Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    شمالی علاقہ جات کی وادیاں صرف خوبصورت مناظر نہیں،
    یہ ایک زندہ تہذیب، ایک حساس ماحولیاتی نظام اور صدیوں پر محیط ثقافت کی امین ہیں۔
    مگر افسوس کہ آج جاری سیاحت فطرت دوست ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ ماحول دشمن بنتی جا رہی ہے۔

    غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم سیاحت کے نتیجے میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔بڑی تعداد میں ہوٹلز اور ریزورٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں،جس کے باعث سرسبز وادیاں کنکریٹ کے ڈھانچوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔یہ ترقی نہیں، فطرت سے بغاوت ہے۔

    سیاحت کے ساتھ آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، پلاسٹک شاپرز اور ریپرز اس بات کی گواہی دیتے ہیں،کہ ہم وادیوں کو سیرگاہ نہیں بلکہ استعمال کی جگہ سمجھنے لگے ہیں۔شور شرابا، اونچی آواز میں میوزک اور ہنگامہ آرائی،فضا کو شدید صوتی آلودگی سے دوچار کر رہی ہے،جس سے انسان، فطرت اور جنگلی حیات تینوں متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی ہوٹلز نے اپنی سیوریج اور گٹر لائنیں دریاؤں کی طرف موڑ رکھی ہیں۔وہ دریا جو ہماری زندگی، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کی امید ہے،آج کچرے اور گندگی کی نذر ہو رہے ہیں ۔یہ صرف غفلت نہیں، یہ کھلا ماحولیاتی جرم ہے۔

    سیاحت کے منفی اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہے۔مقامی ثقافت اور روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔لباس، رویّوں اور طرزِ عمل میں عدم توازن ،مقامی معاشرے، اقدار اور خاص طور پر بچوں کی ذہنی کیفیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔یہ وہ نقصان ہے جو خاموش ہوتا ہے مگر گہرا ہوتا ہے۔

    آج کی سیاحت سے اصل فائدہ صرف کمرشل ازم کو ہو رہا ہے،جبکہ نقصان پوری وادی، پوری ثقافت اور پورا ماحول اٹھا رہا ہے۔

    اس بحران کا واحد پائیدار حلایکو ٹورازم (Eco-Tourism) ہے۔ایسی سیاحت جو ماحول کو نقصان نہ پہنچائے
    ، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کرے، فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، ترقی کے ساتھ تحفظ کو یقینی بنائے
    سیاحوں کو ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ وادیوں میں آ کر مقامی روایات کا خیال رکھیں، مقامی لوگوں سے میل جول رکھیں، مقامی ٹور گائیڈز، جیپس اور سروسز استعمال کریں، اپنے ساتھ لایا گیا کچرا واپس بیگ میں رکھیں یا ڈسٹ بن میں ڈالیں

    سیاحت ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے،
    جس سے جُڑ کر ہم سب رزقِ حلال کما سکتے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ  کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی رہنمائی اور وژن کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قیادت میں پنجاب کے مختلف شہروں میں ورثہ بحالی کے منصوبے عالمی معیار کے مطابق شروع کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ثقافتی شناخت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ سیاحت اور تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    حال ہی میں ہڑپہ میوزیم میں چار نئی گیلریوں کو ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی نگرانی میں اسٹیبلش کیا گیا۔ جس کا افتتاح جلد متوقع ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی مثال ہے، جس میں وادی سندھ کی تاریخ کو جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اسی طرح شیخوپورہ قلعہ، ہرن منار، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا جیسے منصوبے بھی ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے زیر انتظام جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک روشن ورثے کی بنیاد ہیں۔

    ان منصوبوں میں بھیرہ قدیم شہر کا تحفظ اور ترقی ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق بھیرہ کے منصوبے میں قدیم فصیل، تاریخی دروازوں، مساجد اور شہری ڈھانچوں کی بحالی شامل ہے۔ وزٹروں کے لیے سہولیات، شہری ماحول کی بہتری اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اس منصوبے کو پائیدار اور عوام دوست بناتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محمد حسن کے مطابق بھیرہ کا تحفظ ایک زندہ تہذیب کو بحال کرنے کی کاوش ہے، جبکہ ملک مقصود نے کہا کہ تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے مقامی کمیونٹی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورثہ کو ثقافتی فخر اور ٹورزم ڈویلپمنٹ سے جوڑنے پر زور دیا ہے، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کی روشنی میں بھیرہ سمیت تمام منصوبے عالمی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب آرکیالوجی کی کوششوں سے نہ صرف ورثہ محفوظ ہو رہا ہے بلکہ سیاحت، روزگار اور عالمی شناخت کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔

    یہ تمام کاوشیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے وژن کی تکمیل اور ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں، جو پنجاب کو ثقافتی فخر اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم پر مبنی ہیں۔

  • من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ اگر ہم اس معاشرے کے پرانے دور کو دیکھیں تو وہ بہت سادہ تھا۔ اس معاشرے میں شرم و حیا تھی۔ لڑکیاں اپنے سروں سے دوپٹے اُتارتے ہوئے شرماتی تھیں، اگر کوئی لڑکی اپنے سر سے دوپٹہ اتار بھی لیتی تو اس کی والدہ ہی سب سے پہلے اس کو ڈانٹیں۔ أس دور میں بچوں کی تربیت ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق کی جاتی تھی۔ أس دور میں تربیت ماں باپ مل کر کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں تربیت موبائل فون کرتا ہے، بہت ہی کم والدین ہیں جو آج کے دور میں اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ بھی اسلامی اصولوں کے مطابق۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں، ہمارا ملک کی بنیاد بھی لا الہ الااللہ ہے لیکن جو بھی آج اس معاشرے میں ہو رہا ہے وہ کہیں سے بھی اسلامی ریاست کا طریقہ نہیں ہے، آج اسلامی معاشرے میں ایسے ڈرامے بن رہے ہیں، جو کہیں سے بھی اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔

    من مست ملنگ جیسے جہاں ایک استاد کو بعد میں شاگرد سے محبت کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں پرسنل لائف کو سرےعام دیکھایا جاتا ہے، جہاں ایک غیر مرد ایک غیر عورت کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں غیر مرد ایک عورت کو کپل ڈانس کرتے ہوئے گاڑی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ کیا یہ سب اسلامی معاشرے میں ہوتا ہے؟ کیا یہ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے؟ ان انگریزوں نے ہمیں اس حد تک اپنا ذہنی غلام بنایا ہوا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو غلط اور صحیح کا ہی نہیں پتا۔ ہماری آج کی نوجوان نسل جن کے ہاتھوں میں "تلوار” ہونی چاہیے۔ جو اسلام کے علمبردار ہونے چاہیے۔ وہ سر سے دوپٹہ اتارنے کو فیشن کہتی ہے، وہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو فیشن کہتی ہے، اور لڑکیاں شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو فیشن کہتی ہے، وہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کو فیشن کہتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل لڑکیوں، لڑکوں کا ایک ساتھ ڈانس کرنے کو فیشن کہتی ہے۔ یعنی جو سبق ہم کو اسلام نے دیا ہے أس کے خلاف ہر کام کرنے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے، ہماری نوجوان نسل ان ناچنے گانے والوں کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیٹیوں کو بے قصور مار دیا جاتا ہے، ان کا ریپ کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ آج کل کے دور کے کہتے ہیں کہ ان ڈراموں سے پہلے بھی جرائم ہوتے تھے، لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ بالکل ہوتا تھا، لیکن اتنا نہیں ہوتا تھا جتنا آج ہوتا ہے، تب کہیں مہینوں، سالوں بعد جا کر ایسی کوئی ایک آدھی خبر سننے کو ملتی تھی، لیکن آج تو ہفتوں بعد نہیں بلکہ روز آئے دن ایسی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آئے دن کسی نا کسی لڑکی یا لڑکے کو مار دیا جاتا ہے۔ آج کے جرائم کی شرح تب کے جرائم کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ یہ سب اسی ڈراموں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ آج جو بھی ہمارے معاشرے میں بے حیائی پھیلی ہوئی ہے یہ اسی ڈراموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ غیر مسلموں نے کوئی بھی کام کرنا ہو تو پہلے ان کو ڈراموں میں دیکھایا جاتا ہے، پھر بعد میں اصل زندگی میں اس کو معاشرے کا حصے بناتے ہیں۔ پہلے وہ ڈراموں میں یہ چیز بار بار دیکھا کر عوام کا رد عمل چیک کرتے ہیں۔ پھر جب ایک چیز کو بار بار دیکھایا جاتا ہے تو عوام مانوس ہو جاتی ہے، پھر بعد میں اس کو معاشرے میں لایا جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ اس بات کا ثبوت مانگو کے تو آپ لوگ دیکھو کہ پری زاد ڈرامے میں لڑکی کو لڑکا دیکھایا جاتا ہے، یعنی وہ لڑکی ہو کر لڑکے والے کام کرتی ہے "ببلی بدمعاش” نام رکھتی ہے وہ لڑکوں والے کھیل کھیلتی ہے، لڑکوں کے ساتھ لڑائی کرتی ہے، اس بات کا دوسرا ثبوت بخت دوار ڈرامہ ہے، جس میں ہیروئن کو ہی لڑکا دیکھایا جاتا ہے۔ اس کا ہیئر اسٹائل بھی لڑکوں والا ہوتا ہے۔ پھر بعد میں "ایل جی پی ٹی کیو” کو اس معاشرے میں لایا گیا۔ کتنے ہی لڑکی لڑکوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ یہ کس وجہ سے ہوا کہ پہلے ہی عوام کو یہ چیز عام سی معمولی کرکے دیکھ دی تھی۔

    اگر ہم چاہتے کہ ہماری نوجوان نسل اس سب سے محفوظ رہے وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو ہم کو ان ڈراموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ان ڈراموں کے خلاف عوام میں آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ان ڈراموں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔آپ لوگ ایسے ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہمارا ساتھ دیں اس نیک کام میں، اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ آپ لوگوں کے سامنے ایسے ڈراموں کے شاٹ کلپ بھی آئیں تو ان کو اگنور کریں۔ پلیز ایسے ڈراموں کو سرچ کرنے سے گریز کریں ان کے ویوز بڑھانے سے گریز کریں جتنا ایسے ڈراموں کو ریچ ملتی ہے اتنے ہی ہمارے معاشرے میں ایسے ڈرامے بنتے ہیں۔ اتنے ہی ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں دیکھائے جائیں گے۔

  • چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    چولستان جیپ ریلی کا آغاز 2005 ء میں ہوا جو کہ اب ایک بین الاقوامی سطح کی سرگرمی بن چکی ہے، جس میں نامور ملکی و غیرملکی مرد ڈرائیورز کے ساتھ ساتھ اب خواتین ڈرائیورز بھی حصہ لیتی ہیں۔

    سرائیکی خطہ ہزاروں سال سے قدیم تہذیب وتمدن اور ثقافت کا مرکز بنتا آرہا ہے۔روہی چولستان اور سرائیکی وسیب جسم و روح کی مانند ہیں۔سابق سرائیکی ریاست موجودہ ڈویژن بہاولپور دنیا میں لینگؤیج ،لٹریچر،آرٹ،کلچر اور ایگری کلچر میں ایک منفرد اعزاز رکھتا ہے۔چولستان کا دل روایتی فنون لطیفہ کی علامت قلعہ ڈیراور کے مقام پر 20ویں انٹرنیشنل جیپ ریلی کا آغاز 12فروری تا 16 فروری 2025ء درحقیقت خوشحالی اور تعمیر نو کے نئے سفر کی نوید ہے۔قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا "سِیْرُوا فِی الْأَرْضِ” (سَیْرُوا فِی الْأَرْضِ)جس کا مطلب ہے "زمین میں چل پھر کر دیکھو” یا "زمین میں سیر کرو” ۔ یہ آیت قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر آئی ہے، جیسے کہ سورۂ نمل (27:69)،سورۂ عنکبوت (29:20)، سورۂ محمد (47:10) اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ زمین میں سیر و سیاحت کریں، تاریخ سے سبق سیکھیں،پچھلی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اللہ کی نشانیوں کو دیکھیں تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔

    زمین کی سیر سے رزق ملتا ہے۔صدیوں سے انسان روٹی روزی اور قتل وغارت کے خوف سے ایک خطے سے دوسرے خطے تک ہجرت کرتا رہا ہے۔کل کی ہجرت آج موجودہ عہد میں سیرو سیاحت نے تجارت کو فروغ دیا۔اس دوران انسان نے مختلف علاقوں کی تہذیب و تمدن،لباس ،ثقافت،زبانیں، رسوم و رواج، ادب، فنون کو سیکھا اور آپنی نئی نسل تک منتقل کیا۔اب دنیا میں سیر و ساحت باقاعدہ ایک ثقافتی ،سماجی، معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن چکی ہے۔خوبصورت پہاڑ، دریا،جنگل،سمندر،میدان اور صحراء قدرتی مناظر مالی وسائل کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔سات سےآٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر گنویری والا چولستان سرائیکی وسیب کی تمدنی عظمت کی گواہی دراصل پوری دنیا کے لیے انسانی امن ومحبت پیغام اور مشترکہ تہذیبی ورثے کا گہوارہ ہے۔قدیم آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے مطابق وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن،جس کو میں وادی سرائیکی تہذیب وتمدن مانتا ہوں۔کیونکہ حرف س سے سرسوتی،سرسوتی سے سرائیکی،سرائیکی زبان میں حرف س سے لفظ سنا، سنا کا مطلب پانی ہے۔پانی انسان، حیوان، نباتات و جمادات کی زندگی کی رونق ہے۔

