Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • لڑکیوں کے لیے تعلیم کی اہمیت ،تحریر: نیہا علی

    لڑکیوں کے لیے تعلیم کی اہمیت ،تحریر: نیہا علی

    تعلیم انسان کی زندگی کا وہ روشن چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو ختم کرکے شعور، خوداعتمادی اور ترقی کی راہیں روشن کرتا ہے۔ اگر ایک مرد تعلیم حاصل کرتا ہے تو ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے، لیکن جب ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے تو ایک پورا خاندان علم کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔ اسی لیے لڑکیوں کی تعلیم محض ایک فرد کا حق نہیں بلکہ ایک مضبوط اور باشعور معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
    لڑکی ایک بیٹی بھی ہے، بہن بھی، بیوی بھی اور آنے والی نسلوں کی ماں بھی ہوتی ہے ایک تعلیم یافتہ ماں اپنی اولاد کی بہتر تربیت کرسکتی ہے، اسے اچھے اور برے میں فرق سکھا سکتی ہے اور معاشرے کے لیے ذمہ دار شہری تیار کرسکتی ہے۔ اس لیے لڑکی کو تعلیم سے محروم کرنا دراصل آنے والی نسلوں کو علم اور شعور سے محروم کرنا ہے۔

    مجھے افسوس ہوتا ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں بعض جگہ لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کہیں غربت رکاوٹ بنتی ہے، کہیں فرسودہ روایات، اور کہیں یہ سوچ کہ لڑکی نے آخرکار گھر ہی سنبھالنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم گھر سنبھالنے میں رکاوٹ ہے ہرگز نہیں، تعلیم یافتہ عورت اپنے گھر کو زیادہ سمجھ داری، شعور اور بہترین تربیت کے ساتھ سنبھال سکتی ہے۔اسلام نے ہمیں بھی علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ علم کسی ایک جنس کی میراث نہیں۔ ایک مسلمان لڑکی کو بھی علم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاریخ میں ایسی بے شمار باعلم خواتین گزری ہیں جنہوں نے علم و عمل کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔لڑکیوں کی تعلیم کا مطلب صرف ڈاکٹر، انجینئر یا استانی بنانا نہیں بلکہ تعلیم کا اصل مقصد ایک ایسی باشعور انسان بنانا ہے جو اپنے حقوق و فرائض کو سمجھے، فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھے، اپنے خاندان کی بہترین تربیت کرے اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے ہمیں چاہیے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع پیدا کریں۔ والدین اپنی بیٹیوں کے خوابوں کو بوجھ نہ سمجھیں بلکہ ان کے حوصلوں کو پرواز دیں۔ کیونکہ بیٹی کے ہاتھ میں کتاب صرف چند صفحات نہیں ہوتی، وہ دراصل ایک روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔آئیے آج ہم سب عہد کریں کہ ہم کسی بیٹی کو صرف اس لیے تعلیم سے محروم نہیں کریں گے کہ وہ لڑکی ہے۔ اسے قلم دیں، کتاب دیں، علم دیں اور اپنے خواب پورے کرنے کا حق دیں۔ کیونکہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی صرف اپنا مستقبل نہیں سنوارتی، وہ ایک نسل کا مستقبل سنوارتی ہے۔ہم بیٹیاں ہیں، ہمیں سلام اجازت دیتا ہے-مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی۔ہم بیٹیاں ہیں ہمیں کمزور سمجھ کر پیچھے ہٹانے کے بجائے ہمارے ہاتھ میں قلم اور ہمارے قدموں میں حوصلہ دیا جائے۔ہم کسی سے آگے نکلنے کی جنگ نہیں چاہتی ،ہم تو بس اتنا چاہتی ہیں کہ مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنے علم، ہنر اور صلاحیتوں سے معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔کیونکہ بیٹی صرف گھر کی زینت نہیں،وہ ایک نسل کی معمار بھی ہے۔

  • بئر برہوت: ’’جہنم کا کنواں‘‘ اور صحرائے عرب کے نیچے چھپا ہوا راز،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    بئر برہوت: ’’جہنم کا کنواں‘‘ اور صحرائے عرب کے نیچے چھپا ہوا راز،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    جنات، بدروحوں، پراسرار بدبو اور پراسرار اموات سے متعلق صدیوں پرانی کہانیاں — اور آخرکار عمانی ماہرینِ غار نے اس کی تہہ میں کیا دریافت کیا


    دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدت میں تخصص
    رکن، ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈویلپم

    میجر (ر) ہارون رشید پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ افسر اور دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار ہیں۔ انہیں عسکری امور، اسٹریٹجک مطالعات، جغرافیائی سیاست، سیکیورٹی کے معاملات اور جنگوں کی تاریخ میں خصوصی دلچسپی ہے وہ جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی، دفاعی جدت اور ابھرتی ہوئی عسکری ٹیکنالوجیز کے موضوعات پر وسیع پیمانے پر لکھتے رہے ہیں
    ۔
    وہ ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ سے بھی وابستہ ہیں اور تحقیق، تجزیے اور سماجی ترقی کے مختلف اقدامات میں سرگرم رہے ہیں۔ ان کی تحریروں میں اکثر خبروں کی سطح سے آگے بڑھ کر واقعات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ثابت شدہ حقائق کو دعووں، مفروضوں، لوک روایات اور سیاسی بیانیوں سے الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    یہ مضمون ایک مختلف سفر کی داستان ہے — میدانِ جنگ اور عسکری ٹیکنالوجی سے دور، جزیرہ نمائے عرب کی ایک انتہائی پراسرار ارضیاتی تشکیل کی گہرائیوں تک۔

    صحراء کے درمیان ایک سیاہ گہرا سوراخ
    صدیوں سے مشرقی یمن کے ایک دور افتادہ صحرا میں چھپی ہوئی ایک *پراسرار جگہ کے بارے میں کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں
    اسے بئر برہوت کہا جاتا ہے، لیکن اس کا زیادہ خوفناک نام پوری دنیا میں مشہور ہو چکا ہے

    ’’جہنم کا کنواں‘
    یہ نام ہی کسی قدیم داستان کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
    یمن کے المہرہ گورنریٹ میں، عمان کی سرحد کے قریب واقع یہ عظیم الشان گول دہانہ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے صحرا کی زمین سے ایک دیوہیکل آنکھ باہر دیکھ رہی ہو۔.

    اس کا دہانہ تقریباً 30 میٹر چوڑا ہے، جبکہ اس کی گہرائی تقریباً 112 میٹر تک پہنچتی ہے۔ اندر جا کر یہ غار کافی وسیع ہو جاتا ہے اور ایک ایسی زیرِ زمین دنیا تشکیل دیتا ہے جس کے بارے میں نسلوں تک بہت کم معلومات دستیاب تھیں۔
    لیکن برہوت کو مشہور بنانے والی صرف اس کی ظاہری شکل نہیں تھی۔اصل وجہ اس سے جڑی ہوئی کہانیاں تھیں۔

    ’’جہنم کے کنویں‘‘ کی داستانیں
    نسل در نسل مقامی لوک روایات میں برہوت کو ایسی جگہ کے طور پر بیان کیا جاتا رہا جہاں جانا نہیں چاہیے۔
    بعض روایات میں اسے جنات یا بدروحوں کی قید گاہ قرار دیا گیا۔ بعض کا دعویٰ تھا کہ یہ کنواں عالمِ ارواح یا زیرِ زمین دنیا سے جڑا ہوا ہے اور جو شخص اس میں داخل ہوگا، اس کا انجام انتہائی خوفناک ہو سکتا ہے۔
    ایسی کہانیاں بھی موجود تھیں کہ جو شخص اس کے بہت قریب جائے گا، وہ اس تاریکی میں نگل لیا جائے گا۔
    کچھ لوگ تو یہ بھی سمجھتے تھے کہ صرف اس جگہ کا ذکر کرنا بھی بدقسمتی کا باعث بن سکتا ہے۔
    پھر اس کے اندر سے آنے والی مبینہ پراسرار بدبو کی کہانیاں بھی تھیں۔
    ایک ایسے دور افتادہ صحرائی ماحول میں رہنے والے لوگوں کے لیے، جہاں زمین میں ایک بہت بڑا سیاہ سوراخ موجود ہو جو اچانک گہرائی میں غائب ہو جائے، اس کے اندر سے نامعلوم بدبو آئے اور اس کے گرد صدیوں پرانی خوفناک داستانیں گردش کرتی ہوں، تو خوف پیدا ہونا فطری بات تھی۔
    سائنسی تحقیق کا فقدان ہی اس راز کو مزید گہرا کرتا رہا
    کسی کو یقین سے معلوم نہیں تھا کہ اس کی تہہ میں آخر کیا موجود ہے۔

