Baaghi TV

Category: تعلیم

  • پوری قوم کی ایک آواز قومی زبان میں یکساں نصاب!!   فاطمہ قمر

    پوری قوم کی ایک آواز قومی زبان میں یکساں نصاب!! فاطمہ قمر

    سابق حکومت کی طرح سے نہیں کہ یکساں نصاب کا نعرہ لگاتے ‘ لگاتے ائین پاکستان کو پامال کرتے ہوئے اور قائد اعظم کے فرمان کی نافرمانی کرتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو انگریزی میڈیم کر کے وہ ہولناک تباہیاں مچائیں کہ جس کا تصور بھی محال ہے۔۔بجائے اس کے ‘ کہ نجی تعلیمی اداروں پر لاگو کیا جاتا کہ وہ ائین پاکستان کی روشنی میں اپنے تمام تعلیمی اداروں کو اررو میڈیم کر کے قومی دھارے میں شامل ہوں۔ الٹا ان لوٹ مار اداروں کے مفاد میں پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ قوم آپ کو متنبہ کرتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ” یکساں نصاب ” کو انگریزی میں مسلط کرکے اب یہ دھول قوم کی آنکھوں میں نہ جھونکی جائیں! غیر ملکی زبان میں تعلیم دینا نہ صرف فطرت کے قوانین سے بغاوت ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی نفی ہے۔ دنیا کا اصول ہے کہ جس ملک کی جو رابطے کی زبان ہے’ زرائع ابلاغ کی زبان ہے وہی تعلیم کی بھی زبان ہے۔کسی بھی مہذب دنیا میں یہ تصور ہی محال ہے کہ ملک کسی اور قوم کا ہو اور زبان کسی اور قوم کی۔ فرانس’ ترکی’ برطانیہ’ امریکہ’ چین ‘ جاپان’ کوریا ‘ اٹلی وغیرہ کی مثال ہمارے سامنےہے۔ یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی ‘ سینئر سائنسدان ماہر تعلیم پروفیسر اشتیاق احمد نے سے ایک بہت سستا’ قابل عمل ‘ جلد نتیجہ خیز خاکہ تشکیل دیا ہے۔ جو پاکستان سٹیزن کونسل کے اس سیمینار میں پیش کیا گیا جس کے اپ مہمان خصوصی تھے۔ جس میں اپ نے عین وقت پر شرکت سے معذرت کرلی تھی۔ اس محفل کے شرکاء پاکستان کے انتہائی باشعور ‘ اہل الرائے پاکستانی تھے۔جنہوں نے اس نصابی تعلیم کے خاکے کی منظوری بھاری اکثریت کے ساتھ کی۔ یہ نصابی خاکہ پرائمری تعلیم سے لے کر پی ایچ ڈی تک ہے۔ اس خاکے میں پرائمری تعلیم صرف اردو اور مادری میں زبان میں کی گئ ہے اور انگریزی کو ثانوی سطح پر ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دی گئ ہے۔ ہم سفارش کرتے ہیں کہ کوئی بھی نصابی خاکہ تشکیل دینےسے پہلے پروفیسر اشتیاق احمد کے پیش کردہ اس یکساں نصاب کے خاکے کو ہرحال میں مد نظر رکھا جائے۔
    یہ حکومت تبدیلی کے نام پر وجود میں ائی ہے لہذا یہ عدالت عظمیٰ کے حکم کی روشنی میں تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب قومی زبان میں نافذ کر کے قوم کی امنگوں کو پورا کرے!!

    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • مڈل پاس اساتذہ کس ملک میں ؟ خبر نے سب کو حیران کردیا

    مڈل پاس اساتذہ کس ملک میں ؟ خبر نے سب کو حیران کردیا

    لاہور : پاکستان میں ایک طرف اساتذہ کی بھرتی کا معیار کم از کم بی اے اور دوسری طرف مڈل پاس اساتذہ کی طرف سے سکولوں میں تعیناتی کی خبرنے یقینا سب کو حیران کردیا ہو گا. یہ اساتذہ پنجاب میں پڑھاتے ہیں. اطلاعات کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پارٹنر سکولوں میں مڈل پاس اساتذہ کی تقرریوں کا انکشاف، پیف کی جانب سے پارٹنر سکولوں کو میٹرک اور مڈل پاس اساتذہ کو فارغ کرنے کی ہدایت کردی گئی۔اس ضمن میں پیف نے 2 اگست کو پارٹنر سکولوں کے مالکان کے نام مراسلہ بھی جاری کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پارٹنر سکولوں میں مڈل پاس اساتذہ کی تقرریوں کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور سمیت صوبے بھر کے پارٹنر سکولوں میں 8 جماعت پاس افراد کی بطور استاد تقرریاں کی گئی ہیں۔ مڈل پاس اساتذہ کی تقرریوں کے باعث پارٹنر سکولوں میں کوالٹی آف ایجوکیشن گرنے لگی ہے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے مڈل پاس افراد کی بطور استاد تقرری کا اعتراف کر لیا ہے،

