تاریخ کے کچھ دن محض تقویم کا حصہ نہیں ہوتے، وہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، فکری اساس اور نظریاتی شناخت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ 30 دسمبر بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جب برصغیر کے مسلمانوں نے ڈھاکہ کی سرزمین پر آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھ کر غلامی کی تاریکیوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔ یہی شمع وقت کے طویل سفر کے بعد پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی، اور آج اسی تسلسل کی فکری و نظریاتی وارث کے طور پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ قوم کے سامنے موجود ہے۔مرکزی مسلم لیگ نے 30 دسمبر کو اپنے یومِ تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں جس فکری ولولے، نظریاتی شعور اور تنظیمی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، وہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ نظریۂ پاکستان محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کرنے والی زندہ حقیقت ہے۔
مرکزی مسلم لیگ اس یقینِ محکم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ جس طرح آل انڈیا مسلم لیگ نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں منتشر مسلمانوں کو ایک قیادت، ایک نصب العین اور ایک پرچم تلے جمع کیا، اسی طرح آج مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں قوم کو کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر متحد کرنے، انتشار و افتراق کی سیاست کے خاتمے اور احیائے نظریۂ پاکستان کی عملی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر یومِ تاسیس کے موقع پر ملک کے طول و عرض میں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر پروقار تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں یوتھ لیگ، ویمن لیگ، مرکزی کسان لیگ، ملی لیبر، شعبہ اساتذہ اور دیگر ذیلی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اجتماعات فکری بیداری اور نظریاتی تجدید کے مراکز تھے۔یومِ تاسیس کی تقریبات سے مرکزی قیادت نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاست کو ذاتی مفادات، خاندانی اجارہ داری اور اشرافی تسلط سے پاک کر کے خدمت، اصول اور نظریے کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا۔
سیف اللہ قصوری، حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف، قاری یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک، شفیق الرحمان وڑائچ، انجینئر حارث ڈار، تابش قیوم، محمد سرور چوہدری، حمیدالحسن، فیصل ندیم، یاور آفتاب اور دیگر رہنماؤں کے خطابات نے سامعین کے دلوں میں ایک نئی امید، نیا حوصلہ اور نئی فکری توانائی پیدا کی۔ ان مواقع پر انٹرا پارٹی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نمائندوں سے حلف بھی لیا گیا، جو جمہوری روایات سے وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔
یومِ تاسیس کی تقریبات کی کوریج کے لیے مرکزی ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کی زیر نگرانی سنٹرل میڈیا سیل نے ایک منظم، ہمہ گیر اور مؤثر مہم چلائی، جس نے الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھرپور اثر چھوڑا،ڈیجیٹل میڈیا ہیڈ طہٰ منیب کی قیادت میں مرکزی صدر خالد مسعود سندھو، حافظ طلحہ سعید، قاری یعقوب شیخ، عفت سعید، عطاء اللہ غلزئی اور دیگر رہنماؤں کے خصوصی پوڈکاسٹس ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے، جنہوں نے نوجوان نسل میں نظریاتی شعور کو تازہ کیا،ولولہ انگیز ترانے، فکری گرافکس، بامعنی پوسٹرز، مرکزی صدر کا خصوصی کالم اور سینئر صحافیوں و معروف اینکر پرسنز کے پیغامات نے یومِ تاسیس کو ایک تحریک بنا دیا۔
ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ مرکزی پروگرام میں پیش کی گئی قرارداد درحقیقت قوم کے ضمیر کی آواز تھی۔ اس قرارداد میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان مسلمانوں کی شعوری، نظریاتی اور قربانیوں سے مزین جدوجہد کا ثمر ہے،مرکزی مسلم لیگ خود کو آل انڈیا مسلم لیگ کی فکری، سیاسی اور اخلاقی وارث سمجھتی ہے،شخصیات نہیں، اصول ہماری سیاست کا محور ہوں گے،کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کی غیر مشروط حمایت کی جائے گی،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،سود سے پاک معیشت، عوامی ریلیف اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا عملی ایجنڈا اپنایا جائے گا،یہ قرارداد اس عزم کا اظہار تھی کہ پاکستان کو ایک باوقار، مضبوط اور ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر استوار اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔مرکزی مسلم لیگ نے تحریکِ بقائے پاکستان کے آغاز کا اعلان کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جماعت محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ قوم کی فکری تشکیلِ نو، نظریاتی بیداری اور جدید چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ جدوجہد کا عزم رکھتی ہے۔خطے کے بدلتے حالات، بالخصوص بنگلہ دیش کی صورتحال، اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، اور جن بنیادوں پر یہ ملک وجود میں آیا تھا، وہی بنیادیں آج بھی قوم کو جوڑنے کی قوت رکھتی ہیں۔ یومِ تاسیس مرکزی مسلم لیگ مستقبل کا وعدہ ہے، یہ وعدہ کہ پاکستان کو نظریاتی کمزوری، معاشی غلامی اور فکری انتشار سے نکال کر ایک خوددار، خودمختار اور بااصول ریاست بنایا جائے گا۔یہی وہ خواب ہے جو 30 دسمبر 1906ء کو دیکھا گیا تھا، اور یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے مرکزی مسلم لیگ آج بھی میدانِ عمل میں موجود ہے۔






