Baaghi TV

Category: سیاست

  • ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ،حصہ دوم،تحریر:ام سلمیٰ

    ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ،حصہ دوم،تحریر:ام سلمیٰ

    وزیراعظم عمران خان کی زیادہ توجہ اس وقت ان ملکی مسائل پر ہے جو کئی دہائیوں سے توجہ طلب ہے بڑھتی ہوئی آبادی مانگ میں اضافہ اس وقت توانائی کی کمی میں اہم مسئلہ ہے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنائیں گے اور اس لیے وزیر اعظم عمران خان نے ہنگامی بنیاوں پر دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کا آغاز کروایا.

    جس وقت وزیراعظم عمران خان ان ڈیمز کے کام آغاز کروایا انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام شروع کرنے کے بعد "پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم” بنانے کے بارے میں مزید کہا کے اس سے ہمارے توانائی کے وسائل میں اضافہ ہوگا.اور ہمیں توانائی کے حصول میں آنے والی مشکلات کم ہونگی.

    وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آج ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ 4500 میگاواٹ ہائیڈل پاور پیدا کرے گا اور کم از کم 16 ہزار ملازمتیں فراہم کرے گا انشءاللہ.

    وزیر اعظم نے بھی اپنے خطاب کے دوران اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس منصوبے کے ساتھ حکومت "پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم” بنانے کی طرف جا رہی ہے۔

    "یہ ہمارا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا۔ چین نے تقریبا 5 ہزار بڑے ڈیم بنائے ہیں ، لیکن چین میں ان کے اب تک کُل اسی ہزار ڈیم ہیں۔ اس سے آپ کو پتہ چلتا ہے کے آپ اس ڈور میں کہاں ہیں اور ابھی آپ کو اس سیکٹر میں کتنی محنت کی ضرورت ہے.

    اس کام کی کی تعمیر کرنے کا فیصلہ پانچ دہائیاں پہلے لیا گیا تھا۔ ڈیم بنانے کے لیے یہ سب سے بہترین جگہ ہے اور اس کا انتخاب چار سے پانچ دہائیاں پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا ، اور آج اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ یہ ہی ہے ہماری ترقی نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ۔ ”

    سوچنے کی بات ہے اگر ہم توانائی حاصل کرتے ہیں دوسرے ممالک سے تو ہمارا زرمبادلہ کا ایک اہم حصہ ہیں کے حصول میں صرف ہوتا ہیں جب کے ہم ملکی وسائل کا سہی وقت پے استعمال کرتے اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مد نظر رکھتے تو آج توانائی میں خود کفیل ہوتے لیکن اس ضرورت کو صحیح وقت پے سمجھا ہی نہ گیا اور پانچ دہائیاں تک ملک میں اس طرح کے اہم منصوبوں پر کام شروع ہی نہ ھوا.
    وزیراعظم عمران خان نے مزید بتایا کہ حکومت اب دریاؤں پر مزید ڈیم بنانے کی طرف بڑھے گی جس سے زرمبادلہ پر دباؤ کم ہوگا اور پاکستان کو اپنا ایندھن خود پیدا کرنے کی اجازت ملے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فرنس آئل یا کوئلے کی بجائے پانی سے بجلی پیدا کرنے سے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکے گا۔ "فوائد دوہرے ہیں۔ ہمیں توانائی کے حصول میں استعمال ہونے والی اشیاء دوسرے ملکوں سے لینا نہیں پڑے گا .

    عمران نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ ”

    بڑھتے ہوئے توانائی کی کمی کے مسائل کو کم کرے گا انشاء اللہ.

    اور انشاء اللہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ ڈیم گلگت اور بلتستان کے لوگوں بالخصوص چلاس میں رہنے والوں کی قسمت بدل دے گا۔

    90 کی دہائی میں درآمد شدہ فرنس آئل کا استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے کے فیصلوں نے ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو متاثر کیا۔

    انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو اسے 20 ارب روپے کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا ، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ہے۔
    ایک اہم بات جو ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے مہنگائی کا ہم سب رونا روتے ہیں اور اس کی اصل وجوہات کی طرف ہم نہں آتے.

    پاکستان میں توانائی کے مسائل کی وجہ سے ہمیں توانائی کے حصول کے لیے دوسرے ممالک سے خرید کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ زر مبادلہ باہر چلا جاتا ہے اور اسے ہمارے روپے کی ويلو میں کمی آتی ہے اور اس آپکی ملک کے اندر ہر چیز کی قمیت خرید میں اضافہ ہوتا ہے اور
    اس سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

    حقیقت میں صحیح معنوں میں پاکستان کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے پر توجہ نہں دی گئی اگر بڑھتی ہوئی آبادی کا صحیح تہمینہ لگایا جاتا اور اس حساب سے ضرورت زندگی کی پیداواری صلاحیت کو مدد نظر رکھا اور بر وقت ملکی وسائل کو صحیح استعمال میں لایا جاتا تو آج ملک اس طرح کے مسائل سے دو چار نہ ہوتا پاکستان اس طرح شدید قسم کے توانائی کے مسائل سے دو چار نہ ہوتا اور مہنگائی بھی اس طرح عروج پے نہ ہوتی.

    Twitter handle
    @aworrior888

  • کیا چائنا۔روس ۔ترکی اور سنٹرل ایشیاء طالبان حکومت کو تسلیم کریں گا ؟ تحریر واحید خان

    کیا چائنا۔روس ۔ترکی اور سنٹرل ایشیاء طالبان حکومت کو تسلیم کریں گا ؟ تحریر واحید خان

    سیاست کی دنیا میں آج کا دوست کل کے لئے دشمن بن جاتے ہیں۔

    ہر ریاست قومی مفادات پر ترجیح اور دوستی رکھتی ہے۔

    اور اس کے محل وقوع کے نظر سے بھی بین الاقوامی تعلقات اور نظریات کے لحاظ سے بھی لین دین اور تجارت وغیرہ کرتے ہیں۔

    طالبان نے بھی چائنا کے ساتھ دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا اور وہ اس لئے طالبان بھی یہ جان چکے ہیں اگر دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو خطے کے اہم ممالک کے ساتھ روابط اور تجارت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    چائنا بھی آج کل اقتصادی سطح پر سپر پاور ابھر ہے۔

    دوسری طرف چائنا نے بھی طالبان کے ساتھ سی پیک کو سنٹرل ایشیاء تک لانا ہے اور اپنے اشیاء کو دنیا تک رسائی کا عزم رکھا ہے۔کیونکہ آج کل جنگ اقتصادی جنگ شروع ہو چکا ہے۔

    چائنا بھی چاہتا ہے کہ بھارت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو معاشیات کی نظر میں شکست دے۔

    روس بھی اس بار طالبان کے نئی حکومت کو تسلیم کرے گا کیونکہ روس بھی نہیں چاہتا کہ امریکہ دنیا پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے رہے۔

    وسطی ایشیا ریاستیں 1991 تک سوویت یونین کے ماتحت رہے۔

    سنٹرل ایشیا ممالک کے ساتھ روس اور طالبان دونوں چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت کے ساتھ نئی دوستی شروع کرے اور اپنے تجارت وغیرہ آگے بڑھائیں۔

    کابل فتح سے پہلے روس کی پشت پناہی مدد کرتے تھے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے اپنا بدلہ لے۔

    پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اوپر اور نیچے ہوتے ارہے ہے 

    لیکن اس بار پاکستان طالبان حکومت کے ساتھ بھائی چارہ کی طرح آگے بڑھاے گا کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں ریاستوں کے درمیان آمدورفت بہت زیادہ ہیں۔

    چمن بارڈر اور طورخم بارڈر پر روزانہ ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔اور ساتھ ساتھ تجارت بھی بہت زیادہ ہیں۔

    دونوں ممالک کے درمیان اگست 1965 میں اپنا تجارتی معاہدہ بھی ہوا تھا۔

    اور دونوں کی محل وقوع ایشیا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں دونوں ریاستیں ایک کے بنا رہنے میں ناممکن ہے۔

