مریم نواز کی حکمرانی اور عوامی توقعات پنجاب اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکمرانی کے دعوے اب محض تقاریر سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی کے متقاضی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے جس طرزِ حکمرانی کا آغاز کیا ہے، اس کے خدوخال واضح ہیں اور ترجیحات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کتنا کیا جا رہا ہے اور کتنا مستقل ہوگا۔ امن و امان کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت شہری تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے، تاہم اس نظام کی شفافیت اور پرائیویسی کے تقاضوں کو نظرانداز کرنا مستقبل میں نئے سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ نگرانی کے ساتھ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط کرے۔ صحت کے شعبے میں مفت ادویات، جدید تشخیصی سہولیات اور بنیادی صحت مراکز کی بحالی خوش آئند اقدامات ہیں، مگر سرکاری اسپتالوں میں انتظامی کمزوریاں اور عملے کی قلت تاحال ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگر اصلاحات کا دائرہ محض انفراسٹرکچر تک محدود رہا اور انسانی وسائل کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی توقعات کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکولوں کی بہتری اور ڈیجیٹل سہولیات مستقبل کی طرف ایک درست قدم ہیں۔ تاہم معیارِ تعلیم صرف عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے بہتر نہیں ہوتا، اس کے لیے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور یکساں تعلیمی پالیسی ناگزیر ہے۔ بچیوں کی تعلیم پر زور قابلِ تحسین ہے، مگر اس کے نتائج تب ہی سامنے آئیں گے جب یہ پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہے۔
نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار سے متعلق پروگرام ایک ضرورت تھے، جنہیں تاخیر سے ہی سہی، تسلیم کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبے وقتی اشتہارات تک محدود رہیں گے یا واقعی نوجوانوں کو باعزت روزگار کی طرف لے جائیں گے؟ اس کا فیصلہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق ہی کریں گے۔ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں اور سماجی تحفظ کے منصوبوں نے عوامی سطح پر امید ضرور پیدا کی ہے، مگر پاکستان جیسے معاشرے میں اصل امتحان طاقتور طبقات کے خلاف بلاامتیاز عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر قانون کمزور اور طاقتور کے لیے مختلف رہا تو اصلاحات محض فائلوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گی۔ مریم نواز حکومت نے درست سمت کا تعین کیا ہے، مگر یہ سمت نتائج سے مشروط ہے۔ عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں۔ پنجاب کو ایک جدید، محفوظ اور فلاحی صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گورننس کو شخصیت نہیں بلکہ ادارے کے گرد منظم کیا جائے۔ اگر حکومت اس اصول پر کاربند رہی تو 2025 محض ایک عددی سال نہیں بلکہ پنجاب کی حکمرانی میں ایک حقیقی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے
