Baaghi TV

Category: سیاست

  • ’ونڈر بوائے‘ کا سراب، پھر بھی تمھیں یقین نہیں؟تحریر:رقیہ غزل

    ’ونڈر بوائے‘ کا سراب، پھر بھی تمھیں یقین نہیں؟تحریر:رقیہ غزل

    پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مقتدر حلقوں کو عوامی مقبولیت کے حامل کسی بڑے لیڈر کا متبادل تلاش کرنا ہوتا ہے، تو کسی نہ کسی ‘ونڈر بوائے’ کی لانچنگ کی جاتی ہے۔ حال ہی میں معروف سینئر صحافی سہیل وڑائچ صاحب نے اپنے کالم میں جس پراسرار ‘ونڈر بوائے’ کے ظہور کی نوید سنائی تھی، اب سیاسی پردے پر ابھرنے والے مناظر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اقرار الحسن صاحب ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا محض ٹی وی سکرین کی مقبولیت اور جذبات سے بھرپور بیانیے کسی حقیقی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں؟ کیا وہ شخص جو اپنی ٹیم کو ‘راج’ نہ کروا سکا، وہ ایک پوری قوم کو ‘عوام راج’ کے خواب دکھانے کا اہل ہے؟

    اقرار الحسن کی سیاسی عقل اور شعور کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انھوں نے اپنی جماعت کا نام ‘عوام راج’ رکھا ہے، حالانکہ جمشید دستی پہلے ہی ‘عوامی راج’ کے نام سے پارٹی چلا رہے ہیں۔ جس شخص کا علم اتنا محدود ہو کہ اسے اپنی جماعت کے نام کے لیے بھی دوسروں کے نام کا سہارا لینا پڑے، وہ کروڑوں لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کیسے کرے گا؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحافتی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ایک ایسا شخص جو ‘بلیک میلر’ کے طور پر مشہور ہوا، اسے اچانک مسیحا بنا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ ‘سرِ عام’ کے نام پر انھوں نے جتنے لوگوں کو ‘بے نقاب’ کرنے کا دعویٰ کیا، حیرت انگیز طور پر ان میں سے کسی ایک کا کاروبار بھی مستقل بند نہ ہو سکا، البتہ موصوف کے اپنے ذاتی کاروبار اور بینک بیلنس میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب صرف اتفاق ہے یا اس کے پیچھے بلیک میلنگ کی وہ کہانیاں ہیں جن کا چرچا زبان زدِ عام ہے؟

    کسی بھی انسان کے اخلاص اور اس کی قیادت کی صلاحیت کا سب سے بڑا گواہ اس کا اپنا ماضی اور اس کے قریبی ساتھی ہوتے ہیں۔ اقرار الحسن کا پروگرام ’’سرِ عام‘‘ جس شہرت اور بلندی پر پہنچا، وہ کسی ایک فرد کا کمال نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے درجنوں پروڈیوسرز، کیمرہ مینوں اور ریسرچرز کی انتھک محنت شامل تھی۔ لیکن تضاد کی انتہا دیکھیے کہ برسوں گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس ٹیم کا کوئی ایک رکن بھی عوامی سطح پر اپنی پہچان نہ بنا سکا۔ جہاں ٹیم کے مخلص ساتھی گمنامی کی دھول چاٹتے رہے، وہاں موصوف کے ذاتی کاروبار ملک بھر میں پھیلتے گئے اور ان کی اپنی زندگی شاہانہ تعیش اور چکا چوند کا نمونہ بن گئی۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص اپنے ان ساتھیوں کو ان کی محنت کا جائز کریڈٹ نہ دے سکا جنھوں نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، وہ قوم کے ساتھ کتنا مخلص ہوگا؟اخلاص کے اس فقدان کی ایک اور واضح مثال ان کے اپنے خاندان کی برانڈنگ ہے۔ موصوف کے صاحبزادے کو تو الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہر گھر میں پہنچا دیا گیا، لیکن کیا کوئی ‘سرِ عام’ کی ٹیم کے کسی ایک رکن کے بچے کا نام بتا سکتا ہے؟ کیا ان کے بچوں کا حق نہیں تھا کہ انھیں بھی وہی مواقع ملتے جو اقرار صاحب کے اپنے بچے کو ملے؟ یہ رویہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہاں صرف ‘اپنی ذات’ اور ‘اپنے خاندان’ کی ترقی پیشِ نظر ہے، نہ کہ ان لوگوں کی جو آپ کی کامیابی کی بنیاد بنے۔ جو شخص اپنی چھوٹی سی ٹیم میں انصاف قائم نہ کر سکا، وہ کروڑوں کی آبادی والے ملک میں ‘عوام راج’ کیسے قائم کرے گا؟

