Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • اسلام آباد؛ ترک فوڈ فیسٹیول کا انعقاد؛ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    اسلام آباد؛ ترک فوڈ فیسٹیول کا انعقاد؛ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    دارالحکومت اسلام آباد میں 4 روزہ ترک فوڈ فیسٹیول، سفرا کی شرکت جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز جمع

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 4 روزہ ترک فوڈ فیسٹیول کا آغاز ہوگیا۔ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر مہمت پاچاجی نے فوڈ فیسٹیول کا افتتاح کیا ہے. فیسٹیول میں استنبول کیمپینسکی محل کے مشہور شیف سردار اونگل ، داوت کتلوگن، یالجن کوکمن اور شیف دی پارٹیے کے مشہور پکوان پیش کیے جائیں گے۔

    فیسٹیول کے دوران کلاسیکل موسیقی بھی تقریب کو چار چاند لگائے گی۔ جبکہ ترک سفیر مہمت پاچاجی کا کہنا تھا کہ اس فیسٹیول میں لوگ ترک کھانوں کے اصل ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے ، یہ کھانے استنبول کے مشہور شیفز کی ریسیپیز کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے فوڈ فیسٹیول دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    ترک سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 75 سالہ دوستی کا مضبوط رشتہ ہے۔ لذیذ پکوان، مثلاً لیمب تندوری، گرِلڈ تاس کباب وغیرہ پاکستانیوں کو ترکیہ کے منفرد ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کنٹینر پر فائرنگ، عمران خان کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں: ترجمان پاک فوج
    اللہ کی رحمت اورقوم کی دعاوں سےخیریت سے ہوں:جھکوں گانہیں ڈٹ کرمقابلہ ہوگا:عمران خان
    کنٹینر پر فائرنگ، نواز شریف اور مریم کی عمران خان پرحملے کی مذمت

    سرینا ہوٹل کے مینجر کا کہنا تھا کہ ہمیں ترکیہ کے سفارت خانے کے ساتھ مل کر یوم جمہوریہ کی 99 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب کا اہتمام کر کے اور اس میں پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے فنڈ ریزینگ گالا کا انعقاد کرکے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ افتتاحی گالا ڈنر میں سفارتی برادری، کارپوریٹ سیکٹر اور کاروباری شخصیات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ گالا ڈنر میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 46 لاکھ روپے کے فنڈز اکھٹے کیے گئے۔

  • تاج محل — ریاض علی خٹک

    تاج محل — ریاض علی خٹک

    آگرہ میں تاج محل کے سامنے کسی انجنئیر کو کھڑا کر دیں. وہ آپ کو اس عمارت کی فن تعمیر میں وہ زاوئے نکال کر دکھائے گا جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے. وہ بتائے گا دیکھو یہ اسلامی فن تعمیر کا ٹچ ہے یہ ہند کا تو یہ ثمرقند و بخارا کا زاویہ ہے.

    کسی شاعر کو کھڑا کر دیں وہ محبت کی لازوال داستان سنائے گا. کسی تاجر کو کھڑا کر دیں وہ اس کی آج کی قیمت طے کرنے لگے گا. تاریخ دان اس کی تاریخ سنائے گا کسی سیاست کے مارے مذہب پرست کو کھڑا کر دیں وہ بتائے گا یہ ایک مندر کے اوپر کھڑی عمارت ہے اسے گرا دو.

    ہمارے پختون دیہاتی معاشرے میں کسی آرکیٹیکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی. ایک قطار میں لڑکے گن کر کمرے بنا دیتے ہیں سامنے ایک برآمدہ ہوگا برآمدے میں ہوا یا خوبصورتی کیلئے بارانی جالی لگی ہوگی اور آرکیٹیکچر کے نام پر صرف برآمدے کے ستون رے جاتے ہیں. سیدھے رکھیں یا ترچھا کر کے کونا آگے کر دیں؟ زیادہ انجینئرنگ ہو تو بس ایک کی جگہ دو ستون کردو. جسے بھی سامنے کھڑا کردو وہ کہے گا بس رہنے کیلئے ہی عمارت بنی ہے.

    ہماری فیس بُک کی تحریریں گاوں کی یہی سیدھی قطار کی سیدھی آبادی ہوتی ہے. کچھ لوگ پتہ نہیں کیسے خود کو انجینئر یا تحریر کو تاج محل سمجھ کر اس میں سے وہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں جو ہم نے بھی سوچے نہیں ہوتے لیکن کمال تو سیاست کے مارے ذہن دکھاتے ہیں وہ اس کی بنیاد پر ہی سوال کھڑا کر دیتے ہیں.

  • ڈھوک سکون — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈھوک سکون — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ندی میں سرخی مائل پانی بہہ رہا تھا جس کی گہرائی نامعلوم تھی۔ندی کے پیندے میں پانی کے متعدد راستے تھے جن کے ساتھ ساتھ کوندر اور سر کے پودے تھے۔ ہمارے پانچ عدد ڈالے چیونٹیوں کی طرح قطار بنائے کچے راستے پر ندی کو پار کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن سرخ رنگ پانی کی دہشت سے ڈرتے تھے۔

    قافلے کی سب سے پہلی گاڑی ہماری تھی۔ میرے ڈرائیور قمر شاہ نے بسم اللہ پڑھ کر اللہ توکل پر گاڑی پانی میں ڈال دی اور احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے کھاڑی کے دوسرے کنارے پر لے آیا۔ اس کے بحفاظت دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی پچھلی چاروں چیونٹیوں نے اس کے بنائے گئے راستے پر ندی پار کی اور پھر ہم ندی کی دوسری کھاڑی کو پار کرنے لگے جس کے بعد ندی میں ریت سے بنا ایک بہت بڑا بیلہ آگیا جس کے بالکل درمیان ندی کے اندر زندہ پیر موجود تھا۔

    بیلے کے وسط میں دس سے پندرہ فٹ کی قدرتی اونچائی تھی جس کے اوپر ایک مزار تھا۔ یہاں پر کوئی قبر نہ تھی بس مزار تھا۔ ایک مسجد بنی ہوئی تھی اور ساتھ ہی ایک برآمدہ۔ اس درگاہ کے اطراف میں تین چار فٹ اونچا اینٹوں کا چبوترہ بنا ہوا تھا اور درگاہ کو اونچے گھنے پرانے درختوں نے اپنے نیچے چھپایا ہوا تھا جس سے ماحول اور پراسرار نظر آتا تھا۔ ان درختوں پر کثیر تعداد میں رنگ برنگے کپڑے لٹکے ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں دلھا کے پہننے والے کلاہ بھی لٹکتے نظر آئے۔

    ہماری چیونٹیاں اس درگاہ کے اطراف بیلے پر پارک ہو چکی تھیں۔ اندر برآمدے میں چار بندے بیٹھے کسی ذکر میں مشغول تھے ان میں سے ایک چبوترے سے اتر کر ہمارے پاس آیا اور خاموشی سے ہمیں دیکھنے لگا۔ ہم نے یوں اچانک وارد ہو کر شائد ان کے مراقبے کو خراب کر دیا تھا۔

    درگاہ کے باہر لگے نلکے سے ہماری ٹیم کے لوگ پانی پینے لگے۔ندی کے پانی کی پیمائش کرنے اور پانی کی کوالٹی کی جانچ کرنے والی ٹیم کو یہ جگہ پسند آئی تھی۔ لہذا انہوں نے اپنا اسٹیشن یہاں لگانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بوٹ اتار کر ندی کے پانی میں اترنے کی تیاری کرنے لگے۔

    ٹیم کے باقی لوگوں کو میں نے ایک گاڑی ادھر چھوڑ کر دوسری گاڑیوں میں اگلی کھاڑی پار کرکے دوسرے کنارے پر موجود گاوں کی طرف جانے کا کہا۔ گاوں ایک پہاڑ کے دامن میں آباد تھا اور میرا پروگرام اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر سروے اسٹیشن لگوانے کا تھا۔

