Baaghi TV

Category: سیاست

  • جمہوریت اور پاکستان تحریر فیضان احمد

    جمہوریت اور پاکستان تحریر فیضان احمد

    ھمارے ملک پاکستان میں جس طرح سے جمہوریت پنپی ھے اس کی وجہ سے جمھوریت کے اصل فوائد عام عوام تک نھیں پہنچ پاۓ ۔ 

    جمھوریت واقعی اگر صحیح معنوں میں کسی معاشرے کا حصہ ھو تو بہترین طرز معاشرت کو کامیابی کے ساتھ دنیا میں رائج کر سکتی ھے ۔ لیکن ھمارے ھاں کسی اور ھی درجے کی جمہوری روایات دیکھنے کو ملتی ھیں ۔ 

    جیسا کہ کوئ شخص ممبر پارلیمنٹ بنتا ھے ۔۔ تو پھر یہ ایک عمومی بات ھے کہ پھر اسکا پورا خاندان ھی ممبر پارلیمنٹ کے طور پر خود کو گردانتا ھے ، اور حیران کن طور پر جو موصوف خود پارلیمنٹ کا حصہ ھوتے ھیں اور جو کسی حلقہ کے عوام کے نمائندے کے طور پر وھاں بیٹھتے ھیں وہ خود بھی سب سے پہلے اپنے خاندان کو ھر محکمے میں "سیٹ” کرواتے ھیں ۔

     اور دیکھا جاۓ تو معاشرے کی جمہوری اقدار اس سطح تک گر چکی ھیں کہ عام عوام کے منہ سے یہ تک سننے کو مل جاتا ھے کہ فلاں ایم پی اے یا ایم این اے اپنے بھائی کے لیے کچھ نھیں کر سکا تو ھمارے لیے کیا کرے گا ۔ 

    اور پھر اگر کوئ ممبر پارلیمنٹ کسی کا سفارشی کام نہ کروا سکے یا نہ کروانا چاھے تو سننے کو یہ ملتا ھے کہ اس کی تو کہیں چلتی ھی نھیں ۔۔ یعنی معاشرہ چاھتا ھی یہ ھے کہ ان کا نمائندہ کچھ بھی کر کے انکا ناجائز مطالبہ بھی پورا کرواۓ ۔ 

    ایک بہت بڑی خلیج محسوس ھوتی منتخب نمائندگان اور عوام کے باھمی تعلق میں ، عوام سمجھتی ھے کہ جسکو ممبر پارلیمنٹ بنا دیا ھے وہی شاید اب کرتا دھرتا ھے انکا ، ادھر سے منتخب نمائندگان بھی عوامی طاقت کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنا جانتے ھیں ۔ جبکہ اگر وہی نمائندہ اپنی عوام کو اداروں کا کردار ، اپنی آئینی دائرہ کار میں رھتے ھوۓ "طاقت” کے بارے میں بتا دے تو شاید وہ معاشرے میں کچھ بہتری لا سکے اس حوالے سے ۔ 

    جب کہ ان منتخب نمائندوں کو اگر پارلیمنٹ کا حصہ بننے سے پہلے جمھوری اقدار ، اداروں کا صحیح اور آئینی دائرہ کار ، پاکستان اور بین الاقوامی تاریخ ، اور کامیاب جمھوری ممالک کی جمھوریت کے بارے میں تعلیم یا ٹریننگ کے کسی خاص اور "اسمبلی ممبر” کوالیفکیشن کی طرح کا کچھ پروگرام اگر لازم قرار دے دیا جاۓ تو آنے والے تمام اسمبلی ممبران چند سالوں میں شاید اس مملکت خداداد کے اپنے اپنے حلقے کی جمھوری روایات کے سلسلے میں بہت کچھ بہتر کر لیں گے۔  

    اور ھو سکتا ھے کہ پھر جو ھمارے ملک میں کبھی کبھی قوم کی بجاۓ ایک ھجوم دکھائ دیتا ھے ، اسکی Moral values میں بھی مزید ڈیویلپمنٹ دیکھنے کو ملے۔ اس سب کے لیے یقیناً کچھ دھائیاں درکار ھوں گی ، لیکن بہرحال بہتری بھی ممکن ھے ۔ جہاں اگر سنگل نیشنل کریکولم کے ذریعے نئ آنے والی نسل کو "قوم” بنانے کا بہترین بیج بویا گیا ھے ۔۔ اسی طرح ممبر پارلیمنٹ کی ٹریننگ کا کوئ لازم "کورس” سٹارٹ کر کے موجودہ قوم کی سمت بھی درست کی جاسکتی ھے ۔

    خیر اللہ پاک سے دعا ھے کہ ھم اپنی آنکھوں سے جمہوریت کے واقعتاً ایسے فوائد دیکھ لیں جو کہ مغربی ممالک میں لوگوں کو حاصل ھیں ۔ورنہ جو حالات ھیں وہ بحر حال پھر سے خلافت(صدارت) والا سسٹم مانگتے ھیں . اور سسٹم کی تبدیلی بسا اوقات خونی انقلاب مانگتی ھے ، اور تاریخ اسطرح کے انقلابوں کی بہت تکلیف دہ ھی سننے کو ملتی ھے ۔ امید ھے اس بلاگ میں دی گئ تجویز کسی ایسے شخص کی نظر سے گزر جاۓ جو اس پر بے شک مزید کام کر کے آگے کہیں متعلقہ قومی ادارے یا تھنک ٹینک کو دے سکے تو میری اس تحریر مقصد پورا ھو جاۓ ۔ 

