Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    ہمارے پیارے ملک کانام ’’ پاکستان ‘‘ ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور غیر دانشمدانہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ’’ مسائلستان ‘‘ بن چکا ہے ۔اس وقت ہمارے ملک کو بیشمار اور لاتعداد مسائل درپیش ہیں جن میں سے اہم ترین مسئلہ پانی کی قلت اور کثرت کا ہے ۔ موسم گرما میں جب ہمیں پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے بھارت ہمارے دریائوں کا پانی روک لیتا ہے اور موسم برسات میں جب بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں پاکستان کی ندیاں نالے اور دریا پانی سے بھر جاتے ہیں تو بھارت اپنی طرف کا پانی ہماری طرف چھوڑ دیتا ہے جس سے پاکستان میں شدید سیلاب آجاتا ہے اور ہرسال لاکھوں ایکڑزرعی اراضی بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہوجاتی ہے ۔اس وقت بھی یہی صورت حال درپیش ہے جس وجہ سے بے پناہ جانی مالی نقصان ہورہا ہے اس پر مستزاد یہ کہ بھارت نے اپنی طرف کا پانی ہماری طرف آنے والے دریائوں چھوڑ دیا ہے ۔

    اس کے علاوہ کئی سالوں سے ہمارا ملک لوڈشیڈنگ کے شدید بحران کا شکار ہے۔ روزانہ کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے دوسری جانب ہماری حکومتیں لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہیں ۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے صنعتی پہیہ تیز تر گھمانے کے لیے سستی بجلی کی پیدوار کا بڑھایا جانا از حد ضروری ہے۔

    سستی بجلی بنانے کا اہم ترین ذریعہ پانی ہے ۔ پانی نعمت خداوندی ہے ۔ پانی سے زندگی ہے ، جہاں پانی ہے وہاں زندگی ہے جہاں پانی نہیں وہاں موت ہے ۔ ماضی میں پانی کی خاطر خون ریز جنگیں ہوئیں۔ مستقبل میں عالمی افق پرجنگوں کے خطرات کے جواسباب منڈلا رہے ہیں، ان میں ایک بڑاسبب پانی ہوگا۔ جنوبی ایشیا۔۔۔ جہاں دنیا کی نصف آباد رہائش پذیر ہے اور پاکستان بھی اسی جنوبی ایشیا میں واقع ہے، یہاں موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں تیزی سے اضافے کے سبب پانی کے ذخائر خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں جتنے بھی ممالک واقع ہیں ان میں سے سب سے سنگین صورت حال پاکستان کو درپیش ہے اس کی بنیادی وجہ بھارت کی پاکستان سے ابدی دشمنی ہے۔ بھارتی نیتاؤں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ پاکستان کو صومالیہ کی طرح بنجر بنا دیں گے۔ بھارت نے اس مقصد کے لئے 50ملین ڈالر Rotating fund مختص کر رکھا ہے۔ اس سے مراد ایسا فنڈ ہے کہ مجموعی رقم سے اگر دس پندرہ ارب ڈالر نکال بھی لئے جائیں تو اسی وقت حکومت کی طرف سے اس میں اتنے ڈالر جمع کروا دیئے جا تے ہیں۔ بھارت یہ رقم عرصہ دراز سے خرچ کر رہا ہے، مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑے آبی ذخائر نہ بن سکیں ۔

    سندھ طاس معاہدہ ایوب خان کے دورمیں ہوا تھا اس معاہدے کی شقیں طے کر نے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستان سے جس بیوروکریٹ کو ذمہ داری سونپی گئی ا س کا نام جی معین الدین تھا چونکہ ورلڈ بینک اس معاہدے کا ضامن تھا، لہٰذا جی معین الدین دو اڑھائی سال امریکہ میں رہے۔ اسی دوران بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کی ملی بھگت سے ایک خوبرو امریکی دوشیزہ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ان کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔جی معین الدین امریکی دوشیزہ کی زلف گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ بڑھاپے میں اس سے بیاہ رچا لیاا س طرح جی معین الدین کے تمام کام کی دیکھ بھال اس خاتون نے سنبھال لی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف اپنی مرضی کی شقیں داخل کروالیںبلکہ ان شقوں پرجی معین الدین سے دستخط بھی کروالئے جن میں ایک شق یہ بھی تھی کہ بھارت سندھ، جہلم اور چناب میں سے پینے کا پانی، آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے بدلے میں چاہئے تو یہ تھا کہ جی معین الدین بھارت سے یہ شقیں بھی منواتے کہ پاکستان کو بھی ستلج، بیاس اور راوی سے پینے کے لئے ،آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی ملے گالیکن امریکن خاتون کاسحر اور Rotating Fundاپنا کام کرگیا۔ آج بھارت انہی شقوں کی بنا پر آبی دہشت گردی کرتے ہوئے ہمارا پانی روک رہا ہے اور ہمارے حصے کے دریاوں پر ڈیم بنارہا ہے۔اس معاہدے سے قبل پانی کی صورت حال کچھ اس طرح سے تھی کہ راوی میں سارا سال پانی بہتا تھااس کی وجہ سے لاہور میں زیر زمین پانی دس فٹ پر دستیاب ہو جاتا تھا، اب راوی میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح انتہائی تشویشناک گر چکی ہے۔ لاہور میں واسا کے جتنے بھی ٹیوب ویل لگے ہیں وہ کم وبیش 800فٹ گہرائی سے پانی کھینچ رہے ہیں۔