    مزار کے چبوترے سے اترنے والا شخص ہماری بھاگ دوڑ دیکھ کر مسکرایا تھا اور میری نظر اس کی مسکراہٹ پر رک گئی تھی۔ میں نے اپنی پانی پیمائش ٹیم کے ایک بندے کو بلایا اور اس کے کان میں آہستگی سے سرگوشی کی کہ اس شخص سے گپ شپ لگا کر مزار کے متعلق معلومات ضرور لینا۔

    ہم گاوں کے پاس پہنچ گئے تھے جہاں پر میں نے اپنی سوشل اور ماحولیاتی ٹیم کے ممبران کو کہا کہ آپ لوگ گاوں میں پھیل جائیں اور یہاں کے سماج اور لوگوں کی خواہشات کو ٹٹو لیں۔ مسائل کی جانچ کریں اور پانی کی ضروریات کا اندازہ لگائیں۔

    میں پتھروں کی جانچ کرنے والی ٹیم، سروے ٹیم اور ڈیم کے ماہر انجنئیرز کو لے کر سڑک کے اس بلند ترین مقام کی طرف لپکا جہاں گاڑیاں چھوڑ کر ہمیں کو پیمائی شروع کرنی تھی ۔ گاڑی سے اتر کر جب چوٹی کی طرف اوپر دیکھا تو یہ خاردار گھنی جھاڑیوں سے پر تھی جن کے لامتناہی کانٹے ہمارے جسموں پر کٹ لگا کر ہمارے خون سے لاہوری چٹخاروں کا مزہ لینے کو بے تاب تھے۔ ہم پچھلی آتھ دنوں سے پوٹھوہار میں گھوم رہے تھے لیکن یہ چوٹی ہمیں سب سے بلند اور دشوار لگ رہی تھی۔

    ہم اللہ کا نام لے کر آہستہ آہستہ اوپر چڑھنے لگے۔یہ چڑھائی توقع سے زیادہ دشوار ثابت ہورہی تھی کیونکہ جھاڑیوں نے اس کے عمودی پن کو چھپا رکھا تھا۔ احسن رشید سب سے آگے جیالوجیکل ہتھوڑے سے جھاڑیوں میں راستہ بناتا جارہا تھا لیکن یہ اتنی زیادہ تھیں کہ ان میں سے بمشکل گزرا جاسکتا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ اپنے سروئیر اظہر کا خیال آرہا تھا جو کہ کئی کلو وزنی ایکو پمنٹ کندھے پر اٹھائے اوپر چڑھ رہا تھا ۔ اس کے ساتھ اس کا اسسٹنٹ سروئیر ظہیر تھا جس نے راڈ اور باقی سامان پکڑا ہوا تھا۔ سخت گرمی اور حبس تھا اور دوپہر کا وقت۔ سب کی پانی کو بوتلیں خالی ہورہی تھیں اور واحد سہارہ سروئیر کے پاس موجود کولر نظر آرہا تھا جو کہ آہستہ آہستہ ہمارے ساتھ چڑھائی چڑھ رہا تھا۔

    نیچے زندہ پیر پر دھونی جما دی گئی تھی۔ندی کے عین وسط میں موجود اس مقبرے کو ندی میں آنے والا کوئی بڑے سے بڑا سیلاب بھی نقصان نہیں پہنچا سکا۔ پچھلے پچاس سال سے کئی ٹیمیں اس علاقے کا دورہ کرچکی تھیں لیکن وہ اس مقبرے کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تھیں ۔“اس ٹیم نے بھی خوار ہو کر واپس جانا ہے۔ ہمیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں” مسکرانے والے بندے نے نیچے ہماری پانی پیمائش ٹیم کے ممبر کو بتایا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے کہا تھا “بابا اپنے آپ کو خود بچا لے گا”۔

    گاوں میں جانے والی سماجیات کی ٹیم ممبران کو میں نے لوگوں سے ڈھکے چھپے الفاظ میں بات چیت کرنے کا کہا تھا۔ کیوں کہ ہم ابھی ابتدائی جانچ کرنے آئے تھے۔ پتہ نہیں اس مقام کی موزونیت کے بارے کیا فیصلہ ہونا تھا لیکن کسی نے گاوں میں افواہ اڑا دی تھی کہ یہ گاوں ڈیم میں ڈوب جائے گا۔ میں نے اپنے لوگوں کو احتیاط برتنے کا کہا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ پریشانی سروے ٹیم کے حوالے سے تھی کیوں کہ انہوں نے گاوں اور ندی میں جاکر پیمائشیں لینا تھیں جہاں کوئی بھی ان کے ساتھ الجھ سکتا تھا۔

    تاہم یہ گاوں ابھی تک خاموش تھا۔ لوگ ہمیں ندی میں پھرتا اور پہاڑوں پر چڑھتا دیکھ کر چپ تھے۔وہ ہم سے لاتعلق تھے اور یہی بات مجھے اور زیادہ پریشان کئے جارہی تھی ۔۔۔۔

    خدا خدا کرکے چڑھائی کا سفر طے ہوا جس کے دوران ہم پسینے سے بدحال ہوگئے۔ میرے سینے میں آکسیجن کی کمی سے درد ہو رہا تھا اور طرح طرح کے خیالات آنا شروع ہو چکے تھے۔ آخر وہ بندہ ہمیں پہاڑ کی طرف جاتا دیکھ کر ہنس کیوں رہا تھا؟۔۔۔۔

    چوٹی تک پہنچ کر ہم سب ہانپنے لگے تھے اور ایک پتھر پر بیٹھ کر کافی دیر تک سانس بحال کرتے رہے۔ چوٹی سے ایک بہت پیارا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ سرسبز چوٹیاں، ان کے درمیان سرخ رنگ بہتا پانی، پہاڑی ڈھلان پر تیزی سے اوپر آتا گاوں اور اس کے پیچھے تا حد نگاہ وسیع وعریض دریائی میدان۔

    سروے اسٹیشن لگ چکا تھا اور ہم نے پتھروں کی جانچ شروع کردی تھی۔ ڈیم انجنئیرز اور اس کے ساتھی اسٹرکچر کی مناسب جگہ دیکھنے پہاڑی پر آگے نکل گئے تھے جب کہ میں نیچے گاوں میں پارک اپنی چیونٹیوں کو دیکھ رہا تھا۔

    سروئیر نے ایک گاڑی پر اپنا بندہ بٹھا کر وسیع وعریض دریائی میدان میں ادھر ادھر بھگانا شروع کیا ہوا تھا۔ میں نے اسے ندی کے عین وسط میں موجود مزار کی بلندی پڑھنے کا بطور خاص کہا تھا جس سے فارغ ہونے کے بعد اب وہ پانی میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    ہماری ٹیم کو وہاں کام کرتے بہت وقت گزر چکا تھا لیکن ابھی تک کسی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی تھی اور یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔ تاہم چوٹی سے نظارہ کرنے کے بعد اندازہ ہوگیا تھا کہ آبادی کے پھیلاؤ اور مزہبی مقامات کی موجودگی کی وجہ سے ہمیں شائد ڈیم سائٹ شفٹ کرنا پڑے۔

    میں نے وقت کا حساب کتاب لگایا تا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کوئی متبادل جگہ دیکھ لی جائے اور سروئیر کو وہاں چھوڑ کر باقی ٹیم کے ساتھ نیچے اترنا شروع کیا۔ پونے گھنٹے کی اتر ائی کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر گاڑیوں میں بیٹھ کر مزار کے پاس سے دریائی بیلے میں اتر چکے تھے۔

    مزار پر دھونی جم چکی تھی۔اس بندے کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ جاری تھی۔ وہ ہمارے سروئیر کی پانی میں مست گھوڑی کی طرح بھاگتی گاڑی کو دیکھ رہا تھا جو چند سیکنڈ کے لئے کہیں رکتی اور دوبارہ بھاگ پڑتی۔اس دوران سروئیر ریڈنگ لے لیتا۔

    ہم نے دریا میں پہاڑی کے ساتھ ساتھ دائیں جانب جانے کا قصد کیا اور روانگی پکڑی ہی تھی کہ سروئیر کی سفید گھوڑی دلدلی پانی میں پھنس چکی تھی۔ وہ دلدل سے نکلنے کے لئے جتنا زور لگاتی اتنا ہی نیچے بیٹھتی اور بالآخر اس کے پہئے سارے کے سارے زمین میں دھنس گئے۔ اسے ریسکیو کرنے کے لئے ایک اور گاڑی کو بھیج کر ہم آگے روانہ ہوگئے تاکہ مغرب سے پہلے دوسری سائٹ دیکھ لیں۔

    ہماری راہنمائی ایک مقامی ٹیچر کر رہے تھے جوکہ انتہائی کم گو آدمی تھی۔وہ ہمیں دریا کے ساتھ ساتھ ایک ایسے دوراہے پر لے گئے کہ جہاں سے آگے صرف پیدل کا پہاڑی راستہ تھا اور ادھر سے سورج غروب ہوچکا تھا۔ موبائل سگنل ندارد تھے اور بالآخر میں نے پیدل ٹیم کو واپسی کا حکم دے دیا۔ ہمارے دن کا اختتام ایک تنگ پتھریلے درے پر ناکامی سے ہورہا تھا۔ یہ ایک سخت دن تھا۔

    ندی کے اندر واپسی کا سفر اندھیرے میں شروع ہوا اور چند کلومیٹر واپس آنے بعد جیسے ہی موبائل سگنل آنا شروع ہوئے تو پتہ چلا کہ سفید گھوڑی کو بچاتے ہوئے ہماری کالی چیونٹی بھی دلدل میں پھنس چکی ہے۔ میں نے گاڑیاں تیز واپس بھگانے کا کہا جو کہ اندھیرے اور پتھریلے دریائی میدان پر ایک مشکل کام تھا۔ چشم تصور میں مجھے پورا گاوں ہماری گاڑیوں کا تماشا دیکھتے ہوئے نظر آنے لگا۔

    کالی چیونٹی باہر آچکی تھی لیکن سفید گھوڑی ابھی بھی دلدل میں گھڑی تھی۔ رات کے آتھ بج چکے تھے۔ مزار پر ایک دیا روشن تھا۔ ایک سایہ وہاں نظر آرہا تھا۔ ہم نے گاڑیاں پارک کرکے لائنیں جلائے رکھیں۔ بیلچے سے کافی کھدائی کرنے کے باوجود بھی گاڑی پھنسی ہوئی تھی۔ اس کی روشنیوں میں اردگرد کی دلدلی جھاڑیوں کے سائے بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔ ندی کے پانی کے اندر سے مینڈک بولنا شروع ہوگئے تھے۔ندی کا سرخ پانی بے رنگ ہوچکا تھا اور گاوں سے منگوایا گیا ٹریکٹر بھی گاڑی کو باہر گھینچ کر نہ نکال سکا تھا۔

    اس اندھیرے میں اب گاوں کے لوگ بھی آہستہ آہستہ ندی میں اتر کر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔کچھ نوجوان موٹر سائیکل پر پڑوس کے گاوں بھیج دئے گئے تاکہ ہل چلانے والا بھاری ٹریکٹر منگوایا جا سکے جو گاڑی کے اگلے ٹائر اٹھا کر دلدل سے باہر کھینچ سکے۔ عجیب لوگ تھے یہ گاوں والے بھی جو ہمیں خوار ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ بلکہ وہ جلد از جلد ہماری وہاں سے روانگی چاہتے تھے۔ وہ اپنا سکون واپس چاہتے تھے۔ان کے لبوں پر کوئی شکوہ، کوئی طعنہ نہیں تھا۔

    آدھے گھنٹے کی مزیذ تگ و دو کے بعد سفید گھوڑی کو بڑا ٹریکٹر ایک ہیرو کی طرح نکال لایا تھا۔ ٹریکٹر والا ہم سے اس مدد کرنے کا کوئی معاوضہ لینے کو تیار نہیں تھا۔ وہ ڈیزل کے پیسے بھی نہیں لے رہا تھا۔ چیونٹیاں رات کے اندھیرے میں واپسی کو تیار تھیں۔ مزار کے درختوں سے دھواں نکلنا کم ہو گیا تھا۔ چبوترے پر ہلنے والا سایہ نیچے اتر کر روشنی میں آگیا تھا ۔ وہ ہمیں جاتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو “یہ ٹیم بھی خوار ہو کر جارہی ہے”۔

    میں وہاں اگلے چند دنوں میں واپس آنے کا سوچ رہا تھا۔ گاڑی میں خاموشی تھی۔گاڑی انتہائی ناہموار سڑک پر واپس جارہی تھی۔پہاڑی ڈھلوان پر اوپر نیچے بنے گاوں کے گھروں میں سکون تھا ۔۔۔ڈھوک سکون سونے کی تیاری کرہا تھا۔مزار سے دھواں اٹھنا بند ہوچکا تھا۔۔۔

  • کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    تیار ہو جائیں! آپ جو کچھ پڑھنے والے ہیں وہ آپ کو اس مقام تک پہنچا دے گا کہ آپ خود کو آزاد کشمیر، پاکستان کا سفر کرنے کے لیے جوش خروش اور ولولے سے اپنی ہی نشست پر ایک بے چین پرندے کی طرح پر پھڑ پھڑاتا ہوا پائیں گے۔

    پاکستان ایسی جگہوں کا گھر ہے جو آپ کو دلکش قدرتی حسن کی شان میں حیران ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک جگہ آزاد کشمیر ہے، سحر انگیز علاقوں کی دلدل کہ اس کے وجود پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگ وفور شوق اور تاب حسن نہ لاکر اس خطے کو جنت نظیر پکار اٹھتےہیں۔

    پاکستان میں تمام دلکش سیاحتی مقامات میں سے، آزاد کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جو سیاحتی بالادستی کے دیگر تمام دعووں کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی اور سیاحتی مقام کی نظیر اس خطے سے میل نہیں کھاتی کیونکہ کشمیر تو کشمیر ہے اور اس جیسا خطہ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہم آج تک شور مچانے والے اپنے پڑوسی بھارت سے اس جنت پر غاصبانہ قبضہ کرنے پر جھگڑ رہے ہیں اور بیشک ہمارا دعوی حق ہے۔

    آزاد کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ خطہ جنت نظیر ہے۔ یہ سب پذیرائی کشمیر کی سر سبز وادیوں کی وجہ سے ہے جو آپ کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ایک بار جب آپ انہیں دیکھ لیں تو کبھی بھی اپنی آنکھیں نہ ہلائیں۔ یہ آبی گزرگاہوں، وافر جھیلوں اور وائلڈ لائف ایڈونچر کا تجربہ کرنے کی اعلی جگہ ہے۔

    پاکستانی قوم کا یہ زمین کا ٹکڑا دنیا بھر میں اتنا ہی مشہور ہے جتنا کہ کوئی بلند و بالا پہاڑ ہو سکتا ہے۔ شاہانہ سر سبز وادیاں، طاقتور آبی گزرگاہیں، لذت بخش جھیلیں، اور حیران کن و بے مثال کشمیری زندگی۔

    میں تو کہتا ہوں کہ اپنی اگلی چھٹیوں کا منصوبہ کہاں بنانا ہے اس کے بارے میں سوچ رہے ہو؟ تو بھئی یورپ انتظار کر سکتا ہے لیکن آپ کو پاکستان کا کشمیر دیکھنا چاہیے سو پہلی فرصت میں بیگ پیک کریں اور منچلے بن کر کشمیر کی جنت کا رخت سفر باندھ لیں۔

    کیوں بھئی؟

    کشمیر ہی کیوں؟

    یہاں ہے آپ کی اس کیوں کا جواب۔۔۔

    ذیل میں آزاد کشمیر کے سرفہرست پرکشش مقامات ہیں جو آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آپ خود کو زندہ تصور مت کریں۔۔۔

    1. وادی نیلم

    سیاحوں کی توجہ کی خاطر سیاحتی مقام کو دلکش الغرض مکمل پیکج ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک یقینی اور ضروری بات ہے۔ آپ کو نیلم ویلی میں نیلے میٹھے پانی کی ندیاں اور عر سو ہریالی ملے گی، جیسا کہ کسی بھی غیر ارضی جگہ مطلب جنت کی طرح شاندار۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا عظیم تحفہ ہے، خوش قسمتی سے، آزاد کشمیر، پاکستان میں واقع ہے۔ کوئی بھی آپ کو پاکستان میں سرفہرست پرکشش مقامات کا مشورہ دے گا تو وہ وادی نیلم کو نہیں بھولے گا۔ اس کے بہت سے مضافاتی اور چھوٹے قصبے اور دیہات، جھیلیں، ٹریکنگ ٹریلز، پہاڑی گزرگاہیں اور دیگر طرح کی عظیم پہاڑوں کے نظارے اورجھلکیاں ہیں جو اسے سیاحوں کے لیے قابل ذکر مقامات میں نمبرون بناتے ہیں۔

    2. راولاکوٹ

    آزاد کشمیر کا ایک مشہور قصبہ جو پونچھ کا ضلعی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اونچی پہاڑیوں کے درمیان ایک دلکش وادی، جو اسلام آباد اور راولپنڈی سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چونکہ یہ صرف 80 کلومیٹر ہے، اس کا یقیناً مطلب ہے کہ آپ آسانی سے اس علاقے تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر آپ قومی دارالحکومت یا راولپنڈی میں ہیں تو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شمالی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہ سردیوں میں برفباری کی بدولت بند ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیشہ گرمیوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم راولاکوٹ کی دلفریب خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس علاقے میں گھومتے پھرتے ہوئے، آپ کو یہاں واقع تتہ پانی، سدھنگلی اور تولی پیر کے مشہور سیاحتی مقامات پر ضرور جانا چاہیے۔

    3. بنجوسا جھیل

    اگر آپ راولاکوٹ کے ارد گرد گھومتے ہیں تو آپ کو یہاں بنجوسا جھیل کا راستہ ضرور مل جائے گا۔ یہ مثالی طور پر وہ علاقہ ہے جس میں کافی مقدار میں ہریالی ہے۔ سبز وہ رنگ ہے جو آپ کو یہاں زیادہ تر ملے گا، اس کے بعد سرخ رنگ کا تھوڑا سا کنٹورنگ ہوگا۔ قدرتی صاف جھیل کے اوپر لمبے لمبے درخت ہیں جو ایک بڑے علاقے کو ڈھانپے رہتے ہیں۔

    آپ کو عام طور پر بنحوسا جھیل دیکھنے کی غوض سے گرمیوں میں ادھر کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ گرمی کےموسم میں وادی تو وادی موسم بھی مہمان نواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ دن میں باہر کا درجہ حرارت حد سے حد 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے البتہ سردیوں میں آپ کو ادھر جانے کا مشورہ ودینا ظلم ہوگا کیونکہ سردیوں میں ادھر برفباری کی بدولت چہار سو سفید چادر تنی نظر آتی ہے اور زندگی ٹھہر جاتی ہے۔ آپ یہاں آکر ان تصاویر کو اپنے کیمرے میں رکھنے کا تصور کریں جن میں قدرت ایک الہڑ مٹیار کی طرح یہاں وہاں رنگ بکھیرتی ہوئی نظر آئے – خوبصورتی کا تصور اور تعریف آپ ادھر آکر ہی سمجھیں گے! کیونکہ جب خزاں کا موسم دہانے پر ہوتا ہے، بنجوسا سنہری اور سرخی مائل بھورے رنگوں میں سیر ہوتا ہے۔

    4. وادی جہلم

    آزاد کشمیر کی یہ خاص وادی مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی ایک میزبان ہے، جو گرمیوں میں چاروں طرف سے پر ہجوم ہوتی ہے۔ یہاں جو چیز سیاحوں کو عجوبہ لگتی ہے وہ بل کھاتا ہوا دریا ہے جو مشرق سے مغرب پہاڑوں کے درمیان بہتا ہے۔ جہلم میں "وادی لیپا” کہلانے والا ایک اور خوبصورت علاقہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جسے لوگ دیکھنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔

    گرمیوں میں، پکے ہوئے چاول کے کھیت زوروں پر ابھرتے ہیں اور رہائشیوں کے لکڑی کے عصری گھر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ آپ نے اس وادی کی چیری جیسی چیری کا ذائقہ پہلے کبھی نہیں چکھا ہو گا، یہاں کے لوگوں کی متناسب جسامت آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی اور اخروٹ، اوہ اخروٹ توڑنے کا جو مزہ آپ کو ادھر مل سکتا ہے، آزاد کشمیر میں وادی جہلم کے علاوہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔

    5. رام کوٹ قلعہ

    یہ حیران کن سرزمین کشمیر کی چڑھائی چڑھتے ہوئے آتی ہے، دریائے جہلم سے ملحقہ، آزاد کشمیر کا یہ سیاحتی مقام آپ کے کیمرے کا منتظر ہے۔ رام کوٹ قلعہ اب کوئی عسکری قلعہ نہیں رہا جہاں راجے بادشے خود کو محفوظ سمجھتے تھے لیکن اب یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام ضرور ہے۔ اس قلعے کا پس منظر 5ویں اور 9ویں صدی کا ہے جس نے تاریخ میں اپنے آثار چھوڑے ہیں، 17ویں صدی کے دوران مسلم جنگجوؤں نے اس قلعہ کے آثار دریافت کیے اور انہیں ہٹا دیا تھا۔ یہ علاقہ سیاحت کے دلدادہ لوگوں کے لیے جوش و خروش سے بھرپور مقام سیاحت ہے۔

    6. تولی پیر

    ذرا اسے سوچیں کہ ایک سر سبز و شاداب چراگاہ نما وادی میں آپ کھڑے ہوں تو آپ وہاں سے اور کہاں جانے کا سوچیں گے, یقیناً جنت۔ یہ ایک مشہور چوٹی ہے جس کے بارے میں آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں بس آزاد کشمیر میں داخل تو آپ تولی پیر کی جانب جانے کے لیے اپنا راستہ پا لیں گے, اگر آپ راولکوٹ جاتے ہیں، یا اگر آپ کو اس کا علم نہیں ہے، تو آپ راولکوٹ میں قیام کے دوران اس کے بارے میں جان لیں گے۔ سطح سمندر سے 8800′ بلندی پر واقع یہ چوٹی آپ کو ایسا محسوس کراتی ہے کہ آپ ہر چیز کے اوپر ہیں۔

    موسم بہار کے آخری مہینوں میں تولی پیر کی طرف جائیں کیونکہ یہی موسم سازگار ہے. باقی مہینوں میں اس کی اونچائی کی وجہ سے یہ صرف ٹھنڈا اور برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے کشید کرنا ہو تو اپریل سے اکتوبر میں ہی اس طرفکا قصد کریں۔

    7. پیر چناسی

    آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقع یہ علاقہ پاکستان میں سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔ پیر چناسی قدرت کے نظارے دریافت کرنے کے لیے ایک حیران کن سیاحتی جگہ ہے۔ اس مقام پر آپ کو صبر اور احتیاط کا دامن تھام کے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ مقام خوبصورت تو ہے ہی لیکن خطرناک بھی ہے۔

    اس مقام کی تاریخ آپ کو عظیم تر کشمیر کے بزرگ حضرت شاہ حسین سے متعارف کرائے گی، جن کا مزار بنیادی طور پر اسی علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے کے ہر کونے میں سٹیٹ آف دی آرٹ اور خوبصورت فطرت ہے۔ پیرچناسی کی شاندار ہریالی پاکستان بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس علاقے کے چاروں طرف دیودار اور بلوط کے درخت ہیں جو گرمیوں میں بہار بکھیرتے ہیں، جبکہ سردیوں میں برف میں لپٹے رہتے ہیں۔

    8. وادی لیپا

    اسے لفاظی مت سمجھیے گا، لیکن ہاں، یہ جنت کی سیڑھی ہے!

