دنیا عجائبات کا مظہر ہے ، یہاں ہر روز ایسے ایسے عجائبات رونما ہو رہے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے، اور اگر بات پاکستان کے پڑوس ملک چائنہ کی ہو جائے تو وہاں عجائبات اس قدر زیادہ پائے جاتے ہیں کہ چینی لوگ عجائبات کے عادی ہو گئے ہیں، اج ہم جس چینی عجوبے کی بات کریں گے وہ چائنہ کے صوبے تبت میں ببنے والا ریلوے ٹریک ہے ، اس ریلوے ٹریک کانام کنگ زینگ ریلوے ٹریک ہے ، یہ دنیا کا سب سے بلند ترین مقا م پر پایا جانے والا ریلوے ٹریک ہے،
اس ریلوے ٹریک کی کل لمبائی 1956 کلومیٹر ہے ، 1985 میں چینی حکومت نے اسے مکمل کیا ، اس کی تعمیر پر کل لاگت 4.2 ارب ڈالر آئی ، یہ ریلوے ٹریک دنیا کے بلند ترین مقام پر پائی جانے والی تازہ پانی ندی کے اوپر سے بھی گزرتا ہے ،
اس ریلوے ٹریک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے یہ تبت کے ایسےعلاقے میں بنا ہے جو کہ موسم کی شدت ، زلزلوں اور لینڈ سلائدنگ کیلئے مشہور جانا جاتا ہے ،
ایک چینی سیاح نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس ریلوے ٹریک پر چلتی ٹرین کی ویڈیو کو شئیر بھی کیا ہے
https://twitter.com/evazhengll/status/1175397964623360002?s=08
Category: تفریح و سیاحت
-

دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟
-

عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں تحریر: فہد شیروانی
پاکستانی فلم انڈسٹری پر عرصے سے طاری جمود آہستہ آہستہ ٹوٹتا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ریلیز ہونے والی فلمز نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت طویل عرصے کے بعد اس عیدالاضحی پر کئی پاکستانی فلمز نمائش کے لئے سینماز میں پیش کی جارہی ہیں۔ ان میں سے کئی فلمز میں پاکستانی نامور فلمسٹار اپنی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ فلمز پاکستانی فلم انڈسٹری کو مزید پروان چڑھانے میں اپنا کردار بخوبی ادا کریں گی۔
سپر سٹار:
پاکستان فلم انڈسٹری کی سب سے بڑی سپر سٹار ماہرہ خان کی ڈرامہ فلم "سپر سٹار” 12 اگست کو عید کے دن ہم فلمز کے بینر تلے شائقین فلم کے لئے سینماز میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔ پروڈیوسر مومنہ درید کی پروڈکشن میں بننے والی فلم کے مرکزی کرداروں میں ماہرہ خان، بلال اشرف، ندیم بیگ، جاوید شیخ، مرینہ خان، اسماء عباس، علیزے شاہ اور علی کاظمی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ عدنان شاہ ٹیپو، کبری خان، ہانیہ عامر، عثمان خالد بٹ، مانی، سائرہ شہروز، فہیم برنی اور وہاج علی نے فلم میں مہمان اداکار کا کردار ادا کیا ہے۔ ٹیلنٹڈ محمد احتشام الدین نے فلم کی ڈائریکشن کے فرائض سرانجام دئیے ہیں۔ علی اور مصطفی آفریدی کے قلم سے نکلے خوبصورت الفاظ نے اس فلم کی انفرادیت میں بھرپور اضافہ کیا ہے۔ "سپر سٹار” کا سکرین پلے اور میوزک اذان سمیع خان کی تخلیق ہے۔ "سپر سٹار” کا ٹریلر عنقریب ریلیز ہونے والی فلمز میں سب پر سبقت لے چکا ہے اور شائقین فلم کے ریلیز ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔پرے ہٹ لو:
پروڈیوسر شہریار منور اور عاصم رضا کی 12 اگست کو ریلیز ہونے والی فلم ” پرے ہٹ لو” میں پاکستان کے مایا ناز ڈائریکٹر عاصم رضا نے ہدایتکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ ARY فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی اس فلم میں نمایاں کردار ہر دلعزیز حنا دلپذیر، شہریار منور، مایا علی، ندیم بیگ، احمد علی بٹ اور فریحہ الطاف نے ادا کئے ہیں۔ عمران اسلم نے اس فلم کر تحریر کیا ہے جبکہ فلم کا میوزک اذان سمیع خان نے ترتیب دیا ہے۔ خوبصورت لوکیشنز پر فلمائی گئی اس فلم کے ٹریلر نے ابھی سے شائقین فلم کے دل موہ لئے ہیں ۔ہیر مان جا:
اظفر جعفری کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم "ہیر مان جا” عیدالاضحی پر سینما گھروں کی زینت بننے جارہی ہے۔ جیو فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی اس رومانٹک کامیڈی فلم میں پاکستان کی حسین اداکارہ حریم فاروق، آمنہ شیخ، علی رحمان، سلیم معراج، عابد علی، اور فیضان شیخ نمایاں کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے۔ فلم کو امان الحقی، عمران رضا کاظمی، حریم فاروق اور عارف لاکھانی نے پروڈیوس کیا ہے۔ اویس بلوچ کی عمدہ تحریر اور جملوں پر مشتمل "ہیر مان جا” کا ٹریلر اس وقت عوام کی بھرپور توجہ کا باعث بنا ہوا ہے۔پاکستان کی فلم انڈسڑی اور شائقین کی امیدیں ان فلموں سے وابستہ ہو چکی ہیں۔امید کی جارہی ہے کہ یہ فلمز شائقین فلمز کو دوبارہ سینما ہالز کا رخ کرنے پر مجبور کر دیں گی۔
-

آئیے آپ کو روسی شہر کازان لے چلیں جس کی خوبصورتی کے ہرجگہ چرچے ہیں.
