Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بل کھاتا ڈھلوانی راستہ،اور راستے میں اداس چرواہوں،بے چین و مغموم پرندوں،شدید سوگوار ایستادہ درختوں کے سنگ چلنے کے بعد اچانک ایک موڑ پر منظر کھلتا ہے۔نیلے،سفید گنبد اور ایک آبادی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر اداس راستے کی افسردگی اور پژمردگی ختم کرنے کےلیے کافی تھا۔انھی گنبدوں کے قریب مندر اور گوردوارے بھی موجود تھے۔ چاروں طرف ہی مذہبی رواداری کی خوشبو محسوس کی جاسکتی تھی۔ جب بارہویں کی کھیر کسی ہندو کے گھر کھائی جاتی،اور جب ہندو بہن،مرکزی بازار میں واقع سردار جی کی دکان سے خرید کر مسلمان بھائی کو راکھی باندھتی،تو پاس بہتا خاموش سندھو (دریائے سندھ) پُرجوش ہو کر اچھل پڑتا۔صد افسوس! آج منظر یکسر بدل گیا ہے۔یہ شہر تو وہیں ہے،مگر یہ مناظر وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔یہاں کے ملاحوں کی بستی کے بوڑھے ملاح نے اپنی بیڑی کے چھید تو بھر لیے،مگر بستی کی تاریخ و تہذیب کے پیراہن میں لگے چھید کون رفو کرے گا؟

    گزشتہ برس عید پر آبائی گاؤں خوشحال گڑھ جانا ہوا۔مکھڈی حلوہ تو کھانے کو نہ ملا،مگر مکھڈ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوگیا۔میں پہاڑوں کا مرید ہوں،اور وادیاں میری مرشد،جبکہ سفر،نہ راضی ہونے والی محبوبہ۔اسی کو راضی کرنے کےلیے مکھڈ شریف کےلیے رخت سفر باندھا۔بل کھاتے پہاڑی راستوں پر اس قدر اداسی و افسردگی تھی کہ سر سبز و شاداب درخت بھی غمکین معلوم پڑتے۔پورے راستے میں پہاڑوں کے علاؤہ چند چرواہے،ریوڑ اور طویل ویرانیاں۔۔۔۔۔۔ یہ سفر مجھے کسی ناپسندیدہ لیکچر سے بھی کہیں زیادہ بورنگ لگنے لگا۔مگر اچانک ہم ایک موڑ مڑتے ہیں،تو آنکھیں ٹھنڈی اور تھکان و اداسی زائل ہونے لگ پڑتی ہے۔نیلے نیلے گنبد اور ان کے قریب چھوٹی سی بستی دیکھ کر لگا کہ ویرانیاں اور اداسیاں ختم ہوئیں،اور آغاز بہار ہو گیا ہے۔مناظر آنکھوں میں قید کرتے آگے بڑھتے گئے،کیونکہ ہماری اصل منزل دریائے سندھ تھا۔اپنے وقتوں کے سب سے بڑے تجارتی مرکز سے آج گزرے تو یوں لگا کہ جیسے کسی شہر خموشاں سے گزر ہو رہا ہو۔یوں ہماری بہار و رونق کی امید دریائے سندھ پہنچنے سے پہلے ہی دریا برد ہوگئی۔

    تاریخ کے اوراق کہتے ہیں کہ سی پیک تراپ انٹرچینج کے قریب دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ مکھڈ، تاریخی تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔جب پٹڑیاں اور سڑکیں نہ تھیں،تب دریائی راستے استعمال کیے جاتے۔مکھڈ کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ دریائے سندھ میں چلنے والے بحری بیڑوں کی آخری بندرگاہ تھی۔اور دوسری بڑی وجہ کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کےلیے یہی سب سے موزوں ترین آبی بندرگاہ تھی۔کالا باغ کا نمک بھی اسی راستے سے افغانستان سے ہوتا ہوا دوسرے ممالک جاتا۔اس لیے اس دور میں یہ علاقہ بڑی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔یہاں کے بازاروں میں قدیمی پتھروں اور لکڑی کے تختوں سے بنی موجود دکانیں آج بھی عظمت رفتہ کی قصہ خواں ہیں۔

    بند بازار کو دیکھتے ہوئے،چلتے گئے۔اب راستہ قدرے مشکل شروع ہورہا تھا۔کیونکہ ہمیں نیچے دریا کی طرف جانا تھا۔چند قدم چلنے کے بعد ایک دیو مالائی خستہ حال مندر نظر آیا۔اسی عمارت کے قریب خاموش بہتا اداس دریائے سندھ اور دریا میں تیرتی چند کشتیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ علاقہ نہ صرف تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا،بلکہ تہذیب و ثقافت کے بھیدوں کا مہاکھڈ بھی تھا۔ کئی گرودوارے، منادر اور ان پر بنے نقش نگار اپنی جانب متوجہ کراتے ہوئے،نوحہ کناں ہیں۔اس کی تہذیبی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ قبل از مسیح سے آباد ہے۔اور یہ بدھ مت،سکھ ازم،ہندومت اور اسلام چار تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔1650 میں ایک صوفی بزرگ نوری بادشاہ یہاں آئے اور اسلام کی روشنی پھیلائی۔جن کا مزار آج بھی یہاں موجود ہے۔

    سندھو دریا کے کنارے ہم نے مچھلی پلا تو نہ کھایا،مگر مچھلیوں کے قریب جانے کےلیے کشتی میں بیٹھ گئے۔لکڑی کے بھاری بھرکم تختوں کے اوپر لگا انجن اسٹارٹ ہونے سے سندھو کا سکوت ٹوٹا،تو برا بھی لگا۔مگر سورج کی شعاعوں سے سنہری لہریں دل کو بھانے لگی۔سندھو کی اٹھتی موجوں کو چھونے کا لمس۔۔۔۔۔اور سہنری لہریں،ہمیں کشتی سے اترنے ہی نہیں دے رہی تھی۔جب سورج نے غروب ہونے کی تیاری کی،تو ہم بھی گھر طلوع ہونے کے لیے نکل پڑے

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

  • چترال:صوبائی حکومت کا2024 ءترچ میر چوٹی کے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ،مختلف فیسٹیول منعقد ہوں گے

    چترال:صوبائی حکومت کا2024 ءترچ میر چوٹی کے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ،مختلف فیسٹیول منعقد ہوں گے

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی رپورٹ)خیبرپختونخوا حکومت نے سال 2024-25 کو صوبہ کی بلند ترین چوٹی ترچ میر کو ے سال کے طور پرمنانے کا فیصلہ اورمختلف فیسٹیول شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کو ٹاسک حوالے کرکے فوری طور پر جاندار اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی زیرصدارت سیاحت کی ترقی سے متعلق اجلاس.

    خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے کانفرنس ہال پشاور میں منعقدہ اس اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی برکت اللہ مروت، جنرل منیجر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ محمد علی سید اور جنرل منیجر ٹورازم سجاد حمید کے علاؤہ ٹور آپریٹرز اور سیاحت سے منسلک اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی جنہوں نے صوبائی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سیاحت کی ترقی کیلئے سنگ میل اقدام قرار دیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
    اجلاس میں سال 2024-25 کیلئے کوہ پیمائی کی رائلٹی اور ٹریکنگ فیس معاف کرنے اور ترچ میر پہاڑ کو خیبرپختونخوا کے سیاحتی علامات میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ترچ میر چوٹی سر کرنے کیلئے مختلف بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو مدعو کیا جائے گا جبکہ ان کیلئے ٹریننگ پروگرامزبھی ترتیب دیئے جائینگے۔

    سیاحت سے منسلک صوبہ کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے مسائل اور ان کے حل کیلئے اگلا اجلاس پشاور کی بجائے چترال، کاغان، سوات اوردیگر سیاحتی اضلاع کے صدرمقامات پر منعقد کئے جائیں گے۔

    سیاحت سے منسلک اسٹیک ہولڈرز نے مشیر سیاحت کو اپنے مسائل و مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ زاہد چن زیب نے انکے معروضات توجہ سے سنے اور انکے ترجیحی بنیادوں پر ازالے کا یقین دلایا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سیاحتی خدمات کی بطریق احسن ادائیگی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    مشیر سیاحت نے کہا کہ سیاحوں کے این او سی سے متعلق مسئلے متعلقہ حکام کیساتھ ملاقات کے بعد جلد حل کردیا جائے گا۔ بہتر نتائج کیلئے خیبرپختونخوا ٹورازم پولیس کو فرسٹ ایڈ بکس کیساتھ اپ گریڈ کرکے مزید تربیت دینے کے علاؤہ اضافی موٹر بائیک سے لیس کیا جا رہا ہے۔ سیاحتی مقامات پر تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا جس کیلئے اتھارٹیز کو فعال بنانے کے علاؤہ ضلعی انتظامیہ کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی

    زاہد چن زیب نے کہا کہ اسی طرح سیاحتی مقامات کو جانے والی شاہراہوں کو بھی بہتر بنایا جائے گا جس کیلئے نئے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ ٹور آپریٹرز اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز سیاحت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور صوبائی حکومت انکی حوصلہ افزائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

  • ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    انسان کی زندگی میں کچھ لمحے، کچھ واقعات ایسے یادگار ہوتے ہیں جو اگرچہ لوٹ کر نہیں آتے مگر وہ دل و دماغ پر ایسے نقش ہوجاتے ہیں کہ انسان ان کے سحر میں تادم مرگ جکڑا رہتا ہے۔ آل پاکستان رائٹز ویلفیئرایسوسی ایشن(اپووا) کے بانی وصدر ایم ایم علی نے مجھے دعوت دی کہ اپووا خواتین ونگ کی گورنر ہاوس میں محترم گورنر محمد بلیغ الرحمان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے تو کیا آپ آسکتی ہیں؟ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ میرے لئے تو بہت اعزاز کی بات تھی۔ میں نے فورا ًاوکے کیا اور دن گننے شروع کردیئے کہ کب وہ دن آئے گا؟ نا سردی کی پرواہ نا ہی بیماری، بچے اور میاں جی ہنس رہے تھے کہ جی اب تو گھٹنے بھی ٹھیک ہو گئے ہیں۔میں ان کی باتوں کو انجوائے کرتی لاہور پہنچ ایک دن پہلے ہی لاہور پہنچ گئی۔ رات خوشی کے مارے نیند ہی نا آئی، صبح سویرے اٹھ گئی ساتھ ہی بیٹے ڈاکٹر محمد عمر کو بھی اٹھا دیا کہ دو بجے سے پہلے پہنچنا ہے گورنر ہاوس۔قصہ مختصر! دوپہر دو بجے سے بھی پہلے میں گورنر ہاوس لاہور کے گیٹ پر تھی دور جو نظر پڑی تو کچھ خواتین مجھ سے بھی پہلے موجود تھیں اس چمکیلی سی دوپہر میں جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو میری سوچ کی پرواز آج سے 40 سال پہلے پشاور کے گورنر ہاوس میں پہنچ گئی جب میں فرسٹ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی میٹرک میں ضلع پشاور میں ٹاپ کیا تھا اور اس وقت کے گورنر جناب فضل حق (مرحوم) صاحب نے پہلی بار تمام ٹاپرز کو بلوایا اور انعامات سے نوازا (ابھی تک اس تقریب کے سحر میں تھی) یہ 1983 کی بات ہے اور اب دسمبر 2023 میں وہ بچی ٹھیک 40 سال بعد گورنر ہاوس لاہور میں کھڑی تھی اور کبھی سوچا ہی نا تھا حد سے زیادہ خوشی تھی۔پورے دو بجے اپووا صدر ایم ایم علی،صدر خواتین ونگ اپووا ثمینہ بٹ،اورایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول کی قیادت میں ہم سب کانفرنس روم میں پہنچے، وہاں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی،