    وہاں قدم رکھتےہی کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ پاکستان ہے؟ یقیناً، یہ وہ مقام ہے جو آپ کو حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے دو بار آنکھیں رگڑنے پر مجبور کرے گا۔ وادی لیپا یقینی طور پر پاکستان میں سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک کے طور پر آزاد کشمیر کی قدر کو بلند کرتی ہے۔ آزاد کشمیر میں آپ کو انتہائی خوش آئند ماحول میں سیاحوں کے لیے مئی سے نومبر کا دورانیہ بہتر ہے۔ اس علاقے میں اونچے پہاڑ اور دیودار کے اونچے درخت ہیں، یہ علاقہ مظفرآباد سے باآسانی قابل رسائی ہے۔ مقامی جیپوں میں سفر کرنے کی بہت سی سہولیات بھی ہیں۔

    9. لال قلعہ

    یہ پاکستان کے ان قلعوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں آپ کو ضرور جانا چاہیے۔ یہ قلعہ ماہرین آثار قدیمہ اور سفر کے جنونی افراد کے لیے ایک سرفہرست علاقہ ہے جو اس خطے کی تاریخ میں جھانکنا پسند کرتے ہیں۔

    آپ اسے اب کھنڈر سمجھ سکتے ہیں، لیکن یہ بہت ساری آفات کا مقابلہ کر چکا ہے اور اسے بہتری کی ضرورت ہے۔ پھر بھی، یہ علاقہ آرٹ کا ایک شاندار مقام ہے۔ اسے مظفرآباد قلعہ بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ابہام میں نہ رہیں۔ یہ مقام آزاد کشمیر کا ایک مشہور ورثہ ہے جس نے بہت سے غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنے حصار دیکھا ہے۔

    10. شونٹر جھیل

    ہر وہ جگہ جو فطرت کی بہترین عکاسی کرے اور جہاں مئی سے اگست تک رسائی ممکن ہو اس میں شونٹر جھیل کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی۔ یہاں کا موسم اور مقامی لوگ سیاحوں سے پورا تعاون کرتے ہیں۔ آپ اگر کیل, نیلم ویلی میں آئیں تو وہاں سے آگےاس جھیل تک حیپ کا سفر کرسکتے ہیں۔

    اور اگر آپ کیمپنگ کا شوق رکھتے ہیں، تو ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کریں کیونکہ بہت سے سیاح بھی اسے ایک بہترین کیمپنگ اسپاٹ سمجھتے ہیں۔ ہوٹلنگ سے زیادہ کیمپنگ کے لیے سازگار ہونے کی وجہ سے، آپ کو یہاں رہائش کی دیگر سہولیات بھی باآسانی ملتی ہیں۔ شونٹر جھیل چھوٹی ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ کیل سے جیپ پر سوار ہوں تو یہ ضرور دیکھنے کے قابل ہے۔ مجموعی طور پر، اس علاقے کا شاندار جغرافیہ اسے آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

    یہاں تک پڑھ کر یقیناً اب جب کہ آپ آزاد کشمیر کی دیوانی خوبصورتی سے مغلوب ہو چکے ہونگے، تو اپنی اگلی چھٹی کا منصوبہ بناتے وقت ان دس جگہوں کی ترتیب بنالیں اور اب سے الٹی گنتی شمار کرنا شروع کردیں۔ ان تمام مقامات کا تصور کریں اور پھر اگر آپ ان سب کا حقیقی تجربہ کر لیں تو ساری عمر آپ اس خمار سے باہر نہیں نکل سکیں گے کہ آپ نے جیتے جی جنت نظیر خطہ دیکھ لیا۔

  • ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ہم گھبیر ندی کے کنارے بیٹھے تھے اور اس پر مجوزہ ڈیم کی جھیل کے علاقے کو دیکھنا چاہتے تھے۔ ارشد فیاض صاحب چیف جیولوجسٹ نے سگریٹ کا کش لیا اور ایک گہرا سانس اندر لے کر بولے ۔۔۔۔دھیان سے جانا ۔ کئی سال پہلے ہم ایک ڈیم سائٹ کے دورے پر مجوزہ جھیل کے علاقے میں سروے کے لئے پہنچے تو گاوں والوں نے ہم پر کتے چھوڑ دئے تھے ۔ایک دوست بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور دوسرے نے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ تیسرا جو گاڑی کے پاس تھا اس نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور بھگالے گیا۔وہ لوگ اپنی زمینوں کے مجوزہ جھیل میں ڈوبنے کا سن کر شدید برہم تھے۔۔

    پھر انہوں نےمونچھوں کو تاؤ دینے کے بعد بتایا کہ کچھ دن بعد اسی ڈیم پر جیسے ہی ہم سروے کے لئے ڈیم سے نیچے والے علاقے میں پہنچے جہاں مجوزہ ڈیم کا نہری نظام بننا تھا تو لوگوں نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ چائے پانی کیا اور ہمیں کہا کہ آپ نے کھانا کھائے بغیر نہیں جانا اور وہ بھی دیسی مرغ کا سالن۔

    ہر ڈیم انجنئیر کی زندگی ایسے واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ڈیم پراجیکٹ میں ڈیم وہ ریڈ لائن ہوتا ہے جس کے اوپر جھیل کا علاقہ ہمیشہ قربانی دیتا ہے اور ڈیم سے نیچے نہریں نکلنے والا علاقہ نفع لیتا ہے۔اسے آپ لائن آف کنٹرول بی کہہ سکتے ہیں جسے عبور کرنے پر آپ کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

    کل سہ پہر ہم تین دوست کوتل کنڈ کے علاقے میں جب دو ڈھائی سوفٹ بلند تین چار چوٹیاں چڑھ کر ٹاپ پر پہنچے تو ہمیشہ کی طرح اپنے سامنے مجوزہ ڈیم، جھیل کا علاقہ اور اسپل وے کی لوکیشن کے لئے جائزہ لینے لگے۔ ٹاپ پر تین سو ساٹھ ڈگری کا نظارہ مل جاتا ہے۔

    ہم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے اور پھلائی کے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر ڈسکشن کرنے لگے۔ پتھروں کی ساخت پر باتیں ہونے لگیں۔ جھیل کی اسٹوریج کے اندازے لگانے لگے اور لوگوں کو پہنچنے والے ممکنہ فائدے پر باتیں ہونے لگیں جب کہ نیچے دریا میں ہماری گاڑیاں اور ٹیم کے دوسرے دوست نقطوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ کچھ دوست دریا کے چلتے پانی میں گھس کر اس کی پیمائش اور دوسرے ٹیسٹ کر رہے تھے جب کہ چند اور بائیں طرف کی پہاڑیوں پر نکل گئے تھے جہاں اونچائی پر ہمارے سروئیر نے انسٹرمنٹ لگایا ہوا تھا-

    ہمیں چوٹی پر چڑھے آدھا گھنٹا ہی ہوا تھا کہ ہاتھ میں کلہاڑی لئے سلیم وہاں نمودار ہوگیا تھا ۔ وہ ایک مقامی چرواہا تھا جو آس پاس کہیں پھر رہا رھا تھااور شاید اس نے ہماری باتیں سن لی تھیں ( پہاڑوں میں دور تک آواز جاتی ہے)۔ وہ اپنی چراگاہوں کے ڈوبنے پر خوش نہیں تھا اور اس کا سوال پوچھنے کا انداز ایسا تھا کہ اگر ہم نے ذرہ برابربھی اس کے علاقے میں چھیڑ خانی کی تو وہ اسی کلہاڑی سے ہمارے ٹکڑے کرکے چوٹی سے نیچے پھینک دے گا۔

    اس گرم گرم بات چیت میں میں نے اس کی نفسیات سے کھیلنے کے لئے اس سے پوچھا کہ اگر ہم مجوزہ ڈیم کو دریا پر اس کی جگہ سے ہزار دو ہزار فٹ اوپر بنائیں تو کیسا رہے گا۔ عین توقع کے مطابق اس نے جواب دیا کہ اگر ڈیم اوپر بن جائے تو پھر اس علاقے کو بہت فائدہ ہوگا ۔پاکستان سپر پاور بن جائے گا۔۔۔ یعنی کہ میری چراگاہوں میں قدم نہ رکھو دوسروں کو رگڑ دو۔

    میں کہا کہ ہاتھ ملاو اور اب ہمیں اس چوٹی سے نیچے اترنے کا آسان راستہ بتاو تاکہ ہم نیچے اتر کر ندی میں کہیں اوپر جاکر ڈیم کی جگہ دیکھیں اور تمھاری چراگاہوں سے نکل جائیں۔اس نے نہ صرف ہمیں آسان راستہ بتایا بلکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ دیسی مرغی کے سالن سے ہماری تواضح بھی کرے۔

  • لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی کے تھرڈ ائیر میں جب لیاقت ہال میں کمرہ ملا ہوا تو پتہ چلا کہ کوریڈور میں میرے سامنے والے کمرے میں لاوہ بھائی رہائش پذیر ہیں۔ وہ بہت مہمان نواز اور ہر دلعزیز شخصیت تھے اور اسلامی جمعیت طلبا کے سرگرم رکن۔ ان کے کمرے میں ساتھی طالب علموں کی ٹریفک سارا دن رات چلتی اور ساتھ ہی کینٹین سے چائے کی سپلائی جاری رہتی۔

    چند دنوں بعد جب تھوڑا تعارف ہوا تو ہم نے لاوہ بھائی سے ڈرتے ڈرتے ان کے سلگتے ہوئے نام کی وجہ تسمیہ پوچھی تو وہ زور دار قہقہہ لگا کر بولے کہ یہ میرے پنڈ کا نام ہے۔ یو ای ٹی میں ایڈمشن ہوا تو میں نے اپنے ہاسٹل کے کمرے کے دروازے پر عبدالرشید فرام لاوہ لکھ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن ، اصل نام کی بجائے ہم مسٹر لاوہ اور پھر لاوہ بھائی مشہور ہو گئے۔ اصل نام کسی کو یاد بھی نہیں(مجھے بھی یاد نہیں)۔لاوہ اس زمانے میں جدید دنیا سے کٹے ایک ایسے گاوں کا بام تھا جس میں کوئی ڈائریکٹ ٹرانسپورٹ نہیں جاتی تھی۔

    لاوہ بھائی کی یاد اتنے عرصے بعد اب اس طرح آئی کہ جب ہم لاوہ ڈیم کی سائٹ دیکھنے 13 ستمبر 2022 کو واقعی واقعی لاوہ جا پہنچے جو کہ ترقی کرتے اب ضلع چکوال کی ایک تحصیل بن چکا ہے۔ یہ قصبہ مغرب میں میانوالی کے بارڈ پر“ ترپی ندی” کے کنارے واقع ہے جس پر گوروں نے موجودہ پاکستان کے علاقے کا شائد سب سے پرانا نمل ڈیم 1913 میں بنایا تھا جو کہ اب مٹی سے بھر چکا ہے۔ اس ڈیم سے میانوالی کے علاقے موسی خیل کی زمینیں سیراب ہوتی تھیں ۔تاہم لاوہ سے سے 20 کلومیٹر نیچے ہونے کی وجہ سے یہ قصبہ اس پانی سے فائدہ اٹھانے سے محروم تھا جو اس کے بغل سے ہوکر نمل جھیل کو جاکر بھرتا تھا۔

    لاوہ اب ایک لاکھ آبادی والا قصبہ بن چکا ہے جس کے لئے پینے کے پانی کا مسئلہ کافی دیر سے آرہا ہے کیونکہ زیرزمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے اور ترپی ندی بھی سارا سال نہیں چلتی جس سے قصبے کو پمپ کرکے پانی پہنچاتے ہیں۔ندی لاوہ قصبے سے کوئی کم ازکم پچاس فٹ نیچے بہتی ہے اور پی ایچ ای کا پمپ اسٹیشن اس کے کنارے ہے۔

    13 ستمبر کو ہم لمحکمہ آب پاشی کے آفیسر جاوید اقبال صاحب کے ہمراہ دندہ شاہ بلاول کے راستے اوہ پہنچے جہاں یہ میانوالی تلہ گنگ روڈ سے ہٹ کر جنوب میں 9کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔لاوہ بازار میں مسکراتے چہرے کے ساتھ جناب ظفر علی صاحب نے ہمارا استقبال کیا جو کہ مقامی تعلیمی ادارے کے پرنسپل رو چکے تھے اور کچھ فاصلے پر ہم جناب دوست محمد صاحب کو بھی لے کر آگے بڑھے۔ دوست محمد صاحب حال ہی میں محکمہ مال سے ریٹائر ہوئے ہیں اور لاوہ کی زمینداری سسٹم کو بہت سمجھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ گھمبیر ڈیم کی چک بندی کراچکے ہیں۔

    لاوہ کی واٹر سپلائی ٹینکی سے آگے ہم ترپی ندی میں اتر گئے اور گاڑیاں ندی کے کیچڑ بھرے پتھریلے راستے پر آگے بڑھنے لگیں۔ ایک جگہ راستہ نہ ہونے پر دائیں کنارے کے جنگل میں گھس گئے جس کی گھنی جھاڑیاں اور مٹی اڑاتا راستہ مستنصر حسین تارڑ کے ناول بہاؤ کے “رکھوں” کی یاد تازہ کرنے لگا۔

    چند کلومیٹر آگے چلنے کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں لاوہ ڈیم بنائے جانے کا امکان ہے۔ ٹیم سائٹ ہر نکل کر اپنے اپنے کام میں جت گئی ۔ پہاڑوں کی جیالوجی چیک ہونے لگی، کچھ انجنئیر دریائی پانی کی پیمائش میں لگ گئے، کسی نے تعمیراتی میٹئیرئل کی تلاش شروع کردی اور کچھ سوشیالوجسٹ ساتھ کی آبادیوں کے سروے پر نکل گئے۔

    میری آنکھیں اپنے گُرو کی تلاش میں چاروں طرف گھومنے لگیں جو مجھے ہر ایسی دوردراز سائٹ پر بہت کچھ سکھا جاتا ہے ۔ تھوڑیسی تلاش کے بعد وہ استاد مجھے بائیں طرف کی پہاڑی پر اپنی بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ نظر آگیا ۔ یہ چرواہے کسی بھی سائٹ پر ہمارے سب سے پہلے استاد ہوتے ہیں جوکہ علاقے میں لمبے عرصے سے اپنے جانوروں کے ساتھ گھومنے کی وجہ سے سے اس کے چپے چپے سے واقف ہوتے ہیں۔ یہ بیک وقت ہائیڈورولجسٹ، جیالوجسٹ، سوشیالوجسٹ اور تاریخ دان ہوتے ہیں۔

    میں بائیں طرف کی پہاڑی چڑھ کرر لال خان تک پہنچا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس 20 بکریاں ، 15 بھیڑیں اور 3 عدد گائیں ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ بچہ تھا تو اس وقت بھی اس سائٹ کا سروے ہوا تھا۔ یہاں بورنگ بھی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ ان مقامات کی نشاندہی کرسکتا ہے تو اس نے کہا کیوں نہیں۔ وہ سارا دن تو انہی ٹیموں کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا۔