    پاکستان پائندہ باد
    | Faizan Ahmad

    Twitter:@iamfzalik

  • کپتان کی کامیاب سفارتکاری تحریر۔محمد نسیم

    کپتان کی کامیاب سفارتکاری تحریر۔محمد نسیم

    تین روز قبل اقوام متحده کی جنرل اسمبلی میں بھارت اور پاکستانی وزیراعظم کے خطاب ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ورچول آن لائن سے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی کشمیر اور افغانستان کے مُدے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا اور اقوام عالم کو کشمیر،افغانستان میں ابھرتے ہوئے انسانی المیوں سے آگاه کیا
    قارئین چند روز قبل ہی کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کا انتقال ہوا ہر آزادی کا متوالا مغموم تھا لیکن سونے پہ سہاگہ یہ کہ بھارتی حکام سید علی گیلانی کی میت اہل خانہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا بھارت کا یہ انکار نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آزادی کی ٹحریک کو کچلنے کی ایک ناکام کوشش ہے جو کہ مستقبل قریب میں آزادی کی تحریک کو نئی جِلا بخشے گی
    افغانستان کے مسئلےپر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اقوام عالم کو بتایا کہ افغانستان میں جنگ چھیڑنے کا فیصلہ امریکہ کا تھا اور ادھر سے ناکام نکلنے کا فیصلہ بذات خود امریکہ نے کیا لیکن اس سارے معاملے میں پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بننے کی غلطی کی اور اس غلطی کا نقصان بھی صرف اور صرف پاکستان کو ہوا پاکستان نے اس جنگ میں نا صرف 80 ہزار قیمتی اور بے قصور پاکستانی جانیں گنوائیں بلکہ کئی ارب ڈالرز کی معیشت کا بھی نقصان کیا جس کی بھرپائی آج تک ممکن نہ ہوسکی اس سارے معاملے میں غم تو یہ ہے کہ بجائے امریکہ ہماری قربانیوں اور بے لوث دوستی کو سراہتا اس نے اپنی ناکام پالیسیوں پر پاکستان ہی کی سرزنش کردے اور ناکامی کا قصور وار پاکستان کو ٹھہرانے لگا
    قارئین جیسا کہ اس دور میں میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اس سارے پروپیگینڈے میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے جو پاکستان کے خلاف امریکہ کو ہر وقت اکساتا رہتا ہے اور ISI کا جو ڈر بھارت میں بیٹھ چکا ہے اسے ہر وقت کیش کرتا رہتا ہے بھارت نے نا صرف امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان میں امریکہ سے پاکستان ڈبل گیم کررہا ہے بلکہ اس بات پر بھی اماده کرلیا کہ تمام دھشت گردی اور افغانستان میں امریکی ہار کا اصل ذمہ دار بھی پاکستان ہے
    دریں اثنا اقوام متحده کے اجلاس کے بعد مودی کمیلاہیرس سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد مودی نے چالیس ٹویٹ کئیے لیکن کمیلاہیرس کی طرف سے ایک ٹویٹ بھی نہیں کیا گیا یہ ٹویٹ بھارتی پروپگینڈےطکا حصہ تھیں جس میں بھارتی مفادات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اس ملاقات کے بعد مودی نے جوبائیڈن سے بھی ملاقات کی ۔
    یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے کہ مودی نے اقوام متحده ،کمیلاہیرس اور جوبائیڈن سے جو بھی ملاقاتیں کیں ان سب کے دوران کشمیر،سکھ اور دلت برادری سراپا احتجاج رہی اور بھارت اور مودی کے خلاف شدید نعرے بازی ہوتی رہی لیکن مودی نے ان سب چیزوں کی پرواه کئیے بغیر اور ان برادریوں کی دادا رسی کے بغیر اپنا مزموم ایجنڈا جاری رکھا اور بائیڈن کے سامنے اپنی تمام خواہشات رکھ دیں جن کی تکمیل کے لئیے یہ دوره امریکہ کیا تھا
    مودی نے جوبائیڈن سے تین چیزوں پر بات کی جن میں سے سب سے پہلی بھارت کی یہ خواہش تھی کہ اسے Aukus اتحاد میں شامل کیا جائے قارئین یاد رہے کہ یہ اتحاد بڑھتی بین الااقوامی فضا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد اسٹریلیا،برطانیہ اور امریکہ کے مفادات کا تحفظ اور ان ممالک کی دنیا پر حکمرانی کوقائم رکھنےچکے لئیےبنایاگیا
    اس اتحا میں شامل ہوکر بھارت کامقصد تو بڑی عالمی طاقت بننے کا تھا لیکن صد افسوس بھارت کا یہ ادھورا خواب ادھورا ہی رہا مودی نے افغانستان میں امریکی مدد اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر امریکی خاموشی کا مطالبہ کیا تو امریکی صدر نے مودی جی کو کھری کھری سنادیں مودی جی جو وزیراعظم کی حثیت سے اپنے بڑے مطالبات منوانے چلا تھا امریکہ کی طرف سے سرزنش اور ڈومور کے مطالبے کے ساتھ واپس لوٹے اور اپنی قابلیت جس پر وہ بھارت میں جنتا کو بھرپوربےوقوف بناتے ہیں اسکا بھانڈاپھٹوا کر آگئے
    امریکی صدر جوبائیڈن نے ناصرف مودی جی کو کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف وزیاں یاد کروائی بلکہ پورے بھارت میں اقلیتوں میں ہونے والے مظالم سے روکا جوبائیڈن نے مودی کو نئے بھارتی شہریت بل پر بھی خوب ڈانٹ پلائی اور ان اقدامات سے ہونے والی دشواریوں سے لوگوں کو محفوظ رکھنے پرزوردیا
    اور ہندتوا کو بے لگام گھوڑوں کو لگام دینے کےلئیےصدربائیڈن نے مودی جی کوانہی کے آزادی دہندہ موہنداس کرم چندگاندھی جی کےامن پسند فرمان یاد کروائےاور اس امن پسندی کے سبق کے ساتھ مودی جی کو چلتا کیا یاد رہے گاندھی جی اپنے اس فلسفے کوعدم تشدد،احترام اور برداشت کا فلسفہ کہتے تھے
    قارئین یوں مودی جی جنہوں نے UN کے خالی میدان کو جیتنے کے لئیے اتنا پیسہ بہایا وہاں جاکر بھی اپنے مقاصد حاصل نہ کرپائے اور دوسری طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بغیر امریکہ جائےاور مودی کے لئیے میدان خالی چھوڑ کر بھی سفارتی جنگ جیت لی اور بھارت سمیت پوری دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستان کے بہادر لیڈر اور عوام بھارت سے کئی گنا قابل اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنے اور اپنے اصولی موقف کے دفاع کی بھرپور قابلیت رکھتے ہیں
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج پائندہ باد
    @Naseem_Khera

  • کیا عالمی تنازعات کے حل کے لئے اقوام متحدہ کا کردار اطمینان بخش ہے؟ تحریر: ثاقب معسود