    آج جب پنجاب میں ‘کالے قوانین’ کا راج ہے، جہاں سانس لینے پر بھی پہرے بٹھا دیے گئے ہیں اور ذرا سی سیاسی جنبش پر گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں، وہاں ایک مخصوص شخص کو سیاسی چھتری فراہم کرنا اور اسے پارٹی بنانے کی خصوصی چھوٹ دینا کئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ پلانٹڈ ‘ونڈر بوائے’ دراصل مخصوص اشرافیہ اور گملوں میں اگنے والی سیاست کا ایک نیا مہرہ ہے جسے صرف ووٹ بینک کو تقسیم کرنے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے لایا گیا ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ایک طرف مصدق ملک کہتے ہیں کہ ‘کون سا ونڈر بوائے؟ وہ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ تو ہم خود ہی کر دیں گے’، اور دوسری طرف یہی ونڈر بوائے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی ہی حمایتی حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ ‘عوام کو سستی بجلی اور پٹرول دیا جائے’۔ جناب! آپ حکومت میں ہو کر مطالبہ کس سے کر رہے ہیں؟ یہ نورا کشتی اب پرانی ہو چکی ہے اور عوام اب اس مصنوعی اداکاری کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

  • اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وقت آگے نکل گیا، سیاست وہیں کھڑی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ان کے بیشتر قائدین ایک عجیب خوش فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ گمان ہے کہ اقتدار کے چند حربے، وقتی اتحاد اور طاقت کے مراکز سے قربت نے گویا وقت کو ان کے لیے روک دیا ہے۔ جیسے سب کے سب گھڑیال کے گھنٹے سے لٹکے ہوں اور گرنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وقت نہ رکا ہے، نہ رکتا ہے، اور نہ کسی کا انتظار کرتا ہے۔ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ جدید ریاستیں عوامی فلاح، شفاف طرزِ حکمرانی، ٹیکنالوجی، میرٹ اور جواب دہی کو اپنی بنیاد بنا چکی ہیں، جبکہ پاکستان کی سیاست آج بھی فرسودہ سوچ، ذاتی مفادات اور اقتدار کی جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ ہم کیلنڈر کے لحاظ سے اکیسویں صدی میں ہیں، مگر عملی سیاست صدیوں پیچھے کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جمہوریت، جسے عوام کی حکمرانی کا نام دیا جاتا ہے، ہمارے ہاں ایک سنجیدہ نظام کے بجائے مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ انتخابات ہوں یا پارلیمان، آئین ہو یا عوامی نمائندگی—ہر شے طاقت کے کھیل، سودے بازی اور وقتی مفادات کی نذر ہو چکی ہے۔ عوام کو صرف ووٹ کے دن یاد رکھا جاتا ہے، اقتدار میں آتے ہی وہی عوام مسائل اور مطالبات کے ساتھ غیر ضروری سمجھ لی جاتی ہے۔سیاسی جماعتیں ماضی کے نعروں، شخصیت پرستی اور جذباتی بیانیوں کے سہارے حال اور مستقبل پر حکمرانی کی خواہش رکھتی ہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ معاشرہ بدل چکا ہے، نئی نسل سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے اور کارکردگی کو معیار بناتی ہے۔ مگر ہمارے سیاستدان آج بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ عوام وہی ہیں، حالات وہی ہیں، اور سیاست ہمیشہ اسی ڈگر پر چلتی رہے گی۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اور نظام وقت کے ساتھ خود کو نہیں بدلتے، وقت انہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ اگر پاکستان کی سیاست نے خود احتسابی، جدید تقاضوں اور حقیقی جمہوری اقدار کو قبول نہ کیا تو یہ بحران صرف سیاسی نہیں رہے گا بلکہ ریاستی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔ یہ دراصل اقتدار کا نہیں، سوچ کا بحران ہے۔ اور جب تک سوچ نہیں بدلے گی، نہ جمہوریت مضبوط ہو گی، نہ عوام کے مسائل حل ہوں گے، اور نہ ہی پاکستان وقت کے ساتھ قدم ملا سکے گا۔

  • ایران،مسئلہ کا حل سفارتکاری سے ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایران،مسئلہ کا حل سفارتکاری سے ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایران داخلی بے چینی اور بیرونی خطرات کا دوہرا چیلنج ایران اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ داخلی سطح پر امن و امان کی صورتحال، معاشی دباؤ، عوامی بے چینی اور ریاستی سختی نے ایسے سوالات کو جنم دے دیا ہے جو صرف تہران ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران موجودہ حالات پر قابو پا سکتا ہے؟ اور اگر داخلی عدم استحکام بڑھتا ہے تو کیا امریکہ یا اس کے اتحادی اس صورتحال کو فوجی مداخلت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟

    ایران کی ریاستی ساخت مضبوط اداروں، طاقتور سکیورٹی نظام اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔ ماضی میں بھی ایران نے شدید پابندیوں، احتجاجی تحریکوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود نظام کو برقرار رکھا ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ امن و امان کی صورتحال لازماً ریاستی کنٹرول سے باہر ہو جائے گی۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلسل معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور شہری آزادیوں پر قدغن عوامی غصے کو کم کرنے کے بجائے بڑھا رہی ہیں۔ اگر اصلاحات اور سیاسی مکالمے کے دروازے بند رہے تو وقتی کنٹرول تو ممکن ہے، پائیدار استحکام نہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کا اثر و رسوخ، اور اسرائیل و خلیجی ممالک کے حوالے سے امریکی تحفظات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ تاہم اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے براہِ راست فوجی حملے کا امکان فوری طور پر زیادہ نظر نہیں آتا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، اور ایران پر حملہ پورے خطے کو ایک وسیع جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے نتائج امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔ البتہ یہ خدشہ ضرور موجود ہے کہ اگر ایران میں داخلی انتشار شدت اختیار کرتا ہے، ریاستی گرفت کمزور پڑتی ہے، یا جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی غیر معمولی پیش رفت ہوتی ہے تو امریکہ دباؤ، محدود حملوں، سائبر کارروائیوں یا پراکسی سطح کی مداخلت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر داخلی کمزوریوں کو اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ایران کے لیے اس وقت سب سے دانشمندانہ راستہ داخلی محاذ پر اعتماد سازی، معاشی اصلاحات اور عوامی شکایات کے ازالے کا ہے، جبکہ خارجی سطح پر محاذ آرائی کے بجائے سفارتی توازن کو ترجیح دینا ہوگا۔ خطے اور عالمی برادری کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایران کے مسئلے کو جنگ کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ ایک اور بڑی جنگ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی نئی دلدل میں دھکیل سکتی ہے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی تدبر، داخلی اصلاحات اور بین الاقوامی مکالمہ ہی اس بحران کا واحد پائیدار حل ہے۔

  • علماء کرام کیلئے الاؤنس ،مریم نواز کا باوقار،تاریخی فیصلہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    علماء کرام کیلئے الاؤنس ،مریم نواز کا باوقار،تاریخی فیصلہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    علماء کرام کے لیے الاؤنس مریم نواز کا باوقار اور تاریخی فیصلہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے علماء کرام کے لیے سرکاری خزانے سے ماہانہ الاؤنس کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جسے محض ایک فلاحی اقدام کہنا اس کی اہمیت کو کم کرنا ہوگا۔ درحقیقت یہ قدم ریاست اور مذہبی طبقے کے درمیان ایک نئے، باوقار اور ذمہ دارانہ تعلق کی بنیاد رکھتا ہے جو ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آیا۔ علماء کرام صدیوں سے پاکستانی معاشرے کی اخلاقی، دینی اور سماجی تربیت میں مرکزی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ مساجد میں امامت، خطابت، دینی تعلیم، نکاح، جنازہ، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی رہنمائی جیسے فرائض انجام دینے والے یہ افراد عملاً ریاست کے غیر اعلانیہ سماجی خدمت گار رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی معاشی مشکلات کو اکثر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ ایسے میں مریم نواز کا یہ فیصلہ ایک دیرینہ محرومی کا ازالہ ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ معاشرتی استحکام صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں آتا بلکہ ان افراد سے آتا ہے جو اخلاقیات، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ علماء کرام کو معاشی تحفظ دینا دراصل مساجد کے نظام کو مضبوط بنانا، دینی تعلیم کو باوقار بنانا اور انتہاپسندی کے مقابل اعتدال پسند بیانیے کو تقویت دینا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی نعرے یا وقتی فائدے کے بجائے ایک سوچے سمجھے وژن کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ مریم نواز نے اس تاثر کو بھی توڑا ہے کہ جدید حکمرانی اور دینی طبقہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ یہ قدم ثابت کرتا ہے کہ ترقی، فلاح اور دینی اقدار ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ البتہ اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس پر عملدرآمد شفاف، منصفانہ اور بلاامتیاز ہو۔

    اگر اس فیصلے کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھ کر مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ بلاشبہ علماء کرام کے لیے الاؤنس کا یہ اعلان مریم نواز شریف کے دورِ حکومت کا ایک نمایاں اور مثبت باب ہے، جو ریاستی ذمہ داری، سماجی شعور اور قومی اقدار کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے اقدامات ہی عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی مضبوط بنیاد بنتے ہیں۔ یاد رہے مریم نواز شریف کے دادا میاں محمد شریف علماء اکرام کا بے حد احترام کرتے تھے، اور دینی اداروں کو معاشرے کی اخلاقی بنیاد سمجھتے تھے، مریم نواز شریف کی جانب سے علماء اکرام کے لیے الاؤنس کا حالیہ فیصلہ دراصل اسی خاندانی روایت کا تسلسل ہے جسکی بنیاد میاں محمد شریف مرحوم نے رکھی تھی۔

  • گیس و پانی کو ترستے شہری .تحریر: قمرشہزاد

    گیس و پانی کو ترستے شہری .تحریر: قمرشہزاد

    گوجرخان ایک تاریخی اور اہم شہر ہونے کے باوجود، اس وقت متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے۔ شہریوں کو روزمرہ زندگی میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ کیا گوجرخان پنجاب پاکستان کے نقشے پر موجود نہیں؟ کیا یہاں کے بسنے والے انسان نہیں بلکہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں؟ یہ وہ تلخ سوالات ہیں جو آج گوجرخان کے گلی کوچوں میں گشت کر رہے ہیں۔ ایک طرف متعلقہ محکموں کی مجرمانہ خاموشی ہے اور دوسری طرف مافیاز کا وہ راج، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آج 2026 میں بھی گوجرخان کے باسی ان بنیادی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں جو ریاست کی ذمہ داری تھی۔ تحصیل گوجرخان گیس کی سرزمین ہے مگر مکینوں کیساتھ زیرو پریشر کا مذاق جاری ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل پکار پکار کر کہتا ہے کہ جس زمین سے گیس نکلے گی، پہلا حق وہاں کے مکینوں کا ہو گا۔ مگر افسوس! تحصیل گوجرخان کی گیس دیگر بڑے شہروں کے چولہے تو جلا رہی ہے، لیکن یہاں کے مقامی باسیوں کے اپنے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ اہلیان گوجرخان گیس کی لوڈشیڈنگ اور زیرو پریشر کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ کیا محکمہ سوئی گیس کے حکام کو عوامی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ یا پھر قانون کی کتابیں صرف لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے ہیں؟ دوسرا سب سے بڑا مسلہ سفید زہر کا کاروبار اور فوڈ اتھارٹی کی نیم خوابی کی بدولت گوجرخان کی سڑکوں پر نیلی سفید پلاسٹک کی ڈرمیوں اور ٹینکرز میں جو سفید مائع دوڑ رہا ہے، وہ دودھ نہیں بلکہ "سفید زہر” ہے۔ کیمیکل ملا یہ زہریلا دودھ نسلوں کو اپاہج بنا رہا ہے، مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی شاید کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہے۔ صرف یہی نہیں، شہر کے نام نہاد فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر وہ گھٹیا اور جلا ہوا آئل استعمال ہو رہا ہے جو جگر کو چھلنی اور ہیپاٹائٹس کو عام کر رہا ہے۔ یہاں انسانی جانوں کی قیمت ایک برگر اور شوارمے سے بھی کم ہو چکی ہے۔ تیسرا بڑا بنیادی مسلہ سرکاری پانی کا بحران بھاری بھرکم بلز کی ادائیگی کے باوجود پیاسا ہے گوجرخان۔ واٹر سپلائی کا نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے دفاتر میں بیٹھے افسران کی "بند مٹھیاں” کھلنے کا نام نہیں لے رہیں۔ چوتھا اور سنگین مسلہ صحت کا شعبہ جہاں مسیحائی کے روپ میں قصائی بیٹھے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ تو محکمہ صحت کی ناک تلے ہو رہا ہے۔ اسے ڈرگ انسپکٹر کی مبینہ ملی بھگت کہیے یا غفلت، میڈیکل اسٹورز پر ٹھیکے کی غیر معیاری ادویات سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ عطائی ڈاکٹرز، جو انسانی زندگی سے کھیلنا اپنا حق سمجھتے ہیں، گوجرخان کی گلی محلوں میں کلینکس سجا کر بیٹھے ہیں جہاں ایس او پیز کا نام و نشان تک نہیں۔ رہی سہی کسر نجی لیبز اور کلینکس کے ناتجربہ کار عملہ نکال کر شعبہ صحت کو چار چاند لگا رہا ہے۔ کیا تحصیل گوجرخان لاوارث تحصیل ہے؟ آخر اسکی کیا وجہ جو گوجرخان کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے؟ متعلقہ ادارے کیا کر رہے ہیں کس کام کی تنخواہ لے رہے کیا سب اچھا کی رپورٹس پیش کرنے کی تنخواہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جاتی ہے؟ اگر کوئی خبر لگے تو ہلچل مچتی ہے، انکوائری انکوائری کا کھیل کھیلا جاتا ہے مگر مافیاز کو ہاتھ نہیں ڈالا جاتا آخر اس سب کے پیچھے کونسی پوشیدہ طاقتیں ہیں جو اتنے مسائل کے باوجود بھی ادارے اپنا کام کرنے کے بجائے اپاہج ہو چکے؟

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف جو اس وقت شبانہ روز محنت سے اپنے صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں ان سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان تمام تر مسائل کا سختی سے نوٹس لیں اور تمام متعلقہ اداروں کے نااہل افسران کو فوری طور پر ضلع بدر کیا جائے، مزید برآں راولپنڈی انتظامیہ کو احکامات جاری کریں کہ کمشنر راولپنڈی اور دیگر حکام فوری طور پر ان مافیاز کے خلاف "گرینڈ آپریشن” کریں۔ زہریلا دودھ بیچنے والوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے اور عطائیوں کے ٹھکانوں کو ہمیشہ کے لیے سیل کیا جائے اور غیر معیاری ادویات کو فوری بند کروایا جائے۔ جبکہ وفاق گیس کے پریشر کو بحال کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔

  • عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن ،تحریر:ملک سلمان

    عہدوں کی شادیاں، ون ڈش کی خلاف وزری اور سلامی اکٹھی کرنے کا مشن ،تحریر:ملک سلمان

    اہم عہدوں پر فائز افسران کے بچوں کی شادیوں پر اکٹھی ہونی والی چار سے پانچ ارب کی سلامیوں کے قصے ہفتوں زبان زد عام رہے۔ اس مشہوری نے افسران اور سیاستدانوں کو پیسہ اکٹھا کرنے کی نئی راہ دکھا دی۔ ایک آفیسر کی شادی کیلئے گیسٹ لسٹ بن رہی تھی تو وہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک، ڈویلپر اور بڑے بڑے کاروباری حضرات کے نام لکھ رہا تھا حتیٰ کہ ان کاروباری شخصیات کے بھی جن سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی صرف گڈمارننگ کے میسجز والا تعلق تھا۔ ولیمے کیلئے کراچی ٹو خیبر تمام اہم شخصیات کے نام لکھے جارہے تھے میں نے اسے کہا کہ آپ اپنے بیج میٹ کے نام کیوں نہیں لکھ رہے اس نے فوراً سے پہلے جواب دیا کہ بھوکے ہیں انہوں نے کیا دینا۔

    لاہور میں ایک (پی ایس پی) پولیس آفیسر نے اپنی شادی میں ریکارڈ یافتہ کریمینل کو اس لیے بلایا کہ اس کے بارے مشہور ہے کہ وہ سلامی میں سونے کا سیٹ دیتا ہے۔ چند دن قبل ایک اسسٹنٹ کمشنر کی شادی تھی اس کے بیج میٹ بتا رہے تھے کہ یہ اتنا مطمئن بے غیرت ہے کہ سلامی اکٹھی کرنے کیلئے پراپرٹی ڈیلرز کو پہلے صوفوں پر جبکہ بیج میٹ کو پچھلی کرسیوں پر جگہ دی۔

    یہی افسران جو اپنی ذاتی شادی پر بھی غریب اور متوسط رشتہ دار اور دوستوں کو شادی پر اس لیے انوائیٹ نہیں کرتے کہ انہوں نے معمولی سلامی دینی ہے۔ دوسری طرف انہی ذہنی غریبوں کا کاروباری ماڈل یہ ہے کہ کوئی بھی افسر جب کسی اچھی پوسٹنگ پر ہوتا ہے تو وہ اپنے بہن بھائی حتی کہ کزن، بھتیجی اور بھانجے کی شادی پر بھی امیر افراد کو صرف لیے انوائٹ کرتا ہے کہ سلامی اکٹھی ہوجائے گی۔ وزیراعظم آفس، ایوان صدر، وزیراعلیٰ آفس، آئی جی اور چیف سیکرٹری آفس میں پوسٹڈ افسران سمیت اے سی، ڈی سی، کمشنر، سیکرٹری، ایس پی ،ڈی پی او، آرپی او جیسی اہم پوسٹنگ کے دوران مذکورہ افسران بہن بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی شادی کے دعوت نامے بھی امیر دوستوں کو ہول سیل کے حساب سے بانٹتے ہیں۔ کیونکہ ان سیٹوں پر دوست اور ساتھی افسران بھی کم از کم بیس ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک جبکہ کاروباری شخصیات دس لاکھ سے زائد کیش کے بینک چیک، لاکھوں روپے کے قیمتی جیولری سیٹ، نئی گاڑی، پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹر، بیرون ملک ہنی مون اور عمرہ پیکچ گفٹ کرتے ہیں۔

    یوں شادیاں بھی پیسے اکٹھا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ لاکھوں روپے کی سلامی دینے والے اس انویسٹمنٹ کی ریکوری کیلئے کوئی کام لیکر جاتے ہیں تو اگر ہوجائے تو وہ ایک اور گفٹ دے آتا ہے نہ ہوتو ہر جگہ اس کی احسان فراموشی کی قصے عام کرتا ہے اس لیے افسران کو مشورہ ہے کہ آپ کے پاس کمانے کیلئے ہر روز مواقع ہوتے ہیں کم از کم شادی کے یادگار موقع کو کمائی کا اڈا بنا کر ان ذہنی غریب پراپرٹی ڈیلرز کو بلاکر ساتھی افسران اور معززین کو تو شدید رش میں خوار نہ کیا کریں۔ منشی اذہان افسر تو بن گئے لیکن اندر کی غربت کی ہاتھوں مجبور کوئی نہ کوئی ایسی چول حرکت ضرور کرتے ہیں کہ اچھی پوشاک بھی انکی اندرونی غربت کو چھپانے سے قاصر ہوتی ہے۔