    ہمارے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے کہ بھارت نے کشن گنگا کا کیس جیتا اور وہاں ڈیم بنا لیا۔ بھارت نے عالمی عدالت میں ہمارے دریاؤں پر حق جتانے کے لئے یہ جواز پیش کیا ہے کہ پاکستان تو ڈیم بنانا ہی نہیں چاہتااور پاکستان کی ڈیموں کی تعمیر میں عدم دلچسپی کی وجہ سے لاکھوں بلین گیلن پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ دوسری طرف یہ صورت حال ہے کہ پاکستان میں جو ڈیم موجود ہیںا ن میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے، یعنی ان ڈیموں میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ بھارت کے پاس 120 دن تک کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ پاکستان کی نسبت جاپان کا رقبہ پاکستان کے مجموعی رقبے سے آدھا ہے اور آبادی بھی بارہ کروڑ ہے۔ جاپان میں ایک اندازے کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ ان ڈیموں کے ذریعے نہ صرف سیلابی پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے بلکہ سستی بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ جاپان اس وقت ہائیڈرو پاور سے بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پانی سے پیدا کی جارہی ہے۔ ہم اپنے حکمرانوں سے کہنا چاہئیں گے کہ خدارا اب تو بیدار ہو جاؤ مجرمانہ غفلت اور منافقت ترک کرکے اس ملک کی بقا کا سوچو۔ ڈیموں پر سیاست کی بجائے کچھ عملی اقدامات کرو سب سے اہم ترین کالاباغ ڈیم ہے۔ اس ڈیم میں 6.1 ملین فٹ پانی سٹور کیا جاسکے گا اور یہ پورے ملک کے 50 لاکھ ایکڑ بنجر رقبے کو سیراب کرے گا۔ 5000 میگاواٹ تک بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ جب ضیاء الحق کے دور میں ڈیم کی مشینری کالا باغ پہنچا دی گئی تو پھر بھارت کا Rotating Fundحرکت میں آگیا۔ چند لوگوں نے واویلا شروع کر دیا کہ کالا باغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا، چنانچہ ڈیزائن میں تبدیلی کرکے ڈیم کی اونچائی 925 سے 915 فٹ کر دی گئی۔ میانوالی جہاں یہ ڈیم بننا ہے، سطح سمندر سے 668 فٹ بلند ہے اور نوشہرہ کی سطح سمندر سے بلندی 889 فٹ ہے۔کچھ قوم پرستوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ پنجاب سندھ کا پانی ڈکار جائے گا اور سندھ بوند بوند کو ترسے گا۔ کاش انہیں یہ بات اب بھی سمجھ آ جائے کہ اگر بھارت نے سندھو دریا کا رخ بھی موڑ دیا تو پھر سندھ کہاں سے پانی لے گا، اس تباہ کن صورت حال سے بچنے کا حل کالا باغ ڈیم، بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم سمیت سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہے۔ بدقسمتی سے کالا باغ ڈیم کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اب کوئی بڑاڈیم تعمیرنہ ہوسکے۔ اس طرح دشمن بغیرجنگ کے پاکستان کو ناکام ریاست بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ہمارے ملک کا مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے نئے ڈیموں کی تعمیر ۔۔۔۔پاکستان کی قومی سلامتی اور سالمیت کا مسئلہ ہے ضروری ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر کیلئے ہمارے تمام سیاستدان اور سٹیک ہولڈر یک دل ویک جان ہوجائیں اور کالاباغ ڈیم سمیت جہاں جہاں بھی ڈیم بنائے جاسکتے ہیں بنائے جائیں ۔

  • سیاسی میدان سکڑ رہا ہے

    سیاسی میدان سکڑ رہا ہے

    سیاسی میدان سکڑ رہا ہے
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم کا بل کامیابی سے منظور کر لیا گیا ہے۔ تاہم، مجوزہ ترمیم جو ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ کے افراد کو گرفتار کرنے یا احاطے کی تلاشی لینے کی اجازت دیتی تھی اسے بل سے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا ہے، کیونکہ اس طرح کے نکات ممکنہ طور پر ریاست پاکستان کو پولیس ریاست میں تبدیل کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہوتی، جو شخصی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، ماسواے قانونی کاروائی کے ذریعہ۔

    یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ترمیم شروع میں کیوں تجویز کی گئی تھی۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام عمران خان کی محاذ آرائی والی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر بڑے ہجوم کو جمع کرنے کی اجازت۔ اس کا مقصد ظاہر ہے کہ پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنا تھا،

    بڑھتی ہوئی محاذ آرائی 9 مئی کے المناک واقعات پر اپنے انجام کو پہنچی، اس دن ریاست پر حملہ بلاشبہ جنگی کارروائی تھی۔ یہاں تک کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے معاملے میں، انہیں انتخابی سرٹیفیکیشن میں تاخیر کے لیے قانون سازوں کو متاثر کر کے کیپیٹل تشدد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی تناظر میں، واقعات میں سرکاری املاک کو خاصا نقصان پہنچا، بشمول جناح ہاوس کے، جو ایک کھنڈر بن کر رہ گیا ہے۔ وہ لاہور میں کور کمانڈر کی سرکاری رہائش گاہ تھی۔ فوجی تنصیبات اور یادگاروں، بشمول جی ایچ کیو پر بھی حملے کئے گئے،

    اس دن کے واقعات نے واضح طور پر ایک سرخ لکیر کو عبور کیا۔ یہ واضح ہے کہ جمہوریت کو آزادی اظہار کے غلط استعمال کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول پوری دنیا میں درست ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کے ان اقدامات کے طویل مدتی نتائج انتہائی نقصان دہ رہے ہیں۔ اس نے سیاسی میدان کو نمایاں طور پر سکیڑ دیا ہے،سیاستدانوں، عام شہریوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھروسہ اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کئی دہائیوں میں محنت سے کمائی گئی ترقی کو ایک فرد کے اقدامات نے نقصان پہنچایا اور وہ ہے عمران خان

  • باجوڑ واقعہ،دشمن کی سازش، تجزیہ: شہزاد قریشی

    باجوڑ واقعہ،دشمن کی سازش، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک میں ویسے تو ضرب عضب سے لے کر ردالفساد تک اور دہشت گردی اور انتہا پسندی تک پاک فوج اور اس کے جملہ اداروں نے اور پولیس نے جس طرح قربانیاں دی ہیں اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا ہے اس کی مثال نہیں ،امریکہ سمیت عالمی دنیا بھی اس کی تعریف کرتی ہے۔ حال ہی میں محرم کے دوران پاک فوج، پولیس نے قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا عاشورہ بخیر و عافیت سے گزرا۔ لیکن باجوڑ کے دلخراش واقعہ نے ہلاکر رکھ دیا ہے ملک میں حالیہ دہشت گردی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو کبھی ڈوبتا ہے اور کبھی ابھرتا ہے۔ چینی نائب صدر کے دورہ پاکستان کے عین وقت پر باجوڑ میں دہشت گردی کا واقعہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دشمن نے کروایا ہے۔ اسلام آباد کو افغانستان کی حکومت سے احتجاج کرنے کے بجائے امریکہ کی توجہ اس جانب مبذول کرانی چاہئے دو برس قبل دوجہ معاہدے میں طالبان نے ضمانت دی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد امریکہ کی ذمہ داری ہے۔