    کیا یہ واقعی جہنم کا دروازہ تھا؟
    2021 سے پہلے کچھ لوگوں کے اس گہرے سوراخ میں جزوی طور پر اترنے کی اطلاعات ضرور موجود تھیں، لیکن پورے غار کی مکمل اور مستند سائنسی تحقیق نہیں ہوئی تھی۔
    کچھ سابقہ افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ تقریباً 50 سے 60 میٹر تک نیچے گئے، لیکن اصل تہہ بدستور ایک راز رہی۔
    اس صورتحال نے انسانی تخیل کے لیے بے پناہ گنجائش پیدا کر دی۔
    کیا وہاں زہریلی گیس موجود تھی؟
    کیا زیرِ زمین خطرناک مخلوقات رہتی تھیں؟
    کیا وہاں کوئی بہت بڑا پوشیدہ زیرِ زمین کمرہ تھا؟
    کیا جنات سے متعلق کہانیاں کسی حقیقی تجربے پر مبنی تھیں؟
    یا پھر برہوت صرف ایک غیر معمولی قدرتی ارضیاتی تشکیل تھی، جس نے نسل در نسل لوک داستانوں کو جنم دیا؟
    آخرکار ستمبر 2021 میں اس سوال کا جواب سامنے آ گیا۔

    عمانی ٹیم کا زیرِ زمین سفر
    عمان کیو ایکسپلوریشن ٹیم (OCET) نے یمن کے جیولوجیکل سروے اینڈ منرل ریسورسز بورڈ کے تعاون سے المہرہ کا سفر کیا تاکہ اس پراسرار ارضیاتی تشکیل کا جائزہ لیا جا سکے۔
    یہ کوئی عام سیاحتی مہم نہیں تھی۔
    اس ٹیم میں تجربہ کار غار کھوجنے والے ماہرین اور ماہرینِ ارضیات شامل تھے، جو ایک انتہائی گہرے اور بڑے پیمانے پر غیر دریافت شدہ زیرِ زمین ماحول میں اترنے کے لیے تیار تھے۔

    15 ستمبر 2021 کو ماہرین نے نیچے اترنا شروع کیا۔
    رسیاں تاریکی میں غائب ہو گئیں۔
    ایک ایک کرکے ماہرین صحرا کی سطح سے تقریباً 112 میٹر نیچے اترتے چلے گئے۔
    آخرکار وہ تہہ تک پہنچ گئے۔
    پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے یہ حقیقت آ گئی کہ افسانوی بئر برہوت کے اندر حقیقت میں کیا موجود تھا۔
    جنات نہیں ، لیکن زندگی بہت تھی
    جو کچھ انہوں نے دیکھا، وہ حیران کن تھا۔
    لیکن وہ مافوق الفطرت نہیں تھا۔
    وہاں سانپ، مینڈک یا ٹوڈ، بھنورے، چھپکلیاں اور پرندے موجود تھے۔ وہاں ایسے مردہ جانور اور پرندے بھی ملے جو اوپر سے گر کر غار کے اندر پہنچ گئے تھے۔
    وہاں آبشاریں تھیں۔
    زیرِ زمین کمرے تھے۔
    چونے کے پتھر کی حیرت انگیز قدرتی تشکیلیں تھیں۔
    اور وہاں پانی بھی تھا۔
    ماہرین کو ایسے شواہد بھی ملے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ کنویں سے وابستہ ناخوشگوار بدبو کی ایک بالکل قدرتی وجہ ہو سکتی ہے: ایسے مردہ جانور اور پرندے جو غار میں گر کر گل سڑ گئے تھے۔
    جس زیرِ زمین دنیا کو مافوق الفطرت اور خوفناک سمجھا جاتا تھا، وہ دراصل ارضیاتی اور قدرتی دنیا ثابت ہو رہی تھی۔

    غار کے موتی
    اس مہم کے دوران سامنے آنے والی سب سے دلچسپ چیزوں میں غار کے موتی (Cave Pearls) بھی شامل تھے۔
    مہم کے دوران بنائی گئی تصاویر میں زیرِ زمین آبشاروں کے نیچے سرمئی اور ہلکے سبز رنگ کی ایسی تشکیلیں دکھائی دیں جو حیرت انگیز طور پر موتیوں جیسی نظر آتی تھیں۔
    لیکن یہ سیپ سے پیدا ہونے والے موتی نہیں تھے اور نہ ہی روایتی معنوں میں قیمتی جواہرات تھے۔
    یہ ارضیاتی تشکیلیں ہیں جو اس وقت بنتی ہیں جب بہتے یا گرتے ہوئے پانی کے نیچے کیلشیم کاربونیٹ کسی چھوٹے سے مرکزے کے گرد جمع ہونا شروع ہوتا ہے۔
    طویل عرصے کے دوران تہہ در تہہ مواد جمع ہوتا رہتا ہے اور ایک ہموار، گول شکل اختیار کر لیتا ہے، جس سے وہ موتی جیسا دکھائی دینے لگتا ہے۔
    غار کے ماہر محمد الکندی نے انہیں گرتے ہوئے پانی کے نیچے مرکزوں کے گرد بننے والے کیلشیم کاربونیٹ کے دائروی ذخائر قرار دیا۔
    لہٰذا ’’جہنم کے کنویں‘‘ میں واقعی ایسی چیز موجود تھی جسے موتی کہا جاتا ہے — لیکن یہ کسی پوشیدہ خزانے کے قیمتی موتی نہیں بلکہ قدرت کی ایک دلچسپ ارضیاتی تخلیق تھی۔

    صحراء کے نیچے آبشاریں
    شاید اس مہم کی سب سے حیران کن دریافتوں میں سے ایک وہاں پانی کی موجودگی تھی۔
    سطحِ زمین سے تقریباً 65 میٹر نیچے، چٹانوں میں موجود سوراخوں سے پانی نکلتا ہے اور غار کے اندر آبشاریں بناتا ہے۔
    عمانی ٹیم نے متعدد آبشاروں کو دستاویزی شکل دی، جن میں بعض کا بہاؤ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تھا۔
    ذرا ایک لمحے کے لیے اس منظر کا تصور کریں۔
    ماہرین کے اوپر خشک اور بنجر عرب صحرا تھا۔
    اور ان کے نیچے ایک بالکل مختلف دنیا موجود تھی — چونے کی پتھریلی دیواروں سے گرتا ہوا پانی، تالاب، چٹانیں، زندہ مخلوقات اور معدنی تشکیلیں۔
    ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے صحرا کے نیچے ایک اور صحرا چھپا ہوا ہو۔

    ’’بدبو‘‘ کی حقیقت
    برہوت کے بارے میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی کہانیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس کی گہرائیوں سے ایک خوفناک بدبو اٹھتی ہے۔
    مہم کے دوران غار کے اندر مردہ پرندے اور جانور واقعی موجود پائے گئے۔
    اس سے کم از کم بدبو کے ایک بڑے حصے کی ایک سادہ اور قدرتی وضاحت سامنے آتی ہے۔
    ماہرین نے زیرِ زمین فضا کا جائزہ لینے کے لیے آلات بھی استعمال کیے۔
    محمد الکندی کے مطابق وہاں آکسیجن کی صورتحال معمول کے مطابق تھی اور ایسی زہریلی فضا موجود نہیں تھی جیسی بعض سابقہ کہانیوں میں بیان کی جاتی رہی تھی۔
    انہوں نے یہاں تک بتایا کہ ماہرین نے غار کے اندر موجود پانی پیا اور انہیں کسی غیر معمولی اثر کا سامنا نہیں ہوا۔
    لہٰذا حقیقت اس افسانے کے مقابلے میں کہیں کم خوفناک تھی۔
    بدبو کی ایک قدرتی وجہ تھی۔
    مخلوقات قدرتی تھیں۔
    پانی قدرتی تھا۔
    چٹانوں کی تشکیل قدرتی تھی۔
    اور تاریکی صرف تاریکی تھی۔
    لیکن داستان آج بھی زندہ ہے
    سائنس بئر برہوت کی طبعی حقیقت کی وضاحت تو کر سکتی ہے، لیکن وہ صدیوں پرانی لوک روایات کو ایک رات میں ختم نہیں کر سکتی۔
    نسلوں تک لوگوں نے اس عظیم سیاہ سوراخ کے اندر جھانکا، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس کے نیچے کیا موجود ہے۔
    انہوں نے اس تاریکی کو کہانیوں سے بھر دیا۔
    شاید بہت سے راز اسی طرح جنم لیتے ہیں۔
    جب کسی چیز کی سائنسی وضاحت موجود نہ ہو تو انسانی تخیل اس کی اپنی وضاحت تخلیق کر لیتا ہے۔
    اور جب کوئی کہانی سینکڑوں سال تک دہرائی جائے تو وہ مقامی ثقافت کا حصہ بن جاتی ہے۔
    اسی لیے بئر برہوت کی دو تاریخیں ہیں۔
    ایک ارضیاتی تاریخ — ایک ایسے قدرتی غار کی تاریخ جو پانی اور چونے کے پتھر کے باہمی عمل سے ایک بہت طویل عرصے کے دوران تشکیل پایا۔
    اور دوسری انسانی تاریخ — خوف، لوک روایات، مذہبی روایات اور انسانی تخیل کی تاریخ۔
    دونوں مل کر بئر برہوت کو دلچسپ بناتے ہیں۔
    اصل راز شاید اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھا
    2021 کی مہم نے جہنم کے دروازے دریافت نہیں کیے۔
    اس نے شاید اس سے بھی زیادہ حیران کن چیز دریافت کی۔
    جزیرہ نمائے عرب کے ایک انتہائی دور افتادہ صحرا کے نیچے ایک پوشیدہ ماحولیاتی اور ارضیاتی دنیا موجود تھی۔
    جہاں لوگ تاریکی کی توقع کرتے تھے، وہاں آبشاریں تھیں۔
    جہاں لوگ موت کا تصور کرتے تھے، وہاں زندگی موجود تھی۔
    جہاں لوگ صرف چٹانوں کی توقع کرتے تھے، وہاں غار کے موتی موجود تھے۔