    سرائیکی لفظ سنا سے سندھ بنا ہے۔پھر اس دریا کی نسبت سے وادی سندھ تہذیب وتمدن کی بنیاد بنی۔جس کی ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن روہی چولستان ہے۔آج بھی دریائے سندھ کو پاکستان میں ابا سین کہا جاتا ہے۔دراصل یہ لفظ اباسئیں ہے۔سب کا باپ۔اس پر ہزاروں صدیوں پرانا سرائیکی آکھان جیئں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ھندو نہ او مسلمان۔اردو ضرب المثل”آگرہ اگر دلی مگر ملتان سب کا پدر، سرائیکی دھرتی کی عظمت کا اعتراف ہے۔آج بھی سندھ میں سرائیکی زبان کو فوقیت حاصل ہے۔یونانی حملہ آوروں کی زبان میں حرف "س” کی جگہ "ا” الف یا "ہ” بولا جاتا ہے، جیسے سندھ سے "ہند” یا "اند” ہے۔لفظ سندھستان سے ہندوستان ہوگیا۔جس طرح سندھی زبان کے حروف تہجی میں ں نون غنہ کو لکھنے میں ن لکھا جاتا ہے۔پھر اباسئیں سے اباسین ہوگیا۔آج ہمارے پیارے ملک پاکستان میں سب سے میٹھی اور مرکزی زبان سرائیکی ہی ہے۔جو پاکستان کے ہر صوبے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔دریائے سرسوتی ندی کی بندرگاہ پتن منارہ صحراء چولستان میں موجود ہے۔قرآن مجید میں اصحاب الرس سے مراد بھی چولستان گنویری والا قدیم ترین شہر کی طرف گواہی ہے۔

    کل سے صحراء چولستان میں ثقافتی میلہ اور سپورٹس ایونٹ اہم مرحلہ جیپ ریلی کا آغاز ہوگا۔چولستان جیپ ریلی پاکستان کی ایک مشہور آٹو ریس ہے۔اس کی شروعات جکارتہ ڈاکار جیپ ریلی کی طرز 2005ء میں ہوا۔ اب ہر سال یہ انٹرنیشنل ایونٹ سرائیکی قلب محلوں کے شہر بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے سابق شاہی دارالحکومت ڈیرہ نواب صاحب سے تقریبا 50 کلو میٹر دور روہی چولستان میں منعقد ہوتا ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں ایک مشہور اور دلچسپ ریلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بین الاقوامی چولستان جیپ ریلی 2005ء سے اب تک مقامی سرائیکی وسیب کے ساتھ پاکستان سمیت عالمی شہرت یافتہ ایک اہم کلچرل ایونٹ بن چکا ہے۔خواب سے حقیقت کا یہ خوبصورت سماں جاری ہے۔جس میں دنیا بھر کے ڈرائیورز اور آٹوموبائل شوقین افراد شرکت کرتے ہیں۔اس کا پاکستان کے خوبصورت تصوف علاقے سرائیکی وسیب کے ورلڈ چولستانی صحرائی ماحول میں منعقد ہونا مقامی سطح پر روزگار فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے۔اس ایونٹ کا مقصد نہ صرف آٹو ریسنگ کو فروغ دینا ہے بلکہ چولستان کی قدیم تہذیب وتمدن،ثقافت،تاریخ اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لانا بھی ہے۔چولستان کے علاقے کی دلکش صحرا، روایتی دیہاتی زندگی اور تاریخی مقامات اس ایونٹ کو منفرد بناتے ہیں۔

    چولستان جیپ ریلی کا روٹ سخت اور چیلنجنگ ہوتا ہے۔جس میں ریت کے ٹیلے، پتھریلی زمین اور تیز ہوا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایونٹ ڈرائیورز کے لیے اپنی مہارت، تجربے اور قوت ارادی کا امتحان ہوتا ہے۔ ریلی کے دوران ڈرائیورز کو مختلف مشکل راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جن میں ریت کی چٹانیں،ٹیلے،دریائےسرسوتی کے خشک گمشدہ صحرائی راستے شامل ہیں۔ ریلی کے دوران مقامی ثقافت کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔سرائیکی لوک موسیقی،مشاعرہ، جھومر،روایتی لباس اور کھانوں کے سٹال بھی سجائے جاتے ہیں۔ یہ ایونٹ ایک موقع ہوتا ہے جہاں لوگ نہ صرف سپورٹس کا لطف اٹھاتے ہیں بلکہ مقامی ثقافت سے بھی روشناس ہوتے ہیں۔مختلف مقابلوں میں 4×4 جیپ ریسنگ، موٹر سائیکل ریسنگ اور کلاسک کار ریسنگ شامل ہیں۔ یہ مقابلے مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں تاکہ ہر قسم کے شرکاء کی شرکت ممکن ہو۔اس موقع پر دنیا بھر سے سیر و سیاحت کے شوقین اور کلچرل ایکسپرٹ بھی ورلڈ ہیرٹیج قلعوں سمیت دیگر تاریخی مقامات کی سیر کرتے ہیں۔ورلڈ میگا ثقافتی و سپورٹس ایونٹ چولستان جیپ ریلی سے سیاحت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ملکی وقار و زر مبادلہ میں خاطر اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ریسرچرز مقامی چولستانی اقدار اور قدرتی خوبصورتی کا تجربہ بھی کرتے ہیں۔

