Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • پہاڑی علاقوں میں سفری حادثات کی وجوہات،تحریر: بینا علی

    پہاڑی علاقوں میں سفری حادثات کی وجوہات،تحریر: بینا علی

    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے۔ یہاں کے دلفریب پہاڑی علاقے سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ لیکن آئے دن ان جگہوں پر حادثات دل گرفتہ کر دیتے ہیں۔ اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونا، ڈرائیور کا پرخطر راستوں سے ناواقف ہونا، سڑکوں کے کنارے حفاظتی بیرئیر نہ ہونا، اوور لوڈنگ اور بے احتیاطی ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔

    ان بنیادی اسباب کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل ہیں جو پہاڑی سفر کو جان لیوا بنا دیتے ہیں۔ اگر ہم ان کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ حادثات محض اتفاق نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ پہاڑی راستے عام شاہراہوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں مسلسل چڑھائی اور اترائی کی وجہ سے انجن، بریک، گیئر اور ریڈی ایٹر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے سیاحتی مقامات پر چلنے والی اکثر بسیں، کوسٹرز اور جیپیں تکنیکی طور پر ناکارہ ہوتی ہیں۔ ان کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ پرانے ٹائر پھٹ جاتے ہیں بریک فیل ہو جاتے ہیں اور گاڑی بے قابو ہو کر کھائی میں جا گرتی ہے۔

    پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ ایک الگ مہارت ہے۔ میدانی علاقے کا کامیاب ڈرائیور پہاڑوں پر ناکام ہو سکتا ہے۔ بہت سے ڈرائیوروں کو علم ہی نہیں ہوتا ۔ تنگ، بل کھاتے اور اندھے موڑ کاٹنے کا طریقہ، رات کے وقت ڈرائیونگ اور اچانک لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں ردعمل دینے کی تربیت نہ ہونے سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیند پوری نہ ہونا، تھکاوٹ اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال بھی قاتل ثابت ہوتا ہے۔

    پاکستان کے اکثر پہاڑی علاقوں کی سڑکیں تنگ، کچی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بارش کے بعد ان پر لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے بڑے پتھر اور ملبہ آ جاتا ہے۔ سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ ہزاروں فٹ گہری کھائیوں کے ساتھ مضبوط حفاظتی دیواریں یا کرش بیرئیر موجود نہیں ہیں۔ کئی جگہوں پر تو صرف خانہ پری کے لیے اینٹیں جوڑ دی گئی ہیں۔ ذرا سا ٹائر سلپ ہوا، اور گاڑی سیدھی کھائی میں۔ خطرناک موڑوں پر آئینے، رفتار کم کرنے کے سائن بورڈ اور رات کے لیے ریفلیکٹرز کی بھی شدید کمی ہے۔ حال ہی میں اوور لوڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں حادثے میں سات نوجوانوں کے جنازے اٹھے جس نے ماحول کو بہت سوگوار بنا دیا۔زیادہ منافع کی ہوس میں ٹرانسپورٹرز گاڑیوں میں مقررہ حد سے زیادہ مسافر بٹھاتے ہیں۔ چھتوں پر سامان کے انبار لگا دیے جاتے ہیں۔ اس اضافی وزن سے گاڑی کا توازن بگڑ جاتا یے اور اترائی پر بریک گاڑی کو روک نہیں پاتے۔ دوسری طرف کچھ نوجوان سیاح تیز رفتاری، ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں اوور ٹیکنگ کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ پہاڑی سڑکیں معافی نہیں دیتیں۔ پہاڑوں کا موسم لمحوں میں بدلتا ہے۔ صاف آسمان پر اچانک کالے بادل چھا جاتے ہیں۔ شدید دھند کی وجہ سے دس فٹ دور کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ موسلادھار بارش سے سڑک پر پھسلن اور کیچڑ ہو جاتا ہے۔ برفباری میں بغیر سنو چین کے گاڑی چلانا ناممکن ہے۔ اچانک پہاڑ سے گرنے والے پتھر بھی چلتی گاڑیوں کو کچل دیتے ہیں۔ فوگ لائٹس، اور ہیٹر کے بغیر ان حالات میں سفر کرنا موت کو دعوت دینا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے چیکنگ کا نظام نہایت کمزور ہے۔ بغیر لائسنس، جعلی لائسنس اور کم عمر ڈرائیور دھڑلے سے گاڑیاں چلاتے ہیں۔ سیاحتی سیزن میں فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کیے بغیر گاڑیوں کو جانے دیا جاتا ہے۔ اوور لوڈنگ پر جرمانے برائے نام ہیں۔ عوام بھی خود شعور کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ وہ سستی کے چکر میں کھٹارا گاڑیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور سیٹ بیلٹ باندھنے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

    مختصر یہ کہ پہاڑی علاقوں کے حادثات کے پیچھے انسانی غلطی، مشینی خرابی اور انتظامی کوتاہی کا گٹھ جوڑ ہے۔ جب تک گاڑی، ڈرائیور، سڑک اور قانون، ان چاروں ستونوں کو مضبوط نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ خوبصورت وادیاں ہمارے لیے نوحہ بنی رہیں گی۔

  • جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کہوٹہ میں واقع جھیل نیل فیری، جسے نیل فری بھی کہا جاتا ہے، قدرتی حسن کا ایک ایسا شاہکار ہے جو اپنی دلکشی سے ہر آنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ جھیل سرسبز گھاس زاروں، ٹھنڈی ہواؤں اور دل موہ لینے والے مناظر سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں سے پیر پنجال کی برف پوش چوٹیاں اور وادی کیرن کے سحر انگیز نظارے دیکھنے والوں کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

    تاہم اس بے مثال خوبصورتی تک پہنچنے کا سفر ابھی بھی خاصا دشوار اور بعض مقامات پر خطرناک ہے۔ سڑکوں کے کناروں پر حفاظتی بیریئرز کی کمی اور دشوار گزار راستے سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اگر حکومت ان سڑکوں کی بہتری، کناروں پر مضبوط حفاظتی بیریئرز کی تنصیب اور راستوں کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائے تو یہ سفر زیادہ محفوظ اور پُرسکون ہو سکتا ہے۔

    اسی طرح سیاحوں کے لیے ریسٹ ہاؤسز، واش رومز، صاف پانی، طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اس علاقے کی کشش میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ چونکہ جھیل تک پہنچنے کے لیے سفر کا ایک حصہ جیپوں کے ذریعے طے کرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر حکومت یا متعلقہ ادارے منظم جیپ سروس، پارکنگ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کریں تو نہ صرف سیاحوں کو آسانی ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

    سیاحت کسی بھی علاقے کی معیشت میں جان ڈال سکتی ہے۔ نیل فیری جیسے قدرتی خزانوں پر توجہ دے کر نہ صرف آزاد کشمیر میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ علاقہ قدرت کے حسن سے مالا مال ہے؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کی خوبصورتی کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے بہتر منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ یہ خوابیدہ جنت حقیقی معنوں میں ایک مثالی سیاحتی مرکز بن سکے۔

  • اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    زمانے کی رنگینیوں میں اپنے شب و روز گزارتے میں دنیا دیکھنے کے شوق میں مست جیے جا رہا تھا غفلت کا یہ عالم رہا کہ کبھی اپنے آپ کے اندر رکھی خوبصورتی سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دنیا میں کتنے ایسے انسان ہیں جو اپنے آپ سے ملے ہوں؟میں تو اک مدت سے اپنے آپ کے ساتھ ہی رہتا ہوں اور یہ ساتھ مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کے ساتھ گزار لوں اور بوریت کا احساس تک نہ ہو۔

    میں اپنے اندرونی حسن سے آشنا ہوگیا ہوں میں نے اسے کھوجا پھر سجایا پھر خود کو خود میں بسایا۔ایک ایک معیاری احساسات و جذبات کوتلاش کیا خوشی و فخردینے والے اصولوں کو مزاج روح پہ لاگو کر کے اپنے اندر کی اُس جنت کا حصہ بنا لیا جس میں میں رہتا ہوں یہ خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی والی بات ہے لوگ دیکھاؤے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں میرا وجود میرا سرمایہ ہے۔تبھی تو میں اپنے آپ کا دوست ہی نہیں عاشق ہوں جو اپنے آپ کے ساتھ جینے کے لیے ایک زندگی کو کم سمجھتا ہے۔مجھے کوئی باہر کا منظر غمزادہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں کسی غیر معیاری احساس کو اپنے اندر بسنا تو دُور کی بات جھانکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔میں اپنے آپ کا پہرہ دیتا ہوں لوگ دنیاوی چیزوں کے چھن جانے کے خوف سے حفاظتی حصار بناتے ہیں تو میرے اندرنورانی علامات سمائی ہوئی ہیں مجھے ان کے لیے کچھ تو اصول وضوابط لاگو رکھنے چاہیں جن پر سمجھوتہ نہ کیا جا سکے۔جو لوگ اپنے آپ کی اہمیت سے ناواقف رہتے ہیں وہ کسی کو خوبسیرت تصور کرکے اپنے اندربسالیتے ہیں اور وقت اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ سستے انسان پر مہنگا جذبہ قربان کر دینے سے اُن کی خصلتیں بدل نہیں جاتیں خواہش نفس اور جذبہ محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔محبت کے رُوحانی جذبے سے ناواقف لوگ خواہش نفس کی غرض سے بے منزل سفر میں دل تھکالیتے ہیں۔خواہش نفس وجود سے وجود کا عارضی تعلق ہے مگر محبت رُوح سے رُوح کامستقل رشتہ ہے۔شرم و حیا میں لپٹی ہوئی محبت عشق جیسی ہوتی ہے یعنی جسم کی غیر موجودگی میں رُوحوں کا ملاپ رہتا ہے۔میری تو کھوج ہی انمول ہے میں نے اپنی رُوح کو سنوارا تو میرا وجود اس کا عاشق ہو گیا اسی لیے مجھے اس خود غرض دور میں اپنے آپ کے ساتھ رہنا قرار دیتا ہے۔
    اب یہ معجزہ ہوتا کیسے ہے اسے بھی جان لیجئے تاکہ آپ کو اپنے آپ تک پہنچنے کا راز معلوم ہو سکے۔میری زندگی میں ایک مایوس وقت بھی ٹہرا رہاتھا جب مجھے اپنے ہونے پرافسوس تھا کہ میں پیدا ہی کیوں ہوا میں اپنی سالگرہ کے دن سیاہ لباس پہن کر فاقہ کیا کرتاتھا۔بے فیض منزلوں کے سفروں میں اپنے وجود کو تھکانے کی وجہ سے میری صحت جواب دے گئی اور ڈاکٹر نے مجھے سکون واطمینان کے لیے بستر پر لیٹ کر ایک سال آرام کرنے کی تاکید کر دی جو حوصلہ افزائی سے محروم تھی جس نے میراصحت مند ہونے کا یقین کمزور کر دیا۔
    ایک سال بستر پر بیمار پڑے رہنا۔۔۔یا شاید موت کا انتظار کرتے رہنا۔۔۔۔میں خوف سے لرز جاتا۔۔۔آخر کیوں۔۔۔کس لیے۔۔۔میں نے کون سا جرم کیا ہے؟جو اس سزا کا مستحق قرار پایا؟

    میں روتا اور بین کرتامیرے مزاج میں تلخی بھر گئی اور زہن بغاوت پر اتر آیا۔۔۔جیسے کسی بڑے صدمے کے موقع پر رونے اور بین کرنے کے بعد رُوح کا دُکھ شدت سے نیچے اُتر آتا ہے اس فطرتی عمل سے گزرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھاکہ تمہارا کیا خیال ہے سال بھر بستر پرپڑے رہنا بڑا المیہ ہے؟نہیں،ایسانہیں تمہیں سوچنے اور اپنے آپ کو جاننے کے لیے وقت و ماحول مل جائے گا۔تم اگلے چند ماہ میں ہی اتنی رُوحانی ترقی حاصل کر لو گئے جو شاید ساری زندگی نہ کر سکتے۔اس خیال کے بعد میں خاموش ہو گیا اپنی گالوں سے آنسو صاف کیے اور قدروں کے نئے احساس پیدا کرنے میں مگن ہو گیا رُوحانی اور وجدانی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا جس سے پتا چلا کہ، جو تمہارے شعور اور وجدان کے اندر ہے تم صرف اسی کا اظہار کر سکتے ہو۔یہ الفاظ میرے دل کی گہرائیوں میں اُترئے اور وہیں جاگزیں ہو گئے۔میں قوت بخش خیالات سوچنے کی کوشش سے زندہ رہنے کے کامیاب سہارے تخلیق کرتا چلا گیا۔خوشی مسرت اور صحت کے خیالات ہر روز سوتے جاگتے وقت میرا معمول بنے رہے میں اُن چیزوں کو یاد کرتا جن کا شکرگزار تھا جہاں مجھ سے دنیا چھن رہی تھی وہاں میں نے اپنے آپ کے لیے ایک نایاب دنیا تخلیق کر لی جو صرف میری تھی۔

    رُوح افزاء موسیقی کتابیں اور لذیزکھانے اپنے آپ کی حوصلہ بخش عیادت و میزبانی الہامی کیفیات اور تصوراتی جہانوں کی سیر احساسات و جذبات کے لطف اندوز نظاروں کی تنہائی میں محفلیں۔ میں نے اپنے اندر موجود تحفہ خداوندی جسمانی و رُوحانی طاقتوں سے جان لیوابیماری کے اُن دنوں کونئی اور بہتر زندگی میں بدل کر رکھ دیا۔جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ رُوحانی بیماریوں سے بھی نجات کی کامیابی حاصل کر لیناکوئی عام بات نہیں تھی۔
    میں تہہ دل سے نایاب اور مسرتوں سے لدے پھندے اُس سال کا مشکورہوں جو بیماری کے بستر پر گزراجو حیرتوں کے جہان میں جینے کی وجہ بنا۔میں نے ہر روز اپنی نعمتوں کو گننے کی عادت اپنائی جو میرا قیمتی اثاثہ بنی مجھے یہ تسلیم کرتے ندامت ہوتی ہے کہ جب تک مجھ پر موت کا خوف غالب نہ آیا مجھے جینے کا ڈھنگ نہ آیا۔
    انسانی زندگی کو درپیش حادثات کھل کر کھلنے کا پیغام حیات بھی تو ہو سکتے ہیں۔ہر واقعے کے روشن پہلوکی طرف دیکھنے کی عادت کثیرمالی آمدنی سے زیادہ قیمتی ہے۔

    اس جملے نے عقل کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ،زندگی کے صرف دومقصدہیں پہلاجو تم چاہتے ہو اسے حاصل کر نادوسرا پھر اس سے لطف اٹھانا۔صرف عقل مند لوگ ہی دوسرے مقصد کو پا سکتے ہیں۔اگر آپ پریشانیوں کو دُور کرکے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زحمتوں کو نہیں بلکہ اپنی رحمتوں کو شمار کیجئے۔

  • "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    شمالی علاقہ جات کی وادیاں صرف خوبصورت مناظر نہیں،
    یہ ایک زندہ تہذیب، ایک حساس ماحولیاتی نظام اور صدیوں پر محیط ثقافت کی امین ہیں۔
    مگر افسوس کہ آج جاری سیاحت فطرت دوست ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ ماحول دشمن بنتی جا رہی ہے۔

    غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم سیاحت کے نتیجے میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔بڑی تعداد میں ہوٹلز اور ریزورٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں،جس کے باعث سرسبز وادیاں کنکریٹ کے ڈھانچوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔یہ ترقی نہیں، فطرت سے بغاوت ہے۔

    سیاحت کے ساتھ آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، پلاسٹک شاپرز اور ریپرز اس بات کی گواہی دیتے ہیں،کہ ہم وادیوں کو سیرگاہ نہیں بلکہ استعمال کی جگہ سمجھنے لگے ہیں۔شور شرابا، اونچی آواز میں میوزک اور ہنگامہ آرائی،فضا کو شدید صوتی آلودگی سے دوچار کر رہی ہے،جس سے انسان، فطرت اور جنگلی حیات تینوں متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی ہوٹلز نے اپنی سیوریج اور گٹر لائنیں دریاؤں کی طرف موڑ رکھی ہیں۔وہ دریا جو ہماری زندگی، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کی امید ہے،آج کچرے اور گندگی کی نذر ہو رہے ہیں ۔یہ صرف غفلت نہیں، یہ کھلا ماحولیاتی جرم ہے۔

    سیاحت کے منفی اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہے۔مقامی ثقافت اور روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔لباس، رویّوں اور طرزِ عمل میں عدم توازن ،مقامی معاشرے، اقدار اور خاص طور پر بچوں کی ذہنی کیفیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔یہ وہ نقصان ہے جو خاموش ہوتا ہے مگر گہرا ہوتا ہے۔

    آج کی سیاحت سے اصل فائدہ صرف کمرشل ازم کو ہو رہا ہے،جبکہ نقصان پوری وادی، پوری ثقافت اور پورا ماحول اٹھا رہا ہے۔

    اس بحران کا واحد پائیدار حلایکو ٹورازم (Eco-Tourism) ہے۔ایسی سیاحت جو ماحول کو نقصان نہ پہنچائے
    ، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کرے، فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، ترقی کے ساتھ تحفظ کو یقینی بنائے
    سیاحوں کو ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ وادیوں میں آ کر مقامی روایات کا خیال رکھیں، مقامی لوگوں سے میل جول رکھیں، مقامی ٹور گائیڈز، جیپس اور سروسز استعمال کریں، اپنے ساتھ لایا گیا کچرا واپس بیگ میں رکھیں یا ڈسٹ بن میں ڈالیں

    سیاحت ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے،
    جس سے جُڑ کر ہم سب رزقِ حلال کما سکتے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب  کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ  کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے تحت ڈی جی آثار قدیمہ کی شاندار کاوشیں،تحریر :سعدیہ مقصود

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی رہنمائی اور وژن کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قیادت میں پنجاب کے مختلف شہروں میں ورثہ بحالی کے منصوبے عالمی معیار کے مطابق شروع کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ثقافتی شناخت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ سیاحت اور تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    حال ہی میں ہڑپہ میوزیم میں چار نئی گیلریوں کو ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی نگرانی میں اسٹیبلش کیا گیا۔ جس کا افتتاح جلد متوقع ہے یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی عملی مثال ہے، جس میں وادی سندھ کی تاریخ کو جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اسی طرح شیخوپورہ قلعہ، ہرن منار، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا جیسے منصوبے بھی ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے زیر انتظام جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ماضی کی حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک روشن ورثے کی بنیاد ہیں۔

    ان منصوبوں میں بھیرہ قدیم شہر کا تحفظ اور ترقی ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کے مطابق بھیرہ کے منصوبے میں قدیم فصیل، تاریخی دروازوں، مساجد اور شہری ڈھانچوں کی بحالی شامل ہے۔ وزٹروں کے لیے سہولیات، شہری ماحول کی بہتری اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اس منصوبے کو پائیدار اور عوام دوست بناتی ہے۔ سابق ڈائریکٹر محمد حسن کے مطابق بھیرہ کا تحفظ ایک زندہ تہذیب کو بحال کرنے کی کاوش ہے، جبکہ ملک مقصود نے کہا کہ تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے مقامی کمیونٹی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورثہ کو ثقافتی فخر اور ٹورزم ڈویلپمنٹ سے جوڑنے پر زور دیا ہے، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایات کی روشنی میں بھیرہ سمیت تمام منصوبے عالمی معیار کے مطابق تیار کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب آرکیالوجی کی کوششوں سے نہ صرف ورثہ محفوظ ہو رہا ہے بلکہ سیاحت، روزگار اور عالمی شناخت کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔

    یہ تمام کاوشیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے وژن کی تکمیل اور ڈی جی آثار قدیمہ ظہیر عباس ملک کی قائدانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں، جو پنجاب کو ثقافتی فخر اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کے عزم پر مبنی ہیں۔

  • من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    من مست ملنگ ڈرامہ ریوو .تحریر:ارم ثناء

    ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ اگر ہم اس معاشرے کے پرانے دور کو دیکھیں تو وہ بہت سادہ تھا۔ اس معاشرے میں شرم و حیا تھی۔ لڑکیاں اپنے سروں سے دوپٹے اُتارتے ہوئے شرماتی تھیں، اگر کوئی لڑکی اپنے سر سے دوپٹہ اتار بھی لیتی تو اس کی والدہ ہی سب سے پہلے اس کو ڈانٹیں۔ أس دور میں بچوں کی تربیت ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق کی جاتی تھی۔ أس دور میں تربیت ماں باپ مل کر کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں تربیت موبائل فون کرتا ہے، بہت ہی کم والدین ہیں جو آج کے دور میں اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ بھی اسلامی اصولوں کے مطابق۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں، ہمارا ملک کی بنیاد بھی لا الہ الااللہ ہے لیکن جو بھی آج اس معاشرے میں ہو رہا ہے وہ کہیں سے بھی اسلامی ریاست کا طریقہ نہیں ہے، آج اسلامی معاشرے میں ایسے ڈرامے بن رہے ہیں، جو کہیں سے بھی اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔

    من مست ملنگ جیسے جہاں ایک استاد کو بعد میں شاگرد سے محبت کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں پرسنل لائف کو سرےعام دیکھایا جاتا ہے، جہاں ایک غیر مرد ایک غیر عورت کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے دیکھایا جاتا ہے، جہاں غیر مرد ایک عورت کو کپل ڈانس کرتے ہوئے گاڑی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ کیا یہ سب اسلامی معاشرے میں ہوتا ہے؟ کیا یہ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے؟ ان انگریزوں نے ہمیں اس حد تک اپنا ذہنی غلام بنایا ہوا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو غلط اور صحیح کا ہی نہیں پتا۔ ہماری آج کی نوجوان نسل جن کے ہاتھوں میں "تلوار” ہونی چاہیے۔ جو اسلام کے علمبردار ہونے چاہیے۔ وہ سر سے دوپٹہ اتارنے کو فیشن کہتی ہے، وہ شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو فیشن کہتی ہے، اور لڑکیاں شلوار کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کو فیشن کہتی ہے، وہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کو فیشن کہتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل لڑکیوں، لڑکوں کا ایک ساتھ ڈانس کرنے کو فیشن کہتی ہے۔ یعنی جو سبق ہم کو اسلام نے دیا ہے أس کے خلاف ہر کام کرنے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے، ہماری نوجوان نسل ان ناچنے گانے والوں کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بیٹیوں کو بے قصور مار دیا جاتا ہے، ان کا ریپ کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ آج کل کے دور کے کہتے ہیں کہ ان ڈراموں سے پہلے بھی جرائم ہوتے تھے، لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ بالکل ہوتا تھا، لیکن اتنا نہیں ہوتا تھا جتنا آج ہوتا ہے، تب کہیں مہینوں، سالوں بعد جا کر ایسی کوئی ایک آدھی خبر سننے کو ملتی تھی، لیکن آج تو ہفتوں بعد نہیں بلکہ روز آئے دن ایسی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آئے دن کسی نا کسی لڑکی یا لڑکے کو مار دیا جاتا ہے۔ آج کے جرائم کی شرح تب کے جرائم کی شرح سے بہت زیادہ ہے۔ یہ سب اسی ڈراموں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ آج جو بھی ہمارے معاشرے میں بے حیائی پھیلی ہوئی ہے یہ اسی ڈراموں کی وجہ سے ہوا ہے۔ غیر مسلموں نے کوئی بھی کام کرنا ہو تو پہلے ان کو ڈراموں میں دیکھایا جاتا ہے، پھر بعد میں اصل زندگی میں اس کو معاشرے کا حصے بناتے ہیں۔ پہلے وہ ڈراموں میں یہ چیز بار بار دیکھا کر عوام کا رد عمل چیک کرتے ہیں۔ پھر جب ایک چیز کو بار بار دیکھایا جاتا ہے تو عوام مانوس ہو جاتی ہے، پھر بعد میں اس کو معاشرے میں لایا جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ اس بات کا ثبوت مانگو کے تو آپ لوگ دیکھو کہ پری زاد ڈرامے میں لڑکی کو لڑکا دیکھایا جاتا ہے، یعنی وہ لڑکی ہو کر لڑکے والے کام کرتی ہے "ببلی بدمعاش” نام رکھتی ہے وہ لڑکوں والے کھیل کھیلتی ہے، لڑکوں کے ساتھ لڑائی کرتی ہے، اس بات کا دوسرا ثبوت بخت دوار ڈرامہ ہے، جس میں ہیروئن کو ہی لڑکا دیکھایا جاتا ہے۔ اس کا ہیئر اسٹائل بھی لڑکوں والا ہوتا ہے۔ پھر بعد میں "ایل جی پی ٹی کیو” کو اس معاشرے میں لایا گیا۔ کتنے ہی لڑکی لڑکوں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ یہ کس وجہ سے ہوا کہ پہلے ہی عوام کو یہ چیز عام سی معمولی کرکے دیکھ دی تھی۔

    اگر ہم چاہتے کہ ہماری نوجوان نسل اس سب سے محفوظ رہے وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں تو ہم کو ان ڈراموں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ان ڈراموں کے خلاف عوام میں آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ان ڈراموں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔آپ لوگ ایسے ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہمارا ساتھ دیں اس نیک کام میں، اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ آپ لوگوں کے سامنے ایسے ڈراموں کے شاٹ کلپ بھی آئیں تو ان کو اگنور کریں۔ پلیز ایسے ڈراموں کو سرچ کرنے سے گریز کریں ان کے ویوز بڑھانے سے گریز کریں جتنا ایسے ڈراموں کو ریچ ملتی ہے اتنے ہی ہمارے معاشرے میں ایسے ڈرامے بنتے ہیں۔ اتنے ہی ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں دیکھائے جائیں گے۔

  • چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    چولستان جیپ ریلی کا آغاز 2005 ء میں ہوا جو کہ اب ایک بین الاقوامی سطح کی سرگرمی بن چکی ہے، جس میں نامور ملکی و غیرملکی مرد ڈرائیورز کے ساتھ ساتھ اب خواتین ڈرائیورز بھی حصہ لیتی ہیں۔

    سرائیکی خطہ ہزاروں سال سے قدیم تہذیب وتمدن اور ثقافت کا مرکز بنتا آرہا ہے۔روہی چولستان اور سرائیکی وسیب جسم و روح کی مانند ہیں۔سابق سرائیکی ریاست موجودہ ڈویژن بہاولپور دنیا میں لینگؤیج ،لٹریچر،آرٹ،کلچر اور ایگری کلچر میں ایک منفرد اعزاز رکھتا ہے۔چولستان کا دل روایتی فنون لطیفہ کی علامت قلعہ ڈیراور کے مقام پر 20ویں انٹرنیشنل جیپ ریلی کا آغاز 12فروری تا 16 فروری 2025ء درحقیقت خوشحالی اور تعمیر نو کے نئے سفر کی نوید ہے۔قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا "سِیْرُوا فِی الْأَرْضِ” (سَیْرُوا فِی الْأَرْضِ)جس کا مطلب ہے "زمین میں چل پھر کر دیکھو” یا "زمین میں سیر کرو” ۔ یہ آیت قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر آئی ہے، جیسے کہ سورۂ نمل (27:69)،سورۂ عنکبوت (29:20)، سورۂ محمد (47:10) اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ زمین میں سیر و سیاحت کریں، تاریخ سے سبق سیکھیں،پچھلی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اللہ کی نشانیوں کو دیکھیں تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔

    زمین کی سیر سے رزق ملتا ہے۔صدیوں سے انسان روٹی روزی اور قتل وغارت کے خوف سے ایک خطے سے دوسرے خطے تک ہجرت کرتا رہا ہے۔کل کی ہجرت آج موجودہ عہد میں سیرو سیاحت نے تجارت کو فروغ دیا۔اس دوران انسان نے مختلف علاقوں کی تہذیب و تمدن،لباس ،ثقافت،زبانیں، رسوم و رواج، ادب، فنون کو سیکھا اور آپنی نئی نسل تک منتقل کیا۔اب دنیا میں سیر و ساحت باقاعدہ ایک ثقافتی ،سماجی، معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن چکی ہے۔خوبصورت پہاڑ، دریا،جنگل،سمندر،میدان اور صحراء قدرتی مناظر مالی وسائل کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔سات سےآٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر گنویری والا چولستان سرائیکی وسیب کی تمدنی عظمت کی گواہی دراصل پوری دنیا کے لیے انسانی امن ومحبت پیغام اور مشترکہ تہذیبی ورثے کا گہوارہ ہے۔قدیم آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے مطابق وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن،جس کو میں وادی سرائیکی تہذیب وتمدن مانتا ہوں۔کیونکہ حرف س سے سرسوتی،سرسوتی سے سرائیکی،سرائیکی زبان میں حرف س سے لفظ سنا، سنا کا مطلب پانی ہے۔پانی انسان، حیوان، نباتات و جمادات کی زندگی کی رونق ہے۔

    سرائیکی لفظ سنا سے سندھ بنا ہے۔پھر اس دریا کی نسبت سے وادی سندھ تہذیب وتمدن کی بنیاد بنی۔جس کی ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن روہی چولستان ہے۔آج بھی دریائے سندھ کو پاکستان میں ابا سین کہا جاتا ہے۔دراصل یہ لفظ اباسئیں ہے۔سب کا باپ۔اس پر ہزاروں صدیوں پرانا سرائیکی آکھان جیئں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ھندو نہ او مسلمان۔اردو ضرب المثل”آگرہ اگر دلی مگر ملتان سب کا پدر، سرائیکی دھرتی کی عظمت کا اعتراف ہے۔آج بھی سندھ میں سرائیکی زبان کو فوقیت حاصل ہے۔یونانی حملہ آوروں کی زبان میں حرف "س” کی جگہ "ا” الف یا "ہ” بولا جاتا ہے، جیسے سندھ سے "ہند” یا "اند” ہے۔لفظ سندھستان سے ہندوستان ہوگیا۔جس طرح سندھی زبان کے حروف تہجی میں ں نون غنہ کو لکھنے میں ن لکھا جاتا ہے۔پھر اباسئیں سے اباسین ہوگیا۔آج ہمارے پیارے ملک پاکستان میں سب سے میٹھی اور مرکزی زبان سرائیکی ہی ہے۔جو پاکستان کے ہر صوبے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔دریائے سرسوتی ندی کی بندرگاہ پتن منارہ صحراء چولستان میں موجود ہے۔قرآن مجید میں اصحاب الرس سے مراد بھی چولستان گنویری والا قدیم ترین شہر کی طرف گواہی ہے۔

    کل سے صحراء چولستان میں ثقافتی میلہ اور سپورٹس ایونٹ اہم مرحلہ جیپ ریلی کا آغاز ہوگا۔چولستان جیپ ریلی پاکستان کی ایک مشہور آٹو ریس ہے۔اس کی شروعات جکارتہ ڈاکار جیپ ریلی کی طرز 2005ء میں ہوا۔ اب ہر سال یہ انٹرنیشنل ایونٹ سرائیکی قلب محلوں کے شہر بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے سابق شاہی دارالحکومت ڈیرہ نواب صاحب سے تقریبا 50 کلو میٹر دور روہی چولستان میں منعقد ہوتا ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں ایک مشہور اور دلچسپ ریلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بین الاقوامی چولستان جیپ ریلی 2005ء سے اب تک مقامی سرائیکی وسیب کے ساتھ پاکستان سمیت عالمی شہرت یافتہ ایک اہم کلچرل ایونٹ بن چکا ہے۔خواب سے حقیقت کا یہ خوبصورت سماں جاری ہے۔جس میں دنیا بھر کے ڈرائیورز اور آٹوموبائل شوقین افراد شرکت کرتے ہیں۔اس کا پاکستان کے خوبصورت تصوف علاقے سرائیکی وسیب کے ورلڈ چولستانی صحرائی ماحول میں منعقد ہونا مقامی سطح پر روزگار فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے۔اس ایونٹ کا مقصد نہ صرف آٹو ریسنگ کو فروغ دینا ہے بلکہ چولستان کی قدیم تہذیب وتمدن،ثقافت،تاریخ اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لانا بھی ہے۔چولستان کے علاقے کی دلکش صحرا، روایتی دیہاتی زندگی اور تاریخی مقامات اس ایونٹ کو منفرد بناتے ہیں۔

    چولستان جیپ ریلی کا روٹ سخت اور چیلنجنگ ہوتا ہے۔جس میں ریت کے ٹیلے، پتھریلی زمین اور تیز ہوا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایونٹ ڈرائیورز کے لیے اپنی مہارت، تجربے اور قوت ارادی کا امتحان ہوتا ہے۔ ریلی کے دوران ڈرائیورز کو مختلف مشکل راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جن میں ریت کی چٹانیں،ٹیلے،دریائےسرسوتی کے خشک گمشدہ صحرائی راستے شامل ہیں۔ ریلی کے دوران مقامی ثقافت کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔سرائیکی لوک موسیقی،مشاعرہ، جھومر،روایتی لباس اور کھانوں کے سٹال بھی سجائے جاتے ہیں۔ یہ ایونٹ ایک موقع ہوتا ہے جہاں لوگ نہ صرف سپورٹس کا لطف اٹھاتے ہیں بلکہ مقامی ثقافت سے بھی روشناس ہوتے ہیں۔مختلف مقابلوں میں 4×4 جیپ ریسنگ، موٹر سائیکل ریسنگ اور کلاسک کار ریسنگ شامل ہیں۔ یہ مقابلے مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں تاکہ ہر قسم کے شرکاء کی شرکت ممکن ہو۔اس موقع پر دنیا بھر سے سیر و سیاحت کے شوقین اور کلچرل ایکسپرٹ بھی ورلڈ ہیرٹیج قلعوں سمیت دیگر تاریخی مقامات کی سیر کرتے ہیں۔ورلڈ میگا ثقافتی و سپورٹس ایونٹ چولستان جیپ ریلی سے سیاحت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ملکی وقار و زر مبادلہ میں خاطر اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ریسرچرز مقامی چولستانی اقدار اور قدرتی خوبصورتی کا تجربہ بھی کرتے ہیں۔

    چولستان جیپ ریلی نہ صرف ایک سپورٹس ایونٹ ہے بلکہ یہ پاکستان کی ثقافت،تاریخی ورثہ اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ہرسال اس ایونٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور یہ دنیا بھر کے آٹو موبائل شوقین افراد کے لیے ایک بڑا موقع بن چکا ہے۔چولستان جیپ ریلی مقامی اور قومی سطح پر معاشی فوائد کا باعث بنتی جارہی ہے۔آرکیالوجی،ثقافتی،سماجی، تاریخی و معاشی فوائد میں آپس میں اتحاد ویکجہتی،رواداری، خلوص،فطرت شناسی جیسے عظیم جذبوں اور روزگار جیسے اقتصادی مواقعوں کو فروغ ملتا ہے۔اس سے مقامی ہوٹلوں،ریستورانوں اور دیگر سیاحتی سہولتوں کا کاروبار بڑھتا ہے۔مقامی کاروبار میں ترقی دیکھنےکو ملتی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، سامان، اور یادگاروں کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے۔ملازمت کے مواقع ملتے ہیں جیسے کہ گاڑیوں اور خیمہ بستیوں کی سیکیورٹی کے مقامی لوگوں کی بھرتی ہوتی ہے۔اسی طرح زرعی ترقی میں کلیدی اضافہ ہوتا ہے۔

    سیاحوں کی آمد سے چولستان کے اطراف کے کسانوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔کیونکہ ان کا مال مویشی اور زرعی مصنوعات کی فروخت میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔نیشنل و انٹرنیشنل مارکیٹنگ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر پارٹنرشپ میں لین دین بڑھ جاتا ہے۔مقامی سطح کی ثقافت اور قدرتی حسن کو عالمی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ملک کی نیک نامی اور برآمدات میں اضافے سے ترقی کا پہیہ چلتا ہے۔ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سرائیکی خطے میں معاشی خوشحالی اور ترقی کے لیے چولستان جیپ ریلی کے مرکزی مقام قلعہ ڈیراور پر ہاکڑہ میوزیم قائم کیا جائے، سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کو عملی شکل دی جائے اور چولستانی دستکاریوں کے فروغ کے لیے چولستان ترقیاتی ادارہ گنویری والا میں بنایا جائے۔ مستقبل میں ان مستقل اداروں کے قیام سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ پورا سال جاری سیاحتی سرگرمیوں سے ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ اس سے سرائیکی خطے کی ہزار سالہ ثقافت، تہذیب اور تمدن کو فروغ ملے گا اور ملک کو بے شمار معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔سرائیکی قومی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا کلام روہی چولستان کی شادابی کی عملی دستاویزات ہیں۔

    ہنڑ تھی فریدا شاد ول
    ڈکھڑیں کوں نہ کر یاد ول
    اجھو جھوک تھیسی آباد ول
    ایہ نیں نہ واہسی ہک منڑیں ۔

  • گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    ہمارا گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور جانے کا ارادہ ایک مدت سے تھا، اور آخرکار وہ دن آ گیا جب ہم نے یہ سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب صبح جلدی اٹھے، تاکہ سفر کی تھکاوٹ کم ہو اور وقت پر پہنچ سکیں۔ صبح نو بجے تک ناشتہ کر کے ہم نے تیاری شروع کی اور پھر ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں سے ہوتے ہوئے گوردوارہ کرتار پور روانہ ہو گئے۔

    ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں پر سفر کرتے ہوئے سرسبز کھیت، پھلوں کے باغات، اور پرانی طرز کے گھر ہمیں دیہاتی زندگی کا گہرا منظر دکھا رہے تھے۔ یہاں کے لوگ سبزیاں شوق سے اگاتے تھے، اور چارا کاٹ کر گدھوں پر لے جا رہے تھے۔ ان کے روزمرہ کے معمولات میں سادگی اور محنت کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔ ہم نے راستے میں امرود کے تازہ باغات بھی دیکھے، اور وہاں سے تازہ اور رس دار امرود خریدے جو سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے بہت خوشگوار ثابت ہوئے۔

    دربار کے قریب پہنچتے ہی پنجاب پولیس کی طرف سے جگہ جگہ سکیورٹی چیکنگ کا آغاز ہو گیا۔ مختلف ناکوں پر ہمیں روکا گیا، اور شناختی کارڈ کی جانچ کی گئی۔ جہاں ہم نے اپنی گاڑی پارک کی اور میڈیسن اور بیگ بھی وہی چھوڑیں اسلئیے آپ سے گزارش ہے۔ کہ جب بھی آپکا گوردورا جانے کا اردہ ہو تو سوائے پیسوں کے ساتھ کوئی بھی قیمتی اشیا نہ لے جائیں چھری قینچی وغیرہ بھی گاڑی میں نہ ہو اور ہم نے ٹکٹس خریدے اور اندر جانے کے لئے تیار تھے، لیکن میرے نانو کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا، جس کی وجہ سے ہمیں خاصا دیر انتظار کرنا پڑا۔ تاہم، ان کی بزرگ حالت پر رحم کرتے ہوئے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ ایک اچھی بات تھی کہ انتظامیہ اہلکاروں نے انسانیت کو مقدم جانا۔

    اس کے بعد ہمیں ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور لے جایا گیا، اور قدم رکھتے ہی یہاں کی روحانیت اور سکون سے ہم سب دل کے محظوظ ہوئے۔ گوردوارہ کی عمارت نہایت خوبصورت تھی اور اس کی صفائی دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہر طرف سفید سنگ مرمر سے بنی عمارتیں نظر آ رہی تھیں، جو ایک محل کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوردوارہ کے ارد گرد باغات اور تصویریں بھی اس کے جمال کو مزید نکھار رہی تھیں۔ یہ جگہ نہ صرف روحانیت سے بھری ہوئی تھی، بلکہ اس کی عمارت اور مناظر بھی دل کو سکون پہنچانے والے تھے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے 2019 اپنے دور حکومت میں گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ہوا۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ کرتارپور سرحد کھول کر سکھوں کے دل خوشیوں سے بھر دے گا اور وہی ہوا۔اس تقریب میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتری موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھاکہ جب سکھ برادری کی بات ہوتی ہے تو ہم انسانیت کی بات کرتے ہیں، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔ ’ہمارے نبی پاک ص نے انسانیت کی بات کی۔‘

