Baaghi TV

Category: سیاست

  • امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ
    جہاں افغانستان سے امریکی انخلاکے بعد طالبان کے امریکا سے پہلے باضابطہ مذاکرات دوحہ میں ہوئے ہیں ۔ تو افغان طالبان کیجانب سے داعش پر ۔۔۔ اور داعیش کی جانب سے افغان طالبان پر حملے جاری ہیں ۔ ۔ اس وقت افغانستان میں تین طرح کی پراکسیز اپنا زور دکھا رہی ہیں۔ ٹی ٹی پی ۔ بی ایل اے ۔ داعیش اس میں سرفہرست ہیں ۔ پہلے اگر امریکہ طالبان مذاکرات کی بات کی جائے تو طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کامطالبہ کیا ہے ۔ جو کہ بالکل جائز مطالبہ ہے ۔ پھر ان کی جانب سے افغانستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مگر اس وقت امریکہ کی دلچسپی امریکی شہریوں کے افغانستان سے بحفاظت انخلا، اغوا شدہ امریکی شہریوں کی بازیابی اور افغانستان میں انسانی حقوق میں ہے۔

    ۔ آپ امریکی دونمبری چیک کریں کہ اسکو افغانستان میں انسانی حقوق کی بڑی فکر لاحق ہے لیکن دہائیوں سے فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ امریکہ کو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے لاڈلوں بھارت اور اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مذمت کرے۔ پھر امریکہ کا یہ نقطہ نظر بھی عجیب ہے کہ جب امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتا تو پھر مذاکرات مذاکرات کا کھیل کیوں کھیل رہا ہے ۔ کھل کر سامنے آئے ۔ طالبان کو اپنا دشمن ڈیکلیئر کرے ۔ تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ یہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا خون خرابہ چاہتا ہے ۔ آخر کیوں امریکہ نے دنیا کو ایک نئی مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ کہ طالبان حکومت کو ابھی کوئی قبول نہ کرے ۔ یہ دنیا کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ دیکھا جائے تو امریکہ خود دنیا میں امن کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ پھر ان کی ملی بھگت دیکھیں کہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طالبان حکومت کو امداد دینے کے معاملے پر بظاہرکسی ایک نکتے پر متفق دکھائی نہیں دئیے۔ یہ صرف ایک واردات ہے ۔ دھوکہ دینے کی کوشش ہے ۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ افغانی بھوکے مریں ۔ اور طالبان حکومت مستحکم نہ ہونے پائے ۔ پھر امریکہ طالبان مذکرات کے حوالے سے جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ بات چیت میں فریقین نے داعش کو کنٹرول کرنا موجودہ افغان حکومت کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے ۔ اس حوالے سے سہیل شاہین نے مذاکرات سے قبل ہی بتا دیا تھا کہ افغانستان میں داعش خراسان کے مسلسل فعال ہونے کے بعد واشنگٹن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہو گا۔ اور مذاکرات صرف امریکا کی مرضی کے ایجنڈے پر نہیں برابری کی سطح پر ہوں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف ایک فریق اپنی ہی مرضی مسلط کرائے۔

    آپ دیکھیں یہ کیسا اتفاق ہے کہ ادھر امریکہ کی ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ wendy sharman پاکستان پہنچتی ہیں اور ادھرافغانستان کے لیے سب سے افسوسناک سانحہ رونما ہوجاتا ہے۔ پھر پاکستان کو کہا جاتا ہے کہ طالبان حکومت کو قبول نہیں کرنا ۔ مجھے تو اس داعش کی کاروائی کے پیچھے ۔۔۔ را ۔۔۔ کا ہاتھ دیکھائی دیتا ہے کیونکہ مسجد میں دھماکوں کا فائدہ بھارت کو ہی ہوا ہے ۔ کیونکہ ایک طرف اس کے بیانیے کو تقویت ملی ہے تو دوسرا امریکہ بہادر نے پاکستان پر افغانستان کو لے کر پھر پریشر بڑھا دیا ہے ۔ دراصل امریکہ سمیت اس کے اتحادی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر افغانستان کی معیشت روس اور چین جیسے مضبوط سہاروں اور پاکستان کی افرادی قوت اور عسکری امداد کے ذریعے بہتر ہونا شروع ہو گئی تو پھر ایران ، پاکستان ، تاجکستان اوراس سے ملحق وسط ایشیائی ریاستیں باہمی تجارت میں شامل ہو جائیں گی جس سے سی پیک کے راستے مزید وسیع ہو جائیں گے۔ چنانچہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی تکون افغانستان کے امن کو برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور یہی ان کا مشن ہے۔ پھر اب یہ راز نہیں رہا کہ کیرالہ ، اتر پردیش اور مہاراشٹر سے داعش کے لیے بھرتی ہوتی ہے اور بھارت ہی میں ان کی تربیت کے لیے بنائے گئے مراکز میں انہیں تربیت دینے کے بعد وسط ایشیائی ریاستوں اور دوسرے راستوں سے افغانستان میں داخل کرنے کے لیے انڈین خفیہ ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس کے سابقہ اہلکار پیش پیش ہیں۔ جن کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے داعش کی تخلیق کے متعلق اپنے انٹر ویو میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ پر ہے اور اس عالمی دہشت گرد گروہ کے بارے بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔ حقیقت میں داعش کی تخلیق کے مقاصد اب کسی کے لیے راز نہیں رہے ۔ داعش اور بھارت اب ایک نام بن چکے ہیں۔ مگر امریکہ نے بھارت کو اپنا مستقبل کا اتحادی ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔ لیکن یہی داعش کا سر پرست اعلی بھی ہے۔ اگر ایک تخلیق کار ہے تو دوسرا اسے نفری اور اطلاعات فراہم کرتا ہے ۔ ان تینوں ملکوں کی مثلث یعنی امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کے مقاصد بڑے واضح ہیں کہ افغانسان ، پاکستان اورایران کوچین سے دوررکھا جائے۔ دراصل یہ امریکہ اسٹائل ہے کہ جن ممالک میں امریکی اور اتحادی قوتیں یلغار کے ذریعے اپنا تسلط قائم نہیں کر پاتیں ۔ وہاں داعش کا مہلک وائرس پھیلنا شروع ہو جاتا ہے ۔ عراق ، شام اور لیبیا میں جو کھیل کھیلا گیا اب وہ ہی کھیل افغانستان میں کھیلا جا رہا ہے ۔ اس وقت افغانستان کے امن کو سبو تاژ کرنے کی بھیانک سازش رچی جا رہی ہے ۔ جس کے بعد ممکن ہے پورا مغرب یہ چلانا شروع کر دے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو روکا نہیں جا رہا۔ ان پر پابندیاں لگاؤ ۔ ان کا سب کچھ بند کر دو ۔

    ۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے کہ جس دہشت گرد گروہ نے اپنی شناخت ۔۔۔ دولت اسلامیہ ۔۔۔ کے نام سے بنائی ہے اُس کو نہ تو بھارت میں آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلم کشی دکھائی دیتی ہے۔ نہ ہی گائے کے قریب سے گزرنے والے مسلمانوں کی انتہا پسند ہندوئوں کے ہجوم کے ہاتھوں المناک شہادت نظر آتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلمان مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں کون لوٹ رہا ہے؟ یہ بھی اسکو نظر نہیں آتا ۔ نہ ہی کبھی اسرائیل کے غزہ اور فلسطین میں جبر کے مناظر ان کے ضمیر کو جھنجوڑتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ داعش کا ہر حملہ اور اس کے بنائے گئے لشکر وں کا ظلم ایسے مسلمانوں ہی پر ہوتا ہے جو امریکہ کی غلامی سے دور بھاگتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گرد گروہ کو پناہ گاہیں کون دے رہا ہے؟ فنڈنگ کون کررہا ہے ۔ مدد کون فراہم کر رہا ہے ؟ اس کا بڑا آسان سا جواب ہے کہ آپ دیکھیں کہ ۔ داعش کس کے مقاصد پورے کر رہی ہے؟ یہ اسی طرح ہے کہ جیسے کسی سے بھی پوچھا جائے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف کس کا مشن پورا کر رہی ہے۔ پھر اس بارے میں سابق افغان صدر حامد کرزئی کا دعویٰ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کہا تھا کہ افغانستان میں داعشی جنگجوئوں کو امریکی افواج سپورٹ کررہی ہے۔ داعش سے نمٹنا صرف افغان طالبان کی ذمہ داری نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک ۔۔۔ پاکستان، ایران، چائنا، وسطی ایشیائی ریاستیں اور روس ۔۔۔ کے لئے اس ناسور کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ مستقبل قریب میں یہ پورے خطے کوایک نئے عذاب سے دوچار کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر آپکو یاد ہو تو دو ہزار سترہ میں سندھ میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی داعش ہی نے قبول کی تھی جس میں نوے کے قریب زائرین شہید ہوئے تھے۔ حال ہی میں بلوچستان کے ضلع مچھ، مستونگ میں حملوں کے پیچھے بھی داعش کا ہاتھ تھا۔ اسی طرح خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بھی یہ تنظیم اپنی موجودگی کا ثبوت دیتی رہی ہے۔

    دوسال قبل اس تنظیم نے افغانستان کی طرز پر پاکستان میں ’’دولت اسلامیہ ولایۃ ‘‘ کے نام سے اپنا فرنچائز کھولا تھا ۔ افغانستان میں پچھلے چند سالوں کے دوران جتنے بھی حملے ہوئے۔ اس کی ذمہ داری اعلانیہ طور پر اس تنظیم نے قبول کی ہے۔ تو اس کا قلع قمع کرنا صرف طالبان حکومت ہی نہیں خطے کے تمام ممالک کے لیے ضروری ہے ۔ ۔ آخر میں بس یہ بتا دوں کہ آپ امریکہ طالبان کے خلاف تمام پابندیوں کو ایک طرف رکھیں اور یہ دیکھیں کہ امریکہ ان لوگوں پر پابندیاں کیوں عائد نہیں لگاتا جو افغانستان کو لوٹ کر بھاگے ہیں اور امریکہ میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔۔ تازہ خبر ہے کہ افغانستان کے سابق وزیر دفاع عبدالرحیم وردک کے بیٹے داؤد وردک نے los angles میں 20.9 ملین ڈالر کی ایک عالیشان حویلی خرید لی ہے۔ داؤد وردک miami beach کے مہنگے ترین resort میں 5.2 ملین ڈالر کے ایک یونٹ کے مالک بھی ہیں۔ امریکہ کی اس خرید و فروخت پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ کیا پابندیاں صرف طالبان کے لیے ہی ہیں۔

  • اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

    اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

    بہت سے لوگوں کو ایک غلط فہمی ہے کہ امریکہ نے چونکہ تیسری دنیا کے ممالک کی امداد میں کمی کردی ہے لہذا امریکہ نے از خود سپر پاور ہونے سے دستبرداری کر لی ہے۔ حالانکہ اصل صورتحال مختلف ہے امریکہ نے روس کا خطرہ کم ہونے پر امداد بند کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی عسکری بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ امریکہ آج بھی دنیا کا بڑا پلیئر ہے۔ یہ سچ ہے کہ امریکہ کو اب سمندروں پر اجارہ داری بر قرار رکھنے کے مسائل در پیش ہیں۔

    اب امریکہ نے خاص حکمت عملی کے تحت جنوبی ایشیا، سنٹرل ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے اپنی توجہ ہٹا کر بحیرہ ہند ، انڈین پیسفک اور ساوتھ چائنہ سی پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ۔ اس وقت امریکہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ چین ہے ۔ آج کا امریکہ چین کی ابھرتی طاقت اور دنیا میں پھیلتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان نظر آتا ہے۔ چین کے خلاف چار ملکوں کی سوچ اور انڈرسٹینڈنگ چند سال سے واضح ہے۔ ان چار ممالک میں امریکہ کے علاوہ جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ پھر ابھی دو روز قبل کی خبر ہے جس میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے چین کو 21ویں صدی میں امریکا کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی و سیاسی خطرہ قرار دیتے ہوئے چین سے متعلق معاملات دیکھنے کے لیے اعلیٰ سطح کا خصوصی چائنا مشن سینٹر قائم کردیا ہے۔ ڈائریکٹر سی آئی اے ولیم برنز نے کہا ہے کہ چائنا مشن سینٹر کا مقصد چین کی جانب سے درپیش عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ آسان الفاظ میں امریکہ نے چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں اب تک سات اقدامات اٹھائے ہیں ۔
    New China Monitor Centre in CIA
    Five Eyes Partnership
    Pacific Deterrence Initiative
    Quad
    Integrated Defence
    AUKUS
    Tech Grouping

    اب یہ تمام معاہدے اور گروپنگ ایسی ہے ۔ جس کے بعد یہ تواتر کے ساتھ خبریں چل رہی ہیں کہ تیسری عالمی جنگ کسی وقت بھی چھڑ سکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسے دھیمے لہجے میں سرد جنگ کہا جاتا تھا مگر اب اسے تیسری عالمی جنگ کہا جا رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ صرف چند برسوں میں ہی چین ترقی کی عالمی دوڑ اور عالمی سپر پاور کا درجہ لینے کے کھیل میں بہت آگے نکل گیا ہے ۔ اس کی معیشت تمام اندازوں سے زیادہ ترقی کر رہی ہے۔ اس کو کرونا سے لے کر کوئی بھی اتحاد اور ٹریڈ وار روک نہیں پا رہی ہے ۔ جو ذہن میں رکھنے کی چیز ہے وہ یہ ہے کہ آج جس سرد جنگ کا آغاز ہوتا نظر آ رہا ہے اس کی نوعیت جیواکنامک ہے۔ ٹیکنالوجی اس دوڑ کا اہم ستون ہے کہ موجودہ دور میں جو قوم ٹیکنالوجی میں آگے ہوگی وہی تیز اقتصادی ترقی کرسکے گی۔ ٹیکنالوجی کی جنگ کی ایک مثال چین کی (Huawei) کمپنی ہے جو ٹیکنالوجی میں خاصی آگے ہے۔ پھر امریکہ سمجھتا ہے جنوبی ایشیا کے معاملات کو سنبھالنے کیلئے اس کا نیا اتحادی انڈیا کافی ہے جس نے 2020 سے لیکر اب تک چین سے کئی بار مار کھائی ہے۔ ابھی حال ہی میں بھارتی میڈیا نے ارونا چل پردیش میں چینی فوجیوں کو زیر حراست رکھنے کے دعوے کئے تھے جس پر چین نے بھارتی فوجی قیدیوں کی تصاویر جاری کر کے ان کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ پھر ایک ہفتے پہلے چینی فوج بڑے آرام سے اتراکھنڈ میں پانچ کلومیٹر تک اندر آئی ۔ پل تباہ کیا۔ اور واپس چلی گئی ۔ کسی بھارتی سورما میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ چینی فوج کا سامنا کرے ۔ دراصل چین بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس نے کواڈ گروپ میں شامل ہو کر اچھا نہیں کیا اور اسی لیے مستقبل میں حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ بھارت نے اس میں شامل ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس خطے میں مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ان کا بغل بچہ بن کر رہے گا ۔ اس بات کا چین بھارت کو مسلسل سبق سیکھا رہا ہے ۔

