Baaghi TV

Category: سیاست

  • دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    سیاست ایک گندا کھیل ہے۔ سیاستدانوں کی کثیر تعداد؛ وہ سمجھ لیتی ہے کہ ہوائیں کس جانب چل رہی ہیں، 9 مئی 2023 عمران خان اور ان کی پارٹی کے لیے موت کا دن تھا۔ سب کچھ خاک ہو گیا۔ سیاسی برفباری کا اثر شروع ہوا اور اب بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ وہ گول پتھر جو خان کی پارٹی کی طرف لپکے تھے، سبز چراگاہوں تک جانے کے راستے کو نشانہ زد کرنے میں تیزی سے کوشاں تھے۔ جیسا کہ کہاوت ہے، ڈوبتے جہاز سے چھلانگ لگا دی! پی ٹی آئی کے کچھ "کٹر” حامی جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ "موت تک بھی ہم الگ نہیں ہوں گے” انہوں نے جہانگیر خان ترین کی استحکم پاکستان پارٹی میں شامل ہونے میں کوئی دیر نہ کی۔ اس کا آغاز بڑے دھوم دھام سے کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے دبئی سے آنے والی خبروں سے معلوم ہوا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی اس نوزائیدہ جماعت کے لئے سیٹوں میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ نئی پارٹی میں شامل ہونے والے پہلے ہی پی پی پی جیسے پرانی جماعتوں میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔ اگرچہ ایسا ہو بھی سکتا ہے ،اور نہیں بھی،

    پاکستانی عوام میں جو سوال پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ نادہندگان, جو پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی سابقہ وفاداری کے نادہندہ ہیں اور ہر طرح کی کرپشن کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ اور بعض نے اس عمل میں بھی اپنا حصہ بھی ڈال دیا ہے جو پاکستان کے اپنے 9/11 پر ہونے والی غداری کا عمل تھا، کیا ان کو وائٹ واش کرنے کی اجازت دی جائے گی، اور اس طرح پی ٹی آئی سے جانے کی بنیاد پر ہر غلط کام سے بری ہو جائیں گے؟

    اگر ایسا ہو جائے تو قابل افسوس بات ہو گی۔ ابھی تک نظریہ یہ ہے کہ نہ صرف 9 مئی کے مجرموں کا، بلکہ تمام بدعنوانیوں کا بھی کڑا احتساب ہوگا۔ تاہم، اگر ان بھگوڑے سیاستدانوں کو ان کی بداعمالیوں سے مستثنیٰ ہونے کی اجازت دی جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ احتساب کا عمل مخصوص ہے نہ کہ جامع۔ اس عمل میں تمام بدعنوان کارروائیوں کا احاطہ ہونا چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو۔ خواہ میڈیا کے اہلکار ہوں یا فوج اور عدلیہ کے،

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ، لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ایک بار اور تبدیلی کے لیے، انصاف کا یہ جملہ، ’’انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا دیکھا بھی جانا چاہیے‘‘۔ [یہ جملہ لارڈ ہیورٹ نے ترتیب دیا تھا، جو اس وقت کے لارڈ چیف جسٹس آف انگلینڈ تھے، ریکس بمقابلہ سسیکس جسٹس، [1924] 1 KB 256۔]”

  • کریک ڈاؤن!

    کریک ڈاؤن!

    آتش زنی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ فوج کے اس معاملے میں نرمی کا کبھی موقع نہیں دینا چاہئے۔ پہلی مثال ان کی اپنی صفوں میں سے ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل احمد شریف نے حال ہی میں اپنے خطاب میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں فوج کے "خود احتسابی کے عمل” کے ایک حصے کے طور پر ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین فوجی افسران کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ تین میجر جنرلز اور سات بریگیڈیئرز سمیت افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ (ڈان نیوز 26 جون 2023)

    پیغام بآواز بلند اور واضح ہے۔ نو مئی کے واقعات میں جو بھی ملوث ہیں، کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

    یہ کارروائی رواں برس 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ملوث افراد کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ چاہے انہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے نعروں سے اکسایا گیا ہو کہ "عمران خان ہماری سرخ لکیر ہے” اور "ہم آپ کے "باپ” سے "حقیقی آزادی” لیں گے – آتش زنی کرنے والوں کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی "ماسٹر مائنڈ” کو بخشا جائے گا۔

    آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں کے ذریعے عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ یہ باقاعدہ قانون ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں پر کن حالات میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے، جب کوئی شہری خود کو غداری میں ملوث کرتا ہے، فوجی اہلکاروں، املاک پر حملہ کرتا ہے، یا پھر جاسوسی میں ملوث پایا جاتا ہے۔

    یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ
    1۔ 1973 کا غداری ایکٹ کیا ہے:

    2. سنگین غداری وغیرہ کی سزا۔ جہاں جب ایک شخص جو مجرم پایا جاتا ہے۔

    ا- 23 مارچ 1956 کے بعد سے کسی بھی وقت پاکستان میں نافذ العمل آئین کی تنسیخ یا تخریب کاری کا ارتکاب کرنا
    ب- آئین کے آرٹیکل 6 میں بیان کردہ سنگین غداری کی سزا موت یا عمر قید ہوگی۔

    باٹم لائن:

    3. طریقہ کار۔ کوئی عدالت اس ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم کا نوٹس نہیں لے گی، ماسوائے اس سلسلے میں کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اختیار کردہ کسی شخص کی تحریری شکایت پر۔

    میرا معصومانہ سوال یہ ہے کہ پھر عدالت نے فوجی ٹرائیبیونلز کے ذریعے شہریوں کے مقدمات کو روکنے کی درخواستوں کی سماعت کیوں شروع کی؟

    دوسری صورت حال وہ ہے جب پاکستان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ اور ایمرجنسی کے اعلان کا سامنا ہو۔

    کریک ڈاؤن یہاں ہے۔ کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ جو لوگ اس پر خاموش ہیں، انہیں سمجھنا ہوگا کہ کھیل ختم ہوچکا ہے۔ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا قابل قبول نہیں!

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!

    مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!

    مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران، دہلی اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدے کیے گئے۔ پرائیویٹ سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کو بھی اجاگر کیا گیا جس نے اسے خاصا فروغ دیا۔

    اس دورے کے دوران مودی نے بھارت کے لیے جو بھی اچھی چیزیں حاصل کیں، ان کا اثر بائیڈن کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا، "بھارت اور امریکہ نے سرحد پار دہشت گردی کی "سخت مذمت” کی نیز پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ دے۔ مشترکہ بیان میں دہشت گرد حملوں کے خلاف جس میں دونوں ممالک کو "دنیا کے قریبی دوستوں میں سے” قرار دیا گیا۔

    پاکستان کے متعلق مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور بھارت "عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں، اور دہشت گردی کی تمام اشکال کی واضح مذمت کرتے ہیں”۔ [دی انڈیپنڈنٹ، جون 2023]۔

    یہ مزاحیہ تھا! نہ صرف مودی کی طرف سے بیان جو اب بھی "گجرات کے قصاب” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے. جسے امریکی ویزا سے انکار کر دیا گیا تھا، اور "مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں” کی بنیاد پر تقریبا ایک دہائی تک امریکی خلا میں داخل نہیں ہو سکا۔ وہ امریکی سرزمین پر رہتے ہوئے یہ بیان دے رہے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ مودی کی نگرانی میں بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر رہا ہے۔ "گزشتہ ہفتے، ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ مودی-بائیڈن سربراہی اجلاس کے "مرکز” میں انسانی حقوق کے خدشات کو مد نظررکھے۔” {CNN نیوز}

    صورتحال کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے، امریکہ بھارت کو عالمی سطح پر چین کے عروج کے لیے سپیڈ بریکر کے طور پر دیکھتا ہے۔ ممکن نہیں کیونکہ ہندوستان ترقی کے اعتبار سے چین سے بہت زیادہ پیچھے ہے۔ پاکستان کی چین سے قربت ہے۔ واشنگٹن اور چین دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام آباد چاہے بھی تو وہ خود کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں کرسکتا. اس کی وجہ وہ سیاسی، عدالتی اور اقتصادی جاری بحران جس سے وہ کافی عرصے سے دوچار ہے۔
    اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنی پالیسیوں کو خارجی اور داخلی دونوں طرح سے غلط طریقے سے استعمال کیا ہے۔ خود کو بین الاقوامی سطح پر غیر متعلقہ بنانے کے لیے یہ کافی ہے۔

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    پلوامہ کے بعد گیلوان میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کا ذمہ دار کون؟ بھارتی صحافی نے سیاسی قیادت پر بڑا سوال اٹھا دیا

    بھارت کی پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں پاکستان کےخلاف سازش بے نقاب،بھارت نے جسکو مردہ کہا وہ پاکستان میں زندہ نکلا

  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

    ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

    ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
    ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    21 جون یوم پیدائش شہید بےنظیر بھٹو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. .

    ہر وہ شخص جو پیدا ہوا موت اس کا مقدر ہے مگر عظیم لوگ مر کر بھی نہیں مرتے بلکہ جس دن وہ دفن ہوتے ہیں اس دن سے ان کی حیات نو کا آغاز ہو جاتا ہے

    شہیدبےنظیر بھٹو بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھیں۔21 جون 1953 کوجب وہ پیدا ہوئیں تب ذوالفقارعلی بھٹو محض25 برس کے ایک خوبرو اور تعلیم یافتہ جوان تھے لیکن آنے والے وقتوں میں انہیں جو شخصی اور سیاسی عروج ملاشائد اس میں ان کی باسعادت بیٹی کےمقدرکےستارےکی چمک بھی شامل تھی۔بھٹوز کےبارےمیں کہاجاتا ہےکہ ان کی عمریں طویل نہیں ہوتیں جو تاریخی اعتبار سےدرست بھی ثابت ہوتا رہا۔ان کے والدذوالفقارعلی بھٹو51برس کی عمر میں مصلوب کردیےگئےاوروہ خود 54 برس کی عمرمیں پنڈی کے مقتل پہ وار دی گئیں۔یہی حادثاتی اموات ان کے بھائیوں کو بھی جواں عمری میں ان سے چھین کر لے گئیں

    شہیدبےنظیربھٹواپنی تاریخ پیدائش کےاعتبارسے gemeni تھیں جو کریم النفس مہمان نواز جلد روٹھنے اور جلد ماننے والے نیز معاف کردینے والے ہنس مکھ ملنسار رمز شناس اور رومانوی مزاج کے ہوتے ہیں۔وہ بھی انہی خصوصیات کی حامل تھیں۔زمانہ طالب علمی میں وہ ہہلے ہاروڈ یونیورسٹی امریکا اوربعدازاں آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ کی طلبہ یونین کی صدر رہیں۔اس دوران انہیں پہلے امریکا اورپھر انڈیا میں اپنے والد کے ساتھ سفارتی کام کا تجربہ بھی ہوا

    1977 میں اپنے والد کی حکومت کے خاتمے ان کی گرفتاری مقدمے اور بالآخر ان کی پھانسی کے بعد تک وہ ابتدا 4 برس قیداورنظربند اور4 ہی برس جلاوطن رہیں۔10 اپریل 1986 کوملک واپسی پرلاہور میں ان کا استقبال برصغیرکی اب تک کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا جس نے وقت کےجابر آمرکےاقتدار کی چولیں ہلادیں۔تب وزیراعظم جونیجو نےضیا سےاختلاف کرکےشہیدبی بی کوسیاست میں حصہ لینےکا موقع دیا اور گول میز کانفرنس میں انہیں بلا کر سیاسی تاریخ کا نیا رخ متعین کیا۔ضیا کی حادثاتی موت کےبعدمنعقدہ انتخابات میں کامیابی کےبعدوہ پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں جو جبریہ نظام کے خلاف ان کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔ان کی دوسری بڑی کامیابی اپنے سب سے بڑےسیاسی مخالف میاں محمدنواز شریف کوپہلےپارلیمان کش آٹھویں ترمیم کے خاتمے اور بالآخر میثاق جمہوریت کے ذریعےانہیں پارلیمان اورجمہوریت کےمحافظ کاکردارسونپنااورطالع آزماوں کے راستےمسدودکرنا تھا۔

    شہید محترمہ کے فلسفہ سیاست میں نئے عمرانی معاہدے مفاہمت،جمہوریت بہترین انتقام ہے،اور پرامن جہد مسلسل کو دنیا بھر کی جامعات میں میں جدیدسیاسی فکر کےطور پر پڑھایا جاتا ہے
    آج کے دن ہم ان کی طویل جدوجہد سیاسی بصیرت اور ہرحال میں کامیابی کی امید اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جو پاکستان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کےلیے مشعل راہ ہیں۔۔۔بقول فیض

    گھر رہیے تو ویرانی دل کھانے کو آوے
    رہ چلیے تو ہرگام پہ غوغائے سگاں ہے
    ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
    اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

    عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    آصفہ زرداری کس صورت میں الیکشن لڑیں گی؟ بڑا اعلان ہو گئا

    وزیرخارجہ بلاول زرداری سے متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کا ٹیلیفونک رابطہ

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

     انسانی حقوق کے متعلق ہمارا عزم غیر متزلزل ہے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ سینیٹر فاروق حامد نائیک نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے

    ایسا لگ رہا ہے جیسے بلاول بھٹو کے روپ میں بھٹو واپس آیا ہے

  • بے روزگاری اور سینیٹ میں مراعات کا بل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    بے روزگاری اور سینیٹ میں مراعات کا بل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ: شہزاد قریشی)
    بقول شاعر
    اب گوشت کو ناخن سے جلا دیکھ رہا ہوں۔
    ہر سمت نفرت کی ہوا دیکھ رہا ہوں ۔
    سناٹا ہے احساس کی وادی کا قیامت۔
    سناٹے میں ایک حشر بپا دیکھ رہا ہوں۔
    دل چیر گئیں ڈوبنے والوں کی صدائیں۔
    مجبور ہوں ساحل پر کھڑا دیکھ رہا ہوں۔
    میں اس وقت جب پاکستان کا مستقبل اور ملک کا اثاثہ دیار غیر کے سمندروں میں ڈوب رہا تھا غربت بے روزگاری سے تنگ ملک سے باہر جاکر روز گار کی تلاش میں ادھر عین اس وقت سینٹ کے چیئرمین کی مراعات میں اضافے کا بل پاس ہو رہا تھا۔ اس پر جتنی سینہ کوبی کی جائے وہ کم ہے۔ پی ڈی ایم سمیت اس بل کی منظوری میں پی ٹی آئی کے ممبران بھی شامل تھے۔ اس پرائیویٹ بل کی حمایت ہمارے ملک کی ممتاز مذہبی جماعت جے یو آئی(ف) گروپ بھی شامل ہے ۔ افسوس صد افسوس ملک میں پہلے ہی قانون کی حکمرانی تک نہیں آئین کی حکمرانی نہیں ۔ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ بے روز گاری‘ جرائم میں اضافہ دن دھاڑے چوریاں ڈکیتیاں‘ قتل و غارت‘ مہنگائی۔ سیاستدان کی اکثریت ہلاکو خان اور چنگیز خان کے نقش قدم پر چل پڑی سیاست میں تشدد ہلاکو خان کا مذہب ہے۔

    ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کاروائیاں‘ پولیس کے ذریعے جھوٹے مقدمات کا اندراج کیا یہ جمہوریت ہے؟ جو ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے۔ کونسی ایسی جماعت ہے جس نے پاک فوج اور جملہ اداروں پر حملہ نہیں کیا۔ عدلیہ پر حملے‘ کیا یہ جمہوریت ہے؟ ان سیاسی جماعتوں نے ملک کو اپنی سلطنت بنا لیا ہے ۔ 24 کروڑ عوام کے بنیادی مسائل سے بے خبر سیاستدان اب وزارت عظمیٰ کی جنگ میں مصروف ہیں کون بنے گا آئندہ وزیر اعظم کا کھیل جاری ہے۔ عوام کی اکثریت اس وقت تک مسائل کے دلدل میں پھنسے رہیں گے جب تک ووٹ دیتے وقت ملک کو نہیں دیکھیں گے۔ ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے سے اگر فرصت ملے ملک وقوم کے مسائل پر توجہ دی جائے ورنہ یقین مانئیے جن حالات سے پاکستان اور قوم گزر رہی ہے جمہوریت کا جعلی لبادہ جو اوڑھ رکھا ہے اب وہ لبادھ بھی سرکتا ہوا نظر آرہا ہے۔

  • باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    آذربائیجان اگلے ماہ پاکستان کو ایل این جی کی سپلائی شروع کرنے والا ہے، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ "سستی” قیمت پر ہوگی تاہم، "سستے” کی اصطلاح گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پالیسی ساز ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی طرف آ رہے ہیں

    صاف ستھرے اور زیادہ سستی توانائی کے ذرائع کے لیے "پل فیول” کے طور پر اپنی شہرت کے باوجود، ایل این جی نے نادانستہ طور پر پاکستان کو زیادہ گندے اور زیادہ آلودگی پھیلانے والے ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جب قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ مثال کے طور پر، قیمتوں میں اضافے کے دوران، پاکستان میں سیمنٹ فیکٹریوں نے افغانستان سے کوئلہ خریدنے کا سہارا لیا، جس سے آلودگی کی سطح بڑھ گئی (بلومبرگ، 2022)۔

    ایل این جی پر بڑھتا ہوا انحصار نہ صرف ایندھن کی قیمت میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بھی دبا رہا ہے۔ ایل این جی درآمد کرنے سے پہلے گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کی بیلنس شیٹس قابل انتظام تھیں۔ تاہم، ایل این جی کا بڑھتا ہوا استعمال، جو نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اہم لائن لاسز کا باعث بھی بنتا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے لیے بے حساب (UFG) کی وجہ سے کافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

    ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، پاکستان کو "سستے” نرخوں پر درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنے کی بجائے گھریلو گیس کی پیداوار کو ترجیح دینی چاہیے۔ بنیادی مسئلہ پیداوار میں ہے، اور ایک مہنگا متبادل درآمد کرنے سے بیلنس شیٹ میں مزید تناؤ آئے گا، جس سے توانائی کا شعبہ غیر پائیدار ہو جائے گا۔

    کیا ایل این جی پر زیادہ انحصار کم کرنا ممکن ہے؟ ہاں، توانائی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع جیسے ہائیڈروجن اور بائیو گیس کو تلاش کریں۔ دوسرا، توانائی کی طلب کا تجزیہ کریں اور مختلف شعبوں کے لیے مناسب سپلائی کا تعین کریں۔ ایسی ٹرانسمیشن لائنوں میں ایل این جی کا استعمال کریں جو لائن لاسز کا کم سے کم شکار ہوں۔ تیسرا، نقصانات کو کم کرنے کے لیے تقسیم کے نظام میں اصلاحات کریں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پورے نظام کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • پاکستانی نوجوانوں کی دیار غیر کے سمندروں میں لاشیں، ذمہ دار کون، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستانی نوجوانوں کی دیار غیر کے سمندروں میں لاشیں، ذمہ دار کون، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    نئے عالمی مالیاتی معاہدے کے لئے ایک انتہائی سربراہی اجلاس 22 اور23 جون کو پیرس میں ہوگا۔اجلاس میں متعدد سربراہان مملکت سمیت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلیمان بھی شرکت کریں گے ۔ یہ اجلاس غریب ترین اور سب سے زیادہ کمزور ممالک کی مدد کے لئے جدید طریقوں اور آلات کو فروغ دینے کے لیے بہت اہم ہے ۔ اُمید ہے اس اہم اجلاس میں معاشی سطح پر کمزور ممالک کے لئے فیصلے کیے جائیں گے۔ بلاشبہ چین پاکستان کا دیرینہ د وست ہے چین نے ملکی معیشت کے پیش نظر مدد بھی کی تاہم آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو بھی پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    دوسری جانب ہمارے سیاستدانوں کے کیا کہنے بلاول بھٹو کی بجٹ پر تنقید اور بجٹ منظوری روکنے کے بیان نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے ۔ کیا پیپلزپارٹی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والی ہے؟ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم میں پہلے ہی شامل نہیں ۔ عمران خان ۔ بلاول بھٹو ۔ شہباز شریف اور دیگر حکومت میں شامل جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ پاکستان کا نوجوان طبقہ ملک کا مستقبل ہے ۔ عمران خان سمیت ہر جماعت نے ان نوجوانوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا آج یہ پاکستانی نوجوانوں کی لاشیں دیار غیر کے سمندروں میں تیر رہی ہیں۔ بے روزگاری سے تنگ یہ نوجوان بیرون ملک اپنے بہتر مستقبل کے لئے انسانی اسمگلروں کے ذریعے بیرون ملک جاتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ان پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ قومی اسمبلی نے نوٹس لیا اگر یہی قومی اسمبلی ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا نوٹس لیتی تو آج آزادکشمیر ، گجرات اور دیگر شہریوں کے گھروں میں صف ماتم نہ ہوتا۔ افسوس ہم اپنی نوجوان نسل کو باعزت روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کا اعتراف ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیئے۔ اقتدار کی جنگ میں مشغول سیاستدانوں کو اس سانحہ کا جواب دینا ہوگا۔ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار ملک کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ی سے تنگ آکر دل برداشتہ ہو کر ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ کیا ان کا کوئی حق نہیں کہ انہیں باعزت روزگار فراہم کیا جائے ؟ یہ نوجوان اس وطن عزیز کا مستقبل بھی ہیں اور اثاثہ بھی۔

  • نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    کینیڈین مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن (سی ایم ایچ اے) کے مطابق: "نوجوانوں کی بامعنی شرکت کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کی قوت، دلچسپی اور صلاحیت کو پہچاننا اور ان صفات کی پرورش کرنا شامل ہے تاکہ انہیں انفرادی اور نظمی سطح پر اثرانداز ہونے والے فیصلوں میں شامل ہونے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ”

    پاکستان میں گورننس کے مختلف شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے۔ وہ تخلیقی صلاحیتیں، انوکھی سوچ، اور ملک کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    بدقسمتی سے، پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں انہی منصوبہ بندی کرنے والوں پر انحصار کرتی رہی ہیں، جو معاشی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی لانے، اور پیچیدہ سماجی مسائل کا حل کرنے کے لیے ناکام رہے۔ نتیجتاً، پاکستان تیزی سے برین ڈرین کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو دیگر ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے. جبکہ وہ اپنی معیشتوں کو ترقی دینے کے لیے اپنے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں۔
    پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر والی ہے، البتہ نوجوانوں میں بے روزگاری بدستور زیادہ ہے۔ معیشت کی ترقی کے لیے ان کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کو ضروری ہنر مندی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان دونوں شعبوں میں نمایاں کمی ہے۔

    برین ڈرین کا مقابلہ کرنے اور ترقی کرنے کے لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی اور علمی نوعیت کی مصنوعات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ شعبوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے، جس میں خصوصی توجہ خصوصی مہارتوں اور ویلیو ایڈڈ نظریات کو تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    اس عمل میں سب سے اہم قدم نوجوانوں کا مختلف شعبوں سے متعلق پالیسی سازی کے فیصلوں میں شمولیت ہے۔ نوجوان افراد کو ان فرسودہ پالیسی سازوں کی جگہ دینی چاہیے جو کئی دہائیوں سے براجمان ہیں اور 1990 کی دہائی کے بعد بدلتے وقت کے مطابق ڈھالنے میں ناکام ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنج فرسودہ ذہنیت سے دور ہونے کا ہے، جو اداروں کو ترقی پسند انداز میں ترقی دلانے سے قاصر رہے ہیں۔ جانبداری کا رواج، اور ایسے افراد کی سربراہان اور اسائنمنٹس کے عہدہ پہ تعیناتی جن کے پاس متعلقہ موضوع کا بہت کم علم ہو، اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے۔

    اب وقت ہے کہ ملکی حکمرانی میں نوجوانوں کی شمولیت کرا کے پاکستان اور اس کے مستقبل کو ترجیح دی جائے۔ ایسا کرنے سے پاکستان اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہو سکتا ہے، اپنی اہم مشکلات سے نمٹ سکتا ہے، اور ایک پائیدار ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔

  • کیا عمران خان کے پاس مذاکرات کیلئے کوئی پتا باقی ہے؟

    کیا عمران خان کے پاس مذاکرات کیلئے کوئی پتا باقی ہے؟

    12 جون کو عمران خان کے قوم سے ایک اور خطاب میں، خان کے بے ترتیب خیالات کا خلاصہ یہ تھا کہ کوئی بھی ان سے "بات نہیں” کر رہا ہے {یعنی آرمی چیف }۔ سوال یہ ہے کہ؛ کیا ان کے پاس میز پر رکھنے کے لیے کچھ ہے بھی کہ نہیں؟

    اب یہ بات سب کو کھلے عام معلوم ہے کہ پی ٹی آئی نے "امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات، اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ” پارٹی کے نظریات کی حمایت کے لیے واشنگٹن میں قائم ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں۔ غیر ملکی ایجنٹوں کے رجسٹریشن ایکٹ کے تحت امریکی محکمہ انصاف کے پاس دائر دستاویزات کے مطابق، معاہدہ 21 فروری کو چھ ماہ کی مدت کے لیے طے پایا تھا۔‘‘ (23 مارچ 2023)۔

    بلنکن کو خط لکھنا، کانگریسیوں کا اکٹھا کرنا، اور حالیہ سجاد برکی کا ایک ٹویٹ۔ وہ مبینہ طور پر امریکہ میں عمران خان کے نمائندہ ہیں اور پی ٹی آئی امریکہ کے سابق صدر بھی تھے۔ ٹویٹ میں کہتے ہیں ،”کانگریس مین گریگ کیسر کی میزبانی کے لیے مسٹر طارق مجید کا شکریہ۔ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی حمایت کا وعدہ کیا۔ وہ ملٹری ایڈ کو ملک میں انسانی حقوق کے حالات سے جوڑنے کے لیے ایک بل کی معاونت کر رہے ہیں۔
    @PTIofficial @ptuusaofficial @MoeedNj

    آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق، گزشتہ دو دن جی ایچ کیو میں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر نے کہا، "جو لوگ بگاڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کی جعلی خلاف ورزیوں کا ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ ”
    یہ پیغام باآوازبلند اور بالکل واضح ہے! جب پی ٹی آئی نے 9 مئی کو سول اور ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ جمہوری ڈھانچے سے نکل کر ایسی کارروائیوں میں مشغول ہوگئے جو دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں۔ اگر آج اس خطرناک حرکت کو نہیں روکا گیا تو مستقبل میں ٹی ٹی پی یا کسی دوسری سیاسی جماعت کو بھی معاشرے میں ایسے ناقابل قبول حملے کرنے سے کون روک سکتا ہے ؟
    فوج کی پیٹھ دیوار سے لگا دی گئی ہے۔
    کیپیٹل ہل ایک فوجی تنصیب نہیں تھی، مگر پھر بھی سٹیورٹ رہوڈز کو حملے کے ماسٹر مائنڈ کے الزام میں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بہتر ہے کہ کپتان یاد رکھے کہ وہ وکٹ کے دونوں طرف نہیں کھیل سکتا۔

  • استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    مدینہ منورہ کی گلی میں ایک بدقماش یہودی نے اپنی ہی ہم مذہب خاتون کے سر سے دوپٹہ چھینا اور اس کے دامن عصمت کو تار تار کرنا چاہا تو وہ باآواز بلند بے اختیار پکار اٹھی ’’ ہائے محمد( ﷺ ) !تیرے شہر میں میری آبرو لٹ گئی ! ‘‘ ۔مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس یہودی خاتون کی فریادنبی مکرم رحمت عالم ﷺ کے مبارک کانوں میں پڑی تب آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، لقمہ ہاتھ میں تھا لیکن اسے منہ میں نہیں ڈالا بلکہ واپس رکھ دیا اورتاجدار مدینہ اس حال میں برہنہ پائوں گھر سے دوڑے کہ چادر مبارک پائوں میں گھسٹ رہی تھی وہ چادر جس کی پاکیزگی اورعظمت کی قسم آسمان والے نے اپنے قرآن میں اٹھائی ہے جبکہ زبان ِ مبارک پر یہ الفاظ تھے ’’ اے میری بیٹی تیری حفاظت کیلئے میں آرہا ہوں ‘‘ ۔ یہ بیٹی مسلمان نہیں تھی یہودی تھی محمد عربی ﷺ کاکلمہ پڑھنے والی نہیں تھی کافرہ تھی اس کے باوجود تاجدار مدینہ ﷺ اس کی عصمت وعفت بچانے کیلئے گھر سے نکل کر دوڑ پڑے تھے ۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کردیا تھا کہ بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے وہ کافر کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو ۔

    محمد بن قاسم کی ہندوستان میں آمد اور سندھ کی فتح کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی۔ اسی طرح فتح اندلس کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اندلس کی ایک ریاست کے سربراہ کاونٹ جولین جو کہ بڑا بہادر اور خوددار سالار تھااس کی بیٹی فلورنڈا اندلس کے بادشاہ راڈرک کے محل میں رہتی تھی۔ راڈرک نے ایک رات فلورنڈا کے دامن عصمت کو تار تار کردیا ۔ بیٹی نے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع اپنے والد کو بھیجی توبیٹی تو وہ تڑپ اٹھا اور فی الفور دار الحکومت پہنچا۔ اس نے اپنے جذبات کو بادشاہ پر ظاہر نہ ہونے دیا اور صرف یہ درخواست کی کہ فلورنڈا کی ماں بستر مرگ پر ہے اس لیے اسے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔راڈرک نے باپ اور بیٹی کو اجازت دے دی تاہم بوقت رخصت اس نے کا ونٹ جولین سے فرمائش کی کہ شکار کے لیے عمدہ بازمیرے پاس بھیجے جائیں جو لین نے جواب میں کہا’’ اس مرتبہ میں ایسے باز بھیجوں گا کہ آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد کاونٹ جولین موسی بن نصیر کے پاس حاضر ہوا اپنے بادشاہ کے ہاتھوں بیٹی کے لٹنے کا دلخراش واقعہ بیان کرتے ہوئے انصاف کیلئے مدد چاہی ۔ موسی بن نصیر نے سارا واقعہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کو لکھ بھیجا ۔ خلیفہ نے فوراََ ہی موسی بن نصیر کو اندلس پر حملے کاحکم دے دیا ۔ چنانچہ موسی بن نصیر نے 7 ہزار مجاہدوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت اپنے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کے حوالے کی۔ یہ لشکر 9 جولائی 711ء کو اس جگہ پر پہنچا جسے آج جبل الطارق کہا جاتا ہے۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ چند ہزار کا لشکر لاکھوں دشمنوں پر فتح یاب ہوتا چلا گیا اور سرزمین اندلس پر اسلام کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ جو آٹھ صدیوں تک لہراتے رہے ۔

