میری جانب اشارہ) نے میرے بیرونی ممالک کے دوروں کی فہرست میں جن ممالک کے نام لکھے ہیں تو کیا ان میں سعودی عرب کا نام شامل ہے ؟ اس غیر متوقع سوال اور جواب سے محفل کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا لیکن تقریباً نصف گھنٹے سکوت اور خاموشی کے بعد پھر سے محفل خوشگوار ہو گئی۔ اس طویل اور یادگار نشست کا اختام خود نواب اکبر خان بگٹی نے یہ کہہ کر ، کر دیا کہ اب آپ لوگوں پر نیند کا غلبہ طاری ہو رہا ہے اس لئے جا کر آرام کریں اس طرح ان کے ساتھ ہونے والی یادگار نشست اختتام پذیر ہو گئی جس کی یادیں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔

    نوٹ : 2018 سے میں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں صحافت کے شعبے سے قطع تعلق کر لیا ہے جس کے بعد میرا کسی بھی صحافتی ادارے سے تعلق نہیں ہے ۔ (آغا نیاز مگسی )

  • جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے شکوہ
    وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے
    اقربا میرے کریں قاتل کا دعویٰ کس پر

    قومی انتخابات کو لے کر پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پیپلزپارٹی روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیتی ہیں کہ الیکشن وقت پر اور آئین کے مطابق کروائے جائیں ان کے بیانات سن کر اور پڑھ کر جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے اس کی بنیادی وجہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے جاتے جاتے مشترکہ مفادا ت کونسل کے ذریعے مردم شماری کا شوشہ چھوڑ کر بروقت الیکشن کے انعقاد کو ٹالنے کی ایسی راہ ہموار کر دی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن ضابطہ کی روشنی میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پابند ہے۔

    ویسے بھی پنجاب میں نگران حکومت اور کے پی کے میں نگران حکومت آئین کی حدوں کو کراس کر چکی ہیں دونوں صوبوں میں مقررہ وقت پر الیکشن نہیں کروائے گئے اس طرح الیکشن مقررہ وقت کے بیانات پچیس کروڑ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس کے ذمہ دار خود سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں۔ ملک میں پہلے ہی جمہوریت غیر مستحکم ہے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اس غیر مستحکم جمہوریت کو مستحکم کرنے کے بجائے مزید لاغر کردیا ہے۔ قومی انتخابات جس کو جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے پی ڈی ایم نے خود اس کی روح نکال دی ہے اور دفن کر دیا ہے۔ قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بیانات میں حقیقت نہیں صرف افسانے ہیں۔ افسانے افسانے ہی ہوتے ہیں حقیقت نہیں عوام کی اکثریت باشعور ہیں بے وقوف نہیں۔

  • ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بعض بیرونی ممالک بالخصوص بھارت بلوچستان کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا دہشت گردوں کو باقاعدہ وسائل فراہم کرتا رہا۔وسائل سے مالا مال یہ خط پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ اس صوبے کو نظر بد سے بچانے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 1997 میں اپنی جماعت کی مدد سے اختر مینگل کو مخلوط حکومت کا وزیراعلیٰ بنایا ۔ 2013 میں ڈاکٹر عبدالمالک کو بھی(ن) لیگ کی حمایت رہی۔ اختر مینگل کا تعلق اور ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق دو مختلف جماعتوں سے تھا دونوں سیاسی پارٹیوں کی مدد سے بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے کے قریب لایا گیا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی پرچم لہرانے لگا۔آج ایک بار پھر نگران حکومت کی تشکیل میں پاکستان مخالف ممالک اور بالخصوص بھارت کو جواب دیا گیاہے۔ جو بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرتا رہا۔

    ملکی سلامتی کے پیش نظر فیصلوں کی حمایت ہی نہیں بھرپور حمائت کرنا چاہیئے ۔ سالوں کے بعد یعنی 75 سال کے بعد بحیثیت قوم ایک نہ ختم ہونے والی ہیجانی کیفیت سے گزر رہے ہیں ہم حقائق جانے بغیر اپنی رائے قائم کردیتے ہیں ہم اندر ونی خلفشار کا شکار ہیں ۔یہ اندرونی خلفشار نظام کو لپیٹنے کا آغاز ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے طے شدہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا ۔ اس ملکی سلامتی اور عام آدمی کے مفادات کے لیے اپنے مفادات کو پس پشت ڈالنا ہو گا ۔ معاشی بحران بھی ایسا نہیں جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ اس وقت ملک کے حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جائیں ۔ پاکستان کو باکردار لوگوں کی ضرورت ہے۔