    punjab

    کچھ دیر بعد محترم جناب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب تشریف لائے اور تمام شرکاء کو بہت عزت و احترام سے، نہایت خوشدلی سے خوش آمدید کہا۔۔صدر خواتین ونگ ثمینہ طاہر نے تنظیم کی مجموعی کارکردگی پر بریف دیا جبکہ ایڈیشنل جنرل سیکریٹری مدیحہ کنول نے تنظیم کا تفصیلی تعارف پیش کیا اس کے بعد تمام لکھاریوں سے تعارف ہوا جسے بہت دلچسپی سے گورنر صاحب نے سنا اور مجھ ناچیز کو اسپیشل پشاور سے آنے پر بہت سراہا تعارف مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمیں گورنر ہاوس کی تاریخ کے بارے میں کافی تفصیل سے آگاہ کیا۔ گورنر ہاوس پنجاب کی تاریخ سوا چار سو سال پرانی ہے یہ 700 کنال پر پھیلا ہوا ہے،اکبر بادشاہ نے 1600میں یہاں اپنے کزن (چچا زاد بھائی) قاسم خان کا مقبرہ تعمیر کروایا جو اس کی بیسمینٹ میں آج بھی موجود ہے بعد میں سکھوں اور انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے ہی دور میں اس عمارت کو گورنر ہاوس کا درجہ دیا گیا۔ گورنر پنجاب جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر گورنر ہاوس لاہور میں گایئڈڈ ٹور کا افتتاح کیا اور مزید بتایا کہ یہ ایک تاریخی عمارت اور قومی ورثہ ہے اس میں قائداعظم محمدعلی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔اس میں قائد، ملکہ وکٹوریہ اور دیگر شخصیات کے کمرے بھی موجود ہیں جہاں انہوں نے قیام کیا تھا۔سکولوں، کالجوں کے طلباء، عام عوام،ملکی و غیر ملکی سیاح سب گایئڈڈٹورز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ سب عالمی معیار کا ہوگا اور لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔استاد اللہ بخش کی شاہکار پینٹنگز بھی یہاں موجود تھیں جنہیں گورنر صاحب نے اکٹھی کرکے کمروں میں تزیئن و آرائش کے لئے استعمال کیا استاد اللہ بخش کی تصاویر مصوری کا نایاب شاہکار ہیں ان کا استاد کوء نہیں تھا ان کی ایک پینٹینگ 1 ملین میں فروخت ہوئی نامور مصور چغتائی کے بارے میں بھی بتایا۔

    punjab

    گورنر صاحب نے تمام لکھاریوں، صحافیوں، شعراء کی کاوشوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی نسبت لکھاری زیادہ حساس ہوتا ہے اگر وہ حساس نا ہو تو کبھی لکھ نا پائے لیکن جو بھی لکھیں بغیر تحقیق کے نا لکھیں کبھی بھی سنی سنائی بات کو آگے نا پہنچایئں کہ اس سے معاشرے میں بہت خرابی پھیلتی ہے اور کچھ ہی دیر جھوٹی خبر ایسے پھیلتی ہے کہ وہ سچ لگتی ہے خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس بات کا احساس دلایئں کہ اس سے معاشرے میں خرابی پھیلتی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کسی قوم کو ناکام کرنا ہو تو اسے مایوس کردو اور آج کل ہماری نوجوان نسل میں بہت مایوسی پھیلائی جارہی ہے آپ جو بھی لکھیں اس سے صرف مایوسی یا پریشانی نا بتائیں بلکہ اس کے پازیٹیو اور نیگیٹو دونوں پہلو لکھیں صرف نیگیٹیو لکھیں گے تو پڑھنے والا مایوس ہوگا ملکی معشیت کے پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت بارے بھی گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت ایسی ہو کہ ان کو خرابی کی پہچان ہو تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں مایوسی بہت بڑی خرابی ہے اور نوجوانوں کو اس سے باہر نکالنا ہوگا جو اچھائیاں ہیں ان کی قدر کریں ان پر شکر کریں اور مایوس ہونا چھوڑ دیں۔پھر مادری زبان میں تعلیم،عربی اور ناظرہ کی تعلیم پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے حوالے سے بھی تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم پر گفتگوہوئی اس گفتگو میں، نوجوانوں کے حوالے میں نے بھی ایک عرض پیش کی کہ نوجوان طبقہ ڈپریسڈ ہے بیروزگار ہے اور میری درخواست ہے کہ خاص کر فارن گریجویئٹیس کے لئے کچھ کریں یہ صرف ایک میری آواز نا سمجھیں یہ ان ہزاروں ماوں کی اور ان نوجوان ڈاکٹرز کی آواز سمجھیں جو باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کو جابز نہیں تو کم از کم لائسسنس ایشو کر دیئے جائیں تاکہ گھر کے کسی کمرے میں ہی کلینک بنا لیں کچھ تو کرسکیں اس بارے میں بھی گورنر صاحب کی مشکور ہوں کہ انہوں نے توجہ سے سنااور تمام سوالات کے مفصل جوابات بھی دیئے اور تمام مسائل کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کا عہد بھی کیا میٹینگ اور گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا اور آدھے گھنٹے کی بجائے دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چلا گیا۔

    دل تھا کہ یہ ابھی کچھ دیر اور جاری رہتی کیونکہ ایسے خوبصورت مواقع، یادگاری لمحے زندگی میں قسمت سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں آخر میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان صاحب نے وفد کے تمام اراکین کو یادگاری سرٹیفیکیٹس سے اور خوبصورت قلم و تحائف سے نوازا، مصنفین نے اپنی کتابوں اور رسائل کا تحفہ گورنر صاحب کو پیش کیا اختتام پر گروپ فوٹو کے بعد گورنر صاحب کے حکم پر وفد کو تاریخی گورنر ہاوس کا تفصیلی ٹور بھی کروایا گیا جو میں بوجہ اپنی صحت نا کرسکی اور دور کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ میں وہ بچی تھی جس نے 83 میں گورنر ہاوس پشاور کا کونا کوناایسے بھاگ بھاگ کر دیکھا تھا اور آج؟ پھر اللہ پاک ہزاروں بار شکر ادا کیا کہ جس نے آج یہ موقع دیا کہ جس عمارت کے اندر چڑی بھی پر نہیں مار سکتی وہاں آکر بیٹھنا، گفتگو کرنا، اتنی عزت افزائی یہ سب کیا کسی نعمت سے کم ہے۔۔؟ سب دوستوں سے اجازت لی اور بیٹے کے ساتھ گھر کو روانہ ہوء بہت سی حسین اور خوشگوار یادوں کے ہمراہ۔۔ ابھی پشاور کو جاتے ہوئے راستے میں اس خوبصورت اور یادگار دن کو قلمبند کررہی ہوں اور آخر میں گورنر جناب محمد بلیغ الرحمان صاحب کی بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے ہمیں اتنا وقت، اتنی عزت اتنا مان دیا۔۔ اپووا کی تمام ٹیم کی شکرگزار ہوں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو سلامت رکھے صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ آمین ثم آمین
    punjab

  • شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست

    شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)تین روزہ شندور پولو فیسٹیول رنگا رنگ تقریبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ آخری روز سکول کے بچوں نے ٹیبلو پیش کیے، جبکہ فرنٹیئر کور اور گلگت بلتستان کے بینڈز نے قومی نغموں کی دھنیں پیش کیں۔