    پاکستان نے افغانستان کے قیام امن کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں ایک عالم گواہ ہے کہ پاکستان نے جانی اور مالی قربانیاں دے کر اس خطے میں قیام امن کے لئے کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈر شپ کا چونکہ فقدان ہے اس سلسلے میں وہی پاک فوج اور جملہ ادارے اپنا کردار ادا کریں جنہوں نے لازوال قربانیاں دے کر ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا، ملک کی موجودہ سیاسی جماعتوں میں لیڈر شپ نہیں ہے پیپلزپارٹی میں نہ بھٹو ہے اور نہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید۔ مسلم لیگ (ن) میں نوازشریف نہیں اسی طرح باقی سیاسی جماعتوں کا بھی یہی حال ہے ملک کی سیاسی فضا الیکشن کو لے کر شکوک و شبہات کے غبار سے آلودہ ہیں۔ الیکشن ہوں گے وقت مقررہ پر ہوں گے یا نہیں ہوں گے کی بحث میں لگے ہیں جن سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کو آئین میں لکھا صاف نظر نہیں آتا انہیں بین الاقوامی سیاسی اتار چڑھائو کیسے نظر آئیں گے ملک میں الیکشن 2023ء میں ہوں یا 2024ء میں امریکہ میں سابق صدر ٹرمپ، پاکستان میں عمران خان اور بھارت میں راہول گاندھی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ عوام کریں ٹرمپ ،راہول گاندھی اور عمران خان کی مشکلا ت میں اضافہ ہو گا یا کم یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ تاہم امریکہ بھارتی وزیراعظم مودی کو پہچان گیا ہے مودی چین کی دشمنی میں کبھی امریکہ اور کبھی روس دوڑتے ہیں مودی دوست نہیں دوست نمادشمن ہے۔

  • آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔قوم کے دل کی آواز  ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔قوم کے دل کی آواز ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اتحادی حکومت نے بوقت رخصت بہت سے ترمیمی بل منظور کئے ہیں ۔ ان ترامیم میں کچھ کے ساتھ یقینا اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے لیکن آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔۔ایک ایسا بل ہے جو پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے ۔اس بل کے ذریعے صرف فوج کے ڈسپلن کو ہی بہتر نہیں بنایا گیا بلکہ پاک فوج کے وقار اور احترام کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔اس بل کی چند اہم ترامیم یہ ہیں :
    کسی بھی دوہری شہریت والے کو فوج میں کمیشن نہیں ملے گا۔ پاکستان اور افواج کی سیکیورٹی اور مفاد سے متعلق معلومات افشا کرنے پر 5 سال قید ہوگی۔راز افشا کرنے والے شخص سے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ، برطرفی یا استعفے پر فوجی افسر 2 سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔حساس اداروں سے ریٹائرڈ افسران 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی شق کی خلاف ورزی پر 2 سال تک قید کی سزا ہوگی۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی افسر بغیر اجازت پاک فوج کے مفادات سے ٹکراﺅ کرنے والے ادارے میں ملازمت نہیں کرسکے گا ۔ کوئی حاضر سروس یا سابق فوجی الیکڑانک، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا پر پاک فوج کو اسکینڈلائز نہیں کرے گا،اسکینڈلائز کرنے پرآرمی ایکٹ کے تحت کارروائی اور پیکا قوانین کے تحت سزا ہوگی۔پاک فوج کو بدنام کرنے، نفرت ابھارنے یا نیچا دکھانے پر 2 سال تک سزا، جرمانہ یا دونوں ہو سکیں گے۔

    امر واقعی یہ ہے کہ یہ تمام ترامیم بے حد اہمیت کی حامل ہیں اور ہر محب وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہیں ۔ خاص کر موجودہ حالات میں جبکہ کچھ عناصر ایک منظم طریقے سے پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ۔۔۔۔لہذا ایسے ملک دشمن افراد کے خلاف قانون کا شکنجہ کسنا بے حد ضروری تھا ۔ اسلئے کہ پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ءکی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضاﺅں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کو دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔

    الغرض 1965ءکی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کو دندان شکن جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ” سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع ان کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت ان کا جذبہ شہادت ہے اور ”جہاد فی سبیل اللہ“کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں ۔اس وقت بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد پھر سراٹھا رہے ہیں ۔ بہادر افواج کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کررہے ہیں ۔ جب ہم رات کے وقت اپنے گھروں میں اور اپنے بستروں آرام کی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے وطن کے جیالے پاسبان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ۔

    9مئی کے دن جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام واقعات 1970ءمیں ملک کے خلاف کی جانے والی دشمنی کا ہی تسلسل ہے ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار وں، ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کےلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرات نہ ہو ۔

