Baaghi TV

Category: سیاست

  • یوم تاسیس مرکزی مسلم لیگ اورقرارداد بقائے پاکستان

    یوم تاسیس مرکزی مسلم لیگ اورقرارداد بقائے پاکستان

    تاریخ کے کچھ دن محض تقویم کا حصہ نہیں ہوتے، وہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، فکری اساس اور نظریاتی شناخت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ 30 دسمبر بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جب برصغیر کے مسلمانوں نے ڈھاکہ کی سرزمین پر آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھ کر غلامی کی تاریکیوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔ یہی شمع وقت کے طویل سفر کے بعد پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی، اور آج اسی تسلسل کی فکری و نظریاتی وارث کے طور پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ قوم کے سامنے موجود ہے۔مرکزی مسلم لیگ نے 30 دسمبر کو اپنے یومِ تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں جس فکری ولولے، نظریاتی شعور اور تنظیمی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، وہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ نظریۂ پاکستان محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کرنے والی زندہ حقیقت ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ اس یقینِ محکم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ جس طرح آل انڈیا مسلم لیگ نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں منتشر مسلمانوں کو ایک قیادت، ایک نصب العین اور ایک پرچم تلے جمع کیا، اسی طرح آج مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں قوم کو کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر متحد کرنے، انتشار و افتراق کی سیاست کے خاتمے اور احیائے نظریۂ پاکستان کی عملی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر یومِ تاسیس کے موقع پر ملک کے طول و عرض میں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر پروقار تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں یوتھ لیگ، ویمن لیگ، مرکزی کسان لیگ، ملی لیبر، شعبہ اساتذہ اور دیگر ذیلی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اجتماعات فکری بیداری اور نظریاتی تجدید کے مراکز تھے۔یومِ تاسیس کی تقریبات سے مرکزی قیادت نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاست کو ذاتی مفادات، خاندانی اجارہ داری اور اشرافی تسلط سے پاک کر کے خدمت، اصول اور نظریے کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا۔
    سیف اللہ قصوری، حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف، قاری یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک، شفیق الرحمان وڑائچ، انجینئر حارث ڈار، تابش قیوم، محمد سرور چوہدری، حمیدالحسن، فیصل ندیم، یاور آفتاب اور دیگر رہنماؤں کے خطابات نے سامعین کے دلوں میں ایک نئی امید، نیا حوصلہ اور نئی فکری توانائی پیدا کی۔ ان مواقع پر انٹرا پارٹی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نمائندوں سے حلف بھی لیا گیا، جو جمہوری روایات سے وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔

    یومِ تاسیس کی تقریبات کی کوریج کے لیے مرکزی ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کی زیر نگرانی سنٹرل میڈیا سیل نے ایک منظم، ہمہ گیر اور مؤثر مہم چلائی، جس نے الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھرپور اثر چھوڑا،ڈیجیٹل میڈیا ہیڈ طہٰ منیب کی قیادت میں مرکزی صدر خالد مسعود سندھو، حافظ طلحہ سعید، قاری یعقوب شیخ، عفت سعید، عطاء اللہ غلزئی اور دیگر رہنماؤں کے خصوصی پوڈکاسٹس ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے، جنہوں نے نوجوان نسل میں نظریاتی شعور کو تازہ کیا،ولولہ انگیز ترانے، فکری گرافکس، بامعنی پوسٹرز، مرکزی صدر کا خصوصی کالم اور سینئر صحافیوں و معروف اینکر پرسنز کے پیغامات نے یومِ تاسیس کو ایک تحریک بنا دیا۔

    ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ مرکزی پروگرام میں پیش کی گئی قرارداد درحقیقت قوم کے ضمیر کی آواز تھی۔ اس قرارداد میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان مسلمانوں کی شعوری، نظریاتی اور قربانیوں سے مزین جدوجہد کا ثمر ہے،مرکزی مسلم لیگ خود کو آل انڈیا مسلم لیگ کی فکری، سیاسی اور اخلاقی وارث سمجھتی ہے،شخصیات نہیں، اصول ہماری سیاست کا محور ہوں گے،کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کی غیر مشروط حمایت کی جائے گی،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،سود سے پاک معیشت، عوامی ریلیف اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا عملی ایجنڈا اپنایا جائے گا،یہ قرارداد اس عزم کا اظہار تھی کہ پاکستان کو ایک باوقار، مضبوط اور ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر استوار اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔مرکزی مسلم لیگ نے تحریکِ بقائے پاکستان کے آغاز کا اعلان کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جماعت محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ قوم کی فکری تشکیلِ نو، نظریاتی بیداری اور جدید چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ جدوجہد کا عزم رکھتی ہے۔خطے کے بدلتے حالات، بالخصوص بنگلہ دیش کی صورتحال، اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، اور جن بنیادوں پر یہ ملک وجود میں آیا تھا، وہی بنیادیں آج بھی قوم کو جوڑنے کی قوت رکھتی ہیں۔ یومِ تاسیس مرکزی مسلم لیگ مستقبل کا وعدہ ہے، یہ وعدہ کہ پاکستان کو نظریاتی کمزوری، معاشی غلامی اور فکری انتشار سے نکال کر ایک خوددار، خودمختار اور بااصول ریاست بنایا جائے گا۔یہی وہ خواب ہے جو 30 دسمبر 1906ء کو دیکھا گیا تھا، اور یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے مرکزی مسلم لیگ آج بھی میدانِ عمل میں موجود ہے۔

  • ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام نے انسان کو توہمات، جادو، نجوم اور غیب فروشی سے سختی سے روکا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی واضح اور دو ٹوک ہدایت ہے کہ نجومیوں، کاہنوں اور غیب بتانے والوں کے پاس نہ جایا کرو۔ احادیثِ مبارکہ میں یہاں تک آیا ہے کہ جو شخص کسی نجومی کے پاس جا کر اس کی بات کی تصدیق کرے، اس نے گویا اللہ کی نازل کردہ ہدایت سے انحراف کیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان، جو ایک اسلامی نظریے پر قائم ہونے والی ریاست ہے، یہاں آج یہ مناظر عام ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں باقاعدہ نجومی بٹھائے جاتے ہیں، اینکر حضرات سنجیدہ چہروں کے ساتھ آنے والے سال، سیاسی مستقبل، حکومتوں کی عمر اور حتیٰ کہ قومی سلامتی تک کے سوالات ان سے پوچھتے ہیں۔ یہ سب کچھ براہِ راست اس عقیدے کی نفی ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآنِ کریم واضح اعلان کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں غیب کا علم کسی کے پاس نہیں سوائے اللہ کے۔ اس کے باوجود ہم خود کو مسلمان کہلوانے کے باوجود ان لوگوں کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں جو ستاروں، تاریخِ پیدائش یا فرضی حساب کتاب کے ذریعے مستقبل کا سودا بیچتے ہیں۔ یہ صرف دینی گمراہی نہیں بلکہ فکری دیوالیہ پن بھی ہے۔ زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس روش کو عام آدمی نہیں بلکہ بڑے سیاستدان، نام نہاد دانشور اور میڈیا کے بااثر چہرے فروغ دے رہے ہیں۔ جب قوم کی رہنمائی کرنے والے خود اس قسم کی لغزشوں میں مبتلا ہوں تو عام آدمی سے کیا شکوہ کیا جائے؟

    یوں لگتا ہے کہ ہم نے تدبر، محنت، منصوبہ بندی اور اللہ پر توکل کی جگہ قسمت کے فال ناموں اور نجومیوں کے تجزیوں کو اپنا لیا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مستقبل کی فکر اللہ پر چھوڑ کر حال کو بہتر بنایا جائے، اعمال درست کیے جائیں، انصاف، دیانت اور محنت کو شعار بنایا جائے۔ مگر ہم ایک ایسی سمت جا رہے ہیں جہاں ناکامی کا الزام کبھی ستاروں پر ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی کسی نجومی کے “کہے” پر قوم کی امیدیں باندھ دی جاتی ہیں۔ یہ روش نہ صرف گناہ ہے بلکہ قوموں کی تباہی کی علامت بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے، علما حق بات کہنے میں مصلحت کا شکار نہ ہوں، اور عوام خود بھی یہ طے کریں کہ وہ غیب کے سوداگر بنیں گے یا اللہ پر کامل یقین رکھنے والی قوم۔ سوال یہ نہیں کہ نجومی کیا کہتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو کب سنجیدگی سے لیں گے؟

  • آل انڈیا مسلم لیگ   سے  مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    آل انڈیا مسلم لیگ سے مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    30 دسمبر کا دن برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا سنگ میل ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں قائم ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کو وہ سیاسی شعور عطا کیا جس نے بالآخر قیامِ پاکستان کی صورت ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھی۔ مسلم لیگ کی جدوجہد کا مقصدصرف اقتدار کا حصول نہیں تھا بلکہ اپنی شناخت، وقار کو زندہ رکھنا تھا جو اسلامی تہذیب ، دینی ثقافت اور اسلاف کے تمدن سے مستعار تھا۔

    مسلم لیگ کی قیادت نے اس دور میں جس بصیرت، قربانی اور اصول پسندی کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی ہماری سیاسی تاریخ کا روشن باب ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ نے دلیل، قانون اور اخلاقی قوت کے ذریعے ایک ناممکن کو ممکن بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کا نام آج بھی نظریۂ پاکستان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    افسوس کے ساتھ ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد رفتہ رفتہ سیاست نظریے سے ہٹ کر مفادات، گروہ بندیوں اور وقتی مصلحتوں کی نذر ہوتی چلی گئی۔ مسلم لیگ کا وہ فکرجو قوم کو ایک نصب العین پر جمع کرتا تھا، پس منظر میں چلا گیا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ نظریات دب تو سکتے ہیں، ختم نہیں ہوتےوہ نئے ناموں اور نئی صفوں کے ساتھ دوبارہ ابھرتے ہیں۔

    اسی تناظر میں مرکزی مسلم لیگ کو دیکھا جائے تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہ جماعت مسلم لیگ کے اسی اصل نظریاتی ورثے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ اسلامی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے۔وہی تصور جو مسلم لیگ کی بنیاد میں شامل تھا۔آج اگر ہم مرکزی مسلم لیگ کو دیکھیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ جماعت مسلم لیگ کی اصل روح یعنی مسلمانوں کی اجتماعی خدمت، اتحاد، خودداری اور قومی بقاکو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو محض اقتدار کی دوڑ نہیں بلکہ خدمتِ خلق، عوامی فلاح اور قومی یکجہتی کا ذریعہ سمجھتی ہے، جو کہ مسلم لیگ کے ابتدائی نظریے سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ نے قدرتی آفات، سیلابوں، زلزلوں اور سماجی بحرانوں میں جس منظم، بے لوث اور فوری کردار کا مظاہرہ کیا، وہ ہمیں مسلم لیگ کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب قیادت عوام کے درمیان رہ کر ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی تھی۔ یہ عملی خدمت دراصل اسی فکری تسلسل کا اظہار ہے جس کی بنیاد مسلم لیگ نے رکھی تھی۔

    سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ قوم کی رہنمائی، اصلاح اور خدمت ہے۔ اگر مسلم لیگ نے ہمیں آزادی کا راستہ دکھایا، تو مرکزی مسلم لیگ اسی آزادی کو بامقصد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ایک ایسی ریاست کی تشکیل جہاں سیاست اخلاقیات سے جڑی ہو اور قیادت عوام کی خادم ہو۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ناموں سے آگے بڑھ کر نظریات کو دیکھیں۔ مسلم لیگ ایک نظریہ تھی، اور مرکزی مسلم لیگ اسی نظریے کی عملی تصویرہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے غلامی کے دور میں قوم کو آزادی دلائی، اور دوسری آزادی کے بعد قوم کو خوددار، باخبر اور متحد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
    ہمیں نیا یا پرانا پاکستان نہیں بلکہ قائد کا پاکستان چاہیے، 78 برسوں میں پاکستان میں جو مسائل سامنے آئے، وہ صرف اور صرف ہمارے ذاتی مقاصد اور ملک کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے چلانے کی وجہ سے آئے ،مسائل کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد کریں ،ہم ان مقاصد کی طرف آ جائیں جس مقصد کے لیے یہ پاکستان بنایا گیا تھا تاکہ ہمارا ملک خوشحال ہو، ہم طبقاتی اور لسانی کشمکش سے باہر نکل کر نظریے کی بنا پر ایک قوم بن کر اس ملک کو سنوار سکتے ہیں ۔ ایک قوم بن کر وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لیے کام کریں، تاکہ یہاں سے غربت ،افراتفری ،دہشت گردی ختم ہو،پاکستان امن کا گہوارہ بنے،معاشی طور پر مضبوط ہو اور آگے بڑھتے ہوئےعالم اسلام کی قیادت کرے.
    یومِ تاسیس مسلم لیگ کے موقع پر اگر ہم اس فکری ربط کو سمجھ لیں، تو یہی شعور ہماری سیاست کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے—وہی سمت جس کا خواب علامہ اقبال اورقائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔

  • قومی شناخت  پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    قومی شناخت پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    19 مئی 2013 کو شہباز شریف صاحب کے دیے گئے بیان پر نظر ڈالیں جب مسلم لیگ ن اپوزیشن میں ہوا کرتی تھی۔
    ” V will unveil a plan to steer national institutions ( PIA , Pakistan Railways and Pakistan steel Mills etc ) out of crisis soon ”
    آج پاکستان کے موجودہ وزیراعظم کی حیثیت سے پی آئی اے فروخت کرنے کے بعد کا بیان: "قوم سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا قوم کو مبارکباد ہو” واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ نہ صرف قوم کے ساتھ وعدہ خلافی ہے بلکہ دھوکہ دہی ہے۔ پی آئی اےسمیت ریلوے اور اسٹیل ملزکو بحران سے نکالنے کا دعوی کرنے والے شہباز شریف صاحب نے آج پی آئی اے کے 30 جہاز 64 بین الاقوامی روٹس 8 بلڈنگز 10 ارب کے سپیئر پارٹس 20 ارب کا فنڈ محض 10 ارب روپے میں پیج ڈالے ۔

    135 ارب کا شور کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو صرف 10 ارب موصول ہوئے 125 ارب خریدنے والی کمپنی کے مرضی ہے کہ وہ پی آئی اے کی بحالی پر اسے استعمال کریں یا نہ کریں اور بات یہیں پر ختم نہیں ہے بلکہ پونے 700 ارب روپے کا قرضہ بھی حکومت ادا کرے گی جو کہ عوام کی رگوں سے خون نچوڑ کر ادا کیا جائے گا ،پی آئی اے بیچ کر قوم کو مبارک ہو! مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ قومی شناخت بیچنے پر کون سی مبارکباد بنتی ہے؟
    جس ادارے نے کبھی دنیا میں پاکستان کا نام روشَن کیا، آج اسے یوں بیچ دیا گیا جیسے کوئی بھٹکا ہوا شخص اپنی باپ دادا کی نشانی کو چند ٹکوں کے لیے گروی رکھ دے۔

    یہ وہی پاکستان ہے جسے بنانے میں لاکھوں لوگوں نے جانیں دی تھیں… مگر چلانے والوں نے اسے بازار کی دکان بنا دیا۔ کبھی اسٹیل مل بکتی ہے، کبھی ایئرپورٹ، اب قومی ایئرلائن بھی۔ کل کو شاید ہم بھی بیچ دیے جائیں ۔کیونکہ جو قوم اپنی پہچان بیچنے پر خاموش رہتی ہے، اس کے شہریوں کی کوئی قیمت نہیں بچتی۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ سودا صرف پی آئی اے کا نہیں، قوم کے اعتماد، ٹیکس، خون پسینے اور مستقبل کا سودا ہے۔ جب عوام بھوکی ہو، مہنگائی گلے تک پہنچ جائے، ٹیکس جیب کا آخری سکہ بھی نگل جائے اور حکمران جشن منائیں تو یہ خوشخبری نہیں، قوم سے دشمنی ہے۔