    شندور پولو فیسٹول کے فائنل میچ میں چترال نے زبردست مقابلے کے بعد گلگت بلتستان کو 5 کے مقابلہ میں 7 گول سے شکست دی۔اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی کور کمانڈر پشاور تھے۔ مہمان خصوصی نے بہترین کارگردگی دکھانے والے کھلاڑیوں، رنراپ اور جیتنے والی ٹیموں کو ٹرافیاں اور نقد انعامات دیئے۔شندور پولو فیسٹول کے فروغ ، سابقہ پولو کھلاڑیوں کی بہبود اور عالمی سطح پر اس فیسٹول کی پذیرائی کے لئے ایک فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔مقامی فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیرستانی، چترالی، خٹک اور کیلاشی رقص پیش کیا۔

    تقریب میں پیرا گلائیڈرز اور پاکستان آرمی ایس ایس جی کمانڈوز نے پیراٹروپنگ کے ذریعہ حاضرین سے خصوصی داد وصول کی۔فیسٹول کے آخری روز بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح پولو میچ سے لطف اندوز ہوئے۔ اعلی سول اور ملٹری حکام، بڑی تعداد میں علاقے کی عوام اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔

  • کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چلم جوش اختتام پذیر، کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی وادی کیلاش آئے

    کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چلم جوش اختتام پذیر، کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی وادی کیلاش آئے

    چترال،باغی ٹی وی(گل حماد فاروقی کی رپورٹ) کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چلم جوش جو مقامی زبان میں جوشی بھی کہلاتا ہے وہ اپنے تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ وادی بمبوریت میں اختتام پذیر ہوا تاہم یہ تہوار کیلاش وادی بریر میں جاری ہے۔موسم بہار کے اس تہوار میں کیلاش مرد ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ کیلاش خواتین گول دائرے میں کندھے سے کندھا ملاکر مذہبی گیت گاتی ہوئی رقص کرتی ہیں۔
    کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جو قاضی کہلاتے ہیں وہ اس محفل کے درمیان میں کھڑے ہوکر دعائیں مانگتے ہیں جبکہ ان کے اہل و عیال ان کے ٹوپی کو سو، پانچ سو، ہزار روپے کے نوٹوں سے سجاتے ہیں۔ یہ ان کی ان کیلئے عزت اور اکرام کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ دوپہر تک کیلاش خواتین اور بچے مختلف دیہات سے گیت گاتی ہوئی ڈھولک کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے ٹولیوں کی شکل میں چرسو یعنی رقص گاہ جمع ہوتے ہیں۔دوپہر کے بعد کیلاش لوگ ہاتھوں میں اخروٹ کی ٹہنی اور پتے پکڑ کر ان کو لہرا لہرا کر مرکزی رقص گاہ یعنی چرسو کی طرف دھیرے دھیرے گامزن ہوتے ہیں اس دوران کسی مسلمان یا دیگر مذہب کے لوگوں کو اس جلوس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ جب چرسو پہنچ جاتے ہیں تو وہاں خوب جی بھر کر رقص کرتے ہیں

    عصر کے بعدکیلاش کے مذہبی رہنماء یعنی قاضی حضرات گندم کے فصل میں دودھ چھڑکاتے ہیں جو برکت کیلئے ایسا کیا جاتا ہے جبکہ مرد لوگ چرسو سے دور جاکر اپنے ہاتھوں میں اخروٹ کے ٹہنی، پتے یا پھول پکڑ کو اپنی زبان میں اونچی آواز میں دعا یا مذہبی گیت گاتے ہوئے آہستہ آہستہ رقص گاہ کی طرف آتے ہیں۔ مگر ان کے سامنے کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کو آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چرسو میں خواتین بھی ہاتھوں میں ٹہنیاں اور پتے پکڑ کر انہیں لہرا لہرا کر گیت گاتی ہیں اور مردوں کا انتظار کرتی ہیں۔

    جب مرد حضرات اپنے قاضیوں کے قیادت میں رقص گاہ یعنی چرسو پہنچ جاتے ہیں تو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پتے اور ٹہنیاں ان خواتین پر نچاور کرتے ہوئے سب گھل مل جاتے ہیں اور اکٹھے رقص پیش کرتے ہیں۔ اس تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آئے ہوئے تھے۔ تاہم راستوں کی خرابی اور سیاحوں کیلئے بیٹھنے کی جگہہ اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کو چند مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ چترال ٹریول بیورو کے دعوت پر فن لینڈ سے درجن بھر سیاح پہلی بار وادی کیلاش آئے تھے۔ ان سیاحوں سے جب اس تہوار کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جو سرکاری اور غیر سرکاری ادارے سیاحت کو ترقی دینے کیلئے کام کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ سیاحت پہ مزید توجہ دے اور اسے فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھاتے ہوئے ان پر مزید کام کریں تاکہ سیاحوں کو آنے جانے میں مشکلات کا بھی سامنا نہ ہو اور یہاں زیادہ سے زیادہ سیاح آنے سے اس علاقے کے لوگوں کی معاشی زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔

    چترال ٹریول بیورو مسؤل، مستحکم، احیائی اور تبدیلی پذیر ٹورزم کے فروغ کے لئے ویژن کو پیش کرنے پر مصروف ہے، خاص طور پر فطرت پر مبنی ٹورزم کے اس حوالے سے۔ کلاش ویلی میں ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے، چیف ایگزیکٹو آفیسر سید حریر شاہ نے مقامات، آپریشنز اور واقعات کی انتظامیہ میں مقامی عوام کی شمولیت کا اہم کردار پر زور دیا تاکہ ٹورزم کے منفی اثرات کو کم کیا جائے اور اس کے فوائد کو بڑھایا جائے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ غیر محرمانہ یا زیادہ تعداد میں ٹورزم کے اثرات مستحکم پہاڑی ٹورزم کے اہداف کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں، جیسے کہ ہندوکش، کاراکورم اور ہمالیہ جیسے خصوصیات کے میدان میں۔ ان علاقوں کو آب و ہوا کی تبدیلی، گلیشر کے پگھلنے اور ماحولیاتی خرابی کی حساسیت سے کام کرنا پڑتا ہے، جس سے ٹورزم صنعت کی بقائیت اور مجموعی استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    بعض سیاحوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ چترال میں محتلف تہوار، میلے یا ٹورنمنٹ منانے کے نا م پر قومی خزانے سے جو خطیر رقم نکلتی ہیں انہیں اگر افسر شاہی کو وی آئی پی پروٹوکول دینے یا چند افسرا ن اور ان کے اہل خانہ خوش کرنے کی بجائے اگر ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور مزید انتظامات بہتر کرنے پر خرچ کی جائیں تو اس سے بڑا فائدہ ہوگا۔ اس سے ایک طرف سیاحوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا تو دوسری طرف سیاحت کو ترقی دینے سے یہ علاقہ بھی ترقی کرسکے گا اور یہاں سے غربت کاخاتمہ ممکن ہوسکے گا۔