    لال خان نے مجھے اس علاقے کے لوگوں اور ان کے رسم و رواج ، کیچمنٹ میں موجود درختوں اور جڑی بوٹیوں کے بارے میں بتایا۔ اس نے مجھے وہاں کی وائلڈ لائف بارے بتایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دریا میں کب کب کتنا کتنا پانی آیا۔ اس دوران اس کے ساتھ ہی پاس کے ڈیرے سے اس کا چچا دوست محمد بھی پہنچ چکا تھا ۔ اس عمر رسیدہ شخص سے ہم نے اس کی یاد میں یہاں آنے والے بڑے بڑے پانیوں کے متعلق پوچھا اور جب تک ہماری ٹیمیں کسم مکمل کرتیں ہم ظفر علی ، دوست محمد اور لال خان کے ہمراہ سائٹ کے کونے کھدرے چھانتے رہے۔ بحث چلتی رہی۔ظفر علی صاحب ایک بہت مستعد شخصیت کے مالک تھے جب کہ ان کے مقابلے میں دوست محمد صاحب ایک سنجیدہ شخص۔

    دوست محمد نے ہمیں بتایا کہ اس علاقے کی آبادی اعوان قبائل سے تعلق رکھتی ہے اور زیادہ تر لوگ ایک ہی دادے کی اولاد ہیں۔ لاوہ شہر وقت کے ساتھ ساتھ دریا کے کبھی ایک کنارے اور کبھی دوسرے کنارے بار بار آباد ہوتا رہا جس کی تاریخ میں کوئی خاص وجہ نہیں ملتی۔ نیزہ بازی یہاں کا مقبول کھیل ہے اور گھوڑے پالنا ایک شوق۔

    شام ڈھلے جب کام ختم ہوا تو ترپی ندی میں واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ہمیں بتائے بغیر ہمارے دوستوں نے لاوہ میں ملک اسلم کے ڈیرے پر چائے کے نام پر ہائی ٹی کا بندوبست کیا ہوا تھا۔اس مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم رات گئے واپس کلر کہار میں اپنے کیمپ آفس پہنچے جہاں سے زمینی سروے ٹیم کو اگلے دن لاوہ ڈیم کے سروے پر روانہ کرنا تھا۔

  • پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پرسوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والا میچ ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے جیت لیااس میچ میں افغانستان نے ایک ہارے ہوئے میچ کو جس جذبے کے ساتھ کھیلا اور اسے آخر تک لے کر گئے وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔

    جبکہ پاکستان نے ایک ون سائیڈڈ میچ کو جس طرح اپنے لئے مشکل بنایا کہ ایک وقت میں پاکستانی شائقین کرکٹ ذہنی طور پر ہارنے کے لئے تیار ہو گئے وہ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ کے لئے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے۔

    ویسے حیرانگی کی بات ہے ہمارے پاکستانی کھلاڑی جب غیر ملکی ٹیموں کی کوچنگ کرتے ہیں تو ان کی پرفارمنس میں واضح فرق نظر آتا ہے جیسے ماضی میں ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد اس کی مثال ہیں اور ابھی عمر گل افغانستان کے باؤلنگ کوچ ہیں، اور ان کی کوچنگ کے نتائج اس میچ میں واضح نظر آئے۔

    پرسوں کے میچ میں افغان کھلاڑی کی ساتھ آصف کےساتھ تلخ کلامی اور دھکا دینا بلاشبہ کوئی اچھا واقعہ نہیں ہے لیکن پریشر میچوں میں اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں اور میچ کے بعد کھلاڑی یا ٹیم کے سینئر ان واقعات کو رفع دفع بھی کرا دیتے ہیں۔

    لیکن حیرانگی کی بات افغان کرکٹ شائقین کی طرف سے ہارنے کے بعد اختیار کرنے والا رویہ تھا ویسے عرب تارکینِ وطن کی طرف سے امن و امان خراب کرنے کی کوششوں سے انتہائی سختی سے نبٹتے ہیں اور جن لوگوں نے کل اسٹیڈیم میں بدمعاشی کی وہ ان کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے ۔

    کرکٹ کے میدان میں پاکستان بمقابلہ بھارت اور انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا ایسے مقابلے ہیں جن میں اپنی ٹیم کی فتح شائقین کرکٹ کے لئے ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہےلیکن ان جذبات کی وجہ ماضی کے واقعات ہی۔

    اس کے علاوہ دیگر ٹیموں کے مابین مقابلے شائقین کرکٹ کے لئے کھیل سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے لیکن افغانستان کی کرکٹ ٹیم کا جو رویہ دوران میچ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہوتا ہے وہ دیگر ٹیموں کے ساتھ نہیں ہوتا جو کہ ایک معنی خیز بات ہے

    ہم افغانستان کو برادر اسلامی ملک کہتے ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی بےبہا قربانیاں ہیں افغان مہاجرین کا بوجھ پاکستان نے اٹھایا ہوا ہے اس کے علاوہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے۔

    ایسے عالم میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیل کے مقابلے کو کھیل سے زیادہ جنگ بنانا کیا یہ افغان ٹیم اور شائقین کے اندرونی جذبات ہیں یا اس کے پیچھے آئی سی سی کی پالیسی ہے ۔

    کہ دونوں ٹیموں کے باہمی کرکٹ مقابلوں کو انتہائی جذباتی بنا کر زیادہ سے زیادہ کرکٹ شائقین کی توجہ حاصل کر کے آئی سی سی کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ عرب ممالک میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور افغانستان کے تارکین وطن کی اکثریت رہائش پذیر ہے اور پاکستان اپنے ملکی حالات کی وجہ سے ہوم سیریز مجبوراً یو اے ای میں کراتا ہےاس سوال کا جواب آنے والے وقت میں ہی معلوم ہو گا.

  • ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    سینما پر فلم دیکھنے کا دور تمام ہوا. ہمارے بچپن میں البتہ اسکا عروج تھا. پہلے شو کی ٹکٹ , کھڑکی پر شور, اور عوام کا رش دھکم پیل جیب کتروں کا خوف ایک عجیب منظر ہوتا. ایسا لگتا کہ اگر یہ شو مس ہوگیا تو اسی فلم کا اگلا شو پھر شائد یہ فلم نہیں رہے گی.

    اس شور اور دھکم پیل سے نکل کر لیکن اگر آپ ہال میں پہنچ جاتے تو وہاں پھر یہی شور مچاتی عوام نیم اندھیرے میں بلکل خاموش پردے کی طرف دیکھ رہی ہوتی. درمیان میں کبھی ہیرو کیلئے داد تو کبھی ولن کیلئے ناراضگی کی آوازیں البتہ ضرور اٹھ جاتی.

    ہم لوگ سینما ہال کے باہر کا وہی ہجوم ہیں. ہم میں سے کوئی صبر نہیں کرنا چاہتا. ہمیں لگتا ہے ہم نے پہلا شو مس کر دیا تو ہماری زندگی کی فلم اور کہانی شائد باسی ہو جائے گی.

    ہم اعتماد کھو چکے ہیں. خود پر بھی اور دوسروں پر بھی. پیچھے رے جانے کا ڈر ہمیں مجبور کرتا ہے دھکے دو بلیک میں ٹکٹ خرید لو سفارش کر لو منت سماجت جیسے بھی ممکن پہلے شو میں جگہ بنا لو.

    پہلا شو مس ہو جانے کے خوف نے ہمیں بے صبری بد اعتمادی دی ہے. ہم سے قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے انتظار نہیں ہوتا. سینما کا دور اب ختم ہوا. یہ نیٹ فلیکس ایمزون پرائم کا دور ہے.

    لیکن ہمارے خوف وہی پرانے ہیں. ہم سے آج بھی قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے آج بھی نہ صبر ہوتا ہے نہ اعتماد ہمارا مضبوط ہے. ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ شو مس کر دیا تو کہانی بدل جائے گی.