    آپ بتائیں: پی آئی اے کی فروخت قوم کی جیت ہے یا حکمرانوں کی بے ایمانی؟
    اپنی شناخت اپنی پہچان کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ خاموشی بھی ایک جرم ہے۔

  • عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی حکمرانی اور عوامی توقعات پنجاب اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکمرانی کے دعوے اب محض تقاریر سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی کے متقاضی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے جس طرزِ حکمرانی کا آغاز کیا ہے، اس کے خدوخال واضح ہیں اور ترجیحات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کتنا کیا جا رہا ہے اور کتنا مستقل ہوگا۔ امن و امان کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت شہری تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے، تاہم اس نظام کی شفافیت اور پرائیویسی کے تقاضوں کو نظرانداز کرنا مستقبل میں نئے سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ نگرانی کے ساتھ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط کرے۔ صحت کے شعبے میں مفت ادویات، جدید تشخیصی سہولیات اور بنیادی صحت مراکز کی بحالی خوش آئند اقدامات ہیں، مگر سرکاری اسپتالوں میں انتظامی کمزوریاں اور عملے کی قلت تاحال ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگر اصلاحات کا دائرہ محض انفراسٹرکچر تک محدود رہا اور انسانی وسائل کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی توقعات کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکولوں کی بہتری اور ڈیجیٹل سہولیات مستقبل کی طرف ایک درست قدم ہیں۔ تاہم معیارِ تعلیم صرف عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے بہتر نہیں ہوتا، اس کے لیے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور یکساں تعلیمی پالیسی ناگزیر ہے۔ بچیوں کی تعلیم پر زور قابلِ تحسین ہے، مگر اس کے نتائج تب ہی سامنے آئیں گے جب یہ پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہے۔

    نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار سے متعلق پروگرام ایک ضرورت تھے، جنہیں تاخیر سے ہی سہی، تسلیم کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبے وقتی اشتہارات تک محدود رہیں گے یا واقعی نوجوانوں کو باعزت روزگار کی طرف لے جائیں گے؟ اس کا فیصلہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق ہی کریں گے۔ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں اور سماجی تحفظ کے منصوبوں نے عوامی سطح پر امید ضرور پیدا کی ہے، مگر پاکستان جیسے معاشرے میں اصل امتحان طاقتور طبقات کے خلاف بلاامتیاز عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر قانون کمزور اور طاقتور کے لیے مختلف رہا تو اصلاحات محض فائلوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گی۔ مریم نواز حکومت نے درست سمت کا تعین کیا ہے، مگر یہ سمت نتائج سے مشروط ہے۔ عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں۔ پنجاب کو ایک جدید، محفوظ اور فلاحی صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گورننس کو شخصیت نہیں بلکہ ادارے کے گرد منظم کیا جائے۔ اگر حکومت اس اصول پر کاربند رہی تو 2025 محض ایک عددی سال نہیں بلکہ پنجاب کی حکمرانی میں ایک حقیقی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے

  • ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نیا سال مناتے ہوئے آگے کی سمت دیکھ رہی ہے اور ہم اب بھی ماضی کے ملبے میں کھڑے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے نئے سال کو ہمیشہ ایک نئے ہدف، نئی رفتار اور واضح ترجیحات کے ساتھ خوش آمدید کہا، جبکہ پاکستان ہر سال یہی سوال دہراتا ہے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں جواب معلوم ہے، مگر ماننے کی ہمت نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد قانون کی بالادستی پر کھڑی ہے، انصاف سالوں نہیں، مہینوں میں ملتا ہے، ہمارے یہاں صدیوں انصاف کی تلاش میں لوگ مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔ علم وہ ہتھیار ہے جس سے قومیں دنیا فتح کرتی ہیں، مگر ہم نے تعلیم کو محض تقریروں اور اشتہارات تک محدود کر دیا ہے۔ جن قوموں نے لیبارٹریوں کو عبادت گاہ اور جامعات کو معیشت کا انجن بنایا، وہ آج دنیا کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ ہم اب بھی اس بحث میں الجھے ہیں کہ نصاب کس کا ہو، جبکہ دنیا نصاب سے آگے نکل چکی ہے۔ معاشی میدان میں ہماری سوچ اب بھی ادھار، امداد اور وقتی سہارا کے گرد گھومتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک مصنوعات بیچتے ہیں، ٹیکنالوجی بیچتے ہیں، علم بیچتے ہیں اور ہم فخر سے قرض کے نئے پیکج کا اعلان کرتے ہیں۔ جب تک ہم پیدا نہیں کریں گے، بیچ نہیں سکیں گے، اور خود کو خود نہیں سنبھالیں گے، ترقی ایک نعرہ ہی رہے گی۔

    سب سے خطرناک زہر انتشار کی سیاست ہے۔ سیاست اگر قومی سمت طے کرنے کے بجائے ریاست سے ٹکراؤ بن جائے تو اس کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ ترقی وہاں ہوتی ہے جہاں حکومتیں بدلتی ہیں مگر پالیسیاں نہیں، جہاں اختلاف میز پر ہوتا ہے، سڑکوں پر نہیں۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا اور دشمنی کو سیاست۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور عمل یہ وہ اقدار ہیں جن پر قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔ ہم تقریریں بروقت کر لیتے ہیں، مگر فیصلے بروقت نہیں کرتے۔ منصوبے شاندار ہوتے ہیں، مگر عمل غائب ہوتا ہے۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں اور وقت ہاتھ سے نکلتا رہتا ہے۔ اب فیصلہ واضح ہے۔ یا تو پاکستان نئے سال میں خود کو بدلے گا، یا دنیا اسے مزید پیچھے چھوڑ دے گی۔ ترقی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف ایک ہے خود فریبی چھوڑ دی جائے قانون، علم، عمل، نظم، برداشت اور قومی مقصد،یہ سب ایک ساتھ چلیں گے تو بات بنے گی، ورنہ ہر نیا سال پچھلے سال سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ وقت سوال پوچھنے کا نہیں، جواب ماننے کا ہے۔ اور سب سے پہلا جواب ہمیں خود دینا ہوگا۔

  • نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    وہ جو مردوں کے بھی بس کا کام نہ تھا
    وہ معجزہ ایک بیٹی نے کر دکھایا ہے

    پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو کام دہائیوں کی حکمرانی میں نہ ہو سکے وہ ایک بیٹی نے بطور پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محض قلیل وقت میں کر دکھائے۔ مریم نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ حکمرانی کے لیے صرف اختیار نہیں، بلکہ عوامی دکھوں کو محسوس کرنے والا حساس دل اور فولادی عزم درکار ہوتا ہے۔ پاکستان کی معاشرتی تاریخ میں کچھ فیصلے محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک پورے عہد کی اصلاح کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی حکمران عوام کے دلوں میں گھر کرتے ہیں جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہوں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش قانون کا غیر متزلزل نفاذ محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں، بلکہ ایک عہد ساز اصلاح ہے جس نے پنجاب میں نمود و نمائش کے فرسودہ بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ قدم گڈ گورننس کی ایک ایسی روشن مثال ہے جس نے عام آدمی کو اسراف اور نمود و نمائش کی اَن دیکھی زنجیروں سے آزاد کیا ہے جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں شادیوں کی متعدد تقاریب کے مشاہدات ہوئے جہاں پہلے دسترخوانوں پر اسراف کی دوڑ اور دکھاوے کا مقابلہ نظر آتا تھا، وہاں اب ایک خوشگوار نظم و ضبط اور سادگی کا راج ہے۔ میزبانوں کے چہروں پر وہ مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ مفقود تھا جو عام طور پر لوگ کیا کہیں گے کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ مریم نواز کی حکومت نے اس قانون پر سختی سے عمل کرا کے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں ریاست کی نیت صاف ہو، وہاں معاشرتی تبدیلی محض خواب نہیں رہتی بلکہ حقیقت بن کر ابھرتی ہے۔

    یہ پنجاب حکومت کا تاریخی احسن اقدام ہے کہ اس نے عام آدمی کو اس معاشرتی کینسر سے نجات دلائی جس میں خوشی کے لمحات قرض اور پچھتاووں میں بدل جاتے تھے۔ قانون کی اس کامیابی نے عوام میں یہ اعتماد بحال کیا ہے کہ مریم نواز کی قیادت میں ریاست اب کمزور اور متوسط طبقے کی ڈھال بن کر کھڑی ہے۔ مگر اس تابناک تصویر کا ایک پہلو تشویشناک بھی ہے۔ پنجاب میں قانون کی گرفت مضبوط ہوئی تو صاحبِ ثروت طبقے نے اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے پوش فارم ہاؤسز کو پناہ گاہ بنا لیا۔ پنجاب کی حدود سے نکلتے ہی سادگی کا وہ سفر تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، جو کہ وفاقی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت مریم نواز کے اس پنجاب ماڈل کو اپنائے اور اسلام آباد میں بھی اسی آہنی عزم کے ساتھ ون ڈش نافذ کرے۔ وقت کی پکار ہے کہ جوابدہی کے اس دائرے کو مزید وسیع اور کڑا کیا جائے۔ قانون کی خلاف ورزی پر صرف ہال مالکان ہی نہیں، بلکہ اس علاقے کی انتظامیہ اور فیلڈ اسٹاف کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ جب تک سہولت کاری کرنے والے سرکاری کارندوں کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جائے گا، تب تک قانون سے فرار کے راستے مکمل بند نہیں ہوں گے۔ ماضی کے حکمرانوں کے پاس وسائل بھی تھے اور وقت بھی، مگر جس ویژن اور سرعت کے ساتھ مریم نواز نے پنجاب کی انتظامی مشینری کو متحرک کیا، اس کی نظیر پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ون ڈش قانون کا بلا امتیاز نفاذ ہو یا عام آدمی کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی، انہوں نے ہر شعبے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایک خاتون کا وزیر اعلیٰ بننا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ وہ مریم نواز ہی ہیں جنہوں نے روایت شکنی کرتے ہوئے دکھاوے کی سیاست کو دفن کیا اور گڈ گورننس کو ایک ایسا معیار بخشا جس تک پہنچنا اب آنے والے ہر حکمران کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

    بلاشبہ، وہ کام جو مردوں کے بڑے بڑے برج نہ کر سکے، وہ اس باہمت خاتون نے قلیل وقت میں کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ مریم نواز کا یہ سماجی وژن دراصل نئی نسل کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے اور شادی جیسے پاکیزہ بندھن کو آسان بنانے کی ایک مخلصانہ جدوجہد ہے۔ پنجاب نے ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے، اب گیند وفاق کے اسکورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح اس گڈ گورننس کو پورے ملک کا مقدر بناتا ہے۔ بلاشبہ، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس پر پنجاب حکومت اور مریم نواز کی ٹیم ہر سطح پر تحسین کی مستحق ہے۔

