Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    مسلمان جب سے ہدایت و جہاد کے راستے سے دور ہوئے تو غلامی اور ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ ہمارا تابناک ماضی ہماری پہچان ہے تاریخ اسلام میں خلفاے راشدین کے بعد بہت سے مجاہد سلاطین گزرےجو بہت مشہور ہیں جنہوں نے صلیبیوں کے دانت کھٹے کیے۔ ان میں سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان نورالدین زنگی، سلطان رکن الدین بیبرس، سلطانِ الپ ارسلان وغیرہ شامل ہیں۔
    میں تاریخ اسلام سے ایک ایسے عظیم مجاہد کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جن کے نام سےبہت کم لوگ واقف ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کے لیے جہاد کا راستہ اپنایا اوربہت سی قربانیاں دیں اور اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک روشن دورکا آغاز ہوا۔

    خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس وقت تمام ترک قبیلوں کی صورت میں رہتے تھے۔ یہ تمام قبیلے خانہ بدوش تھے یہ سفر کرتے اور جہاں سر سبز علاقہ دیکھتے وہاں پر آباد ہو جاتے۔ ان میں ایک قائی قبیلہ تھا جو افراد کے لحاظ سے کافی مضبوط اور طاقتور تھا۔
    سلیمان شاہ قائی قبیلہ کے سردار تھے جو سچے مسلمان نڈر اور رحمدل انسان تھے۔
    ان کے مقاصد میں اسلام کی اشاعت اور انصاف کا بول بالا کرنا شامل تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب مسلمان ہر جگہ کمزوری کا شکار تھے۔ منگول ہلاکو خان کی سربراہی میں بڑھتے چلے آ رہے تھے اور خلافت عباسیہ کے بعد سلجوق سلطنت انکی منزل تھی۔ بازنطینی سلطنت کےصلیبی اپنی سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ مسلمانوں کی مضبوط اور طاقتور سلجوک سلطنت اب زوال کے قریب تھی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ سردار سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جو بہت بہادر اور جنگجو تھے۔ سلمان شاہ تمام ترک قبائل کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ تاکہ مسلمانوں کو صلیبیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچایا جا سکے شام کے علاقے پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے سلطان ملک العزیز ایوبی کی حکومت تھی جبکہ انا طولیہ میں سلجوق سلطان علاؤالدین کیقباد کی حکومت تھی۔ صلیبی دونوں سلطانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے تاکہ اس خطے میں مسلمانوں کو کمزور کر کے ان کا خاتمہ کرسکیں۔
    سردار سلیمان شاہ نے ان سازشوں کو ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ایوبی سلطان قائی قبیلے کے دوست بن گئے۔ اور سلجوق سلطان کی بھتیجی حلیمہ سلطان کی سلیمان شاہ کے بیٹے ارتغرل سے شادی ہوگئی۔
    سردار سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغرل قائی قبیلہ کے سردار بنے وہ بہت ذہین اور بہترین جنگجو تھے۔ جہادی سوچ ورثہ میں ملی تھی۔ انہوں نے سردار بننے کے بعد صلیبیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان کی سازشوں کو ناکام کیا اوران کے مشہور قلعے کارہ چاہسار کوفتح کیا۔
    بہادری شجاعت اور وفاداری کی وجہ سے سلطان علاؤالدین کیقباد نے ارطغرل غازی کو تمام اغوض قبائل کا سردار اعلیٰ اور اناطولیہ کے سرحدی علاقے، جو بازنطین کے قریب تھے، کا نگران بنا دیا۔
    ارطغرل غازی کے ہاں تین بیٹے گندوز، ساوچی اور عثمان پیدا ہوئے۔ عثمان سب بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ ارطغرل غازی نے ان کی دینی اور جنگی تربیت کی اور وہ بڑے ہو کر والد کے شانہ بشانہ جہاد میں شامل ہوتے رہے۔ارطغرل غازی ایک مقصد کے لیے لڑ رہے تھے انہوں نے منگولوں کے بڑے بڑے سپہ سالار قتل کیے جن میں نویان اور آلنچک مشہور ہیں۔
    سلجوک سلطنت منگولوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی تھی۔ اور ارطغرل نے تمام ترک قبیلوں کو سوگوت میں اکٹھا کیا۔ صلیبیوں سے چھینے گئے علاقوں کوایک ریاست کی شکل دی۔
    اور تعلیم و تربیت کے لیے درسگاہیں تعمیر کی گئیں تاکہ لوگ جدید علوم سے بہرہ ور ہوں اور اس طرح مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
    ارطغرل غازی نےمنگولوں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے لیے منگول سلطان برکا خان جو مسلمان ہو چکے تھے اورمصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو آمادہ کیا اور طے پایا کہ ایک بڑی فوج تیار کی جائے جس میں تمام ترک قبائل بھی شامل ہوں۔ اناطولیہ میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ میں منگولوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔شکست کے غم کی وجہ سے چند ماہ کے بعد ہلاکو خان مر گیا۔
    غازی ارطغرل صلیبیوں اور منگولوں کو اس علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سوگوت اب ایک ریاست بن چکی تھی غازی ارطغرل کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے عثمان قائی قبیلہ کے سردار بنے اور ریاست سوگوت کو مضبوط کرتے رہے۔ وہ اب ریاست سوگوت کے سلطان کہلائے جاتے تھے۔ 1299ء میں خلافت قائم کی جو خلافت عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
    سلطان عثمان غازی اپنے والد غازی ارطغرل کی طرح دلیر اور باصلاحیت مجاہد تھے انہوں نے اس خلافت کو مضبوط کیا۔ غازی ارطغرل کی اولاد سے سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد ثانی جنہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے حقدار ٹھہرے اور سلطان محمد الفاتح کے نام سے مشہور ہوئے۔
    اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
    سلطنت عثمانیہ پر 1299سے 1922 تک 623 سالوں میں 36 سلاطین نے فرماروائی کی۔ مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ بلاشبہ یہ دور مسلمانوں کی عظمت اور عروج کا دور تھا اس دور میں مسلمان جہاد کرتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سلطنت عثمانیہ کے جاہ و جلال اور عظمت سے لرزاں رہتے تھے۔