    کیونکہ دونوں ریاستیں شادیاں وغیرہ بھی کی ہے۔

    لہذا پاکستان طالبان کی حمایت ضرور کریں گے۔

    ترکی بھی ایک اسلامی ملک ہے۔

    ترکی بھی خواہشات رکھتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے۔

    ترکی نے انخلا میں اہم رول ادا کیا ہے اور ساتھ ساتھ اپنا سفارت خانہ بھی کھولا رکھا اور ترکی کے افواج انخلا میں کابل ائرپورٹ پر بھی ڈیوٹی سرانجام دی۔

    ترکی چاہتا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ کام کرے۔

    سنٹرل ایشیا کے بنا افغانستان اور وسطی ایشیا ممالک ادھورا ہے۔

    وہ اس لئے افغانستان اور ازبکستان کے درمیان بارڈر ہے۔

    آگے یہ سنٹرل ایشیا ریاستیں کی محل وقوع جڑے ہوئے ہیں۔

    افغانستان بھی چاہتا ہے کہ وسطی ایشیا ممالک کے ساتھ تجارت کرے کیونکہ زندگی گزارنے کے لئے گیس۔صحت تعلیم ہسپتال اور روڈ وغیرہ بنانا ضروری ہے۔

    ایک ریاست دوسرے ریاست کے ساتھ ( MOU ) ہونا ضروری ہے۔

    چائنا۔اور پاکستان چاہتے ہیں کہ وسطی ایشیا ریاستوں کے ساتھ سی پیک cpec پہنچ جائے افغانستان کے ذریعے۔

    لہذا چائنا پاکستان ترکی روس وغیرہ سب ممالک افغانستان کے نئے طالبان حکومت کے ساتھ روابط جاری رکھے گا لیکن ہر ریاست قومی مفادات اور وقت کے ساتھ طالبان حکومت کو تسلیم کریں گے ان شاء اللہ

    Twitter Handle @waheedkhan59

  • وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب   تحریر: احسان الحق

    وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب تحریر: احسان الحق

    گزشتہ رات وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے خطاب کیا. یہ خطاب ورچوئل یا فاصلاتی خطاب تھا. وزیراعظم نے ایک مسلمان عالمی رہنما کے طور پر خطاب کرتے ہوئے عالمی اور خطے کے مسائل پر مختصر مگر جامع خطاب کیا. عالمی مسائل بشمول عالمی وبا، کووڈ۱۹ ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی، منی لانڈرنگ، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، اسلامو فوبیا، ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم، مسئلہ افغانستان اور طالبان حکومت سازی جیسے اہم ترین امور پر بات کرتے ہوئے خود کو عالمی رہنما ثابت کیا. وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز اقوام متحدہ کے صدر کو 76ویں اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر مبارک دینے سے کیا.

    وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنما کے تقاضوں کے عین مطابق سب سے پہلے عالمی مسائل پر بات کی. اس وقت اقوام عالم کو سب سے بڑا مسئلہ عالمی وبا کووڈ۱۹ کا درپیش ہے. مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دینا کو کووڈ ۱۹ کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا ہے. کووڈ ۱۹ کی ویکسین کی یکساں فراہمی پر بات کی کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ان ممالک کی فنانسنگ کی جائے تا کہ اس موذی مرض کا مقابلہ کیا جائے. ماحولیاتی آلودگی میں مضر گیسوں کے اخراج کے حوالے سے پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر پھر بھی ہم سب سے زیادہ متاثر دس ممالک میں سے ایک ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا. اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں کروڑوں نئے درخت لگائے جا چکے ہیں اور کئی نئے جنگل بھی لگائے گئے ہیں. پاکستان نئی آماج گاہوں کو تیار کر رہا ہے اور پہلے سے موجود قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہا ہے. آلودگی سے بچنے کے لئے جدید اور قابل تجدید توانائی کے طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے.

    وزیراعظم نے کووڈ۱۹ کے حوالے سے  پاکستان کی کاوشیں دنیا کے سامنے رکھیں. اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے پاکستان نے عالمی وبا پر قابو پانے میں کامیاب رہا. ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کروایا جس کو دنیا نے نہ صرف سراہا بلکہ اپنایا بھی. وسائل اور بجٹ کی عدم دستیابی کے باوجود پاکستان نے انتہائی خوبصورتی اور چابکدستی سے اس موذی مرض پر قابو پایا اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور قوم کو بڑے نقصان سے بچا لیا. ہم کووڈ ۱۹ کی یکساں ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں اور ہر شہری کو ویکسین لگانے پر بھی پابند کر رہے ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی سے نپٹنے کے لئے بلین تری سونامی کا بھی ذکر کیا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان میں 1 ارب نئے درخت لگائے جا رہے ہیں. پچھلے تین سالوں میں کروڑوں نئے درختوں اور جنگلات کو اگانے سے مثبت نتائج ملنا شروع ہو چکے ہیں.

     

    مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے بھارتی مظالم اور ناجائز قبضے پر کھلے الفاظ اور شدید انداز میں مذمت کی. بھارتی مکرہ چہرے کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے رکھا. واضح انداز اور کھلے الفاظ میں فاشسٹ آر ایس ایس اور ہندوتوا کے نظریات پر بات کی کہ کس طرح پورے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اور بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے. شہریت کے امتیازی قانون کے ذریعے آر ایس ایس اور ہندوتوا ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں. مقبوضہ جموں وکشمیر میں اکثریتی مسلمان آبادی کو ہندو آبادی سے تبدیل کیا جا رہا ہے. بھارت کی ذمہ داری ہے کہ حالات کو سازگار بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ پرامن مزاکرات کرے اور 5 اگست 2019 والے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے. بھارت کی طرف سے فوجی تیاری، اسلحے کی دوڑ میں شمولیت، جدید اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری پر حالات مزید خرابی کی طرف جا سکتے ہیں. ان حالات اور مستقبل میں ممکنہ جنگ کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا.

    وزیراعظم نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی بربریت اور دہشتگردی کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ سید علی گیلانی کی میت کو چھین لیا گیا. سید علی گیلانی کی میت پر دھاوا بول کر قبضہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بھارتی دہشت گردی سے سید علی گیلانی کے اہل خانہ مذہبی اور اسلامی طریقہ سے تدفین کرنے سے قاصر رہے. میں جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرے تا کہ سید علی گیلانی کے ورثا اپنی خواہش اور اسلامی طریقے سے باقیات کو اسلامی قبرستان میں دفن کر سکیں.

    وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے عالمی سطح پر منی لانڈرنگ پر بھی تفصیل سے بات کی. کہنا تھا کہ فیکٹ آئی سے پتہ چلا کہ 7000 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے محفوظ عالمی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں. غریب اور ترقی پذیر ممالک سے چوری کر کے سالانہ اربوں ڈالر غیرقانونی طریقے سے محفوظ مالیاتی جگہوں منتقل کئے جاتے ہیں. ترقی پزیر اور غریب ممالک غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں. ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے. ان ممالک کا سرمایہ ترقی یافتہ ممالک میں جمع ہو رہا ہے اور وہ امیر سے امیر تر ملک بنتے جارہے ہیں. غریب ممالک سے لوگ روزگار کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. امیر ممالک لوٹی ہوئی غریب ممالک کی دولت اور پیسہ واپس نہیں کرتے کیوں ایسی کوئی مجبوری یا کشش نہیں ہوتی کہ جس بنا پر لوٹا ہوا پیسہ غریب ملکوں کی غریب عوام کو واپس کیا جائے. وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ منی لانڈرنگ کو روکا جائے. ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب روزگار کے لئے مہاجرین اور ملازمت کے لئے جانے والے لوگوں کو روکنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کو دیواریں کھڑی کرنی پڑیں گی.