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دنیا کا سب سے اہم اور بہت بڑا فورم ہے جس کا اجلاس ہر سال ستمبر میں منعقدہوتا ہے جسے عالمی سطح پر بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس اجلاس میں دنیا کے تقریبا تمام ممالک شامل ہوتے ہیں اور اس اجلاس میں تمام ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے مسائل کو اجاگر کریں جو ان کے لیے بہت اہم ہیں اور بین الاقوامی برادری کو ان کے بارے میں بات اور غور و غوض کرنا چاہیے۔ اس اجلاس میں بین الاقوامی تنازعات پر بھی کھل کر بات کی جاتی ہے اور حریف ممالک ایک دوسرے کے خلاف ہر طرح کے ثبوت اور شواہد وغیرہ بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنا مضبوط مئوقف دنیا کے سامنے لا سکیں۔ پاکستان ہر سال اس موقع پرمسلم امہ کے علاوہ اہم اور سنجیدہ اورحل طلب مسائل پر بات کرتا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراسکے۔ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنا خطاب کرونا کی تباہ کاریوں سے شروع کیا کہ دنیا کو کووڈ19 کے ساتھ ساتھ کس طرح معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درپیش خطرات جیسے چیلنجز کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ خدا کے فضل سے پاکستان کورونا کی وباء پرقابو میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور باہمی تعاون کی منصوبہ بندی کی بدولت ہمیں انسانی زندگیوں اور معاش کو چلائے رکھنے میں مدد ملی اور ہماری معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہا۔وزیراعظم نے یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی کو دولت کی غیرقانونی ترسیل کو روکنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی بناناہوگی۔ عمران خان نے باور کرایا کہ اسلامو فوبیاایک ایسی خوفناک شکل اختیارکرچکاہے جس کی روک تھام کیلئے ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔نائن الیون کے بعد سے کچھ امریکی حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے جس کے سبب مغرب میں انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ مسلمانوں کومسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ بھارت کی فاشسٹ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت کی جانب سے پھیلائے گئے نفرت انگیز ہندوتوا کے نظریات نے بھارت میں بسنے والے 20 کروڑ مسلمانوں کیخلاف خوف و تشدد کی ایک لہر پیدا کر رکھی ہے۔ این آر سی کے امتیازی قوانین کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ بھارت نے بدقسمتی سے مسلمانوں کے قلع قمع کی سوچ پر مبنی ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جسے وہ جموں و کشمیر مسئلے کا حتمی حل قرار دیتا ہے جبکہ یہ راستہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا عکاس ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے عالمی قوتوں کو بھارت کا اصل مکروہ چہرہ دکھاتے ہوئے کہاکہ بھارت نے پانچ اگست 2019 ء سے مسلسل کرفیو اور غیرقانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ اس نے 13 ہزار کشمیریوں کو اغوا کیا ہوا ہے جس میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ سینکڑوں کشمیریوں کو جعلی پولیس مقابلوں میںشہید کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بھارت نے کشمیریوں کو اجتماعی سزائیں دینے کی روش اختیار کر رکھی ہے جس میں پورے پورے گائوں اور مضافاتی علاقے تباہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس جبر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ اسے مسلم اقلیتی علاقے میں بدل دیا جائے۔ اور مقبوضہ جموں کشمیر میں معصوم اورنہتے لوگوں پر پیلٹ گن کا سفاکانہ استعمال، ریپ کوایک جنگی
    ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے ،عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دیگر ہمسایوں کی طرح بھارت کے ساتھ بھی امن سے رہنے کا خواہش مند ہے لیکن جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا دارومدار جموں و کشمیر کے مسئلہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونے میں ہے۔ امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا یواین قراردادوں کے مطابق حل ضروری ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی کی فاشسٹ حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے سازگار ماحول بنائے وزیراعظم نے اس کیلئے عالمی قیادتوں سے بھارت کو مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے پر مجبور کرنے کا تقاضا کیا ہے۔ نمبرایک بھارت پانچ اگست 2019 کو کئے گئے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات منسوخ کرے نمبر2 کشمیر کے عوام کیخلاف ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکے نمبر3 مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں کی جانیوالی تبدیلیاں واپس لے۔ اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک اور جنگ کو روکا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلیوںاور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق دنیاکی توجہ مبذول کرانے کی بھی کوشش کی۔وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں اپنے طویل خطاب کے دوران یقینا ایک مدبر لیڈر کی حیثیت سے اقوام عالم کو درپیش تمام مسائل کی نشاندہی بھی کی اور انکے ممکنہ حل کے راستے بھی دکھائے۔ بلاشبہ آج الحادی قوتوں کا اسلامو فوبیا سے متعلق پیدا کیا گیا تلخ ماحول بھی علاقائی اور عالمی امن تاراج کرنے پر منتج ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم نے مرض کے اصل روٹ کی بھی نشاندہی کی جو بھارت سے نکل کر دنیا میں پھیل رہا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گردی کا موردالزام ٹھہراتے ہوئے انکے قتل عام کی صورت میں مسلم کشی کی نوبت تک پہنچ چکاہے۔ بھارت کا اصل ایجنڈہندوتو اکے ذریعے اکھنڈ بھارت کی صورت میں اسکے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کا ہے جس کے تحت ہندو سماج برصغیر میں مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینا چاہتا ہے چنانچہ انتہا پسند ہندو حکمرانوں نے سیکولر بھارت کو ہندو انتہا پسند ریاست میں تبدیل کرکے پورے خطے میں ہندو جنونیت کی آگ بھڑکا دی ہے جو بالآخر پوری دنیا کی تباہی کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر پر قیام پاکستان کے وقت سے ہی بھارت کا غیرقانونی تسلط جمانا اسکے مسلم دشمن توسیع پسندانہ عزائم ہی کا تسلسل تھا چنانچہ وہ اپنے ہی پیدا کردہ اس مسئلہ کے حل کیلئے یواین سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بھی پائوں تلے روندتا رہا اور عالمی قیادتوں و عالمی اداروں کے ہر دبائو اور ثالثی کی پیشکشوں کو بھی رعونت کے ساتھ ٹھکراتا رہا جبکہ اس نے پاکستان بھارت دوطرفہ مذاکرات کے حوالے سے 1972 میں طے پانے والے شملہ معاہدہ کو بھی دوطرفہ مذاکرات کی ہر میزپررعونت کے ساتھ الٹا کر غیرموثر اور ناکام بنایا اور کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی اختیار کرکے بھارتی تسلط قبول نہ کرنے والے کشمیریوں پر ظلم وتشدد کی نئی مثالیں قائم کردیں۔ بھارت کی مودی سرکار نے تو مسلم دشمنی کی ساری حدیں عبور کرلی ہیں اور ہندوتوا کے ایجنڈے کی بنیاد پر مسلمانوں کے علاوہ بھارت کی دوسری اقلیتوں بشمول سکھوں کی زندگیاں بھی اجیرن بنا دی ہیں۔ مقبوضہ وادی بشمول لداخ کو جبراََ بھارت میں ضم کرنے کیلئے مودی سرکار نے دو سال قبل پانچ اگست کو جو یکطرفہ اقدامات اٹھائے جن کے بعد اس نے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کرکے ان پر باہر کی دنیا کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں وہ دنیا بھر میں ظلم و جبر کی نئی مثال ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ مودی سرکار نے کورونا کی آڑ میں بھی مسلمانوں پر ظلم و جبر کے راستے نکالے اور انہیں کورونا کے پھیلائو کا موردِالزام ٹھہرایا جس
    پر مودی سرکار کیخلاف دنیا بھر میں نفرت و حقارت کی لہر اٹھی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے واشنگٹن آنیوالے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو وہاں کشمیریوں اور سکھوں کے سخت احتجاج کا ہی سامنا نہیں کرنا پڑا امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی خود انکے استقبال سے گریز کیا جبکہ انکے خطاب کے موقع پر حریت کانفرنس کی اپیل پر کشمیریوں نے مقبوضہ وادی اور بھارت میں مکمل ہڑتال کی۔ وزیراعظم عمران خان نے اسی تناظر میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ہندوتوا کا ایجنڈا رکھنے والے جنونی بھارت کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی اور عالمی قوتوںسے پاکستان اور بھارت کے مابین ایک نئی جنگ روکنے کے اقدامات اٹھانے کا تقاضا کیا جن میں اصل قدم مسئلہ کشمیر کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے اٹھانا مقصود ہے۔ بلاشبہ علاقائی اور عالمی امن مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے جس کی جانب وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شریک عالمی قیادتوں کو متوجہ کیا ہے۔ اس تناظر میں جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس روایتی اجلاسوں کی طرح محض نشستند گفتند خوردن و برخاستند پر ہی منتج نہیں ہونا چاہیے بلکہ اجلاس میں اقوام عالم کو درپیش تمام مسائل بالخصوص اسلامو فوبیا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس لائحہ عمل طے کرناہوگا۔ورنہ ایسی اقوام متحدہ کی کوئی ضرورت نہیں عیسائیوں کیلئے مشرقی تیموراورجنوبی سوڈان میں توفوری حرکت میں آجاتی ہے مگرمسلمانوں کے دیرینہ مسائل ،کشمیر،فلسطین اورسائپرس (قبرص)پچھلے سترسالوں سے حل طلب ہیں ،مسلمان ممالک عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ یواین اوصرف غیرمسلم کے مفادکے تحفظ کیلئے کام کرتی ہے جبکہ مسلم امہ کے مسائل سے ہمیشہ طوطاچشمی اختیارکئے رکھی ہے۔اب بھی اگریواین اومسلمان ممالک کے دیرینہ حل طلب مسائل پرآنکھیں بندرکھتی ہے توپھرایسی اقوام متحدہ کی مسلمانوں کوکوئی ضرورت نہیں ہے اورمسلمان ملکوں مغربی استعمارکے تابع یواین اوکوخیربادکہہ دیناچاہئے۔

    @isaqibmasood

  • چکوال میں ابھرتی پاکستان تحریک انصاف تحریر ۔۔ محمد نثار ٹمن

    چکوال میں ابھرتی پاکستان تحریک انصاف تحریر ۔۔ محمد نثار ٹمن

    ویبسٹر کی ڈکشنری کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ سے مراد ’’رہنمائی کرنے کی اہلیت‘‘ ہے۔ جبکہ میرین کورز (Marine Corps) کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ ذہانت، انسانی تفہیم اور اخلاقی کردار کی ان صلاحیتوں کا مرکب ہے جو ایک فردِ واحد کو افراد کے ایک گروہ کو کامیابی سے متاثر اور کنٹرول کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

    لیڈر یا قائد سے مراد ایک ایساشخص ہوتا ہے جب اسے کوئی ذمہ داری یا عہدہ عطا کیا جائے تووہ اسے اپنے منصب کے شایان شان انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ازل سے لیکر موجودہ دور تک قیادت کوئی آسان ا ور معمولی کام نہیں ہے کہ جس کی انجام دہی کی ہر کس و ناکس سے توقع کی جائے۔لیڈروں کو ہردم اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہوتا رہتا ہے ۔ ان چیلنجز سے عہدہ براں ہوکر ہی لیڈرز اعتماد ،استحکام اور قبولیت کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔گوناں گوں علاقائی مسائل اور درپیش چیلنجز کے باعث قیادت کی باگ ڈور ہمیشہ اہل افراد کے ہاتھوں میں ہونا بے حد ضروری ہے۔ معاشرے کو درپیش تمام مسائل کا حل ایک فرد واحد سے ہرگز ممکن نہیں ہوتا ہے بلکہ اسکے آپ کے ساتھ موجود ٹیم میں اہلیت و قابلیت کا ہونا بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ اکیلے انسان کاقیادت کی ذمہ داریوں سے عہدہ براں تقریبا ناممکنات میں شامل ہے۔ لیڈر کا کام اپنی اقتداء کرنے والوں کو ان مسائل کے حل کرنے کے لئے تحریک فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یاد رکھئے کہ کوئی بھی ماں کے پیٹ سے لیڈر بن کر نہیں آتا، سب اپنے ہاتھوں سے اپنی قائدانہ صلاحیت کو تعمیر کرتے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھئے کہ یہ اصول صرف سیاسی لیڈروں پر لاگو نہیں ہوتے، بلکہ ہر طرح کے لیڈر کے لئے ان کی افادیت یکساں ہے۔