    گوردوارہ کے اندر پہنچ کر ہم نے لنگر خانہ کا رخ کیا، جہاں کھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ یہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ امیر و غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا۔ ہم نے اپنے برتن اٹھائے، جو بڑی صفائی سے رکھے گئے تھے، اور کھانے کا انتظار کیا۔ لنگر خانہ میں سب کو یکساں سلوک ملتا ہے، اور یہی بات انسانیت کی اصل حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ کھانے لیتے وقت روٹی دونوں ہاتھوں سے لینے کی رسم بھی تھی، جو عاجزی اور احترام کی علامت ہے۔ یہ منظر میرے دل میں ایک گہرا تاثیر چھوڑ گیا۔کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب ہم کوئی چیز دونوں ہاتھوں سے لیں تو تب ہمیں اپنی ” میں ” کو مار کر اپنے غرور کو اپنے پاؤں تلے روندھ کر نہایت انکساربننا پڑتا ہے۔

    کھانے کے بعد، ہم نے لنگر خانہ میں بیٹھ کر چائے پی، جو بہت لذیذ تھی۔ چائے کے دوران ہم نے اس جگہ کی روحانیت اور یہاں کے لوگوں کی محبت و بھائی چارے کا احساس ہوا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف اور محبت سے بات کرتے تھے، چاہے وہ بھارتی ہوں یا پاکستانی، سکھ ہوں یا مسلمان۔

    اس دوران ہماری ملاقات ایک بھارتی یاتری، رگجیت سنگھ سے ہوئی۔ وہ بہت خوش اخلاق اور خوش مزاج شخص تھے، انھوں نے نانو اور ماما سے اپنے انداز میں سلام لی اور پیروں کو چھو کر کہا ” پیر پینا ما جی "یہ انداز بہت احترام والا تھا اور انھوں نے میرے بیٹے نادعلی کو اپنے ساتھ گھومتے ہوئے گوردوارہ کے مختلف حصوں کا دورہ کروایا۔ رگجیت سنگھ نے ہمیں اپنی زندگی کی کچھ باتیں سنائیں۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی، حالانکہ اس کے خاندان والے اس کے فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ لیکن آٹھ سال کی محنت اور محبت کے بعد وہ اپنے خاندان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔پھر اس نے اپنی بیوی اور بہنوں سے ہماری ویڈیوکال پر بات کروائی۔وہ سب بہت اخلاق کی مالک خواتین تھی۔

    رگجیت سنگھ نے انڈیا کے بارے میں بھی کچھ معلومات دیں۔ جب میری نانو نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ انڈیا میں سونے کی قیمت تقریباً بہتر ہزار روپے فی تولہ ہے، جب کہ پاکستان میں سونا دو لاکھ روپے سے زائد فی تولہ ملتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انڈیا سے پاکستان آتے وقت انھیں سختی سے کہا گیا تھا کہ پاکستانیوں سے کسی بھی قسم کی خرید و فروخت نہ کریں اور اپنے سامان پر نظر رکھیں، کیونکہ انڈیا میں پاکستانیوں کے بارے میں بعض لوگ منفی تصورات رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ہم پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھے خیالات رکھتے تھے اور ہمارا استقبال انتہائی محبت سے کیا تھا۔

    ہم نے گوردوارہ کے اندرونی حصے کا بھی دورہ کیا، جہاں سکھ یاتری گورو نانک کے دربار پر ماتھا ٹیکنے میں مصروف تھے۔ گوردوارہ کے دربار میں سکھ یاتری اپنے عقیدت کے ساتھ عبادت کر رہے تھے اور گورو نانک کی تعلیمات پر عمل کر رہے تھے۔ اس روحانی ماحول میں بیٹھ کر ہمیں ایک خاص سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔

    گوردوارہ کی عمارت کا منظر بہت دلکش تھا۔ اس کی سفید سنگ مرمر کی عمارتیں ایک محل کی طرح نظر آ رہی تھیں، اور پورا منظر ایک شاندار ورثے کی عکاسی کر رہا تھا۔ ہم نے یہاں تصویریں بنائیں یہاں کا سکون اور آہستہ آہستہ گزرنے والا وقت اس بات کا غماز تھا کہ اس جگہ کی حقیقت محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک روحانی مرکز ہے جہاں گورو نانک کے پیروکار اپنے دل کو سکون پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔

    یہ سفر ہمارے لیے ایک انتہائی یادگار تجربہ تھا۔ نہ صرف ہم نے گوردوارہ کی روحانیت کو محسوس کیا، بلکہ دو مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا حقیقی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ اس سفر نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسانیت کی بنیاد محبت اور احترام پر ہے، اور یہاں کے لوگ اس بات کا زندہ نمونہ ہیں۔
    عینی ملک

  • ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے. تحریر:تابندہ سراج

    ہرن مینار دیکھنے کی خواہش بچپن سے تھی۔۔۔ کبھی موقع ملا نہ فرصت اور جب یہ دونوں ملے تو یاد نہ رہا۔۔۔ سردیوں کے ابتدائی خوش گوار ترین دنوں میں سیر و تفریح کا شوق کچھ بڑھ جاتا ہے۔۔۔ یونہی بیٹھے بٹھائے فیملی سے ہرن مینار کا پروگرام بنانے کو کہا اور سب نے لبیک کہ دیا۔۔۔
    یکم دسمبر کے روشن صبح تین گاڑیوں کا قافلہ لاہور سے شیخوپورہ روانہ ہوا۔۔۔ راستے کے کھیت کھلیان اور فصلوں کی آب و تاب نے سفر کا لطف دوبالا کر دیا۔۔۔ اتوار کا دن اور صبح کا وقت تھا تو ٹریفک کا زور قدرے کم تھا۔۔۔ ٹکٹیں لے کر قدیم تاریخی عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے۔۔۔ مرکزی دروازے سے مینار تک کے فاصلے میں وسیع و عریض باغات ہیں۔۔کچھ آگے ایک بڑا تالاب ہے ، جہاں کشتی رانی کی سہولت ہے۔۔ صبح میں لوگوں کا رش کم تھا ، جو سہ پہر واپسی تک بہت بڑھ گیا۔۔ ہرن مینار کی سیڑھیوں اور تالاب کے وسط میں موجود بارہ دری کو مقفل کیا ہوا تھا ۔۔۔ مینار بہت خستہ حالی کا شکار ہے۔۔۔ ایک پرانا کنواں بھی مقفل تھا ۔۔۔ بادشاہ کے لاڈلے ہرن کی یاد میں تعمیر کردہ مینار کے ساتھ ہی ایک بڑے احاطے میں ، کچھ چلتے پھرتے دوڑتے بھاگتے ہرن بھی دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔ کینٹین بھی مغلیہ طرز تعمیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔۔۔