    اور جہاں نسلوں نے مافوق الفطرت دنیا دیکھی، وہاں قدرتی سائنس موجود تھی۔
    بئر برہوت ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے:
    کبھی کبھی حقیقت کسی راز کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اسے اور بھی زیادہ حیران کن بنا دیتی ہے۔
    صدیوں تک لوگ سوچتے رہے کہ یمنی صحرا کے اس سیاہ سوراخ کے نیچے آخر کیا چھپا ہوا ہے۔
    ستمبر 2021 میں بہادر عمانی ماہرین آخرکار یہ معلوم کرنے کے لیے نیچے اترے۔
    وہ تصاویر، ارضیاتی نمونے، سائنسی مشاہدات — اور ایک حیرت انگیز داستان لے کر واپس آئے۔
    ’’جہنم کا کنواں‘‘ کسی دوسری دنیا کا دروازہ ثابت نہیں ہوا۔
    بلکہ شاید وہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز چیز تھا:
    اپنی ایک الگ پوشیدہ دنیا۔

    خلاصہ
    بئر برہوت کی داستان لوک روایات، ایمان، ارضیات، مہم جوئی اور انسانی تجسس کے حیرت انگیز امتزاج کی داستان ہے۔
    اس کے گرد موجود افسانے شاید آنے والی نسلوں تک زندہ رہیں گے۔
    لیکن عمان کیو ایکسپلوریشن ٹیم کی بدولت اب دنیا کو یہ تصور کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس کی تہہ میں کیا موجود ہے۔
    ہم اسے دیکھ چکے ہیں۔
    اور جس جگہ کو کبھی ’’جہنم کا کنواں‘‘ سمجھ کر خوف کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اس نے خود کو جزیرہ نمائے عرب کی قدرتی دنیا کے انتہائی حیرت انگیز عجائبات میں سے ایک کے طور پر ظاہر کر دیا ہے۔

  • سفرنامہ:  گجرات آوارگی،تحریر:زین سلیم جاجووال

    سفرنامہ: گجرات آوارگی،تحریر:زین سلیم جاجووال

    صبح کی سپید روشنی ابھی افق کے کناروں پر دھیرے دھیرے بکھر رہی تھی۔ رات کی خنکی نے فضا میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہوئی تھی اور پرندوں کی پہلی چہچہاہٹ ایک نئے دن کی نوید سنا رہی تھی۔ ناشتے سے فراغت کے بعد میرپور روانگی کی تیاری کر رہا تھا۔ سفر کا سامان تقریباً تیار تھا ذہن میں راستوں کے نقشے اور آنے والے دن کی منصوبہ بندی گردش کر رہی تھی کہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی نے ان خیالات کا تسلسل توڑ دیا۔
    فون اٹھایا تو دوسری جانب ایک مانوس پُرخلوص اور باوقار آواز تھی۔ یہ آواز رائے فصیح اللہ جرال کی تھی۔ گجرات میں چند ایسی شخصیات ہیں جن کی محبت اور خلوص کی ایک آواز پر ہم گجرات دورے چلے آتے ہیں۔ ان ہی شخصیات میں فصیح اللہ جرال کا بھی شمار ہوتا ہے۔ کال اٹھائی خال احوال پوچھا اور فصیح بھائی کی طرف سے پیغام آیا کہ "آج گوشۂ نشاط جانے کا ارادہ ہے، آپ گجرات آ جائیں۔ احسان فیصل کنجائی بھی پہنچ رہے ہیں سب اکٹھے چلتے ہیں۔

    یہ سنتے ہی میرپور کا پروگرام ذہن کے کسی گوشے میں دبک گیا۔ کتابی دوستوں کا بلاوا ہو تو پھر انکار کی گنجائش کہاں رہتی ہے۔ میں نے فوراً حامی بھر لی اور گجرات روانگی کی تیاری شروع کر دی۔
    ضروری امور سے فراغت کے بعد سفر کا پہلا پڑاؤ دولت نگر تھا۔ یہاں توصیف بھائی سے ملاقات ہوئی توصیف بھائی اہل علم آدمی ہیں اور محکمہ پولیس میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ چند کتب ان کی نذر کیں اور اگلی منزل میری منتظر تھی۔

    دولت نگر سے رخصت ہو کر رخ کتب خانہ شیرانی کا کیا۔ سہ پہر ڈھل رہی تھی اور گھڑی کی سوئیاں تقریباً چار بجنے کا اعلان کر رہی تھیں جب کتب خانہ شیرانی پہنچا تو احسان فیصل کنجائی اور رائے فصیح اللہ جرال پہلے ہی میرے انتظار میں تشریف فرما تھے۔ جولائی کی دوپہر اپنی پوری شدت کے ساتھ زمین پر آگ برسا رہی تھی۔ سورج کی تپش یوں محسوس ہوتی تھی جیسے آسمان سے انگارے برس رہے ہوں گرمی کی شدت ایسی کہ چیل اپنے انڈے چھوڑ گئی ہو۔ مگر کتب بینی کے شیدائیوں کے لیے کتب خانے ٹھنڈی چھاوں کی طرح ہوتے ہیں اور یہ ٹھنڈی چھاؤں المیر اور شیرانی میں محسوس کی جا سکتی ھے۔چنانچہ کچھ دیر کتب خانہ شیرانی کی علمی فضا میں بیٹھ کر گفتگو کا لطف لیا اور گرمی کی شدت کو بھی بھلا دیا۔
    شام پانچ بجے ہم رائے فصیح اللہ جرال کے ہمراہ سو سے زائد کتب لیے جلالپور جٹاں کی جانب روانہ ہوئے۔ راستہ قہقہوں کی گونج اور ادبی گفتگو اور تاریخی تذکروں سے یوں آباد تھا کہ سفر کی مسافت کا احساس ہی نہ ہوا۔
    جلالپور جٹاں میں ہمارا پہلا پڑاؤ بنت سلام گرلز کالج تھا جہاں شوکت صاحب کو کالج کے کتب خانہ کے لیے فصیج نے سو سے زائد کتب عطیہ کیں اور ہم نے اپنی اپنی تصنیف پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔۔
    ہماری اگلی منزل جلالپور جٹاں تھی ایک ایسا قدیم قصبہ جس کی مٹی میں تاریخ کی خوشبو آج بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ سخنوروں کی سرزمین گجرات اپنے علمی، ادبی اور تہذیبی تشخص کے باعث ہمیشہ ممتاز رہی ہے، مگر اس کی شناخت صرف اہلِ قلم تک محدود نہیں۔ اس خطے کے چند قصبے ایسے بھی ہیں جو اپنے سینے میں صدیوں کی تہذیب اور تمدن کے نقوش محفوظ کیے ہوئے ہیں۔
    ان قصبوں میں قصبہ کنجاہ اور جلالپور جٹاں شامل ہیں۔

    شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے ہم جلالپور جٹاں کے معروف ادبی مرکز گوشۂ نشاط پہنچے۔ پروفیسر کلیم احسان بٹ صاحب نے حسبِ روایت نہایت محبت اور خلوص سے ہمارا استقبال کیا اور میری تازہ کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کی۔ کچھ دیر چائے کی پیالی کے ساتھ ادب تاریخ اور جلالپور جٹاں کی علمی روایت پر دل چسپ گفتگو ہوتی رہی۔ اس موقع پر بٹ صاحب نے جلالپور جٹاں کی مشہور خطایاں بھی ہماری تواضع میں پیش کیں جن کا ذائقہ مقامی ثقافت کی مٹھاس لیے ہوئے تھا۔
    چند خوشگوار لمحات گزارنے کے بعد ہم نے کلیم صاحب سے اجازت چاہی اور عرض کیا کہ آج کا مقصد جلالپور جٹاں کی تاریخی گلیوں آثارِ قدیمہ اور اس شہر سے وابستہ علمی و ادبی شخصیات کے نقوش دیکھنا ہے۔ آج ہم فصیح جرال کی وساطت سے اس شہر کے کونے کونے کو دیکھنے آئیں ہیں۔ یوں ہم گوشہ نشاط کو خیر باد کہتے ہوئے تنگ گلیوں کی جانب پیدل روانہ ہوئے اور محلہ سادھو پہنچ گئے۔
    محلہ سادھو کی خاموش گلیوں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کی دہلیز سے وابستہ یادیں آج بھی اہل ذوق کے حافظے میں تازہ ہیں

    محلہ سادھو کی پُرسکون گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسا مکان بھی سامنے آیا جس نے بے اختیار قدم روک لیے۔ یہ غلام حسین گارڈ کا گھر تھا جو ممتاز ادیب اور محقق پروفیسر کلیم احسان بٹ کے ہمسائے رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام سا مکان دکھائی دیتا ہے مگر اس کی دیواروں سے وابستہ یادیں غیر معمولی ہیں۔ غلام حسین گارڈ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات پوشیدہ تھے جنہیں معروف قلم کار پروفیسر خالد ہمایوں نے ایک زمانے میں قومی ڈائجسٹ کے صفحات پر اس دلکشی سے رقم کیا کہ وہ محض سوانحی واقعات نہ رہے بلکہ ایک پورے عہد کی معاشرتی تصویر بن گئے۔
    محلہ سادھو سے نکل کر جب قدم محلہ چمرنگی کی جانب بڑھے تو یوں محسوس ہوا جیسے شہر کی تاریخ ایک اور ورق الٹ رہی ہو۔ اس محلے کا نام محض ایک جغرافیائی شناخت نہیں بلکہ اپنے اندر ایک قدیم صنعت کی بازگشت سموئے ہوئے ہے۔ کبھی یہاں چمڑے کو رنگنے کا کام بڑے پیمانے پر ہوتا تھا۔ رنگوں سے بھرے حوض محنت کشوں کی مصروف آوازیں اور دباغت کی مخصوص مہک اس بستی کی پہچان تھیں۔ وقت نے اگرچہ وہ منظر بدل دیے مگر محلے کا نام آج بھی اپنے ماضی کی گواہی دیتا ہے۔
    اسی محلے میں معروف صحافی ملک لال خاں کا گھر بھی واقع ہے۔ ان کی رہائش گاہ کے سامنے سے گزرتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے اس خاموش مکان کی دیواریں بھی قلم کی حرمت صحافت کی جرأت اور گزرے ہوئے زمانوں کی کتنی ہی داستانیں اپنے سینے میں محفوظ کیے بیٹھی ہوں۔ ملک لال خاں ایک شاعر ادیب اور صحافی تھے ان کی یادوں صحافتی بصیرت اور زندگی کے نشیب و فراز کو المیر کے چشم و چراغ ندیم اللہ میر نے داستان لال کے عنوان سے نہایت دل نشیں انداز میں قلم بند کیا ہے۔

    اسی دوران ہمیں معروف فوجی افسر، مؤرخ اور مصنف کرنل ایاز کی حویلی بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ حویلی اپنے اندر ماضی کی کئی داستانیں سموئے کھڑی ہے۔ کرنل ایاز نے عسکری خدمات کے ساتھ ساتھ تاریخ کے میدان میں بھی گراں قدر کام کیا اور ان کی شخصیت جلالپور جٹاں کی علمی و تاریخی شناخت کا ایک اہم حوالہ ہے۔
    محلہ چمرنگی کی بند اور تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک روحانی سکون دل پر اترنے لگا۔ انہی پیچ در پیچ راستوں کے درمیان محلہ خیبر اور محلہ چمرنگی کی سرحد پر معروف روحانی بزرگ حضرت قاضی عبدالحق قریشی قادریؒ کا مزار واقع ہے۔ شہر کے شور و غوغا سے ذرا ہٹ کر یہ مقام آج بھی عقیدت مندوں کے لیے قلبی آسودگی اور روحانی طمانیت کا مرکز ہے۔ مزار کے احاطے میں قدم رکھتے ہی فضا کی خاموشی، درختوں کی سرسراہٹ اور زائرین کی مدھم دعائیں ایک ایسا منظر تشکیل دیتی ہیں جو دل کو دنیا کی ہنگامہ خیزی سے کاٹ کر کسی اور ہی عالم میں لے جاتا ہے۔
    حضرت قاضی عبدالحق قریشی قادری حضرت قاضی عبدالحکیم قادری کے بھتیجے تھے اور اپنے تقوی علم اور روحانی فیض کے باعث لورے شہر میں بڑی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کے مریدِ خاص شیخ صدیق ظفر نے اپنے مرشد سے عقیدت کے اظہار کے طور پر ان کے نام سے عبدالحق کالج قائم کیا، جو آج بھی ان کی یاد اور علمی و روحانی وراثت کی ایک خوب صورت علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مزار سے رخصت ہوتے ہوئے یہی احساس غالب رہا کہ بعض شخصیات اپنے وصال کے بعد بھی اپنے کردار، فیض اور تربیت کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں، اور ان کے نقوش وقت کی گرد بھی مٹا نہیں پاتی۔
    آگے بڑھتے ہوئے جلالپور کی اولین امام بارگاہ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس امام بارگاہ کو دیکھنے کی حسرت مہینوں سے تھے مگر میرے اصرار کے باوجود فصیح بھائی نے 10 محرم کو ہمیں امام بارگاہ کے خاضرین کی خدمت کا موقع نہ دیا۔ خیر محلہ امام بارگاہ ہمارے انتظار میں تھا پہلی نظر امام گاہ پر پڑی تو دلی سکون محسوس ہوا۔ یہ امام بارگاہ محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ ہجرت عقیدت اور تاریخ کا ایسا روشن استعارہ ہے جس کی بنیاد سری نگر کشمیر سے آنے والے کشمیری میر برادران نے رکھی۔ انہوں نے یہاں مسجد اور امام بارگاہ تعمیر کرکے اس بستی کو ایک نئی روحانی اور تہذیبی شناخت عطا کی۔ آج بھی ان عمارتوں کی خاموش دیواریں اپنے معماروں کی بصیرت، اخلاص اور دینی وابستگی کی گواہی دیتی ہیں۔
    انہی کشمیری میر خاندان کے چشم و چراغ گجرات کے معروف کتاب دوست علم پرور شخصیت اور ادارۂ المیر کے روح رواں عارف علی میر کے پردادا عبداللہ میر نے بھی یہیں سکونت اختیار کی۔ روایت ہے کہ جب انہوں نے اس بلند ڈھیری کو اپنا مسکن بنایا تو اسی نسبت سے اس بستی کا نام محلہ خیبر پڑ گیا۔ وقت نے کئی موسم بدلے، نسلیں تبدیل ہوئیں اور گلیوں کی صورت بھی بدلتی رہی، مگر اس محلے کی روح آج بھی اپنی تہذیبی اور مذہبی شناخت کے ساتھ زندہ ہے۔

    آج انہی گلیوں سے گزرتے ہوئے بار بار صدائے حسین کی گونج کانوں سے ٹکراتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ فضا صرف محرم کے دنوں میں نہیں، بلکہ پورا سال کربلا کے پیغام ایثار وفا اور حق گوئی کی خوشبو سے معطر رہتی ہو۔ سفر کی یہی کیفیت دل کو بار بار یہ احساس دلاتی ہے کہ بعض بستیاں اپنے مکینوں سے نہیں بلکہ اپنی تاریخ، اپنی روایت اور اپنے عقیدے سے پہچانی جاتی ہیں۔۔
    قدیم گلیوں کا سفر جاری تھا۔ محلہ درہم سالہ، محلہ مرثایاں اور محلہ لوہاراں سے گزرتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے ہر محلہ اپنے نام میں صدیوں کی کوئی خاموش داستان سمیٹے ہوئے ہو۔ راستے میں پرانا تھانہ نظر آیا، جس کی خاموش دیواریں گزرے زمانوں کی گواہی دے رہی تھیں۔ آگے بڑھ کر حکیم صابر علی شاہ کا گھر دیکھا جہاں علم طب اور خدمت خلق کی خوشبو آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ اسی سفر میں معروف شاعر اور نغمہ نگار راجندر کرشن کے آبائی گھر کی زیارت بھی ہوئی۔ اس گھر کے سامنے ایک لمحہ ٹھہر کر یوں لگا جیسے تخلیق کی کوئی قدیم روشنی آج بھی ان گلیوں میں اپنا عکس بکھیر رہی ہو۔
    راجندر کرشن برصغیر کے مشہور ترین فلمی نغمہ نگار تھے۔ راجندر کرشن کے آبائی گھر کے سامنے بھی حاضری کا موقع ملا۔ یہ وہی راجندر کرشن ہیں جنہوں نے تقسیمِ ہند کے بعد ممبئی کی فلمی دنیا میں اپنی شاعری اور نغمہ نگاری سے لازوال شہرت حاصل کی۔ ان کے قلم سے نکلے بے شمار گیت آج بھی موسیقی کے شائقین کی یادوں میں زندہ ہیں۔ ان کے آبائی گھر کے سامنے کھڑے ہو کر پہلی نظر ان کی بالکونی پر پڑی جس سے یہ احساس ہوا کہ واقعی ہی سامنے والے کھڑکی میں کوئی چاند کا مکھڑا رہتا ہو گا۔یہ وہی راجندر کرشن ھے جہنوں نے لکھا کہ میرے سامنے والی کھڑکی پہ اک چاند سا مکھڑا رہتا ھے۔

