Baaghi TV

Category: سیاست

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ  حصہ دوم۔

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ حصہ دوم۔

    ویت نام ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ یہ اقتصادی ترقی میں چین کا حریف
    ثابت ہوا۔ اس کی برآمدات اس کے جی ڈیپی کی کل قیمت کے برابر ہیں۔ نائکی اسپورٹس
     ویئر سے لے کر سام سنگ اسمارٹ فون تک کوئی بھی چیز اس آسیان قوم میں تیار کی
    جاتی ہے۔

    جاپانی اور کورین الیکٹرونکس کمپنیاں جیسے سام سنگ ، ایل جی ، اولمپس، پاینیر
    اور ان گنت یورپی اور امریکی ملبوسات بنانے والوںنے یہاں اپنی مارکیٹ بنائی۔
    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں ویت نام خطے میں کپڑوں کا سب سے بڑا
    اور الیکٹرانکسکا دوسرا بڑا برآمد کنندہ تھا۔ چوتھا صنعتی انقلاب جنوب مشرقی
    ایشیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ 2010 کے بعد سے ، ویتنام کی جی ڈی پی نمو
    ہر سال کم از کم 5 فیصد رہی ہے ، اور 2017 میں یہ 6.8 فیصد پر پہنچ گئی۔ اور یہ
     غریب ترین ممالک سے ایکدرمیانی آمدنی والے ملک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ جبکہ
     1985 میں اس کی فی کس جی ڈی پی بمشکل $ 230 تھی ، یہ 2017 میں ($ 2،343) سے دس
     گنا زیادہ تھی۔

    ترقی کے عمل کو زیادہ جامع اور پائیدار بنانے میں  خواتین نے بھی بہترین
    کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔  ویتنام میں ابتداء سے ہی خواتینکے کام کرنے کی حوصلہ
    افزائی کی گئی اور ان کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا گیا۔ ترقی یافتہ قوموں کی
    تاریخ نکال کر دیکھیں تو یہ باتواضح ہوتی ہے کہ جب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ
    کام کرتی ہیں تو ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ چین اور جاپانکے
    بعد ویت نام اس کی نمایاں مثال ہے۔

    ابتداء میں توجہ کا مرکز زیادہ تر تعلیم تھی۔ لیکن 1992 میں صحت کے شعبے پر بھی
     توجہ دی گئی۔ ہیلتھ انشورنس کا نظام متعارف کرایاگیا۔ ابتداء میں ملازمین اور
    ورکرز کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کی گئی۔  ویت نام کی 73 فیصد آبادی کو
    صحت کی ضروریسہولیات تک رسائی حاصل ہے۔ 2017 میں ہیلتھ انشورنس کوریج 86.4 فیصد
     تھی۔صاف پانی تک رسائی حاصل کرنے والےگھرانوں کی تعداد 78.1 فیصد ہے جس میں ہر
     سال اضافہ ہو رہا ہے۔

    پچھلے 30 سالوں میں ویت نام ، ایک غریب ، جنگ زدہ ملک سے، دنیا کی ایک تیزی سے
    متحرک معیشت کے ساتھ ایک نئے صنعتی”شیر” میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

    ملک کی مسلسل معاشی ترقی مختلف عوامل پر منحصر ہے ، بشمول بیرونی براہ راست
    سرمایہ کاری، سیاسی استحکام ، بنیادی ڈھانچے کیترقی ، اور بدعنوانی سے پاک
    ریگولیٹری نظام۔ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی کو بڑھانا حکومت کے
    بنیادی مقاصد ہیں۔

    ویت نام کا غربت سے نکلنا اور اس کی معاشی ترقی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کو
     پگھلانے اور اس کے نتیجے میں تجارتی اورسرمایہ کاری کے روابط کو بہتر بنانے کے
     لیے ایک اچھا سودا ہے۔ امریکہ ویت نام کا چین کے بعد دوسرا بڑا تجارتی شراکت
    دار ہے۔

    ویت نام نے طویل تھکا دینے والی جنگ کے بعد ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے
    جو کوششیں کیں وہ بین الاقوامی رینکنگ میںنظر انداز نہیں ہوئیں۔ ورلڈ اکنامک
    فورم کی عالمی مسابقتی رپورٹ میں ، ویت نام 2006 میں 77 ویں نمبر سے بڑھ کر
     2017 میں 55 ویں نمبر پر آگیا۔ اس دوران ویت نام نے معاہدوں کو نافذ کرنے ،
    کریڈٹ اور بجلی تک رسائی بڑھانے ، ٹیکس ادا کرنے اورسرحدپار تجارت کرنے سے لے
    کر ہر چیز میں پیش رفت کی۔ آخر میں ، ویت نام نے اپنی افرادی قوت کو بڑھانے اور
     بنیادی ڈھانچےمیں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی۔

    ویت نام کا معاشی مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ویت نام آنے
    والی دہائیوں میں تیزی سے ترقی کرتا رہے گااور 2050 تک دنیا کی 20 ویں بڑی
    معیشت بن جائے گا۔