    آپ دیکھیں ففتھ جنریشن وار ہو ، بیانیہ کی جنگ ہو ، پراپیگنڈہ ہو ، سرحدوں پر معاملات ہو ، عالمی پلیٹ فارمز پر ایجنڈہ ہو ۔ چین پر محاذ پر اپنے مخالفین کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے ۔ امریکہ کی بد قسمتی یہ ہے کہ جنوبی ایشیا ء میں بھارت کے علاوہ اس کا عزت سے نام لینا والا کوئی ملک بچا نہیں ہے ۔ روس چین، سنٹرل ایشیاء کے ممالک ، پاکستان ، ایران ، ترکی سب امریکہ کے جارحانہ رویے سے نالاں ہیں۔ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کیلے کوئی تیار نہیں ہے۔ امریکہ بھی عالمی سطح پر بڑے منصوبے لانچ کرنے کیلئے بے تاب ہے۔ پر اس کی دال نہیں گل رہی ہے ۔ اسی وجہ سے امریکہ میں چین کے لیے ایک سخت مخالفانہ ماحول ہے۔ لیکن اس کے باوجود ابھی تک چین نے اپنی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے ۔ الٹا امریکہ کے لیے پیغام دیا جا رہا ہے کہ چین کی جو پالیسیاں ہیں۔ وہ اپنی جگہ درست ہیں اور امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ان پالیسیوں کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ ۔ ساتھ ہی چین کا لب ولہجہ سخت ہو رہا ہے۔ سفارتی سطح پر چین کے ۔۔۔ وولف واریئرز ۔۔۔ جارحانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔ جس میں وہ مصلحت آمیز رویے کے بجائے تصادم کا لہجہ اختیار کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی تمام تر پریشر اور مغربی میڈیا کے پراپیگنڈہ کے باوجود چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا دیا ہے کہ تائیوان کو دوبارہ چین کا حصہ بنانے کا عمل ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ ہم یہ عمل پرامن طریقے سے کریں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ چین کے لوگ علیحدگی کے خلاف جدوجہد کی ایک عظیم داستان رکھتے ہیں۔ کسی کو بھی چینی عوام کے مضبوط عزم ، پختہ ارادے ،قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مضبوط صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے ۔ پر یہاں پر امریکی دوغلا کردار دیکھائی دیتا ہے ایک جانب اس نے تائیوان کو آگے لگا کر اب چین کے سامنے مرنے کے لیے اکیلے چھوڑدیا ہے ۔ یہ ہی ڈر بھارت اور جاپان کو بھی ہے کہ امریکہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیتا ہے ۔ سوال یہ ہے کیا جاپان ، آسٹریلیا اور انڈیا اپنے کندھے آسانی سے امریکہ کو پیش کردیں گے۔ انڈین لیڈرشپ خوب جانتی ہے کہ امریکہ انہیں چین سے لڑا کر ایک طرف ہو جائے گا اور نتائج انڈیا بھگتے گا۔ ۔ پھر انڈین یہ بھی سوچتے ہیں کہ آخر ایٹمی آبدوزیں آسٹریلیا کوکیوں مل رہی ہیں۔ اس پر بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ جب چاروں ممالک میں چین مخالف ایجنڈا پر اتفاق کسی حد تک موجود تھا تو پھر تین ممالک (امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا) کا نیا گروپ کیوں بنایا گیا؟

    انڈیا کی سابق سیکرٹری خارجہnirpama rao نے اس نئے اتحاد کو چار رکنی اتحاد کی پیٹھ میں سٹریٹیجک چُھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس لیے جو حالات دیکھائی دے رہے ہیں ۔ انڈیا امریکہ کی خاطر چین سے نہیں لڑے گا بلکہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلے گا۔ امریکہ سے وہ پہلے ہی کافی فائدے اٹھا چکا ہے۔ ۔ اسی لیے اس دفعہ سرد جنگ میں وہ تیزی نظر نہیں آئی جو گزشتہ صدی کی کولڈوار میں تھی۔ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلی سرد جنگ میں یورپی ممالک پوری یکسوئی سے امریکہ کے ساتھ تھے۔ وہ نیٹو میں بھی شامل ہوئے جبکہ اکیسویں صدی کی کولڈوار کے ساتھی بشمول انڈیا اور جاپان دل و جان سے امریکہ کے ساتھ نہیں لگتے۔ ان کے چین کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات ہیں ۔ پھر صدر شی بھی دنیا کے سٹیج پر چین کا جارحانہ امیج دکھانے کے حامی رہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد سے انہوں ان اقدامات پر زور دیا ہے کہ چین زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرے اور اپنے اندر فائٹنگ سپرٹ پیدا کرے۔ ہانگ کانگ ، تائیوان ، لداخ اس کی مثالیں ہیں ۔ چین کی اس پالیسی سے اس چیز کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنی سفارتی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی ضروری نہیں سمجھتا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہانگ کانگ اور تائیوان پر کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس طرح وہ ہمالیہ سے لے کر ساوتھ چائنہ سی تک پائے جانے والے علاقائی تنازعات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس وقت چین خاموشی سے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی طاقت اور برتری کا خوف لوگوں کے ذہنوں سے چھو منتر ہو رہا ہے ۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی۔ دنیامیں برتری اور خدمت کا تاج مشرقی قومیں پہنیں گی۔

  • تدفین پر بھی یو ٹرن تحریر: ذکیہ نّیر

    فیصل مسجد کے احاطے میں قبر کھودنے کے مناظر سبھی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دیکھے وہ آخری آرام گاہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تیار کی جارہی تھی قبر کھود دی گئی اینٹیں بھی رکھ لی گئیں مگر نمازِ جنازہ کے فوراً بعد انہیں اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں دفنا دیا گیا ایسی کیا جلدی تھی یا پھر کون سا ایسا خوف تھا کہ تدفین قومی ہیرو کی وصیت کے مطابق نہ کی جاسکی جو کارنامہ ڈاکٹر صاحب نے اس مملکت کے لیے سر انجام دیا انکا تو جنازہ بھی اس شایان شان نہ تھا۔وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے رسماً ڈاکٹر صاحب کی وفات پر "صرف”افسوس کا اظہار ہی کیا جبکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تدفین مرحوم کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد میں ہوگی مگر اس معاملے پر وزیراعظم کا یو ٹرن تب قوم نے دیکھا جب نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو ایمبولینس کے ذریعے ایچ ایٹ پہنچا دفنا دیاگیا۔ زندہ دل اور احسان مند قوم کی ایک بڑی تعداد نے جنازے کو کندھا دیا نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی ک فیصل مسجد کو جانے والی سڑک بلاک ہوگئی شہریوں نے "ڈاکٹر قدیر زندہ باد”کے نعرے لگائے سرخ گلاب بھی نچھاور کیے کچھ لوگ بین کرتے بھی دکھائی دئیے ہر آنکھ اشکبار تھی ہر سر جھکا ہوا تھا ہر نظر چھپتی پھر رہی تھی کہ جو سلوک انکی زندگی میں روا رکھا گیا اس پر شرم ہی محسوس کی جاسکتی تھی خیر پاکستانیوں کی محبت نے ثابت کیا کہ وہ عام آدمی کے ہیرو تھے اور رہیں گے ۔
    امید تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے کی پہلی صف میں وزیراعظم،صدر پاکستان ،چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ ، گورنر اور قومی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے جنکی وہاں موجودگی پوری دنیا کو بتائے گی کہ قومی ہیرو کو خراجِ عقیدت اور احترام کیسے دیا جاتا ہے مگر دکھ ہوا یہ دیکھ کر کہ ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے وزیراعظم صاحب تک نہ پہنچ سکے جبکہ اسی وقت وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے، برائے نام گارڈ آف آنرز کے بعد پاکستانی پرچم ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو تھما کر ساری رسمیں ادا کر دی گئیں۔۔۔ یہ سب مناظر اتنے حیرت انگیز تھے کہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہم واقعی بدلے ہوئے پاکستان میں  ہیں نہیں ہم تو آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں مشرف دور میں تھے جب اپنے ہی سائنسدان پر الزامات لگا کر انہیں نظر بند کر دیا گیا آذادی سلب کر لی گئی مرتبہ مقام سب چھین لیا گیا گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا جسکے کہنے پر کیا گیا ہم نے تو نمازِ جنازہ میں ہی ثابت کر دیا کہ آج بھی ہم انہی کے غلام ہیں خود مختاری کے دعوے تو رائیگاں ٹھہرے جن میں اتنا بھی دم نہیں کہ جیتے جی نہ سہی مرنے کے بعد وفادار پر سے غدار کا لیبل اتارنے کی جرات کر سکیں۔۔۔پھر مشرف کیوں گناہ گار انکے بعد کتنی حکومتیں آئیں گئیں جس نے ڈاکٹر صاحب کی عزت و رتبہ بحال کیا؟؟؟کس نے انہیں وہ مقام دیا جس کے وہ حقدار تھے ہم تو اس قدر "باندی” کردار کے عادی ہوچکے کہ ہم نے مرے ہوئے قدیر خان کو بھی مار دیا ۔۔ 