    شعر
    مٹ جائے گی اک روز یہ دیوارِ تکبر
    سادگی ہی بنے گی پھر شعارِ زندگی

  • سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    تاریخ کچھ ناموں کو صرف صفحات پر نہیں لکھتی،وہ انہیں قوم کے شعور میں نقش کر دیتی ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر انہی ناموں میں سے ایک ہیں،وہ نام جو خاموشی میں گونجتا ہے،اور وقار میں بولتا ہے،وہ سپہ سالار جن کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں،بلکہ ذمہ داری کا نور جھلکتا ہے۔جن کی نگاہ میں وقتی شہرت نہیں،بلکہ صدیوں پر محیط ریاستی بقا کا خواب ہے۔ جنرل سید عاصم منیر ،ایک ایسا نام جو خاموشی، ضبط اور ریاستی ذمہ داری کے بھاری مفہوم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں وردی صرف طاقت کی علامت نہیں رہی، بلکہ قانون، آئین اور قومی وقار کی پاسدار بن کر ابھری ہے،معرکۂ حق ان کے عہد میں ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے،حق کے بیانیے کا دفاع، ریاست کی رِٹ کی بحالی، اور اس اصول کا اعادہ کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہ معرکہ بندوق کی گھن گرج سے زیادہ عزم کی خاموش گونج میں سنائی دیتا ہے۔

    بھارت کے ساتھ معاملات میں، جذباتیت کے بجائے وقار اور مضبوط مؤقف ان کی شناخت رہا۔ اشتعال کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ دلیل، تیاری اور دفاعی صلاحیت کے واضح پیغام نے یہ باور کرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر کمزور نہیں۔ یہی وہ “منہ توڑ جواب” ہے جو زبان سے نہیں، ریاستی سنجیدگی سے دیا جاتا ہے۔بھارت نےپہلگام ڈرامے کے بعد آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا تو پاکستان نے معرکہ حق میں وہ جواب دیا کہ بھارت ابھی تک عالمی دنیا میں رسوا ہو رہا ہے،اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی کامیابیوں کی گونج ،فتح کے نغمے امریکی صدر ٹرمپ بھی ایک دو نہیں کئی بار گا چکے ہیں،جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ سبق دیا کہاصل جواب نعرے نہیں ہوتے،اصل جواب تیاری، تدبر اور ناقابلِ تسخیر دفاع ہوتا ہے۔دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرامن کی بات کرناصرف طاقتور ہی جانتا ہے،اور یہ ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حکمتِ عملی فولاد کی مانند مضبوط اور نیت آئین کی طرح شفاف رہی،یہی وجہ ہے کہ خاک و خون میں لتھڑی سرزمین دوبارہ امن کی خوشبو سے مہکنے لگی۔یہ کامیابیاں خاموش ہیں،مگر ان کی گونج ہر محفوظ گھر میں سنائی دیتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل،چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کا کردار تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی کا مظہر ہے۔ انٹیلی جنس کی بہتری، سرحدی نظم و نسق، اور ریاستی اداروں کے باہمی ربط نے اس ناسور کے خلاف نمایاں کامیابیاں ممکن بنائیں۔عالمی سطح پر، پاکستان کی آواز ان کے عہد میں متوازن اور باوقار انداز میں سنی گئی۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور عسکری و سفارتی حلقوں سے ملاقاتوں میں پاکستان کے مؤقف کو نہ صرف سنا گیا بلکہ سمجھا بھی گیا چاہے وہ علاقائی سلامتی ہو، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون ہو یا عالمی استحکام کی گفتگو،امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ،تمام کامیابیوں کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے

    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کا خلاصہ ایک جملے میں کیا جا سکتا ہے،طاقت میں تحمل، مؤقف میں وضاحت، اور عمل میں آئینی شعور،یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی سپہ سالار کو تاریخ میں جگہ دلاتے ہیں اور قوم کو اعتماد عطا کرتے ہیں۔جنرل سید عاصم منیر صرف ایک فوجی سربراہ نہیں وہ ایک نظریہ ہیں،ریاست ماں ہوتی ہے،
    اور ماں کی حفاظت عبادت،ان کی قیادت میں وردی خوف کی علامت نہیں،تحفظ کی علامت بنی،طاقت دھمکی نہیں،تحمل بن گئی اور یہی وجہ ہے کہ جب تاریخ پاکستان کے مشکل ادوار کو لکھے گی تو ایک باب خاموش وقار،
    ناقابلِ شکست عزم اور جنرل سید عاصم منیر کے نام ہوگا۔جنرل سید عاصم منیر وہ سپہ سالارجو نہ نعرہ بیچتا ہے،نہ شہرت مانگتا ہے،بس ریاست کا بوجھاپنے کندھوں پر اٹھا کرخاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اور قوم ان کے پیچھے
    سر اٹھا کر کھڑی ہے۔کیونکہ جب وردی میں ایسا عزم ہو،تو پرچم خود بخود بلند ہو جاتا ہے۔