    چولستان جیپ ریلی نہ صرف ایک سپورٹس ایونٹ ہے بلکہ یہ پاکستان کی ثقافت،تاریخی ورثہ اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ہرسال اس ایونٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور یہ دنیا بھر کے آٹو موبائل شوقین افراد کے لیے ایک بڑا موقع بن چکا ہے۔چولستان جیپ ریلی مقامی اور قومی سطح پر معاشی فوائد کا باعث بنتی جارہی ہے۔آرکیالوجی،ثقافتی،سماجی، تاریخی و معاشی فوائد میں آپس میں اتحاد ویکجہتی،رواداری، خلوص،فطرت شناسی جیسے عظیم جذبوں اور روزگار جیسے اقتصادی مواقعوں کو فروغ ملتا ہے۔اس سے مقامی ہوٹلوں،ریستورانوں اور دیگر سیاحتی سہولتوں کا کاروبار بڑھتا ہے۔مقامی کاروبار میں ترقی دیکھنےکو ملتی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، سامان، اور یادگاروں کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے۔ملازمت کے مواقع ملتے ہیں جیسے کہ گاڑیوں اور خیمہ بستیوں کی سیکیورٹی کے مقامی لوگوں کی بھرتی ہوتی ہے۔اسی طرح زرعی ترقی میں کلیدی اضافہ ہوتا ہے۔

    سیاحوں کی آمد سے چولستان کے اطراف کے کسانوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔کیونکہ ان کا مال مویشی اور زرعی مصنوعات کی فروخت میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔نیشنل و انٹرنیشنل مارکیٹنگ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر پارٹنرشپ میں لین دین بڑھ جاتا ہے۔مقامی سطح کی ثقافت اور قدرتی حسن کو عالمی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ملک کی نیک نامی اور برآمدات میں اضافے سے ترقی کا پہیہ چلتا ہے۔ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سرائیکی خطے میں معاشی خوشحالی اور ترقی کے لیے چولستان جیپ ریلی کے مرکزی مقام قلعہ ڈیراور پر ہاکڑہ میوزیم قائم کیا جائے، سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کو عملی شکل دی جائے اور چولستانی دستکاریوں کے فروغ کے لیے چولستان ترقیاتی ادارہ گنویری والا میں بنایا جائے۔ مستقبل میں ان مستقل اداروں کے قیام سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ پورا سال جاری سیاحتی سرگرمیوں سے ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ اس سے سرائیکی خطے کی ہزار سالہ ثقافت، تہذیب اور تمدن کو فروغ ملے گا اور ملک کو بے شمار معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔سرائیکی قومی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا کلام روہی چولستان کی شادابی کی عملی دستاویزات ہیں۔

    ہنڑ تھی فریدا شاد ول
    ڈکھڑیں کوں نہ کر یاد ول
    اجھو جھوک تھیسی آباد ول
    ایہ نیں نہ واہسی ہک منڑیں ۔

  • گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    ہمارا گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور جانے کا ارادہ ایک مدت سے تھا، اور آخرکار وہ دن آ گیا جب ہم نے یہ سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب صبح جلدی اٹھے، تاکہ سفر کی تھکاوٹ کم ہو اور وقت پر پہنچ سکیں۔ صبح نو بجے تک ناشتہ کر کے ہم نے تیاری شروع کی اور پھر ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں سے ہوتے ہوئے گوردوارہ کرتار پور روانہ ہو گئے۔

    ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں پر سفر کرتے ہوئے سرسبز کھیت، پھلوں کے باغات، اور پرانی طرز کے گھر ہمیں دیہاتی زندگی کا گہرا منظر دکھا رہے تھے۔ یہاں کے لوگ سبزیاں شوق سے اگاتے تھے، اور چارا کاٹ کر گدھوں پر لے جا رہے تھے۔ ان کے روزمرہ کے معمولات میں سادگی اور محنت کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔ ہم نے راستے میں امرود کے تازہ باغات بھی دیکھے، اور وہاں سے تازہ اور رس دار امرود خریدے جو سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے بہت خوشگوار ثابت ہوئے۔

    دربار کے قریب پہنچتے ہی پنجاب پولیس کی طرف سے جگہ جگہ سکیورٹی چیکنگ کا آغاز ہو گیا۔ مختلف ناکوں پر ہمیں روکا گیا، اور شناختی کارڈ کی جانچ کی گئی۔ جہاں ہم نے اپنی گاڑی پارک کی اور میڈیسن اور بیگ بھی وہی چھوڑیں اسلئیے آپ سے گزارش ہے۔ کہ جب بھی آپکا گوردورا جانے کا اردہ ہو تو سوائے پیسوں کے ساتھ کوئی بھی قیمتی اشیا نہ لے جائیں چھری قینچی وغیرہ بھی گاڑی میں نہ ہو اور ہم نے ٹکٹس خریدے اور اندر جانے کے لئے تیار تھے، لیکن میرے نانو کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا، جس کی وجہ سے ہمیں خاصا دیر انتظار کرنا پڑا۔ تاہم، ان کی بزرگ حالت پر رحم کرتے ہوئے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ ایک اچھی بات تھی کہ انتظامیہ اہلکاروں نے انسانیت کو مقدم جانا۔

    اس کے بعد ہمیں ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور لے جایا گیا، اور قدم رکھتے ہی یہاں کی روحانیت اور سکون سے ہم سب دل کے محظوظ ہوئے۔ گوردوارہ کی عمارت نہایت خوبصورت تھی اور اس کی صفائی دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہر طرف سفید سنگ مرمر سے بنی عمارتیں نظر آ رہی تھیں، جو ایک محل کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوردوارہ کے ارد گرد باغات اور تصویریں بھی اس کے جمال کو مزید نکھار رہی تھیں۔ یہ جگہ نہ صرف روحانیت سے بھری ہوئی تھی، بلکہ اس کی عمارت اور مناظر بھی دل کو سکون پہنچانے والے تھے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے 2019 اپنے دور حکومت میں گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ہوا۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ کرتارپور سرحد کھول کر سکھوں کے دل خوشیوں سے بھر دے گا اور وہی ہوا۔اس تقریب میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتری موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھاکہ جب سکھ برادری کی بات ہوتی ہے تو ہم انسانیت کی بات کرتے ہیں، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔ ’ہمارے نبی پاک ص نے انسانیت کی بات کی۔‘

    گوردوارہ کے اندر پہنچ کر ہم نے لنگر خانہ کا رخ کیا، جہاں کھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ یہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ امیر و غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا۔ ہم نے اپنے برتن اٹھائے، جو بڑی صفائی سے رکھے گئے تھے، اور کھانے کا انتظار کیا۔ لنگر خانہ میں سب کو یکساں سلوک ملتا ہے، اور یہی بات انسانیت کی اصل حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ کھانے لیتے وقت روٹی دونوں ہاتھوں سے لینے کی رسم بھی تھی، جو عاجزی اور احترام کی علامت ہے۔ یہ منظر میرے دل میں ایک گہرا تاثیر چھوڑ گیا۔کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب ہم کوئی چیز دونوں ہاتھوں سے لیں تو تب ہمیں اپنی ” میں ” کو مار کر اپنے غرور کو اپنے پاؤں تلے روندھ کر نہایت انکساربننا پڑتا ہے۔