    ضلع چکوال میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایم این اے محترمہ فوزیہ بہرام اور انکی پوری ٹیم کو بھی ایک ایسی ہی قیادت سپرد کی گئی ہے۔ جس کےلیے مشکلات بھی ہیں اور چیلیجز بھی ہیں، آستیں کے سانپ بھی ہیں اور مخلص دوست بھی ہیں۔ قیادت کےلیے نہایت ضروری ہے قیادت کے اصولوں کو سمجھنا اور انکو ایپلیمنٹ کروانا، اور ایم این اے فوزیہ بہرام کے اندر یہخوبی شاید اسلیے بھی دوسروں سے نمایاں ہے کیونکہ انہوں نے 1991 میں Eisenhower Fellowship کا ایوارڈ بھی لے رکھا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ اعزاز کی بات یہ ہے کہ 1953 میں امریکہ میں President Dwight D. Eisenhower کی سربراہی میں اس ادارے کا قیام ہوا اور آج تک صرف اور صرف 2000 افراد کو یہ فیلوشپ ایوارڈ دیا گیا جن میں ایم این اے فوزیہ بہرام کا نام بھی شامل ہے۔ اس ادارے کا مقصد کسی بھی انسان کو بطور سپاہی ، سیاستدان ، اور عالمی رہنماء انسانیت کی خدمت اور بھلائی کےلیے تیار کرنا ہے۔ یہ تنظیم جدید اور قابل سیاسیی اور باقی شعبہ زندگی کے رہنماؤں کی نشاندہی کرتی ہے ، انکو بااختیار بنانے میں مدد اور انکو آپس میں جوڑتی ہے، آپ اسکی مزید تفصیلات گوگل پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔
    فوزیہ بہرام نے 2015 میں پاکستان تحریک انصاف کو جوائن کیا اور اسکی وجہ ملک میں ایک تبدیلی اور فرسودہ سیاسیی نظام کا خاتمہ کرنا تھا، جو پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا ویژن ہے۔سیاسیی لیڈی ہونے کے ساتھ ساتھ فوزیہ بہرام، ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ اور رورل ڈویلپمنٹ کی ممبر بھی ہیں، اسکے علاوہ فوزیہ بہرام کو بزنس لیڈی، ماہر آرائیش خانہ اور ماہر زراعت بھی کہا جاتا ہے۔ اگر تعلیم کی بات کی جائے تو ایم این اے فوزیہ بہرام نے Poli Glot School London سے 1978 میںGeneral Hotel Administration اور Sale Management میں ڈپلومہ بھی کیا ہوا ہے، جبکہ اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان سے ڈبل گریجویشن بھی کر رکھی ہے۔
    اگر فوزیہ بہرام کے فیملی بیک گراونڈ کی بات کی جائے تو انکی دادی جان جنکا نام سونینا تھا، وہ افریقہ کے شاہی خاندان سے ہونے کے ساتھ ساتھ پرنسسز آف بلاپ کیج پینڈا، موزہ نیک بھی تھیں (سورس گوگل)۔ انکی فیملی کے کحچھ ممبرز ورلڈ بنک اور یونائٹیڈ نیشن میں سئینر عہددار بھی ہیں, جبکہ انکے انکل مسٹر ایف ایم خان انڈین فلم انڈسٹریزی میں سئینر علمبردار تھے۔ انکی بھتیجی پلواشہ خان بھی ایم این اے ہیں، جبکہ انکی ہمشیرہ کے سسر (مرحوم) عمر خان پاکستانی سینٹر رہ چکے ہیں۔ انکی سیاسیی فیملی کے بہت سارے افراد پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خواہ میں سئنیر بیروکریٹس ، جبکہ کحچھ پاکستان آرمی میں آفیسرز ہیں۔

    پاکستانی سیاست میں ضلع چکوال کی اہمیت سے انکار کرنا ناممکن ہے کیونکہ اس ضلع نے ہر دفعہ ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی بنائے ہیں۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسیی رسہ کشی اپنے عروج پر ہے، حکومت پاکستان کیطرف سے علاقائی ترقیاتی فنڈز کی الاٹمنٹ شروع ہوچکی ہے اور دونوں پارٹیوں کے دفاعی جیلوں کے مابین نہایت معرکہ خیز سوشل میڈیا جنگیں شروع ہیں، ہر طرف سے کریڈیٹ کریڈیٹ کی آوازیں سنائی دے رہیں ہیں۔ فیس بک گلیوں اور نالیوں کی تصاویرں سے بھری پڑی ہے۔ 25 جولائی 2018 کے دن سے علاقے میں ایک سیاسیی دنگل شروع ہوا تھا، جو اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

    مسلم لیگ ق کے اندر سیاسیی اور علاقائی سپورٹرز کی منافقت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ چاچے مامے کو ترجیح دی جانے لگی ہے، ووٹرز میں سخت مایوسی کا سماں ہے۔ ماضی کے لیڈروں کیطرح حافظ عمار یاسر اور انکی ٹیم ممبرز صرف گنے چنے مواقعوں پر نظر آتے ہیں۔ عوام کے اندر بے چینی سرایت کرچکی ہے۔ چند نام نہاد صحافیوں کی غلط پولیسوں کی وجہ سے ق لیگ کی سیاسیی ساکھ کو بہت نقصان ہوچکا ہے اور آگے بھی ہونے کے خدشات نمایاں ہیں۔علاقائی صحافی مسلم لیگ ق کےلیے بیساکھی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ علاقے میں پروفیشنل صحافیوں کی کمی اور ناقص صحافتی علم و عمل کی بدولت مسلم لیگ ق کے اندر موجود انکےانسوسٹرز کو بھی شدید تحفظات ہوچکے ہیں۔ لیکن انکی مجبوری ہے کیونکہ انہوں نے پیسہ لگا رکھا ہے، وصولی کیے بغیر بغاوت نہیں کرسکتے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اس وقت پورے علاقے میں ابھرتی جارہی ہے۔ کیونکہ گھر کو چلانے کے لیے گھر کے سربراہ کا سمجھدار ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے، اسی طرح سیاسیی جماعت کی قیادت یا علاقائی معاملات کو بخوبی سرانجام دینے کےلیے بھی عقل و فہم اور مناسب تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک محنتی اور جانفشان ٹیم کا ہونا بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ لیڈر کوئی فرشتہ نہیں ہوتا ہے، نہ ہی اسکو الہام ہوتا ہے، بلکہ اسکی متحرک ٹیم کے ذریعے اسکو مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ علاقائی لیڈر شپ ہو یا قومی لیڈر شپ ہو، ٹیم ورک کے بغیر ناممکن ہے۔ فوزیہ بہرام کی سماجی ورکس کےلیے اپنے ٹیم کے ہمراہ پورے علاقے میں نہایت بہترین حکمت عملی سے کام جاری و ساری کروا دئیے ہیں۔ صرف و صرف ٹمن کےلیے ایک اندازے کے مطابق 55 لاکھ کے فنڈز جاری کروائے گئیے ہیں اور سابق یونین کونسل چئیرمین رانا عظمت ٹمن کی سربراہی میں علاقے میں کام جاری و ساری ہیں۔ 55 لاکھ کی محدود رقم میں پورے علاقے کو پختہ کرنا شاید ناممکنات میں سے ہے لیکن اسکے باوجود فوزیہ بہرام کی ٹیم اپنی طرف سے کوشاں ہے کے ماضی سے ابھی تک چلے آنے والے محرومی کے شکار محلے یا علاقے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں۔

    مستقبل میں بلدیاتی الیکشن کی آمد آمد ہے اور علاقائی سیاسیی پس منظر نہایت دلچسپ و مقابلہ خیز بنا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے علاوہ سردار منصور حیات بھی ایک بار پھر نئے انداز اور نئی جماعت مسلم لیگ نون کے نمایندے کے طور پر پنجا آزمائی کریں گے۔ اور بھولی بھالی عوام کو ایک بار پھر سے میٹھے میٹھے سیاسیی لڈو کھلانے کی کوشش کریں گے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کے مقابلہ مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا اور فلوقت پاکستان تحریک انصاف کا پلڑا بھاری لگا رہا ہے۔ لیکن یہاں مجھے سابقہ صدر آصف علی زرداری کی وہ بات یاد آرہی ہے کے ” سیاست کی کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی ہے” ۔ تمام اندازے و تخمینے موجودہ حالات و عوامی رجحان کو دیکھ کر لگائے جاتے ہیں اور میں نے بھی اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ہر انسان کو حق ہے کے وہ سیاسیی منظر نامے پر اپنی اپنی رائے قائم کرسکتا ہے، کیونکہ ہم سب آزاد ملک کے باشندے ہیں اور ماں کے پیٹ سے آزاد ہی اس دنیا میں آئے ہیں۔