    وزیراعظم نے کہا 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا. اس جنگ میں ساتھ دینے کے بدلے میں پاکستان پر بھارت کے ذریعے دہشت گردی مسلط کی گئی. افغانستان کے راستے سے پاکستان پر دہشت گردی کے حملے ہوتے رہے اور بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرتا رہا. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں نے 80 ہزار جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا. 35 لاکھ افراد بے گھر ہو کر دوسرے علاقوں کا سفر کرنے پر مجبور ہوئے. اتنی بڑی جانی اور معاشی قربانیوں کے بدلے ہماری تعریف کے بجائے امریکہ اور یورپ میں ہمارے خلاف باتیں ہوتی رہیں.

    میں پہلے دن سے ہی کہتا رہا کہ افغانستان کا حل فوجی آپریشن میں بالکل نہیں، میں امریکہ آیا یہاں سینیٹر جان ریڈ، بائیڈن اور کیری سے ملا اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر میری بات کوئی بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھا. 20 سال بعد ہماری بات درست ثابت ہوئی اور امریکہ کو مزاکرات کے ذریعے افغانستان چھوڑنا پڑا. عمران خان نے کہا اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بد قسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی. آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں 3 لاکھ افراد پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے. یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے. جب اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوگا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں اور کیسے آئے ہیں؟

    افغانستان کی صورتحال اور طالبان کی حکومت اور حکومت سازی پر بات کی اور دنیا پر واضح کیا کہ اس وقت طالبان اور افغانستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا. ہمیں افغان طالبان اور عوام کو ان کے حال پر نہیں چھوڑنا چاہئے. دوحہ مزاکرات میں یہی شرائط تھیں جن پر افغان طالبان عمل پیرا ہیں. امریکہ کی طرف سے عام معافی کا اعلان، مخلوط حکومت، افغان سرزمین کو کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے کی اجازت اور انسانی حقوق کا احترام کرنے جیسی شرائط تھیں، افغان ان شرائط پر عمل پیرا ہیں. میں اقوام عالم کو کہتا ہوں کہ اس وقت ہم سب کو طالبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی مالی اور غذائی امداد کرنی چاہئے. اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو اگلے سال تک غذائی قلت 90 فیصد تک بڑھ جائے گی. آخر میں میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنا وقت ضائع کئے بغیر افغانستان کے متعلق عملی طور کردار ادا کرنا ہوگا، آپ سب کا بہت شکریہ

    @mian_ihsaan

  • افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کی افغانستان کے ساتھ جنگ کے حوالے سے آج تک ایک بات تو بہت کی گئی ہے کہ اس جنگ میں امریکہ نے کئی ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا لیکن ایک بات جو آپ نے کبھی نہیں سنی ہو گی وہ یہ ہے کہ امریکہ نے اس جنگ سے کتنے ارب ڈالرز کمائے۔جی ہاں۔۔۔ اس جنگ میں امریکی حکومت کا ہونے والا نقصان ایک طرف ہے لیکن میں آج بتاوں گی کہ وہ کونسی امریکی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اس جنگ میں اربوں ڈالرز کمائے۔ یعنی امریکہ کو اس جنگ میں اخلاقی ناکامی تو ضرور ہوئی لیکن مالی طور پر بہت فائدہ بھی ہوا۔ اور اب جب یہ جنگ ختم ہو چکی ہے امریکہ افغانستان سے واپس جا چکا ہے تو ان کمپنیز کو حاصل ہونے والا اربوں ڈالرز کا منافع بھی بند ہوگیا ہے جس کے بعد ایک مخصوص حلقہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک نئی جنگ میں گھسیٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟ اس سب پر بات کریں گے۔Brown university کےCost of war project
    کے مطابق2001سے2021 کے درمیان امریکہ نے جتنے پیسے اس جنگ پر خرچ کیے اس میں سے آدھی سے زیادہ رقم کی ادائیگی افغانستان میں امریکی محکمہ دفاع کے مختلف آپریشنز کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کی گئی۔ اور یہ ساری ادائیگیاں امریکہ کی چند نجی کمپنیز کو کی گئیں کیونکہ اس جنگ میں امریکی افواج کے اپنے فوجی اور وسائل بہت کم استعمال کئے گئے تھے۔ زیادہ تر وسائل دفاعی Defence contractorsنے فراہم کیے تھے۔ جن کے لئے ان کو payکیا جاتا تھا۔اب اگر بات کی جائے اخراجات کی تو امریکی حکومت کی اپنی ویب سائٹ USAspending.comکے مطابق 2008سے 2021کے دوران تین امریکی کمپنیوںDencorp FluorKellogg Brown & Rootکو امریکی حکومتوں نے سب سے بڑے ٹھیکے دیے۔امریکی کمپنیDencorp سے افغانستان میں مختلف سروسز حاصل کی جاتیں تھیں جن میں ملک کی نیشنل پولیس اور انسداد منشیات کی فورسز کو سامان کی فراہمی اور تربیت شامل تھی۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی سابق صدر حامد کرزئی کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز کی ٹیم بھی دیتی تھی۔چند سال پہلے اس کمپنی کو ایک دوسری امریکی کمپنیAmentumنے خرید لیا تھا۔ اس طرح ان دونوں کمپنیوں کو افغانستان میں سروسزکے لئے 14.4 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔Texasمیں قائم کمپنیFluor فلور کو جنوبی افغانستان میں امریکی فوجی اڈے تعمیر کرنے کے ٹھیکے دیے گئے تھےاس کمپنی کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق یہ افغانستان میں 56 اڈے آپریٹ کرتے تھے۔ ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے اور ایک دن میں ایک لاکھ 91 ہزار سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھے۔ اس کام کے لئے اس کمپنی کو افغانستان میں 13.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔ اس کے بعد Kellogg Brown & RootیعنیKBRکوانجینیئرنگ اور اجسٹکس کا کام دیا جاتا تھا۔ انھیں رن وے اور طیاروں کی سروس، ہوائی اڈوں کی Management and aranotical communicationکے لئے3.6 بلین ڈالرز کے ٹھیکے ملے۔ان کے علاوہ جس کمپنی کو سب سے بڑے ٹھیکے ملے وہ Raytheonتھی۔ اس کا شمار امریکہ کی بڑی فضائی اور دفاعی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اسے افغانستان میں سروسز کے لئے 2.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔

    اسے حال ہی میں افغان ایئرفورس کی ترتیب کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی جس کے لیے 2020 میں اس نے 145 ملین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔Virginiaمیں قائم سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی کمپنیAegis LLCوہ پانچویں بڑی کمپنی ہے جس نے افغانستان میں سب سے زیادہ پیسے کمائے۔اسے امریکی حکومت سے 1.2 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے تھے۔ اسے کابل میں امریکی سفارتخانے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔یہ اعداد و شمار دوہزارآٹھ سے دوہزار بیس تک کے ہیں۔ جبکہ اگر دو ہزار ایک سے ٹھیکوں کی مالیت کی بات جائے توCost of war projectکی رپورٹ کے مطابق2001سے 2020تک ان پانچ کمپنیوں کو پینٹاگون سے دو عشاریہ ایک ٹریلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔اور یہ رقم صرف وہ ہے جو انہوں نے براہ راست ٹھیکوں کی مد میں حاصل کی اس کے علاوہ کیا کیا فوائد حاصل کئے گئے ان کی تفصیلات صرف ان کمپنیز کو ہی معلوم ہیں اور کیونکہ یہ تمام پرائیوٹ کمپنیاں ہیں تو یہ اپنی معلومات پبلک بھی نہیں کرتیں۔اور ان پانچ کمپنیوں کے علاوہ بھی بہت سی دفاعی کمپنیاں ایسی ہیں جن کا اسلحہ،Navigation and communication equipmentفوجی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ریڈار، نائٹ ویژن سسٹم،Light armoured vehiclesبھی افغانستان میں استعمال ہوئیں جس سے انہوں نے بھی اس جنگ میں خوب مال بنایا مگر کیونکہ اس دفاعی سامان کی پروڈکشن کو براہ راست اس جنگ سے نہیں جوڑا جاتا تو ان کمپنیز کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔اس کے علاوہ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کے دوران ان کمپنیوں کو یہ بھی چھوٹ دی گئی تھی کہ وہ مختلف سامان اور سروسز کی قیمتوں کا تعین خود کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے کئی کنٹریکٹ تو بغیر مقابلے کے دے دیے گئے تھے۔ اور کمپنیوں نے اپنی من مانی قیمتیں حاصل کیں تھیں۔اور بعض اوقات جب حالات زیادہ خراب ہوتے تھے تو یہ کمپنیاں مشکلات کو وجہ بنا کر قیمتیں بڑھا بھی دیتیں تھیں۔ اس کے علاوہ ان ٹھیکوں میں Interest rateبہت زیادہ ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ایک بلڈنگ کو پینٹ کرنے کے لئے 20گنا زیادہ رقم وصول کی گئی جبکہ کچھ کیسسز میں ایسا بھی ہوا کہ عمارت کو پینٹ نہیں کیا گیا اور پیسے بھی لے لئے گئے۔

    پھر ایسا بھی ہوتا تھا کہ یہ کمپنیاں افغانستان کی لوکل کمپنیوں کو ٹھیکہ دے کر انتہائی سستے داموں میں کام کروا لیتیں تھیں لیکن خود امریکی حکومت کو کئی گنا زیادہ پیسے چارج کرتیں تھیں۔ اس طرح امریکہ نے اس جنگ میں جو کچھ خرچ کیا اس کا ایک بڑا حصہ واپس امریکہ ہی جاتا رہا اور وہاں کی کمپنیاں مضبوط ہوئیں کاروبار بڑھا اور خوب منافع کمایا گیا۔اور اب جب امریکہ یہ جنگ ختم کرکے واپس چلا گیا ہے تو یہ کمپنیاں ایک مخصوص طریقے سے لابنگ کروا رہی ہیں کہ کوئی نیا محاذ شروع کیا جا سکے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ دوبارہ کوئی جنگ شروع ہوتی ہے تواب تو ان کمپنیوں کے پاس پہلے سے زیادہ تجربہ ہے جس کی بنیاد پر پھرانہی کمپنیوں کو ٹھیکے دئیے جائیں گے اور اس طرح یہ منافع خوری چلتی رہے گی۔اب سوال یہ آتا ہے کہ امریکہ کا اگلا نشانہ کونسا ملک ہو سکتا ہے؟تو اس کے لئے میں آپ کو بتاوں کہ اب کی بار زیادہ چانسز یہ ہیں کہ امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا بلکہDirectہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑی جائے گی اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں بھی کر رہے ہیں۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacific میں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ بس اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔اس معاہدے کے علاوہ بھی کئی ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی امریکہ سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔ بہر حال صورتحال جو بھی ہو آنے والے دن اس خطے کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ اور چین کے درمیان ٹاکرا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس طرح کے حالات میں اخلاقی ناکامی تو ہو سکتی ہے لیکن مالی طور پر فائدے ہی فائدے ہوتے ہیں جس کے لئے امریکی کمپنیاں بہت بے چین ہیں۔

  • خاندان پہلے سیاست بعد میں تحریر:آصف اسماعیل

    اس سے پہلے کہ ہم اس بحث کو سمیٹیں کہ نواز شریف کے بعد پارٹی قیادت کو کے پاس جائے گی ہمیں چوہدری ظہور الہی کے خاندان اور ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کو سمجھنا ہو گا کیونکہ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے سے منسلک بھی ہیں اور ایسا کرنے سے زیادہ بہتر انداز میں پتا چلے گا کہ پاکستان میں سیاسی خاندانوں میں قیادت کیسے منتقل ہوتی ہے۔

    اگر چوہدری ظہور الہی کے خاندان پر نظر دوڑائی جائے تو چوہدری صاحب خود سیاست میں کافی متحرک تھے جبکہ ان کے بھائی چوہدری منظور الہی نے اپنے آپ کو کاروبار تک ہی محدود رکھا، مگر وہ اپنے بھائی کے سیاست مفادات کی حفاظت بھی کرتے تھے ان کی مدد بھی۔
    چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی اپنے بیٹے چوہدری شجاعت کو قومی اسمبلی کا ممبر منتخب کروایا، اس وقت کے سیاستدانوں سے بات کی جائے تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ گجرات میں ایک رائے تھی کہ چوہدری ظہور الہی کے بیٹے سیاست کریں گے جبکہ چوہدری ظہور الہی کے بیٹے چوہدری پرویز الہی کاروبار کا آگے لے کر جائیں گے مگر پھر انیس سو

    اکیاسی میں چوہدری ظہور الہی کو الذوالفقار کی جانب سے قتل کیا گیا تو یہ ضرورت پڑی کہ مرکز کی سیاست اگر چوہدری شجاعت کریں گے تو صوبائی سیٹ پر بھی کسی ایسے شخص کو سامنے لانا چاہیے جو خاندان سے ہو اور جو خاندان سے مفادات کی حفاظت بھی کرے۔ اسی حوالے سے جب میری ترجمان پرویز الہی زین علی بھٹی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ "چوہدری ظہور الہی کی شہادت کے فوری بعد قیادت کا ایک خلا پیدا ہو گیا کیونکہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا تو اس وقت خاندان کے اندر اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ چوہدری شجاعت مرکز کی سیاست کریں گے اور چوہدری پرویز الہی جو کہ چوہدری ظہور الہی کے بھتیجے بھی ہیں انہیں پنجاب کے معاملات دیکھنے پر معمور کیا جائے گا، جہاں تک سیاسی کھینچا تانی کی بات ہے تو وہ اسی وجہ سے نہیں ہوئی کہ دونوں کو اپنے رولز کا پتا چل گیا”۔ چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز دونوں ہی متحرک ہو گئے تھے کیونکہ پی این اے کی تحریک میں دونوں سے طالبعلم سیاست شروع کر دی تھی۔

    اسی طرح اگر ہم بھٹو خاندان پر نظر دوڑائی تو کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بھائی نہیں تھے تو قیادت کا جھگڑا ان کے بچوں میں ہونا تھا جو بعد میں ہوا بھی مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی بے نظیر بھٹو کی گرومنگ شروع کر دی تھی جیسا کہ آپ سب نے دیکھا ہو گا کہ شملہ معاہدے کے وقت بے نظیر بھٹو اس دورے میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھیں اور انہیں ہی سیاسی جانشین تصور کیا جاتا تھا مگر خاندان کے اندر لوگوں کا خیال تھا کہ جانشین مرتضی بھٹو کو ہونا چاہئے لیکن اس خیال کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی اور بے نظیر بھٹو ہی اصل وارث بنیں۔

    اب اگر ہم ان دونوں خاندانوں کو سامنے رکھیں تو ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ نواز شریف کا سیاسی وارث کون ہو گا۔ 1999ء کے مارشل لاء کے فوری بعد سے لے کر دو ہزار سات تک سب کا ماننا یہی تھا کہ حمزہ شہباز ہی نواز شریف کے سیاسی وارث ہوں گی اور یہ تاثر دو ہزار سولہ تک کافی حد تک درست بھی مانا جاتا ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار اٹھارہ کے دوران حمزہ