  • پنجاب میں 30 دن کیلئے پتنگ بازی پر پابندی عائد

    پنجاب میں 30 دن کیلئے پتنگ بازی پر پابندی عائد

    لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے تحت صوبے بھر میں30 دن کے لیے پتنگ بازی پر پابندی عائدکردی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ بازی کے علاوہ، پتنگوں کی تیاری سے متعلق مٹیریل،پتنگوں اور ڈور کی تیاری اور خریدوفروخت پر بھی مکمل پابندی کر دی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں یہ پابندی30 دن تک نافذالعمل رہےگی، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ادھرلاہور میں جشن بہاراں منانے کےلیے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں‌،اس سلسلے میں لاہور میں جشن بہاراں پر میراتھن ریس کا انعقاد بھی کرایا جائے گا،، نگران وزیراعلی پنجاب کہتے ہیں ہارس اینڈ کیٹل شو کے ذریعے شہریوں کو بہترین تفریح فراہم کی جائے گی۔۔۔نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت جشن بہاراں کے انتظامات کاجائزہ لینے سے متعلق اجلاس ہوا، نگران وزیراعلیٰ نے لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں

    جشن بہاراں کیلئے بہترین انتظامات کی ہدایت کی اور کہا کہ لاہور میں طویل عرصے کے بعد میراتھن ریس کا انعقاد کرایا جا رہا ہےہارس اینڈ کیٹل شو کے ذریعے شہریوں کو بہترین تفریح فراہم کی جائے گی، جشن بہاراں کے دوران داتا دربار پر سات روز محفل سماع کا انعقاد کرایا جائے گا نہر اورشہر کی اہم شاہراہوں کو خوب صورتی سے سجایا جائے گا اورلائٹنگ کی جائے گی، گریٹر اقبال پارک میں بھی جشن بہاراں کی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا

  • "نانی سلطی”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "نانی سلطی”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    ناجانے اس بوڑھی عورت کا اصل نام کیا تھا۔ مگر پورا گاؤں اسے "نانی سلطی” کے نام سے پکارتا تھا۔ نانی سلطی ہمارے گاؤں میں جس چھوٹے سے کمرے میں رہتی تھی، گاؤں کے لوگ اس کمرے کو نانی کی کوٹھی کہا کرتے تھے۔ نانی کی کوٹھی کے باہر بندھے چند چھوٹے چھوٹے کتے اور مرغیاں "نانی سلطی” کی شاید بہترین ساتھی تھے۔ ایک چارپائی، چھوٹا سا کمرہ ، باہر بندھے کتے اور چند ضرورت کے برتن "نانی سلطی” کی کل کائنات تھے۔ نانی سلطی دماغی طور پر سوچنے کی صلاحیت سے محروم تھی۔ میرے خیال میں تو یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پورا گاؤں اس کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ اور اسی وجہ سے گاؤں کے بگڑے لڑکے نانی سلطی کو تنگ کرتے تھکتے نہ تھے۔ صرف بگڑے لڑکے ہی نہیں بلکہ گاؤں کے زیادہ تر لوگوں بشمول پنج (پانچ) وقتی نمازوں کے لیے نانی سلطی انٹرنینمنٹ کا واحد ذریعہ تھی۔ لوگوں کے گھروں سے کھانا لے کر گزرا کرنے والی نانی سلطی اب گزر گئی ہے۔ لوگ اس کو پاگل سمجھتے تھے۔مگر وہ اللہ کے اس قدر قریب تھی۔کہ دین کا علم نہ تھا۔مگر پھر بھی نانی سلطی ہمیشہ روزہ رکھتی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب گاؤں میں، میں نے پہلی بار روزہ رکھا تو نانی سلطی اس دن بھی سہری کے وقت ہمارے گھر سہری کےلیے آئی تھی۔ اماں کے بتانے پر کہ اس کا آج پہلا روزہ ہے، نانی نے میرے لیے ڈھیروں دعائیں کیں۔

    "نانی سلطی” پانی سے بہت گھبراتی تھی۔ گاؤں کے لڑکے جب نانی پر پانی پھینکتے تو روتے روتے پانی پھینکنے والوں کو دو چار گالیوں سے نوازتے ہوئے اپنے مکان کی طرف چل پڑتی تھی۔سوائے اس کے وہ بیچاری اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ میں نے اکثر” نانی سلطی” کو اپنے چھوٹے سے مکان کے باہر آنے والی مرغیوں کو دانہ ڈالتے دیکھا تھا۔ مگر کل شب خواب میں مجھے” نانی سلطی” جنت کے پرندوں کو دانہ کھلاتے دیکھائی دی۔

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    پرویز الہی کی مبینہ آڈیو لیک جس میں وہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کو گندی گالیاں دے رہے ہیں

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    ‏عمران خان دی بندہ کی عزت کرسکدا اے….فواد چودھری کی آڈیو لیک

  • فضائی سفر اور قومی  فضائی کمپنیاں ، تحریر: محمد آصف شفیق

    فضائی سفر اور قومی فضائی کمپنیاں ، تحریر: محمد آصف شفیق

    کچھ دن کیلئے پاکستان جانے کا پروگرام بنا ، اس بار ارادہ تھا کہ صرف ایک ہفتہ پاکستان میں گزار کر واپس آجانا ہے ، سستی ٹکٹ کی خریداری ے لیے دوڑ دھوپ شروع کی مگر اپنی چھٹی کے حساب سے کوئی نہیں مل رہی تھی تو سوچا اس بار اپنی قومی ائر لائن دیکھی جائے ، الحمد للہ ائر بلیو سے جانے آنے کاارادہ کیا اور ڈائیرکٹ فلائٹ جدہ سے ملتان اور واپسی بھی ڈائیرکٹ فلائٹ پر بکنگ بنا لی جب خریداری کا مر حلہ آیا تو ان کی ویب سائٹ پر صرف ایچ بی ایل اور یو بی ایل کے کریڈٹ کارڈ کا آپشن آرہا تھا مالکان اور تکنیکی عملہ سے گزارش ہے کہ ٹکٹ کی خریداری کو آسان بنایا جائے تاکہ ہر فرد کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی آپ کی ائر لائن کی ٹکٹ کسی بھی کریڈٹ کارڈ سے خرید سکے ، ہم بھی پاکستانی ہیں اور پاکستانی فارمولا لگا کر کوشش کی کہ ٹکٹ لے لی جائے مگر تین بار کی کوششوں کے بعد بینک نے کریڈٹ کارڈ کو ارضی طور پر کچھ گھنٹو ں کیلئے بند کر دیا ،اگلے دن صبح نماز فجر کے بعد دوبارہ کوشش کی تو الحمد للہ بخیر و خوبی ای ٹکٹ بن گئی ، پھر مرحلہ درپیش تھا کہ یہ ائر لائن آپریٹ کس ٹرمینل سے ہو رہی ہے ، چونکہ آجکل عمرہ پر آنے والوں کو بہت رش ہے اس وجہ سے جدہ میں تین ٹرمینل آپریشنل ہیں ایک تو ٹرمینل 1 ہے جس پر سعودی ائر لائن اور بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز آپریٹ ہو رہی ہیں دوسرا حج ٹرمینل ہے جہاں سے پی آ ئی اے اور بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز آپریٹ ہوتی ہیں اور ایک پرانا جدہ ائر پورٹ نارتھ ٹرمینل ہے ائر بلیو کی پرواز وہاں سے آپریٹ ہوتی ہے