    میں اور احسان فیصل کنجاہی گرمی اور مسلسل پیدل سفر کے باعث پسینے میں شرابور تھے مگر فصیح بھائی کے قدموں کی رفتار میں کوئی کمی نہ آئی۔ فصیح بھائی تمام داستان سناتے ہوئے آگے آگے چل رہے تھے جو ہر گلی، ہر محلے اور ہر تاریخی عمارت کے ساتھ جڑی ہوئی داستانیں اس انداز سے سنا رہے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم سفر نہیں کر رہے بلکہ تاریخ کے اوراق ایک ایک کرکے ہماری آنکھوں کے سامنے کھلتے جا رہے ہوں۔ ان کی زبانی سنی ہوئی ہر روایت اس بستی کے ماضی کو زندہ کر دیتی اور سفر محض راستوں کی پیمائش نہیں بلکہ یادوں تاریخ اور تہذیب کی بازیافت بنتا چلا گیا۔
    راستے میں یونس سنیارہ کا قدیم گھر بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ عمارت محض ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ اپنے اندر تاریخ کا ایک باب سموئے ہوئے ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل 1947ء تک یہاں ایک بینک قائم رہا جہاں کبھی شہر کی تجارتی سرگرمیوں کی دھڑکن سنائی دیتی تھی۔ آج اس کے در و دیوار خاموش ہیں مگر ماضی کی بازگشت اب بھی ان میں محسوس ہوتی ہے۔
    کچھ ہی فاصلے پر پرانا پھانسی گھاٹ بھی نظر آیا اس مقام پر ایک لمحے کو قدم خودبخود ٹھہر گئے۔ خاموش فضا میں یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے یہاں اپنے چند تلخ اور عبرت انگیز ابواب ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیے ہوں تاریخ کے بعض مقامات بولتے نہیں مگر ان کو محسوس کیا جاسکتا ھے اور یہ کیفیت خاموشی سے بہت کچھ سنا جاتی ہے۔۔ صرافہ بازار کی گہماگہمی کے درمیان وہ مکان بھی دیکھنے کا موقع ملا جو برصغیر کے معروف بھارتی فلمی اداکار اور سیاست دان راج ببر کا آبائی گھر تھا۔ اس قدیم عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوا جیسے اس شہر کی گلیوں نے ایک ایسی شخصیت کو پروان چڑھایا جس نے آگے چل کر فلم اور سیاست دونوں میدانوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی جلالپور کی یہ خاموش گلیاں آج بھی اپنے دامن میں ایسی بے شمار یادیں اور داستانیں سمیٹے ہوئے ہیں۔
    چلتے چلتے ہماری ملاقات داستان گو کتاب دوست اور شہر کی تاریخ کے امین خواجہ محمد یونس صراف سے ہوئی۔ ان کی گفتگو میں ایسا سحر تھا کہ ہر واقعہ محض ایک قصہ نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا منظر محسوس ہوتا تھا۔ ان کی یادداشت میں جلالپور جٹاں کی کئی نسلوں کی تاریخ سانس لیتی دکھائی دی۔
    داستان گو حاجی محمد یوسف صرافہ صاحب کتابیں جمع کرنے کے شوقین۔ مطالعہ کتب کے شوقین ہیں ان کے پاس ہزاروں کی تعداد میں پرانے رسائل اخبارات تاریخی ادبی مذہبی کتب موجود ہیں۔

    اڈہ ٹم ٹم کے پاس ایک بلند و بالا تین منزلہ عمارت۔دیکھی جس کی دیوار پر اردو زبان میں پرمیشور کی عبادت کرو اور وہ سکھ شانتی سے نوازتا ہے۔ لکھا ہوا ملا یہ ہندووں برہمن کا پاٹ شالہ تھا۔ جس کی باقیات ابھی تک سامنے نظر آتی ہیں۔
    جلالپور جٹاں کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ایک قدیم مسجد نے ہماری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ یہ مسجد اپنے طرز تعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث دیگر مساجد سے منفرد محسوس ہوئی۔ اس کا نام مسجد کھسراں ھے یعنی کھسروں کی مسجد۔
    صنف کثیف اور صنف لطیف کے درمیان ایک تیسری صنف یعنی صنف زنا مردی کی بھی ہے یعنی آدھا مرد اور آدھی عورت دوسرے لفظوں میں انہیں خسرے بھی کہتے ہیں۔ ہندوستان میں میر بھجڑی ان کے سلسلے کا بانی تھا۔ میر بھجڑی کی کڑاہی ایک رسم ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ محرم الحرام کی چاند راتوں میں یہ لوگ کسی مرکز میں جمع ہو جاتے ہیں اور میر بھجڑی کے نام کی کڑاہی پکاتے ہیں۔ جو امیدوار ان کے گروہ میں شامل ہو کر حلقہ بگوش بننا چاہتا ہے اسے بھی اپنے ساتھ بٹھاتے ہیں۔ خود بھی کھاتے ہیں اور اسے بھی کھلاتے ہیں پھر دوسرے مراسم ادا کیے جاتے ہیں۔ کھسرا پنجابی میں خواجہ سرا اور ہیجڑا اور زنخا لکھنؤ و دہلی کی زبان میں ہجڑا کہلاتے ہیں۔
    چلتے چلتے ہم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے۔ میں اور احسان فیصل کنجائی تو تھکن سے نڈھال ہو کر ہمت ہارنے لگے، مگر رائے فصیح اللہ جرال کے قدموں میں جیسے ابھی بھی وہی تازگی تھی۔ وہ پوری دل چسپی سے ہمیں شہر کی گلیوں اور تاریخی مقامات سے روشناس کراتے جا رہے تھے۔ آخرکار شہر سے باہر ایک لیموں پانی کے ٹھیلے پر رکے۔ ٹھنڈے لیموں پانی کے چند گھونٹوں نے جسم کی ساری تھکن اتار دی گرمی کی شدت بھی کچھ کم محسوس ہوئی اور یوں چند لمحوں کا یہ مختصر سا وقفہ ہمارے سفر میں نئی تازگی بھر گیا۔۔۔۔
    گاڑی میں بیٹھتے ہی احسان فیصل کنجائی نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یار فصیح ایک خواہش باقی ہے مجھے شہباز پل بھی دیکھنا ہے۔ بس پھر کیا تھا گاڑی نے نئی سڑک کا رخ کیا اور ہم سیالکوٹ روڈ پر واقع شہباز پل کی طرف روانہ ہو گئے۔ پل پر پہنچے تو دریائے چناب اپنی پوری رعنائی کے ساتھ ہمارا منتظر تھا۔ دریا کی لہریں کناروں سے ٹکرا رہی تھیں اور آسمان پر ابھرتا چاند اپنی دودھیا روشنی پانی پر بکھیر رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی مصور نے چاندی کا ایک وسیع فرش دریائے چناب پر بچھا دیا ہو۔ چناب کی موجوں میں ہمیں سوہنی کی صورت اور محبت کا عکس دکھائی دیا۔ یہ عکس نہ صرف ہمیں دکھائی دیا بلکہ سوہنی سے محبت کرنے والے ہر عام و خاص سوہنی کی صورت چناب میں دکھائی دیتی ھے۔ سوہنی کی صورت آج بھی اپنے محبوب سے ملنے کے لیے کچے گھڑے کا سہارا لیے انہی لہروں میں اترنے کو بے تاب ہو۔

    واپسی کے وقت دریائے چناب کی موجیں چیخنے لگیں اور کہنے لگی کہ محبت سے کبھی بے وفائی نہ کیجئو۔۔
    خیر رات ساڑھے آٹھ ایک نجی ہوٹل پر رات کا کھانا کھایا اور شہر گجرات ساڑھے نو بجے پہچ گئے اور کچری روڈ پر فصیح نے ہم دونوں کو خیر باد کہا اور ہم تینوں اپنی اپنی راہ کی طرف گامزن ہو گئے۔
    واپسی کا سفر ابھی جاری تھا کہ بدقسمتی سے ٹیکسی خراب ہو گئی اور خاصی دیر سڑک کنارے رکنا پڑا۔ یوں گھر پہنچتے پہنچتے رات کے گیارہ بج گئے۔ دروازہ کھلا تو اماں ابا نے اپنی محبت بھرے انداز میں خوب عزت کی جو کہ صدیوں تک یاد رکھی جائے گی۔
    بہرحال آج کے دن کی تھکن تاریخی گلیوں کی خاک آثار قدیمہ اور گجرات آوارگی ماضی کی حسین یاد کا حصہ بن کر ہمیشہ یاد رہے گا۔

  • گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

    گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ایک ایسی جگہ ہے جسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ پیر پنجال کے بلند پہاڑی سلسلے میں سر اٹھائے یہ چوٹی سطح سمندر سے تقریباً 3,045 میٹر یعنی 9,989 فٹ بلند ہے۔ یہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے جیسے آپ بادلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    گنگا چوٹی کا اصل حسن اس کے مقام میں ہے۔ یہ سدھن گلی کے قریب واقع ہے اور قدرتی طور پر دو اضلاع کو جوڑتی ہے۔ اس کے ایک طرف ضلع باغ کی وادیاں ہیں تو دوسری طرف ضلع جہلم ویلی کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد سے یہاں کا سفر تقریباً 200 کلومیٹر کا ہے۔ ہزارہ موٹروے اور مری ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے باغ اور پھر سدھن گلی تک پکی اور بہترین سڑک موجود ہے۔ سدھن گلی سے گنگا چوٹی تک جیپ یا عام گاڑی آرام سے چلی جاتی ہے۔ پیدل چلنے کے شوقین لوگوں کے لیے بھی مختصر ٹریک موجود ہے جو ہرے بھرے جنگل سے گزرتا ہے۔

    اس چوٹی پر کھڑے ہو کر چاروں طرف کا نظارہ دل موہ لیتا ہے۔ وسیع سبز چراگاہیں جن پر بھیڑ بکریاں چرتی ہیں۔ دور تک پھیلی ہوئی وادیاں، اور نیچے بادلوں کا سمندر سب کچھ کسی خواب جیسا لگتا ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم بہت ہی خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ شہروں کی گرمی سے تنگ لوگ جب یہاں پہنچتے ہیں تو ٹھنڈی ہوائیں ساری تھکن اتار دیتی ہیں۔ سردیوں میں یہ پورا علاقہ سفید برف کی چادر اوڑھ لیتا ہے اور منظر مکمل بدل جاتا ہے۔ برفباری کے شوقین لوگ دسمبر سے فروری کے درمیان یہاں کا رخ کرتے ہیں۔گنگا چوٹی صرف ایک پہاڑ نہیں بلکہ سکون کی جگہ ہے۔ یہاں کیمپنگ کا اپنا ہی مزہ ہے۔ رات کو تاروں بھرا آسمان اور صبح منہ پر پڑتی دھوپ زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ مقامی لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور سیاحوں سے محبت سے پیش آتے ہیں۔اگر آپ نے ابھی تک کشمیر کی یہ جنت نہیں دیکھی تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ ایک بار ضرور جائیں کیونکہ گنگا چوٹی کی خوبصورتی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
    ganga choti

  • پہاڑی علاقوں میں سفری حادثات کی وجوہات،تحریر: بینا علی

    پہاڑی علاقوں میں سفری حادثات کی وجوہات،تحریر: بینا علی

    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے۔ یہاں کے دلفریب پہاڑی علاقے سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ لیکن آئے دن ان جگہوں پر حادثات دل گرفتہ کر دیتے ہیں۔ اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونا، ڈرائیور کا پرخطر راستوں سے ناواقف ہونا، سڑکوں کے کنارے حفاظتی بیرئیر نہ ہونا، اوور لوڈنگ اور بے احتیاطی ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔

    ان بنیادی اسباب کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل ہیں جو پہاڑی سفر کو جان لیوا بنا دیتے ہیں۔ اگر ہم ان کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ حادثات محض اتفاق نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ پہاڑی راستے عام شاہراہوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں مسلسل چڑھائی اور اترائی کی وجہ سے انجن، بریک، گیئر اور ریڈی ایٹر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے سیاحتی مقامات پر چلنے والی اکثر بسیں، کوسٹرز اور جیپیں تکنیکی طور پر ناکارہ ہوتی ہیں۔ ان کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ پرانے ٹائر پھٹ جاتے ہیں بریک فیل ہو جاتے ہیں اور گاڑی بے قابو ہو کر کھائی میں جا گرتی ہے۔

    پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ ایک الگ مہارت ہے۔ میدانی علاقے کا کامیاب ڈرائیور پہاڑوں پر ناکام ہو سکتا ہے۔ بہت سے ڈرائیوروں کو علم ہی نہیں ہوتا ۔ تنگ، بل کھاتے اور اندھے موڑ کاٹنے کا طریقہ، رات کے وقت ڈرائیونگ اور اچانک لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں ردعمل دینے کی تربیت نہ ہونے سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیند پوری نہ ہونا، تھکاوٹ اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال بھی قاتل ثابت ہوتا ہے۔

    پاکستان کے اکثر پہاڑی علاقوں کی سڑکیں تنگ، کچی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بارش کے بعد ان پر لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے بڑے پتھر اور ملبہ آ جاتا ہے۔ سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ ہزاروں فٹ گہری کھائیوں کے ساتھ مضبوط حفاظتی دیواریں یا کرش بیرئیر موجود نہیں ہیں۔ کئی جگہوں پر تو صرف خانہ پری کے لیے اینٹیں جوڑ دی گئی ہیں۔ ذرا سا ٹائر سلپ ہوا، اور گاڑی سیدھی کھائی میں۔ خطرناک موڑوں پر آئینے، رفتار کم کرنے کے سائن بورڈ اور رات کے لیے ریفلیکٹرز کی بھی شدید کمی ہے۔ حال ہی میں اوور لوڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں حادثے میں سات نوجوانوں کے جنازے اٹھے جس نے ماحول کو بہت سوگوار بنا دیا۔زیادہ منافع کی ہوس میں ٹرانسپورٹرز گاڑیوں میں مقررہ حد سے زیادہ مسافر بٹھاتے ہیں۔ چھتوں پر سامان کے انبار لگا دیے جاتے ہیں۔ اس اضافی وزن سے گاڑی کا توازن بگڑ جاتا یے اور اترائی پر بریک گاڑی کو روک نہیں پاتے۔ دوسری طرف کچھ نوجوان سیاح تیز رفتاری، ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں اوور ٹیکنگ کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ پہاڑی سڑکیں معافی نہیں دیتیں۔ پہاڑوں کا موسم لمحوں میں بدلتا ہے۔ صاف آسمان پر اچانک کالے بادل چھا جاتے ہیں۔ شدید دھند کی وجہ سے دس فٹ دور کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ موسلادھار بارش سے سڑک پر پھسلن اور کیچڑ ہو جاتا ہے۔ برفباری میں بغیر سنو چین کے گاڑی چلانا ناممکن ہے۔ اچانک پہاڑ سے گرنے والے پتھر بھی چلتی گاڑیوں کو کچل دیتے ہیں۔ فوگ لائٹس، اور ہیٹر کے بغیر ان حالات میں سفر کرنا موت کو دعوت دینا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے چیکنگ کا نظام نہایت کمزور ہے۔ بغیر لائسنس، جعلی لائسنس اور کم عمر ڈرائیور دھڑلے سے گاڑیاں چلاتے ہیں۔ سیاحتی سیزن میں فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کیے بغیر گاڑیوں کو جانے دیا جاتا ہے۔ اوور لوڈنگ پر جرمانے برائے نام ہیں۔ عوام بھی خود شعور کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ وہ سستی کے چکر میں کھٹارا گاڑیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور سیٹ بیلٹ باندھنے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

    مختصر یہ کہ پہاڑی علاقوں کے حادثات کے پیچھے انسانی غلطی، مشینی خرابی اور انتظامی کوتاہی کا گٹھ جوڑ ہے۔ جب تک گاڑی، ڈرائیور، سڑک اور قانون، ان چاروں ستونوں کو مضبوط نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ خوبصورت وادیاں ہمارے لیے نوحہ بنی رہیں گی۔

  • جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کہوٹہ میں واقع جھیل نیل فیری، جسے نیل فری بھی کہا جاتا ہے، قدرتی حسن کا ایک ایسا شاہکار ہے جو اپنی دلکشی سے ہر آنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ جھیل سرسبز گھاس زاروں، ٹھنڈی ہواؤں اور دل موہ لینے والے مناظر سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں سے پیر پنجال کی برف پوش چوٹیاں اور وادی کیرن کے سحر انگیز نظارے دیکھنے والوں کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

    تاہم اس بے مثال خوبصورتی تک پہنچنے کا سفر ابھی بھی خاصا دشوار اور بعض مقامات پر خطرناک ہے۔ سڑکوں کے کناروں پر حفاظتی بیریئرز کی کمی اور دشوار گزار راستے سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اگر حکومت ان سڑکوں کی بہتری، کناروں پر مضبوط حفاظتی بیریئرز کی تنصیب اور راستوں کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائے تو یہ سفر زیادہ محفوظ اور پُرسکون ہو سکتا ہے۔

    اسی طرح سیاحوں کے لیے ریسٹ ہاؤسز، واش رومز، صاف پانی، طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اس علاقے کی کشش میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ چونکہ جھیل تک پہنچنے کے لیے سفر کا ایک حصہ جیپوں کے ذریعے طے کرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر حکومت یا متعلقہ ادارے منظم جیپ سروس، پارکنگ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کریں تو نہ صرف سیاحوں کو آسانی ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

    سیاحت کسی بھی علاقے کی معیشت میں جان ڈال سکتی ہے۔ نیل فیری جیسے قدرتی خزانوں پر توجہ دے کر نہ صرف آزاد کشمیر میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ علاقہ قدرت کے حسن سے مالا مال ہے؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کی خوبصورتی کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے بہتر منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ یہ خوابیدہ جنت حقیقی معنوں میں ایک مثالی سیاحتی مرکز بن سکے۔

  • اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    زمانے کی رنگینیوں میں اپنے شب و روز گزارتے میں دنیا دیکھنے کے شوق میں مست جیے جا رہا تھا غفلت کا یہ عالم رہا کہ کبھی اپنے آپ کے اندر رکھی خوبصورتی سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دنیا میں کتنے ایسے انسان ہیں جو اپنے آپ سے ملے ہوں؟میں تو اک مدت سے اپنے آپ کے ساتھ ہی رہتا ہوں اور یہ ساتھ مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کے ساتھ گزار لوں اور بوریت کا احساس تک نہ ہو۔