    اللہ پاک عظیم مجاہد غازی ارطغرل اور سلطان عثمان غازی پر اپنی رحمتیں فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

  • بھارتی باکسر حادثہ میں زخمی، اب مقابلہ آسٹریلوی باکسر سے ہو گا، عامر خان کا باغی نمائندہ لندن کو انٹرویو میں‌ انکشاف

    بھارتی باکسر حادثہ میں زخمی، اب مقابلہ آسٹریلوی باکسر سے ہو گا، عامر خان کا باغی نمائندہ لندن کو انٹرویو میں‌ انکشاف

    بھارتی باکسر نیراج گویت جن کا 12 جولائی کو سعودی عرب میں‌ پاکستانی نژاد برطانوی باکسرسے مقابلہ تھا، کل رات ایک حادثے میں زخمی ہو گئے ہیں.

    باغی ٹی وی لندن کے نمائندے مجتبی شاہ کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں‌ عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے بتایا کہ نیراج گویت سے ان کا مقابلہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں‌ ہونا تھا تاہم وہ کل رات ایک حادثہ میں زخمی ہو گئے ہیں جس پر ان کا مقابلہ اب اسی دن ایک آسٹریلوی باکسر سے ہو گا جو دومرتبہ چیمپئین رہ چکے ہیں.

    باکسر خان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ ورلڈ کپ میں میرا انڈیا سے مقابلہ ہو اور میں‌ بھارتی باکسر کو ہرا کر ورلڈ کپ میں‌ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بھارت کے ہاتھوں‌ شکست کا بدلہ لے سکوں‌ تاہم افسوس کہ یہ نہیں‌ ہو سکا.

    واضح رہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر انڈین باکسر سے مقابلہ کیلئے بہت پرعزم تھے اور وہ اس سلسلہ میں‌ بھرپور تیاری کر رہے تھے. انہوں نے جدہ میں کنگ عبداللہ اسپورٹس سٹی میں اس مقابلہ کی اجازت دینے پر سعودی ولی عہد کا بھی شکریہ ادا کای تھا اور وزیر اعظم عمران خان کو بھی دعوت دی تھی کہ وہ سعودی عرب آکر ان کا مقابلہ دیکھیں‌.

    عامر خان اپنے پروفیشنل کیریئر کی38فائٹس میں عامر خان دو مرتبہ ورلڈ چمپیئن بننے میں کامیاب رہے اور اس دوران انہوں نے مارکوس میڈانا، ڈینی گارشیا، زاب جوڈھا، ساؤل الوریز جیسے باکسرز کا سامنا کیا ہے.

  • پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان کی فلم انڈسٹری "لالی ووڈ” کا آغاز 1948 میں ڈائریکٹر داؤد چاند کی فلم "تیری یاد” سے ہوا۔ 1947 سے لے کر 2007 تک لاہور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا گڑھ رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے ذیادہ فلمز میں ایکٹنگ کرنے کا ریکارڈ بھی پاکستانی اداکار سلطان راہی مرحوم کے پاس ہے جنہوں نے لگ بھگ 803 پنجابی اور اردو فلمز میں کام کیا۔ اسی بناء پر سلطان راہی مرحوم کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے اب تک تقریباً 10 ہزار اردو فلمز، 8 ہزار پنجابی فلمز، 6 ہزار پشتو فلمز اور 2 ہزار سندھی فلمز پروڈیوس کی ہیں۔ مزید علاقائی زبانوں میں بنائی گئی فلمز ان کے علاوہ ہیں۔ اگر اوسطا دیکھا جائے تو 72 سال میں پاکستان نے تقریباً ہر روز ایک نئی فلم کو جنم دیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے مثبت اور ثقافتی تشخص کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فلمز نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستانی فلمز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں مختلف ممالک میں ان کی علاقائی زبان میں "ڈبنگ” کرکے دکھایا جاتا رہاہے۔ چین میں پاکستانی اداکاروں کے مجسمے بھی بنا کر شہروں میں نصب کئے گئے جو کہ پاکستانی فلمز کی عالمی مقبولیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
    بدقسمتی سے 80 کی دہائی سے لے کر 2013 تک پاکستانی فلم انڈسٹری بیرونی سازشوں اور اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی۔ پھر اداکار و فلمساز ہمایوں سعید پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اور انہوں 2013 میں بطور فلمساز اپنی پہلی فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی ” پروڈیوس کی جو پاکستانی فلم انڈسٹری پر طاری جمود توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان میں فلمز بنانے کا سلسلہ چل نکلا جس نے نہ صرف نئے اداکار، ڈائریکٹر، کیمرہ مین، تیکنیک کار اور رائٹر پیدا کئے بلکہ نئے فلمسازوں کو بھی فلمز بنانے کا حوصلہ دیا۔
    اس وقت پاکستان کے نمایاں فلمسازوں میں ہمایوں سعید، سلمان اقبال، جرجیس سیجا، شہزاد نصیب، حسن ضیاء، یاسر نواز، فضا علی مرزا، جاوید شیخ، سید نور، علی ظفر، مہرین جبار، سلطانہ صدیقی، میمونہ درید، خالد علی اور شمعون عباسی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کی سب بڑی سینما کمپنی "Cinepax” کے ترجمان حسیب سید کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 30 پرانی(35MM) اور 120 ڈیجیٹل سینما سکرینز موجود ہیں جبکہ 28 نئی سینما سکرینز کا اضافہ رواں سال کے آخر تک ہو نے کا امکان ہے۔ جیو فلمز، اے آر وائی فلمز، ہم فلمز، اردو1 فلمز، ایور ریڈی فلمز، ڈسٹری بیوشن کلب، HKC انٹرٹینمنٹ، فٹ پرنٹ انٹرٹینمنٹ اور آئی ایم جی سی کا شمار پاکستان کے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر ز میں ہوتا ہے۔
    پاکستان کی بڑی سینما کمپنیوں کے مالکان نے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے "ایکسیلینسی فلمز” کے نام سے ایک فنڈ کا اجرء کیا۔ "ایکسیلینسی فلمز” اپنے تیار کردہ فارمولے کے تحت پاکستان کے فلم سازوں کو فلم بنانے کے لئے پیسہ فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کے منازل باآسانی طے کرسکے۔ "ایکسیلینسی فلمز” اب تک پاکستان کے کئی فلمسازوں کو فلم بنانے کے لئے فنڈز فراہم کر چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند اور سراہا جانے والا عمل ہے۔
    حکومتی سطح پر ہر دور میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ہر دور حکومت میں یہ بات صرف اور صرف کھوکھلے دعوے ثابت ہوئی جبکہ عملی طور پر فلمی صنعت کی بحالی کے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومتی سرپرستی اور سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری زبوں حالی اور بد حالی کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس صنعت کی طرف خصوصی توجہ دے تو نہ صرف یہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ملک کے سافٹ امیج کو بحال کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری زرمبادلہ کمانے کا اہم زریعہ سمجھی جاتی ہے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت ریونیو کمانے میں بھارت کی سب سے بڑی صنعت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کی توجہ اور مناسب حکمت عملی کے باعث پاکستان کی فلم انڈسٹری ملک کی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام بالا سے استدعا ہے کہ وہ گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو سہارا دیں اور اس سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا سبب بنیں۔