    قدیم تاریخی عمارتوں کو دیکھنے سے ایک الگ ہی طرح کا احساس دل و دماغ کو جکڑ لیتا ہے۔۔ کچھ دیر کو جیسے نظریں اور دھیان ساکت ہو جاتا ہے۔۔ تخیل اس دور کے شکوہ کی تصویر کشی کرنے لگتا ہے۔۔۔ حال اور ماضی کا ربط اور زمانی فاصلہ کسی فلم کی طرح چلتا محسوس ہوتا ہے ۔۔ ایسی عمارتیں خود بولتی ہیں اور اپنی کہانی سنانے لگتی ہیں ۔۔۔ بس ذرا کان لگا کر سننے کی دیر ہے۔۔۔

  • "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "بھیدوں بھرا مہاکھڈ”.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    بل کھاتا ڈھلوانی راستہ،اور راستے میں اداس چرواہوں،بے چین و مغموم پرندوں،شدید سوگوار ایستادہ درختوں کے سنگ چلنے کے بعد اچانک ایک موڑ پر منظر کھلتا ہے۔نیلے،سفید گنبد اور ایک آبادی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر اداس راستے کی افسردگی اور پژمردگی ختم کرنے کےلیے کافی تھا۔انھی گنبدوں کے قریب مندر اور گوردوارے بھی موجود تھے۔ چاروں طرف ہی مذہبی رواداری کی خوشبو محسوس کی جاسکتی تھی۔ جب بارہویں کی کھیر کسی ہندو کے گھر کھائی جاتی،اور جب ہندو بہن،مرکزی بازار میں واقع سردار جی کی دکان سے خرید کر مسلمان بھائی کو راکھی باندھتی،تو پاس بہتا خاموش سندھو (دریائے سندھ) پُرجوش ہو کر اچھل پڑتا۔صد افسوس! آج منظر یکسر بدل گیا ہے۔یہ شہر تو وہیں ہے،مگر یہ مناظر وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔یہاں کے ملاحوں کی بستی کے بوڑھے ملاح نے اپنی بیڑی کے چھید تو بھر لیے،مگر بستی کی تاریخ و تہذیب کے پیراہن میں لگے چھید کون رفو کرے گا؟

    گزشتہ برس عید پر آبائی گاؤں خوشحال گڑھ جانا ہوا۔مکھڈی حلوہ تو کھانے کو نہ ملا،مگر مکھڈ کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوگیا۔میں پہاڑوں کا مرید ہوں،اور وادیاں میری مرشد،جبکہ سفر،نہ راضی ہونے والی محبوبہ۔اسی کو راضی کرنے کےلیے مکھڈ شریف کےلیے رخت سفر باندھا۔بل کھاتے پہاڑی راستوں پر اس قدر اداسی و افسردگی تھی کہ سر سبز و شاداب درخت بھی غمکین معلوم پڑتے۔پورے راستے میں پہاڑوں کے علاؤہ چند چرواہے،ریوڑ اور طویل ویرانیاں۔۔۔۔۔۔ یہ سفر مجھے کسی ناپسندیدہ لیکچر سے بھی کہیں زیادہ بورنگ لگنے لگا۔مگر اچانک ہم ایک موڑ مڑتے ہیں،تو آنکھیں ٹھنڈی اور تھکان و اداسی زائل ہونے لگ پڑتی ہے۔نیلے نیلے گنبد اور ان کے قریب چھوٹی سی بستی دیکھ کر لگا کہ ویرانیاں اور اداسیاں ختم ہوئیں،اور آغاز بہار ہو گیا ہے۔مناظر آنکھوں میں قید کرتے آگے بڑھتے گئے،کیونکہ ہماری اصل منزل دریائے سندھ تھا۔اپنے وقتوں کے سب سے بڑے تجارتی مرکز سے آج گزرے تو یوں لگا کہ جیسے کسی شہر خموشاں سے گزر ہو رہا ہو۔یوں ہماری بہار و رونق کی امید دریائے سندھ پہنچنے سے پہلے ہی دریا برد ہوگئی۔

    تاریخ کے اوراق کہتے ہیں کہ سی پیک تراپ انٹرچینج کے قریب دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ مکھڈ، تاریخی تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔جب پٹڑیاں اور سڑکیں نہ تھیں،تب دریائی راستے استعمال کیے جاتے۔مکھڈ کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ دریائے سندھ میں چلنے والے بحری بیڑوں کی آخری بندرگاہ تھی۔اور دوسری بڑی وجہ کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کےلیے یہی سب سے موزوں ترین آبی بندرگاہ تھی۔کالا باغ کا نمک بھی اسی راستے سے افغانستان سے ہوتا ہوا دوسرے ممالک جاتا۔اس لیے اس دور میں یہ علاقہ بڑی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔یہاں کے بازاروں میں قدیمی پتھروں اور لکڑی کے تختوں سے بنی موجود دکانیں آج بھی عظمت رفتہ کی قصہ خواں ہیں۔

    بند بازار کو دیکھتے ہوئے،چلتے گئے۔اب راستہ قدرے مشکل شروع ہورہا تھا۔کیونکہ ہمیں نیچے دریا کی طرف جانا تھا۔چند قدم چلنے کے بعد ایک دیو مالائی خستہ حال مندر نظر آیا۔اسی عمارت کے قریب خاموش بہتا اداس دریائے سندھ اور دریا میں تیرتی چند کشتیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ علاقہ نہ صرف تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا،بلکہ تہذیب و ثقافت کے بھیدوں کا مہاکھڈ بھی تھا۔ کئی گرودوارے، منادر اور ان پر بنے نقش نگار اپنی جانب متوجہ کراتے ہوئے،نوحہ کناں ہیں۔اس کی تہذیبی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ قبل از مسیح سے آباد ہے۔اور یہ بدھ مت،سکھ ازم،ہندومت اور اسلام چار تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔1650 میں ایک صوفی بزرگ نوری بادشاہ یہاں آئے اور اسلام کی روشنی پھیلائی۔جن کا مزار آج بھی یہاں موجود ہے۔

    سندھو دریا کے کنارے ہم نے مچھلی پلا تو نہ کھایا،مگر مچھلیوں کے قریب جانے کےلیے کشتی میں بیٹھ گئے۔لکڑی کے بھاری بھرکم تختوں کے اوپر لگا انجن اسٹارٹ ہونے سے سندھو کا سکوت ٹوٹا،تو برا بھی لگا۔مگر سورج کی شعاعوں سے سنہری لہریں دل کو بھانے لگی۔سندھو کی اٹھتی موجوں کو چھونے کا لمس۔۔۔۔۔اور سہنری لہریں،ہمیں کشتی سے اترنے ہی نہیں دے رہی تھی۔جب سورج نے غروب ہونے کی تیاری کی،تو ہم بھی گھر طلوع ہونے کے لیے نکل پڑے

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی