Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر سن 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔

    نومولود بیٹی کا نام بامبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا بامبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بامبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

    انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں مکان نمبر 104 خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی شہزادی بامبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

    سن 1915 میں شہزادی بامبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ سدھر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بامبا سدھرلینڈ ہو گیا۔

    شہزادی بامبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔

    سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بامبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپنے مرحوم باپ دلیپ سنگھ کی روح کو کسی طور پر سکون پہنچا سکے گی۔

    اس دوران شہزادی بامبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا علامہ اقبال، شہزادی بامبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ شہزادی بامبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا وہ عمارت سن 1944 میں سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی آج بھی یہ عمارت ان کے خاص ملازم پیر بخش کی اولاد کے زیراستعمال ہے۔

    تقسیم کے ایک برس قبل 13جولائی 1946ء کو بامبا نے رنجیت سنگھ کی اولاد کا ایک حقیقی وارث ہونے کے ناطے اپنے ایک وکیل رگھبیر سنگھ ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کی وساطت سے اپنی پنجاب کی سلطنت کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک خط یو این او کو بھجوایا لیکن اس خط کا کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔

    تقسیم کے وقت شہزادی بامبا انگلینڈ، ہندوستان اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے کا حق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے دادا کی سلطنت پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ہر چیز پر ترجیح دی وہ لاہور میں رہ کر دلیپ سنگھ کی جائیداد اور دیگر معاملات کو دیکھتی رہیں وہ لاہور میں اکثر اپنی گاڑی پر مال روڈ اور دوسرے علاقوں میں چلی جاتیں اور عہد رفتہ کی عمارات کو دیکھتی رہتی تھیں۔

    شہزادی بامبا نے ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر سے گلہ کیا کہ میں اس بادشاہ کی پوتی ہوں جس کی ملکیت میں تمام پنجاب تھا اور مجھے بس میں الگ سے کوئی نشست بھی نہیں دی جاتی بامبا کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ تھے وہ اپنی وفات سے دو برس قبل ہی کانوں سے بہری ہو چکی تھیں، آنکھوں سے خاص دکھائی بھی نہیں دیتا تھا اور فالج کے حملے کے باعث وہ اپنے دستخط بھی نہ کر سکتی تھیں۔

    ان تمام حالات کی خبر شہزادی کے قریبی رشتہ داروں میں سے پریتم سنگھ کو مکمل طور پر تھی 10 مارچ سن 1957 کو بامبا انتقال کر گئیں اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی عیسائی رسومات کی ادائیگی کرنے کے بعد شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفنایا گیا۔

    ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

    حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتی
    جس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہے
    اگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھے
    تو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتا

    علاوہ ازیں شہزادی بامبا کی قبر کے کتبے پر درج ذیل تحریر رقم ہے۔

    Here lies in eternal peace The Princess Bamba Sutherland Eldest Daughter of Maharajah Daleep Singh and Grand Daughter of Maharajah ranjit Singh of Lahore.Born on 29th September 1869 in London-Died on 10th March 1957 at Lahore.

    شہزادی بامبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جوان کی وصیت کے مطابق ان کے خاص ملازم پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔

    جبکہ لندن میں بچی ہوئی دلیپ سنگھ کی وسیع و عریض جائیداد کا کوئی بھی وارث نہ بچا اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا اور یوں وہ تمام جائیداد تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔

    لیکن لندن میں موجود سکھ خاندان کے نوادرات وصیت کے مطابق پیر کریم بخش نے حکومت پاکستان کے تعاون سے لاہور منگوانے کی درخواست دائر کی متعلقہ بنک نے انتہائی ایمانداری سے وہ خاندانی نوادرات ایک ہفتے میں لاہور بھجوا دیئے۔

    ان نوادرات کوشہزادی بامبا کی رہائش گاہ میں محفوظ کر کے ’اورئینٹل میوزیم‘ کھولا گیا 1962ء میں حکومتِ پاکستان نے شہزادی بامبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔

    سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    اگر آپ بھی چاند پر جانے کے خواہشمند ہیں تو اب آپ کی یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے جی ہاں جاپان سے تعلق رکھنے والے ارب پتی یوزاکامیزاوا چاند پر جانے والی ایلن مسک اسپیس فلائٹ کے لیے کسی گروپ کی تلاش میں ہیں جو انہیں جوائن کرسکے۔

    باغی ٹی وی :کچھ دن قبل یوزاکا کی جانب سے ٹوئٹ کے ذریعے چاند پر جانے کے خواہشمند افراد کو خوشخبری سنائی گئی اور فری ٹکٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

    یوزاکا نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ میں آپ کو چاند پر جانے والے مشن میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، دنیا بھر میں سے 8 افراد اس مشن کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔


    یوزاکا کی ویڈیو کے مطابق ڈیئر مون نامی مشن کا آغاز 2023 میں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر پس منظر کے لوگ اس میں شامل ہوں۔

    یوزاکا کی جانب سے اپنی پوسٹ میں درخواست جمع کروانے والوں کے لیے لنک بھی شیئر کیا گیا ہے، انہوں نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ انہوں نے تمام سیٹیں خرید لی ہیں لہٰذا یہ نجی سواری ہوگی۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق درخواست دینے والے کو دو معیاروں پر پورا اترنا ہوگا درخواست دہندگان کو کسی بھی قسم کی سرگرمی، دوسرے لوگوں کی مدد،معاشرے کی بہتری اور ان جیسی خواہشات رکھنے والے افراد کی مدد کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

  • خلاء میں بنایا جانے والا  دنیا کا پہلا ہوٹل

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    زمین کے ذیلی مدار میں بنایا جانے والا پہلا اسپیس ہوٹل 2025 میں مکمل ہوگا جسے 2027 میں آپریشنل کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی :غیرملکی خبررساں ادارے ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق زمین کے ذیلی مدار میں بنائے جانے والے دنیا کے اس پہلے اسپیس ہوٹل میں ریسٹورنٹ، سنیما ہالز اور خصوصی قیام گاہیں (لیونگ پاڈز) بنائے جائیں گے جبکہ اس ہوٹل میں 400 افراد کی گنجائش ہوگی۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    یہ ہوٹل خلائی تعمیرات کے حوالے سے مشہور کمپنی آربیٹل اسمبلی کارپوریشن کی جانب سے تعمیر کیا جارہا ہے جسے 2027 میں آپریشنل کیا جائے گا۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    رپورٹس کے مطابق اسپیس ہوٹل میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی جو کہ سمندر میں چلنے والی کروز شپ میں فراہم کی جاتی ہیں۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    یہ ہوٹل ایک گھومنے والے رنگ کی طرح بنایا جائے گا جس میں خصوصی طور پر تیار کردہ قیام گاہیں (پوڈز) جوڑی جائیں گی۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    رپورٹس کے مطابق ہوٹل بنانے والے ڈویلپرز کی جانب سے خصوصی طور پر تیار کردہ قیام گاہیں ناسا اور یورپی اسپیس ایجنسی کو ریسرچ کیلئے بھی بیچی جاسکتی ہیں۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہوٹل کا ڈیزائن متعدد دائروں پر مبنی ہوگا جس میں متعدد موڈیولز ہوں گے۔ ان میں سے زیادہ تر موڈیولز دائرے کے بیرونی حصے میں تعمیر ہوں گے جن میں ریسٹورینٹس وغیرہ ہوں گے جبکہ 24 ماڈیولز کمپنی کے زیر استعمال ہوں گے جن میں عملے کے ارکان کی رہائش، ہوٹل کیلئے پانی، بجلی اور ہوا وغیرہ کا بندوبست کیا جائے گا۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل
    اس کے علاوہ دیگر یونٹس حکومتوں اور نجی کمپنیز کو فروخت یا لیز پر بھی دیا جاسکے گا۔

    ووگیار اسٹیشن فوٹو بشکریہ ڈیلی میل

  • پاکستان انٹرنیشنل سنو بورڈنگ کپ کا مالم جبہ میں آغاز، ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت

    پاکستان انٹرنیشنل سنو بورڈنگ کپ کا مالم جبہ میں آغاز، ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت

    ترجمان محکمہ سیاحت کے مطابق سوات، محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کے زیر انتظام فیسٹیول میں ملکی و غیرملکی کھلاڑیوں نے شرکت کی ہے.

    ان کا کہنا ہے کہ سوات، مالم جبہ کی حسین وادی میں سنو بورڈنگ میں ملکی و غیر ملکی کھلاڑی مد مقابل ہوئے ہیں ، سوات، یورپ سمیت افغانستان اور پاکستان کے نامور مرد خواتین کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی ہے.

    ترجمان کے مطابق سوات، سنو بورڈنگ مقابلوں میں 4 خواتین سمیت 44 کھلاڑی مد مقابل ہوئے ہیں،سوات، گلگت سے مایاناز ماہ گل کبیر بھی ایونٹ میں شامل ہوئی ہیں. ترجمان محکمہ سیاحت کا کہنا ہے کہ سوات، یخ بستہ موسم میں یوگا سیشن کا منفرد مظاہرہ ہوا ہے،سوات، فوڈ اینڈ میوزیک فیسٹیول بھی ایونٹ کا حصہ رہے ہیں.

  • وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے  سفرنامہ نگار: فلک زاہد   (پہلی قسط)

    وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے سفرنامہ نگار: فلک زاہد (پہلی قسط)

    لکھاریوں کی معروف تنظیم "اپوا” نے رواں سال ستمبر کے مہینے میں کمراٹ اور جہاز بانڈہ کا دورہ کیا تھا جس میں مجھ سمیت دس لکھاری حضرات شامل تھے.اس یادگار سفر کی روداد کو میں نے سفرنامے کی صورت میں ڈھال دیا ہے،

    مارگلہ نیوز: وادی کمراٹ میں سیاحت
    وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے
    سفرنامہ نگار: فلک زاہد
    (پہلی قسط)

    اس بار میرا سفر "وادی کمراٹ” کی جانب تھا جس کے بارے میں سبھی کا کہنا تھا کہ وہ ایک دلکش و دلنشین وادی ہے جس کا حسن انسان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے جس کی خوبصورتی میں انسان ایسا غوطہ لگاتا ہے کہ دوبارہ اس میں سے ابھر نہیں پاتا جسکے گھنے جنگلوں میں ایک سرسراہٹ سی ہے جسکی برف پوش پہاڑیوں میں لاتعداد کہانیاں سی ہیں جسکی جھیلوں میں صدیوں کے راز پوشیدہ ہیں جسکے پہاڑوں میں عجب بادشاہوں سا وقار ہے اور جسکی ہواؤں میں الگ ہی بدمستی ہے-

    ایسی تعریفیں سن سن کر میں نے نجانے کتنی ہی بار اپنے خوابوں میں خیالوں میں تصورات میں وادی کی سیر کی تھی اور شدت سے میرا دل اس دن کا منتظر تھا جس دن میرے قدم اس جنت نظیر وادی میں رنجا ہونے تھے.

    میں ایک بہادر, نڈر سخت جاں اور مہم جو لڑکی واقع ہوئی ہوں مجھے نئ نئ جگہیں دیکھنے اور دنیا گھومنے کا بہت شوق ہے..چاہے کتنے ہی گھنٹوں پر سفر محیط کیوں نہ ہو لمبے سے لمبا سفر مجھے نہیں تھکاتا راہ میں آئی کوئی مشکل میرے حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیتی کیونکہ میں راجپوتوں کی جواں سالہ دوشیزہ ہوں جس کے ارادے مستحکم اور مضبوط ہیں جسکے قدم لڑکھڑاتے اور ڈگمگاتے نہیں ہیں جسکا دل ذرا سی مشکل سے گھبراتا نہیں ہے جس کا سر پہاڑوں کی بلندیوں کو دیکھ کر چکراتا نہیں ہے اور نہ ہی جسکی ٹانگیں پہاڑوں کے نشیب کو دیکھ کر کانپتی ہیں.

    میں تو وہ ہوں جو بلا خوف و خطر گبن جبہ کے دریا اور اس کی آبشار میں موجود بڑے بڑے دیوہیکل پتھروں پر یکے بعد دیگرے کسی شیرنی کی مانند چھلانگ لگاتی چلی جاتی یے.

    میں تو وہ ہوں جو بہرین کی پہاڑیوں کی بلندیوں سے بغیر کسی سپیڈ بریکر کے نشیب کی جانب بھاگتی چلی جاتی ہے.
    میں تو وہ ہوں جو ٹھنڈیانی کی برف پوش پہاڑیوں پر اکیلے دور بہت دور خود کلامی کرتے ہوئے ناک کی سیدھ چلتی چلی جاتی ہے
    میں تو وہ ہوں جو نیلا واہن کی آبشار دیکھنے کے جنون میں کئ فٹ اونچا پہاڑ چڑھ بھی لیتی ہے اور اتر بھی لیتی یے
    میں تو وہ ہوں جس نے مالم جبہ کی سرد رات میں اکیلے سڑک پر نکل کر کسی جن بھوت کے ملنے کی خواہش کی ہے.
    میں تو وہ ہوں جس نے کلام کی مال روڈ پر رات دیر تک مٹر گشتی کی ہے
    میں تو وہ ہوں جس نے سردیوں کی راتوں میں ایبٹ آباد کی سڑکوں پر لانگ ڈرائونگ کی ہے-

    جی ہاں یہ میں ہی ہوں جس نے خان پور ڈیم کے پانیوں سے دل کی باتیں کی ہیں یہ میں ہی ہوں جس نے ٹیکسلا کے کھنڈرات میں سرگوشیاں سی سنی ہیں اور یہ بھی میں ہی ہوں جس نے مری گلیات اور نتھیا گلی کے حسن کو اپنی آنکھوں میں جذب کر لیا ہے.

    وہ بھی میں ہی تھی جس نے ناران کاغان کی جھیل سیف الملوک سے رازونیاز کیا ہے جس نے دریا سوات کی گہرائیوں میں اپنے برہنہ پیروں کو اتارا ہے..میرا رشتہ ان دریاؤں اور پہاڑوں سے بہت گہرا اور پرانا ہے.یوں لگتا ہے میرا ان پہاڑوں میں نام لکھا جاچکا ہے یہ پہاڑ اور دریا بھی اب بن اداس ہوجاتے ہیں جبھی چند ماہ بعد مجھے آوازیں دینے لگتے ہیں اور جنکی آواز ہواؤں کے دوش پر لہراتیں بل کھاتیں میرے دل تک پہنچ جاتی ہیں.

    اور اب میری اگلی منزل "وادی کمراٹ” تھی.
    کمراٹ کے پہاڑ مجھے آوازیں دینے لگے تھے وہاں کی یخ ہوائیں مجھ تک پیغام محبت ارسال کرنے لگی تھیں. کمراٹ کی یہ آوازیں میں نے دل کی آواز سے سنی تھیں اور انکی آوازوں پر لبیک کہا تھا.

    ہمیشہ کی طرح میری والدہ ماجدہ کی اس بار بھی یہی کوشش تھی کہ مجھے ٹور پر جانے نہ دیا جائے اور کسی بہانے روک لیا جائے یہ جاننے کے باوجود کہ بات جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی ہو تو یہ لڑکی کہاں رکنے والی ہے.

    مگر اس بار کچھ الگ تھا کچھ ایسا جو اس سے قبل نہ کبھی ہوا تھا اس بار ملک بھر میں مسلسل بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب کو مدِنظر رکھتے ہوئے والد صاحب کا دل بھی گھبرا رہا تھا جنہوں نے کبھی مجھے "نہ” نہیں کی تھی.

    "نہ” تو خیر اس بار بھی نہیں کی تھی تاہم اتنا کہہ کر مجھے بھی پریشان کر دیا تھا کہ "میرا دل نہیں مان رہا حالات ٹھیک نہیں باقی آپ خود دیکھ لو جیسے دل چاہے-”

    پہلی بار والد صاحب کے لبوں سے ان کلمات نے سوچنے پر مجبور کر دیا اور میں جو جانے کا ارادہ ملتوی کرنے ہی والی تھی کہ معاً خبر ملی کہ ان علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری ہونے کی صورت میں لکھاریوں کی تنظیم "اپوا” نے ٹور کینسل کر دیا ہے..پوری ٹیم میں مایوسی سی پھیل گئ سب کو اب یہی امید تھی کہ یہ ٹور اب نہ جا سکے گا اگلے سال ہی روانہ ہوگا کیونکہ کمراٹ کے پہاڑ شائد فی الحال ہمیں استقبال کرنے کو راضی نہیں تھے مگر چند دن بعد وہاں سے حالات کے بہتر ہونے کی خبریں موصول ہونا شروع ہوگئیں اور "اپوا” کے بانی ہمارے لیڈر ایم ایم علی بھائی نے اعلان کر دیا کہ ٹور اگلے ہفتے روانہ ہوگا سابقہ شیڈول کے مطابق.

    ایک بار پھر سے مرجھائے چہروں اور مردہ دلوں میں نئ روح پھونک دی گئ تھی اور سب ایک بار پھر ایک نئے جوش اور ولولے سے جانے کی بھرپور تیاری کرنے لگے تھے.

    میں جو کبھی کسی ٹور سے بھاگی نہ تھی ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی اس بار دل کو کچھ گھبراہٹ سی تھی اسکی وجہ یقیناً یہی تھی کہ اس بار میری بڑی بہنا میرا جگر گوشہ میرے ساتھ کچھ مصروفیت کی بنا پر جا نہیں پا رہا تھا…میرے ہر سفر میں میرا ہم راہی میرا ساتھی میرا رفیق میرا دوست میری بہن فضہ زاہد رہی ہے جو اس بار ساتھ نہ تھی تو اداسی ہر طرف سے حملہ آور تھی اور دوسری طرف میری عزیز از جان سہیلیاں مہوش احسن اور قرۃ العین خالد کا ساتھ بھی میسر نہ ہونے کے باعث تنہائی کسی ناگ کی طرح ڈس رہی تھی.کیونکہ ہم تکون تقریباً ہر سفر میں ایک ساتھ رہے ہیں اور اس بار ان میں سے کسی کا نہ جانا بہت ہی دل سوز تھا.

    میں نے اپنے ان خدشات کا اظہار علی بھائی سے کیا تو انکے ساتھ ساتھ آپی حفصہ خالد اور آپی شانیہ چوہدری کے بھرپور حوصلہ دینے پر میں نے اپنے دل کو بہ مشکل قابو کیا اور جانے کے لیے نیم رضا مندی ظاہر کر دی تھی. تاہم دل میں برابر ایک عجیب سے گھبراہٹ طاری رہی.

    چونکہ اس بار میرا سفر کمراٹ جیسی دیو مالائی وادی کی جانب تھا لہذا اس بار میری تیاری بھی بھرپور تھی میں نے اپنے لیے نئے رنگ برنگے لباس خریدے تھے تاکہ وہاں کے سبزہ زاروں پر میں تتلیوں کی مانند اچھل کود کرتی ہوئی کمیرے میں اتاری تصایر میں کسی شہزادی سے کم نہ لگوں. اور یہ تیاری میری دوسری خواتین کی مانند ہی کئ روز چلتی رہی تھی.

    بلاآخر نو ستمبر جمعرات کی رات کو ہم دس ممبرز پر مشتمل لکھاریوں کی ٹیم جن میں پانچ مرد اور پانچ ہی خواتین تھیں نے اپنی اپنی رہائش گاہ سے احمد ٹریولرز لاہور کی جانب پیش قدمی کی.کمراٹ پہلے ہم سب اپنی گاڑی پر جانا چاہتے تھے تاکہ جہاں دل کرے گاڑی روک کر تازہ دم ہو لیا جائے مگر یوں اخراجات زیادہ آرہے تھے چنانچہ طے یہی پایا کہ لاہور سے دھیر تک لوکل جایا جائے جو مناسب اور سستا بھی تھا.

    ہم سب احمد ٹریولرز کس طرح پہنچے یہ ایک الگ کہانی ہے تاہم میرے ساتھ صحافی توقیر کھرل اور شاعرہ شانیہ چوہدری تھیں چونکہ رات کا وقت تھا اور ہماری گاڑی کہاں سے روانہ ہونی تھی اس بارے ہم میں سے کسی کو صحیح طور سے معلوم نہ تھا اس لیے ہم تینوں نے ساتھ جانے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ ہم تینوں کا روٹ ایک ہی تھا.ہم شانیہ آپی کے کزن کی گاڑی پر جسکو وہ ڈرائیو کر رہا تھا گوگل میپ پر اس لوکیشن کو فالو کرتے جاتے تھے جو علی بھائی نے شئیر کر رکھی تھی اللہ اللہ کر کے جب ہم لاہور کی طویل اور کوفت میں مبتلا کر دینے والی ٹریفک کو روند کر اپنی منزل پر پہنچے تو وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہماری گاڑی جو کہ آٹھ بجے کی تھی جاچکی ہے اور ہم سب ساڑھے آٹھ بجے پہنچ پائے تھے اور اب اگلی گاڑی رات بارہ بجے ہی روانہ ہوگی.