    ہم لیکن بھول جاتے ہیں ہم خود ہی اپنی کہانی کے قلمکار ہیں. ہم اپنا کردار لکھتے ہیں چاہے وہ ہیرو کا ہو یا ولن کا. خوف ہمارا کردار بدل دیتا ہے اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    ہم سمجھتے ہیں چونکہ ہمیں ٹکٹ نہیں ملا تو ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی.

  • ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے” کی سوچ نے پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔۔۔بھارتیوں کی اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کدھر ہے جو بڑے ناموں کے باوجود گھبراہٹ سے آدھا میچ پہلے ہی ہاری ہوتی تھی۔۔۔۔

    اگر آپ صرف 2012 سے 2020 تک پاک بھارت بڑے مقابلوں کی بات کریں تو 98 فیصد میچز میں آدھا مقابلہ وہیں ہارا محسوس ہوتا تھا جب پاکستانی کپتان ٹاس کے لیے آتے تھے۔۔ہم ہار نہ جائیں کا خوف نظر آتا تھا۔۔۔۔

    ٹیم منیجمنٹ اور کپتان کو ٹیم میں لڑنے کا جذبہ لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔۔ میچ کے نتیجے سے زیادہ یہ اہم ہوتا ہے کہ ٹیم لڑے۔۔۔ ثقلین مشتاق, بابر, ٹیم کے سنیئر کھلاڑی رضوان,شاداب میچ سے پہلے اور میچ کے دوران پریشر اچھا ہینڈل کرتے ہیں اور ٹیم کا مورال بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔۔۔

    ایشیا کپ کے پاک بھارت دونوں میچز میں اگر کپتانوں کی بات کریں تو روہت شرما کے مقابلے میں برابر اعظم نے جونیئر ہونے کے باوجود پریشر کو زیادہ بہتر ہینڈل کیا۔۔۔دوسرے میچ میں جب بھارتی بلے بازوں نے چڑھائی کی بابر پریشان نظر آئے لیکن خوف زدہ یا حواس باختہ نہیں ہوئے۔۔۔۔مس فیلڈنگ پر بھی مجموعی طور پر برداشت دیکھائی۔۔

    مشکل آنے پر پریشانی فطرتی ہے۔۔لیکن اس پریشانی کا سامنا کرنا اور نکلنا دلیری ہے۔۔۔بابر نے مڈل اوورز میں بالرز سے بخوبی کام لیا اور بالرز نے بھی کپتان کی بھرپور لاج رکھ کر بھارتی مڈل آرڈر کو چلتا کیا۔۔۔

    جب ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا مرکز زیادہ تر کپتان رہتا ہے اس لیے جیت پر کپتان کو درست فیصلوں کا کریڈٹ بھی کھل کر دینا چاہیے۔۔۔۔

    نواز کا بیٹنگ آرڈر پروموٹ کرنے پر بابر کی بہت تعریف ہوئی ہے۔۔۔بھارت کے خلاف گروپ میچ ہارنے کے باوجود پاکستانی سپوٹرز نے بابر اور ٹیم کو بیک کیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس محبت کا جواب میچ جیت کر دیا۔۔اب جب بابراعظم ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں وقتی خراب فارم سے دوچار ہیں پاکستانی سپوٹرز ان کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ہماری ڈیمانڈ اپنی ٹیم سے یہ ہی ہے کہ لڑو مقابلہ کرو نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    سوشل میڈیا کمال کی جگہ ہے یہاں منٹوں میں کوئی ہیرو بن جاتا ہے تو منٹوں میں ولن، ایسے میں جذباتی تبصرے کافی مزے کے ملتے ہیں۔

    ایک بھائی صاحب کہتے ہیں رضوان اگر کھڑا رہتا تو پاکستان میچ ہار جاتا، مگر میں کہتا ہوں اگر رضوان بیٹھ جاتا تو بھی پاکستان ہار جاتا کیونکہ اسکے اکہتر رن صدقے میں نہیں گئے ٹیم کے سکور کارڈ میں گئے ہیں۔

    ایک بھائی بولے سب ٹھیک ہے مگر انگریزی اچھی نہیں تھی، اس پر دل سے صدا آئی کہ پانٹ کے IELTS کے 8 بینڈ اگر کرکٹ میں کام آنا ہوتے تو وہ شاداب کی اردو میں گرامر کی غلطیاں نکال کر چھکا بن جاتے۔ کھلاڑی یہاں اے بی سی سنانے نہیں آئے کھیلنے آئے ہیں انگلش سننی ہے تو فاکس نیوز لگا لیں۔

    ایک اور بھائی نے پچھلے میچ میں مشورہ دیا تھا کہ حارث رؤف جیسا بیکار کھلاڑی ٹیم میں رکھنا فضول ہے۔ اب آج ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر حارث رؤف کو حسن علی کی طرح شادیوں والا ورتاوا(ویٹر) رکھ لیتے تو انڈیا کے رنز کس پھپھی کے پتر نے روکنا تھے؟ تہاڈی؟

    اور تو اور فخر سے کیچ ڈراپ ہوا وہ پچھلی مس فیلڈنگ کی وجہ سے انڈرپریشر ہونے پہ ہوا، بیٹنگ میں خرابی کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے کہ بار بار کیمرہ ہائی لائٹ بہت انڈر پریشر کرتی ہے۔ مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ فخر کو ٹیم سے نکالنا چاہیے اچھا انکی مان لیں کیونکہ ان کے پاس بارش میں کینچوے پکڑنے کا عالمی ریکارڈ ہے سو مان لیں بھائی کی۔

    اور تو اور کچھ کہہ رہے ہیں کہ جیت تو گئے ہیں مگر کیا فائدہ آخری اوور میں آخری گیند تک میچ لیکر گئے تھے، اب مجھے معلوم نہیں کہ بھائی محلے میں گلی ڈنڈے میں کتنی سنچریاں بناتے تھے مگر سوری ٹو سے پائین اگے انڈیا دی ٹیم سی تہاڈی خالہ دا ٹنڈا منڈا نئیں سی۔

    نسیم شاہ پر تبصرہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ ابھی بچہ ہے اس لئے ٹیم میں نہیں رکھنا چاہیے، چلیں جی باقیوں کی مان رہے تو آپ کی بھی مان لیتے ہیں جب اس کے پوتے کی شادی ہو گی تب اس کو کھیلا لیں گے آپ فکر نا کریں۔ رہی بات نئے ٹیلنٹ کی تو اس کا کیا۔ آپکا مشورہ ہے کہ نئے کھلاڑی میچور ہونے چاہیں تو پھر آئندہ سے کھلاڑیوں کی کرکٹ کی بجائے بچوں کی تعداد دیکھ کر ٹیم بنا لیں گے۔

    اوپر سے یہ وسیم اکرم بھی ٹیم کی کپتی ساس ہے۔ بندہ اس سے پوچھے پائی تم کمنٹری مخالف ٹیم کی طرف سے کیوں کر رہے ہو؟ ساتھ والا کمنٹیٹر کہتا ہے کہ واؤ واٹ آ شاٹ بائی نواز، اب وسیم پائی اس پہ کہتے ہیں کہ اگر لیگ پہ کھیل لیتا تو چھکا تین میٹر لمبا ہو سکتا تھا۔ مجھے تو وسیم پائی بھی مخالفوں کا بندہ لگتا ہے اسکی کمنٹری سن کر بہت غصہ آتا ہے۔ بھائی کبھی ساس نا بننے کی بھی کوشش کر لیا کرو۔

    ٹیم تو جیت گئی مگر آج جو جلن دیکھنے کو ملی اسکا الگ مزہ آ رہا ہے۔ مزید جلن تب ہو گی جب اگلے میچ کا سکواڈ بھی سیم ہی ہوگا۔ ہم تو محض انٹرٹینمنٹ ہی لے سکتے ہیں ہمارے کہنے سے ٹیمز نہیں بدل سکتیں لیکن ہم سب کے فیورٹس الگ الگ ہو سکتے ہیں جیسے اوپر والوں کے ہیں جن پر مذاق کیا ہے۔