کازان:روس جو کی قدرتی خوبصورت مناظر کے حوالے سے بہت مشہور ہے .اس کے بعض شہروں کی خوبصورتی کے چرچے تو اب دنیا میں ہر جگہ ہورہے ہیں. ان میںروس کا شہر کازان شامل ہے .شہر کازان روس میں شامل صوبہ تاتارستان کا مرکزی شہر ہے۔ یہ روس کا پانچواں بڑا شہر ہے اس کی آبادی 12 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ ملک کا اہم معاشی، مذہبی، سیاسی، علمی اور ثقافتی مرکز ہے۔

روسی مورخین کے مطابق یہ شہر سن 1005 میں والگا ندی کے کنارے قائم کیا گیا۔ 13ویں اور 14ویں صدی میں کازان طلائی اردو کا اہم شہر تھا۔ سن 1438 میں کازان نئی تشکیل شدہ کازان خانیت کا مرکزی شہر بن گیا۔ سن 1552 میں روسی فوج نے کازان خانیت پر فتح حاصل کر لیا اور یہ روس کی ریاست میں شامل ہو گیا۔ اس کے بعد شہر میں کریملن کی تعمیر ہوئی جو اس وقت یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ شہر میں مشین سازی، کمیائی تیل اور گیس کی صنعت، کپڑے اور کھانوں کے کارخانے موجود ہیں۔

-

پلانک ورزش کے جادوئی اثرات
پلانک ایک جادوئی ورزش ہے جس کے اثرات انسانی جسم پر بہت زیادہ ہے یعنی کم وقت میں اپنا اثر دکھاتی ہے
تفصیلات کے مطابق شروع سے سنتے آئے ہیں کہ ورزش نہایت اہم ہے اور یہ صحت کے لیے لازم ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے . اگر آپ اپنی مصروف ترین مصروفیت میں سے 20 سے 30 منٹ بھی ورزش کر لیں تو آپ میں لازمی واضح مثبت اثر پڑے گا.
پلانک ایک ایسی ورزش کا نام ہے جس کو اپنی روٹین میں شامل کر لیں تو آپ پر اس کا بہت جلدی اور مثبت اثر آتا ہے، دفاتر میں 8 سے 10 گھنٹے بیٹھنے والوں کے لیے یہ ایک جادوئی ورزش ہے، پلانک کے بے حد فوائد ہیں جن میں کمر کے درد کا ختم ہو جانا، کمر کے پٹھوں کا مضبوط ہونا، پیٹ سمیت اضافی وزن کے کم ہونے کے ساتھ ساتھ برداشت بھی پیدا ہوتی ہے۔
پلانک ایک محنت طلب ورزش ہے جس کے بہترین نتائج آپ کو دنوں میں ملتے ہیں، اسی لیے اسے چیلنج سمجھ کی بھی کیا جاتا ہے، پلانک نہ صرف آپ کے پیٹ کو دنوں میں کم کرتا ہے بلکہ ساتھ ہی سارے جسم کو بے ڈھنگی شکل سے ایک مناسب شکل بھی دیتا ہے، پلانک کمر کے درد کے لیے موزوں ورزش ہے۔

دفتر کے کام کاج بالخصوص صرف ایک جگہ ہی بیٹھ کر کام کرنے والے فرصت ملتے ہی خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ، ایسے لوگوں کا پلانک کو انجام دینے سے موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے اور دماغی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے جس سے انسان خود کو چوکنا، خوش اور ہلکا محسوس کرنے لگتا ہے -

رنگ باز
معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے۔ جہاں رہتے ہوئے انسان کو آئے روز مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسانوں کا واسطہ انسانوں سے ہی پڑتاہے۔ ہر انسان مجبور یوں ، ضرورتوں اور مفادات کا غلام ہے۔ وہ روز باہر نکلتاہے تاکہ اس جنگل میں اپنی صلاحیت اور حیثیت کے مطابق اپنا حصہ گھر لا سکے۔ صبح ہوتے ہی انسانوں کا ریلا گھروں سے نکلتاہے جو بظاہر تو الگ الگ کام دھندے کرتے نظر آتے ہیں مگر ان سب کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہوتاہے کہ اس انسانوں سے بھرے جنگل میں وہ اپنا حصہ کیسے حاصل کریں۔
کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ ” بندہ بندے دا دارو اے تے بندے ای بندے دا مارو اے ”
اس کاروبار زندگی میں سب انسان برسرپیکار نظر آتے ہیں. کچھ ایمانداری سے کچھ بے ایمانی سے ، کوئی زور زبردستی اور دھونس دھاندلی سے ، کوئی پیار اخلاق اور رواداری سے کوئی مانگے تانگے سے اپنا اپنا حصہ اکٹھا کرتا پھرتا ہے۔ کسی کو اسکی سوچ کے مطابق، کسی کو کم اور کسی کو اپنی اوقات سے کہیں زیادہ حصہ ملتاہے اور کسی کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جنہیں معقول حصہ ملتاہے وہ صبر شکر کرتے ہیں ،جنہیں کم ملتاہے وہ واویلا مچاتے ہیں. اور کجن کا ہاتھ بڑے حصے پر پڑ جاتا ہے وہ اپنا حصہ لے کرآگے آگے اور جنہیں حصہ نہیں ملتا اُسکے آگے پیچھے چلتے کچھ دُم ہلاتے نظر آتے ہیں کہ شائد کچھ انہیں بھی مل جائے .