    مجھے یاد ہے جب ان پر ایٹمی راز ادھر ادھر کرنے کے سنگین الزامات لگا کر انہیں پانچ سال پابند سلاسل کیا گیا تھا بعد میں عدالتی احکامات جاری ہوئے کہ انکی قید ختم کی جائے مگر انہیں نظر بند ہی رکھا گیا جب جوہری ٹیکنالوجی کو لیبیا شمالی کوریا اور ایران منتقل کرنے جیسے الزامات لگائے گئے تو ان سے زبردستی سرکاری چینلز پر اعتراف بھی کرایا گیا تو وہ ایک ہی بات کہتے تھے کہ سچ بہت جلد سامنے لاؤں گا کس کے کہنے پر ان کے سر سارے الزام دھرے گئے اور اسکے پیچھے وجوہات اور مفادات کیا ہیں مگر پھر وہ خاموش ہوگئے بعد میں ایک ہی بات کہا کرتے تھے "وطن اگر ایک آدمی کے بیان سے بچ جائے تو یہ بہتر ہے” لفظ لفظ میں ریاست سے وفاداری کی خوشبو مہکتی ہے مِٹی کے لیے ایسی قربانیاں عام لوگ نہیں دیا کرتے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وقار اپنی آزادی اپنے نام کو ریاست ہر قربان تو کر دیتے ہیں مگر اسکی سالمیت کو کسی طور خطرے میں نہیں دھکیلتے تبھی28 مئی کو پوری دنیا نے ایک ایسے ملک کو ایٹمی قوت بنتے دیکھا جو آزادی کو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں گنوایا جاتا تھا جسکی معیشیت کا دارومدار بیرونی قرضوں اور امداد پر تھا مگر عبدالقدیر نے پاکستان کو قوت دی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی جرات دی ڈاکٹر صاحب سے جب بھی بات ہوتی ہے پاکستان سے شروع ہوتی اور پاکستان ہر ہی ختم ہوتی جبکہ اس محب الوطن پاکستانی کے ساتھ ڈگڈگی پہ ناچنے والوں نے جو سلوک کیا شاید وہ تاریخ میں کالے حروف سے لکھا جائے گا۔
    وہ حقدار تھے کہ وفات پر قومی سطح پر سوگ کا اعلان کیا جاتا تعطیل دی جاتی تین دن پرچم سرنگوں رہتا انکی وصیت پر لفظ بہ لفظ عمل ہوتا انکے جسد خاکی کو ریاست کے اعلیٰ عہدیدار خود لحد میں اتارتے،قبر پر پاکستانی پرچم لہرایا جاتا اعلان کیا جاتا کہ بچوں کی نصابی کتابوں میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خدمات کو بطور مضمون شامل کیا جائے گا موجودہ حکومت جو کہتی پھرتی ہے کہ وہ کسی "اور” کے حکم کے تابع نہیں یہ وقت تھا ثابت کرنے کا کہ یہ بات لفاظی تک محدود نہیں واقعی اب پاکستان خودمختاری کی جانب قدم رکھ چکا ہے جہاں ترجیحات وہی ہونگی جو ملک کی آبرو کو دوام بخشیں جو ہمارا ہیرو ہے وہ ہیرو ہی ہے چاہے لاکھ دنیا اسے وِلن گردانتی پھرے۔۔۔اے کاش ہم حقیقتاً آذاد ہوسکیں۔۔ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں ہوسکے تو ہم احسان فراموشوں کو معاف فرمائیے گا۔

    NayyarZakia@

  • پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    میرے پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہے جب پانامہ پیپرز منظر پر آئے تو جن جن افراد کے نام تھے ان میں کافی افراد نے اپنے اپنے آس پاس یا حلقہ احباب کو مطمئن کرنے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں دی ،ن لیگ نے اسے پاکستان کے خلاف عالمی سازش ،مولانا فضل الرحمن نے اسے یہودی سازش قرار دیا ،نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر نے تو پانامہ کو نظریہ پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا ،خواجہ آصف نے بڑے فخر سے اس وقت کے وزیراعظم  نواز شریف کو اسیمبلی میں کھڑے ہوکر کہا کہ میاں صاحب آپ بے فکر ہوجائیں یہ پانامہ ڈرامہ بھی لوگ بھول جائیں گے کوئ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ،شہباز شریف نے پانامہ کو پاجامہ سے تشبیہ دی مطلب ہر اس بندے نے اپنے اپنے طرز سے پانامہ کے خلاف بیان بازی کی جس کی جماعت کا لیڈر یا حلقہ احباب کے بندے کا اس پانامہ میں نام آیا ،اس وقت عمران خان صاحب اپوزیشن میں تھے انہوں نے کھل کر پانامہ میں نام آنے والے لوگوں کو پاکستانی قوم کے سامنے بے نقاب کیا اور پاکستانی قوم کو بتایا کہ کس طرح اس ملک کا پیسہ لوٹ کر ان لوگوں نے باہر آفشور کمپنیاں بنائ ہیں ،اس کے علاوہ شفاف تحقیقات اور کڑے احتساب کے لئے عمران خان صاحب نے ایک مکمل تحریک چلائ اور آخرکار سپریم کورٹ جاپہنچے جہاں پر مکمل چھان بین اور تمام قانونی پہلووٴں کا جائزہ لیا گیا ،یاد رہے آفشور کمپنی تب تک جرم نہیں جب تک یہ ثابت نا ہوجائے کہ اس کمپنی کو بنانے کے لئے جو پیسہ استعمال ہوا وہ پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجاگیا اس پیسہ کا پاکستان میں کوئ حساب کتاب نہیں دیا گیا اور ناہی ٹیکس ادا کیا گیا ،سپریم کورٹ نے ان تمام قانونی نکات پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے جواب طلب کیا لیکن نواز شریف حساب کتاب دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور کئ عرصے تک چلنے والے اس کیس میں نواز شریف اپنے حق میں کوئ واضع ثبوت پیش نا کرسکے جس کی نتیجے میں آخر کار نواز شریف کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت 28جولائ 2017کو نااہل قرار دے دیا جس کے بعد ن لیگ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف بڑا شور شرابہ کیا ،ججز اور اعلی اداروں کے خلاف ایک مکمل کمپئین چلائ یہ تو تھی  پانامہ پیپرز کے بعد کے حالات ،ابھی چند دن پہلے پانامہ طرز کا پنڈورا پیپرز بھی سامنے آیا جس میں پاکستان کے 700 سے زائد افراد کا نام اس میں شامل ہیں جن کی آفشور کمپنیاں نکل آئ ہیں اب وہی ن لیگ ،مولانا فضل الرحمن سمیت تمام پی ڈی ایم کے لوگ اس پنڈورا پیپرز پر وزیراعظم عمران خان صاحب سے بھی استعفی کا مطالبہ کردیا حالانکہ اس میں وزیراعظم عمران خان صاحب کا کوئ ذکر تک نہیں آیا ،پانامہ کو عالمی سازش کہنے والے لوگ اب پی ٹی آئ کے جن افراد کا نام آیا ہے ان کا کڑا احتساب چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تحقیقات ہونے سے پہلے ان کو کرپشن میں ملوث قرار دے رہے ہیں ،اب ان سے کوئ بندہ پوچھے جب پانامہ عالمی ،یہودی سازش تھی تو پنڈورا کوئ سازش کیوں نہیں ؟پنڈورا بھی جاری تو انہی لوگوں نے کیا ہے جنہوں نے پانامہ پیپرز جاری کئے تھے 

    بہرحال وزیراعظم عمران خان صاحب نے اسے کوئ سازش قرار نہیں دیا بلکہ اس پنڈورا پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کے سخت احتساب کا اعلان کرکے ایک اعلی سطحی کمیشن تشکیل دے دیا جس کی نگرانی وزیراعظم صاحب خود کریں گے اور پوری قوم پر امید ہے کہ اس تحقیقات کے بعد جو بھی غیر قانونی طور پر اس میں ملوث پایا گیا اس کو پاکستانی قانون کے مطابق  سزادی جائے گی اور وزیراعظم کسی بھی ایسے اپنی پارٹی کے بندے کی کوئ حمایت نہیں کرے گا جب تک وہ اس میں خود کو بیگناہ ثابت نہیں کرتا وزیراعظم عمران خان صاحب کے اس اعلان کو نا صرف پاکستانی قوم بلکہ عالمی دنیا نے بھی سراہا ہے اور یقینن یہ ایک کرپشن سے پاک پاکستان کی طرف ایک احسن قدم ہے 

    باقی کسی بھی اپوزیشن کی جماعت کو وزیراعظم کے اس تحقیقاتی کمیشن پر کوئ اعتراض ہے یا وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب اپنے بندوں کو کوئ رعایت دیں گے تو وہ عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں ،جس طرح عمران خان صاحب اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پانامہ پیپرز پر سپریم کورٹ گئے تھے اسی طرح اس وقت کی اپوزیشن کے پاس بھی یہ آپشن موجود ہے اور ان کو اگر کہیں کوئ چیز صحیح نا لگے تو ان کو جانا چاہیے سپریم کورٹ کی طرف ،باقی صرف باتوں ،دھمکیوں اور خالی سیاست کے لئے بیان بازی سے اپوزیشن کو کوئ فائدہ نہیں ہونا 