  • مریم نواز کا مُکا اور عمران خان کا زہر،تحریر : علی ابن ِسلامت

    مریم نواز کا مُکا اور عمران خان کا زہر،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ظاہر ہے کہ زبان کی کوئی ہڈی نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔یہ کہاوت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری زبان ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اسے غلط استعمال کرکے ہم کسی کو بہت تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔سیاست میں اس وقت تکلیف نہیں بلکہ مخالفین سیاسی قتل کی سازشوں میں مصروف ہیں، آج 26 دسمبر 2025 ہے جب سہیل آفریدی کی لاہور آمد اور دن ہے ، ایک جانب تحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ کی تیاری تو دوسری جانب مذاکرات کی خواہش اپنی قیادت کو بھی پریشان کیے ہوئے ہیں۔۔ اطلاعات کے مطابق رات کو لاہور سے پولیس نے پی ٹی آئی کے 600 سے زائد سرگرم کارکنان کو حراست میں لیا ،پولیس نے سٹی کینٹ صدر اور ماڈل ٹاون ڈویژن سے متعدد افراد کو حراست میں لیا، وجہ یہ کہ تحریک انصاف کی ریلی تھی، ۔ آخر سہیل آفریدی کے پنجاب یا لاہور آنے پر پابندی کیوں ، رکاوٹیں کیوں ہیں؟ مستقبل میں یہ معاملہ بہت آگے تک جائے گا۔

    مریم نواز نے 2019 میں ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک یہ اعتراف کر رہے تھے کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا مگر دباؤ میں فیصلہ سنایا گیا، اس ویڈیو کو جاری کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ نواز شریف کا کیس سیاسی بنیادوں پر تھا، حالانکہ اس کی صداقت پر بہت سوال اٹھائے گئے تھے اور جج نے بعد میں اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا، تب مریم نواز نے سب سے بڑی اور اہم پریس کانفرنس کر کے مکا لہرا کر دعوہ کیا تھا کہ اور بھی بہت ساری وڈیوز موجود ہیں اگر کسی نے ہوشیاری کی کوشش کی تو بہت ساری چیزیں سامنے لاؤں گی، اسی طرح مریم نواز پر نیب دفتر پر حملے کا الزام بھی تھا۔نواز شریف پر گوجرانوالہ جلسہ میں آرمی کے خلاف تنقید کا تذکرہ بھی قابل ذکر ہے۔

    یہ سب چیزیں شاید ملکی سیاست یا کسی بھی پارٹی کے سیاسی سٹرکچر کیلئے فائدہ مند نہیں تھیں، پھر ایک معاملہ عسکری اداروں پر سیاسی الزامات کا بھی تھا، ملک میں تین سیاسی جماعتیں سب سے زیادہ وقت مختلف ادوار میں مختلف صوبوں میں رہی، سب ہی ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آئے اور انہی کو بدنام کیا، کبھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو کبھی انصاف کی دعویدار سیاسی جماعت نے ٹویٹر ٹرینڈز چلائے، معاملہ کہیں کا بھی سیاسی لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ دیا، پہلے آرمی کو اپنی ذاتی مفاد کیلئے سیاست میں شامل کیا، سب سیاسی جماعتوں نے مداخلت کی اجازت دی پھر ملکی مفاد تک جانا پڑا تو سیاسی لوگ ذاتی دشمنی میں اداروں کو روندتے چلے گئے۔

    مریم نواز نے اداروں کو دھمکیاں دیں کہ مجھے انصاف چاہیے، پھر انہی نے حکومت میں آ کر قانون میں بھی تبدیلیاں کیں،شہباز شریف کی پہلی حکومت ، پی ڈی ایم دور میں چھبیسویں آئینی ترمیم تو پھر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم، کیا ہوا کیسے ہوا ؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں، عمران خان جنرل باجوہ کی وہ تعریفیں کی کہ لگنے لگا تھا کہ جنرل باجوہ ہی دنیا میں عقل ودانش کے مالک ہیں، پھر وہ وقت بھی آیا کہ جنرل باجوہ جو عمران خان کی نظر میں سب سے بڑا محب وطن تھا کپتان نے اس کو میر جعفر اور میر صادق کی صفوں میں کھڑا کر دیا، آخر وہ زہر جو سوشل میڈیا کے ذریعے سے جینزی یا سوشل میڈیا تک پہنچا وہ ہر طالب علم اور عمران خان کے شیدائی کے ذہن میں زہر بن کر پھیل چکا ہے۔اگر عمران خان کہے کہ مجھے باجوہ کا آئیڈیا نہیں تھا تو نوجوان نسل جو آج باشعور بنی ہوئی ہیں ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ عمران خان جب اقتدار میں آیا تو 26 سال سیاسی تجربہ کا دعوی کرتا تھا، اہم سوال یہ ہے کہ اگر آج نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ اداروں کی مداخلت ہے تو عمران خان جو سیاست میں رِہ چکا تھا، مشرف کے خلاف تحریک چلا چکا تھا، جیل جا چکا تھا، اس کو علم کیوں نہیں تھا، اگر اسکو 26 سال میں پتہ نہیں چلا تھا تو پھر خود جس میں شعور کی کمی تھی وہ کیا شعور دے سکتا تھا، عمران خان کا ساتھ دینے والے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی اصلیت کا ہمیں علم نہیں تھا تو پھر وہ کتنے باخبر ہو سکتے ہیں؟