کچھ راہ میں صرف چھینا جھپٹی کے لیے بیٹھے رہتے ہیں ۔اور دوسروں کا حصہ چھین کر اتراتے پھر تے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے مگر اُن کی بڑی دھاک ہوتی ہے اور انہیں اُن کا حصہ اُن کے گھر پہنچ جاتاہے۔جن کے پاس اُن کی ضرورت سے کہیں زیادہ جمع ہوجاتاہے اُن کی حوس بھی اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے وہ بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہیں ۔دولت کو کئی گُنا کرنے کے طریقے اپناتے ہیں ۔ اور دولت اور جائیدادوں کے انبار لگاتے ہیں اورپھر اُن میں سے اکثر خود کو خدا ترس عوام دوست اور سخی ثابت کرنے کے لیے خیراتی ادارے ، ہسپتال اور مفت کھانوں کے دسترخوان بھی سجاتے نظر آتے ہیں۔ مگر اپنے کارخانوں میں کام کرنے والوں کو دو وقت کی روٹی تو دور وقت پر مزدوری تک دینے سے بھی ان کی جان جاتی ہے۔
رنگ باز کسی رام چوبارے سے، کسی گلی کے نکڑ سے، کسی کھڑکی کے پیچھے سے نیشنل جیوگرافی کے کسی فوٹو گرافر کی طرح سب کا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کیسے خود کو اشرف المخلوق کہنے والے انسان اپنے حصے کی تلاش میں مارا مارا پھرتاہے۔ کوئی مارا ماری کرتا پھرتاہے ۔کچھ دست گریباں ہیں ۔کچھ کو دووقت کی روٹی میسر نہیں اور کچھ کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔
لیکن وہ خود کونسا فرشتا ہوتاہے یا پھر اُس کے لیے کونسا من وسلوا اُترتاہے ۔اُسے بھی پیٹ لگا ہوتاہے ۔اس لئے اسے بھی روزباہر نکلنا پڑتاہے ۔ لوگوں سے ملنا پڑتاہے اپنا حصہ ڈھونڈنا پڑتاہے۔
لیکن رنگ باز کسی کا حق نہیں مارتا۔ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اپنے فن سے وہ اپنا حصہ کماتاہے ۔رنگ باز ایک ایسا کریکٹر ہے ۔جو ہر معاشرے میں پایا جاتاہے ۔ رنگ باز کی جو تعریف ہم سُنتے آئے ہیں وہ حقیقت میں رنگ باز نہیں بلکہ موقع پر ست کی تعریف ہے ۔
رنگ باز تو کوئی الگ ہی مخلوق ہے۔وہ زندنگی میں رنگ بھرتاہے ،انسانوں کو ہنساتاہے ، انہیں حیران کرتاہے ، انہیں سوچنے پر مجبور کرنے والا کردارہے ۔ رنگ باز زندگی سے چڑتانہیں ، جھگڑتا نہیں، زندگی سے بھاگتا نہیں بلکہ زندگی کو گلے لگا کر اس کے رنگوں اور اسکے انگوں کا لُطف اُٹھاتاہے ۔اور زندگی سے الجھتے لوگوں بھی رنگ سمیٹنے کی دعوت دیتاہے ۔رنگ باز انسانوں کے معاشرے کا وہ کردار ہے جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتاہے۔ وہ سب کوالُجھا ہوا چھوڑ کر خود اُلجھن سے نکل جاتاہے ۔ رنگ باز ایسا فنکار ہوتاہے جو اپنے فن سے آشنا ہوتاہے لیکن اپنے فن کو بے جاحصہ حاصل کرنے میں ضائع نہیں کرتا۔وہ اُتنا حصہ لیتاہے جتنی اُسکی ضرورت ہوتی ہے۔ رنگ باز ایک الگ ہی طرح کا انسان ہوتاہے ۔اسے انسانوں سے ملنے اُن سے باتیں کرنے انہیں ہنسانے اور کبھی انہیں الجھانے میں زیادہ لُطف آتاہے ۔ کبھی کوئی اسے جوکر کہتاہے ،کوئی مسخرہ سمجھتا ہے کوئی باتونی تو کوئی چول یا پھر جوکر .مگر رنگ باز سب کی سُن کر ہنستا آگے بڑھ جاتاہے ۔
رنگ باز کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا مگر اپنی ذہانت اور چکنی چیڑی باتوں سے خود کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور پہنچا تاہے ۔ رنگ باز بہت ہی ہنس مکھ، حاضر جواب ،اور صورتحال کے مطابق ڈھلنے والا یا پھر یوں کہیے کہ صورتحال کو اپنے حق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مگر وہ موقع پرست نہیں ہوتا بلکہ موقع کا درست استعمال جانتاہے ۔ مفت کے مشورے دینے میں اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا مگر غلط مشورہ نہیں دیتا۔ کوئی راستہ پوچھ لے تو گھر تک چھوڑ کرآنے میں خوشی محسوس کرتاہے ۔
لوگ اپنی زندگیوں میں سارا دن اپنے تھوڑے بہت حصے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لیکن رنگ باز زندگی کے رنگوں کی تلاش میں پھرتاہے ۔۔ وہ رنگ اکٹھے کرتا ہے بانٹاہے ، بکھیرتاہے ۔اورزندگی میں رنگ بھرتاہے۔کیونکہ اُس کی بھوک بہت کم ہوتی ہے ۔
وہ لوگوں کی خوشی میں بھی بن بلائے پہنچ جاتاہے تو دُکھ میں بھی۔ چاہے کرسیاں لگوانی ہوں یا کھانا تقسیم کروانا ہووہ سب سے آگے نطر آتاہے ۔ آخرمیں خود بھی پیٹ پھر کر کھانا کھا کر چلتا بنتاہے۔
لوگ اپنی زندگیوں سے ایسے جونجتے پھر تے ہیں ایسے لڑتے پھرتے ہیں کہ زندگی کے رنگوں کو دیکھنے کی حس کھوبیٹھتے ہیں ۔لیکن رنگ باز نہ صرف خود ان رنگوں سے لطف اندوز ہوتاہے بلکہ اورں کو بھی رنگ بانٹتا اورکبھی آئینہ دکھاتا گزر جاتاہے۔۔ رنگ باز کوڈھونڈنا مشکل نہیں ۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں بستا۔۔ آپ کے ارد گرد ہی کہیں گھومتا پھر تا ہے۔
-

شندور پولومیچ فائنل چترال نے جیت لیا
شندور پولومیچ فائنل چترال نے جیت لیا
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شندور پولو فائنل میچ میں چترال نے گلگت کو 5 کے مقابلے میں 6 گول سے ہرا کر فاٸنل اپنے نام کر لیا۔دنیا کے بلند ترین میدان شندور میں 3 روزہ پولو فیسٹول جاری رہا جو آج اختتام پذیر ہو گیا
بارہ ہزار فٹ پر واقع دنیا کے بلند ترین گراونڈ شندور میں تین روزہ فری اسٹائل پولو ٹورنامنٹ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ آج چترال اور گلگت کی ٹیموں کے مابین پولو میچ کھیلا گیاجو چترال نے جیت لیا۔ بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان گراونڈ میں ثقافتی رنگوں سے سجے اس میلے نے سب کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا ۔ سیاحوں کی بڑی تعداد شندور میں موجود رہی۔
سالانہ فیسٹول میں شرکت کیلئے دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح شندور کا رخ کرتے ہیں۔ پولو کے علاوہ دیگر روایتی کلچرل شو بھی منعقد کیے جارہے ہیں۔ خطروں کے کھلاڑی پیراگلائیڈرز
-

پرے ہٹ لو فلم کیسی ہوگی؟ ایاز خان
کچھ عرصہ قبل ماہر ہ خان کے انسٹا گرام سے ایک شارٹ ویڈ یو ریلیز ہوئی ۔۔جس میں وہ لال رنگ کا جوڑا پہنے ”پرے ہٹ “ کہتی نظر آئیں ۔۔یہ سین اُنکی آنے والی فلم ’پرے ہٹ لو‘ سے تھا۔ چند روز پہلے اس فلم کا ٹریلر ریلیز کیا گیاہے ۔۔اگر چہ اس فلم میں ماہر ہ کا لیڈ رو ل نظر نہیں آتا۔۔لیکن شائد لیڈ رول میں وہ لوگوں کو اتنا متاثر نہ کر پاتیں جو انہوں نے اپنے سائیڈ رول میں کیاہے ۔
پرے ہٹ لو فلم کا ٹریلر دیکھتے ہی ایسا لگتاہے جیسے یہ بڑٹش لو کامیڈی فلم ” فور ویڈنگز اینڈ اے فیونرل“ کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے ۔جو ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو کسی شادی میںاچانک کسی لڑکی سے ملتا ہے او ر اسے اپنی منزل سمجھ بیٹھتا ہے ۔۔۔۔پرے ہٹ لو میں بھی یہی کہانی نظر آتی ہے ۔۔ٹریلر بڑی حویلی میں شادی کی تقریبات دکھائی گئی ہیں. شروع میں فلمسٹار ندیم ایکٹر شہریار کو کہتے نظر آتے ہیں ”تم ڈرامہ ایکٹر ہو نہ“۔۔۔ویسے تو اس فلم میں سارے ہی ڈرامے سے آئے ہوئے ہیں ۔۔کیا کریں پاکستان میں فلم انڈسٹری تو رہی نہیں۔۔بس اب انہی سے ہی کام چلے گا لیکن اچھا چل نکلا ہے ۔۔ فلمسٹار میر ا جو فلم باجی میں لیڈ رول کررہی ہیں وہ بھی پر ے ہٹ لو کے ٹریلر میں ڈانس کرتی نظر آئی ہیں ۔
اس فلم میں شہریا ر (غریبوں کا ر ہتک روشن) اور مایا علی (طیفا گر ل) کا مر کزی کردارہے۔ عاصم رضا کی گزشتہ فلم ہو من جہاں میں شہر یا ر کے ساتھ ماہرہ خان کا مرکزی کردار تھا۔
شہریار ایک ایسا لڑکا ہے جو شادیوں میں شرکت کرتاہے لیکن خود اپنی شادی کے نام سے دور بھاگتاہے ۔پھر اچانک۔۔۔جیسے کہ فلموں میں ہوتاہے ۔۔ایک لڑکی (مایا علی )پر اُسکی نظر پڑتی ہے جوچراغوں کے پیچھے سے نمودا ر ہوتی ہے ۔۔اور وہ اسے دیکھتا ہی رہ جاتاہے۔۔جیسے کہہ رہا ہو تو ہی وہ حسیں ہے ۔۔جس کی تصویر خیالوں میں مدت سے بنی ہے ۔۔خیر ایسی شاعری اب کہاں
سننے کو ملتی ہے ۔۔لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ۔۔اور ہندی فلموں کی طرح شادی والی حویلی کی چھت پر اکیلے ملتے نظر آتے ہیں اور فیض کے شعر ایک دوسرے کو سناتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد گانا ۔ موج مستی ۔بس کی چھت پر سفر ۔پھر وہی جو ہوتاہے۔ ۔جو کہ اس فلم کے ٹائٹل سے بھی واضع ہے کہ ۔”پر ے ہٹ لو“ لڑکی لڑکے کو کہتی نظر آتی ہے کہ عشق وشق کے چکرمیں تو نہیں پڑ گئے ۔۔۔اور پڑنا بھی مت ۔۔اور پھر اچانک اسے اپنے منگیتر سے اُسے ملواتی ہے تو اُسے احساس ہوتاہے کہ وہ تو واقعی اس چکر میں پڑ چکاہے ۔۔۔اسکے بعد ایکٹر کی آنکھیں لال اور لڑکی کو پکڑ کر اسے گزرے لمحوں کا احسا س دلاتانظر آتاہے۔۔اور لڑکی اسے جھٹک کرایک طرف کرتی ہے . پھر اچانک کسی کی موت دکھائی گئی ہے ٹریلر میں جان اس وقت پڑتی ہے جب ماہرہ خان کی اچانک دھانسو انٹری ہوتی ہے۔
بہت بڑے سیٹ پر مجرہ کرتی جلو ہ گر ہوتی ہیں۔ماہرہ خان کے اس ڈانس کو دیکھ کر مادھوری ڈکشٹ کاخیال آتاہے . یہی نہیں ڈائریکٹر ماہرہ خان کوکئی آئینوں میں دکھا کر فلم مغل آعظم میں مدھو بالا کے گانے جب پیار کیا تو ڈرنا کیا سے بھی متاثر نظر آتاہے ۔
فلم میں کامیڈی کے لیےوہی گھسے پھٹے اداکاروں احمد بٹ او ر ڈارمہ ایکٹریس مومو حنا دلپزیر وغیر ہ کو ڈالا گیاہے ۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ واقعی فلم بینوں کو ہنسا پاتے ہیں یانہیں۔کیونکہ ”ہو من جہاں میں“ کامیڈی کا فقدان تھا ۔
ٹریلر کے آخر میں فواد خا ن کی مہمان اداکار کی طرح انٹری ہے جو شاہ رُخ کی طرح زندگی کا فلسفہ جھاڑتے نظر آتے ہیں کہ ”لوگوں کو مزہ کراﺅ انہیں جینا مت سکھاﺅ “ لگتاہے فواد خان کا ےہ مشورہ حمزہ عباسی کے لےے ہے ۔جو آئٹیم سانگ کے خلاف باتیں کرتے نظر آتے ہیں .