    تھوڑی کوششوں کے بعد ہمیں پتا چلا کہ نارتھ ٹرمینل پر جانا ہوگا ، فلائٹ الحمد اللہ بروقت تھی ، سات افراد پر مشتمل عملہ نہایت اچھا اور اچھے اخلاق سے پیش آرہے تھے ائر بس اے 320 اچھی حالت کا طیارہ اور 180 سواریوں کی گنجائش تھی اور پوری طرح سیٹ بائی سیٹ ، فلا یٹ کپتان بھ انتہائی تجربہ کار اور ماہر ہواز باز تھا برسوں سے ہوائی سفر کر رہا ہوں سموتھ لینڈنگ میں ائر بلیو کا جواب نہیں کھانا بے شک کم مگر معیاری تھا اور سورس کا معیار بہت اچھا بر وقت ملتان ائر پورٹ پر لینڈنگ ہوئی اور پاکستانی عوام ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کوشاں نظر آئے جہاز رکتے ہی اٹھ کر کھڑے ہوجانا اس قوم کا شعار ہے دھکم پیل میں خوشی محسوس کر تے ہیں اترکر امیگریشن سے چند قدم دور ایک سپاہی کو شلوار قمیض میں ملبوس پردیسی سے الجھتے اور کورونا کے ٹیکوں کا سوال کرنے پر بڑی مشکل سے ہنسی روکی اور مداخلت کرتے کرتے رہ گیا کہ شاید اس بھائی نے سرکاری اہلکار کی شا ن میں کوئی گستاخی کی ہوگی جو زیر عطاب ہے اور آپ شکایت کریں بھی تو کس سے سب ہی افسر ہیں پاکستان میں دو کاونٹر امیگریشن پر چل رہے تھے جلد ہی میری باری آ گئی اور الحمد للہ زندگی میں پہلی بار سامان پہلے پہنچ گیا اس پر بھی زمینی عملہ داد کا مستحق ہے

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    ملتان سے اتر کر اپنے آبائی علاقہ کوٹ ادو میں ایک ہفتہ قیام رہا سردی الحمد للہ ٹھیک ٹھاک تھی اور بجلی نے بھی ہماری توقعات سے بڑھ کر ہماری خدمت کی مسلسل دو دن صبح 08.30 سے شام 04.30 تک کوئی کام نہیں کرنے دیا ، بہت سے احباب نے مختلف شہروں میں آنے کی دعوت دی سب سے آئندہ چھٹی پر ملاقات کا وعدہ کیا ہے امید ہے آیندہ کچھ زیادہ دنوں کیلئے جائیں گے تو سب کے شکوے دور کریں گے اب مہم واپسی کی تھی ادھر ادھر سے نمبر مانگ کر ملتان آفس بار بار کوشش کی اور ایک اچھا کام ائر لائن کی طرف سے یہ کیا گیا کہ بروقت ای میل کر دی کہ فلائٹ لیٹ ہے اور اب صبح تین بجے کی بجائے سات بجے روانہ ہوگی اور پھر ای میل میں اپ ڈیٹ کیا گیا کہ اب وقت تبدیل کرکے سوا نو کر دیا گیا ، الحمد للہ ہم نے ہمیشہ کی طرح بروقت ملتان پہنچ کر اچھے مسافر ہونے کا ثبوت دیا ہمارے پاس کوئی سامان تو تھا نہیں مگر سیکیورٹی والے حضرات نے سوال و جواب کا سیشن کیا اور پوچھا پیسے کتنے ہیں چند پاکستانی روپے اور چند ریال ہی تھے اس بھائی نے جلد جلدی پاسپورٹ نمبر اور بتائی ہوئی تفصیل نوٹ کی چیک ان کیا کاونٹر پر موجود عملہ مستعد اور بہت اچھے انداز میں پیش آیا امیگریشن کی باری آئی اور سارے مراحل طے کر کے ڈیپارچر لاونج میں انتظار کرنے لگے الحمد للہ فلائٹ اون ٹائم تھی اور فل لوڈ اور سواریاں بھی پوری 180 تھیں واپسی پر ٹیک آف اور لینڈنگ انتہائی شاندار رہی جو کہ ایک ماہر ہواباز کی نشانی ہے ائر بلیو اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ ماہر ہوا باز دستیاب ہیں ، ملتان سے روانہ ہونے کے کچھ دیر بعد کپتان مسافروں سے مخاطب ہوئے تاخیر پر معذرت کی اور خوشخبری دی کہ فلائٹ پر سامان اور سواریاں فل ہونی کی وجہ سے ہم ایندھن زیادہ نہیں بھرواسکے اس لئے اب ہم کراچی اتریں گے ہمارا کراچی رکنے کا دورانیہ پینتیس منٹ ہوگا یہ سنتے ہیں ہمارا بھی منہ لٹک گیا کہ بھائی ہم نے تو پیسے ڈائریکٹ فلائٹ کے بھرے تھے اور اب آپ ہمیں کراچی لے جا رہے ہیں اور جہاز میں ہی بٹھائے رکھنا ہے دوران ایندھن بھرائی ، بہر حال اس بات سے ہم ائر بلیو سے خفا ہیں کہ بھائی رحم کیا کریں عوام پر ، اس بار چونکہ عمرہ زائرین کا رش ہے تو زیادہ تعداد عمرہ ادا کرنے والوں کی تھی او ر ان میں سے بھی اکثر پہلی بار سفر کر رہے ہوتے ہیں فضائی عملہ کی برداشت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ بہت تعاون کرتے ہیں خاص طور پر نئے لوگوں کو پہلی بار فضائی سفر سے پہلے کچھ نہ کچھ ٹریول ایجنٹس آگاہ کردیں تو ائر لائنز کیلئے آسانی ہو جائے ، خاص طور پر واش روم کے استعمال اور کھانا کھاکر خالی برتن واپس کرنے پر کم و بیش افراد سے بحث ہوئی ان کی اس بار کی یہ روداد رہی امید ہے احباب کو سفر نامہ پسند آیا ہوگا اس پر اپنی آراہ سے آگاہ فرمائیں
    والسلام
    محمد آصف شفیق
    @mmasief