  • سیاست میں بھی ملاوٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں بھی ملاوٹ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    میاں محمد نواز شریف نہایت ہی زیرک مدبراور سیاسی دائو پیچ کے ماہر سیاستدان ہیں۔ نواز شریف کے زمانہ وزارت عظمٰی کے دوران نجی شعبہ کے تعاون سے ملکی صنعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی۔ غازی بروتھا اور گوادر بندرگاہ جیسے منصوبے شروع کیے گئے۔ سندھ کے بے زمین ہاریوں میں زمینیں تقسیم کی گئیں۔ وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات مستحکم کئے گئے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی دی گئی ۔ لیکن بدقسمتی سے اُن کی حکومت کو ہر بار کسی نہ کسی بہانے گرا دیا گیا۔ عوام کے منتخب وزیراعظم کو کبھی خاندان سمیت جلا وطن کردیا گیاکبھی اٹک قلعہ میں بند کردیا گیا۔ کبھی راولپنڈی سے لاہور جیلوں میں بند کردیا گیا ۔ جواں سال بیٹی کو بھی والد کے ساتھ جیل میں بند کردیا گیا۔ نواز شریف اور مریم نواز شریف کو کون سمجھائے سیاست کے معیار بدل گئے ۔سیاست کے آداب بدل گئے۔ مسلم لیگ(ن) سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت نہ جانے کن لوگوں کے پاس چلی گئی ۔ قوم ایک ہنگامے کا نام بنتی جا رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے اندر سے نئی سیاسی جماعتیں وجود میں آنے لگیں۔ نواز شریف کے دور اقتدار کی حکومتی پالیسیوں سے اتفاق یا اختلاف الگ بات ہے تاہم نواز شریف شرم وحیا والے حکمران تھے آج بھی نواز شریف کے حسن سلوک کا اعتراف کیا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی گلیاروں میں ہنگامے کی ایک وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے اور اس فقدان کا سامنا مسلم لیگ(ن) کو بھی ہے۔ معاشی بحران اتنا بھی بے قابو نہیں جسے حل نہیں کیا جا سکتا ۔ نواز شریف کے نامزد کردہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کیا پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہیں بچایا؟

    لیکن نواز شریف کی ہی جماعت کے کچھ لوگوں نے اسحاق ڈار کو نشانے پر رکھا۔ جس طرح پورے ملک میں خوراک ملاوٹ شدہ دستیاب ہے اسی طرح سیاست میں بھی ملاوٹ ہو چکی ہے ۔ ملاوٹی سیاستدانوں نے عوام کی زندگیوں میں زہر گھول دیا ہے ۔ پنجاب میں یکے بعد دیگرے واقعات نے ہلا کر رکھ دیا ہے بہاولپور یونیورسٹی اور دوسرا گھریلو معصوم بچی پر وحشیانہ تشدد، یونیورسٹی کی بچیاں اور گھریلو ملازمہ گلشن وطن کا سرمایہ ہیں ۔ ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو اس طرح کے واقعات نہ ہوتے مگر افسوس 75 سال ہو گئے ملک میں قانون کی حکمرانی کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ انسانیت سوز وحشیانہ پن کے سدباب کے قانون پر سختی سے عمل کیا جائے۔

  • سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات کے علاقوں بحرین، مدین، کالام جانے کا اتفاق ہوا، دوستوں کے ہمراہ لاہور سے جمعہ کی شب تین بجے روانگی ہوئی، ناشتہ اسلام آباد میں کرنے کے بعد تالاش پہنچے وہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد کالام تک کا سفر کرنا تھا، راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کی جانب سے ظہرانے کے بعد سفر کا نئے سرے سے آغاز ہوا،محترم عابد بخاری صاحب "ہمسفر” تھے جن کا ہر تھوڑی دیر بعد "خطبہ” ہوتا تھا جس میں وہ سوات کی خوبصورت وادی کا تعارف کرواتے تھے اور علاقے کے عوام کو درپیش مسائل، کے ساتھ ساتھ خطبہ میں سیاسی تڑکا بھی لگاتے تھے، سیدو شریف ایئر پورٹ سے گزرے ،منزل کالام تھی، اورجب ہمیں بخاری صاحب نے بتایا کہ روڈ سیلاب کی وجہ سے خراب ہے مزید تین سے چار گھنٹے لگیں گے، یہ سن کر اپنے تو ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ رات تین بجے کے لاہور سے نکلے ہوئے تھے، کیا کرتے،بامر مجبوری، سیٹ پر بیٹھے، شیشے کے ساتھ سر لگایا اور سونے کی ناکام کوشش کی ، البتہ میری ساتھ والی سیٹ پر موجود بٹ صاحب نے تو شاید ایک ہفتے کی نیند ہی دوران سفر میں پوری کر لی

    گزشتہ برس شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے سوات بپھر گیا تھا، کالام میں معروف ہنی مون ہوٹل مکمل طور پر دریا میں بہہ گیا تھا تو اسکے علاوہ بھی املاک کو نقصان پہنچا تھا، اگست 2022 میں سیلاب آیا تھا اور نقصان ہوا تھا، اب تقریبا ایک برس بعد اس علاقے کی طرف گئے تو انتہائی المناک مناظر دیکھے، دریا کنارے ہوٹل،دکانیں، عمارتیں، سب کے نیچے سے پانی بہہ رہا، مکین چھوڑ چکے، سیلاب کے بعد سڑک کو کم ا ز کم دس فٹ اونچا کرنا پڑا، بحرین میں صورتحال یہ ہے کہ عمارتیں تباہ ہو چکیں، کسی بھی وقت گر سکتی ہیں ، ہوٹل ویران پڑے ہیں، سڑک کی حالت ایسی کہ بقول بخاری صاحب کے اگر سڑک صحیح ہوتی تو ہم دو گھنٹے میں پہنچ جاتے لیکن سڑک صحیح نہ ہونے کی وجہ سے چار گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا.