  • نگران حکومت سے عوام کی توقعات  ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    عام انتخابات سے قبل نگران حکومت کا قیام ایک قانونی تقاضا ہوتا ہے جس کا اہم مقصد ملک میں انتخابی عمل کو صاف اور شفاف انداز میں یقینی بنانا ہوتا ہے اس لیے اس کا باقاعدہ حلف اٹھایا جاتا ہے۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے یہ آٹھویں نگران حکومت ہے ۔نگران حکومت کاایک مقصد شفاف شفاف انتخابات کا انعقاد کروانا ہوتا ہے تاہم بدقسمتی کی بات ہے کہ جب بھی نگران حکومت کی نگرانی میں انتخابات ہوئے اپوزیشن نے کبھی بھی ان کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دھاندلی کا شور ہی مچا ہے ۔ نگران حکومت کی دیگر ذمہ داریاں منتخب حکومت کے قیام تک آئین اور قانون کے تحت مملکت کا انتظام چلانا ہوتا ہے تاکہ نہ صرف یہ کہ جاری ترقیاتی منصوبے وقت مقررہ پر پایا تکمیل تک پہنچ جائیں بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

    جہاں تک نگران حکومت کو درپیش اجتماعی مسائل کا تعلق ہے ان میں امن و امان ، مہنگائی اور بے روزگاری ایسے مسائل سر فہرست ہیں ان مسائل سے نمٹنا بے حد توجہ طلب ہے۔ انتخابات وقت پر کروانے کے بعد دوسری اہم ذمہ داری عوام پر سے مہنگائی کا بوجھ کم کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس لیے کہ عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے بلکہ اب تو صورت حال یہ ہے کہ عوام کے لیے جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا ہے ۔ اس تناظر میں نگران حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو نہ صرف عوام کے مفاد میں ہوں بلکہ آنے والے حکومت کے لیے بھی قابل تقلید ہوں ۔

    اس بات میں کوئی دو آرا ء نہیں کہ اس وقت قوم کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی سودی قرضوں کے لیے جال میں بری طرح جکڑا ہوا ہے سودی معیشت جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ اور بغاوت کے مترادف ہے اس جنگ اور بغاوت نے ہمارا معاشی ، معاشرتی اور قومی حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔حالانکہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا ضروری تھا کہ پاکستان میں سودی نظام کا خاتمہ کرکے اسلامی طرز معاشرت قائم کیا جاتا لیکن یہاں دن بہ دن سودی نظام مضبوط ہورہا ہے ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت عالمی مالیاتی اداروں کے شکجنے اور پنجے میں بری طرح جکڑی جاچکی ہے ۔ ہماری حکمرانوں کی بے حسی کی یہ حالت ہے کہ آئی ایم ایف سے جب بھی بھیک ملتی ہے تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشیاں مناتے ہیں مگر یہ کسی کو بھی احساس نہیں کہ عوام کا دیوالیہ ہو چکا ہے اور مہنگائی کی شرح تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60ہزار روپے تنخواہ لینے والا شخص خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ حکمران ان حالات پہ اس لیے توجہ نہیں دیتے کہ انہیں معاشی مسائل درپیش نہیں ہیں انہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو تو پتہ چلے کہ عوام مالی طور پر حالات کے پل صراط سے کس طرح گزر رہے ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے گھرانے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے قابل ہیں نہ صحت کی سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں۔ نگران ارباب اختیار کو چاہیے کہ وقت ضائع کیے بغیر ان گھمبیر اور سنگین مسائل پر توجہ دیں تاکہ ملک میں بھوک اور افلاس کے باعث خودکشیوں کا رجحان دم توڑ سکے۔اس وقت یہ بات زبان زد عام ہے کہ لوگ مالی مشکلات کے باعث عفت و عصمت ایسے گوہر کو لٹانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے ہماری درج ذیل گزارشات ہیں کہ وہ :
    اپنی کابینہ مختصر رکھیں ، اپنا اور اپنے وزرا کا شاہانہ پروٹوکول ختم کریں ، کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کریں، وفاق اور صوبوں میں ایسی تبدیلیاں لائیں جن سے اشرافیہ کو حاصل مراعات میں کمی ہو، لاکھوں سرکاری گاڑیوں کو روزانہ ہزاروں لیٹر ملنے والا مہنگا پٹرول بند کیا جائے ، خاص طور پر ججوں جرنیلوں اور بیوروکریٹ کو حاصل لامحدود مراعات واپس لی جائیں۔