    @MajeedMahar4

  • غداری تحریر: فروا منیر

    غداری تحریر: فروا منیر

    غداری ایک ایسی لعنت ہے جو کسی بھی ملک کی بنیادوں کو کوکھلا کر دیتی ہے۔ اگر ہم تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں امت مسلمہ کی جماعتوں میں ہی کئی غدار نظر آئیں گے۔
    کسی بھی ملک کی سر زمین میں اس کے رہنے والوں کے لیے ماں کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سرزمین وطن کے ساتھ غداری کرنا ماں سے غداری کرنے کے برابر ہوتا ہے۔

    مگر تاریخ گواہ ہے کے کچھ لوگ تھے جنہوں نے وطن اور دین کی پرواہ نہ کی اور وہ صرف کچھ دولت کی خاطر تخت کی خاطر اس وطن کے خلاف  اس وطن کے دشمنوں کے ساتھ مل گئے اور غداروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ اگر ٹیپو سلطان کا دوست میر جعفر غداری نہ کرتا تو کیا آج برصغیر پاک و ہند کا یہ جغرافیہ ہوتا جو آپ کے سامنے ہے؟ اسی وجہ سے علامہ اقبالؒ نے بھی میر جعفر کو ننگ ملت‘ ننگ دیں اور ننگ وطن کے ناموں سے یاد کیا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ اگر شریف مکہ غداری نہ کرتے تو نہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوتا اور نہ ہی مسلمانوں کی یہ حالت ہوتی۔

    اقبالؒ نے تاریخ کے اس موڑ پر بھی ببانگ دہل کہا ’’بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفیٰؐ‘‘ بحیثیت مسلمان تاریخ میرے ہاتھ میں قدم قدم پر غداروں کی ایک فہرست تھما دیتی ہے‘

    اکثر اوقات ہم غداروں کو پہچان نہیں پاتے یا پھر غداروں کو غدار ماننے میں اتنی دیر کر جاتے ہیں کہ وہ ہماری بنیادوں کو کوکھلا کر چکے ہوتے ہیں۔

    سقوط بغداد مسلمانوں کے دکھ کے لیے کافی تھا کہ سقوط ڈھاکہ جیسا منظر سامنے آگیا ۔اسکے غداروں کی فہرست میں بڑے کردار شیخ مجیب الرحمنٰ اور جنرل یحییٰ خان ہیں۔

    کسی بھی ملک کو اس کے دشمن سے زیادہ جو چیز نقصان پہنچاتی ہے وہ ہے غداری۔دشمن تو سامنے سے وار کرتا ہے مگر غدار کسی بھی ریاست کے وہ کھوٹے سکے ہیں جو ریاست جو اندرونی طور پر کمزور کرتے ہیں۔

    زیادہ دور جانے جی ضرورت نہیں سابقہ وزیراعظم نواز شریف کے دشمن ملک انڈیا کے وزیراعظم سے پرانے تعلقات ہیں.  یہ تعلقات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ گھریلو سطح پربھی ہیں ۔
    ایسا بھی کیا کہ کشمیر پر ظلم ڈھاںے اور اسلام کے خلاف بولنے والے ، مسلمانوں ہر ظلم کرنے والے شخص کو جناب نواز شریف اپنے گھر اپنی نواسی جی شادی پر دعوت دیتے ہیں. آپس میں تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔

    ضرورت صرف امر کی ہےکہ نہ صرف غداروں کو پہچانا جائے بلکہ سر عام لٹکایا جائے ۔ تا کہ کوئی بھی اس وطن پاک کے ساتھ غداری کرنے کی سوچ کا تصور بھی نہیں رکھ سکے ۔

    @Fatii_PTI

  • برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

    برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

             

    کبھی برطانیہ کا دعوی تھا کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر اس کا قبضہ ہے دنیا کے 150 ملکوں پر برطانوی راج قائم تھا اور برطانوی سلطنت  میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور آج حال یہ ہے کہ برطانیہ کا رقبہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے کچھ زیادہ ہے کیا ان سب چیزوں نے برطانیہ کی طاقت کو کم کر دیا ہے تو اس کا جواب ہے ہاں برطانیہ کا سوپر پاور اسٹیٹس تو ختم ہوگیا ہے لیکن آج بھی امریکہ میں سکیورٹی کونسل کا مستقبل ممبر ہونے کی وجہ سے سے برطانیہ کسی بھی مسئلے کو ویٹو کر کر اس مسئلہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے ہے برطانیہ کے پاس ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہے برطانیہ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے کسی جگہ پر فوج بھیجنی ہو یا کسی بھی مسئلہ کے اوپر کوئی ڈبیٹ کرنی ہو تو وہ برطانیہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا بھلے ہی برطانیہ رقبہ کے لحاظ سے سے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تھوڑا سا بڑا ہے لیکن اس کا دفاعی بجٹ اور فوجی بجٹ کتنا ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ برطانیہ کا فوجی بجٹ 61 ارب ڈالر ہوتا ہے یعنی پاکستان کے فوجی بجٹ سے چھ گناہ زیادہ برطانوی ایئر فورس کے پاس دو سو سے زیادہ طیارے ہیں اور برطانوی بحریہ کے پاس کسی بھی طیارے کو منٹوں میں تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن اس کا سب سے خطرناک ہتھیار ایٹمی آبدوزیں ہیں یہ آبدوزیں ہر وقت برطانیہ کے ارد گرد چکر لگاتی رہتی ہیں اور اس کا دفاع کرتی رہتی ہیں دوسری طرف طرف اگر غور کریں تو اسلحہ تیار کرنے میں برطانیہ کا دنیا میں چھٹا نمبر ہے برطانوی معیشت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور جی سیون کا اہم رکن بھی ہے کچھ سال پہلے برطانیہ نے یونان اور آئرلینڈ کو دیوالیہ ہونے سے بھی بچایا تھا برطانیہ کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کہ امریکہ ایشیا اور افریقہ کے درمیان میں واقع ہے جس کا اس کو یہ فائدہ ہے کہ دنیا کے ان تین براعظموں میں ہونے والی کسی بھی قسم کی کوئی تجارت برطانیہ کے بنا نہیں ہو سکتی ایک امریکی جریدے کے مطابق اگر امریکہ دنیا کی سپرپاور ہے تو برطانیہ دنیا کی سپر سافٹ پاور ہے کیونکہ برطانیہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود یہ میسج لکھنے میں آج تک برقرار ہے کہ وہ امریکہ سے بہتر ہے مختصر بات کریں تو برطانیہ اتنی بڑی فوجی طاقت تو نہیں ہے کہ وہ دنیا کے کسی ملک پر تن تنہا حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لے لیکن برطانیہ اتنی بڑی طاقت ضرور ہے کہ دنیا میں ہونے والے کسی بھی ملک میں کسی بھی فیصلے پہ وہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اتنی بڑی فوجی طاقت ضرور ہے کہ کوئی بھی ملک اس پر حملہ کرنے کی سوچ نہیں سکتا یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برطانیہ کی طاقت اس کی فوجی اور معاشی قوت میں چھپی ہوئی نہیں بلکہ برطانیہ کی طاقت جدید  یونیورسٹیاں یا سائنسی مہارت اور دنیا کے تمام ملکوں سے اچھے تعلقات ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ نواز شریف کے دور میں چینی 65 روپے کلو تھی لیکن یہ بھول گئے کہ مشرف دور میں 27 روپے کلو تھی
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ڈالر 130 روپے کا نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف تو ڈالر 60 روپے کا چھوڑ کر گیا تھا
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ملک پر قرضہ ‏95 ارب ڈالر نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا
    لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف 33 ارب ڈالر پر چھوڑ کر گیا تھا

    اگر نواز شریف دور میں ملک ترقی کررہا تھا تو چینی 65 سے کم کر کے جانا چاہئیے تھا
    اگر ملک ترقی کررہا تھا تو ڈالر 60 روپے سے کم کر کہ جاتا۔
    اگر ملک ترقی کر رہا تھا تو قرضہ 33 ارب ڈالر سے کم کر کے جاتا۔

    جیسے آج عمران خان نے ملک کے قرضوں میں کمی لانا شروع کی ہے۔ آپ عمران خان سے لاکھ اختلاف رکھیں لیکن آپ کو ماننا پڑے گا اس سے اچھا آپشن ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اگر آپکی چوائس وہی لوگ ہیں جنکی کارکردگی ہمارے سامنے ہیں جن کے جیسے غدار اور منافق کوئی نہیں تو آپ وراثتی ماحول کے ذہنی غلام ہیں۔