  • امریکہ ضرور پنگا لے گا، تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ ضرور پنگا لے گا، تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد جس ایک خدشے کا سب سے زیادہ اظہار کیا گیا وہ یہ تھا کہ افغانستان میں بہت سے قبائل ہیں جو کئی دہائیوں سے جنگ لڑتے آ رہے ہیں اس لئے امریکہ کے جانے کے بعد صورتحال یہ ہو گی کہ وقتی جیت کی خوشی منانے کے بعد یہ اپنے اپنے حصے کی بوٹی کے لئے آپس میں لڑنا شروع کردیں گے کیونکہ ان کو لڑنے کی عادت ہے۔
    لیکن اگر یاس مین کچھ حقیقت ہے تو یہی فارمولا امریکیوں پر بھی توفٹ ہوتا ہے امریکہ بھی تو کئی دہائیوں سے کسی نہ کسی ملک میں جنگ لڑتا آیا ہے۔ صرف1945 کے بعد سے اب تک امریکہ نے پانچ بڑی جنگیں لڑی ہیں جن میں کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چند معمولی جنگیں بھی ہیں جن میں صومالیہ، یمن اور لیبیا کی جنگیں شامل ہیں۔
    یہ ایک الگ بحث ہے کہ ان جنگوں میں ظاہری طور پر امریکہ کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن یہ بات بھی اب دنیا کے سامنے آ چکی ہے کہ ان جنگوں کی آڑ میں امریکی کمپنیوں نے بہت سا پیسہ بنایا ہے کئی ملک جو ترقی کر رہے تھے وہاں امریکہ کے جانے کے بعد تمام انفراسٹرکچر کا ستیاناس ہو گیا۔ یہ ممالک جنگوں کی وجہ سے کئی دہائیوں پیچھے چلے گئے۔تو اب جو امریکی فوج اتنے سالوں سے جنگیں لڑ رہی ہے کیا افغانستان میں موجود قبائل کی طرح وہ نہیں چاہیں گے ان کو ایک نیا ٹارگٹ ملے ایک نیا محاذ کھولا جائے۔ وہ امریکی دفاعی اور نجی کمپنیاں جو اب تک جنگوں میں مال بناتی آئی ہیں وہ نہیں چاہیں گی کہ دوبارہ سے کوئی ایسا سلسلہ شروع ہو جس میں وہ اپنی دیہاڑیاں لگا سکیں۔

    تو آج میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اب امریکہ سکون سے بیٹھنے والا نہیں ہے ایک مخصوص حلقے نے اپنی پوری تیاری کر لی ہے کہ امریکہ سے ایک نئی جنگ شروع کروائی جائے اور اب کی بار یہ کوئی چھوٹی جنگ نہیں ہوگی بلکہ ایک بڑی طاقت کے ساتھ پنگا لیا جائے گا۔ اور کیونکہ مقابلہ ایک مضبوط ملک کے ساتھ ہوگا تو امریکہ اس جنگ میں اکیلا نہیں جائے گا بلکہ اپنے اتحادیوں کوبھی اس جنگ میں گھسیٹے گا۔یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟اور جنگی ہتھیاروں کے حوالے سے امریکہ کی کیا دوغلی پالیسی ہے؟جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ اب کی بار بہت بڑی جنگ ہو گی امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا تو آپ جان لیں کہ بہت زیادہ چانسز ہیں کہ امریکہ اس بار
    Directہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں کرتے آ رہے ہیں۔ اور اب اگر آپ امریکہ سمیت اس کے اتحادی ممالک کے میڈیا پر چلنے والی خبریں بھی دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کے میڈیا پر اس بارے میں بہت زیادہ
    Debateبھی شروع ہو چکی ہے۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے اس بار امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacificمیں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ سب اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ امریکہ نے خود بھی آواز سے پانچ گُنا تیز رفتار میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق2013کے بعد سے اس طرح کے کسی ہتھیار کا یہ اولین تجربہ ہے۔ امریکا کی
    Defence Advance research projects agency (DARPA) طرف سے بھی بتایا گیا ہے کہHyper sonic air weapon concept(HAWC) کی پرواز کا تجربہ گزشتہ ہفتے ہی کیا گیا ہے۔ اسی سال جولائی میں روس نے بھی ہائپر سانک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ روسی صدر نے اس موقع پر کہا تھا کہ اس میزائل کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ جس کے مقابلے میں اب امریکہ نے یہ تجربہ کیا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ کئی دوسرے ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ دنیا میں اب ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔

    جس کی ایک مثال شمالی کوریا بھی ہے جس نے آج ہی ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔لیکن امریکہ کا دوغلا پن دیکھیں کہ وہ اس تجربے می مذمت کر رہا ہے۔ یعنی وہ خود جو مرضی کرے وہ ٹھیک ہے اپنے اتحادیوں کو جو مرضی تربیت دی جائے وہ جائز ہے لیکن اگر کوئی اور ایسا ملک تجربہ کرتا ہے جو امریکہ کا اتحادی نہیں ہے تو اس کی مزمت شروع ہو جاتی ہے۔امریکہ نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل کا یہ تجربہ اقو ام متحدہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور اس کی وجہ سے شمالی کوریا کے پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ہم شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطے کے اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شمالی کوریا نے جب یہ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تو اس سے چند گھنٹے پہلے ہی اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نمائندے نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک کے خلاف دیگر ملکوں کی جو مخالفانہ پالیسیاں ہیں ان کی وجہ سے پیانگ یانگ کو ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف اپنے دفاع اور ملک میں سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے ہی اپنے قومی دفاع کومستحکم کررہے ہیں۔ امریکا نے ہمارے جنوب میں تقریبا 30 ہزار فوجیں تعینات کررکھی ہیں اور کوریا جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ایک ماہ کے دوران شمالی کوریا کا میزائلوں کا یہ تیسرا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے اس نے ایک کروز میزائل اور دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ امریکہ کے علاوہ جنوبی کوریا کی حکومت نے بھی قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ طلب کی اور میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک کم فاصلے تک پہنچنے والا میزائل تھا اور شمالی کوریا نے ایسے وقت اس کا تجربہ کیا ہے جب کوریا میں سیاسی استحکام کی صورت حال بہت نازک ہے۔جنوبی کوریا کے علاوہ امریکی دوست ملک جاپان کے وزیراعظم نے بھی بیان دیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک میزائل کا تجربہ کیا ہے جو بیلسٹک میزائل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے ان کی حکومت نے اپنی چوکسی اورنگرانی تیز کردی ہے۔اس سے آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان میں اگر لڑائی ہوتی بھی ہے تو وہ آپس میں ان کے ملک کے اندر ہی ہو گی لیکن امریکہ کو جو لڑائی کی لت پڑ چکی ہے وہ کہیں زیادہ خطرناک ہے اس لئے آنے والے دن پوری دنیا کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ ضرور کسی نہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ پنگا لے گا۔ اس کے بعد بے شک ان کو کوئی ظاہری ناکامی کیوں نہ ہو لیکن مالی طورپر تو فائدے ہی فائدے ہوں گے۔

  • بلدیاتی الیکشن اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی تحریر : اسامہ خان

    بلدیاتی الیکشن اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی تحریر : اسامہ خان