    شہباز پنجاب میں ڈپٹی وزیراعلی کے طورپر متحرک رہے۔ مرکز کی سیاست نواز شریف کے ہاتھ میں تھی جبکہ مریم نواز ان کے ساتھ میٹنگ اور بیرونی دوروں پر ہوتی تھیں اور پنجاب کے انتظامی معاملات شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے ہاتھ میں تھے۔ میری اپنی رائے میں خاندان میں خاموش مفاہمت اب بھی برقرار ہے مگر اب اس میں تھوڑی پیچیدگی آ گئی ہے کیونکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پانامہ کیسز کے دوران اس طرح سے متحرک نہیں ہوئے اور نہ ہی دونوں نے بیانات دیئے جیسے کھل کر مریم نواز یا نواز شریف سامنے آئے۔ اب پارٹی میں دو گروپ ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن نواز شریف کے منظر سے ہٹنے کے بعد سامنے آئیں گے۔ ایک گروپ کا ماننا یہ ہے کہ جس کی دھاک پنجاب پر ہوتی ہے وہی مرکز میں حکومت بناتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کا ماننا ہے کہ ووٹ نواز شریف کا ہے، مریم نواز اور نواز شریف پر جب مشکل وقت تھا تو شہباز شریف اور ان کے بیٹے خاموش تھے تو قیادت مریم نواز کے پاس ہی جانی چاہیے۔

    اب اگر تجزیہ کیا جائے تو جیسے چوہدری خاندان میں اس بات پر اتفاق تھا کہ مرکز کی سیاست چوہدری شجاعت کریں گے اور صوبے کی سیاست چوہدری پرویز الہی ویسے ہی نواز شریف کا سیاسی وارث مرکز میں مریم نواز کی صورت میں سامنے آئے گا اور صوبے میں حمزہ شہباز کی صورت یہاں تک شہباز شریف کا تعلق ہے تو ان کا کردار بالکل اسی طرح کا ہو گا جیسا اس وقت نواز شریف کا ہے، کیونکہ جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر بھٹو کی گرومنگ اپنی زندگی میں ہی شروع کر دی تھی تو یہ بات سب کو معلوم تھی کہ بے نظیر بھٹو ہی سیاسی جانشین ہوں گی ویسے ہی مریم نواز کا پلڑا اس وقت حمزہ شہباز پر کافی بھاری ہے۔ ہمیں لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں کہ حمزہ شہباز کی نسبت مریم نواز کی جدوجہد کم ہے مگر مریم نواز حمزہ شہباز کے مقابلے میں "کراوڈ پلر”ہیں۔ جہاں تک جماعت یا خاندان میں لڑائی کی بات ہے تو میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو گا کیونکہ جس طرح مافیاز میں "خاندان پہلے اور کاروبار بعد میں” آتا ہے 2یسے ہی سیاسی خاندانوں میں ایک خاموش مفاہمت ہوتی ہے کہ "خاندان پہلے آتا ہے اور سیاست بعد میں” آتی ہے۔ ہم نے ماضی میں تو یہی دیکھا اب مستقبل کا حال اللہ جانتا ہے۔

  • ہوا کا رخ دیکھ کر خاموش ہوں ،تحریر:صوفیہ صدیقی

    ہوا کا رخ دیکھ کر خاموش ہوں ،تحریر:صوفیہ صدیقی

    15 اگست2021 سے صرف میرے لیے بلکہ بہت سے پاکستانیوں کے لیے اہم تھا اس لیے کیونکہ اس سے ایک دن قبل ہم نے اپنی آزادی کا جشن بہت دھوم دھام سے منایا تھا ۔ کہنے کو یہ دن اکھنڈ بھارت کا یوم آزادی ہے یعنی بھارتی عوام اپنے ملک کابرطانوی راج سے آزادی پر جشن مناتی ہے۔
    تو گویا یہ دن جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ابھی ہمارا 14اگست خمار ٹھیک سے اترا نہیں تھا کہ افغانستان میں ایک نئی تبدیلی آگئی تھی۔ میں افغانستان میں ہونے والی کسی بھی صورت حال سے غافل نہیں تھی۔ اخبارات ٹیلی ویژن سوشل میڈیا سب کچھ ” شبیر” کی طرح دیکھ رہی تھیں۔ یہاں تک کہ افغانستان کے مختلف شہروں میں بسنے والے میر دوست اور صحافی ساتھی، جن سے میں گاہے بگاہے رابطے میں بھی تھیں۔لیکن خاموش تھی کیونکہ منتظر تھی کہ دیکھوں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
    یہاں تو لمحہ بہ لمحہ صورتحال بدل رہی تھی۔ اونٹ کی کروٹ تو ابھی بھی سمجھ سے باہر ہیں لیکن مجھ سمیت دنیا نے بہت سے "کھلے راز” عیاں ہوتے دیکھیں۔
    وہ باتیں اور تحریریں جن کو جھوٹ ثابت کرنے میں تیس سال گزر گئے ان پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہو گئی۔ آپ اسے پڑوسی دشمنوں کی کامیاب جال سازی کہیں یا بے وقوفی۔۔۔ ہم ظاہر ہو چکے تھے، ہماری سوچ سب نے دیکھ لی تھی۔ ہم چودہ اگست کے بعد پندرہ اگست منا رہے تھے۔ کھلے عام۔

    اگر آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ میں حکومت پر تنقید کرنے لگی ہوں یا اپنے اداروں کے بارے میں کچھ لکھنے لگی ہوں تو آپ غلط ہیں۔

    بقول قتیل شفائی

    ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
    ﮐﺴﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﮭﮯ ﺷﻌﻠﮧ ﻓﺸﺎﮞ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ
    ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮔﯿﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﺳﺠﺎ ﮐﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ
    ﻧﻈﺮ ﮨﻢ ﻣﻔﻠﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺐ ﮐﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﻗﺘﯿﻞؔ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ
    ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍِﻟﮩﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔

    پہلا مصرا ہمارے احباب اور بہادر امریکہ کے نام کیوں کہ افغانستان میں رچائی جانے والی جنگ کا وہ سب سے بڑا زمہ دار اور دنیا کہ امن کا ٹھیکہ دار بنتا ہے۔ اتحادیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دیکھنا بھی چاہیے کیوں کہ "جس کا پیسہ جاتا ہے اس کا ایمان جاتا ہے”.
    مانا کہ عالمی طاقتوں کے لیے معنی نہیں رکھتا۔ وہ کبھی بھی غریب فقیر صفت لوگوں کو دہشت گرد بنا کر وہاں جنگیں نافذ کر سکتی ہیں کیونکہ انھوں نے جتانا ہوتا ہے کہ وہ عالمی طاقت ہیں ۔

    ان باتوں سے ہٹ کے مطلب کی بات پہ آتی ہوں۔ یہ میری غلطی ہے کہ میں کمیونیکیشن یا ابلاغ کو سمجھتی ہوں اتنا نہیں سمجھنا چاہیئے تھا۔ access of anything is bad. یعنی زیادہ جاننا کوئی فن نہیں ۔

    نہ افغانستان کے لوگ ہمارے دشمن نہ حکومت۔ پھر بھی ہمیں طالبان کے بہت سے جانباز سوشل میڈیا پہ نظر آئے۔ جو جا بجا بھارت کی کٹ لگانے اور طالبان کو آسمان پر چڑھانے میں مصروف دیکھے ۔ بہت سے پاکستانی اپنا آزادی پلس منانے میں اتنا آگے چلے گئے کہ انھیں تہذیب کے دائرہ بھول گئے۔
    کئیوں کو یہ یاد نہ رہا کہ ہماری افغانستان میں کوئی سرمایہ کاری ہے بھی کہ نہیں ۔۔
    میرے پیارے سوشل میڈیا کے سپاہیوں، تاریخ کا حصہ بننے کے لیے صرف دوسروں کی توہین نہیں کی جاتی، محنت بھی درکار ہے۔ طالبان بنا لڑے کابل پر آ گئے یہ افغانستان کے لوگوں کے لیے اچھی بات ہے۔ مگر ان کا آنا کوئی اتنی بھی اچھی بات نہیں۔
    اب تو حد کی آخری حد آگئی ہے شاید، کیونکہ طالبان کی اس آمد کو مولانا اسرار کے غزوہ ہند کے سپاہی بنا ڈالا گیا ہے۔ وہ سپاہی جو دجال کے خروج کا مقابلہ کریں گے۔
    خدا کا نام لو صاحب! ہم جو خاموش ہیں تو رہنے دیں اور یہ بھی سمجھے کہ ہوا کا رخ ایک جیسا نہیں رہتا۔ یہ بدلے گا کبھی نہ کبھی۔ تب تک کیوں نہ اپنی اصلاح کے لیے علم کا دامن پکڑے۔ ہدایت مانگے اور اس کی جد وجہد کریں اور یاد رکھیں کہ اقرا سے شروع ہو نے والے قرآن میں قلم کی قسم بھی ہے۔ جو ہم سب کو پڑھنے لکھنے کے بعد تحقیقات کی دعوت دیتی ہے۔
    خاموشی کی ایک بڑی وجہ ان فتووں سے اجتناب بھی ہے جو کسی پر محب وطن نہ ہونے یا مذہب سے دوری پر ہو سکتا ہے۔ اور یقینا یہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ بہت سے مسلمان پاکستانیوں کے ساتھ ہو رہا یے ۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ ضرور سمجھیں لیکن طالبان کا اس قلعے سے بلاوجہ کا تعلق تو نہ بنائے کہ عام پاکستانی مسلمان گمراہ ہو جائے۔