    کھانے کے بعد، ہم نے لنگر خانہ میں بیٹھ کر چائے پی، جو بہت لذیذ تھی۔ چائے کے دوران ہم نے اس جگہ کی روحانیت اور یہاں کے لوگوں کی محبت و بھائی چارے کا احساس ہوا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف اور محبت سے بات کرتے تھے، چاہے وہ بھارتی ہوں یا پاکستانی، سکھ ہوں یا مسلمان۔

    اس دوران ہماری ملاقات ایک بھارتی یاتری، رگجیت سنگھ سے ہوئی۔ وہ بہت خوش اخلاق اور خوش مزاج شخص تھے، انھوں نے نانو اور ماما سے اپنے انداز میں سلام لی اور پیروں کو چھو کر کہا ” پیر پینا ما جی "یہ انداز بہت احترام والا تھا اور انھوں نے میرے بیٹے نادعلی کو اپنے ساتھ گھومتے ہوئے گوردوارہ کے مختلف حصوں کا دورہ کروایا۔ رگجیت سنگھ نے ہمیں اپنی زندگی کی کچھ باتیں سنائیں۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی، حالانکہ اس کے خاندان والے اس کے فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ لیکن آٹھ سال کی محنت اور محبت کے بعد وہ اپنے خاندان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔پھر اس نے اپنی بیوی اور بہنوں سے ہماری ویڈیوکال پر بات کروائی۔وہ سب بہت اخلاق کی مالک خواتین تھی۔

    رگجیت سنگھ نے انڈیا کے بارے میں بھی کچھ معلومات دیں۔ جب میری نانو نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ انڈیا میں سونے کی قیمت تقریباً بہتر ہزار روپے فی تولہ ہے، جب کہ پاکستان میں سونا دو لاکھ روپے سے زائد فی تولہ ملتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انڈیا سے پاکستان آتے وقت انھیں سختی سے کہا گیا تھا کہ پاکستانیوں سے کسی بھی قسم کی خرید و فروخت نہ کریں اور اپنے سامان پر نظر رکھیں، کیونکہ انڈیا میں پاکستانیوں کے بارے میں بعض لوگ منفی تصورات رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ہم پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھے خیالات رکھتے تھے اور ہمارا استقبال انتہائی محبت سے کیا تھا۔

    ہم نے گوردوارہ کے اندرونی حصے کا بھی دورہ کیا، جہاں سکھ یاتری گورو نانک کے دربار پر ماتھا ٹیکنے میں مصروف تھے۔ گوردوارہ کے دربار میں سکھ یاتری اپنے عقیدت کے ساتھ عبادت کر رہے تھے اور گورو نانک کی تعلیمات پر عمل کر رہے تھے۔ اس روحانی ماحول میں بیٹھ کر ہمیں ایک خاص سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔

    گوردوارہ کی عمارت کا منظر بہت دلکش تھا۔ اس کی سفید سنگ مرمر کی عمارتیں ایک محل کی طرح نظر آ رہی تھیں، اور پورا منظر ایک شاندار ورثے کی عکاسی کر رہا تھا۔ ہم نے یہاں تصویریں بنائیں یہاں کا سکون اور آہستہ آہستہ گزرنے والا وقت اس بات کا غماز تھا کہ اس جگہ کی حقیقت محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک روحانی مرکز ہے جہاں گورو نانک کے پیروکار اپنے دل کو سکون پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔

    یہ سفر ہمارے لیے ایک انتہائی یادگار تجربہ تھا۔ نہ صرف ہم نے گوردوارہ کی روحانیت کو محسوس کیا، بلکہ دو مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا حقیقی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ اس سفر نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسانیت کی بنیاد محبت اور احترام پر ہے، اور یہاں کے لوگ اس بات کا زندہ نمونہ ہیں۔
    عینی ملک

  • ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ہرن مینار دیکھنے کی خواہش بچپن سے تھی۔۔۔ کبھی موقع ملا نہ فرصت اور جب یہ دونوں ملے تو یاد نہ رہا۔۔۔ سردیوں کے ابتدائی خوش گوار ترین دنوں میں سیر و تفریح کا شوق کچھ بڑھ جاتا ہے۔۔۔ یونہی بیٹھے بٹھائے فیملی سے ہرن مینار کا پروگرام بنانے کو کہا اور سب نے لبیک کہ دیا۔۔۔
    یکم دسمبر کے روشن صبح تین گاڑیوں کا قافلہ لاہور سے شیخوپورہ روانہ ہوا۔۔۔ راستے کے کھیت کھلیان اور فصلوں کی آب و تاب نے سفر کا لطف دوبالا کر دیا۔۔۔ اتوار کا دن اور صبح کا وقت تھا تو ٹریفک کا زور قدرے کم تھا۔۔۔ ٹکٹیں لے کر قدیم تاریخی عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے۔۔۔ مرکزی دروازے سے مینار تک کے فاصلے میں وسیع و عریض باغات ہیں۔۔کچھ آگے ایک بڑا تالاب ہے ، جہاں کشتی رانی کی سہولت ہے۔۔ صبح میں لوگوں کا رش کم تھا ، جو سہ پہر واپسی تک بہت بڑھ گیا۔۔ ہرن مینار کی سیڑھیوں اور تالاب کے وسط میں موجود بارہ دری کو مقفل کیا ہوا تھا ۔۔۔ مینار بہت خستہ حالی کا شکار ہے۔۔۔ ایک پرانا کنواں بھی مقفل تھا ۔۔۔ بادشاہ کے لاڈلے ہرن کی یاد میں تعمیر کردہ مینار کے ساتھ ہی ایک بڑے احاطے میں ، کچھ چلتے پھرتے دوڑتے بھاگتے ہرن بھی دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔ کینٹین بھی مغلیہ طرز تعمیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔۔۔

    قدیم تاریخی عمارتوں کو دیکھنے سے ایک الگ ہی طرح کا احساس دل و دماغ کو جکڑ لیتا ہے۔۔ کچھ دیر کو جیسے نظریں اور دھیان ساکت ہو جاتا ہے۔۔ تخیل اس دور کے شکوہ کی تصویر کشی کرنے لگتا ہے۔۔۔ حال اور ماضی کا ربط اور زمانی فاصلہ کسی فلم کی طرح چلتا محسوس ہوتا ہے ۔۔ ایسی عمارتیں خود بولتی ہیں اور اپنی کہانی سنانے لگتی ہیں ۔۔۔ بس ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے۔۔۔

  • "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بل کھاتا ڈھلوانی راستہ،اور راستے میں اداس چرواہوں،بے چین و مغموم پرندوں،شدید سوگوار ایستادہ درختوں کے سنگ چلنے کے بعد اچانک ایک موڑ پر منظر کھلتا ہے۔نیلے،سفید گنبد اور ایک آبادی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر اداس راستے کی افسردگی اور پژمردگی ختم کرنے کےلیے کافی تھا۔انھی گنبدوں کے قریب مندر اور گوردوارے بھی موجود تھے۔ چاروں طرف ہی مذہبی رواداری کی خوشبو محسوس کی جاسکتی تھی۔ جب بارہویں کی کھیر کسی ہندو کے گھر کھائی جاتی،اور جب ہندو بہن،مرکزی بازار میں واقع سردار جی کی دکان سے خرید کر مسلمان بھائی کو راکھی باندھتی،تو پاس بہتا خاموش سندھو (دریائے سندھ) پُرجوش ہو کر اچھل پڑتا۔صد افسوس! آج منظر یکسر بدل گیا ہے۔یہ شہر تو وہیں ہے،مگر یہ مناظر وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔یہاں کے ملاحوں کی بستی کے بوڑھے ملاح نے اپنی بیڑی کے چھید تو بھر لیے،مگر بستی کی تاریخ و تہذیب کے پیراہن میں لگے چھید کون رفو کرے گا؟

    گزشتہ برس عید پر آبائی گاؤں خوشحال گڑھ جانا ہوا۔مکھڈی حلوہ تو کھانے کو نہ ملا،مگر مکھڈ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوگیا۔میں پہاڑوں کا مرید ہوں،اور وادیاں میری مرشد،جبکہ سفر،نہ راضی ہونے والی محبوبہ۔اسی کو راضی کرنے کےلیے مکھڈ شریف کےلیے رخت سفر باندھا۔بل کھاتے پہاڑی راستوں پر اس قدر اداسی و افسردگی تھی کہ سر سبز و شاداب درخت بھی غمکین معلوم پڑتے۔پورے راستے میں پہاڑوں کے علاؤہ چند چرواہے،ریوڑ اور طویل ویرانیاں۔۔۔۔۔۔ یہ سفر مجھے کسی ناپسندیدہ لیکچر سے بھی کہیں زیادہ بورنگ لگنے لگا۔مگر اچانک ہم ایک موڑ مڑتے ہیں،تو آنکھیں ٹھنڈی اور تھکان و اداسی زائل ہونے لگ پڑتی ہے۔نیلے نیلے گنبد اور ان کے قریب چھوٹی سی بستی دیکھ کر لگا کہ ویرانیاں اور اداسیاں ختم ہوئیں،اور آغاز بہار ہو گیا ہے۔مناظر آنکھوں میں قید کرتے آگے بڑھتے گئے،کیونکہ ہماری اصل منزل دریائے سندھ تھا۔اپنے وقتوں کے سب سے بڑے تجارتی مرکز سے آج گزرے تو یوں لگا کہ جیسے کسی شہر خموشاں سے گزر ہو رہا ہو۔یوں ہماری بہار و رونق کی امید دریائے سندھ پہنچنے سے پہلے ہی دریا برد ہوگئی۔

    تاریخ کے اوراق کہتے ہیں کہ سی پیک تراپ انٹرچینج کے قریب دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ مکھڈ، تاریخی تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔جب پٹڑیاں اور سڑکیں نہ تھیں،تب دریائی راستے استعمال کیے جاتے۔مکھڈ کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ دریائے سندھ میں چلنے والے بحری بیڑوں کی آخری بندرگاہ تھی۔اور دوسری بڑی وجہ کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کےلیے یہی سب سے موزوں ترین آبی بندرگاہ تھی۔کالا باغ کا نمک بھی اسی راستے سے افغانستان سے ہوتا ہوا دوسرے ممالک جاتا۔اس لیے اس دور میں یہ علاقہ بڑی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔یہاں کے بازاروں میں قدیمی پتھروں اور لکڑی کے تختوں سے بنی موجود دکانیں آج بھی عظمت رفتہ کی قصہ خواں ہیں۔

    بند بازار کو دیکھتے ہوئے،چلتے گئے۔اب راستہ قدرے مشکل شروع ہورہا تھا۔کیونکہ ہمیں نیچے دریا کی طرف جانا تھا۔چند قدم چلنے کے بعد ایک دیو مالائی خستہ حال مندر نظر آیا۔اسی عمارت کے قریب خاموش بہتا اداس دریائے سندھ اور دریا میں تیرتی چند کشتیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ علاقہ نہ صرف تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا،بلکہ تہذیب و ثقافت کے بھیدوں کا مہاکھڈ بھی تھا۔ کئی گرودوارے، منادر اور ان پر بنے نقش نگار اپنی جانب متوجہ کراتے ہوئے،نوحہ کناں ہیں۔اس کی تہذیبی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ قبل از مسیح سے آباد ہے۔اور یہ بدھ مت،سکھ ازم،ہندومت اور اسلام چار تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔1650 میں ایک صوفی بزرگ نوری بادشاہ یہاں آئے اور اسلام کی روشنی پھیلائی۔جن کا مزار آج بھی یہاں موجود ہے۔

    سندھو دریا کے کنارے ہم نے مچھلی پلا تو نہ کھایا،مگر مچھلیوں کے قریب جانے کےلیے کشتی میں بیٹھ گئے۔لکڑی کے بھاری بھرکم تختوں کے اوپر لگا انجن اسٹارٹ ہونے سے سندھو کا سکوت ٹوٹا،تو برا بھی لگا۔مگر سورج کی شعاعوں سے سنہری لہریں دل کو بھانے لگی۔سندھو کی اٹھتی موجوں کو چھونے کا لمس۔۔۔۔۔اور سہنری لہریں،ہمیں کشتی سے اترنے ہی نہیں دے رہی تھی۔جب سورج نے غروب ہونے کی تیاری کی،تو ہم بھی گھر طلوع ہونے کے لیے نکل پڑے

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

  • چترال:صوبائی حکومت کا2024 ءترچ میر چوٹی کے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ،مختلف فیسٹیول منعقد ہوں گے

    چترال:صوبائی حکومت کا2024 ءترچ میر چوٹی کے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ،مختلف فیسٹیول منعقد ہوں گے

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی رپورٹ)خیبرپختونخوا حکومت نے سال 2024-25 کو صوبہ کی بلند ترین چوٹی ترچ میر کو ے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ اورمختلف فیسٹیول شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کو ٹاسک حوالے کرکے فوری طور پر جاندار اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی زیرصدارت سیاحت کی ترقی سے متعلق اجلاس.

    خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے کانفرنس ہال پشاور میں منعقدہ اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی برکت اللہ مروت، جنرل منیجر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ محمد علی سید اور جنرل منیجر ٹورازم سجاد حمید کے علاؤہ ٹور آپریٹرز اور سیاحت سے منسلک اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی جنہوں نے صوبائی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سیاحت کی ترقی کیلئے سنگ میل اقدام قرار دیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
    اجلاس میں سال 2024-25 کیلئے کوہ پیمائی کی رائلٹی اور ٹریکنگ فیس معاف کرنے اور ترچ میر پہاڑ کو خیبرپختونخوا کے سیاحتی علامات میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ترچ میر چوٹی سر کرنے کیلئے مختلف بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو مدعو کیا جائے گا جبکہ ان کیلئے ٹریننگ پروگرامزبھی ترتیب دیئے جائینگے۔

    سیاحت سے منسلک صوبہ کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے مسائل اور ان کے حل کیلئے اگلا اجلاس پشاور کی بجائے چترال، کاغان، سوات اوردیگر سیاحتی اضلاع کے صدرمقامات پر منعقد کئے جائیں گے۔

    سیاحت سے منسلک اسٹیک ہولڈرز نے مشیر سیاحت کو اپنے مسائل و مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ زاہد چن زیب نے انکے معروضات توجہ سے سنے اور انکے ترجیحی بنیادوں پر ازالے کا یقین دلایا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سیاحتی خدمات کی بطریق احسن ادائیگی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    مشیر سیاحت نے کہا کہ سیاحوں کے این او سی سے متعلق مسئلے متعلقہ حکام کیساتھ ملاقات کے بعد جلد حل کردیا جائے گا۔ بہتر نتائج کیلئے خیبرپختونخوا ٹورازم پولیس کو فرسٹ ایڈ بکس کیساتھ اپ گریڈ کرکے مزید تربیت دینے کے علاؤہ اضافی موٹر بائیک سے لیس کیا جا رہا ہے۔ سیاحتی مقامات پر تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا جس کیلئے اتھارٹیز کو فعال بنانے کے علاؤہ ضلعی انتظامیہ کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی

    زاہد چن زیب نے کہا کہ اسی طرح سیاحتی مقامات کو جانے والی شاہراہوں کو بھی بہتر بنایا جائے گا جس کیلئے نئے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ ٹور آپریٹرز اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز سیاحت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور صوبائی حکومت انکی حوصلہ افزائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

  • ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    انسان کی زندگی میں کچھ لمحے، کچھ واقعات ایسے یادگار ہوتے ہیں جو اگرچہ لوٹ کر نہیں آتے مگر وہ دل و دماغ پر ایسے نقش ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کے سحر میں تادم مرگ جکڑا رہتا ہے۔ آل پاکستان رائٹز ویلفیئرایسوسی ایشن(اپووا) کے بانی وصدر ایم ایم علی نے مجھے دعوت دی کہ اپووا خواتین ونگ کی گورنر ہاوس میں محترم گورنر محمد بلیغ الرحمان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے تو کیا آپ آسکتی ہیں؟ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ میرے لئے تو بہت اعزاز کی بات تھی۔ میں نے فورا ًاوکے کیا اور دن گننے شروع کردیئے کہ کب وہ دن آئے گا؟ نا سردی کی پرواہ نا ہی بیماری، بچے اور میاں جی ہنس رہے تھے کہ جی اب تو گھٹنے بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔میں ان کی باتوں کو انجوائے کرتی لاہور پہنچ ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئی۔ رات خوشی کے مارے نیند ہی نا آئی، صبح سویرے اٹھ گئی ساتھ ہی بیٹے ڈاکٹر محمد عمر کو بھی اٹھا دیا کہ دو بجے سے پہلے پہنچنا ہے گورنر ہاوس۔قصہ مختصر! دوپہر دو بجے سے بھی پہلے میں گورنر ہاوس لاہور کے گیٹ پر تھی دور جو نظر پڑی تو کچھ خواتین مجھ سے بھی پہلے موجود تھیں اس چمکیلی سی دوپہر میں جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو میری سوچ کی پرواز آج سے 40 سال پہلے پشاور کے گورنر ہاوس میں پہنچ گئی جب میں فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں ضلع پشاور میں ٹاپ کیا تھا اور اس وقت کے گورنر جناب فضل حق (مرحوم) صاحب نے پہلی بار تمام ٹاپرز کو بلوایا اور انعامات سے نوازا (ابھی تک اس تقریب کے سحر میں تھی) یہ 1983 کی بات ہے اور اب دسمبر 2023 میں وہ بچی ٹھیک 40 سال بعد گورنر ہاوس لاہور میں کھڑی تھی اور کبھی سوچا ہی نا تھا حد سے زیادہ خوشی تھی۔پورے دو بجے اپووا صدر ایم ایم علی،صدر خواتین ونگ اپووا ثمینہ بٹ،اورایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول کی قیادت میں ہم سب کانفرنس روم میں پہنچے، وہاں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی،

    punjab

    کچھ دیر بعد محترم جناب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب تشریف لائے اور تمام شرکاء کو بہت عزت و احترام سے، نہایت خوشدلی سے خوش آمدید کہا۔۔صدر خواتین ونگ ثمینہ طاہر نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی پر بریف دیا جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول نے تنظیم کا تفصیلی تعارف پیش کیا اس کے بعد تمام لکھاریوں سے تعارف ہوا جسے بہت دلچسپی سے گورنر صاحب نے سنا اور مجھ ناچیز کو اسپیشل پشاور سے آنے پر بہت سراہا تعارف مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں گورنر ہاوس کی تاریخ کے بارے میں کافی تفصیل سے آگاہ کیا۔ گورنر ہاوس پنجاب کی تاریخ سوا چار سو سال پرانی ہے یہ 700 کنال پر پھیلا ہوا ہے،اکبر بادشاہ نے 1600میں یہاں اپنے کزن (چچا زاد بھائی) قاسم خان کا مقبرہ تعمیر کروایا جو اس کی بیسمینٹ میں آج بھی موجود ہے بعد میں سکھوں اور انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے ہی دور میں اس عمارت کو گورنر ہاوس کا درجہ دیا گیا۔ گورنر پنجاب جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر گورنر ہاوس لاہور میں گایئڈڈ ٹور کا افتتاح کیا اور مزید بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت اور قومی ورثہ ہے اس میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔اس میں قائد، ملکہ وکٹوریہ اور دیگر شخصیات کے کمرے بھی موجود ہیں جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔سکولوں، کالجوں کے طلباء، عام عوام،ملکی و غیر ملکی سیاح سب گایئڈڈٹورز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سب عالمی معیار کا ہوگا اور لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔استاد اللہ بخش کی شاہکار پینٹنگز بھی یہاں موجود تھیں جنہیں گورنر صاحب نے اکٹھی کرکے کمروں میں تزیئن و آرائش کے لئے استعمال کیا استاد اللہ بخش کی تصاویر مصوری کا نایاب شاہکار ہیں ان کا استاد کوء نہیں تھا ان کی ایک پینٹینگ 1 ملین میں فروخت ہوئی نامور مصور چغتائی کے بارے میں بھی بتایا۔