    ویتنام نے جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد نا مساعد حالات میں دنیا میں اپنا مقام
    بنانے کے لیے جو جدوجہد کی ہے وہ ان تمام ممالککے ایک مثال ہے جو بہتر حالات
    میسر آنے کے باوجود ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ تعلیم تک سب کی رسائی، غریب
    اور وہ لوگجو سکول نہیں جا سکتے ان کو تعلیم دینا، تعلیمی نظام کو جدید ضروریات
     سے ہم آہنگ کرنا ویتنام کے Doi Moi ماڈل کی اولین ترجیحتھی۔ اس کے بعد بجلی کی
     پیداوار اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل تھی۔
    ترقی پذیر ممالک کو اناصولوں کو سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔
    پہلے نمبر پر تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔ جو کامیاب
    شہری بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس کے بعد ملکی پیداوار میں
    اضافے کے لیے توانائی کی بلاتعطل فراہمی بہتضروری ہے۔ مہنگائی پر قابو پانا اور
     مزدوروں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت دی جائے تو شہری دلجمعی کے ساتھ ملکی
    ترقی میںاپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہو
    رہی ہوں تو ترقی اور پیداوار کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتاہے۔ عام طور پر
    دیکھا گیا ہے کہ حکومتیں ذاتی مفادات، جھگڑوں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے
    میں وقت گذار دیتی ہیں۔ اورملکی مفادات کہیں پس پشت رکھ دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ
    ہے کہ جن ممالک میں سیاسی عدم استحکام ہو، تعلیمی نظام فرسودہ ہو اورصنعتی شعبے
     پر توجہ نہ دی جائے تو وہ ملک کبھی بھی ترقی اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن
    نہیں ہوتے۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • سیاسی منظرنامہ;  تحریر فرازرؤف

    سیاسی منظرنامہ;  تحریر فرازرؤف

    پاکستان میں سیاسی منظر نامہ جاننے کے لیے ہوا کے رخ کو سمجھنا ایک حکمت ہے۔ کچھ لوگ اس ہوا کو اسٹیبلشمنٹ کا نام دیتے ہیں اور کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ پرندے جس طرف اڑنا شروع کر دیں تو سمجھ جائیں کہ ہوا کا رخ بھی اسی طرف ہے۔

    اگر ہم مختلف ادوار کے الیکشنوں کا پوسٹ مارٹم کریں تو ہمیں آسانی سے پتہ چل سکتا ہے کے وہ کیا عوامل ہیں کہ الیکشن آنے سے پہلے کچھ پرندے پھڑ پھڑانے لگتے ہیں۔ ان پرندوں کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کے آنے والے الیکشن میں ہوا کا رخ کس طرف ہوگا۔ آسان لفظوں میں ان پرندوں کو الیکٹیبلز بھی کہا جاتا ہے جو الیکشن لڑنے کی سائنس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور نسل در نسل ان حلقوں سے مسلسل جیتے آ رہے ہیں۔

    یہ الیکٹیبلز جیت کی ضمانت ہوتے ہیں جو اپنے حلقے میں ہر ممکن اعتبار سے الیکشن جیتنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہر پارٹی نے ٹکٹ دیتے ہوئے الیکٹیبلز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ جس پارٹی میں شمولیت اختیار کریں سمجھ جائیں کہ آنے والے الیکشن میں وہی پارٹی حکومت بنائے گی۔ الیکٹیبلز کا یہ دھندہ اس ملک کے لیے ناسور بن چکا ہے۔

    یہ الیکٹیبلز سسٹم کے ساتھ ایسے جڑے ہوتے ہیں جیسے مکھیاں اپنے چھتے کے ساتھ، اور یہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بناتے جاتے ہیں تاکہ کوئی بھی آنے والا اس سٹیٹس کو کو بدل نہ سکے اور وہ آسانی سے کرپشن کے اس دھندے کو جاری رکھ سکیں جو وہ پچھلی حکومتوں میں کرتے آئے۔

    تحریک انصاف کی حکومت 2018 کے الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں لینے والی جماعت بن کر ابھری الیکشن ہونے سے پہلے تحریک انصاف نے بھی وہی غلطی کی جو پچھلی حکومتوں یا حکمرانوں نے کی، انہیں سٹیٹس کو کے حامیوں کو پارٹی ٹکٹ دیا جنہیں ہم الیکٹیبلز کہتے ہیں، جو لیکشن جیتنے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے یہ انہیں حلقوں سے نسل در نسل الیکشن جیت رہے ہیں اور یہ با آسانی سے ہر الیکشن کو منو پلیٹ کرکے جیت جاتے ہیں. الیکشن 2018 کا رزلٹ بھی کچھ اسی طرح کا تھا جس کی توقع کی جارہی تھی۔

    آپ تھوڑی نظر الیکشن سے پہلے کے ماحول پر ڈال لیتے ہیں، اگر آپ کو یاد ہو الیکشن 2018 سے پہلے ہوا کا رخ بدل گیا بہت سارے الیکٹیبلز مسلم لیگ نون کو چھوڑ کرتحریک انصاف میں شامل ہونا شروع ہوگئے توقع کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف ان الیکٹیبلز کے بل بوتے پر ان الیکشن میں مجارٹی سیٹیں لے جائے گی اور ملک میں پہلی بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔

    تحریک انصاف الیکشن تو جیت گئی لیکن ہوا وہی جس کا ڈر تھا ان الیکٹیبلز کے بل بوتے پر آپ الیکشن تو جیت سکتے ہیں لیکن ملک میں حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو اسٹیٹس کو کو چمٹے رہتے ہیں۔ آج بھی ملک میں وہی تھانہ کچہری کی سیاست چل رہی ہے اپنی مرضی کے ایس ایچ او ڈی پی او لگوائے جاتے ہیں تاکہ حلقے کو اپنی گرفت میں رکھ سکیں۔ 

    الیکشن میں آنے سے پہلے تحریک انصاف کے منشور میں اصلاحات پر بہت زور دیا گیا; اس میں بیروکریسی اور پولیس ریفامز سرفہرست تھے۔