    کاروباری اور عہدوں کی شادیوں کا دوسرا پہلو بھی جدید دور کا فیشن بن چکا ہے جہاں کاروباری شخصیات اپنی کاروباری ضرورت کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، کسٹم، ایف بی آر، آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس، ایم ایل سی اور پی ایم ایس افسران میں سے بہو اور داماد تلاش کرتے ہیں۔ سی ایس ایس کے باقی گروپس کاروباری حضرات کیلئے فائدے کا سودا نہیں ہوتا اس لیے کاروباری برادری میں انکی ڈیمانڈ نہیں ہوتی۔ بیج میٹ کے ساتھ شادیوں میں زیادہ تر محبت اور پسند کا عنصر غالب ہوتا ہے جو کہ ایک مثبت پہلو ہے کہ آپ اپنی ہم آہنگی والے جیون ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن بیوروکریسی میں بہت ساری شادیاں سانولی اور قبول صورت کے ساتھ بھی صرف اس لیے کی جاتی ہیں کہ اس کی سلیکشن پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یا پولیس سروس آف پاکستان میں ہوگئی ہے۔ ایک تہائی سے زائد بیوروکریٹس کی شادیوں کی ناکامی کی وجہ عہدوں اور کاروبار کی وقتی کشش کے لیے کیے جانے والے جذباتی فیصلے تھے۔
    سیاست دانوں, کاروباری شخصیات اور سرکاری افسران کی شادیوں میں قانون دان اور قانون پر عملداری کروانے والے دونوں کی موجودگی میں سر عام ون ڈش کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ ملٹی ڈشز کے ساتھ اپنی شان و شوکت اور قانون کی اوقات بتائی جاتی ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کی منفرد پالیسی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کو ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا۔ عالمی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، اور اس موڑ پر سب سے بڑا سوال امریکہ نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ دنیا اگر آج بھی یہ سمجھے کہ ٹرمپ، اوباما، کلنٹن یا جو بائیڈن کے تسلسل کا نام ہیں تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ ایک فرد نہیں، ایک الگ طرزِ فکر، ایک مختلف سیاسی رویہ اور ایک منفرد پالیسی کا نام ہیں۔ ٹرمپ کی سیاست روایتی سفارت کاری، اخلاقی دعووں اور عالمی ذمہ داریوں سے زیادہ قومی مفاد، طاقت اور فوری فائدے کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا مشہور نعرہ “America First” محض انتخابی جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کے تحت دوست وہی ہے جو فائدہ دے اور معاہدہ وہی قابلِ قبول ہے جو امریکہ کو یکطرفہ برتری دے۔

    ٹرمپ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ دہائیوں پرانے اتحاد لمحوں میں کمزور ہو گئے، عالمی معاہدے یک قلمی فیصلوں سے ختم کر دیے گئے اور بین الاقوامی ادارے دباؤ کا شکار رہے۔ نیٹو ہو یا اقوامِ متحدہ، تجارتی معاہدے ہوں یا ماحولیاتی سمجھوتے، ٹرمپ نے ہر چیز کو سودے کی میز پر رکھ دیا۔ ان کی پالیسیوں کی سب سے نمایاں خصوصیت غیر متوقع پن ہے۔ یہی عنصر عالمی منڈیوں، سفارت خانوں اور طاقت کے ایوانوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ مگر ٹرمپ کے نزدیک یہ غیر یقینی صورتحال ہی دباؤ کا مؤثر ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر لے آتے ہیں۔ دنیا خصوصاً ترقی پذیر ممالک اور مسلم دنیا کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ ٹرمپ کے عہد میں اصولوں کی زبان کم اور مفادات کی زبان زیادہ سنی جاتی ہے۔ یہاں ہمدردی نہیں، طاقت کا توازن بولتا ہے۔ یہاں اپیلیں نہیں، سودے ہوتے ہیں۔ اس لیے عالمی قیادت کے لیے لازم ہے کہ وہ امریکہ کو نہیں بلکہ ٹرمپ کو سمجھنے کی حکمتِ عملی اختیار کرے۔ کیونکہ ٹرمپ کے امریکہ میں پالیسی مستقل نہیں، مگر مفاد مستقل ہے۔ جو اس مفاد کو پڑھ لے، وہی خود کو عالمی بساط پر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اس بدلتی دنیا میں سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات جذبات سے نہیں، بلکہ حقیقت پسندی اور دور اندیشی سے نبھائے جائیں۔

  • دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ، حقائق، چیلنجز اور قومی عزم،تحریر:جان محمد رمضان

    دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیہ، حقائق، چیلنجز اور قومی عزم،تحریر:جان محمد رمضان