    سیلاب نے تو گزشتہ برس تباہی مچائی ہی مچائی، لیکن سڑک کی تباہی اور مرمت نہ ہونے میں کچھ سیاسی وڈیروں کا بھی ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو اونچا نیچا دکھانے کے لئے عوام کو ریلیف دلوانے کی بجائے پریشان کرتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں فوتگی ہوتے ہی جنازے پر پہنچ جاتے اور الیکشن ہو جائے تو اسکے بعد انکا باپ بھی مر جائے تو اسکے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوتے،بحرین، مدین سے کالام تک سڑک اگرچہ سیلاب سے بھی تباہ ہوئی تا ہم کچھ ایسے مقامات ہیں جہاں سیاسی چپقلش نے پل نہیں بننے دیئے، اگر ان مقامات پر پل بن جاتے تو راستے مزید آسان ہو جاتے، تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید جو حالیہ دنوں میں روپوش اور سیکورٹی اداروں کو مطلوب ہیں اور ن لیگی امیر مقام کے مابین سیاسی چپقلش سوات کے باسیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے تو وہیں آنیوالے سیاحوں کے لئے بھی کسی اذیت سے کم نہیں، اگر پل بنوانے کا کام امیر مقام کرواتے تو مراد سعید رکوا دیتے اور اگر مراد سعید کرواتے تو امیر مقام رکوا دیتے، کے پی میں اگرچہ تحریک انصاف کی نو برس حکومت رہی، مراد سعید وفاقی وزیر بھی رہے صوبے میں حکومت تحریک انصاف کی تھی لیکن مقامی بیوروکریسی میں زیادہ اثرورسوخ امیر مقام کا ہونے کی وجہ سے کام رکے رہے، یوں دونوں بڑی جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں،سیاح آتے تو ہیں لیکن ایک بار کالام تک سڑک پر سفر کر کے شاید دوبارہ نہ آنے کا دل میں ارادہ کرتے ہوں گے، سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو سہولیات دی جائیں انکی مشکلات میں اضافے کی بجائے کمی کی جائے، ایک بار چترال جاتے ہوئے ٹنل سے گزرے جو پرویز مشرف نے بنائی تھی اور پھر اسی وجہ سے وہ چترال سے الیکشن جیتے تھے کیونکہ انہوں نے وہاں‌کے مکینوں کی ایک بڑی مشکل حل کر دی تھی، سوات کے باسیوں کو بھی چاہئے کہ جو بھی عوامی مفادات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو انکو الیکشن میں سبق سکھانا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دس برس بھی سوات کے باسی اسی ایک سڑک کو روتے رہیں گے ،ابھی تک بھلا ہو پاک فوج کا، جو سیلاب کی تباہی کے بعد سڑک کی مرمت پر کام کر رہی ہے، دس پندرہ فٹ سطح زمین سے ،پچھلی سڑک سے مزید سڑک کو اونچا کیا گیا مٹی ڈالی گئی تب جا کر سڑک استعمال کے قابل ہوئی تا ہم ابھی بہت کام ہونا ہے اور یوں لگ رہا ہے آنیوالے ایک دو برس اس کی تکمیل کو لگ جائیں گے، افواج پاکستان کے جوان جہاں ملکی سرحدوں پر چوکس ہیں وہیں قدرتی آفات میں ہنگامی امداد ، ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف کا کام بھی کرتے ہیں، اب سڑک کی تعمیر و مرمت کیا یہ سول حکومت کا کام نہیں؟ بحرین سے کالام تک 34 کلومیٹر سڑک ہے مگر موجودہ حالت میں یہ سفر دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا تو اگلے دو سے تین برس مشکلات ہی رہتی ہیں ، سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہو جاتی اور کئی مقامات پر تو ایسے لگتا کہ شاید ابھی گاڑی گئی ،ایک طرف دریا ،اور انتہائی خطرناک سڑک، ایسے میں اس سفر میں سیاح لطف اندوز ہونے کی بجائے موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں

    دریا کے دوسری طرف کے باسیوں کی بحرین و دیگر علاقوں میں آمدورفت کے لئے چیئر لفٹ لگی ہوئی ہیں جو بہہ گئیں، جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ایک مقام پر عارضی پل بنایا تھا، اسی مقام پر پل بناتے ہوئے دو رضاکار دریائے سوات میں گر گئے اور انکی موت ہو گئی تھی،سیلاب نے خوبصورت وادی کی حالت ایسی کر دی کہ وہاں کے مکین بھی اب وہ علاقہ چھوڑ رہے کیونکہ جب بھی بارشیں ہوں "گٹے گٹے پانی” کی بجائے سیلاب ہی آتا اور ابھی پچھلی بحالی ہوئی نہیں ہوتی اور نئی تباہی پھر نئے سرے سے،

    گزشتہ برس سیلاب سے دکانیں، ہوٹل، مکان گرے، ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد مکانات، 50 کے قریب ہوٹلز تباہ ہوئے تھے ، اور ابھی تک وہ تباہ حال ہی ہیں، مکین علاقہ چھوڑ چکے، لاہور پریس کلب کے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد بھی ٹور میں ہمراہ تھے، انہوں نے جب سوات میں تباہی کے مناظر دیکھے تو کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ "یہ عذاب الہیٰ ہے” عابد بخاری چند منٹ کے وقفے سے مسلسل خطبہ دیئے جاتے رہے اور ہم سنتے رہے،امجد بخاری بھی عابد بخاری کا ساتھ دیتے رہے لیکن زیادہ نہیں، کالام میں ہنی مون ہوٹل دریائے سوات میں بہہ گیا تھا، کالام سے واپسی پر دن کی روشنی میں تباہی کے مناظر نظر آئے، ایک رپورٹ کے مطابق جب سیلاب آیا تو کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت تھی،اور تحریک انصاف کے ان حلقوں سے منتخب نمائندے ان ایام میں اپنے علاقوں میں ہونے کی بجائے بیرون ملک سیر کر رہے تھے جس کی وجہ سے مقامی لوگ نالاں نظر آئے، سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان تھے، جس میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے تھا، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود نہیں تھے دونوں غیر ملکی دورے پر تھے،میاں شرافت جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر لندن میں تھے، ۔سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، نہ تو سیلاب متاثرین کو ملے اور نہ ہی انکی مدد و ریلیف کے لئے کوئی اقدام اٹھایا تھا،یہی وجہ ہے کہ اب بھی سوات کے باسیوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھے جذبات نہیں ہیں،گزشتہ قسط میں سوات میں موجودہ حالات پر عوام کی رائے،،،تحریر کر چکا ہوں

    نوٹ، اگلی قسط "ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے،” ہو گی

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1683823400559726594

     

  • سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    سوات….پی ٹی آئی…بائے بائے

    تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں نوبرس حکومت کی، عمران خان کو 2013 میں پہلی بار کے پی میں ہی حکومت ملی تھی اور دوسری بار بھی 2018 میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی، اب خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات، خصوصا مراد سعید جو ان دنوں روپوش ہیں اور نو مئی کے واقعات میں سیکورٹی اداروں کو مطلوب بھی ہیں کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں دیں؟ نو برسوں میں پی ٹی آئی نے کیا کیا؟ ہمیں تو اب سمجھ لگ رہی ،پٹھانوں کو دیر سے سمجھ لگتی لیکن جب لگ جائے تو پھر اگلے کو گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں،عمران خان نے حکومت جانے کے بعد پختونوں کا استعمال کیا، اور ملک دشمنی کی تمام حدیں عبور کر لیں، ریڈ لائن عمران خان نہیں بلکہ پاکستان ہے اور سوات کے لوگ پاکستانی ہیں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک شہری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا مراد سعید کا حلقہ دیکھ لو، پی ٹی آئی کتنی غیر مقبول ہو چکی کہ یہاں کی عوام نے تحریک انصاف کے جھنڈے تک اتار دیئے ہیں، کوئی اکا دکا گھرانہ ایسا نظر آتا ہے جہاں تحریک انصاف کا جھنڈا لگا نظرآئے ، مراد سعید کی روپوشی کے بارے شہریوں کا کہنا تھا کہ لیڈر کبھی چھپتا نہیں بلکہ حالات کا مقابلہ کرتا ہے، نو مئی والے دن بہکاوے میں آئے لوگ اب تک جیلوں میں ہیں ، ان کی زندگیاں تباہ ہو چکیں اور عمران خان زمان پارک میں اور مراد سعید کا پتہ ہی نہیں ، ایسے لیڈر کا کیا فائدہ جو مشکل انے پر کارکنان کو ڈھال بنا کر خود بھاگ نکلے

    مراد سعید کے شہر ،حلقہ انتخاب میں رکشہ ڈرائیور، کریانہ سٹور کے مالک، سکول ٹیچر سمیت کئی شہریوں سے بات ہوئی،سوائے ایک کے سب کا یہی کہنا تھا کہ تحریک انصاف بائے بائے، ایک شہری جس نے نام بتانے سے گریز کیا کہا کہ ایک ماہ قبل دبئی سے آیا ہوں، میرا ووٹ عمران کا ہے اور اسی کو ووٹ دیں گے جب اس سے پوچھا گیا کہ تحریک انصاف کہاں ہے، کہیں کوئی پرچم نہیں ، نام و نشان تک نظر نہیں آ رہا کہ تحریک انصاف یہاں ہے بھی یا نہیں جس پر اس کا کہنا تھا کہ یہاں کا موسم ایسا ہے، بارشیں آتی ہیں، ہوائیں چلتی ہیں جھنڈے کپڑے کے ہوتے اور وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکتے پھٹ جاتے ہیں، ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ جھنڈا لگانے پر جیل جانے کا ڈر بھی ہوتا ہے اس وجہ سے بھی لوگ جھنڈے نہیں لگا رہے

    سوات پرامن ہے اور اس امن کے لئے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عوام نے قربانیاں دیں، ہم ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے
    چند ماہ قبل مراد سعید اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ طالبان سوات آ گئے ہیں اور انہوں نے کئی مقامات پر قبضہ کر لیا ہے، مراد سعید نے تحریک انصاف کے ورکرز کے ساتھ جلوس بھی نکالا تھا ،اس حوالے سے جب کبل کے مقامی شہریوں سے بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ کونسے طالبان؟ کیسے طالبان؟ شہریوں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ پختونخوا متاثر ہے ، اسکا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان دشمن آ جائیں اور ہم بیٹھے رہیں، مراد سعید کا تومشن ہی کچھ اور تھا وہ چاہتا تھا کہ یہاں کی عوام کو سیکورٹی اداروں کے خلاف کھڑا کیا جائے اور ہمدردیاں حاصل کی جائیں ،افواج پاکستان یہاں‌ موجود ہیں اور یہاًں کی عوام کی حفاظت کر رہی ہیں،ملک دشمنوں کے لئے یہاں‌کوئی جگہ نہیں، سوات پرامن ہے اور اس امن کے لئے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ عوام نے قربانیاں دیں، ہم ان قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے اگر کوئی بھی ملک دشمن اس علاقے میں آیا اور امن کو خراب کرنے کی کوشش کی تو ایسی صورت میں ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ بلکہ اگلی صفوں میں ہوں گے،

    سوات کے مقامی شہری جو بات کرتے ہوئے تھوڑا گھبرا بھی رہے تھے، تاہم جب انہیں تسلی دی گئی کہ نہ تو آپ کی تصویر بنا رہے نہ ہی ویڈیو ریکارڈ کر رہے اور نہ ہی نام نشر ہو گا تو وہ کھل کر بولے اور کہا "پی ٹی آئی نے ہمیشہ اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا، یہاں سوات میں چند ماہ قبل ذاتی دشمنی کی بنا پر ایک سکول وین پر حملہ ہوا تھا جس میں دو طالبات زخمی ہوئی تھیں، تحریک انصاف کی مقامی قیادت نے اس حملے کو بھی طالبان سے جوڑ دیا، اگرچہ دہشت گردی مسئلہ ہے اور دہشت گرد کہیں بھی ہو سکتے ہیں لیکن کم از کم جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے،سکول وین پر فائرنگ والا واقعہ ذاتی لڑائی تھی تاہم پروپیگنڈہ کیا گیا، حقیقت سامنے آنے کے بعد بھی پروپیگنڈہ کرنیوالوں کو شرمندگی نہیں ہوتی”،جس مقام پر شہریوں سے بات ہو رہی تھی بالکل اس کے دائیں جانب آڑو کا باغ تھا، شہری نے باغ گھمانے کی دعوت دی اور کہا کہ باغ گھوم لیں لیکن اب اسوقت آڑو نہیں لگے ہوئے ،ختم ہو چکے، اگر سوات کے آڑو کھانے ہیں تو بازار جا کر کھلا سکتے ہیں، شہری کا شکریہ ادا کیا، بات آگے بڑھی تو شہری کا کہنا تھا کہ سوات کے پہاڑ کلئئر ہیں کہیں کوئی دہشت گرد نہیں، اگر کوئی دوسرے علاقے سے آ جائے تو بھی اسے چھپنے کا موقع نہیں دیں گے، سیکورٹی فورسز الرٹ ہوتی ہیں اور یہاں کے شہری اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں، تحریک انصاف نے جو اداروں کے خلاف عوام کو کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی وہ ناکام ہوئی اور محب وطن پختونخواہ گھڑی چور کی بجائے اپنے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ ہیں،