    پیف کےذرایع کے مطابق پیف پارٹنر سکولوں میں اساتذہ کی تعلیمی قابلیت کم از کم انٹرمیڈیٹ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ میٹرک پاس افراد پر پڑھانے پر پاپندی عائد کر دی گئی ہے، پیف نے پارٹنر سکولون کو انٹرمیڈیٹ سے کم تعلیم یافتہ افراد کو استاد تعینات کرنے پر کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ مطلوبہ تعلیم کے اساتذہ کی تقرری نہ کرنے پر پارٹنر سکولوں کہ رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے،

  • دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ

    دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ

    سردار کوڑے خان جتوئی ضلع مظفر گڑھ کا ایک رئیس گزرا ہے۔ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود اپنی معاملہ فہمی ، تدبر ، سخاوت اور رفاہی کاموں میں پیش پیش رہتا تھا ۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ” خان بہادر ” کے خطاب سے نوازااور انہیں آنریری مجسٹریٹ کاعہدہ دیا گیا۔انہوں نےسر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک میں برصغیر میں سب سے زیادہ فنڈ دئیے، جو کہ تاریخ کا حصہ ہے۔
    سردار کوڑے خان نے پانچ شادیاں کیں لیکن خدا کی مرضی کہ ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔انہوں نے 1892ء میں اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ تقریبا ایک لاکھ (100000) کنال زمین رفائے عامہ کے کاموں کے لئے وقف کر کےاس وقت کی حکومت کے حوالے کر دی جو بعدازاں ضلعی انتظامیہ کے سپرد ہو گئی۔اس زمین کی آمدنی کیا تھی اور یہ کہاں خرچ ہوتی تھی اس کا کوئی حساب نہ رکھا گیا اور یہ مال غنیمت کی طرح کئی دہائیاں خرد برد ہوتی رہی۔ضلع کونسل نے 1983 ء میں سردار کوڑے خان پبلک سکول کی بنیاد رکھی اس سکول کو پہلے پانچ سات سال تو ضلع کونسل نے چلایا پھر خود مختیار ادارہ بنا کر اس سے ہاتھ کھینچ لیاگیا۔ دو چار سال ایک مختصر سی سالانہ گرانٹ بھی دی جاتی رہی جو بعد میں 1992ء میں بند کر دی گئی۔اس کے بعد یہ ادارہ خود کماؤ خود کھاؤ کے اصول کے مطابق چلنے لگا۔انہی دنوں حکومت کی طرف سے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر ڈویژنل پبلک سکول بنانے کے لئے فنڈ آئےجس کے لئے زمین بھی دی گئی تھی لیکن معلوم نہیں کیوں مظفر گڑھ میں "ڈویژنل پبلک سکول ” نہ بن سکا بلکہ سردار کوڑے خان پبلک سکول کو ہی” ڈویژنل پبلک سکول” کے طرز پر چلایا جانے لگا۔سکول کا انتظام چلانے کے لئے اس حوالے سے بورڈ آف گورنرز بنائے گئے۔ڈویژن کے کمشنر کو اس بورڈ کاچئیر مین اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو اس کاوائس چئیرمین بنایاگیا جبکہ سکول کا پرنسپل اس کا جنرل سیکرٹری ہوتا تھا۔ کمشنر کی مصروفیات کے باعث اکثر اوقات ڈپٹی کمشنر ہی کمشنر کی نمائندگی کرتا اور تمام معاملات بورڈ آف گورنرز کی مشاورت سے طے پاتےرہے۔سردار کوڑے خان پبلک سکول جس کا آغاز ایک پرائمری یا مڈل سکول کے طور پر ہوا تھا بہت سے گرم سرد حالات سہتا ہوا آگے بڑھتا رہا – 1994 ء میں کرنل صابر جب اس کے پرنسپل بنے تو اس سکول میں طلباءکی تعدار بمشکل دو اڑھائی سو تھی۔انہوں نے سکول میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور اس کو خود مختیار ادارہ بنا پر محنت کی اور اس کی بنیاد کو اتنا مضبوط کیا کہ لوگوں کا اس کی طرف رحجان ہوا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سکول تیزی سے ترقی کرنے لگا ۔ مختلف سربراہان کے دور میں بھر پور محنت کے بعد یہ ادارہ ضلع کے تعلیمی میدان میں اپنا منفردمقام بنانے میں کامیاب ہو گیا۔سردار کوڑے خان پبلک سکول پہلے سکینڈری بعدازاں 2001ء میں ہائیر سکینڈری سکول کے درجے پر پہنچ گیااور اس وقت اس سکول میں طلباء کی تعدا پندرہ سو کے لگ بھگ ہو گئی۔ 2005ء میں پروفیسر خورشید نے بطور پرنسپل اس ادارے کا چارج سنبھالا تو اس کے اندر انقلابی تبدیلیاں آئیں کئی نئی عماراتیں بنائی گئیں اور مختلف شعبہ جات کا آغاز کیاگیاساتھ ہی سکول میں نئے سٹاف کی بھرتی کے لئے ایک نیا اور جدید سسٹم متعارف کرایا گیا۔اساتذہ بھی اس سسٹم میں امتحان دے کر اگلے گریڈ میں ترقی کرتے تھے۔ اس دوران ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں اس سکول نے مسلسل میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں نمائیاں نتائج حاصل کیے۔ سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد بھی چار ہزار کے قریب پہنچ گئی۔پروفیسر خورشید تقریبا نو سال پرنسپل رہے اورسکول کو مالی لحاظ سے بھی ایک مستحکم بنیاد فراہم کر گئے۔ان اصلاحات کی وجہ سے ہی آج اس سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد پینتالیس سو سے تجاوز کر چکی ہے۔اس دوران مظفر گڑھ کے ایک سرائیکی قوم پرست رہنما”مظفر خان مگسی ” نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سردار کوڑے خان جو جائیداد وقف کر گئے تھےاس کا ضلعی حکومت سے حساب لیا جائے ۔ کوئی تیس سال یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہااور بلآخرسپریم کورٹ نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ سنایا کہ سردار کوڑے خان کی ساری جائیداد کوقبضہ گروپوں سے واگزار کراکے اس کا ٹرسٹ بنایا جائے۔سردار کوڑے خان ٹرسٹ کا چئیر مین ڈسٹرکٹ سیشن جج مقرر کیا گیاساتھ ہی سردا کوڑے خان کے نام سے چلنے والے تمام سکولوں کو ٹرسٹ کے تحت چلائےجانےکا فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کے نتیجہ میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ قائم ہوا اورسردار کوڑے خان کی جائیداد کی آمدنی جو چند لاکھ روپے تھی تھوڑے ہی عرصے میں چالیس کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس پہلے 2005ء میں ضلع کونسل نے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر پر بھی سردار کوڑے خان کے نام سے مڈل سکول بنا دئیے گئے تھےجو زیادہ تر سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول کی طرف سے دئیے گئے قرض اور امداد پر چلتے رہے۔ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سردار کوڑے خان پبلک سکول جتوئی،
    سردار کوڑے خان پبلک سکول علی پوراورسردار کوڑے خان پبلک سکول کوٹ ادو کو ٹرسٹ میں لے لیا۔فروری 2019ء میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ کےچئیرمین ڈسٹرکٹ سیشن جج صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو خط لکھا اور سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول مظفر گڑھ کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کو کہا لیکن ڈپٹی کمشنرمظفرگڑھ نےاس سکول کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کی بجائے سکول میں سے عارضی طور پر رکھے گئے اساتذہ کو نکال دیاتاکہ سکول کی کارکردگی متاثر ہو اور لوگوں کو اس سکول سے شکایت ہوں لیکن اساتذہ نے اپنی فطری محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے اس مسئلے کا سامنا کیا۔سال 2019 کے آغاز میں ڈپٹی کمشنر نےسردار کوڑے خان سکول مظفرگڑھ کو ایک غیر سرکاری تنظیم care foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تو سکول کے اندر اور باہر سے آنے والے شدید ردعمل پر بلآخر انہیں اپنے فیصلہ کو عارضی طور پر ترک کرنا پڑا ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ڈپٹی کمشنر کا خیال تھا کہ والدین اور اساتذہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے سکول کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے ایک منصوبے کے تحت سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کوcare foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیاگیا اور اس پر موقف یہ اپنایا گیاکہ سکول کی گرتی ہوئی تعلیمی حالت کے پیش نظر سکول کو ترقی دینے کے لئے یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے ۔ اتفاقا میٹرک سالانہ امتحان 2019 ء کا رزلٹ آیا تو سکول کی ایک طالبہ نےنا صرف ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں بلکہ پورے صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن لی۔اس طرح پورے سکول کا رزلٹ بھی پنجاب بھرمیں نمائیاں رہا۔تقریبا 450 بچوں نے میٹرک کا امتحان دیا جس میں سے 45بچوں نے 1050 سے زیادہ نمبر حاصل کیئے ،150 سے زائد بچوں نے 90 فیصد سے سے زیادہ نمبر لے کر A پلس گریڈ حاصل کیا ۔ صرف نو بچے ایسے ہیں جنہیں ایک یا دو مضامین میں سپلی لگی۔ پاس ہونے والے بچوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے فرسٹ ڈویژن نہ حاصل کی ہو ۔
    ڈپٹی کمشنر کو سوچنا چاہیے یہ کس طرح سے گرتا ہوا تعلیمی معیار ہے جس میں سکول کےامتحانی نتائج کا مقابلہ ضلع بھر کا کوئی ادارہ نہیں کرسکتا ۔
    سکول کسی کی امداد پر نہیں چلتاہے بلکہ اس کے بہترین کیمپس ،کوالیفائیڈ اساتذہ کی محنت کی وجہ سے آج سکول کے نام پر بنک میں کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے مسلسل بہترین نتائج کی وجہ سے آج ضلع کےہر بچہ کا خواب ہےکہ وہ سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کا طالب علم بنے۔ڈپٹی کمشنر کواگر اساتذہ سے اور اس سکول کے طلباء سے تھوڑی بہت بھی ہمدردی ہے تو اسے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ٹرسٹ کے حوالے کردیں جو کمی کوتاہی ہو گی وہ ٹرسٹ خود دیکھ لے گا۔اہلیان مظفرگڑھ آج حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس درویش صفت شخص سردار کوڑے خان کی طرف سے اللہ کے نام پر دی گئی اس وسیع جائیدادکی آمدن سے ہی اس بہترین ادارہ کو چلانے کے لئے اس سکول کو سردار کوڑے خان ٹرسٹ کے حوالے کرے۔اس سکول کو care foundation جیسی این جی او کے حوالے کر کے مظفرگڑھ کے اس اعلی درجہ کے تعلیمی ادارے کوبرباد نہ کیا جائے ۔

  • تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور تربیت گاہ ہوتی ہے اور میرا ماننا ہے کہ والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ سکول میں بھی بچوں کی تربیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور تعلیمی ادارے بھی بچے کی ثانوی تربیت گاہ کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اب والدین اور سکول دونوں بچے کی تربیت کے ذمہ دار ہیں.

    کافی دنوں سے کچھ ویڈیوز نظروں سے گزری جس میں ایک عورت جو کہ ماسٹر ٹرینر ہیں جو مرد و زن اساتذہ کرام کو ایک ساتھ ٹریننگ دے رہی ہیں لیکن اس ٹریننگ میں وہ بچوں کو پڑھانے کے اطوار کی بجاۓ ان کو بے ہودگی کی طرف مائل کرنے کے طریقے سکھا رہی ہے تنگ لباس گلے میں دوپٹہ لئے ڈانس کے ذریعے اساتذہ کرام کو کونسے گر سکھاۓ جا رہے ہیں کبھی ٹریننگ کے نام پہ گھٹیا حرکتیں کی جا رہی ہیں کبھی بے ہودہ قسم کی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہے اب یہ ٹھونس اور زبردستی کی ٹریننگ کروانے کا کیا مقصد ہے کیا ایسی ٹریننگ پہ عمل کرنے والے اساتذہ کرام بچوں کو صحیح معنوں میں تعلیم دے پائیں گے یا پھر بچوں کی تعلیم و تربیت کے نام پہ ناچ گانے کے عمل کو ترویج دیں گے؟

    اس کی کیا وجوہات ہیں ایسی ٹریننگز ہمیں کیوں کروائی جاتی ہے اس کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟

    دراصل پاکستان بننے سے پہلے ہم پہ انگریز مسلط تھے اور ان کا ہی نظام تعلیم تھا اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے 1947ء میں ان سے چھٹکارا تو حاصل کر لیا تھا لیکن ان کا نظام تعلیم آج بھی ہم پہ مسلط ہے جس سے ابھی تک ہم خلاصی نہیں پا سکے.