    یہ سن کر ہم سب کے دل ڈوبنے لگے تھے بعداذاں معلوم پڑا کہ یہ محض علی بھائی کا ہم سے ایک مذاق تھا تاکہ ہم سب وقت پر پہنچ جائیں کیونکہ گاڑی نو بجے کی تھی جو روانہ ہونے کے لیے تیار کھڑی تھی.اس خبر سے سب کی سانس میں سانس آئی تھی اور سب یکدم سے ہلکے پھلکے ہوگئے تھے.
    چند لمحوں میں سارا سامان بس پر لاد دیا گیا تھا اور ہماری گاڑی ٹھیک رات کے نو بجے لاہور سے دھیر کی جانب عازمِ سفر ہوچکی تھی.
    یہاں پر اپنی ٹیم کا تعارف کروا دینا ضروری سمجھتی ہوں.

    صحافی توقیر کھرل پہلی بار اپوا ٹیم کے ساتھ سفر کر رہے تھے جو آن لائن وڈیو گرافک ڈیزائنر عبداللہ ملک کے ساتھ براجمان تھے.عبداللہ بھائی اس سے پہلے بھی ہمارے ساتھ کلر کہار, نیلا واہن اور کھیوڑہ مائنز کا سفر کر چکے تھے.

    چیف آرگنائزر آپی ثنا آغا خان بھی اس بار پہلی مرتبہ ہمارے ساتھ سفر میں شریک تھیں جو بہت ہی خوش اخلاق اور بہت زیادہ محبت اور خیال رکھنے والی انسان ہیں ان کو جاننے سے قبل انکے متعلق جو میرے خیالات تھے انکا ذکر آگے چل کر ہوگا.

    سینیئر نائب صدر آپی فاطمہ شیروانی نہایت نرم اور شفیق طبیعت کی مالک انسان جن کے بغیر ہمارا کوئی سفر کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکتا.آپ کی ایک کتاب "تیرے قرب کی خوشبو” بھی شائع ہوچکی ہے..یہ دونوں خواتین ایک ساتھ براجمان تھیں.

    میرے ساتھ کتاب "گردشِ ایام” کی شاعرہ آپی شانیہ چوہدری سیکرٹری کو آرڈنیشن اپوا دھیر تک براجمان تھیں جو بہت ہی محبت رکھنے والی فیاض دل انسان ہیں.

    صدر صاحب بھائی ایم ایم علی جو کہ کتاب "صدائے حق” کے مصنف ہیں, جوائنٹ سیکرٹری و مقرر حفصہ خالد کے ساتھ جبکہ سیکرٹری اطلاعات سفیان علی فاروقی نائب صدر محمد اسلم سیال کے ساتھ نششت رکھے ہوئے تھے.

    چونکہ رات کا سفر تھا لہذا پوری بس مدھم رشنیوں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی لیکن ہم دوست جب اکٹھے سفر پر ہوتے ہیں تو سفر میں مشکل سے ہی سو پاتے ہیں ہمارا زیادہ تر سفر ہنستے بولتے قہقے لگاتے جاگتے ہوئے گزرتا ہے ہم آنے والے لمحوں کے لیے اس قدر پرجوش ہوتے ہیں کہ نیند ہماری آنکھوں سے میلوں دور ہوتی ہے.خاص طور پر جب ہمارے ساتھ زندہ دل حفصہ خالد ہوں جن کے بنا ہمارا کوئی سفر نہیں ہوا کبھی اور محفلِ جاں علی بھائی ہوں تو سفر کا مزہ دو گناہ بڑھ جاتا ہے اس بار حس مزاح سے بھرپور سفیان علی بھائی بھی پہلی بار ہمارے ساتھ سفر میں موجود تھے جن کی شخصیت بظاہر تو سنجدیگی سے بھرپور ہے مگر وہ اس قدر پرمزاح اور اچھے انسان ہیں یہ سفر کےدوران معلوم ہوا.

    پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر میں نے زیادہ تر انہی لوگوں کے ساتھ کی ہے لہذا انکے ساتھ تجربہ ہمیشہ خوشکن اور خوشگوار رہا ہے مگر کمراٹ کا سفر سب سے زیادہ یادگار رہا ہے جسکی یادیں ہمیشہ میرے دل کے نہاں خانوں میں موجود رہیں گی.
    جو سفر میرا اس ٹیم کے بنا ہوا ہے وہ خاص خوش آئندہ کبھی نہیں رہا کیونکہ سفر میں ہم خیال دوست ساتھ ہوں تو سفر طویل اور بوجھ نہیں لگتا بلکہ سفر کا مزاہ دوبالا ہوجاتا ہے.

    ہمارا پہلا پڑاؤ تقریباً بیس بچیس منٹ کا رات ایک بجے پشاور موڑ پر ہوا جہاں تمام مسافر تازم دم ہونے کے لیے بس سے اتر آئے جن میں ہم بھی شامل تھے.اس موڑ پر موجود دکان سے اسلم بھائی نے ہم سب کو چائے پلائی جسکا ذائقہ آج بھی زبان پر محسوس ہوتا ہے اس سفر کی شروعات کی یہ پہلی چائے تھی جس کے بعد ایسی بہترین چائے دوبارہ پورا سفر پینا نصیب نہ ہوئی.
    (جاری ہے)

  • ایوبیہ نیشنل پارک میں برطانوی دور کی 130 سالہ پُرانی سرنگ  دریافت

    ایوبیہ نیشنل پارک میں برطانوی دور کی 130 سالہ پُرانی سرنگ دریافت

    ایوبیہ نیشنل پارک میں برطانوی دور کی 130 سالہ پُرانی سرنگ دریافت-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں برطانوی دور کی 2 وادیوں کو جوڑنے والی سرنگ جو پائپ لائن واک سے بالکل دور ایوبیہ نیشنل پارک میں کوڑے کے ڈھیر کے نیچے دریافت کی گئی ہے سرنگ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی نے خوبصورتی سے بحال کیا ہے۔

    اس سرنگ کو کے پی ڈی فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے یو این ڈی پی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے اشتراک سے مرمت کیا ہے اس سرنگ کی دریافت نے بر طانوی دور میں بننے والے یہ خوبصورت اور سرسبز نیشل پارک کی خوبصورتی مین اور اضافہ کر دیا ہے-

    یہ ٹینل 1891 میں برطانوی دور میں ایوبیہ سے ڈونگا گلی اور مری کا سفر کم کرنے کے لئے بنائی گئی مگر لاپرواہی اور وقت کی گرد میں ایسی کھوئی کہ اس کا نام و نشان ہی کچرے میں دب گیا تھا-

    وہاں موجود ورکرز نے بتایا کہ جب پودوں کے لئے کھدائی کر رہے تھے تو ہمیں 1891 کا بورڈ ملا وہاں تک کوڑا بھرا ہوا تھا تو کوڑے کوہٹا یا گیا تو اس کے نیچے سے یہ اتنا خوبصورت اور تاریخی اور نیشنل ٹینل ملا –

    130 سالہ پُرانی بھاری پتھروں سے بنی اس سرنگ کی اپنی لمبائی تو صرف دو سو پچاس فٹ ہے لیکن اس نے ایوبیہ سے مری اور دونگا گلی کا راستہ کئی کلو میٹر کم کر دیا ہے کچرے میں سے 130 سالہ پُرانا راستہ تو دریافت کر لیا گیا-

    اس سرنگ کو عوام اور سیاحوں کے لئے بھی کھول دیا گیا ہے حال ہی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اس کا افتتاح کیا ہے-

    امین اسلم نے تقریب میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ملک میں ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لئے یہ ایک عظیم اقدام ہے۔

    انہوں نے تقریب میں تقریر کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ لوگ یہاں سیر یا ٹریکنگ کے لئے بھی آسکتے ہیں۔

  • جرمنی کے سفیر کو پشاور میں کونسا کھانا پسند آیا؟

    جرمنی کے سفیر کو پشاور میں کونسا کھانا پسند آیا؟

    جرمن سفیر برنارڈ اس وقت خیبر پختونخوا ( کے پی کے) کے شہر پشاور میں موجود ہیں اور وہاں کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے سوشل میڈیا پر بھی کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : جرمن سفیر برنارڈ پاکستان کی سیرو سیاحت میں مصروف ہیں اور پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کر رہے ہیں اور اپنی تصاویر اور تاثرات سوشل میڈیا پر بھی شئیر کر رہے ہیں-