    بلدیاتی ادارے وہ ادارے ہیں جہاں لوگوں کو ہر دوسرے دن کام پڑتا رہتا ہے ایک کسی کی وفات کسی کی پیدائش کا اندراج کروانا پورے شہر کو صاف ستھرا رکھنا اور ایسے بہت سے کام بلدیاتی اداروں میں کیا جاتے ہیں لیکن عوام کو جو سب سے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ہے صفائی ستھرائی کا نظام بڑے شہروں میں تو بلدیاتی اور پرائیویٹ ادارے ایکٹو
     رہتے ہیں اور صفائی ستھرائی کا کام بہت اچھے طریقے سے نبھاتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور کوئی پوچھے گا بھی کیوں کیونکہ وزیروں نے تو بڑا شہر میں داخل ہوتا ہے نہ چھوٹے شہر میں کوئی داخل ہوگا نہ کسی کو اس چیز کی خبر ہوگی اور غلطی سے کوئی اگر چھوٹے شہروں میں صفائی ستھرائی کے لیے کمپلین بھی کر دیتا ہے تو تب بھی صفائی ستھرائی نہیں کی جاتی کیونکہ ان سے جواب طلب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ان سے پہلے تک جتنی حکومتی گزری انہوں نے کبھی اس چیز پر غور نہیں کیا بڑے شہروں میں تو سب غور کر لیتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کی فریاد کوئی نہیں سنتا سن 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی اور یہ سلسلہ شروع ہوا اس وقت سے سنتے آرہے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن ہوں گے کب ہوں گے یہ کسی کو نہیں پتا لیکن اس حکومت سے بھی میرا وہی گلا ہے جو پچھلی حکومتوں سے رہا ہے پاکستان تحریک انصاف بھی بڑے شہروں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی ہے یا ان کے نمائندے رکھتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کے فریاد سننا ان کے لئے باعث شرم ہے آج اگر ان میں کوئی لاہور سے کمپلین کرتا ہے تو یہ بھاگ کر اس کمپلین کو رجوع کرتے ہیں لیکن اگر کوئی وہی کمپلین چھوٹے شہر سے کرتا ہے تو یہ صرف اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں صرف اس لئے کہ ہمارا اس شعر سے کیا مطلب کیونکہ ان کو مقبولیت تو بڑے شہروں سے مل نہیں ہوتی ہے چھوٹے شہروں کے ان کا کیا لینا دینا سننے میں آرہا ہے کہ جنوری دو ہزار بیس میں بلدیات کے الیکشن ہوں گے میں امید کرتا ہوں اس سے پہلے پہلے ہر شہر میں بلدیات کے لیے فوکل پرسن تعینات کر دیا جائے گا حکومت پنجاب کی طرف سے تاکہ چھوٹے شہروں کے بھی معاملات کو حل کیا جا سکے اگر حکومت پنجاب یہ اقدام سر انجام دیتی ہے تو مجھے امید ہے لوگوں کے 80 فیصد معاملات یہی پر حل ہو جائیں گے اور جب حکومت پنجاب فکر پرسنٹ کائنات کر دے گی بلدیات کے لیے ہر شہر میں تو فوکل پرسن ہر بلدیات کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹیوٹر اکاؤنٹ بنوائے گا جس سے اس شہر کی عوام گھر بیٹھے اپنے مسئلے ٹوئٹر پر شیئر کریں گے فوکل پرسن کو اور بلدیات کے اداروں کو ٹھیک کرتے ہوئے اور فوکل پرسن ان مسلوں کو جلد از جلد حل کروانے کی کوشش کرے گا اس طرح سے ہر شہر کی کاردگی بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائیگی کیونکہ لاہور میں بیٹھے گورنمنٹ پنجاب کے افسروں  کو نہیں پتا  کے چھوٹے شہروں میں کہاں پر کام نہیں ہو رہا اور کہاں پر توجہ کی ضرورت ہے یہ کام صرف اسی شہر کے نمائندے ہی کر سکتے ہیں اور یہ کام حکومت پنجاب کو کرنا چاہیے اگر وہ بلدیات کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں تو اگر ایسا نہ کیا گیا تو بہت سے شہروں میں بہت سے معاملات ہیں جن کی بنا پر بہت سے شہروں سے تحریک انصاف الیکشن ہار سکتی ہے لیکن اگر یہ اقدام اٹھایا جائے تو عوام کے لیے بھی سہولت ہو جائے گی اور حکومت پنجاب کی کارکردگی بھی  بہتر ہو جائے گی
    Twitter: @usamajahnzaib

  • سیاست اور عیاشیاں   تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    سیاست اور عیاشیاں تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    سیاست اور عیاشیاں

    سیاست ایک ایسا معزز شعبہ ہے جس کو کوئی صحیح طریقے سے نبھائے تو وہ عبادت کے زمرے میں آجاتی ہے. تاریخ گواہ ہے کہ پہلے پہل صحابہ رضی اللہ عنہ نے ایسے ایسے حکمرانی کی جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی اور ان حکومتوں کی تعریف صرف مسلمان نہیں بلکہ کافر بھی کرتے ہیں. وہ ایسی سلطنت بنی تھی جس میں تپتی صحرا میں بھی خاتون کو خود محفوظ سمجھتی تھی.

    سیاست اور عیاشی کا تعلق بہت قریب رہا ہے اور عیاشیوں کی وجہ سے ہی مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنت زمین بوس ہوگئی.
    آج مسلمانوں کی غالب اکثریت جوکروڑوں تک جاپہنچی ہے مگر پھر بھی لاچار زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ خستہ حالی ان کامقدر بنی ہوئی ہے اور ان کی معیشت اور نظام تباہی کا شکار ہے۔ ان سب کی سے بڑی وجہ حکمرانوں کی عیاشیاں ہے.

    مسلمانوں کی برصغیر پر ایک عظیم حکومت تھی مگر  جب مسلمان حکمرانوں نے عیاشیاں شروع کردی اور انگریزوں نے برصغیر کی تجارت اپنے ہاتھ میں لے لی.
    تو پھر مسلمانوں پر ایسا وقت بھی آیا کہ مسلمانوں کے حکمران جیل کی سلاخوں میں بند ہوگئے اور اپنے وطن میں دفن ہونے کی آرزو بھی پورا نہیں ہوئی.

    جس وقت یورپ کے حکمران بہترین کالج، ریسرچ سنٹر اور یونیورسٹیاں بنا رہے تھے اس وقت ہمارے عیاش حکمران تاج محل، باغات تعمیر کررہے تھے. اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکمران قوم کی ترقی میں سنجیدہ تھے یا عیاشیوں میں؟

    پاکستان کے حکمران عیاشیوں میں ڈھوبے نہیں ہے بلکہ تمام عالم اسلام کے حکمران عیاشیوں میں ڈھوبے ہوئے ہے. میڈیا میں ایک عرب شہزادے فیصل بن فہد کی خبر شائع ہوئی جس نے جوئے کی ایک میز پر 10کھرب ڈالر (یعنی تقریباً چھ سو کھرب روپے) ہارے.
    عرب حکمرانوں نے اپنے عیاشیوں کیلئے دبئی جیسا شہر بنا ڈالا.

    پاکستان کے اہم محکموں کے دفاتر میں حریم شاہ جیسے فحاش لڑکیاں کا آنا جانا لگا رہنا اور وہاں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا عام بات بن گئی ہے. پاکستان کے حکمرانوں کی عیاشیوں میں جنرل رانی کا نام سرفہرست ہے جس نے اپنے حسن کے جلوے دیکھا کر ملک کی اہم ترین خاتون بن گئی اور صدر پاکستان ان کے انگلیوں پر ناچتے تھے. جس ملک میں اتنی فحاشی پھیلی ہوئی ہوں اس میں سابق گورنر سندھ زبیر عمر کی ویڈیو تو ایک ذرہ ہے. یہ تو اس ملک کی معمول بن چکا ہے کہ اعلیٰ افسران اور سیاست دان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر ان کو ہراساں کرتے ہیں.

    "پارلیمنٹ سے بازار حسن تک ” کتاب نے اس لئے شہرت حاصل کی کہ اس میں پارلیمنٹ سے جڑے لوگوں ، حکومتی ایوانوں اور سیاستدانوں کے عیاشیوں کے قصے لکھے ہوئے تھے.
    نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں طاہرہ سید کو پرائم منسٹر ہاوس میں "خاتون اول "کا درجہ حاصل تھا دونوں کے عیاشیوں کے قصے کسی سے ڈھکے چھپے نہ رہے. طاہرہ سید کو بہت مالی فوائد حاصل ہوئے اور میاں صاحب نے مری میں پنجاب ٹورازم ڈویلپمینٹ کارپوریشن کی چئیر لفٹ بھی طاہرہ سید کو دے دی.
    اس کتاب میں پاکستان کے سیاستدانوں کے وہ عیش پرستانہ واقعات لکھے گئے ہیں جس پر ایک محب وطن کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہے.