  • کشمیریوں کے انتظار کے 74 سال” تحریر:صائمہ ستار

    کشمیریوں کے انتظار کے 74 سال” تحریر:صائمہ ستار


    مسلمانوں کے عروج اور حکمرانی کا دور ختم ہوئے عرصہ بیت چلا. کبھی مسلم حکمران کی اک نگاہ سے عالمِ باطل کے دل دہل جاتے تھے. شاعرِ مشرق کے مطابق ہمارے اسلاف کے عروج کی داستان ایسی حیرت انگیز اور شاندار ہے کہ آجکی نوجوان نسل کے لیے محض اسکا تصور بھی محال ہے. مسلمانوں کی غلامی ومحکمومی اور زوال کی 100 سالہ تاریک رات کی اک نہایت روشن صبح 27 رمضان المبارک کو طلوع ہوئ. لاکھوں شہداء کے خون اور انکی لازاول قربانیاں اس مبارک سرزمین کی صورت رنگ لائیں.اسکے ساتھ ہی وادیِ کشمیر میں بھارتی ظلم و بریریت اور خونی کھیل کی ایسی داستان کا آغاز 74 برس قبل ہوا جو آج تک جاری ہے. کئی نسلیں آزادی کی خوش کن امیدیں آنکھوں میں سجائے بند ہوئیں.کئ نسلیں پاکستان میں رسمی مذمت اور سال بعد ایک دن احتجاج کی عادی ہوئیں.انہیں بھی لگتا تھا ایک دن اقوامِ متحدہ سے پاکستان کے نمائندے کشمیر کا کیس جیتنے میں کامیاب ہوں گے.ہزاروں,لاکھوں کشمیری شہداء نے اس مبارک سرزمین کی خاک کو پانے کے لیے اپنی جوانیاں قربان کیں جن میں برہان وانی کا نام سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے. جب بھی وفا کی بات ہو گی اس خوبرو, بلند ہمت اور آخری سانس تک کفر سے برسرِ پیکار رہنے والے نوجوان کے بغیر مکمل نہ ہو گی. سید علی گیلانی کی سر براہی میں شروع ہونے والی مزاحمت کی ایک لازوال تحریک بھی اس جدوجہد میں نہایت اہمیت کی حامل ہے. مردِحُر سید علی گیلانی نے مایوس ہو چکی کشمیری قوم کو اک نیا جوش و ولولہ دیا. انکے اند آزادی کی اس امید کو دوبارہ زندہ کیا. تا عمر کشمیر کے لیے سر بکف مجاہد علی گیلانی بھی کروڑوں دلوں کو سوگوار چھوڑے آزادی کی اس صبح جسکے لیے انہوں انہوں زندگی کا ہر ہر لمحہ جدوجہد کی دیکھے بناء کی ہی پچھلے دنوں خاموشی سے  اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور یقیناً بارگاہِ الہی میں سر خرو ٹھہرے ہوں گے کہ اپنے حصے کی شمع روشن کر کے گئے. ہمارے پاکستانی رہنماؤوں کی طرح نہیں جو 74 سال سے شمع جلانے کی بجائے صرف ظلمتِ شب کا شکوہ کری جارہے ہیں. اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کی بہترین فوج سے نوازا ہے.74 سال سے ہم ہاتھ ہاتھ دھرے بیٹھے اپنے مظلوم بہن بھائیوں کا بہتا خون دیکھ کر بھی اندھے بنے بیٹھے ہیں. قوم کے اندر جہاد کا جزبہ اور سوچ بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے انہیں بھی اقوامِ متحدہ میں اپنے منتخب نمائندوں کی تقاریر مطمئن کرتی ہیں اور انہیں مظلوم کشمیریوں کے مدد کے لیے چند خوبصورت جملوں پر مشتمل تقریر ہی کافی لگتی ہے لیکن قرآن میں جگہ جگہ جہاد کے واضح احکام, جن میں ساتھ مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ بھی کیا گیا ہے ان فرامین پر یقین ہی نہیں رہا شاید. پاکستان کی طرف سے ہر طرح کا ہاتھ اٹھالینے کے باوجود آج بھی کشمیری عوام محض اپنے غیر متزلزل عزم کے بل بوتے پر مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیمعصوم اور نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن کے ذریعے ان کی بینائی ضایع کی جا رہی جو سراسر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے. جبر کی اس داستان میں پیلٹ گن کا استعمال پہلی بار بڑے پیمانے پر کیا گیا جس سے درجنوں کشمیری آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے. اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے یوں خاموش اور گم صم رہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی بے حسی اور منافقت نے بھارتی حکومت کو مزید شہ دی اور اس نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت میں اضافہ کر دیا. کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کشمیری آزادی کی اس تحریک میں کسی نہ کسی نوجوان کا جنازہ نہ اٹھاتے ہوں’ شہادتوں کی ایک طویل فہرست ہے مگر ہر شہادت کشمیریوں کے جذبہ حریت کی شمع کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش و جذبے سے بھارتی فوج کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں. 2019 میں مودی کے کشمیر میں بدترین غیر انسانی کرفیو کے بعد شاید انہیں امید ہوگی کہ اب پاکستان کی طرف سے کوئ عملی قدم اٹھایا جائے گا.مگر یہ آخری امید دم توڑے بھی دو سال بیت گئے.کشمیریوں کی آزمائش کی رات نہایت کٹھن اور لمبی ہے. نہ جانے کب اس رات کی صبح ہو مگر ہم پر فرض ہے اپنے حصے کی شمع جلاتے چلیں. اپنی ووٹ اور سپورٹ سے ایسے لوگوں کو اقتدار میں لائیں جو کشمیر کے لیے عملی جہاد کی بات کریں تا کہ ظلم و بریریت کی اس داستان کا اختتام ہو. کیونکہ قرآن و سنت کی روشنی میں کشمیر کی آزادی کا  صرف اور صرف حل جہاد ہے. 