  • کشمیر جنت نظیر وادی نیلم کا یادگار ٹور … طارق محمود

    کشمیر جنت نظیر وادی نیلم کا یادگار ٹور … طارق محمود

    اکثر لوگ لوگ عید الفطر، عید الاضحی، 14 اگست اور دیگر موقعوں پر گھومنے پھرنے کے پروگرام ترتیب دیتے ہیں سیر و سیاحت سے سے انسان ایک دفعہ پھر روزمرہ زندگی کے امور انجام دینے کیلئے زیادہ چست ہو جاتا ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر وادی لیپا دیکھنے کا ارادہ کیا دوستوں سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ موٹر سائیکلوں کی سواری کی جائے آئے اور عید کے دن شام دس بجے نکلنے کا فیصلہ کیا گیا معلومات حاصل کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ہمارے گروپ میں سے کوئی بھی بندہ پہلے وادی لیپا نہیں گیا وادی لیپا کے متعلق معلومات رکھنے والے دوستوں نے کہا کہ اگر آپ وادی لیپا جانا چاہتے ہیں ہیں تو ضروری ہے کہ آپ میں سے کم از کم ایک بندہ ایسا ہو جو اس سے پہلے وادی لیپا جا چکا ہو، ورنہ بہتر ہوگا کہ آپ وادی نیلم کا رخ کریں کیونکہ وادی نیلم بھی خوبصورتی کے لحاظ سے اپنا ثانی نہیں رکھتی نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اپنا پروگرام بدلنا پڑا اور میں اپنے دس دوستوں کے ساتھ عید شام 10 بجے وادی نیلم کی صرف موٹر سائیکل پر روانہ ہوا ،

    رات ہونے کی وجہ سے سے شدید گرمی اور لو سے تمام دوست محفوظ رہے مری ایکسپریس وے شروع ہوتے ہی بولان ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ پر رکے ہاتھ منہ دھویا اور چائے سے لطف اندوز ہوئے جس کے بعد ایکسپریس سے ہوتے ہوئے مری اور پھر کوہالہ تک باآسانی ہم صبح چھ بجے پہنچ گئے کوہالہ چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ دکھا کر انٹری کروائی گئی اور وہاں دس منٹ رک کر دوستوں نے دریا کے ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھویا تیز رفتار دریا کا نظارہ کیا اور ابھرتے ہوئے سورج کا حسین منظر دیکھا جس کے بعد مظفرآباد کی طرف قافلہ رواں دواں ہوا ساڑھے سات بجے ہم مظفر آباد لاری اڈا کے قریب پہنچے اور گرما گرم پراٹھے، آملیٹ اور چنوں کے ساتھ ناشتہ کیا تقریبا 30 سے 35 منٹ کے قیام کے بعد آباد جی ٹی بائیکرز کا قافلہ آٹھمقام کی طرف روانہ ہوا تو چند ہی کلومیٹر پر آرمی کی چیک پوسٹ آئی جہاں پر ایک دفعہ پھر ہمیں انٹری کرانی پڑی چیک پوسٹ پر موجود فوجی جوانوں نے اپنے بہترین رویہ سے ہمیں متاثر کیا اور آگے وادی کے موسم اور حالات کے بارے میں دوستانہ معلومات فراہم کی 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہم آگے بڑھتے رہے اس دوران دریائے نیلم بل کھاتا ہوا ہمارے ساتھ ساتھ چلتا رہا اونچے پہاڑ ،خوبصورت جنگلات، ندی ،نالے اور آبشاروں نے ہمارے دل کو بہلایا کبھی چشموں کا پانی پیتے تھے اور کبھی آبشاروں کے پاس کھڑے ہوکر تصویریں بنا لیتے جس پر پتہ چلا کہ وادی نیلم آنے کا ہمارا فیصلہ انتہائی درست تھا بلا آخر دن ایک بجے ہم اٹھمقام پر پہنچے۔