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    2 دسمبر کو ہم متحدہ عرب امارات کا قومی دن منانے کے لیے تیار ہیں! اس سال۔ آئیے اس اہم دن کی تاریخی نسبت کو یاد کریں اور ان لوگوں کا احترام کریں جو متحدہ عرب امارات کی تشکیل کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ آئیے اس دن کی تاریخی اہمیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ:
    متحدہ عرب امارات ہمیشہ اتنا طاقتور ملک نہیں تھا جتنا آج ہے۔ درحقیقت یہ ملک مختلف قبائل کے جھگڑوں کی بدولت مختلف ریاستوں میں تقسیم اور بکھرا ہوا تھا۔ 1820 میں، برطانیہ اس ملک کے تاریخی منظر میں داخل ہوا اور تحفظ دینے کے وعدے پر اس سر زمین کا کچھ کنٹرول مانگا۔ امن کے لیے بے چین، متعدد قبائل نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور برطانیہ کو اپنے تنازعات کو حل کرنے کا ذمہ دار بنا دیا۔ لیکن 1968 میں، برطانیہ نے جنگ عظیم اول اور دوم کے بعد ہوئے مالی نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد خود کو اس ملک کے منظر سے ہٹا دیا۔

    منظر نامے سے برطانیہ کے نکلنے کے بعد ابوظہبی، دبئی، عجمان، العین، شارجہ اور ام القوین کے حکمرانوں نے متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2 دسمبر 1971 کو امارات نے برطانیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور متحدہ عرب امارات (UAE) بن گیا۔ بعد میں، راس الخیمہ ساتویں امارت نے بھی اس یونین میں شمولیت اختیار کی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بہترین حصہ کیا ہے؟ یہ انضمام اور نوآبادیاتی راج سے ان کی آزادی بغیر کسی تشدد کے حاصل کی گئی تھی!

    سات امارات کے اتحاد اور متحدہ عرب امارات کے اعلان کو نشان زد کرنے کے لیے، متحدہ عرب امارات کا جھنڈا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج بلند کیا گیا، اور متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر کا انتخاب کیا گیا — شیخ زید بن سلطان النہیان, شیخ زید ابوظہبی کے امیر تھے اور سات امارات میں سب سے امیر تھے۔ آج، متحدہ عرب امارات کو ایک درمیانی طاقت اور ایک بااثر قوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے جس کی ترقی کرتی ہوئی معیشت، تیل کے ذخائر، دنیا بھر سے سیاحوں کی آمد اور دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے کچھ اس کی پہچان ہے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے تمام شہری تسلیم کرتے ہیں کہ آج جو طاقت ان کے پاس ہے وہ صرف اس وجہ سے موجود ہے کہ ساتوں امارات نے 1971 میں متحد ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ایک تاریخی موقع ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تشکیل کیسے ہوئی۔ اس دن کو منانا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس قوم کی تاریخ یاد دلائی جائے جس میں وہ رہتے ہیں۔ ماضی کو یاد کرنے سے اکثر نوجوانوں کے دلوں میں وطن کے لیے محبت پیدا ہوتی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تاریخ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ تشدد اور جنگ کے بغیر آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دن سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے اور ترقی پسند بات چیت کا انتخاب کرنے کے لیے ایک تحریک کا کام بھی کرتا ہے۔آپ نے ‘تقسیم اور فتح’ کے بارے میں سنا ہے۔ ٹھیک ہے، متحدہ عرب امارات کی تشکیل بالکل ظاہر کرتی ہے کہ مخالف میں کتنی ہی طاقت ہو لیکن ایک دن اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے اور اتحاد سے بڑی طاقت نہیں جو مخالف کو چاروں شانے چت کردے, لہذا ہر سال یو اے ای کا قومی دن منانا اسی طاقت کی یاد دہانی ہے۔

    متحدہ عرب امارات آج امن،ترقی اوربہترین حکمرانی کی پہچان کے طورپراقوام عالم میں فخرکے ساتھ کھڑاہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں فقیدالمثال پیش رفت کی ہے جوکہ ملک کوایک جدید ریاست اورترقی کرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے نظریہ اورعزم کامنہ بولتا ثبوت ہے متحدہ عرب امارات نے تجارت، مالیاتی خدمات،سیاحت،ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کیلئے عالمی معیارکے مرکزکے طورپر ابھرنے کیلئے شاندار پیش رفت کی ہے۔ یہ متاثرکن ترقی رواداری،جامع اقتصادی ترقی اور اختراع کوفروغ دینے سے ممکن ہوئی پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کی موجودہ دوراندیش قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کومضبوط بنانے میں کئی دہائیوں کے دوران نمایاں کردارادا کیا ہے۔

    پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ اور دائمی ہیں، 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اسے آگے بڑھ کر نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے پاکستانی کمیونٹی تب سے لے کر آج تک یو اے ای کی ترقی اور تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دونوں ممالک میں تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے قائم ہیں

    باغی ٹی وی انتظامیہ اپنے مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر اس برادر ملک کو قیام کی 51 ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ اس ملک کو اس ملک کے باسیوں کو ہمیشہ متحد رکھے اور یہ سرزمین دنیا بھر میں امن وبھائی چارہ کا باعث بنے ، کل 2 دسمبرکی مبارک تاریخ کو ریاست ہائے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر باغی ٹی وی انتظامیہ بھی یہ دن منائے گی اور متحدہ عرب امارات کے لیے کامیابیوں کے لیے دعا گو بھی ہوگی ،

  • کشمیری میوہ صنعت موت کے مُہنہ میں — اشرف حماد

    کشمیری میوہ صنعت موت کے مُہنہ میں — اشرف حماد

    کشمیر بظاہر ایک قلع بند وادی ہے، جس کے چاروں اطراف فلک بوس کوہسار ہیں۔ یہ دیو قامت کوہسار کشمیر کے فطری اعتبار سے حفاظتی حصار ہیں۔