    "کہتے ہیں اہلِ نظر کشمیر کو جنت

    جنت کسی کافر کو ملی ہے نا  ملے گی”

    @just_S32

  • چودھری نثار علی خان آنے والے وقت میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    چودھری نثار علی خان آنے والے وقت میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    جب مسلم لیگ (ن) اقتدار میں تھی اور نواز شریف وزیر اعظم تھے، چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف بہت قریبی دوست تھے۔ اس وقت شاید کسی دوسرے دو رہنماؤں کے اتنے اچھے تعلقات نہیں تھے جتنے کہ ان دونوں کے درمیان تھے۔ ان کے مابین ایک سمجھوتہ تھا کہ ایک دن شہباز اپنے بڑے بھائی کو وزیر اعظم بنائیں گے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کی نشست چکری کے لیڈر کے پاس جائے گی، جو فوجی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ میاں نواز شریف کی تیسری مدت کے دوران، تاہم صورتحال ڈرامائی طور پر بدل گئی۔

    اگست 2014 میں پی ٹی آئی اور پی اے ٹی نے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی انتظامیہ کے خلاف ایک طویل مارچ کا اہتمام کیا جو شاید اب تک کا سب سے طویل مظاہرہ تھا جس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔

    نثار علی خان اس وقت وزیر داخلہ تھے، اور انہوں نے مظاہرین کو ریڈ زون میں نہ آنے دینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم نواز شریف نے وزیر داخلہ کو زیر کیا اور انہیں اندر جانے کی اجازت دی۔

    جب نثار علی خان کو معلوم ہوا کہ انہیں نظرانداز کیا گیا ہے تو انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد سے وہ ن لیگ کے ساتھ نہیں ہیں۔

    نہ تو اس وقت کے وزیراعظم نے انہیں واپس مسلم لیگ (ن) میں لانے کی کوشش کی اور نہ ہی انا پرست نثار نے اختلافات کو حل کرنے کے لیے اپنے سابق باس سے ملاقات کی کوشش کی۔

    مسلم لیگ (ن) سے طویل وابستگی کے باوجود، نثار نے 2018 کا الیکشن اپنی روایتی قومی اسمبلی کی نشست (این اے 59- راولپنڈی) سے آزاد امیدوار کے طور پر لڑا اور پی ٹی آئی کے چوہدری غلام سرور کے ہاتھوں شکست کھائی۔ تاہم انہوں نے صوبائی نشست (پی پی 10- راولپنڈی) 34 ہزار ووٹوں کے مارجن سے جیتی۔

    چونکہ نثار کبھی پنجاب اسمبلی کے رکن نہیں رہے، اس لیے انہوں نے تین سال تک حلف نہیں اٹھایا، اس وقت اپنے حلقے کو نمائندگی کے بغیر چھوڑ دیا۔ تاہم، اپنے حلقوں سے مشاورت کے بعد، انہوں نے بطور ایم پی اے تجربہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سال مئی میں حلف اٹھایا۔ اس حلف نے ان کے سیاسی کیریئر کو بچا لیا تھا لیکن اب وہ سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے، جس میں وہ کئی دہائیوں سے ایک اہم کھلاڑی رہے ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا، اور وزیراعظم عمران خان کے ہم جماعت ہونے کے باوجود، جنہوں نے انہیں اپنی پارٹی میں مدعو کیا تھا، لیکن وہ پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوئے۔ نئی سیاسی جماعت کا آغاز کرنا اور موجودہ حالات میں اسے مقبول بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایسا قدم پہلے سے تقسیم شدہ معاشرے کو مزید تقسیم کرے گا۔

    لہذا، اس وقت وہ دوراہے پر ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ نثار کو کس پارٹی میں شامل ہونا چاہیے اور آنے والے وقت میں انہیں کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس وقت مسلم لیگ (ن) میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کے دوست شہباز جو کہ کاغذ پر پارٹی کے سربراہ ہیں، ایک طرف کھڑے ہیں۔ اسے پارٹی میں لانے کے لیے وہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے، کیوں کہ مریم نواز نائب صدر انچارج ہیں۔

    حقیقت کچھ بھی ہو، نثار مریم کو بہت جونیئر سمجھتے ہیں اوران کی قیادت میں کام کرنے پر کبھی راضی نہیں ہوں گے۔

    سمجھداری کا تقاضا ہے کہ تجربہ کار رہنما نثار علی خان پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں اور اپنے تجربے کے خزانے سے ملک کو فائدہ پہنچائیں۔ اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے وہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ چونکہ وہ نواز شریف کے ساتھ کام کرنے کے اپنے طویل تجربے کی وجہ سے عسکری قیادت کی حساسیت سے پوری طرح واقف ہیں، اس لیے وہ مستقبل میں ایسے امکان کو ٹال سکتے ہیں۔

    اس حقیقت کے باوجود کہ نثار ایم پی اے ہیں، وزیر اعظم ان کی مہارت اور روابط سے فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں مرکز میں ایک عہدہ تفویض کر سکتے ہیں۔

    ملک کو مضبوط جماعتوں کی ضرورت ہے۔ اور نثار کی شمولیت سے تحریک انصاف مضبوط ہوگی۔ وہ واقعی سیاسی تجربے کے خزانے کے ساتھ ایک اثاثہ بن سکتے ہیں۔

    Twitter ID:

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • تبدیلی کو جگتیں،تحریر: اعجاز الحق عثمانی

    تبدیلی کو جگتیں،تحریر: اعجاز الحق عثمانی

    "تبدیلی” لفظ جتنی دفعہ ہمارے وزیراعظم عمران خان کے منہ سے نکلا ہے۔ شاید اتنی دفعہ آج تک پوری دنیا میں بھی یہ لفظ نہ بولا گیا ہو۔ عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آئے تو انہوں یہ وعدہ پورا کرکے بھی دیکھایا اور آج تک پورا کر بھی رہے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔

    کبھی وزیر کی تبدیلی۔۔۔۔

    کبھی مشیر کی تبدیلی۔۔۔۔۔

    کبھی پالیسی کی تبدیلی۔۔۔

    خان صاحب نے آغاز ہی ایسی بڑی  بڑی تبدیلیوں سے کیا۔اور ابھی تک چھوٹی تبدیلیوں کی باری ہی نہیں آرہی۔ آج بھی 

    چھوٹی تبدیلیاں  بنی گالا میں قطار بنائے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ 

    ان سب تبدیلیوں کو ایک ڈیجیٹل نام ” یو ٹرن” دیا گیا۔ اور انکی نظر میں یوٹرن کا کامیابی کے پیچھے اتنا ہی بڑا کردار ہے جتنا کسی زمانے میں ہر کامیابی کے پیچھے عورت کا ہوا کرتا تھا۔ کنٹینر پر خطابات سن سن کر عوام کو یوں لگتا تھا کہ

    اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

    جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

    اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

    کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت

    چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

      مگر اب عوام تبدیلی کو جگتیں کرتی نظر آتی ہے۔ کل بارش کی ٹھنڈک نے پکوڑے کھانے کی دل ناداں میں آگ لگائی تو سرگودھا کی ایک  پکوڑوں والی معروف چاچے بھٹو کی دکان کا رخ کیا۔ سرگودھا والوں کے چندا اور ہمارے حفیظ (کرکٹر) بھی کسی زمانے میں چاچے بھٹو کے پکوڑے کھاتے رہے ہیں اور خوب شیدائی تھے۔  جیسے ہی پہلا پکوڑا سپردِ منہ کیا تو نظر ریٹ لسٹ پر پڑی ، جس کے آغاز ہی میں لکھا ہوا تھا۔ ” گھبرانا نہیں ہے، 30 اگست سے سموسہ 30 روپے کا ملے گا”۔ایک کریانہ سٹور پر جانا ہوا۔ مصوف نے لکھ رکھا تھا۔” نواز شریف کے دوبارہ وزیراعظم بننے تک اور عمران خان کے وزیراعظم رہنے تک ادھار بند ہے”۔زلفوں کی تراش خراش کےلیے شام کو ایک حجام کی دکان جانا ہوا۔ دکان کو لگا تالا دیکھ کر ادھر ادھر دیکھا تو دکان کے دروازے پر چپکے ایک بینر پر لکھا ہوا تھا۔” تبدیلی تو نہیں آئی ۔مگر ہم نے یہاں سے دکان تبدیل کر لی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اور اب پیش خدمت ہے ایک شاعر کی تبدیلی کو کی گئی جگتیں 

    بھنگڑے پہ اور دھمال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    واعظ کے قیل و قال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    شادی کے بارے میں کبھی نہ سوچنا چھڑو

    سنتے ہیں اس خیال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    ہے جس حسین کے گال پہ ڈمپل کوئی کہ تِل

    ہر اس حسین کے گال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کھانے کے بعد دانتوں میں تِیلا نہ پھیرنا

    دانتوں کے ہے خِلال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کرتی ہے جو ماسیاں دس دس گھروں میں کام