    ٹوئٹر ہینڈل : @ZeeAkhwand10

  • امریکہ بہادر اور مکافاتِ عمل   تحریر: یاسرشہزادتنولی

    امریکہ بہادر اور مکافاتِ عمل  تحریر: یاسرشہزادتنولی

    ۔

    طاقت کے نشے میں چور امریکہ بہادر جس نے دنیا میں ظلم بربریت کے وہ شرمناک کھیل کھیلے کے معصوم انسانیت نے سر شرم سے جھکا لئے ۔ پوری دنیا پر آقا کی صورت میں مسلط ہونے کی خواہش میں امریکہ سامراج انسانیت کی ہر اس حد سے گزر ا ہے کہ جہاں دنیا کی ہر پستی اور ذلالت بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ کبھی امریکہ بہادر نے ”ویت نام’ میں خون کی ہولی کھیلی تو کبھی ہیرو شیمااور ناگا ساکی  پر ایٹمی آگ برسا کر بے گناہ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔ جاپان کی لاکھوں بے گناہ عوام کو موت کے گھاٹ اتار کر بھی امریکی درندوں کی خونخوار آنکھیں مزید انسانوں کے خون کی پیاسی ہی رہیں۔ اور اسی تناظر مین عراق کے صدر صدام حسین کو بنیاد بنا کر اندھا دُھند عراق پر یلغار کر دی امریکہ کو مسلمانوں سے تو خاص کر خدا واسطے کا بیر ہے عراق میں امریکہ نے نہتی عوام بوڑھوں، بچوں اور خواتین پر وحشی پن اور درندگی کی وہ انسانیت سوز تاریخ رقم کی جسے دیکھ کر لوگ چنگیزی دور کے مظالم بھی بھو ل گئے خبر کچھ یوں ہے کہ امریکہ کے کم وبیش 40ہزار فوجیوں نے یہ کہتے ہوئے استعفے دے دیئے ہیں کہ امریکہ کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر عراق میں ہمارے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو مروایا ہے۔ عراق کے مسلمان بالکل بے گناہ تھے اور ہم نے ناحق ان معصوم لوگوں کو خون بہایا ہے امریکی استعفیٰ دینے والے فوجیوںنے مزید کہا کہ ہمارا ضمیر ہمیں بری طرح بے چین رکھتا ہے کہ ہم نے کتنے ہی بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بے دردی سے ہلاک کیا ہے ان معصوم عراقیوں کا کوئی قصور نہ تھا وہ ہم سے لڑنے نہیں آئے تھے بلکہ ہم خود ان سے لڑنے ان کے ملک گے تھے ہم فوجیوں کو یہ باور کرایا گیا تھا تم حق و سچ کی وہ جنگ لڑنے جا رہے ہو جس میں تمہاری اور تمہارے مذہب کی بقا ہے لیکن آج ہمیں اس خوفناک حقیقت کا ادراک ہو ا ہے کہ یہ جنگ نہ ہی ہمارے مذہب کی تھی اور نہ ہی ہماری بقاء کی تھی بلکہ یہ لڑائی جارج بُش اور کلنٹن اپنے اقتدار کیلئے اور امریکی عوام کے سامنے ہیرو بننے کیلئے لڑ رہے تھے۔ اور یہی برسرا قتدار خون خوار ٹولہ اپنے اقتدار کے محل ان بے گناہ مسلمانوں کے خون سے تعمیر کرتا رہا۔ اور ہر امریکی برسرِ اقتدار ٹولے نے بے گناہ انسانیت کے خون خرابے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ۔ آج ہم اپنے ہی ضمیر کے مجرم ہیں ہمارا ضمیر ہم سے بار بار یہ سوال کر رہا ہے کہ لاکھوں نہتے اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرکے تم نے کون سا کمال کیا ہے۔ ان معصوموں کے خون سے تم نے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرکے کبھی ایک ظالم اور کبھی دوسرے درندے کے اقتدار کو مضبوط کیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے امریکی فوجیوں نے حکومت سے ملنے والے ”گولڈ میڈل” اٹھا کر دور پھینک دیئے گولڈ میڈل پھینکتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے امریکی فوجی جوتے اٹھا اٹھا کر امریکہ کے منہ پر مار رہے ہوں استعفے دینے والے فوجیوں نے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیا کہ ہم عراقی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ہم ان بے گناہ مسلمانوں کے خون کا ہر قیمت پر ازالہ کریں گے جو ہمارے ہاتھوں ناحق مٹی کی خوراک بنے ہیں۔ خداوندتعالیٰ کی ذات بہت عظیم ہے ، امریکہ ہر جگہ سے ہمیشہ ذلیل خوار ہو کے ہی بھاگا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کی ہمارے سامنے ہے ۔ بس میں صرف اتنا کہوں گا کہ امریکہ کے رہنے والے 40ہزار امریکی فوجی جب استعفے دے کر امریکہ کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر سکتے ہیں توہم دنیا بھر کے مسلمان خدا اور خدا کے رسول کے نام پر یکجاء ہو کر مسلمانوں کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو مروڑ کر پھینکنے کی طاق کیوں نہیں رکھتے۔ دنیا کے تمام مسلامونں کو انفرادی فائدے کا پسِ پشت ڈال کر اجتماعی سوچ کو اپنا کر عصرِ حاضر کے تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک متفق اور مستحکم قوم بننا ہوگا۔ اور اس میں ہم سب کی بقاہے۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں   تحریر: علی خان

    بلاول بھٹو کی قبل ازوقت سیاسی ٹکریں  تحریر: علی خان

    @hidesidewithak 

    ابھی ان  تِلوں میں تیل نہیں 

    ماں باپ سے بچوں کو وراثت منتقل ہونا تقریباً تمام معاشروں کی روایت ہے،،، والدین اپنی زندگی میں بچوں کو اپنی جائیداد کا وارث بنادیتے ہیں یا پھر انتقال کے بعد بچوں کو قوانین کے مطابق جائیداد، کاروبار بعض صورتوں میں نوکری وراثت میں ملتی ہے،،، سیاستدانوں کی جانب سے بچوں کو سیاسی وارث بھی بنایا جاتا ہے،،، مغربی معاشروں کو چھوڑ کر یہ روایت تقریباً تمام معاشروں میں پائی جاتی ہے کہ سردار کا بیٹا سردار اور وڈیرے کا بیٹا وڈیرہ بنتا ہے اور اپنے علاقے میں خاندان کی سیاسی روایات کو آگے بڑھاتا ہے،،، مضبوط جمہوری معاشروں میں بھی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں جیسے کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے والد بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہے،،، اسی طرح امریکی صدور بش سینئر اور جونئیر بھی اسی کی مثال ہیں

    مغربی سیاسی روایات اور ہمارے ہاں واضح فرق سیاسی جماعتوں کا ہے،،، مغربی سیاسی جماعتوں میں جماعت کی قیادت کی خاندان کی وراثت نہیں ہوتی،،، وطن عزیز میں اسے بھی وراثت کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے،،، یہ روایت بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی پائی جاتی ہے،،، یہی کافی حد تک روایتی معاشرتی اور ملکی پسماندگی کی ذمہ دار بھی ہے،،، لیڈران کے بچوں کو بیٹھے بٹھائے بغیر محنت کے پہلے پارٹی اور پھر اقتدار کا سنگھاسن ملتا ہے تو اسے وہ خاندانی حق سمجھ کر مزے کرتے ہیں اور عوامی بہبود کا سوال کہیں پس پشت چلا جاتا ہے

    ایسے ہی ایک لیڈر ہمارے بلاول بھٹو زرداری صاحب بھی ہیں کہ جنہیں والدہ کی شہادت کےبعد پارٹی کا کرتا دھرتا بنایا گیا،،، بلاول بھٹو کے حامی انکے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہونے اور شہدا کا وارث ہونے جیسے اوصاف گنواتے ہیں لیکن غیر جانبدار تجزیہ کار انکی سیاسی ناپختگی کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں،،، آصف علی زرداری صاحب کی جانب سے پارٹی کمان انکے ہاتھ اس امید پر دی گئی تھی کہ بلاول اپنی سیاسی وراثت کے بل بوتے دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پارٹی کو بہتر پوزیشن دلا پائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا،،، بلاول صاحب کی سیاسی وراثت میں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھاری بھرکم کارنامے گنوائے جاتے ہیں لیکن انکی اپنی جماعت سندھ میں قریب تیرہ سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود سندھ کی بدترین حالت زار کسی سے چھپی نہیں ہے،،، بلاول بھٹو کی جانب سے یا تو موجودہ حکومت کی کارکردگی کا رونا ہوتا ہے یا پھر سندھ کی محرومیوں کا ،،، بلاول کی جانب سے سندھ کارڈ کھیلنا انکے والد آصف علی زرداری کا فیصلہ نظر آتا ہے جو بہت بار سبکی کا باعث بن چکا ہے

    بلاول بھٹو کے "زیادہ بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے” جیسے بیانات انکی ناپختگی پر مہر ثبت کرتے ہیں،،، گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں پہلے جیت اور پھر دھاندلی کے دعوے کچھ سنجیدہ تاثر نہیں چھوڑ رہے،، انکی زیر قیادت پارٹی نے سندھ کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت میں بھی حکومت کی لیکن عوامی فلاح کا کوئی بھی پائیدار اور ٹھوس منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہی،،، جب بھی سندھ حکومت کے کسی منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بے انتظامی جیسے معاملات کی بات ہوتی ہے تو بلاول بھٹو سندھ پر حملہ نامنظور جیسا رٹا رٹایا نعرہ لگا دیتے ہیں اور اصل سوال کو نظر انداز کردیتے ہیں،،، عوام کی جانب سے انکی ہمشیرہ آصفہ بھٹو کی سیاسی پختگی کو زیادہ پسند کیاگیا ہے،،، بلاول بھٹو کو جب پیپلزپارٹی کی قیادت دی گئی تو یہ وفاق میں حکومت کرنے والی وہ جماعت تھی جسکی تمام صوبوں میں موجودگی تھی لیکن اب یہ ایک صوبے تک محدود جماعت نظر آرہی ہے،،، بلاول بھٹو کے وقت سے قبل میدان میں اتارے جانے کا سب سے زیادہ نقصان انکی اپنی جماعت کو ہوا ہے،،، پی پی سربراہ کو سیاسی بلوغت نہ دکھائی تو بعید نہیں کہ آئندہ کیا مزید کئی الیکشن تک پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر بننے کی بجائے صوبے سے بھی لاڑکانہ تک محدود ہوجائے