    جرمن سفیر نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی تصاویر شئیر کی جس میں وہ پشاور میں موجود ہیں اور وہاں کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں-


    جرمن سفیر نے اپنی کھانا کھاتے ہوئے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ میرے پشاور کے حالیہ دورے کا سب سے دلچسپ تجربہ وہاں کے چپلی کباب سے لطف اٹھانے کا تھا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ یہ کباب نہایت ہی مزیدار ہیں! اب میں پوری طرح سے سمجھ سکتا ہوں کہ یہ ڈش اتنی مشہور کیوں ہے.

    واضح رہے کہ اس سے قبل جرمن سفیر نے اسلام آباد سے کراچی تک کا 26 گھنٹے کا سفر بذریعہ ٹرین کیا تھا اور اپنے سفر کی ویڈیو ٹوئٹر پر بھی شئیر کی تھی اور لکھا تھا کہ انہیں ٹرین کی سواری بہت پسند ہے اور کسی ملک کو دریافت کرنے کا یہ عمدہ طریقہ ہے-

    سفر کے دوران وہ ایک اسٹیشن پر رُکے اور انہوں نے راستے میں ٹھیلے سے خریداری بھی کی اور وہاں سے بریانی بھی کھائی تھی-

  • ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کے لیے بری خبر،

    ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کے لیے بری خبر،

    عید پر ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کیلئے بری خبر۔ عید تعطیلات کے دوران مری میں سیاحتی مقامات اور ہوٹل بند رہیں گے۔
    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ پابندی کا فیصلہ‌ تفریحی مقامات پر غیر معمولی رش سے کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔ مری کے راستے میں پولیس چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ شہری سیر کی غرض سے مری کا رخ نہ کریں۔ مقامی شہری قومی شناختی کارڈ دکھا کر مری میں داخل ہوسکیں گے۔

  • اسمٰعیل شاہ وفات پا گئے

    کوئٹہ :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو پھر ایسے ہی ہوا ہے ،مورخین کے مطابق پاکستان کے مشہوربلوچی اداکاراسمٰعیل شاہ 29 اکتوبر 1992ء کو کوئٹہ میں وفات پاگئے۔اسماعیل شاہ 22 مئی 1962ء کو پشین کے قریب ایک قصبے کلی کربلا میں پیدا ہوئے تھے۔

    مصنوعی کیلشئیم ۔ خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ

    1975ء میں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کوئٹہ مرکز کے بلوچی ڈراموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا اردو ڈرامہ ’’ریگ بان‘‘ اور پہلا ڈرامہ سیریل ’’شاہین‘‘ تھا جن میں ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔ اسماعیل شاہ کی پہلی فلم ’’سونے کی تلاش‘‘ تھی تاہم باعتبار نمائش ان کی پہلی فلم ’’باغی قیدی‘‘ تھی جو 17 اگست 1986ء کو ریلیز ہوئی۔

    طوفانی بارشوں سے تباہی،7 افراد ہلاک

    اسماعیل شاہ نے مجموعی طور پر 70 فلموں میں کام کیا جن میں 19 فلمیں اردو میں، 25 فلمیں پنجابی میں ، 6 فلمیں پشتو میں اور 20 فلمیں ڈبل ورژن تھیں۔ ان کی مشہور فلموں میں لو اِن نیپال، لیڈی اسمگلر، باغی قیدی، جوشیلا دشمن، منیلا کے جانباز، کرائے کے قاتل اور وطن کے رکھوالے کے نام شامل ہیں۔

    فرانس: مسجد کے باہر فائرنگ سے 2 افراد زخمی

  • لندن میں تخیلاتی تصاویر کی نمائش جاری

    لندن میں تخیلاتی تصاویر کی نمائش جاری

    برطانوی دارلحکومت لندن میں "فریز لندن” کے نام سے ایک نمائش جاری ہے جس میں پوری دنیا کی 160 ارٹ گیلریوں کے فن پارے مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں ، ان فن پاروں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر فن پارہ اپنے اندر ایک مختلف کہانی کو سموئے ہوئے ہے ،