    سوات کے باسیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں ،عوام کو خواب دکھاتی ہیں اور پھر انکے خوابوں کی تعبیر کی تکمیل نہیں ہونے دیتیں، عمران خان کو پختونوں نے مسیحا سمجھا، دو بار حکومت دی لیکن وہ تو اللہ معاف کرے، دوران عدت ہی نکاح کر بیٹھا، ایسے شخص پر کیسے یقین کریں جو پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست بنانا چاہتا ہے تا ہم اسکا اپنا کردار اسکے برعکس ہے،پختونخواہ کے شہری جو اپنی خواتین کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیتے ،اس معاملے میں سخت گیر ہیں، اسی حوالہ سے بات کرتے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ عمران خان پر اعتماد کر کے ہم نے گناہ کبیرہ کیا، زمان پارک میں کیا کچھ ہوتا رہا؟ کیا عمران خان کی بیوی بھی کبھی دھرنے میں باہر بیٹھی تھی؟ کوئی ایک ویڈیو یا تصویر، دوسروں کی بیویوں ، بیٹیوں کو ڈھال بنانے والا عمران خان ،اسکے لئے حریم شاہ جیسے کردار ہی ٹھیک ہیں، جب شہری سے سوال کیا گیا کہ حریم شاہ کو جانتے ہو؟ جس پر شہری کا کہنا تھا کہ حریم شاہ …نام ہی ایسا ہے، اور اسکو کون نہیں جانتا، ایسی خواتین ہی عمران خان کی پسندیدہ ہیں، عورت کا لفظی معنی کیا ہے وہ عمران خان جانتا ہی نہیں، اگر جان لیتا تو کم از کم زمان پارک کو زنان پارک نہ بناتا

    آنیوالے الیکشن میں کس کو ووٹ دیں گے؟ اس سوال پر شہری کا کہنا تھا کہ جو بھی بہتر ہو گا اسکو ووٹ دیں گے، جماعت اسلامی ، والے اچھے لوگ ہیں، کام بھی اچھے کرتے ہیں ووٹ کے حقدار اس طرح کے لوگ ہیں لیکن الیکشن آئیں گے تو دیکھیں گے کہ کس کو ووٹ دینا ہے. اس بار کم از کم پی ٹی آئی کو تو ووٹ نہیں دیں گے، وہ کام جو ہمارا پڑوسی ملک بھارت کئی برسوں میں نہیں کر سکا وہ پی ٹی آئی نے ایک دن میں کر دیا، بھلا وہ کیسا پاکستانی ہے جو فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنائے، وہ کیسا پاکستانی ہے جو شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرے، عمران خان کی بیوی کو اگر کوئی پنکی کہے تو عمران خان کو دکھ ہوتا تو انکو کس نے یہ حق دیا تھا کہ افواج پاکستان کی تنصیبات پر حملے کرو، پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا، نیازی نے جہاں جھوٹوں کے ریکارڈ بنائے وہیں ملک دشمنی کے بھی ریکارڈ بنائے اور اس کے یہ کارنامے تاریخ میں سنہری حروف نہیں بلکہ سیاہ حروف میں لکھے جائیں گے.

    نوٹ….قسط اول.
    اگلی قسط میں گزشتہ برس کالام میں سیلاب سے ہونیوالی تباہی کے مناظر پر مشتمل ہو گی

  • کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    کرسی ایک بندے دو، اسحاق ڈار اور معیشت کا مستقبل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    سینیٹر اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے نہ صرف بچایا بلکہ مایوسی کا شکار ہونے والی بزنس کمیونٹی کو معاشی اعتماددیا اور بیرون ملک سرمایہ کاروں کو اس مشکل گھڑی میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب بھی کیا ۔ جس کی ملک وقوم کو شدید ضرورت تھی۔ وزارت خزانہ کے اختیارات سنبھالتے ہی ملکی معیشت کو بے یقینی کے منجدھار سے نکالنے کے لئے ایک انتھک ملاح کیط رح وطن عزیز کو ڈیفالٹ ہونے سے بچالیا۔ ڈیفالٹ ڈیفالٹ کی صدائوں کے شور میں اسحاق ڈار ایک چٹان کی طرح ڈٹے رہے ۔ ایک ہی جوا ب تھا اللہ کی مدد سے پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔ اب اسحاق ڈار کو نگران وزیراعظم بنانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں تو اُس کے پیچھے بھی ملکی معیشت کا مستقبل ہے ۔ اسحاق ڈار موجودہ اور مستقبل کے معاشی درپیش چیلنجز سے مکمل باخبر ہیں موجودہ وطن عزیز کی معاشی پالیسیوں کو بلا تعطل جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بحث جاری ہے ۔ الیکشن کب ہوں گے اگر ہوں گے تو وزیراعظم کون ہوگا مسلم لیگ(ن) اورپیپلزپارٹی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں مذاکرات کررہی ہیں تاہم ابھی تک اس موضوع پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت محمد نواز شریف کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتی ہے جبکہ آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔تاہم کرسی ایک اور اُمیدوار دو ہیں۔ا لیکشن ان سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھی جماعتیں موجود ہیں جو الیکشن میں حصہ لیں گی ۔ اس سلسلے میں پنجاب فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ غیر جانبدار سروے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ ہو گاتاہم کچھ حلقوں میں پیپلزپارٹی اور مذہبی جماعتیں بھی سیٹیں حاصل کریں گے۔ آمدہ قومی انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی ۔ انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنے گی وہ پی ڈی ایم طرز کی ہی حکومت ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی کہو اور دوسروں کی سنو بہتان تراشی اور افواہ سازی سے کام نہ لیا جائے صحیح اور صاف راستہ ایک ہی ہے صاف اور شفاف الیکشن اپنے مقررہ وقت پر کرائے جائیں۔