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ایسے ایسے سیاستدان ہیں جن کے بال سفید ہوگئے سیاست کرتے جو واقعی قابل بھی ہیں اور ایماندار بھی ہونگے لیکن وہ بلاول اور مریم کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ سیاسی پارٹی ان کے باپ کی ہے اس لیے حکمرانی کا حق بھی انہی کا ہے پھر چاہے سیاست کی الف بے بھی معلوم نا ہو لیکن وراثت میں یہ ملک اور اس پر حکمرانی مل گئی پہلے ان کے آباؤ اجداد ہم پر حکمرانی کرتے رہے اب ان کی اولاد ہم پر حاکم بنیں گے ۔ آخر کیوں ۔؟

    میرا یا آپ کا بچہ کیوں حاکم نہیں بن سکتا آخر یہ بادشاہت ہے یا جمہوریت ۔ اگر جمہوریت ہے تو کیسی جمہوریت جہاں نسل در نسل غلام نسل در نسل حکمران چلے آرہے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آخر کیوں نہیں سوچتے کہ یہ دو خاندان پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں یہ مہنگائی غربت بے روزگاری اداروں کی بد حالی سب انہیں کی میراث ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں آخر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس کوئی ایسی جادو کی چھڑی ہے جو چار دہائیوں کی تباہی کو چند سالوں میں ہی ٹھیک کر دے گی یعنی ملک تباہ کرنے میں بھی کم سے کم چالیس سال لگے ہیں راتوں رات تباہ نہیں ہوا اور آپ چاہتے ہیں ٹھیک فوراً کر دیا جائے ۔؟

    ایسا ممکن ہی نہیں ہمیں ٹیکسز مہنگائی غربت کی چکی میں پسنا پڑے گا اب یہ تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی اس کے علاؤہ کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں۔ آئینے کے دو رخ ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے عقل و فہم سے عاری اندھے گونگے بہرے لوگ دیکھنے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ عمران خان نا بھی رہا تو اس کو کون سا فرق پڑے گا وہ تو وزیراعظم بننے سے پہلے بھی شہرت و عزت کہ زندگی وہ گزار چکا ہے بعد میں بھی گزار لے گا فرق پڑے گا مجھے اور آپ کو جو آج ہم عمران خان کو کوس رہے ہیں کل جب پھر سے ہم پر ڈاکو خاندان راج کر رہے ہونگے تو ہم اس وقت کو یاد کر کہ دہایاں دے رہے ہونگے لیکن پھر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔

    خدارا ہوش کے ناخن لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان   صوفیہ صدیقی

    "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان صوفیہ صدیقی

    دس اکتوبر 2021کی صبح, سوا نو بجے کے قریب ایک مخصوص ایس ایم ایس ٹون کے بعد میں نے موبائل اٹھایا۔ ساتھ ہی ایک افسوسناک خبر میری آنکھوں کے سامنے تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم میں نہیں رہے۔
    معذرت کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں یہ مذاق اتنی بار سن چکے تھے کہ دکانوں کو ایسے لگا کہ جیسے ایک بار پھر دھوکا دیا جارہا ہے ایس ایم ایس کرنے والے سے سوال بھیجا کیا واقعی؟؟
    جواب ملا! بدقسمتی سے اس بار یہ خبر درست ہے ۔افسوس صد افسوس ہم نے ایک عظیم سائنسدان اور ایک عظیم انسان کو کھو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کو یقینا پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اسلام آباد میں شاہرہ ِ فیصل کو ان کی جنازہ سے قبل و بعد کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند دیکھا۔ بے وقت کی بارش اور گھٹاؤں نے عظیم سائنسدان کو رخصت کیا۔ گویا آسمان بھی رویا اس بے قدری پہ جس کا اس قوم کو سامنا ہے۔

    اے کیو خان کو تمام تر سرکاری اور عسکری اعزازات کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں عام افراد کے علاؤہ سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمایاں بات یہ تھی کہ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے جنازے میں آنے سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے ہونے کا احتمال تھا سو وہ شریک نہ ہوئے۔

    ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد

    چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے

    تعزیت کرنے والے انبار اور بہت سے نقطوں پر مشتمل بحث دیکھتے دیکھتے، پاکستان کے بھارت میں تعینات سابق سفیر عبداللہ باسط کی ایک تحریر آنکھوں سے گزری۔ درج تھا ” دفنائیں گے قومی اعزاز کے ساتھ”. ایسے لگا یہ الفاظ ڈاکٹر عبد القدیر کے تھے۔ آج سچ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر لگا کہ نہیں پاکستان کے ہر محسن کی آواز ہے جو لٹ پٹ کہ پاکستان آیا اپنا سب کچھ اس کو دیا اور پھر غدار ہوا پھر جاتے جاتے اعزازات سے نواز دیا گیا کیوں کہ زبان بند ہوگئی تھی۔

    خیرسوشل میڈیا پہ تلاش کیا تو ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک وڈیو ملی جس میں سابق سفارتکار 25 مئی 2018 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر میں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومتوں سے نالاں تھے۔ مگر ریاستی پالیسیوں سے باغی نہیں تھے۔ عام لوگوں کی طرح بلا وجہ میں واویلا بھی نہیں مچاتے تھے۔
    عبد الباسط کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ” اب پاکستان سے تو کچھ مقدم نہیں ہے ۔ یہ ریاست ہے تو ہم ہے نہیں ہیں۔ نہیں تو ہم نہیں ہیں” ایک اور جگہ کہا کہ میں قید میں ہوں لیکن سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کرینگے۔

    ان چند جملوں سے ایسے لگتا ہے کہ اے کیو خان کم ظرف نہیں تھے۔ یقینا نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا۔ لکھا۔ بنایا بتایا۔ اپنی تحریروں سے بہت سے مشکلات کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
    محسن پاکستان کے جانے سے پاکستان ایک ایسے اثاثہ سے محروم ہوا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
    قومی سلامتی کا ایک اہم باب رقم کرنے والا اے کیو خان دنیا سے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوا ۔ اپنا باب بند کرتے کرتے ایک نیا باب کھول گیا ہے ہم کب تک اپنے ہیروز ایسے غداری کے الزامات میں نظر بند رکھیں گے اور پھر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن!!

  • ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام  کی بحالی ناگزیرہے   تحریر:  خرم جمال شاہد

    ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام کی بحالی ناگزیرہے تحریر: خرم جمال شاہد

    ‎@KhurramAJK
    جمہوریت کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ہو۔ جب کہ موجودہ حالات میں یہ تب ممکن ہو گاجب عوام کوبااختیار کرکے حکومت میں شامل کیا جائے۔ بدقسمتی سے ملک عزیز کی آزادی کو 75سال کا عرصہ گزر گیا لیکن اب تک جمہوریت کچھ بااثر خاندانوں کی سیاست تک محدود ہے۔ اب تک ملک عزیز میں عام آدمی بلخصوص نوجوانوں کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے بجائے رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔ عوام کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے لیئے صرف ایک ہی حل بچتا ہے وہ ہے بلدیاتی نظام کی بحالی اور اس کی فعالیت۔ بلدیاتی نظام ہر ملک کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد اور جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔ فعال اور موثربلدیاتی نظام ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر کارکردگی کی وجہ سے، لوکل باڈیز کا ملکی ترقی میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ جب کہ جن ملکوں میں یہ نظام موجود نہیں یا فعال نہیں وہاں مقامی لوگ مختلف مسائل کا شکار ہیں اوروہ ممالک زوال پذیر ہیں۔