    punjab

    گورنر صاحب نے تمام لکھاریوں، صحافیوں، شعراء کی کاوشوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی نسبت لکھاری زیادہ حساس ہوتا ہے اگر وہ حساس نا ہو تو کبھی لکھ نا پائے لیکن جو بھی لکھیں بغیر تحقیق کے نا لکھیں کبھی بھی سنی سنائی بات کو آگے نا پہنچایئں کہ اس سے معاشرے میں بہت خرابی پھیلتی ہے اور کچھ ہی دیر جھوٹی خبر ایسے پھیلتی ہے کہ وہ سچ لگتی ہے خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس بات کا احساس دلایئں کہ اس سے معاشرے میں خرابی پھیلتی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی قوم کو ناکام کرنا ہو تو اسے مایوس کردو اور آج کل ہماری نوجوان نسل میں بہت مایوسی پھیلائی جارہی ہے آپ جو بھی لکھیں اس سے صرف مایوسی یا پریشانی نا بتائیں بلکہ اس کے پازیٹیو اور نیگیٹو دونوں پہلو لکھیں صرف نیگیٹیو لکھیں گے تو پڑھنے والا مایوس ہوگا ملکی معشیت کے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بارے بھی گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہو کہ ان کو خرابی کی پہچان ہو تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں مایوسی بہت بڑی خرابی ہے اور نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنا ہوگا جو اچھائیاں ہیں ان کی قدر کریں ان پر شکر کریں اور مایوس ہونا چھوڑ دیں۔پھر مادری زبان میں تعلیم،عربی اور ناظرہ کی تعلیم پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے حوالے سے بھی تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم پر گفتگوہوئی اس گفتگو میں، نوجوانوں کے حوالے میں نے بھی ایک عرض پیش کی کہ نوجوان طبقہ ڈپریسڈ ہے بیروزگار ہے اور میری درخواست ہے کہ خاص کر فارن گریجویئٹیس کے لئے کچھ کریں یہ صرف ایک میری آواز نا سمجھیں یہ ان ہزاروں ماوں کی اور ان نوجوان ڈاکٹرز کی آواز سمجھیں جو باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کو جابز نہیں تو کم از کم لائسسنس ایشو کر دیئے جائیں تاکہ گھر کے کسی کمرے میں ہی کلینک بنا لیں کچھ تو کرسکیں اس بارے میں بھی گورنر صاحب کی مشکور ہوں کہ انہوں نے توجہ سے سنااور تمام سوالات کے مفصل جوابات بھی دیئے اور تمام مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کا عہد بھی کیا میٹینگ اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا اور آدھے گھنٹے کی بجائے دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چلا گیا۔

    دل تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر اور جاری رہتی کیونکہ ایسے خوبصورت مواقع، یادگاری لمحے زندگی میں قسمت سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں آخر میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے وفد کے تمام اراکین کو یادگاری سرٹیفیکیٹس سے اور خوبصورت قلم و تحائف سے نوازا، مصنفین نے اپنی کتابوں اور رسائل کا تحفہ گورنر صاحب کو پیش کیا اختتام پر گروپ فوٹو کے بعد گورنر صاحب کے حکم پر وفد کو تاریخی گورنر ہاوس کا تفصیلی ٹور بھی کروایا گیا جو میں بوجہ اپنی صحت نا کرسکی اور دور کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ میں وہ بچی تھی جس نے 83 میں گورنر ہاوس پشاور کا کونا کوناایسے بھاگ بھاگ کر دیکھا تھا اور آج؟ پھر اللہ پاک ہزاروں بار شکر ادا کیا کہ جس نے آج یہ موقع دیا کہ جس عمارت کے اندر چڑی بھی پر نہیں مار سکتی وہاں آکر بیٹھنا، گفتگو کرنا، اتنی عزت افزائی یہ سب کیا کسی نعمت سے کم ہے۔۔؟ سب دوستوں سے اجازت لی اور بیٹے کے ساتھ گھر کو روانہ ہوء بہت سی حسین اور خوشگوار یادوں کے ہمراہ۔۔ ابھی پشاور کو جاتے ہوئے راستے میں اس خوبصورت اور یادگار دن کو قلمبند کررہی ہوں اور آخر میں گورنر جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب کی بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں اتنا وقت، اتنی عزت اتنا مان دیا۔۔ اپووا کی تمام ٹیم کی شکرگزار ہوں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ آمین ثم آمین
    punjab

  • شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست

    شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)تین روزہ شندور پولو فیسٹیول رنگا رنگ تقریبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ آخری روز سکول کے بچوں نے ٹیبلو پیش کیے، جبکہ فرنٹیئر کور اور گلگت بلتستان کے بینڈز نے قومی نغموں کی دھنیں پیش کیں۔

    شندور پولو فیسٹول کے فائنل میچ میں چترال نے زبردست مقابلے کے بعد گلگت بلتستان کو 5 کے مقابلہ میں 7 گول سے شکست دی۔اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی کور کمانڈر پشاور تھے۔ مہمان خصوصی نے بہترین کارگردگی دکھانے والے کھلاڑیوں، رنراپ اور جیتنے والی ٹیموں کو ٹرافیاں اور نقد انعامات دیئے۔شندور پولو فیسٹول کے فروغ ، سابقہ پولو کھلاڑیوں کی بہبود اور عالمی سطح پر اس فیسٹول کی پذیرائی کے لئے ایک فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔مقامی فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیرستانی، چترالی، خٹک اور کیلاشی رقص پیش کیا۔

    تقریب میں پیرا گلائیڈرز اور پاکستان آرمی ایس ایس جی کمانڈوز نے پیراٹروپنگ کے ذریعہ حاضرین سے خصوصی داد وصول کی۔فیسٹول کے آخری روز بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح پولو میچ سے لطف اندوز ہوئے۔ اعلی سول اور ملٹری حکام، بڑی تعداد میں علاقے کی عوام اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