    دکھ کی بات ہے کہ ایک اسلامی نظریاتی ریاست میں دولت کی تقسیم کا کوئی قابل قبول فارمولا ہی نافذ نہیں تمام مراعات کا رخ طبقہ اشرافیہ اور ان کے اللوں تللوں کی طرف ہے اور غریب لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف نگران وزیر اعظم نے سابق حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے حالانکہ سابق حکومت نے ملک کا اور غریب آدمی کا معاشی طور پر تیاپانچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ سابق حکمرانوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا کہ چار پانچ افراد پر مشتمل گھرانوں کے وہ کفیل جن کی ماہانہ آمدنی 25 سے 30 ہزار روپے تک ہے وہ کن بدترین حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ بجلی کے بلوں نے عام آدمی کو خون کے آنسو رولا دیا ہے۔ کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتاتھا کہ جب بجلی کے نرخوں میں نت نئے ٹیکس کا اضافہ نہ کیا جاتا ہویا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا ہو ۔اب نگران حکومت نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ غریب آدمی کو کچلنے اور مہنگائی کرنے میں سابقہ حکومت کے راستے پر ہی چل رہی ہے ۔حکومت بجلی چوری پر ہی قابو پا لیتی تو بجلی کے بل کم ہو سکتے تھے بجلی کے بلوں میں اضافہ ایسا مسئلہ ہے جو ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے یہ بات ارباب اختیار کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ ظلم کی بھی ایک حد ہوتی ہے بجلی ، سوئی گیس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر ضروریات زندگی کے نرخوں میں ناقابل برداشت اضافوں کے باعث اگر عوام سڑکوں پر آگئی تو حالات کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا قبل اس کے کہ ایسا وقت آئے عوام کی مشکلات کا مداوا ہونا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یا تو مہنگائی پہ کنٹرول کیا جائے یا آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔نگران حکومت کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ ایک تو سرکاری اور پرائیویٹ محکموں میں روزانہ اجرت یا کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو 32 ہزار روپے کی ادائیگی ہو یا دوسرا یہ کہ جس طرح مستقل ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اسی طرح غیر مستقل ملازمین کو بھی آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے معقول تنخواہ دی جائے ۔ معاشی ماہرین کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ارباب اختیار کو مشورہ دیں تاکہ وہ غیر مستقل ملازمین کا بھی خیال رکھیں کیونکہ ضرورتیں تو سبھی لوگوں کی ایک جیسی ہوتی ہیں کسی کی آمدنی کم ہو یا زیادہ مہنگائی کا بوجھ سب پر ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ خوشحال لوگ تو آج بھی مہنگائی کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے مگر غریب آدمی تو ذہنی توازن تک کھوتاجا رہا ہے کہ وہ خود کیا کھائے اور بچوں کو کیا کھلائے۔ ان مسائل پر خلوص نیت سے توجہ نہ دی گئی تو مستقبل قریب میں حالات پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا ۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط

    محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب

    آپ چیف جسٹس پاکستان آ رہے ہیں، میں ایک انتہائی اہمیت کے حامل معاملے پر آپکی توجہ چاہتی ہوں،یہ مسئلہ عدالتی حد سے تجاوز کے حوالہ سے ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہوا تھا، "ڈیم فنڈ” کے فصٰلہ بارے نہ صرف فکر مند ہوں بلکہ پاکستان کو اس وقت جو سنگین معاشی مسائل ، چیلنج درپیش ہیں انکے حوالے سے توجہ چاہتی ہوں،