    بلدیاتی نظام میں اختیارات اور انتظامی معاملات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوتی ہے جس سے جمہوری اقتدار اعلیٰ کی تعریف کے مطابق مقامی لوگ انتظامی امور اوراشتراکی ترقیاتی اپروچ کا حصہ بنتے ہیں۔ اختیارات، انتظامی امور اور ترقیاتی فنڈز کی نچلی (مقامی) سطح پرمنتقلی کے زریعے عوام کا بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں مقامی انتظامیہ، مقامی مسائل کی محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتر حل نکال سکتے ہیں۔ جبکہ محدود وسائل (فنڈز) کو اشتراکی ترقیاتی اپروچ کی بنیاد پر، بہتر طریقے سے علاقائی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ موجودہ دور میں، سالانہ ترقیاتی پلان و ایم ایل اے فنڈ کو سیاسی بنیادوں پر مختص کیا جاتا ہے، جبکہ ان فنڈز کا صرف سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ اکثروبیشتر یہ فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگانے کے بجائے ووٹ خریدنے یا سیاسی کارکنان کو نوازنے کے لیئے استعمال ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان فندز کو مقامی لوگوں کے مسائل اور موجود وسائل کے تناظر میں غیر سیاسی بنیادوں پرمختص کیا جا نا ضروری ہے۔ اس کا ایک جامع طریقہ کار ہونا چاہیئے۔ ہر سال علاقائی بلدیاتی باڈی یا کمیٹی کے ارکان عوام کے ساتھ مشاورت کریں اور مسائل کی نشاندہی کریں۔ سب سے اہم اور بنیادی ضرورت یا مسئلہ کے حل کے لیئے تجویز اسمبلی ممبران کے پاس جانی چاہیئے، تاکہ وہ اسی بنیاد پر سالانہ ترقیاتی پلان /ایم ایل اے فنڈ کو مختلف مدات میں مختص کرسکے۔ اس کے علاوہ جب یہ عمل نچلی سطح پر نافذ ہوتا ہے تو یہاں سے عام لوگوں کی بہتر سیاسی تربیت ہوتی ہے اور وہ آگے کی سیاست کا حصہ بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک یونین کونسل یا ڈسٹرکٹ کونسل کا ممبر جب اچھا تربیت یافتہ ہو تو وہ عملی طور پر مستقبل میں اسمبلی / پارلمینٹ کا حصہ بن کر اپنی صلاحیت ملکی طرقی کے لیئے بروئے کار لاسکتا ہے۔

    موجودہ حالات میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی یا غیر فعالیت کی وجہ سے اسمبلی ممبران ٹوٹی نلکہ، تقرری تبادلے، چھوٹی چھوٹی سکیمیوں اور تھانہ کچہری کی سیاست میں مصروف ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی بنیادی زمہ داری "ملکی امور، قانون سازری و آئینی ترامیم، ترقیاتی بجٹ کا انتظام، پالیسی سازی اور اس کے موثرنفاذ ” کو نبھانے سے قاصر ہیں۔ چونکہ اسمبلی میں کم تعلیم یافتہ ممبران ہونے کی وجہ سے، اسمبلی ممبران بلدیاتی نظام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکے ہیں جبکہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیم اور قانون سازی کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے وہ پرانی روایتی استحصالی سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک گلی محلے کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسمبلی ممبران مقامی مسائل کے حل کے لیئے مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لاتی تاکہ ان کے سر سے ٹوٹی نلکہ، تھانہ کچہری، تقرری تبادلہ اور سکمیوں کا بوجھ ختم ہوتا اور وہ بھی دوسرے ممالک کے کے پارلیمنٹ ارکان کی طرح قانون سازی کرتے۔

    بلدیاتی نظام عوام کو حکمرانوں کے احتساب کا نظام مہیا کرتا ہے۔حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔ بلدیاتی نظام میں ایک اہم کام فنڈز کا مناسب اور شفاف طریقے سے استعمال اور اس کی عوامی جوابدہی ہے۔ اس میں مقامی حکومتیں / باڈیز فنڈز کے شفاف خرچ اور آڈٹ کے زریعے جوابدہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ موجودہ حالات میں یہ فنڈز سیاسی کارکنان کو نوازنے کے خرد برد کیئے جاتے ہیں اور بدقسمتی سے ریاستی شعبہ لوکل گورنمنٹ بھی اس کرپشن کا حصہ رہا ہے۔ جب تک بلدیاتی نظام نافذ اور فعال نہیں ہوتا تب تک اس خرد برد کو نہیں روکا جا سکتا۔

    بلدیاتی نظام کیا ہے۔اس کی ابتدا کب ہوئی۔اس نظام کو پھلنے پھولنے کیوں نہیں دیا جا رہا۔اس نظام کے آنے سے عام عوام یا نچلی سطح کے سیاسی کارکن اور خود سیاسی پارٹیوں کو کیا فوائد ہو سکتے ہیں۔یہ سب وہ سوالات ہیں جو ایک عام سیاسی کارکن کے ذہن میں اکثر اٹھتے ہیں لیکن وہ اپنے زاتی مفاد یا سیاسی اکابرین / راہنماؤں کی ناراضگی کی ڈر کی وجہ سے خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ (کیوں کہ سیاسی راہنماؤں کی نظر میں بلدیاتی نظام ایک ناقابل معافی جرم ہے)۔یہ نظام کئی صدیوں سے دنیا میں رائج ہے۔ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان اسلامی ممالک میں معروف ہیں وہ 1990کے عشرے میں بلدیاتی انتخابات سے استنبول کے مئیر منتخب ہوئے۔انڈونیشیا میں بلدیاتی اداروں سے تربیت یافتہ جوکوویدو سربراہ مملکت کے منصب تک پہنچے۔ جبکہ بر صغیر میں انگریزدور 1846سے کچھ حد تک لوکل باڈیز نے مختلف شکلوں میں کام کیا۔1947میں پاکستان اور ہندوستان کے علیحدہ ہونے کے بعد پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں یہ نظام موجود تھاا س کو ختم کر کے تمام اختیارات ختم کر دیے گے،ختم کی جانے والی کمیٹیوں کے ممبران اور چیئرمین کو بذریعہ الیکشن عوام منتخب کرتی اور سماجی بہبود کے 37کاموں کو ان کمیٹیوں کے زیر انتظام کر دیا گیا جن میں سماجی بہبود،صحت،پانی،صفائی و دیگر بنادی انفراسٹکچر و غیرہ شامل تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ کمیٹیاں 29اشیاء پر ٹیکس لگانے کا بھی اختیار رکھتی تھیں، یہ سسٹم جب تک ایوب خان رہے چلتا رہا لیکن پہلی عوامی حکومت نے اپنے مفاد کی خاطر اس نظام کو ختم کردیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لگا کر عنان حکومت سنبھالا تو انہوں نے اس نظام کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دیا جو اس سمت میں ایک اہم اور مثبت قدم تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد پاکستان میں دوبارہ بننے والی جمہوری حکومتوں نے اس نظا م کا خاتمہ کر دیا۔ اس دوران جمہوری حکومتیں گزری لیکن کوئی بھی حکومت اس نظام کو دوبارہ بحال یا جاری رکھنے میں سنجیدہ نہ ہوئی۔ جنرل(ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمر جنسی نافذ کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس نظام کومذید تبدیلیوں کے ساتھ رائج کیا اب اس نظام میں چیئر مین اور وائس چیئرمین کی جگہ ناظم اور نائب ناظم نے لے لی۔ 2001میں نئے لوکل گورنمنٹ آرڈینس کے تحت لوکل باڈیز کے الیکشن کروائے گیااور تمام اضلاع کو ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر اور ضلع ناظم کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو ضلع ناظم کے سپرد کر دیا گیا۔

    پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی بہت قلیل مدت کے لیئے بلدیاتی نظام رائج رہا ہے لیکن کبھی بھی ان کو باقاعدہ اختیارات کنہیں ملے۔ 1960میں جنرل ایوب اور پھر 1982میں صدر ضیاء الحق کے دور میں یہاں بریگیڈیر حیات خان نے بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔ دوبارہ1986اور1991میں یہاں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی الیکشن ہوئے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت ان ادارہ جات کو توڑ دیا اور اس وقت سے لیکر آج تک دوبارہ یہ نظام بحال نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعتیں مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور تسلیاں دے کر بلدیاتی نظام کو بحال نہیں کیا۔

    بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر ہونے کے بہت فوائد ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ یہ ہو گا کہ ہر سال جو ہمارا ترقیاتی بجٹ خرچ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، یا ترقیاتی کام صرف فائلوں کی حدتک ہوتے ہیں وہ زمین پر نظر آئیں گے۔ اس نظام کے تحت ہر علاقے کی عوام کو اس علاقے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا علم ہو گا اور وہ اس بجٹ کے خرچ کے متعلق معلومات بھی رکھ سکیں گے۔ ممبران اسمبلی کا کام قانون سازی ہے چونکہ قانون سازی اور قومی سطح کی پالیسز بنانا ہوتا ہے لیکن یہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان ممبران کو ٹوٹی،نلکہ اور تبادلہ کی سیاست کرنی پڑتی ہے۔بلدیاتی نظام بحال ہونے کی صورت میں یہ ممبران اسمبلی اپنے اصل کام کی طرف توجہ دے سکیں گے اور اس طرح قومی سطح پر اچھی پالیسز مرتب کر سکیں گے اور خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ اس نظام کی بحالی کی صورت میں ہمیں اچھی اور باکردار قیادت مل سکے گی۔چونکہ بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہو تا ہے۔اور اس نظام سے اچھے اورقابل مقامی قیادت میسر آئے گی۔ چونکہ پہلے کوئی بھی ممبر لوکل سطح پر اپنی پالیسیزدے گا اور ان پالیسیز سے اس علاقہ میں کیا ڈویلپمنٹ ہوئی ہے پھر اگر وہ ممبر لوکل باڈیز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے گا تو عوام علاقہ اس کی لوکل سطح کی کارگزاری کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حق یا مخالفت میں با آسانی فیصلہ کر سکیں گے بلدیاتی نظام کی وجہ عام سیاسی کارکنان کی بھی حکومتی معاملات میں شراکت ہوتی ہے اور وہ کارکنان جو دن رات اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ان کو ان کی محنت کا ثمر بھی مل جا تا ہے،اور اس نظام کی بدولت سیاسی ورکرز کے متعلق عوام میں اعتماد بڑھے گا بلدیاتی نظام ہونے کی صورت میں عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ہو گا اور عوام بخوشی اپنے اس حق کا استعمال کریں گے۔

    آزاد کشمیر میں بلدیاتی نظام کو ختم ہوئے پچیس سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ نام نہاد جمہوری حکمران عوام کو جھوٹے وعدے کرکے اقتدار کی جنگ میں مشغول ہیں۔قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں فوجی حکمرانوں نے بلدیاتی نظام کو بحال کیاا ور بلدیاتی انتخابات کروائے لیکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہو نے والے جمہوری حکمران بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی اور صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیئے چھ ماہ سے ایک سال کا وقت دیا اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی خواجہ فاروق وزیر بلدیات کررہے ہیں۔ امید ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود پچھلے دور کی طرح اس دفعہ عوام پر زیادتی کے مرتکب نہیں ہونگے بلکہ وہ اس نظام کی بحالی کے زریعے عوام میں اپنا مقام بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سول سوسائٹی، سماجی کارکنان، صحافی اوروکلاء بلدیاتی نظام کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    ارضِ پاک کو وجود میں آۓ 74 سال کا عرصہ بیت چکا مگر ہم آج بھی ان ممالک سے ترقی کی رفتار میں بہت پیچھے ہیں جو ہمارے وطن عزیز کے بعد وجود میں آۓ۔ اس کی ذمہ دار صرف کوٸی ایک فرد یا سیاسی پارٹی نہیں بلکہ پوری قوم ہے۔ لاتعداد قربانیوں کے بعد جو وطن عزیز حاصل کیا گیا ہم آج تک ان کا حق ادا نہیں کر سکے ہمارے آباٶاجداد نے بے شمار قربانیاں دیں تاکہ ہم غلامی سے نجات حاصل کر کے ایک کھلی فضا میں سانس لیں سکیں ایک آزاد اسلامی ریاست تشکیل دی جاۓ تا کہ ہم اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں مگر افسوس کہ بظاہر تو ہم نے انگریز  کی غلامی سے آزادی تو حاصل کر لی مگر آج بھی ہم ذہنی غلام ہیں خواہشات کے ضرورتوں کے غلام ہیں ہم خود غرض قوم ہیں جسے وطن عزیز کی سالمیت یا اسکی فلاح سے کوٸی واسطہ نہیں رہا بلکہ صرف اپنے مفاد اپنی انا کی پڑی ہے۔ 

    پاکستان کے معرض وجود سے لے کر اب تک ہم میں سے کسی نے ایک دن بھی پاکستان کے بارے میں نہیں سوچا ہم نے اپنے آباٶاجداد کی قربانیوں کو علامہ اقبال اور قاٸداظم کے فرمان کو نظریہ پاکستان کو بھلا دیا ۔ آج ہم مساٸل کا رونا روتے ہیں مگر ان مساٸل کو پیدا کرنے والے اور انکی افزاٸش کرنے والے بھی ہم خود ہیں۔ ہمارے سامنے بحیثیت لیڈر محمد صلى الله عليه واله وسلم ، صحابہ کرامؓ اور تاریخ کے بڑے بڑے عظیم مسلمان حکمرانوں اور قاٸداعظم کی مثالیں موجود تھی مگر پھر بھی ہم نے ایک بار نہیں بلکہ بہت بار کرپٹ، بے ایمان حکمرانوں کو چنا۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں جتنی بار بھی ووٹ کاسٹ کیا صرف روٹی، کپڑے، مکان کے نا پہ کیا کبھی بھی پاکستان کے مستقبل یا اسکی فلاح کے لیے نہیں کیا۔ ہم نے یا تو جیالا بن کے یا ن لیگی بن کے یا کپتان کے ٹاٸیگرز بن کے ووٹ ڈالا ہم نے کبھی بھی بحیثیت پاکستانی بن کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا کیونکہ ہم چند لوگوں کے ہاتھوں ذہنی غلام بن چکے ہیں ۔ 

     ہم نے آج تک کبھی نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی ہم نے کبھی بھی اس نظریہ کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا جو علامہ اقبال اور قاٸداعظم نے ہمیں دیا تھا اور جس پہ پاکستان بنا تھا یہی وجہ ہے ہم ابھی تک ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہم نے ذاتیات کی بنیاد پہ ووٹ ڈالا اور ڈاکو چوروں کو منتخب کر لیا ۔ غلطی تو ایک بار کی جاتی دوسری بار بھی وہی کرنا بے وقوفی کہلاتا یا جہالت

    ہم اگر پاکستانی بن کر سوچتے اور پاکستان کی خاطر اس کے نظریے کی خاطر ووٹ کاسٹ کرتے تو شاید آج اس موڑ پہ نہ کھڑے ہوتے۔ پانامہ کیس ، شوگر ملز کیس، منی لانڈرنگ ، فارن فنڈنگ کیس غرض ان تمام نام نہاد سیاسی جماعتوں پہ کرپشن کیسیز اور بدعنوانیوں کے کیسیز چل رہے لیکن اس کے بعد بھی ہم ان کا احتساب کرنے کی بجاۓ کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا رہا پوچھنے کی بجاۓ ہم پھر بھی انکے ساتھ کھڑے ہیں محض زات اور علاقے اور برادری کی وجہ سے کیا یہ سب وطن عزیز سے منافقت اور بے وفاٸی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا اس وطن کو لوٹنے والے قرض میں ڈبونے والے اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹ کر اپنی جاٸیدادیں بنانے والے کیا اس قابل ہیں کہ ہم انہیں اس وطن عزیز پہ مسلط کر دیں۔

    سیاستدان باہر رہتے باہر جاٸیدادیں بناتے علاج کے لیے اور چھٹیاں منانے کے لیے باہر جاتے اور پھر آ کر کہتے کہ ہمیں منتخب کریں جس کا سب کچھ باہر ہو وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتا۔ ہمیں نچلے طبقے کو اوپر لانا ہو گا  جو غریب عوام کے مساٸل کو سمجھ سکے۔ جیسے ایک مثال ہے کہ اے سی میں بیٹھا شخص کبھی بھی سورج تلے شدید گرمی میں کھڑے شخص کی تکلیف محسوس نہیں کر سکتا اسی طرح باہر رہنے والے یا اونچے اونچے محلوں میں بنگلوں میں رہنے والے حکمران کبھی بھی جھونپڑی میں رہنے والی عوام کے مساٸل نہیں سمجھ سکتے۔ ووٹ ایک قوم کے پاس اس کے وطن کی امانت ہوتی مگر ہم نے ہمیشہ اس وطن عزیز کی امنت میں خیانت کی کبھی اپنے روٹی کپڑے کے نام پہ تو کبھی فیورٹیزم کے نام پہ تو کبھی برادری کے نام پہ ووٹ ڈال کے۔ اب ہمیں خود میں شعور اجاگر کرنا ہو گا بحیثیت قوم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا ۔ پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے لیے انہیں چننا ہو گا جو واقع ہی وطن عزیز کے ساتھ مخلص ہوں۔ ذات پات ، برادری ، فرقہ پسندی وغیرہ کی رسومات کو توڑ کر نظریہ پاکستان کی خاطر اپنے ووٹ کو ڈالنا ہو گا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاۓ اب ہمیں ایک دوسرے میں شعور اجاگر کرنا ہے اور ایک پاکستانی بن کر حقیقی معنوں میں فقط پاکستان کے بارے میں سوچنا ہے🌟

    @sbwords7