    آج ہمارے ملک میں QAED وہ ادارہ ہے جو اساتذہ کی سروس سے پہلے اور سروس کے بعد ہونے والی ٹریننگز کو ڈیل کر رہا ہے اور یہ ادارہ بھی British Council کے تعاون سے چل رہا ہے اور کبھی US AID کے نام سے پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں سو اب جو بھی آپ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور آپ کے ادارے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا اور آپ جانتے ہیں کہ کفار کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے سو ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ آپ کے نظام تعلیم پہ راج کرے اور اپنی مرضی کے مطابق اس کو سلو پوائزن دے دے کے تباہ و برباد کر دیں.

    ایسی بے ہودہ ٹریننگز بھی اسی بات کا شاخسانہ ہیں جس میں قابل احترام اساتذہ کو بھی تعلیم کے ڈھنگ سکھانے کی بجاۓ ان کو ناچ گانا سکھایا جاتا ہے ایسی ٹریننگز کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے اور ان میں برٹش کونسل کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے اور اس میں اردو بولنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی اور صرف اور صرف انگلش بولنے کی پابندی ہوتی ہے یعنی کہ جو فنڈ دے رہے ہیں ان کی زبان کی ترویج ہو گی اور ان کے بناۓ ہوۓ نوٹس لگواۓ جاتے اور ان کی ہدایات پہ مشتمل بے ہودہ سرگرمیاں (جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں) کروائی جاتی ہیں اور نہ کرنے والوں کو پیڈا ایکٹ کے نفاذ کی دھمکیاں دی جاتیں ہیں.

    ایسی ٹریننگ کئی حد تک سود مند ہو سکتی ہیں اگر ان کو صحیح مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوۓ سرانجام دیا جاۓ تو لیکن یہاں پہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اس میں ہونے والی سرگرمیاں انگریزوں کے رسم و رواج کی عکاسی کرتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں اور یہی ان کی سرمایہ کاری کا اصل مقصد ہے.

    ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہماری قومی زبان اردو کی ترویج کریں لیکن ہم تو اپنے ہی ملک میں دوسروں کی غلامی کرتے ہوۓ ان کی زبان اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ ہمارے تعلیمی نظام کی ناکامی کا ایک بہت بڑا سبب ہے.

    ہمیں اساتذہ کو اس طرح کی ٹریننگز کروانا ہوں گی جس سے وہ ایک باعمل اور بہترین معلم بن کر قوم کے بچوں کی خدمت کر سکیں نہ کہ مخلوط اور بے ہودہ قسم کی ٹریننگ کروا کے ان کو بھی معلم کی بجاۓ ڈانسر بنا دیا جاۓ.

    سننے میں آیا ہے کہ قائد اعظم اکیڈمی آف ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ (QAED) نے اس عورت کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے اور اس ٹرینر کو ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہے اور اس سرگرمی میں شامل ہونے والے افراد کے خلاف بھی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے.

    لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک عورت کو لائف ٹائم بین کرنے سے کیا ہو گا کیونکہ انٹرنیٹ پہ تو بے بہا ایسی ویڈیوز موجود ہیں ان کے خلاف کون ایکشن لے گا کیا ایسے لوگ بچوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیتے ہوں گے کیا ان جیسے اساتذہ سے بچے اچھی تربیت لے پائیں گے یا وقت کے بہترین ڈانسر بنیں گے کیا ہمارے ادارے اچھے معلم پیدا کریں گے یا صرف فلموں ڈراموں کے ہیرو پیدا کریں گے؟

    ہماری گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسے ٹرینرز کے خلاف ایکشن لینے کی بجاۓ ٹریننگ کا معیار بدلا جاۓ اور اس میں اصلاحات لائی جائیں اور اساتذہ کرام کو ایسی ٹریننگ دی جاۓ جس سے بچوں کو مزید اچھے طریقے سے پڑھانے کے طریقے سکھائیں جائیں اور ان میں جدید ٹیکنالوجی سے مزین اصولوں کو مدنظر رکھا جاۓ تاکہ وہ ہمارے بچوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل تابناک ہو.
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین

  • نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ابھی گزشتہ روز ہی وزیراعلی پنجاب نے آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں اردو ذریعہ تعلیم کاحکم یہ کہہ کر دیا کہ انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے طلباء ترجموں میں الجھےرہتے ہیں۔اس لئے علم کے ابلاغ کے لئے پرائمری سطح پر تعلیم اردو میں دی جائے گی۔انگریزی لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے گا۔ وزیراعلی پنجاب کے اس فیصلے سے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔ جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار ائی تھی ۔یہ اس کا اب تک کیا گیا سب سے مقبول فیصلہ تھا لوگوں نے اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شئر کیا۔اس پر تبصرے کئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو ذریعہ تعلیم کرنے کا یہ فیصلہ صرف پرائمری تعلیم تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر ثانوی سطح اور اعلی تعلیم تک بھی لے جایا جائے ۔ابھی لوگ اس فیصلے کو خوش امدید ہی کہہ ہی رہے تھے اس سلسلے میں اج کا روزنامہ جنگ کا اداریہ نے بھی موجودہ حکومت کے اردو ذریعہ تعلیم کرنے پر شاندار اداریہ تحریر کیا’ کہ انگریزی میڈیم اور اشرافیہ کے مفاد کے ” محافظ” وزیرتعلیم پنجاب جناب مراد راس نے آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ
    "اردو میڈیم کا اطلاق صرف سرکاری اداروں پر ہوگا۔”
    سوال یہ ہے کہ کیا وزیرتعلیم صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی کے وزیر تعلیم ہیں؟ کہ ان کی پالیسی کی ذد میں صرف سرکاری ادارے ائیں گے؟ نجی انگریزی میڈیم ادارے اس حکم سے مستثنی ہونگے؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ نفاذ اردو فیصلہ دستور کا تقاضا اور سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ کیا ائین پاکستان کا نفاذ ریاست کے کسی خاص گروہ پر ہوگا؟ اور باقی ” منتخب گروہ” کو ائین سے اسثثنی حاصل ہوگا؟
    کیا ائین پاکستان تمام شہریوں کو تعلیم اور صحت کے مساوی حقوق نہیں دیتا؟
    تیسری بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا نعرہ "یکساں نصاب تعلیم ‘ یکساں نظام تعلیم” تھا۔ کیا وزیرتعلیم مراد راس کا مذکورہ اقدام خود تحریک انصاف کی پالیسی سے انحراف نہیں ہے؟
    سب سے بڑی بات نفاز اُردو کا حکم اس ملک کی سب سے اعلی عدالت دے چکی ہے اب اس حکم کی خلاف ورزی کرنا توہین عدالت ہے۔ اس فیصلے کو دینے والے محسن اردو سابق ایچی سونین چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سب سے پہلے نفاذ اردو فیصلے کو اپنی ذات پر لاگو کیا اس نے لاہور میں ایک سکول قائم کرکے اپنی ال اولاد کو مہنگے انگریزی میڈیم’ سکول سے اٹھا کر اپنے قائم کردہ سکول میں داخل کیا جہاں تعلیم سماجی مساوات کا عملی مظاہرہ ہے
    جہاں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی ادارے میں تعلیم حاصل کررہا ہے۔۔
    وزیرتعلیم ماشاءاللہ بے حد تعلیم یافتہ اور بیرون ممالک کے ڈگری یافتہ ہے ان سے سوال ہے کہ وہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ لے کر بتائیں کہ اور کتنے ممالک میں پرائمری تعلیم غیرملکی زبان میں دئیے جانے کا تماشا ہورہا ہے؟ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیں کے کیا کسی ملک میں سر کاری اور نجی اور تعلیمی اداروں کے ذریعہ تعلیم میں بھی فرق ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستان کے بائس کڑوڑ عوام کو اپ تعلیم کے نام پر احمق کیوں بنا رہے ہیں؟
    اپ اس ملک کے عوام پر رحم کریں!
    جن .1 فی صد انگریز اشرافیہ نے اج اپ کو ہنگامی پریس کانفرنس کے لئے مجبور کیا ہے ان کو بالکل ائین پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں بالکل ” کورا اور سچا ” جواب دیں کہ ” میں نفاذ اردو فیصلے کے لئے عدالت عظمیٰ کے حکم کا پابند ہوں ‘ تمہارے مفادات کا نہیں۔ تم نے اپنے انگریزی میڈیم ادارے کھولنے ہے تو ان ممالک میں کھولو جہاں کی زبان انگریزی ہے ۔یہ پاکستان ہے یہاں کی زبان اردو ہے لہذا دنیا کے اصولوں کے مطابق یہاں کی عدالت ‘ سرکار ‘ تعلیم کی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی’ اگر اپ نے اپنے سکول قائم کھنے ہیں تو اس اصول پر اپ کو بھی عمل کرنا ہوگا”
    پاکستان میں بہتر سال سے انگریزی جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے
    سرکار ی زبان انگریزی
    عدالت کی زبان انگریزی
    تعلیمی زبان انگریزی
    عسکری اور مقابلے کے امتحان کی زبان انگریزی
    تمام ملازمتوں کے حصول کے لئے انٹرویو کی زبان انگریزی
    اتنی انگریزی مسلط ہونے کے باوجود پاکستان نے علم سائنس ‘ اور ٹیکنالوجی میں کتنی ترقی کی ہے؟ اور جن ممالک نے پاکستان کے ساتھ یا بعد میں جنم لیا وہ اپنی زبان میں تعلیم کے بل بوطے پر کہاں جا پہنچے؟ چین اور کوریا اس میں سر فہرست ہیں۔
    اعلی انگریزی میڈیم ادارے کا پیدا کردہ ایک سائنس دان یا انگریزی کا نوبل پرائز کا حامل ایک ادیب ہی بتادیں۔
    ڈاکٹر عبدا لقدیر’ ڈاکٹر عبد السلام ‘ ڈاکٹر قمر الزماں سب اردو میڈیم ٹاٹ سکول کی پیداوار ہیں۔ اور اگر ان کا زریعہ تعلیم بھی میٹرک کی سطح تک انگریزی ہوتا تو یہ بھی کسی ادارے میں زیادہ سے ” بابو ” کی نو کری کر رہے ہوتے ۔پاکستان کبھی بھی ایک جوہری طاقت نہ بنتا۔ ان کی بنیاد اردو زریعہ تعلیم تھی۔
    انگریزی کو بنیادی زریعہ تعلیم بنانے والوں نے اس ملک کو گونگی ‘بہری ‘ رٹاباز ‘ ٹیوشن مافیا’ ںوٹی مافیا’ اقدار و اخلاق سے عاری ‘ دونمبر ‘ نمود و نمائش ‘ بدعنوانی اور جعلسازی سے بھرپور قوم بنایا ہے ۔
    وزیراعظم صاحب! اپ سے درخواست ہے کہ اپ وزیر تعلیم پنجاب کی اج نفاذ اردو فیصلے سے انحراف کی پریس کانفرنس کی جواب طلبی کریں۔ کیونکہ پاکستانی عوام اپ سے اپ کی اردو کی محبت سے واقف ہے اپ نے اپنی خود نوشت میں خود انگریزی غلامی بیزاری کا اظہار واشگاف الفاظ میں کیا ہے۔
    آپ کا فرمان ہے’
    ” پاکستانیوں سے انگریزی میں بات کرنا بائیس کڑوڑ عوام کی توہین ہے”
    اور ہم اس میں اضافہ کرتے ہیں کہ
    پاکستان میں انگریزی کا ناجائز جبر برقرار رکھنے کی بات کرنا دراصل:
    توہین فرمان قائد اعظم ہے
    توہین آئین ہے
    توہین عدالت ہے
    توہین عوام
    توہین وقار پاکستان ہے!
    وزیراعظم صاحب! لوگوں کی نفاز اُردو کے لئے اپ سے بہت زیادہ امید یں وابستہ ہیں ۔براہ کرم ! انہیں مایوس نہ کیجئے!
    براہ کرم! انگریزی کےناجائز تسلط اور غلامی کے خاتمے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے!

  • ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ملاحظہ کیجئے
    پاکستان کے سب سے
    پہلے نظریاتی اخبار "نوائے وقت” میں انگریزی غلامی میں لتھڑی ہوئی یہ تحریر! ” اس قوم پر رحم کریں”
    فاضل کالم نگار اکرم چوہدری یا تو انتہائی جاہل مطلق ہے’ جنہیں نہ نفسیات کا علم ہے ‘ نہ اقوام متحدہ کے منشور کا علم ہے جو چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری اور رابطے کی زبان میں دو۔ پرائمری تعلیم کا مقصد صرف اور صرف طلباء کو اپنی مقامی آبادی سے رابطے کے قابل بنانا ہے بعد میں جس کے ارتقاء میں وہ پورے ملک اور پوری دنیا سے رابطہ کرنے کی اہلیت حاصل کرسکتا ہے ۔
    خود موصوف کالم نگار کے دوغلے پن اور غلامانہ روئیے کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ وہ انگریزی کے حق اور اردو کے خلاف اپنے دلی جذبات کا ظہار خود اردو میں کررہے ہیں۔ یا تو وہ انگریزی کا مقدمہ انگریزی میں لڑنے کی اہلیت سے محروم ہیں یا پھر انہیں پتا ہے کہ ” سودا پاکستان میں صرف اردو ہی میں بکتا ہے”
    حیرت ہے کہ موصوف نہ تو سائنسدان ہیں ‘ نہ ماہر تعلیم ہیں’ نہ ہی فطرت اور تعلیمی نفسیات سے واقف ہیں لیکن انگریزی زریعہ تعلیم کء حق میں سر کھپائی یوں کر رہے ہیں۔ جیسے علم و دانش کا سمندر ہو!
    معزز کالم نگار ! اپ پرائمری تعلیم کو انگریزی میں کرنے کا یہ مشورہ چین ‘ فرانس ‘ ایران’ ترکی’ کوریا’ جرمنی کے سر براہوں کو بھی بھیجیں ۔ اور وہاں سے جو جواب موصول ہو اس سے قوم کو بھی اگاہ کریں ۔
    قوم کو بہتر سال سے پاکستان میں انگریزی دن رات مسلط ہے
    مقابلے کے امتحان ‘ عسکری امتحان’ عدالت کی زبان ‘ سرکار کی زبان ‘ زریعہ تعلیم سب ” بین الاقوامی” زبان میں!
    یہ بتائیے کہ پاکستان نے اج تک کتنی ترقی کی ہے؟
    ویسے افسوس تونوائے وقت پر ہے جس نے مجید نظامی مرحوم کے انکھیں بند کرتے ہی ان کے نظرئیے سے نوے ڈگری کا انحراف کرلیا۔ کاش مجید نظامی مرحوم اپنا جانشین اپنی ہی طرح کا کسی نظریاتی پاکستانی کو بنا کر جاتے ! اے کاش !
    اے کاش!
    لارڈ میکالے کے اصلی اور کھرے غلاموں! تم اس قوم پر رحم کرو!
    انگریزی کی مالا جپنے کے لئے تم پاکستان سے نکل جاؤ! وہاں جاکر اس کی رطب اللسانی اور اہمیت کے گن گاو جن ملکوں کی یہ زبان ہے!
    انگریزی کی غلامی کا پرچار کرنا توہین عدالت
    توہین ائین
    توہین پاکستان
    توہین عوام ہے!