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جولائی 2018 میں ڈیم فنڈ کی تشکیل کی گئی، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، یہ فیصلہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن سمیت چار رکنی بینچ نے سنایا۔ میڈیا میں رپورٹ کئے گئے، عدالتی فیصلہ کے مطابق ، اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی اتھارٹی یا محکمہ ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والی رقم کے ذرائع کی جانچ پڑتال نہ کرے۔ مزید برآں، اس میں یہ بھی کہا گیا کہ فنڈ کا استعمال سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ آڈٹ پر منحصر ہوگا۔

    21 اپریل 2023 کو دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تقریب کے دوران سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بتایا کہ کس طرح ان کا شروع کیا ڈیم فنڈ 10 ارب روپے سے بڑھ کر 17 ارب روپے تک پہنچ گیا ۔ اس اضافے کی وجہ سرکاری ٹی بلز میں سرمایہ کاری تھی۔ غور طلب ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما بھی ڈیم کے لیے فنڈ ریزنگ مہم میں شامل ہوئے۔ بہت سے لوگ ثاقب نثار کے بیرون ملک فنڈ ریزنگ کے دوروں میں ساتھ گئے۔ مبینہ طور پر مختلف ذرائع سے فنڈز اکٹھے کیے گئے جن میں سرکاری ملازمین اور سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے بھی شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے 9 جنوری 2019 کو اطلاع دی کہ ڈیم فنڈ کے لیے 50 سے زائد ممالک سے 9.1 بلین روپے جمع کیے گئے ہیں۔

    اگرچہ ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالنے میں لوگوں کی فراخدلی کو کم نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس میں بہت سے خدشات ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جمع شدہ فنڈز، جن کی رقم 17 ارب روپے ہے، فی الحال ایک اکاؤنٹ میں رکھی گئی ہے۔ تاہم، یہ فنڈز بنیادی طور پر ایگزیکٹو کے وسائل کا حصہ ہیں، اور ان کے مقصد اور استعمال پر پوری طرح غور کیا جا سکتا ہے، پاکستان معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے، جیسا کہ اس کے قرضوں پر انحصار سے ظاہر ہوتا ہے، بشمول آئی ایم ایف کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں، اور صرف مالی سال 2023-24 میں 19 بلین ڈالر کے بیرونی ذخائر۔ ان معاشی دباؤ کی روشنی میں، اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا غیر فعال اکاؤنٹ میں 17 ارب روپے رکھنا ملک کے بہترین مفادات میں ہے یا نہیں ؟

    پاکستان کے آنے والے چیف جسٹس کی حیثیت سے، مجھے انصاف کے لیے آپ کے عزم پر پورا بھروسہ ہے۔ ایک ٹیکس دہندہ اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے، میں آپ سے پر خلوص التجا کرتی ہوں کہ ملک کی اہم ضروریات کے لیے حکومت کو یہ فنڈز جاری کرنے پر غور کریں۔ مجھے پوری امید ہے کہ آپ کا انصاف کا احساس، شفافیت، مالیاتی ذمہ داری اور قومی بہبود کے اصولوں سے رہنمائی لیتے ہوئے، اس معاملے کے مناسب حل کا باعث بنیں گے،

  • بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان میں نگراں حکومت کے قیام کا معاملہ التوا کا شکار ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات آئندہ چوبیس گھنٹے میں متوقع کی جارہی ہے اور بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ کے قیام پر اپوزیشن کی دونوں جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کے نام پر ڈٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے بی این پی کی جانب سے میر حمل کلمتی اور جے یو آئی کی جانب سے عثمان بادینی اور شبیر مینگل کے نام ظاہر کیئے گئے ہیں تاہم بی اے پی کی جانب سے تین نام سامنے آئے ہیں جن میں کہدہ بابر، اعجاز سنجرانی اور نصیر بزنجو شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ اس حوالے سے فیصلہ کل شام تک متوقع ہے۔ وزیر اعلی کوئٹہ پہنچنے کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرکے نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر حتمی مشاورت کریں گے۔ جبکہ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو اسمبلی تحلیل کی سمری کل ( ہفتے کو) رات تک گورنر کو بھیج دیں گے۔ جس کے بعد گورنر کے سائن/دستخط ہوتے یہ اسمبلی ٹوٹ جائے گی۔