    آج پی ٹی آئی ورکر کو لیگی کارکن قبول نہیں، پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی اور لیگی قیادت ذاتی محفلوں میں بہترین تعلقات رکھتے ہیں وہ زندگی کو لطف اندوز بناتے ہیں مگر عوام کو بیوہ قوف بنایا جاتا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ عمران خان نے جو زہر مقتدر حلقوں کے خلاف عوام تک پہنچایا وہ ایسے سرایت کر چکا ہے کہ اب اس کو توڑ نظر نہیں ا ٓ رہا، ظاہر ہے کہ اس کو خود آج پی ٹی آئی اور عمران خان بھی افورڈ نہیں کر سکتے ، سیاست میں تشدد ا ٓ چکا ہے، وہ زہر جو سب سیاستدانوں نے تقسیم کیا آج اس زہر کا اثر تمام کی جان لے چکا ہے، نظام کو بوسیدہ کرتے کرتے نظام دین نے سب سیاسی جماعتوں کی جمہوری سوچ کا خاتمہ کر دیا ہے، اپنی سیاست کے لیے ملکی معیشت کو تباہ کیا، عمران خان نے وہ وہ زبان استعمال کی کہ آج زبان بندی ہو چکی ہے،عمران خان جانتے تھے کہ کبھی کبھی، سخت الفاظ کسی جسمانی چوٹ سے زیادہ تکلیف پہنچا سکتے ہیں، لیکن مزاہمت سے ہیرو بننے سے قاصر رہے، جھوٹ کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا، کبھی امریکی سازش تو کبھی سائفر کا لہرانا، کبھی جنرل باجوہ پر ایکسٹینشن کا الزام تو کبھی امریکی غلامی نا منظور کا دعوی، قطع نظر کہ باجوہ ایکسٹینشن چاہتا ہو گا، لیکن غلامی خود بھی کرتے رہے ، امریکہ سے امیدیں لگائیں، ٹرینڈز چلائے گئے، اس جھوٹی سیاست نے ملک پر گہڑا اثر ڈالا، ن لیگ میں بھی ذاتی انا اچھے سیاستدان کھا گئی، لہذا جھوٹ بولنے سے ہم نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ ہماری زبان ایک قیمتی تحفہ ہے اور اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ جو زہر عمران خان نے پھیلایا تھا آج اس کی زد میں خود بھی آ چکے ہیں، جو مزاہمت کو سیاست کا اصل چہرہ سمجھ بیٹھے ہیں وہ ملک کو پیچھے لے جا چکے ہیں لیکن آج بھی یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی، سب سیاسی جماعتیں اگر اپنے گریبان میں نظر جھکائیں تو شاید سیاست سے تشدد کا خاتمہ ممکن ہو جائے ، جو زہر پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور چند ڈالر خور یوٹیوبرز نے دوسروں کی جان لینے کیلئے پھیلایا تھا آج وہ ان کو سانسیں بھی بند کر چکا ہے، کہتے ہیں کہ پاپولیرٹی انسان کو پاگل کر دیتی ہے ، کون پاپولیرٹی کے چکر میں پاگل ہوا یہ سب جانتے ہیں۔اب سیاسی ورکرز جان لیں کہ ماضی میں نہ عمران خان کا پھیلایا ہوا زہر کام آیا اور نہ مریم نواز کا لہرایا ہوا مُکا کام آیا۔لہذا ملک میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کو دیکھتے ہوئے مذاہمت نہیں بلکہ مفاہمت کو اپنا شعار بنا لینا چاہیے کیونکہ اب سب لالچی سیاست دان جمہوری روایات، عقل و فہم، فکری سوچ، اخلاقیات، اور نوجوانوں کا مستقبل کھا گئے ہیں ۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان انتہائی اہم،تجزیہ:شہزادقریشی

    متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان انتہائی اہم،تجزیہ:شہزادقریشی

    متحدہ عرب امارات کے صدر کا پاکستان کا دورہ محض رسمی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کا حامل ہوگا، اور اس کے اثرات قلیل المدت کے ساتھ ساتھ طویل المدت بھی نظر آ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات جذبات، تاریخ اور مفادات تینوں کی بنیاد پر استوار ہیں۔ خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانی، ترسیلاتِ زر، دفاعی تعاون اور سرمایہ کاری یہ سب اس رشتے کو غیر معمولی وزن دیتے ہیں۔ امکان یہی ہے کہ اس دورے میں سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر، بندرگاہوں اور زراعت جیسے شعبے زیرِ بحث آئیں گے۔ پاکستان اس وقت معاشی استحکام کی جس جدوجہد سے گزر رہا ہے، اس میں یو اے ای کی براہِ راست سرمایہ کاری اور مالی تعاون نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی اعتماد کی بحالی یہ دورہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا نہیں۔ یو اے ای جیسے مضبوط اور مستحکم ملک کا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا خطے میں پاکستان کے سیاسی وزن کو تقویت دے گا۔

    علاقائی اور عالمی تناظر مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، توانائی کی سیاست اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں ان سب میں پاکستان اور یو اے ای کا قریبی مشاورت میں آنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ دفاعی و سلامتی تعاون اگرچہ یہ پہلو زیادہ نمایاں نہیں کیا جاتا، مگر پسِ پردہ دفاعی تعاون، تربیت اور سلامتی کے امور بھی اس دورے کے ایجنڈے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اگر اس دورے کو محض بیانات اور تصویروں تک محدود نہ رکھا گیا، بلکہ ٹھوس معاہدات اور عملی پیش رفت سامنے آئی، تو یہ پاکستان کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل کامیابی کا پیمانہ یہی ہوگا کہ دورے کے بعد عوام کو معاشی بہتری اور ریاست کو سفارتی مضبوطی کی صورت میں کیا حاصل ہوتا ہے۔یہ دورہ امکانات سے بھرپور ہے اب یہ پاکستانی پالیسی سازوں کی سنجیدگی اور عملدرآمد پر منحصر ہے کہ ان امکانات کو حقیقت میں کیسے بدلا جاتا ہے۔