    تحریک انصاف کی حکومت کو سوا تین سال ہونے کو ہیں ابھی تک اداروں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی جاسکی جن اداروں میں اصلاحات کی گئی ہیں وہاں یا تو امپلیمنٹیشن کا مسئلہ چل رہا ہے یا پھر ان اداروں میں بیٹھے بابو صاحبان ان ریفارمز میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ابھی حال ہی میں تحریک انصاف کی حکومت نے صاف شفاف الیکشن کروانے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا منصوبہ بنایا جس کو الیکشن کمیشن سمیت اسٹیٹس کو کی تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر ریجکٹ کردیا ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اگر صاف شفاف الیکشن ہو گئے تو ان تمام الیکٹیبلز کی دکانیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گی۔ 

    دوسری ایک بڑی وجہ ان الیکٹیبلز کے حلقے کی عوام آج بھی پسماندہ ہے نا سکول ہیں نہ ہسپتال اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، اگر ان حلقوں میں آزاد شفاف الیکشن ہو جائیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں یہ تمام الیکٹیبلز انہی حلقوں سے بری طرح ہار جائیں گے۔ معروف سیاسی رہنما اور مایاناز وکیل جناب اعتزاز احسن نے ایک ٹی وی پروگرام میں انشکاف کیا تھا کے ہر حلقے میں بیس سے تیس ہزار ایسے جیلی ووٹ موجود ہیں جسے یہ الیکٹیبلز استعمال کرکے ہر دفعہ الیکشن جیت جاتے ہیں۔

    حالیہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے تمام جماعتوں سے زیادہ سیٹیں لی اور الیکشن 2021 جیت کے آزاد کشمیر میں حکومت بنا لی۔ اگر آپ ایک گہری نظر ان تمام اسمبلی ممبران پر ڈالیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ تمام ممبران اس سے پہلے پچھلی جماعتوں میں موجود تھے یا پھر پچھلی حکومت کا حصہ تھے۔

    الیکٹیبلز کی اس گندی سیاست کو ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو آگے بڑھ کر تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ایک جامع مذاکرات کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ آنے والے الیکشن میں صاف شفاف الیکشن ہو سکیں اور اسمبلی میں اصل عوامی نمائندے پہنچیں جو عوام کی مشکلات کا ازالہ کر سکیں انہیں وہ سہولیات دے سکیں جس کے وہ حقدار ہیں اور آئین پاکستان میں درج ہے۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

    Facebook Page: @farazrajpootpti

    Website: www.farazrauf.com

  • حنا کی شہزادی تحریر  اویس گیلانی

    حنا کی شہزادی تحریر اویس گیلانی

    اچھے برانڈڈ کپڑے پہننا اور اپنے چاہنے والوں سے اپنی تعریف لینا ایک فطری عمل ہے۔ آج کی اس ماڈرن فیشن کی دنیا میں اچھے لباس زیب تن کیے ہوئے ہمیں بہت سے چمکتے چہرے میڈیا، اخبارات، فیشن شو میں روز نظر آتے ہیں اور انکے مداح انکی جھلک دیکھنے اور انکے سٹائل کو کاپی کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

    مگر اس بنائو سنگھار کا عوامی نمائندے اور ایک حاکم سے کیا لینا دینا؟ دنیا میں کئ لیڈر آئے اور گئے مگر کیا دنیا کسی لیڈر، وقت کے حاکم کو محض اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ سٹائل کی دنیا کا بے تاج بادشاہ یا شہزادی تھی۔

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو کیا دنیا آج اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ اچھے برانڈڈ سوٹ پہنتے تھے؟ ہرگز نہیں دنیا آج انہیں انکی سیاسی سوچ اور مسلمان قوم کے لیے ایک الگ ملک کی بنیاد پر انکی قربانیوں کی وجہ سے ہی یاد کرتی ہے۔ اب انہی کے ہی مدمقابل بھارت کے بانی لیڈر مہاتما گاندھی جی کو کیا دنیا انکے سٹائل کی وجہ سے یاد کرتی ہے؟ حالنکہ وہ تو قمیض بھی نہیں پہنتے تھے صرف دھوتی پہنتے تھے۔ مگر دنیا آج بھی انکی سیاسی سوچ اور ملک کے لیے خدمات کی وجہ سے انہیں یاد رکھتی ہے۔  بھارتی وزیراعظم کے حالیہ امریکہ دورے پر امریکی صدر بائیڈن نے بھی مودی کو گاندھی جی کی عدم تشدد فلسفہ پر لیچر دیا۔

    حال ہی میں جرمنی کی چانسلر انجلیا مرکل نے 16 سال اقتدار کے بعد پاور کو خیر بعد کہا۔ مگر اپنے اس طویل اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے اپنےکسی رشتے دار کو کسی بڑے عہدوں پر نہیں لگایا نا اپنے لیے مال و دولت سمیٹی۔ ان سے ایک بار پوچھا گیا کہ وہ برسوں سے وہی کپڑے کیوں استعمال کرتی رہتی ہے تو جواب دیا کہ "میں یہاں جرمنی کے لوگوں کی خدمت کے لیے ہوں اور کسی فیشن شو میں شرکت کے لیے نہیں” یہاں تک کہ انکا کہنا تھا کہ میرے گھر میں کوئ نوکر، نوکرانی نہیں۔ میں اور میرے شوہر ملکر گھر کے کام کرتے ہیں۔