    دہشتگردی کے خلاف جنگ محض بندوق اور بارود کی لڑائی نہیں بلکہ یہ نظریات، بیانیوں اور قومی بقا کی جدوجہد کا نام ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس اسی حقیقت کی آئینہ دار تھی، جس میں انہوں نے نہ صرف زمینی حقائق کو اعداد و شمار کے ساتھ قوم کے سامنے رکھا بلکہ خطے میں جاری پیچیدہ حالات پر بھی دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کا موجودہ بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی سرزمین آج بھی دہشتگرد اور کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ دوحا معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ انہوں نے خوارج کو اسلام سے یکسر لاتعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر “فتنہ الہندوستان” ہیں، جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ بلوچستان اور بلوچیت سے۔ ان کا مقصد محض انتشار، خونریزی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا ہے۔ریاست پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے نہایت واضح ہے کہ دہشتگردی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دنیا نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا ہے، اور یہ اعتراف عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کی گواہی دیتا ہے۔پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اس جنگ کی شدت اور وسعت کو آشکار کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658،بلوچستان میں 58 ہزار 778،ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز شامل ہیں۔اسی عرصے میں 27 خودکش دھماکے اور 5 ہزار 397 دہشتگردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں 1235 سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ 2597 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ اعداد قربانی، صبر اور استقامت کی طویل داستان ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یاد دلایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے موجود تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس پر مکمل اور یکساں عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ انہوں نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی شرح زیادہ کیوں ہے، جس کا جواب محض سیکیورٹی نہیں بلکہ پالیسی، حکمرانی اور سرحدی حقائق میں پنہاں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان اس وقت خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اتحادی افواج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں تھا، جبکہ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ آج دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت دہشتگردوں کو مالی معاونت اور سرپرستی فراہم کرتا رہا ہے، اور “معرکۂ حق” میں بھارت کو مؤثر جواب دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق معرکۂ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعد دہشتگردی میں وقتی اضافہ ضرور ہوا، مگر ریاست دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بزورِ طاقت منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔

    پریس کانفرنس کا سب سے دوٹوک پیغام یہ تھا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چند ہی گھنٹوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ردِعمل نہ صرف مؤثر بلکہ بروقت بھی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ پریس کانفرنس قوم کیلئے ایک واضح پیغام تھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے، ریاست متحد ہے، اور دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اسے کسی صورت امن سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ جنگ قربانی مانگتی ہے، مگر اس کا انجام ایک پرامن، مستحکم اور خودمختار پاکستان ہے۔

  • وینزویلا،عالمی طاقت، خودمختاری اور اصولی سفارت کاری کی کشمکش،تحریر:جان محمد رمضان

    وینزویلا،عالمی طاقت، خودمختاری اور اصولی سفارت کاری کی کشمکش،تحریر:جان محمد رمضان

    دنیا کی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے اپنی خودمختاری، وسائل یا آزاد فیصلوں پر اصرار کیا، عالمی طاقتوں کی نظریں اس پر جم گئیں۔ وینزویلا میں حالیہ پیش آنے والے واقعات اسی سلسلے کی ایک اور کڑی محسوس ہوتے ہیں، جہاں ایک کمزور مگر خوددار ریاست کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کی بازگشت سنائی دی۔ یہ واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا عالمی نظام واقعی انصاف، قانون اور برابری پر قائم ہے، یا پھر طاقت ہی سب سے بڑا اصول بن چکی ہے؟یہ منظرنامہ ہمارے لیے اجنبی نہیں۔ ماضی میں پاکستان کو بھی مختلف ادوار میں اندرونی و بیرونی سازشوں، دباؤ اور جارحانہ منصوبوں کا سامنا رہا۔ انڈیا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والی خفیہ اور اعلانیہ کوششیں تاریخ کا حصہ ہیں، مگر قدرت کا شکر ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی بہادر، مضبوط اور پیشہ ور مسلح افواج نصیب ہوئیں جنہوں نے ہر آزمائش میں وطنِ عزیز کا دفاع کیا۔ پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی یہ تینوں ادارے مل کر ہماری قومی سلامتی کی مضبوط فصیل ہیں۔اس دفاعی استحکام کے پیچھے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی عظیم ٹیم کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ ایٹمی صلاحیت نے پاکستان کو نہ صرف دفاعی تحفظ فراہم کیا بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور آزاد ریاست کے طور پر زندہ رہنے کا حق بھی دیا۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو شاید آج ہمارے حالات یکسر مختلف ہوتے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نعمت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کو حقیقی معنوں میں ایک مکمل خودمختار اور خوددار ریاست بنائیں۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا حالیہ اجلاس عالمی سیاست میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں وینزویلا میں مبینہ امریکی فوجی کارروائی پر تفصیلی اور سنجیدہ بحث ہوئی۔ اس اجلاس نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ عالمی طاقتوں کے درمیان نہ صرف مفادات کا ٹکراؤ ہے بلکہ عالمی قوانین کی تشریح پر بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔اجلاس کے دوران روس اور چین نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو کھلے الفاظ میں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔روسی نمائندے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کے اندر فوجی مداخلت عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور یہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔چین نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی دیرپا امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔اس اجلاس میں سب سے دلچسپ پہلو کولمبیا کا مؤقف رہا، جو خطے سے تعلق رکھنے کے باوجود امریکی کارروائی پر تنقید کرتا نظر آیا۔ کولمبیا کے نمائندے نے واضح کیا کہ لاطینی امریکہ پہلے ہی سیاسی بے یقینی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، اور کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ اب خطے کے ممالک بھی طاقت کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔پاکستان نے اس اجلاس میں اپنی روایتی، سنجیدہ اور اصولی خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا۔ براہِ راست کسی ملک کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے پاکستانی مندوب نے بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا۔پاکستان کا مؤقف واضح تھا تنازعات کا حل بندوق، میزائل یا دباؤ سے نہیں بلکہ مکالمے، تحمل اور پرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔یہی وہ متوازن سفارت کاری ہے جو پاکستان کو عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔

    سلامتی کونسل کا یہ اجلاس اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ آج کی دنیا ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقت کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کا رجحان ہے، تو دوسری طرف قانون، اصول اور خودمختاری کی بات کرنے والی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔روس اور چین جیسے ممالک کھل کر امریکی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک محتاط مگر اصولی سفارت کاری کے ذریعے عالمی قوانین کی یاد دہانی کرا رہے ہیں۔ اگر دنیا نے واقعی امن اور استحکام کی راہ پر چلنا ہے تو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ طاقت وقتی طور پر غالب آ سکتی ہے، مگر تاریخ ہمیشہ حق، اصول اور انصاف کا ساتھ دیتی ہے۔

  • "لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر:  قمرشہزاد مغل

    "لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر: قمرشہزاد مغل

    شعر!
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

    دنیا بدل گئی، ہتھیار بدل گئے، مگر طاقتور کی انا اور بدمعاشی کا انداز نہیں بدلا۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں گولی سے زیادہ خطرناک بیانیہ بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت کا نشہ حد سے بڑھ جائے تو وہ لفظوں کے مفاہیم بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ آج کے جدید دور میں، جہاں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے راگ الاپے جاتے ہیں، وہاں میڈیا کی ایک باریک واردات کے ذریعے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ جسے دنیا بھر کا میڈیا گرفتاری پکار رہا ہے، وہ درحقیقت ایک آزاد ریاست کے سربراہ کا مبینہ اغوا ہے۔ چشم کشا حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی عدالت نے، خواہ وہ ہیگ کی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) ہو یا عالمی فوجداری عدالت (ICC)، مادورو کے خلاف نہ تو کوئی فیصلہ سنایا اور نہ ہی ان کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ کارروائی کسی عالمی قانون کے تحت نہیں بلکہ ایک عالمی بدمعاش کی اپنی عدالتوں میں طے شدہ ایجنڈے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ کیا اب طاقتور ممالک کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ جس ملک کا چاہیں دروازہ توڑیں اور وہاں کے منتخب سربراہ کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائیں؟ اگر یہی قانون ہے، تو پھر عالمی اداروں اور عدالتوں کی حیثیت ایک رسمی تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ لفظوں کا یہ ہیر پھیر دراصل انسانی ضمیروں کو تھپکیاں دے کر سُلانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ جب خبر رساں ادارے اغوا کو گرفتاری کا نام دیتے ہیں، تو وہ غیر محسوس طریقے سے اس غیر قانونی فعل کو قانونی جواز فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے جب تک ہم اس ننگی جارحیت کو اس کے اصل نام اغوا سے نہیں پکاریں گے، ہم اپنی ذہنی غلامی کے طوق کو قانون کی حکمرانی کا زیور سمجھتے رہیں گے۔ آج وینزویلا کے صدر کی باری ہے، کل کسی اور ریاست کی خودمختاری کا جنازہ نکلے گا۔ کیا ہم محض تماشائی بنے رہیں گے؟ یا ہم میڈیا کے اس خود ساختہ بیانیے کو رَد کر کے ظالم کو اس کے اصل نام سے پکارنے کی ہمت کریں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اس منافقت کو بے نقاب کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یہ قانون کی بالادستی نہیں، بلکہ جنگل کا وہ قانون ہے جہاں صرف طاقتور کی مرضی ہی انصاف کہلاتی ہے۔ اگر آج انسانیت خاموش رہی، تو تاریخ اس گرفتاری کو نہیں بلکہ اس خاموشی کو سب سے بڑا جرم قرار دے گی۔ اپنے شعور کو بیدار کیجیے، خبر نہیں، خبر کے پیچھے چھپی سازش کو پڑھیے، اگر ہم نے آج اس باریک واردات کو بے نقاب نہ کیا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے دور کے باسی لکھے گی جنہوں نے زنجیروں کو زیور اور قاتلوں کو مسیحا تسلیم کر لیا تھا۔

    بقول شاعر!
    ظلم کو ظلم، اغوا کو اغوا نہ کہنا بھی جرم ہے
    خاموشی اگر طوق بنے، تو پھر زندگی وبال ہے