    ان ماسیوں کے بھی مال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    جنگل میں مور ناچا تو آئے گا اس کو بِل

    اب مورنی کی چال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کھانا کسی کو کھاتے ہوئے دیکھنا بھی مت

    کیونکہ اب تو رال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    بچے تو پہلے دو ہی تھے اچھے مگر یہ کیا

    اب ایک نونہال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    سنڈے کے سنڈے ملتے تھے ہم مفت میں مگر

    اب یار سے وصال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کہتے ہیں اس سے بات نہ کرنا بغیر فیس

    بیگم سے بول چال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

     اعلان یہ غریبوں کی بستی میں کل ہوا

    مردوں اب انتقال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

    کیوں اتنے ٹیکس لگ گئے پوچھا جو یہ سوال

    گیلانی اس سوال پہ بھی ٹیکس لگ گیا 

    اعجازالحق عثمانی 

    @EjazulhaqUsmani

  • عنوان: خان صاحب کی توتا چشمی  تحریر: علی خان

    عنوان: خان صاحب کی توتا چشمی تحریر: علی خان

    @hidesidewithak 

    ہم کب تک 1992 کے ولڈ کپ کا قرض ُاتارتے رہیں گے؟ 

    عمران خان افسوس کے ساتھ نہ اچھا لیڈر بن سکا اور نہ ہی اچھا دوست 

    کہتے ہیں انسان اپنی صحبت یعنی دوستوں اور تعلق داروں سے پچانا جاتا ہے،،، اسکی عادات و خصائل کے لیے اسکے احباب کا رویہ دیکھا جاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے دوست ہی باربار تبدیل کرے تو کیا کہا جائے،،، ہمارے موجودہ وزیراعظم جناب عزت ماب عمران احمد خان نیازی صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی قصہ ہے،،، خان صاحب کی توتا چشمی کا ایک قصہ ان کے موجود دوست اور ساتھی کھاڑی وسیم اکرم نے بھی سنایا کہ کسی دوسرے ملک غالباً ویسٹ انڈیز کے خاف میچ کے دوران کھلاڑیوں سے توتکرار ہوئی،،، عمران خان نے دیکھا تو قریب آکر پیٹھ تھپتھپائی کہ سنا دو انکو میں ساتھ ہوں تمہارے،،، میچ میں وقفہ ہوا تو مخالف کھلاڑی لڑنے ڈریسنگ روم کے باہر آگیا،،، عمران خان کو بتایا تو صاف کنی بچا کر بولے تمہاری لڑائی ہے خود لڑو

    وسیم اکرم نے یہ قصہ ہنسی مذاق میں سنا دیا لیکن خان صاحب نے بہت سے دوستوں کو اس موقع پرستی کا نشانہ بنایا اور وہ سب عمران خان کو اس حرکت پر کوستے ہیں،،، سیاستدانوں ہوں یا کھاڑی،،، صحافی ہوں یا صنعت کار، سب ہی خان صاحب کے اس رویے کا شکار ہو چکے،،، ان میں چند ایک کا ذکر یہاں ہوجائے،،، سب سے پہے ذکر پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں سے ایک ا کبر ایس بابرکا،،، اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے ساتھ قیام کے وقت سے منسک ہیں،،، انہوں نے عمران خان کے خوابوں پر لبیک کہا اور ہر گرم سرد میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے،،، 2011  تک مختلف پارٹی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد انہوں نے عران خان کو خط لکھ کر پارٹی کے مالی معاملات میں شفافیت کا مطابہ کیا تو انہیں نظر انداز کردیا گیا،،، اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دائر کردہ پارٹی فنڈنگ کیس ہی تحریک انصاف پر لٹکتی توار بنا ہوا ہے،،، اس کیس کے ممکنہ فیصلوں میں تحریک انصاف کی بطور جماعت رجسٹریشن منسوخی بھی شامل ہے جو حکومت خاتمے کا باعث بن سکتی  ہے

    اس فہرست میں جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین بھی شامل ہیں،،،وجیہہ الدین صاحب نے تحریک انصاف میں مختلف عہدوں پر ذمہ داریاں سرانجام دیں اور چیف الیکشن کمشنر بھی رہے،،، پارٹی الیکشن میں دھاندلی بارے آواز اٹھائی تو نکال باہر کیا گیا،،، سینئر وکیل اور سپریم کورٹ و پاکستان بار کونسل میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے والے حامد خان کا قصہ بھی مختلف نہیں،،، عمران خان کی جانب سے پانامہ کیس میں پیش ہوتے رہے لیکن کچھ معاملات پر آواز اٹھائی تو پہلے سائیڈ لائن کیا گیا اور پھر شوکاز نوٹس دے کر مکمل کھڈے لائن لگا دیا گیا

    خان صاحب کے ستم کا نشانہ بننے والے صحافیوں کی بات کریں تو سمیع ابراھیم کا ذکر ضروری ہے،،، سمیع ابراھیم کی جانب سے گزشتہ دور حکومت میں عمران خان کی کھل کر حمایت کی جاتی رہی،،، انہوں نے مختلف امور پر عمران خان کا کھل کر ساتھ دیا لیکن پھر تحریک انصاف کے دور حکومت میں تحریک انصاف ہی کے وزیر فواد چودھری نے انہیں سرعام تھپڑ جڑے اور وزیراعظم کی جانب سے زبانی ہدایات کے علاوہ کوئی کارروائی عمل میں نہ آئی سمیع ابراھیم اس بے عزتی پر آج بھی شکوہ کناں ہیں،،، کالم نگار ہارون الرشید کا ذکر بھی یہاں کیوں نہ ہو کہ انکی جانب سے خان صاحب کے حق میں بار بار کالم آتے رہے اور خان صاحب کو مختلف روحانی خوش خبریاں بھی سنائی جاتی رہیں،،، پارٹی اقتدار میں آئی تو ہارون صاحب کی جگہ بھی خان صاحب  کے قریبی حلقے میں نہ رہی

    صنعکاروں میں خان صاحب کے ستم کنندہ جمانگیر ترین ہیں،،،ترین صاحب نے عمران خان اور تحریک انصاف کی مالی آبیاری میں کوئی کسر نہ چھوڑی،،، خان صاحب کے نجی دوروں کے لیے انکا جہاز نیو خان کی بس کی مانند ہر چھوٹے بڑے شہر کی اڑانیں بھرتا رہا،،، کچھ منچلوں نے خان صاحب کے کچھ چلانے کا سہرا بھی ترین صاحب کے سر باندھا،،، ترین صاحب کو پہلا جھٹکا تاحیات نااہلی کا لگا،،، واقفان حال کے مطابق اس نااہلی سے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا ایک مضبوط ترین امیدوار کم ہوا توخان صاحب نے بھی سکون کا سانس لیا،،،ترین صاحب نے پارٹی کا ساتھ تب بھی نہ چھوڑا اور تحریک انصاف کی وفاق اور صوبے میں حکومت کی تشکیل کے لیے آزاد اراکین کو ذاتی جہاز میں بنی گالا پہنچایا،،، صدارتی الیکشن میں بھی انکا ہی ڈنکا بجتا رہا،،، ترین صاحب چینی اسکینڈل آنے کے بعد سے عمرانی عتاب کا شکار ہوگئے،،، مزے کی بات کہ اسی اسکینڈل کے دوسرے کردار ابھی بھی وفاقی اور صوبائی کابینہ کا حصہ ہیں،،، اس فہرست میں علیم خان بھی موجود ہیں کہ وزارت اعلیٰ نہ ملنے پر انہوں نے صبر کیا تو سینئر صوبائی وزیر بن کر بھی چین نہ پایا،،، نیب اور جیل یاترا کے بعد واپس آئے تو سینئر کے ٹیک کے ساتھ ایسی بے اختیار وزارت  ملی کہ اب وہ انشا جی کی بات ماننے کو ہیں

    انشاجی اٹھو اب کوچ کرو اس حکومت میں جی کا لگانا کیا