    کیا بینظیر بھٹو اپنے برانڈڈ  سٹائلش سوٹ، برانڈڈ پرس، برانڈڈ جوتے پہننے کی وجہ سے وزیراعظم بنی اور طویل عرصے تک پاکستانی سیاست میں اپنی مقام بحال کیے رکھا؟ کیا آج عمران خان اپنے سٹائلش سوٹ یا بنائو سنگھار کی وجی سے وزیراعظم بنے؟ کیا دنیا آج انکی تقاریر محض اس لیے سنتی ہے کہ وہ اچھا لباس زیب تن کیے ہوتےہیں؟

    اگر ایسا نہیں ہے تو کوئ ہماری حنا بٹ صاحبہ کو بھی تو سمجھائے جو لمز سے پڑھ کر بھی شائد زہنی پسماندگی کا شکار ہو گئ ہیں یا اپنی ریزرو سیٹ کو بچانے کے لیے اپنی لیڈر کی روز روز سٹائلش سوٹ کے ساتھ "شہزادی” "شہزادی” کہتی تصاویر لگاتی نہیں تھکتیں۔ چلیں ایک لمحے کے لیے انکی لیڈر کو شہزادی مان بھی لیا جائے تو کیا وہ اس ملک کی وزیراعظم بن جائیں گی؟  انہیں چاہیے کہ وہ عوام کو مریم نواز کی سیاسی مصروفیات، اپنی پارٹی میں انکا رول اور مستقبل کے لاہے عمل پر انکی سوچ بتائیں نا کہ شہزادی، شہزادی کا راگ آلاپ کر اپنا اور اپنی لیڈر کا مزاق بنوائیں۔ 

                            
    Twitter: @GillaniAwais

  • عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا، شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد

    عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا، شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد

    فیصل آباد(عثمان صادق)ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کہا ہے کہ عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا لہذا وہ اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے یہ بات اوپن ڈور پالیسی کے تحت اپنے آفس کے باہر کھلی کچہری کے دوران لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے کہی۔مختلف محکموں کے ضلعی افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ ان کی شکایات کے حل کے لئے محکمانہ کارکردگی کی کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور انہیں ہر ممکن ریلیف فراہم کریں گے۔انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی شکایات کے حل میں گہری دلچسپی لیں اوردرخواست گزاروں کو اطمینان بخش ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی محکموں کے افسران سے کہا کہ وہ اپنے دفاتر میں موجود رہ کر شہریوں کی شکایات کا ازالہ کریں۔ڈپٹی کمشنر نے درخواست دہندگان کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے متعلقہ محکموں کو متحرک کیا گیا ہے اور شکایت کا ازالہ نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    جیسے جیسے ڈالر کی اڑان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا حجم بھی ویسے ویسے بڑھتا جا رہا ہے ۔ جس کو کم کرنے کیلئے حکمران مزید قرضے لینے پہ مجبور ہیں ۔ اور ماہر معشیات کے مطابق پاکستان کی معشیت اب اس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اب قرضوں کی ادائیگی بھی مزید قرض لے کر ہوگی۔ اور ان قرضوں سے اب ایکسپورٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا ۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند برسوں میں قرضے کی قسطیں ہمارے مجموعی بجٹ سے بھی بڑہ جائیں گی ۔ صرف یہی نہیں مصیبت برائے مصیبت ان قرضوں کے ساتھ بڑھنے والا سود بھی ہے ۔

    مارچ 2019ء میں ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

    دوسری بات جب بھی کسی شخص کو یا کسی ریاست کو تنہا کیا جاتا ہے تو وہ اپنے وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنا لوہا ضرور منواتے ہیں ۔ دنیا میں وہ تمام ممالک جنہیں دیفالٹ قرار دے کر انہیں سیاسی طور پہ تنہا کیا گیا وہ اپنے قدموں پہ کھڑے ہوگئے ۔اس کی ایک زندہ مثال چین ہے جو پاکستان کے بعد وجود میں آیا ۔ لیکن آج اسکی معشیت سے لے کر سیاسی حالت سب ہی قابل رشک ہیں ۔ ایران عراق لیبیا اور سوڈان کو تنہا کیا گیا لیکن وہ سب ایک مضبوط بن کر ابھرے ۔

    ….continue

  • پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو”  تحریر: حسیب احمد

    پیٹرول کا بم گرگیا اور مہنگائی دیکھو” تحریر: حسیب احمد

     

    آئے روز ہمیں ہر کسی چیز میں مہنگائی کا سامنا کرنے کو مل رہا ہے۔ پیٹرول اس میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے عوام کی جیبوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم کمپنیاں ریٹ بڑھا دیتی ہیں پھر بیچاری عوام مہنگے داموں خرید کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

    علمی منڈی میں ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے ہمیں مہنگے داموں میں خریدنا اور پھر عام کو بیچنا پڑتا ہے۔

    ہمارے ہاں لوگ باہر کی کرنسی خرید کر رکھ لیتے ہیں اور جیسے ہی وہ مہنگی ہوتی تو بیچ کر اپنے ہی پاکستانی روپے کو گراتے ہیں۔ پھر لوگ اپنی غلطی کا ملبہ حکومت پاکستان پر ڈال دیتے ہیں۔ کیا حکومت نے کہا تھا اپنے روپے کو استعمال نا کرو باہر کی کرنسی کو اہمیت دو؟

    لیکن ہاں کہیں نا کہیں حکومت پاکستان کی بھی تھوڑی سی خامیاں ہیں وہ اپنے ان تین سالوں میں 3 وزیر خزانہ تبدیل کرچکے ہیں اور یہ وہی ہیں جنہوں نے پیچھلی حکومت میں بھی مہنگائی کا جن بےقابو کر رکھا تھا۔ ایسے لوگ ہیں معیشت کی ترقی کے بجائے آئے روز مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی ستائی عوام کو روز روز نئے داموں کے تجربات سے جھٹکے دیتے ہیں۔