  • نگران حکومت، الیکشن اور خواہشات، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نگران حکومت، الیکشن اور خواہشات، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    اگلے ماہ حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے۔ انتخابات کب ہوں گے یہ ایک بڑا سوال ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے آئین میں صاف لکھا ہے کہ انتخابات کب ہونے چاہیں پھر بھی اگر یہ سوال سر اٹھا رہا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب حکومت تین ماہ اور کے پی کے کی حکومت تین ماہ تک تھی مگر آئین کی حد کو کراس کرگئیں اور نگران حکومتیں ہی بدستور کام کررہی ہیں۔ کیا مرکز میں بھی ایسا ہونے جارہا ہے۔ کیا شہباز شریف کی حکومت کو ہی آگے چلایا جائے گا؟ کیا نگران حکومت جو مرکز میں ہوگی اسے لمبا کرکے عبوری حکومت میں تبدیل کردیا جائے گا؟ اور عبوری حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف ہی ہوں گے؟ اس طرح کی خبروں اور اطلاعات سے انتخابی عمل ایک معمہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم یہ خواہشات ہیں۔ سب کی خواہشیں اندازے ہیں ان خواہشوں کے آگے بند باندھنے کے لئے بھی تو کوئی کھڑا ہے۔ عوام کی اکثریت پریشانی کے دور سے گزر رہے ہیں بازاروں میں لوٹ مار مچی ہے امن او مان کا مسئلہ ڈاکو دن دیہا ڑ لوٹ رہے ہیں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ بے روزگاری اور مہنگا ئی ہے۔ میڈیا نگران حکومت اور آمدہ قومی انتخابات کو لے کر روزانہ نئے تبصرے کر رہا ہے۔ تاہم الیکشن کو لے کر معاملہ کافی پیچیدہ ہو رہا ہے۔

    سیاسی جماعتیں ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ الیکشن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ تاہم کراچی سے پنجاب اور اسطرح ملک بھر میں جرائم میں اضافہ سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس وقت انتظامیہ اور پولیس نام کی کوئی شے ملک میں موجود نہیں سیاستدانوں نے اپنی سیاسی دوکان قائم رکھنے کے لئے پولیس اور انتظامیہ کو تقسیم کر دیا ہے۔ پسند ناپسند کی بنیاد پر پولیس افسران اور انتظامی افسران کا تقرر کیا جا رہا ہے۔ سینئر افسران کو کھڈے لائن لگا کر جونیئر افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے جس کے نتائج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ کراچی سے پنجاب اور دوسرے صوبوں میں اغواء‘ ڈکیتی‘ چوریاں ‘ منشیات ‘ قمار بازی کے اڈے دیگر بڑھتے ہوئے جرائم کا کوئی اور ذمہ دار نہیں ہمارے با اختیار حکمران ہیں جو اس وطن عزیز کے خود ساختہ مالک ہیں انکے فیصلوںسے عوام کی اکثریت دکھی ہے ۔

  • عمران خان کا دوہرا معیار، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    عمران خان کا دوہرا معیار، تجزیہ ، شہزاد قریشی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی خدمت میں بقول شاعر: اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے۔ اکیلے پھر رہے ہو یوسف کاررواں ہو کر ۔ گفتگو انسان کی پہچان کی وہ واحد سیڑھی ہے جس کے چڑھنے سے ہی انسان کی وسعت ظرف اور اخلاق کی مسافت معلوم ہو جاتی ہے۔ اخلاق و آداب کا گھونٹ پیا بھی ہے یا علم کے سمندر میں صرف غوطہ زن ہو کر عملی میدان میں نکل پڑا کامیاب شخص وہی کہلاتا ہے جو اپنی حدود میں رہتا ہے ہر وہ شخص خسارے میں رہتا ہے جو اپنی حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا نعرہ قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین اور جمہوریت دوست مگر اپنے دور حکمرانی کیا انہوں نے اس ضمن میں کچھ کیا؟ جس کشتی میں سوار ہو کر اقتدار میں آئے تھے ملاحوں نے ساتھ کیوں چھوڑا؟ سچ تو یہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی سیاست میں سسپنس ، بڑھکیں، لڑائی مارکٹائی، سازشیں، امید نا امیدی کے ساتھ غداری، یہودی ایجنٹ، بھارتی ایجنٹ، سکیورٹی رسک، وغیرہ ہماری سیاست میں بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے مہذب معاشروں اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں کسی کو بغیر ثبوت اس نوعیت کے الزامات سے نہیں نوازا جاتا ایک دوسرے کا احترام جمہوریت کی لازمی شرط ہے۔

    الیکٹرانک میڈیا پر بحث جاری ہے کہ نوازشریف کب وطن واپس آئیں گے وہ آئیں گے بھی یا نہیں کیا کسی نے اس بحث میں سوال کیا ایک منتخب وزیراعظم کو تین بار اقتدار سے ہی نہیں اٹک قلعہ، اڈیالہ جیل، کورٹ لکھپت جیل، جلاوطن، ہوائی جہاز کی سیٹ کے ساتھ کیوں باندھا گیا؟ منتخب وزیراعظم کو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی کیوں؟ ملک کے تین بار وزیراعظم کو تاحیات نااہل کر دیا گیا کیوں؟ ہمارے سیاستدانوں، ذمہ داران ریاست سے گزارش ہے کہ عالمی دنیا معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں سعودی عرب کی پوری قوم سعودی وژن 2030 پروگرام کے تحت معاشی اور سماجی اصلاحات پر مل کر کام کر رہی ہے حالیہ جاپانی وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ جبکہ یوری یونین اور جاپان ایک نئے سنہری دور کا آغاز کر رہے ہیں واحد ایجنڈا معیشت ہے۔ بھارت افانستان کے راستے ہماری ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششوں میں مصروف ہے بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہماری فوج سینہ سپر ہے تاہم ملکی سیاستدانوں کو ملکی ترقی عوام کی خوشحالی مستحکم معیشت کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