مہمان اداکاروں کو فلم میں ڈالنا فلم کی پرموشن کا پرانا فارمولا ہے اپنی پہلی فلم ہومن جہاں میں بھی عاصم رضا نے حمزہ علی عباسی ، فواد خان، زوہیب حسن اور سائرہ شہروزجیسے مہمان اداکاروں کا سہارہ لیاتھا.
ٹریلر سے نظر آتا ہے کہ بڑے بجٹ کی فلم ہے ۔سنمیٹو گرافی سے لے کر پروڈکشن میں جان نظر آتی ہے۔
بہاولپور سے لیکر استبنول کے مناظر۔دکھائے گئیں ہیں ۔ کچھ لوگ اسے گھسی پھٹی لو سٹوری کہہ رہے ہیں آج کل نیا آئیڈیا بہت ہی مشکل ہے ۔ہر آنے والی فلم یا تو ری میک ہے یا پھر کئی فلموںکا چربہ نظر آتی ہے ۔ہر فلم کسی نہ کسی پرانی کہانی سے متاثر ہوتی ہے لیکن فلم کا سکرپٹ، ڈائلاگ ، ٹریٹمنٹ ، اسکی پروڈکشن اور خاص طور پر ایکٹنگ اسے نیا اور الگ بناتی ہے۔جیساکہ شاعر نے کہا ہے کہ
سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
امید کی جاتی ہے فلم پر ے ہٹ لو میں یہ کوشش کی گئی ہے اور یہ فلم شائقین کو اچھی انٹرٹینمٹ فراہم کرے گی ۔
-

ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان
مسلمان جب سے ہدایت و جہاد کے راستے سے دور ہوئے تو غلامی اور ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ ہمارا تابناک ماضی ہماری پہچان ہے تاریخ اسلام میں خلفاے راشدین کے بعد بہت سے مجاہد سلاطین گزرےجو بہت مشہور ہیں جنہوں نے صلیبیوں کے دانت کھٹے کیے۔ ان میں سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان نورالدین زنگی، سلطان رکن الدین بیبرس، سلطانِ الپ ارسلان وغیرہ شامل ہیں۔
میں تاریخ اسلام سے ایک ایسے عظیم مجاہد کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جن کے نام سےبہت کم لوگ واقف ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کے لیے جہاد کا راستہ اپنایا اوربہت سی قربانیاں دیں اور اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک روشن دورکا آغاز ہوا۔خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس وقت تمام ترک قبیلوں کی صورت میں رہتے تھے۔ یہ تمام قبیلے خانہ بدوش تھے یہ سفر کرتے اور جہاں سر سبز علاقہ دیکھتے وہاں پر آباد ہو جاتے۔ ان میں ایک قائی قبیلہ تھا جو افراد کے لحاظ سے کافی مضبوط اور طاقتور تھا۔
سلیمان شاہ قائی قبیلہ کے سردار تھے جو سچے مسلمان نڈر اور رحمدل انسان تھے۔
ان کے مقاصد میں اسلام کی اشاعت اور انصاف کا بول بالا کرنا شامل تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب مسلمان ہر جگہ کمزوری کا شکار تھے۔ منگول ہلاکو خان کی سربراہی میں بڑھتے چلے آ رہے تھے اور خلافت عباسیہ کے بعد سلجوق سلطنت انکی منزل تھی۔ بازنطینی سلطنت کےصلیبی اپنی سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ مسلمانوں کی مضبوط اور طاقتور سلجوک سلطنت اب زوال کے قریب تھی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ سردار سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جو بہت بہادر اور جنگجو تھے۔ سلمان شاہ تمام ترک قبائل کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ تاکہ مسلمانوں کو صلیبیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچایا جا سکے شام کے علاقے پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے سلطان ملک العزیز ایوبی کی حکومت تھی جبکہ انا طولیہ میں سلجوق سلطان علاؤالدین کیقباد کی حکومت تھی۔ صلیبی دونوں سلطانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے تاکہ اس خطے میں مسلمانوں کو کمزور کر کے ان کا خاتمہ کرسکیں۔
سردار سلیمان شاہ نے ان سازشوں کو ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ایوبی سلطان قائی قبیلے کے دوست بن گئے۔ اور سلجوق سلطان کی بھتیجی حلیمہ سلطان کی سلیمان شاہ کے بیٹے ارتغرل سے شادی ہوگئی۔
سردار سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغرل قائی قبیلہ کے سردار بنے وہ بہت ذہین اور بہترین جنگجو تھے۔ جہادی سوچ ورثہ میں ملی تھی۔ انہوں نے سردار بننے کے بعد صلیبیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان کی سازشوں کو ناکام کیا اوران کے مشہور قلعے کارہ چاہسار کوفتح کیا۔
بہادری شجاعت اور وفاداری کی وجہ سے سلطان علاؤالدین کیقباد نے ارطغرل غازی کو تمام اغوض قبائل کا سردار اعلیٰ اور اناطولیہ کے سرحدی علاقے، جو بازنطین کے قریب تھے، کا نگران بنا دیا۔
ارطغرل غازی کے ہاں تین بیٹے گندوز، ساوچی اور عثمان پیدا ہوئے۔ عثمان سب بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ ارطغرل غازی نے ان کی دینی اور جنگی تربیت کی اور وہ بڑے ہو کر والد کے شانہ بشانہ جہاد میں شامل ہوتے رہے۔ارطغرل غازی ایک مقصد کے لیے لڑ رہے تھے انہوں نے منگولوں کے بڑے بڑے سپہ سالار قتل کیے جن میں نویان اور آلنچک مشہور ہیں۔
سلجوک سلطنت منگولوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی تھی۔ اور ارطغرل نے تمام ترک قبیلوں کو سوگوت میں اکٹھا کیا۔ صلیبیوں سے چھینے گئے علاقوں کوایک ریاست کی شکل دی۔
اور تعلیم و تربیت کے لیے درسگاہیں تعمیر کی گئیں تاکہ لوگ جدید علوم سے بہرہ ور ہوں اور اس طرح مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
ارطغرل غازی نےمنگولوں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے لیے منگول سلطان برکا خان جو مسلمان ہو چکے تھے اورمصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو آمادہ کیا اور طے پایا کہ ایک بڑی فوج تیار کی جائے جس میں تمام ترک قبائل بھی شامل ہوں۔ اناطولیہ میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ میں منگولوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔شکست کے غم کی وجہ سے چند ماہ کے بعد ہلاکو خان مر گیا۔
غازی ارطغرل صلیبیوں اور منگولوں کو اس علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سوگوت اب ایک ریاست بن چکی تھی غازی ارطغرل کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے عثمان قائی قبیلہ کے سردار بنے اور ریاست سوگوت کو مضبوط کرتے رہے۔ وہ اب ریاست سوگوت کے سلطان کہلائے جاتے تھے۔ 1299ء میں خلافت قائم کی جو خلافت عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
سلطان عثمان غازی اپنے والد غازی ارطغرل کی طرح دلیر اور باصلاحیت مجاہد تھے انہوں نے اس خلافت کو مضبوط کیا۔ غازی ارطغرل کی اولاد سے سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد ثانی جنہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے حقدار ٹھہرے اور سلطان محمد الفاتح کے نام سے مشہور ہوئے۔
اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
سلطنت عثمانیہ پر 1299سے 1922 تک 623 سالوں میں 36 سلاطین نے فرماروائی کی۔ مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ بلاشبہ یہ دور مسلمانوں کی عظمت اور عروج کا دور تھا اس دور میں مسلمان جہاد کرتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سلطنت عثمانیہ کے جاہ و جلال اور عظمت سے لرزاں رہتے تھے۔اللہ پاک عظیم مجاہد غازی ارطغرل اور سلطان عثمان غازی پر اپنی رحمتیں فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔
-

بھارتی باکسر حادثہ میں زخمی، اب مقابلہ آسٹریلوی باکسر سے ہو گا، عامر خان کا باغی نمائندہ لندن کو انٹرویو میں انکشاف
بھارتی باکسر نیراج گویت جن کا 12 جولائی کو سعودی عرب میں پاکستانی نژاد برطانوی باکسرسے مقابلہ تھا، کل رات ایک حادثے میں زخمی ہو گئے ہیں.
باغی ٹی وی لندن کے نمائندے مجتبی شاہ کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے بتایا کہ نیراج گویت سے ان کا مقابلہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونا تھا تاہم وہ کل رات ایک حادثہ میں زخمی ہو گئے ہیں جس پر ان کا مقابلہ اب اسی دن ایک آسٹریلوی باکسر سے ہو گا جو دومرتبہ چیمپئین رہ چکے ہیں.
Breaking : Neeraj Goyat got injured before fight in Jeddah, @amirkingkhan in an exclusive talk with bureau chief @BaaghiTV London Mujtaba Ali Shah pic.twitter.com/5Epl712QHE
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) June 26, 2019
باکسر خان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ ورلڈ کپ میں میرا انڈیا سے مقابلہ ہو اور میں بھارتی باکسر کو ہرا کر ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بھارت کے ہاتھوں شکست کا بدلہ لے سکوں تاہم افسوس کہ یہ نہیں ہو سکا.
واضح رہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر انڈین باکسر سے مقابلہ کیلئے بہت پرعزم تھے اور وہ اس سلسلہ میں بھرپور تیاری کر رہے تھے. انہوں نے جدہ میں کنگ عبداللہ اسپورٹس سٹی میں اس مقابلہ کی اجازت دینے پر سعودی ولی عہد کا بھی شکریہ ادا کای تھا اور وزیر اعظم عمران خان کو بھی دعوت دی تھی کہ وہ سعودی عرب آکر ان کا مقابلہ دیکھیں.
عامر خان اپنے پروفیشنل کیریئر کی38فائٹس میں عامر خان دو مرتبہ ورلڈ چمپیئن بننے میں کامیاب رہے اور اس دوران انہوں نے مارکوس میڈانا، ڈینی گارشیا، زاب جوڈھا، ساؤل الوریز جیسے باکسرز کا سامنا کیا ہے.