    ہمیں اپنے لوگوں کو جوکہ قابل ہیں اور ماہرین معاشیات ہیں ان کو آگے بڑھاتے ہوئے ان سے مہنگائی کے خاتمے کا حل تلاش کروانا چاہیے۔ ہمیں اپنے روپے کو قدر اور اپنی پالیسیوں کو دوبارہ صحیح سے ترتیب دینا چاہیے۔

    2020 میں پاکستان کی افراط زر کی شرح 9.74٪ تھی ، جو 2019 سے 0.84 فیصد کمی تھی۔ 2017 کی شرح 4.09 فیصد تھی جو کہ 2016 سے 0.32 فیصد زیادہ ہے۔

    مہنگائی سے مراد قیمتوں میں اضافہ ہے جو کسی قوم کی قوت خرید میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ افراط زر ایک عام معاشی ترقی ہے جب تک سالانہ فیصد کم رہے۔ ایک بار جب پہلے سے طے شدہ سطح پر فیصد بڑھ جاتا ہے ، اسے افراط زر کا بحران سمجھا جاتا ہے۔ اصطلاح "افراط زر” ایک بار رقم کی فراہمی میں اضافے کا حوالہ دیتا ہے (مالیاتی افراط زر) تاہم ، پیسے کی فراہمی اور قیمت کی سطح کے درمیان تعلقات کے بارے میں معاشی مباحثوں نے قیمتوں کی افراط زر کو بیان کرنے میں آج اس کا بنیادی استعمال کیا ہے۔ افراط زر کو پیسے کی حقیقی قدر میں کمی کے طور پر بھی بیان کیا جا سکتا ہے-زر مبادلہ کے ذریعے قوت خرید میں کمی جو کہ اکاؤنٹ کی مالیاتی اکائی بھی ہے۔ جب قیمت کی عمومی سطح بڑھ جاتی ہے ، کرنسی کا ہر یونٹ کم سامان اور خدمات خریدتا ہے۔ عام قیمت کی سطح کی افراط زر کا ایک اہم پیمانہ عام افراط زر کی شرح ہے ، جو کہ ایک عام قیمت کے انڈیکس ، عام طور پر کنزیومر پرائس انڈیکس میں وقت کے ساتھ فیصد میں تبدیلی ہے۔ مہنگائی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ، مستقبل کی افراط زر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری اور بچت کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ زیادہ افراط زر اشیا کی قلت کا باعث بن سکتا ہے اگر صارفین اس خدشے کے باعث ذخیرہ اندوزی شروع کردیں کہ مستقبل میں قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ 

    اللہ پاک سرزمین کے ہر مسائل کو حل کرنے میں ہمارے مددگار ثابت ہوں۔ اور پاکستان کو لوگوں کو ان تکالیف سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھے۔ اور پاکستان کو دنیا میں عظیم و ترقی والا ملک بنائے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی ہو اور نیک نامی میں اضافہ ہو۔

    من

    مہنگائی آتی رہتی ہے بس اپنے گھبرانا نہیں اللہ پر بھروسہ رکھنا۔۔۔

    تحریر: حسیب احمد

    @JaanbazHaseeb 

  • سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک  تحریر ؛ علی خان

    سیاسی زبان درازی ۔۔ مخالفین سے عوام تک تحریر ؛ علی خان

     

    @hidesidewithak 

    سیاست کریں بدتمیزی نہیں اس کے ساتھ یہ بھی نہ بھولیں کہ آج آپ جس بھی جگہ ہیں وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں 

    کی وجہ سے ہیں 

    سیاست کو عموماً مصلحت پسند یا اگر صاف الفاظ میں کہیں تو منافقوں کا پیشہ کہا جاتا ہے لیکن وطن عزیر میں الٹی گنگا بہتی ہے،،، سیاست میں نامناسب الفاظ کے استعمال کا سلسلہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں شروع ہوا،،، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے پر کردار کشی کی گئی،،، پھر "قائد عوام "ذوالفتار علی بھٹو  کا دور آیا اور سیاست میں مخالفوں کے لیے عوامی کی بجائے بازاری زبان استعمال ہونے لگی۔۔۔  قائد عوام کی سرکردگی میں ہی شروع کردہ تحریک کے دوران فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف کتا کتا کے نعرے لگائے گئے۔۔۔  اپنے حریف ائیر مارشل ایوب خان کو آلو جیسے القابات دینا بھی انہی کا خاصہ رہا

    اس زبان درازی کے سلسلے سے  ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی محفوظ نہ رہ سکیں اور انہیں مختلف مخالفین کی جانب سے بدتہذیبی اور ناشائستہ زبان کے اس سلسلے کا سامنا کرنا پڑا ۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس ناشائستگی کو محترمہ نے ہمیشہ  یاد رکھا۔ انکی جماعت کے رہنما رانا ثنااللہ نے مخالف جماعت نواز  لیگ کی رہنما مرحومہ کلثوم نواز صاحبہ اور مریم نواز پر رکیک حملہ کیا تو محترمہ نے  راناثنااللہ کو فوراً پارٹی سے  نکال دیا۔  ستم ضریفی  دیکھئے کہ  انہی رانا ثنااللہ کو نواز لیگ نے ہی اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور پھر وہ پیپلزپارٹی کے مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے اہل خانہ پر ذاتی حملوں میں ملوث رہے

    سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان بار بار ذاتی حملوں کے سبب عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے اور واپس برطانیہ جانے پر مجبور ہوگئیں۔  دوسری جانب تحریک انصاف کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے  مریم نواز  کو بار بارگھر سے بھاگنے کا طعنہ دیا جاتا رہا۔ جمیعت علمائے اسلام کے حافظ حمداللہ کی جانب سے سماجی کارکن کو آن ائیر  غلیظ جملوں کا نشانہ بنائے جانے اور موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے بلاول بھٹو بارے معنی خیز گفتگو  بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے

    ہمارے یہ رہنما عوام کو بھی اس بدزبانی کی دلدل میں گھسیٹنے سے باز نہیں آتے ۔  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بیان  دیا ” نئے پاکستان کیلئے ووٹ دیا ہے تو عوام بھگتیں”۔  موجوہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے انتخابی مہم جلسے میں  اپنے ہی ووٹرز کو شدید نازیبا الفاظ سے پکارا جانابھی کوئی زیادہ دور کی بات نہیں۔ ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین کی بدزبانی اور لغو زبان کا استعمال بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں ۔  ایک مرتبہ چودھری نثار کے بیان پر ایم کیو ایم رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر بھی آپے سے باہر ہوگئے اور کہا پنجاب میں ہر گھر میں مجرے ہو رہے ہیں،،، ن لیگ کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے تو گالم گلوچ کو پنجابی کلچر کا حصہ ہی قرار دے  ڈالا ۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ کے علی گوہر بلوچ اور تحریک انصاف کے علی نواز اعوان  کی اخلاق باختہ زبان درازی شاید سب کو ہی یاد ہوگی

    عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید نے مہاجرین کے منہ پہ چماٹ مارنے یا انہیں پاگل خانے بھیجنے کا بیان دیا۔  سابق پی پی اور اب جی ڈی اے رہنما ذوالفقار مرزا نے مہاجر صوبے کی بات کرنے والوں کو بھوکا ننگا  قرار دیا۔  عبدالقادر بلوچ نے ایم کیو ایم کے ورکرز کو جانور قرار دیا۔  پختونخواہ میپ کے محمود اچکزئی نے لاہوریوں کو افغان پشتون وطن پر قبضے کی کوششوں میں انگریزوں کا معاون ہونے کا طعنہ دے ڈالا۔ سابق  صدر پرویز مشرف کا ریپ کا شکار خواتین بارے قابل مذمت بیان اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا تقریر کو عورت کی اسکرٹ سے تشبیہ دینا بھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا،،، یہ عوامی نمائندے ہمارے ہاں اخلاقی  معیار کی پستی کے  بڑے ذمہ داروں میں سے ایک ہیں۔ خود کو اقتدار میں لانے والے ووٹرز کو گالی دینا اسی وڈیرہ اور جاگیر دار کلچر کا عکاس ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں غریبوں پر ظلم کا باعث ہیں۔ ان سیاستدانوں کوروش بدلنا ہوگی اور تاریخ سے یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ دوسروں کے لیے لگائی آگ ضرور اپنے گھر تک پہنچتی ہے

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ

    حصہ اول۔

    وہ کون سے عوامل ہیں جو قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں؟ یہ جاننے کے
    لیے ہمیں ویت نام کی تاریخ میں جھانکنا ہو گا۔ویت نام کے دارالحکومت ہا نوئی
    میں گھومتے ہوئے ، آپ  ترقی کی جانب بڑھتے قدموں کی چاپ واضح طور پر سن سکتے
    ہیں ۔ لوگگاڑیوں میں گھومتے ہیں ، ان گنت چھوٹی دکانوں میں فون سے لے کر کھانے
    تک سب کچھ خرید و فروخت کرتے ہیں ، اور اسکول یاکام پر جانے کے لیے ادھر ادھر
    بھاگتے ہیں۔ ویت نام تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے آگے
    بڑھ رہا ہے۔  یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ محض 30 برس پہلے ، یہ ملک دنیا کے
    غریب ترین ممالک میں سے ایک تھا۔ جہاں مہنگائی کی شرح 700 فیصد تھی، کسان بھوک
    سے مر رہے تھے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے سوویت یونین سے یومیہ 4 ملین
    ڈالر کی امداد لی جا رہیتھی۔

    45 برس قبل جب جنگ ختم ہوئی اور غیر ملکی افواج کا ویتنام سے انخلا شروع ہوا تو
     ہر طرف تباہی اور بربادی کی داستان رقم تھی۔تقریبا 20 سال طویل جاری رہنے والی
     جنگ جب ختم ہوئی توہر کوئی بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھا۔ طویل جنگوں کے بعد
    ملکیمعیشت اور انفراسٹرکچر تو تباہ ہوتا ہی ہے، لیکن افرادی قوت بھی بری طرح
    متاثر ہوتی ہے۔ جنگ بھی اتنی طویل جس میں ایکنسل جوان ہو جائے۔ کوئی نہیں جانتا
     کہ اتنی طویل جنگ دیکھنے کے بعد وہاں کے عوام کی نفسیاتی کیفیت کیا ہو گی۔ وہ
    دوبارہ سےاپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں گے کہ نہیں۔ تقریبا 20 لاکھ شہری اس جنگ
    کے دوران مارے گئے،  دو لاکھ فوجی اس کے علاوہتھے۔ تقریبا ڈھائی ملین افراد نے
    فلپائن، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں پناہ لی۔