  • بطلِ حریت ۔۔۔ وفا کا پیکر۔۔۔ سید علی گیلانی. تحریر: عرفان صادق

    بطلِ حریت ۔۔۔ وفا کا پیکر۔۔۔ سید علی گیلانی. تحریر: عرفان صادق

    لہجے کو ذرا دیکھ جوان ہے کہ نہیں ہے
    بالوں کی سفیدی کو بڑھاپا نہیں کہتے

    ایک سوال اکثر ہمارے اذہان میں ابھرتا ہے کہ آخر بڑے شخص کی تعریف کیا ہونی چاہیے بڑے شخص سے کیا مراد ہے۔؟ ایک صاحب جاہ و ثروت بھی بڑا شخص ہو سکتا ہے، ایک عالی دماغ فلسفی بھی بڑا شخص مانا جا سکتا ہے، ایک نازک خیال شاعر،ایک عالم متبحر،ایک کامل سیاستدان ،یہ سب بڑے شخص ہو سکتے ہیں۔۔۔لیکن در حقیقت جسے بڑا شخص مانا اور سمجھا جاتا ہے وہ،وہ ہے جو اپنے افکار سےدلوں میں ولولہ ،دماغوں میں جلا اور خیالات میں انقلاب پیدا کر دے قوم کو تاریکی کی دلدل سے نکال کر اجالے میں لے آئے پستی و ذلالت سے موڑ کر اس راستے پر لے آئے جسے "صراط مستقیم”کہا جاتا ہے۔

    دیگر بڑے لوگوں کی طرح خلقِ خدا اور خصوصا کشمیریوں کی یہی خدمت "سید علی گیلانی”نے "آزادی کا نعرہ”بلند کر کے انجام دی۔انہوں نے بھارتی حکمرانوں کے بنائے ہوئے خوف کے بت کو توڑا۔غلامی کے خیالاتِ باطلہ کے بتوں کو پاش پاش کیا اور اذہان کو ایک مکمل آزادی سے روشناس کروانے کا بیڑا اٹھایا۔یہ انقلاب محترم سید علی گیلانی نے اپنے حیاتِ آفرین خیالات سے برپا کیا۔

    قیام پاکستان اور بانیء پاکستان کی آنکھیں بند کرنے کے بعد بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبصہ کر لیا بھارتی حکام ریاست جموں کشمیر کا آزادی کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے انھون نے کشمیر کی اس تاریک زمین پر مہتاب کو چمکنے سے روک دیا لیکن وہ اس حقیقت کو پسِ پشت ڈال چکے تھے کہ تاریکیاں اور اندھیرے جتنے گہرے ہوتے ہیں آخر ایک روز چھٹ جایا کرتے ہیں۔ہر شب کے بعد سحر قدرت کا حکم ازل ہے۔ کبھی مٹھی کے طاقچے میں روشنی کو قید نہیں کیا جاسکتا۔لیکن پھر بھی وہ اپنے پراگندہ عزائم کی پرورش میں مصروف رہے۔اقوامِ متحدہ اور پوری دنیا کے سامنے کیے ہوئے وعدوں سے مکر گئے۔کیونکہ وہ اس حقیقت سے نابلد تھے کہ خدا نے اس مظلوم قوم کی آہیں سن لی ہیں ان پر قبولیت کی مہر ثبت کر دی ہے۔اور جموں کشمیر کو سید علی گیلانی کی صورت(29ستمبر 1929ء) ایک ایسا بیٹا عطا کیا جو اپنی آخری سانس تک آزادی کی جنگ لڑے گا۔

    جموں کشمیر کے سیاسی رہنما جن کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے تھا۔اپنے تعلیمی دورانیے میں جب وہ اورینٹل کالج لاہور آئےتو اس وقت جماعت اسلامی کے خیالات سے بہت متاثر ہوئے اور پھر جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن کشمیر لوٹے تو باقاعدہ جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی جماعت کے چوٹی کے رہنماووں میں آپ کا شمار ہونے لگا۔

    آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جماعت اسلامی میں ممبری کے ساتھ معروف عالمی فورم”رابطہ عالم اسلامی”کے بھی رکن رہے۔گیلانی یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلی کشمیری جانباز تھے۔فکرِ حریت کی شمع جلانے والے یہ عظیم محسن کشمیریوں کے اذہان کو آزادی کی جانب متوجہ کرنے والے ایک متحرک اور سرگرم رکن تھے جنھوں نے ہمیشہ بھارتی حکام اور افواج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آزادی کا نعرہ لگایا کرتے یہی وجہ ہے کہ آپ کشمیریوں کا مضبوط بازو بنے اور جدوجہد آزادی کے لیے”تحریک آزادی”کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا جسے آگے چل کر بہت شہرت ملی اور یہ کل جماعتی حریت کانفرنس کا حصہ ہے۔

    آزادی اور جدوجہد کے اس استعارے کو بھارت سرکار نے خریدنے کی بارہا کوشش کی ہر اوچھا ہتھکنڈا عمل میں لایا گیا ہر حربہ آزمایا گیا مگر یہ بہادر ٹس سے مس نہ ہوئے اور ڈٹے رہے۔دباؤ جس قدر بڑھتا گیا گیلانی کا جزبہ حریت پختہ اور مزید پختہ ہوتا چلا گیا۔

    سید علی گیلانی کی زندگی میں کئی مواقع ایسے آئے جب وہ اپنے لیے ایک پرسکون اور مراعات پسند زندگی کا انتخاب کر سکتے تھے اور کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کا گلا گھونٹ سکتے تھے لیکن آپ نے اپنی ذات پر کشمیریوں کی آزادی کو ترجیح دی اور ڈنکے کی چوٹ پر کشمیریوں کے حق کے لیے ڈٹے رہے۔پوری زندگی بھارتی مظالم اور ریاستی جبر کے سامنے سینہ سپر رہے لیکن کبھی جھکے نہیں بھارتیوں کو یہ باور کروا دیا کہ اس سپوت کا تعلق اس نبی کی امت سے ہے جو جام شہادت تو بخوشی پی لیتی ہے،سر تو کٹا سکتی لیکن سر جھکاتی نہیں۔ جیتے ہیں تو شان اور آن سے اور جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو دنیا والے ان پر رشک کرتے ہیں۔

    سید علی گیلانی، اقبال کی مردِ مومن کی تمام صفات اپنے اندر لیے ہوئے تھے۔ اقبال کے اس مرد مومن نے زندگی کی نوے بہاریں دیکھیں جن میں بیشتر حصہ کشمیریوں کے حوصلے بلند کرنے ،آزادی کی پہچان کروانے،مقدمے بھگتنے،جیلیں کاٹنے اور نظر بندیوں کا سامنا کرتے گزارا لیکن پھر بھی آزادی کے مطالبے سے منہ نہ موڑا۔ غلامی کی زندگی کو توہینِ زندگی قرار دیتے رہے اور اس ظالم سامراج سے ٹکر کی جس کی ظلم وبربریت کے پیشِ نظر یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ پسپا ہو سکتا ہے اس سب کے باوجود حریت پسند رہنما آزادی کے جذبے سے سرشار تھے ان کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی اور ہمیشہ اس نعرے کی صدا لگاتے رہے۔

    "اسلام کی نسبت سے، اسلام کے تعلق سے،اسلام کی محبت سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے”

    یہ دین اسلام سے محبت اور جذباتی لگاو تھا اور ان کا یہ جملہ ان کے ملت اسلامیہ کے تصور کو پوری طرح اجاگر کرتا ہے۔
    ہمت ،جرات،شجاعت اورعزم واستقلال کا پیکر،جدوجہد کااستعارہ،بابائے آزادی سید علی گیلانی کشمیریوں کو روتا چھوڑ اس جہان فانی سے پردہ فرما گئے۔وفا و اخلاص کا یہ پیکر آزادی کی تڑپ لے کر اس دنیا میں آئے اور لمحہء آخری تک اس تگ ودو میں مصروف رہے۔خود تو چلے گئے لیکن کشمیریوں کو آزادی کا شعور اور آدرش دے گئے جو قابض حکمرانوں کو کبھی چین کی نیند سونے نہ دے گا۔۔۔۔جب تک مقبوضہ جموں کشمیر کے لیے آزادی کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا سید علی گیلانی کی آواز بھی کانوں کو سنائی دے گی۔

    آپ کی کاوشوں، جدوجہد،اور عمل پیہم کو ہر پاکستانی کا سلام!
    خداتعالی آپ کی لحد پر اپنی رحمت کی شبنم افشانی کرے(آمین)

    @IrfanSOfficial