    13, 14 گھنٹے مسلسل موٹر سائیکل چلانے کی وجہ سے دوستوں کے چہروں پر تھکاوٹ کے اثرات نمایاں تھےہوٹل میں کمرہ لینے کی بجائے کروائے پر ٹینٹ لیا گیا شام تک دوستوں نے خوب آرام کیا کھلے صحن میں دوستوں نے مل کر باربی کیو کی اور ٹھنڈے موسم میں گرم تکے کھا کر شام کو یادگار بنایا گیا اسی دوران تمام دوستوں نے اس ٹور کے بارے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن سے صاف پتہ چلتا تھا تھا کہ ہر کوئی بہت خوش تھا اور جتنی حوبصورتی انہوں نے دیکھی شاید وہ اتنی توقع نہیں رکھتے تھے صبح جلدی اٹھا گیا اور موٹر سائیکلوں کا قافلہ اڑنگ کیل کی جانب چل نکلا۔دواریاں کے قریب ناشتہ کیا گیا اور مقامی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اس بعد ہم مختلف وادیوں گاؤں سے ہوتے ہوئے شاردہ پہنچے یہاں سے کیل اور اڑنگ کیل تک کا راستہ اکثر کچا ہے لینڈ سلائیڈنگ جگہ جگہ ہوتی ہے اور ڈرائیورز کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے کچے پکے رستوں تو اور پہاڑوں سے آتے ہوئے سڑک کے اوپر سے بہنے والے چشموں کے پانی سے گزرتے ہوئے ہم کیل میں داخل ہوئے آئے اور یہاں بھی ہمیں دوبارہ آرمی چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ دکھا کر انٹری کروانی پڑی موٹر سائیکل اور سامان پارکنگ میں جمع کروایا اور کیبل کار کی بجائے پیدل دریا کے پل سے ہوتے ہوئے جنگلات میں سے گزر کر اوپر پہاڑ پر چڑھے اور تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد اڑنگ کیل پہنچے پہاڑوں دریا اور ندی نالوں کے مختلف دل چھو لینے والے مناظر دیکھے اور تصویریں بناتے رہے گرم چائے کا مزا لیا گیا ہوٹل میں کمرہ بک کروایا گیا یہاں پر بھی ہم نے رات کا کھانا خود تیار کیا اور کھانا کھانے کے بعد دوست سو گئے صبح جب اٹھے تو باہر بارش ہو رہی تھی اور بادل انتہائی نچلی سطح پر رواں دواں تھے مجھے ایسے دلکش مناظر دیکھنے کو ملے جو کسی سے ہالی ووڈ فلم میں بھی نہیں دیکھیں تھے دوستوں نے ایک دفعہ پھر برف پوش پہاڑوں کی فوٹوگرافی کی صبح کا ناشتہ کیا گیا اور پھر اڑنگ کیل سے نیچے اترے جہاں سے واپسی کا سفر شروع ہوا ہوا شاردہ پہنچ کر دوپہر کا کھانا کھایا گیا اور دریا کنارے دوستوں نے تصویریں اور سیلفیاں بنانے کا شوق پورا کیا یاد رہے کہ وادی نیلم میں وہاں کے مقامی موبائل نیٹ ورک کے علاوہ کوئی اور موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا اور شاردہ میں قیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ہمارے دو دوست ایک موٹر سائیکل پر کہیں پیچھے رہ گئے تھے جن کا انتظار کیا گیا سہ پہر 3 بجے کے قریب دواریاں پہنچے رتی گلی جھیل دیکھنے کی موسم نے اجازت نہ دی راستے میں بارش نے پھر آ لیا۔جس سے سبق حاصل ہوا کہ کہ وادی نیلم کی سیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ساتھ برساتی رکھے یا پھر کم از کم چھتری ضرور ہو کیونکہ جس طرح موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہیں اسی طرح لگتا ہے کہ وادی نیلم میں بارش کا بھی کوئی وقت مقرر نہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سخت دھوپ سے سے شدید بارش میں موسم تبدیل ہو جاتا ہے شام سات بجے کے قریب آٹھمقام ہوٹل پر واپس پہنچے اور حسب حال ہم نے کھانا خود تیار کیا شام کو بازار میں نکلے لے اور کشمیری نوجوانوں سے ملاقاتیں کیں انتہائی دلچسپ بات یہ تھی کہ وادی نیلم کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی پڑھی لکھی ہے ہے حالانکہ ان کو پانچ، دس اور پندرہ کلومیٹر تک پہاڑ چڑھ کر یا پہاڑ اتر کر سکول یا کالج پیدل جانا پڑتا ہے اگلی صبح اٹھمقام سے روانہ ہوئے آئے اور راستہ میں کنڈل شاہی اور کٹن کی وادیوں کی سیر کی گئی 12 بجے مظفرآباد میں ناشتہ کیا گیا یا اور براستہ کوہالہ مری ایکسپریس وے اسلام آباد پہنچے مری ایکسپریس وے کے اختتام پر تیس منٹ کا قیام کیا گیا اور چائے پی گئی اس کے بعد تین گھنٹے کے سفر کے بعد تمام دوست خیروعافیت سے گجرات واپس پہنچ گئے یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ وادی نیلم میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد سیر کرنے کے لئے پہنچی ہوئی تھی اور مجھے وہ رجان کم ہوتا ہوا نظر آیا جس کے مطابق پاکستان کی ایلیٹ کلاس پاکستان کی سیر کرنے کی بجائے یورپ کی طرف نکل جاتی ہے اور ہاں اگر آپ بھی موٹر سائیکل پر جانا چاہتے ہیں تو پنکچر کا سامان ساتھ ضرور رکھیں۔