-

پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی
پاکستان کی فلم انڈسٹری "لالی ووڈ” کا آغاز 1948 میں ڈائریکٹر داؤد چاند کی فلم "تیری یاد” سے ہوا۔ 1947 سے لے کر 2007 تک لاہور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا گڑھ رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے ذیادہ فلمز میں ایکٹنگ کرنے کا ریکارڈ بھی پاکستانی اداکار سلطان راہی مرحوم کے پاس ہے جنہوں نے لگ بھگ 803 پنجابی اور اردو فلمز میں کام کیا۔ اسی بناء پر سلطان راہی مرحوم کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
پاکستانی فلم انڈسٹری نے اب تک تقریباً 10 ہزار اردو فلمز، 8 ہزار پنجابی فلمز، 6 ہزار پشتو فلمز اور 2 ہزار سندھی فلمز پروڈیوس کی ہیں۔ مزید علاقائی زبانوں میں بنائی گئی فلمز ان کے علاوہ ہیں۔ اگر اوسطا دیکھا جائے تو 72 سال میں پاکستان نے تقریباً ہر روز ایک نئی فلم کو جنم دیا۔
پاکستانی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے مثبت اور ثقافتی تشخص کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فلمز نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستانی فلمز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں مختلف ممالک میں ان کی علاقائی زبان میں "ڈبنگ” کرکے دکھایا جاتا رہاہے۔ چین میں پاکستانی اداکاروں کے مجسمے بھی بنا کر شہروں میں نصب کئے گئے جو کہ پاکستانی فلمز کی عالمی مقبولیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
بدقسمتی سے 80 کی دہائی سے لے کر 2013 تک پاکستانی فلم انڈسٹری بیرونی سازشوں اور اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی۔ پھر اداکار و فلمساز ہمایوں سعید پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اور انہوں 2013 میں بطور فلمساز اپنی پہلی فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی ” پروڈیوس کی جو پاکستانی فلم انڈسٹری پر طاری جمود توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان میں فلمز بنانے کا سلسلہ چل نکلا جس نے نہ صرف نئے اداکار، ڈائریکٹر، کیمرہ مین، تیکنیک کار اور رائٹر پیدا کئے بلکہ نئے فلمسازوں کو بھی فلمز بنانے کا حوصلہ دیا۔
اس وقت پاکستان کے نمایاں فلمسازوں میں ہمایوں سعید، سلمان اقبال، جرجیس سیجا، شہزاد نصیب، حسن ضیاء، یاسر نواز، فضا علی مرزا، جاوید شیخ، سید نور، علی ظفر، مہرین جبار، سلطانہ صدیقی، میمونہ درید، خالد علی اور شمعون عباسی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کی سب بڑی سینما کمپنی "Cinepax” کے ترجمان حسیب سید کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 30 پرانی(35MM) اور 120 ڈیجیٹل سینما سکرینز موجود ہیں جبکہ 28 نئی سینما سکرینز کا اضافہ رواں سال کے آخر تک ہو نے کا امکان ہے۔ جیو فلمز، اے آر وائی فلمز، ہم فلمز، اردو1 فلمز، ایور ریڈی فلمز، ڈسٹری بیوشن کلب، HKC انٹرٹینمنٹ، فٹ پرنٹ انٹرٹینمنٹ اور آئی ایم جی سی کا شمار پاکستان کے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر ز میں ہوتا ہے۔
پاکستان کی بڑی سینما کمپنیوں کے مالکان نے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے "ایکسیلینسی فلمز” کے نام سے ایک فنڈ کا اجرء کیا۔ "ایکسیلینسی فلمز” اپنے تیار کردہ فارمولے کے تحت پاکستان کے فلم سازوں کو فلم بنانے کے لئے پیسہ فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کے منازل باآسانی طے کرسکے۔ "ایکسیلینسی فلمز” اب تک پاکستان کے کئی فلمسازوں کو فلم بنانے کے لئے فنڈز فراہم کر چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند اور سراہا جانے والا عمل ہے۔
حکومتی سطح پر ہر دور میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ہر دور حکومت میں یہ بات صرف اور صرف کھوکھلے دعوے ثابت ہوئی جبکہ عملی طور پر فلمی صنعت کی بحالی کے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومتی سرپرستی اور سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری زبوں حالی اور بد حالی کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس صنعت کی طرف خصوصی توجہ دے تو نہ صرف یہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ملک کے سافٹ امیج کو بحال کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری زرمبادلہ کمانے کا اہم زریعہ سمجھی جاتی ہے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت ریونیو کمانے میں بھارت کی سب سے بڑی صنعت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کی توجہ اور مناسب حکمت عملی کے باعث پاکستان کی فلم انڈسٹری ملک کی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام بالا سے استدعا ہے کہ وہ گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو سہارا دیں اور اس سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا سبب بنیں۔