    ویت نام میں تاریخ کی سب سے زیادہ بمباری ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم میں 2.1 ملین ٹن
     کے مقابلے میں 6.1 ملین ٹن سے زیادہ بمگرائے گئے۔ 3 امریکی طیاروں نے 20 ملین
    گیلن جڑی بوٹی مار دواؤں کو ویت کانگ کے چھپے ہوئے مقامات کو ناکارہ بنانے کے
    لیےاستعمال کیا۔ جس نے 5 ملین ایکڑ جنگل اور 500،000 ایکڑ زرعی زمین کو ختم کر
    دیا۔

    یہ جنوب مشرقی ایشیائی قوم ایک درمیانی آمدنی والا ملک کیسے بنی؟ جب 20 سالہ
    ویت نام جنگ 1975 میں ختم ہوئی تو ویت نام کیمعیشت دنیا کی غریب ترین معیشتوں
    میں سے ایک تھی۔  1980 کی دہائی کے وسط تک ، فی کس جی ڈی پی $ 200 اور $ 300 کے
    درمیان پھنس گیا تھا۔ لیکن پھر سب کچھ بدل گیا۔

    ویت نام کی کامیابی کی کہانی 1986 کی Doi Moi ("rejuvenation”) اصلاحات سے شروع
     ہوتی ہے۔ اس ماڈل کے تحت ابتدائیطور پر زیادہ توجہ تعلیم کے شعبہ کو دی گئی.
    ویتنام کی حکومت نے ابتداء ہی میں یہ حقیقت جان لی کہ کوئی بھی ملک صحیح معنوں
    میںمستقل ترقی کا خواہش مند ہے تو اس کو سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام میں
    اصلاحات کرنا ہونگی۔ یہی وجہ ہے کہ طویل جنگ سےنبردآزما ہونے والا ملک ویتنام
    بھی ہم سے ترقی کی راہ میں بہت آگے نکل گیا کیونکہ انھوں نے جنگ کے بعد معاشی
    اور تعلیمیاصلاحات پر زور دیا۔

    یہاں کی آبادی  آج 95 ملین ہے ، جن میں سے نصف 35 سال سے کم ہیں۔ بڑھتی ہوئی
    آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئےیہاں کی حکومت نے پرائمری تعلیم میں بڑے
    پیمانے پر عوامی سرمایہ کاری کی۔ کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب ملازمتوں کی
    بڑھتیہوئی ضرورت بھی ہے۔ ویت نام نے بنیادی ڈھانچے میں بھی بہت زیادہ سرمایہ
    کاری کی ، جس سے انٹرنیٹ تک سستے پیمانے پررسائی کو یقینی بنایا گیا۔ ویتنام
    میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں تعلیم کا بجٹ
     20 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے ویت نام کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
    نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    ویت نام کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے
    اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ تبادلے کے
    لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت ویت نام میں غیر ملکی طلباء اور محققین کی تعداد
    بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے
    کو DRV ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس نے صنعتوں کو پیداوار کے حجم کوبڑھانے
    کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم
    بجٹ کی پابندی کے تحت چلائیگئیں ۔ ریاست نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔
    کمپنیوں کو پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی،
    جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس کیا گیا۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • وکیل اور خدمت تحریر:عابد حسین رانا

    @AbidRana876
    آج ہم ذکر کریں گے ممتاز قانون دان عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا آپ کا شمار وزیرآباد اور گردونواح کے اعلیٰ ترین وکلاء میں ہوتا ہے
    عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا تعلق وزیرآباد محلہ کانواں والا کے متوسط کاروباری شخصیت حاجی فیروز دین مرحوم کے گھرانے سے ہیں جو ان کے دادا تھے
    آپ کی پیدائش 14 مارچ 1974 کو میں ہوئی آپ کا تعلق آرائیں برادری سے ہے
    میٹرک تک تعلیم پبلک ہائی اسکول وزیرآباد سے حاصل کی ایف ایس سی FSC مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج وزیرآباد سے کیا بعد ازاں بی کام b.com اور ڈی سی ایم اے DCMA ایم اے MA پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بی بی اے BBA علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کرنے کے بعد ایل ایل بی LLB کی ڈگری لاء کالج پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی آپ تعلیم کے ساتھ سپورٹس مین بھی تھے اچھے فٹبالر ہونے کی وجہ سے دورانِ تعلیم وزیرآباد کی تھری سٹار فٹبال کلب اور لاء کالج پنجاب یونیورسٹی کے کپتان بھی رہے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فوجداری وکالت کا آغاز آفتاب احمد باجوہ سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ آف پاکستان کے آفس میں ہی سال 2000 سے کیا ایک سال تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد لاہور ہی میں اپنا ذاتی آفس بنا کر وکالت شروع کی تقریباً 7 سال لاہور میں وکالت کے بعد نومبر 2006 میں واپس وزیرآباد آ کر مدینہ مارکیٹ میں آفس بنا کر وزیرآباد میں باقائدہ وکالت شروع کی اور دو تین سال کے اندر ہی تحصیل وزیرآباد کے فوجداری وکلاء میں ایک الگ مقام حاصل کیا سال 2010/2011 میں بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے سیاست میں قدم رکھا تو ابتدائی دنوں میں تحریک انصاف کے سیکرٹری اور بعد میں تحصیل صدر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے مگر وکالت میں مصروفیت کی وجہ سے لوکل سیاست کو خیر باد کہہ دیا آپ نے مشہور مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے لاہور راولپنڈی گوجرانولہ گجرات نوشہرہ ورکاں میں فرائض سر انجام دیئے حال ہی میں گوجرانولہ بار کونسل کا الیکشن لڑا اور اب تک وزیرآباد میں الیکشن لڑنے والوں میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیئے اس وقت وزیرآباد گوجرانولہ اور لاہور ہائی کورٹ میں یکساں مصروف ہیں آپ نے 300 سے زائد 302 کے مقدمات کی پیروی کی اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا وزیرآباد اور گردونواح کی اعلیٰ شخصیات کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے ان کے کیسسز کی پیروی عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ ہی کریں

  • کرپشن ایک دیمک ہے ملکی بنیادوں کو کھوکلا اور کمزور بنا دیتی ہے تحریر:شمسہ بتول۔

    کرپشن ایک دیمک ہے ملکی بنیادوں کو کھوکلا اور کمزور بنا دیتی ہے تحریر:شمسہ بتول۔

    کرپشن ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج جہاں ہمیں غربت، بے روزگاری جیسے مساٸل کا سامنا ہے وہاں کرپشن بھی ایک خطرناک مسٸلہ ہے ۔کرپشن اور بدعنوانی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے جو صرف ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ کو تباہ کرتا ہے۔ کرپشن کی ایک وجہ یہ ہے کہ کرپٹ لوگوں کے لیے کوئی مضبوط قانون سازی اور سزا نہیں ہے۔ کلرک سے لے کر افسر تک ہر کوئی اس میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے آج کل کرپشن ہمارے ملک کا فیشن اور کلچر بن چکی ہے۔ یہ ہمارے ملک کے روشن مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کرپشن کیوں بڑھ رہی ہے؟ حکام اور اداروں کے سربراہ اس پر قابو پانے میں کیوں ناکام رہے؟ حکام کی جانب سے کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ یہ سوالات جواب کے منتظر ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان سوالوں کا کوئی جواب موجود نہیں۔

    1947 سے 2021 تک ، جب ہم اپنے ملک کی ترقی کی رپورٹ پڑھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کو صرف کرپشن کی وجہ سے کتنا نقصان پہنچا ہے۔ ہمارے سیاستدان بھی اس میں ملوث ہیں انہوں نے جس حد تک ممکن تھا کرپشن کی وہ پاکستان کے اثاثے چوری کیے اور عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بیرون ملک جائیدادیں بناٸیں اور دیگر اداروں کے افسران بھی اس میں شامل ہیں لیکن پھر بھی ، انہیں اس پر کوئی شرم نہیں۔ ان کے لیے کوئی سزا نہیں ہے اور وہ آزاد ہیں اسی وجہ سے انہیں مذید شے ملی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ کسی کو یہ سوال کرنے کا حق نہیں ہے کہ آپ نے ہمارے اثاثے کیوں چوری کیے؟ آپ نے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ کیا؟ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ 2012 کے مطابق ، پاکستان کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے پاکستان کو 94 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ 2013 سے 2017 تک ، نواز شریف حکومت کے تحت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان نے بدعنوانی میں اپنا سکور 28 سے بڑھا کر 32 کر دیا ہے۔  کرپٹ سیاستدان ضمانت پر باہر نکلتے ہیں اور پھر بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور پھر وہ واپس نہیں آتے اور اس لیے کرپشن کے بہت سے مقدمات زیر التوا ہیں۔ اگر بروقت فیصلے سنائے جائیں اور بدعنوانی کے خلاف سخت سزا دی جائے تو کرپشن جیسی لعنت کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے ورنہ کرپشن ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا جائے گی۔

    یہاں تک کہ اکثر لوگوں کو میرٹ کی بنیاد پر نوکری نہیں ملی اور وہ صرف اس کرپٹ نظام کی وجہ سے بے روزگار ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی سفارش اور پیسہ نہیں ہے۔ سیاستدان اور دیگر افسران اپنے دوستوں ، رشتہ داروں وغیرہ کا حوالہ دیتے ہیں یا ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ جب انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ریفرنس سسٹم پر کیا جاتا ہے تو پھرکچھ ناخواندہ ، ان پڑھ اور غیر ہنر مند لوگ رکھے جاتے ہیں جو کسی بھی ادارے کو بہتر طور پہ نہیں چلا سکتے اور اداروں کی تباہی کا باعث بنتے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس نظام کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ماضی میں کرپشن کے بہت سارے کیسیز سامنے آۓ  جیسے رینٹل پاور پراجیکٹ ، حج کرپشن کیس ، پاکستان سٹیل مل کیس ، اوگرا کیس ، منی لانڈرنگ ، اور شوگر مل گھوٹالہ وغیرہ۔ 1999 میں ایک آرڈیننس پاس کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو ہونا چاہیے۔ لہذا ، ایک قومی احتساب بیورو جو کہ ایک وفاقی ادارہ ہے ، ادارے کی کارکردگی کو جانچنے اور اس میں توازن پیدا کرنے اور اداروں کو بدعنوانی سے جتنا ممکن ہو چھٹکارا دلانے کے لیے قائم کیا گیا ، اور اس ادارے کی طرف سے معاشی بےضابطگیوں کے خلاف تنقیدی معاشی رپورٹ بھی جاری کی گٸی۔

    لیکن اس ادارے کے قیام کے باوجود ملک میں بدعنوانی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لہذا ، ہمیں فوری طور پر موثر اصلاحات کو اپنانا چاہئیے اور قوانین کے فوری نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ اس خطرے سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے جس نے ہمارے ملک کی ساکھ کو سماجی اور معاشی طور پر کمزور کردیا ہے۔

    @sbwords7