    میں اپنے اندرونی حسن سے آشنا ہوگیا ہوں میں نے اسے کھوجا پھر سجایا پھر خود کو خود میں بسایا۔ایک ایک معیاری احساسات و جذبات کوتلاش کیا خوشی و فخردینے والے اصولوں کو مزاج روح پہ لاگو کر کے اپنے اندر کی اُس جنت کا حصہ بنا لیا جس میں میں رہتا ہوں یہ خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی والی بات ہے لوگ دیکھاؤے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں میرا وجود میرا سرمایہ ہے۔تبھی تو میں اپنے آپ کا دوست ہی نہیں عاشق ہوں جو اپنے آپ کے ساتھ جینے کے لیے ایک زندگی کو کم سمجھتا ہے۔مجھے کوئی باہر کا منظر غمزادہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں کسی غیر معیاری احساس کو اپنے اندر بسنا تو دُور کی بات جھانکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔میں اپنے آپ کا پہرہ دیتا ہوں لوگ دنیاوی چیزوں کے چھن جانے کے خوف سے حفاظتی حصار بناتے ہیں تو میرے اندرنورانی علامات سمائی ہوئی ہیں مجھے ان کے لیے کچھ تو اصول وضوابط لاگو رکھنے چاہیں جن پر سمجھوتہ نہ کیا جا سکے۔جو لوگ اپنے آپ کی اہمیت سے ناواقف رہتے ہیں وہ کسی کو خوبسیرت تصور کرکے اپنے اندربسالیتے ہیں اور وقت اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ سستے انسان پر مہنگا جذبہ قربان کر دینے سے اُن کی خصلتیں بدل نہیں جاتیں خواہش نفس اور جذبہ محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔محبت کے رُوحانی جذبے سے ناواقف لوگ خواہش نفس کی غرض سے بے منزل سفر میں دل تھکالیتے ہیں۔خواہش نفس وجود سے وجود کا عارضی تعلق ہے مگر محبت رُوح سے رُوح کامستقل رشتہ ہے۔شرم و حیا میں لپٹی ہوئی محبت عشق جیسی ہوتی ہے یعنی جسم کی غیر موجودگی میں رُوحوں کا ملاپ رہتا ہے۔میری تو کھوج ہی انمول ہے میں نے اپنی رُوح کو سنوارا تو میرا وجود اس کا عاشق ہو گیا اسی لیے مجھے اس خود غرض دور میں اپنے آپ کے ساتھ رہنا قرار دیتا ہے۔
    اب یہ معجزہ ہوتا کیسے ہے اسے بھی جان لیجئے تاکہ آپ کو اپنے آپ تک پہنچنے کا راز معلوم ہو سکے۔میری زندگی میں ایک مایوس وقت بھی ٹہرا رہاتھا جب مجھے اپنے ہونے پرافسوس تھا کہ میں پیدا ہی کیوں ہوا میں اپنی سالگرہ کے دن سیاہ لباس پہن کر فاقہ کیا کرتاتھا۔بے فیض منزلوں کے سفروں میں اپنے وجود کو تھکانے کی وجہ سے میری صحت جواب دے گئی اور ڈاکٹر نے مجھے سکون واطمینان کے لیے بستر پر لیٹ کر ایک سال آرام کرنے کی تاکید کر دی جو حوصلہ افزائی سے محروم تھی جس نے میراصحت مند ہونے کا یقین کمزور کر دیا۔
    ایک سال بستر پر بیمار پڑے رہنا۔۔۔یا شاید موت کا انتظار کرتے رہنا۔۔۔۔میں خوف سے لرز جاتا۔۔۔آخر کیوں۔۔۔کس لیے۔۔۔میں نے کون سا جرم کیا ہے؟جو اس سزا کا مستحق قرار پایا؟

    میں روتا اور بین کرتامیرے مزاج میں تلخی بھر گئی اور زہن بغاوت پر اتر آیا۔۔۔جیسے کسی بڑے صدمے کے موقع پر رونے اور بین کرنے کے بعد رُوح کا دُکھ شدت سے نیچے اُتر آتا ہے اس فطرتی عمل سے گزرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھاکہ تمہارا کیا خیال ہے سال بھر بستر پرپڑے رہنا بڑا المیہ ہے؟نہیں،ایسانہیں تمہیں سوچنے اور اپنے آپ کو جاننے کے لیے وقت و ماحول مل جائے گا۔تم اگلے چند ماہ میں ہی اتنی رُوحانی ترقی حاصل کر لو گئے جو شاید ساری زندگی نہ کر سکتے۔اس خیال کے بعد میں خاموش ہو گیا اپنی گالوں سے آنسو صاف کیے اور قدروں کے نئے احساس پیدا کرنے میں مگن ہو گیا رُوحانی اور وجدانی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا جس سے پتا چلا کہ، جو تمہارے شعور اور وجدان کے اندر ہے تم صرف اسی کا اظہار کر سکتے ہو۔یہ الفاظ میرے دل کی گہرائیوں میں اُترئے اور وہیں جاگزیں ہو گئے۔میں قوت بخش خیالات سوچنے کی کوشش سے زندہ رہنے کے کامیاب سہارے تخلیق کرتا چلا گیا۔خوشی مسرت اور صحت کے خیالات ہر روز سوتے جاگتے وقت میرا معمول بنے رہے میں اُن چیزوں کو یاد کرتا جن کا شکرگزار تھا جہاں مجھ سے دنیا چھن رہی تھی وہاں میں نے اپنے آپ کے لیے ایک نایاب دنیا تخلیق کر لی جو صرف میری تھی۔

    رُوح افزاء موسیقی کتابیں اور لذیزکھانے اپنے آپ کی حوصلہ بخش عیادت و میزبانی الہامی کیفیات اور تصوراتی جہانوں کی سیر احساسات و جذبات کے لطف اندوز نظاروں کی تنہائی میں محفلیں۔ میں نے اپنے اندر موجود تحفہ خداوندی جسمانی و رُوحانی طاقتوں سے جان لیوابیماری کے اُن دنوں کونئی اور بہتر زندگی میں بدل کر رکھ دیا۔جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ رُوحانی بیماریوں سے بھی نجات کی کامیابی حاصل کر لیناکوئی عام بات نہیں تھی۔
    میں تہہ دل سے نایاب اور مسرتوں سے لدے پھندے اُس سال کا مشکورہوں جو بیماری کے بستر پر گزراجو حیرتوں کے جہان میں جینے کی وجہ بنا۔میں نے ہر روز اپنی نعمتوں کو گننے کی عادت اپنائی جو میرا قیمتی اثاثہ بنی مجھے یہ تسلیم کرتے ندامت ہوتی ہے کہ جب تک مجھ پر موت کا خوف غالب نہ آیا مجھے جینے کا ڈھنگ نہ آیا۔
    انسانی زندگی کو درپیش حادثات کھل کر کھلنے کا پیغام حیات بھی تو ہو سکتے ہیں۔ہر واقعے کے روشن پہلوکی طرف دیکھنے کی عادت کثیرمالی آمدنی سے زیادہ قیمتی ہے۔

    اس جملے نے عقل کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ،زندگی کے صرف دومقصدہیں پہلاجو تم چاہتے ہو اسے حاصل کر نادوسرا پھر اس سے لطف اٹھانا۔صرف عقل مند لوگ ہی دوسرے مقصد کو پا سکتے ہیں۔اگر آپ پریشانیوں کو دُور کرکے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زحمتوں کو نہیں بلکہ اپنی رحمتوں کو شمار کیجئے۔

  • "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    شمالی علاقہ جات کی وادیاں صرف خوبصورت مناظر نہیں،
    یہ ایک زندہ تہذیب، ایک حساس ماحولیاتی نظام اور صدیوں پر محیط ثقافت کی امین ہیں۔
    مگر افسوس کہ آج جاری سیاحت فطرت دوست ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ ماحول دشمن بنتی جا رہی ہے۔

    غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم سیاحت کے نتیجے میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔بڑی تعداد میں ہوٹلز اور ریزورٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں،جس کے باعث سرسبز وادیاں کنکریٹ کے ڈھانچوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔یہ ترقی نہیں، فطرت سے بغاوت ہے۔

    سیاحت کے ساتھ آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، پلاسٹک شاپرز اور ریپرز اس بات کی گواہی دیتے ہیں،کہ ہم وادیوں کو سیرگاہ نہیں بلکہ استعمال کی جگہ سمجھنے لگے ہیں۔شور شرابا، اونچی آواز میں میوزک اور ہنگامہ آرائی،فضا کو شدید صوتی آلودگی سے دوچار کر رہی ہے،جس سے انسان، فطرت اور جنگلی حیات تینوں متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی ہوٹلز نے اپنی سیوریج اور گٹر لائنیں دریاؤں کی طرف موڑ رکھی ہیں۔وہ دریا جو ہماری زندگی، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کی امید ہے،آج کچرے اور گندگی کی نذر ہو رہے ہیں ۔یہ صرف غفلت نہیں، یہ کھلا ماحولیاتی جرم ہے۔

    سیاحت کے منفی اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہے۔مقامی ثقافت اور روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔لباس، رویّوں اور طرزِ عمل میں عدم توازن ،مقامی معاشرے، اقدار اور خاص طور پر بچوں کی ذہنی کیفیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔یہ وہ نقصان ہے جو خاموش ہوتا ہے مگر گہرا ہوتا ہے۔

    آج کی سیاحت سے اصل فائدہ صرف کمرشل ازم کو ہو رہا ہے،جبکہ نقصان پوری وادی، پوری ثقافت اور پورا ماحول اٹھا رہا ہے۔

    اس بحران کا واحد پائیدار حلایکو ٹورازم (Eco-Tourism) ہے۔ایسی سیاحت جو ماحول کو نقصان نہ پہنچائے
    ، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کرے، فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، ترقی کے ساتھ تحفظ کو یقینی بنائے
    سیاحوں کو ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ وادیوں میں آ کر مقامی روایات کا خیال رکھیں، مقامی لوگوں سے میل جول رکھیں، مقامی ٹور گائیڈز، جیپس اور سروسز استعمال کریں، اپنے ساتھ لایا گیا کچرا واپس بیگ میں رکھیں یا ڈسٹ بن میں ڈالیں

    سیاحت ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے،
    جس سے جُڑ کر ہم سب رزقِ حلال کما سکتے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ  کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی رہنمائی اور وژن کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قیادت میں پنجاب کے مختلف شہروں میں ورثہ بحالی کے منصوبے عالمی معیار کے مطابق شروع کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ثقافتی شناخت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ سیاحت اور تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    حال ہی میں ہڑپہ میوزیم میں چار نئی گیلریوں کو ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی نگرانی میں اسٹیبلش کیا گیا۔ جس کا افتتاح جلد متوقع ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی مثال ہے، جس میں وادی سندھ کی تاریخ کو جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اسی طرح شیخوپورہ قلعہ، ہرن منار، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا جیسے منصوبے بھی ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے زیر انتظام جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک روشن ورثے کی بنیاد ہیں۔

    ان منصوبوں میں بھیرہ قدیم شہر کا تحفظ اور ترقی ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق بھیرہ کے منصوبے میں قدیم فصیل، تاریخی دروازوں، مساجد اور شہری ڈھانچوں کی بحالی شامل ہے۔ وزٹروں کے لیے سہولیات، شہری ماحول کی بہتری اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اس منصوبے کو پائیدار اور عوام دوست بناتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محمد حسن کے مطابق بھیرہ کا تحفظ ایک زندہ تہذیب کو بحال کرنے کی کاوش ہے، جبکہ ملک مقصود نے کہا کہ تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے مقامی کمیونٹی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورثہ کو ثقافتی فخر اور ٹورزم ڈویلپمنٹ سے جوڑنے پر زور دیا ہے، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کی روشنی میں بھیرہ سمیت تمام منصوبے عالمی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب آرکیالوجی کی کوششوں سے نہ صرف ورثہ محفوظ ہو رہا ہے بلکہ سیاحت، روزگار اور عالمی شناخت کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔

    یہ تمام کاوشیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے وژن کی تکمیل اور ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں، جو پنجاب کو ثقافتی فخر اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم پر مبنی ہیں۔

  • من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ اگر ہم اس معاشرے کے پرانے دور کو دیکھیں تو وہ بہت سادہ تھا۔ اس معاشرے میں شرم و حیا تھی۔ لڑکیاں اپنے سروں سے دوپٹے اُتارتے ہوئے شرماتی تھیں، اگر کوئی لڑکی اپنے سر سے دوپٹہ اتار بھی لیتی تو اس کی والدہ ہی سب سے پہلے اس کو ڈانٹیں۔ أس دور میں بچوں کی تربیت ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق کی جاتی تھی۔ أس دور میں تربیت ماں باپ مل کر کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں تربیت موبائل فون کرتا ہے، بہت ہی کم والدین ہیں جو آج کے دور میں اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ بھی اسلامی اصولوں کے مطابق۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں، ہمارا ملک کی بنیاد بھی لا الہ الااللہ ہے لیکن جو بھی آج اس معاشرے میں ہو رہا ہے وہ کہیں سے بھی اسلامی ریاست کا طریقہ نہیں ہے، آج اسلامی معاشرے میں ایسے ڈرامے بن رہے ہیں، جو کہیں سے بھی اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔

    من مست ملنگ جیسے جہاں ایک استاد کو بعد میں شاگرد سے محبت کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں پرسنل لائف کو سرےعام دیکھایا جاتا ہے، جہاں ایک غیر مرد ایک غیر عورت کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں غیر مرد ایک عورت کو کپل ڈانس کرتے ہوئے گاڑی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ کیا یہ سب اسلامی معاشرے میں ہوتا ہے؟ کیا یہ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے؟ ان انگریزوں نے ہمیں اس حد تک اپنا ذہنی غلام بنایا ہوا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو غلط اور صحیح کا ہی نہیں پتا۔ ہماری آج کی نوجوان نسل جن کے ہاتھوں میں "تلوار” ہونی چاہیے۔ جو اسلام کے علمبردار ہونے چاہیے۔ وہ سر سے دوپٹہ اتارنے کو فیشن کہتی ہے، وہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو فیشن کہتی ہے، اور لڑکیاں شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو فیشن کہتی ہے، وہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کو فیشن کہتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل لڑکیوں، لڑکوں کا ایک ساتھ ڈانس کرنے کو فیشن کہتی ہے۔ یعنی جو سبق ہم کو اسلام نے دیا ہے أس کے خلاف ہر کام کرنے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے، ہماری نوجوان نسل ان ناچنے گانے والوں کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیٹیوں کو بے قصور مار دیا جاتا ہے، ان کا ریپ کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ آج کل کے دور کے کہتے ہیں کہ ان ڈراموں سے پہلے بھی جرائم ہوتے تھے، لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ بالکل ہوتا تھا، لیکن اتنا نہیں ہوتا تھا جتنا آج ہوتا ہے، تب کہیں مہینوں، سالوں بعد جا کر ایسی کوئی ایک آدھی خبر سننے کو ملتی تھی، لیکن آج تو ہفتوں بعد نہیں بلکہ روز آئے دن ایسی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آئے دن کسی نا کسی لڑکی یا لڑکے کو مار دیا جاتا ہے۔ آج کے جرائم کی شرح تب کے جرائم کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ یہ سب اسی ڈراموں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ آج جو بھی ہمارے معاشرے میں بے حیائی پھیلی ہوئی ہے یہ اسی ڈراموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ غیر مسلموں نے کوئی بھی کام کرنا ہو تو پہلے ان کو ڈراموں میں دیکھایا جاتا ہے، پھر بعد میں اصل زندگی میں اس کو معاشرے کا حصے بناتے ہیں۔ پہلے وہ ڈراموں میں یہ چیز بار بار دیکھا کر عوام کا رد عمل چیک کرتے ہیں۔ پھر جب ایک چیز کو بار بار دیکھایا جاتا ہے تو عوام مانوس ہو جاتی ہے، پھر بعد میں اس کو معاشرے میں لایا جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ اس بات کا ثبوت مانگو کے تو آپ لوگ دیکھو کہ پری زاد ڈرامے میں لڑکی کو لڑکا دیکھایا جاتا ہے، یعنی وہ لڑکی ہو کر لڑکے والے کام کرتی ہے "ببلی بدمعاش” نام رکھتی ہے وہ لڑکوں والے کھیل کھیلتی ہے، لڑکوں کے ساتھ لڑائی کرتی ہے، اس بات کا دوسرا ثبوت بخت دوار ڈرامہ ہے، جس میں ہیروئن کو ہی لڑکا دیکھایا جاتا ہے۔ اس کا ہیئر اسٹائل بھی لڑکوں والا ہوتا ہے۔ پھر بعد میں "ایل جی پی ٹی کیو” کو اس معاشرے میں لایا گیا۔ کتنے ہی لڑکی لڑکوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ یہ کس وجہ سے ہوا کہ پہلے ہی عوام کو یہ چیز عام سی معمولی کرکے دیکھ دی تھی۔

    اگر ہم چاہتے کہ ہماری نوجوان نسل اس سب سے محفوظ رہے وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو ہم کو ان ڈراموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ان ڈراموں کے خلاف عوام میں آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ان ڈراموں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔آپ لوگ ایسے ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہمارا ساتھ دیں اس نیک کام میں، اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ آپ لوگوں کے سامنے ایسے ڈراموں کے شاٹ کلپ بھی آئیں تو ان کو اگنور کریں۔ پلیز ایسے ڈراموں کو سرچ کرنے سے گریز کریں ان کے ویوز بڑھانے سے گریز کریں جتنا ایسے ڈراموں کو ریچ ملتی ہے اتنے ہی ہمارے معاشرے میں ایسے ڈرامے بنتے ہیں۔ اتنے ہی ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں دیکھائے جائیں گے۔