    لیکن اس سب کے باوصف وادئ کشمیر ایک بوتل بند سرزمین نہیں ہے۔ جہاں قدرت نے اس کے اردگرد فلک بوس دیوار کھڑا کی ہے وہاں اس جنت نشین خطہ کو بہت سے فطری راستے بھی عطا کئے ہیں جن سے وادی کا رابطہ دنیا جہاں سے تھا۔ مثال کے طور پر شاہراہ ابریشم کی راہداری، جو کشمیر کو وسطی ایشیا، مشرقی وُسطی اور چین سے ملاتی تھی۔ اسی طرح مُغل شاہراہ، جو وادی کو ۱۹۴۷ سے قبل ہندوستان اور افغانستان سے ملاتی تھی۔ اوڑی والا راستہ جو پنجاب اور افغانستان سے ملاتا تھی۔ اور اگر کلاروس کے غاروں کے پس منظر کو صحیح تسلیم کیا جائے تو یہ فطری ٹنل کشمیر کو رُوس سے اور یورپ ملاتا تھا۔ اس کے علاوہ جموں سرینگر راستہ جو ڈوگرہ مہاراجوں نے تعمیر کیا تھا۔

    مگر اس کا کیا کیا جائے کہ 1947 کے غیر فطری تقسیم نے پوری وادیِ کشمیر کو بوتل بند کرکے رکھ دیا۔ صرف ایک راستہ بچا جو سرینگر جموں راستہ کہلاتا ہے۔ مگر اس کے متعلق ہمارے مرحوم صاحبِ انکل جی اے مانتو کہتے تھے کہ یہ "جغرافیائی راستہ نہیں ہے بلکہ سیاسی راستہ ہے”۔ مرحوم بخشی غلام محمد کے دورِ وزارت اعظمی میں مغل شاہراہ کو تعمیر کرنے کی تجویز ہوئی لیکن اُس وقت کی مرکزی سرکار کو کیا محرکات نظر آئیں کہ اُس نے مغل روڈ کو تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ خیر تقسیم ہند کی نصف صدی کے بعد مفتی محمد سعید جب وزیر اعلی بنے تو انہوں نے کشاں کشاں مغل شاہراہ کو تعمیر کیا۔

    کشمیر کے فطری راستے بند ہونے سے کشمیری معیشت کو زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے؛ بلکہ کشمیر کے مسدود راستوں کی وجہ سے کشمیر کی اقتصادیات کو آج بھی بقا کے لالے پڑے ہیں۔ یہاں کی ساری آزاد تجارت بوتل بند اور محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

    راستوں کی اس نایابی کے سب انتہائی بڑے نقصانات یہاں کی میوہ صنعت اٹھانا پڑے اور تادم تحریر یہ مشکل ترین سلسلہ جاری ہے۔ بہرحال اب مغل شاہراہ اور جموں سرینگر شاہراہ وہ واحد راستے ہیں جن کے ذریعے میوہ جات وادی سے باہر جاسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ جموں سرینگر شاہراہ کی کشادگی اور چہار راہ(Four way) پر تعمیر جاری ہے جس سے میوہ جات کشمیر سے باہر جانے میں انتہائی پیچیدہ مسائل پیدا ہوئے۔ شروع میں مال ٹرکوں کی آمد رفت کے لئے صرف 4 گھنٹے مختص کئے گئے جو انتہائی ناکافی تھے۔ اس حوالے سے ٹرک ڈرائیوروں کا کہنا ہے پورے ایک مہینے میں انہیں صرف دو بار وادی سے باہر جانے کا موقع ملتا تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں میوہ ٹرک درماندہ ہو رہے تھے جس کے کارن میوہ راستے میں ہی سڑ جاتا ہے اور بعد میں باہر کی منڈیوں میں کوڑیوں کے مول بک جاتا ہے۔ اس صورتحال سے فروٹ گروورز سخت نالاں ہوئے اور سرکار سے فریادی ہوئے۔ سرکار بھی نیند سے جاگی اور بعد از خرابی بسیار حکم جاری کیا کہ میوہ ٹرکوں کو "بلا روک ٹوک” جانے دیا جائے۔

    لیکن ایک تو راستے کی رکاوٹیں اور دوسرے بمپر کراپ کی وجہ سے کشمیر کا شاندار اور لذیذ سیب اپنی افادیت کھو بیٹھا اور کوڑیوں کے مول ہر جگہ بکنے لگا۔ راجستھان میں پچاس روپے میں تین کلو، ممبئی میں تین سو روپے فی پیٹی اور دہلی میں تین سو سے چھ سو اور یہاں دو سو سے پانچ سو کی گراوٹ تک پہنچ گیا۔

    ایک گروور نے مجھے ۴ سال پہلے پنجورہ نامی "میوہ گاؤں” میں بتایا تھا کہ میوہ اگانے والے کو خود ایک پیٹی سیب 400 روپے میں بغیر پیٹی کے حاصل ہوتی ہے۔ یعنی درختوں پر ہی۔ اب 500 روپے تک اس کی درختوں پر ہی لاگت آتی ہے۔ اور آج اس کو یہاں دو یا چار سو ملتے ہیں۔ یہ تو اس انڈسٹری کا زوال ہے۔ امسال یہ صنعت انتہائی زوال کا شکار ہے۔ بلکہ اگر کہا جائے تو اپنی موت کے قریب ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پلوامہ ضلع میں کئی باغ مالکان کو اپنے باغات میں سیب کے درخت کاٹنے کے ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر ہو رہے ہیں!

    سوال یہ ہے کہ اگر مختلف ریاستوں سے بمپر پیداوار ہوتی ہے تو مرکزی حکومت دوسرے ملکوں سے کیوں سیب بڑی تعداد میں برآمد کرتی ہے؟۔ موجودہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت یہاں سے ہی سیب کو ایکسپورٹ کرے۔ باہر سے سیب کی برآمد پر فوری طور مکمل پابندی لگائے۔

    حال ہی میں ترکی سے خبر ملی ہے کہ تُرکیہ حکومت نے 24 بلین ڈالر کے میوے مشرقی وسطی اور خلیج کے ملکوں کو ایکسپورٹ کئے۔ یہ 2 ٹرلین اور 95 ارب ہندوستانی روپے بنتے ہیں۔ لیکن کشمیر کے گروورز بوتل بند ہیں۔ ان کی باقی دنیا کے ساتھ رسائی ایک حسرت، تمنا ہی نہیں بلکہ ایک ڈراؤنا خواب ہے!