    یہ تو ہمارا تابناک اور روشن ماضی تھا کہ ہم صرف اپنی ہم مذہب ہی نہیں بلکہ کافروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وعصمت کی حفاظت بھی کیا کرتے تھے ۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام کی بیٹی اور ہماری بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جیل میں سسک رہی اور ہماری بے حسی پر گریہ وزاری کررہی ہے ۔ دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی درندوں کے حوالے کرنے والے غیرت وحمیت سے تہی ہمارے اپنے ہی حکمران ہیں ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 8سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں (.Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔
    2002ء میں پاکستان واپس آئیں مگرکچھ عرصہ بعد پھر امریکہ واپس چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کی اور 2003ء میں کراچی واپس آ گئیں۔یہ وہ موقعہ تھا جب بغیر کسی ثبوت اور سبب کے امریکی اداروں کے اہلکار شکاری کتوں کی طرح پاکستانیوں پر حملہ آور ہورہے اور انھیں اغواکررہے تھے جبکہ امریکی میڈیا مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہا تھا، دوسری طرٖف جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈالروں کے حصول کیلئے اپنے ہی ملک کے شہری پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں بیچ رہے تھے ۔ اسی اثنا میں امریکی ذرائع ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ خوف زدہ ہوگئیں اور کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئیں۔ 30 مارچ، 2003ء کو وہ اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ایر پورٹ کی طرف جارہی تھیں کہ راستے سے غائب ہو گیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکی اداروں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت عافیہ صدیقی کی عمر 30 سال تھی، بڑے بچے کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر ایک ماہ تھی ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کے اغوا کی خبریں شائع ہوئیں مگر بعد میں حکومتی سطح پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ خاموش رہیں ۔

    اسی دوران اچانک ہی یہ خبر عیاں ہوئی کہ عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 کی حیثیت سے قید ہیں اور یہ بھی بتایا گہ عافیہ صدیقی کی حالت بے حد بری ہے۔ چنانچہ ان خبروں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ اخبارات میں شور برپاہونے کے بعد امریکی حکومت نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کامقدمہ چلایا جا سکے۔ چنانچہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پاداش میں عافیہ صدیقی پر مقدمہ چلاگیا 23 ستمبر2010ء میں عدالت نے انھیں 86 سال قید کی سزا سنادی ۔
    اس فیصلے کو20برس ہوچلے ہیں اس وقت سے ہماری بہن عافیہ امریکہ کی جیل میں ہیں ۔ 20برس کے اس طویل عرصہ میں پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کو نہیں بھولی ہے کسی نہ کسی صورت ان کے لئے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے اگرچہ یہ آواز اتنی توانا نہیں رہی کہ جو ہمارے حکمرانوں پر اثر انداز ہوسکے ۔ ان حالات میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کیلئے مسلسل کوشاں رہے وہ سینیٹ کے اندر بھی اور عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہے آخر ان کی کوششیں اس حد تک رنگ لائیں کہ امریکی حکومت نے ملاقات کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور وکیل کلائیو اسٹافورڈاسمتھ کے ہمراہ ملاقات کیلئے امریکہ جاپہنچے ۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں کے درمیان 20 سال بعد امریکی جیل میں ملاقات ہوئی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔دونوں بہنوں کو گلے ملنے اور ہاتھ ملانے کی اجازت نہ تھی جبکہ ڈاکٹر فوزیہ کو یہ بھی اجازت نہ دی گئی کہ وہ عافیہ صدیقی کو ان کے بچوں کی تصاویر دکھا سکیں۔ملاقات جیل کے ایک کمرے میں ہوئی جس کے درمیان میں موٹا شیشہ لگا ہوا تھا جس کے آرپار سے دونوں بہنوں کی ملاقات کرائی گئی۔ عافیہ صدیقی نے سفید رنگ کا اسکارف اور جیل کا خاکی لباس پہنا ہوا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے روزانہ اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات بتائیں جبکہ انہیں اپنی والدہ کی وفات کا بھی علم نہیں تھا جن کے بارے میں وہ پوچھتی رہیں۔ عافیہ صدیقی نے اپنے بچوں سے متعلق بھی دریافت کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے سامنے کے دانت جیل میں تشدد کے باعث گر چکے ہیں اور انہیں سر میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم عافیہ صدیقی کیلئے آواز اٹھائیں اور اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکہ پر اخلاقی سفارتی دبائو ڈال کر عافیہ صدیقی کو رہا کروائیں ۔