  • اردو بطور ذریعہ تعلیم ۔۔۔ فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    اردو بطور ذریعہ تعلیم ۔۔۔ فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    معزز وزیر اعلیٰ پنجاب! یہ بات صرف پرائمری سطح تک ہی محدود نہیں کہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے سے توجہ ترجمے کی طرف مرکوز ہوتی ہے اس بات کا اطلاق ہر تعلیمی سطح پر ہوتا ہے کہ غلامی کی زبان میں تعلیم دینے سے علم ہمارے طلباء تک پہنچ ہی نہیں رہا وہ صرف زبان غیر کی گتھیاں سلجھانے میں اپنا وقت برباد کرکے تخلیقیت سے دور ہوجاتے ہیں! رٹہ بازی’ ٹیوشن بازی بوٹی مافیا اس نظام تعلیم کا حصہ بن جاتی ہے۔
    ایک بات اور کہ پرائمری کی سطح تک اردو میں تعلیم اپ کی حکومت کا کارنامہ ہر گز نہیں ہے یہ کام تو پچھلی حکومت بھی کرتی رہی ہے ۔ آپ کا کارنامہ تو یہ ہوتا کہ اپ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں ہر سطح پر زریعہ تعلیم اردو میں کرنے کے احکامات فوری طور پر ایسے صادر فرمائیں۔جیسے سابق حکومت پنجاب اور کے پی کے حکومت نے آئین شکنی کرتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی ادارے راتوں رات انگریزی میڈیم کردیے تھے۔
    ملک میں قومی یکجہتی’ معاشرتی تفریق ختم کرنے کے لئے یکساں نصاب تعلیم یکساں قومی زبان میں نافذ کریں۔جو ضابطہ اخلاق اور اردو زریعہ تعلیم سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے طے کریں اس کا نجی تعلیمی اداروں کو بھی پابند بنائیں اور عمل نہ کرنے کی صورت میں بغیر کسی سیاسی وابستگی کے اس تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کرکے اس ادارے بحق سرکار ضبط کر لیں۔
    سب سے اہم بات یہ کہ عدالت عظمیٰ کی روشنی میں مقابلے کا امتحان اردو میں لینے کا فخر آپ کی حکومت حاصل کریں یقین کیجئے یہ اپ کی حکومت کا انتہائی مقبول’ جراءت مندانہ فیصلہ ہوگا!
    اور یہی وہ فیصلہ ہوگا جو آپ فخر کے ساتھ اپنی حکومت کے نایاب اور تاریخ ساز کارنامے کے طور پر قوم کے سامنے رکھ سکیں گے۔
    ورنہ جس پرائمری تعلیم کے ذریعہ تعلیم کا فخر اپ کی حکومت اپنے اعزاز کے طور پر بیان کر رہی ہے یہ تو حقیقت میں سابق حکومت کا کارنامہ ہے!

  • سمر کیمپ ضرور لگائیں مگر فیس نہیں لینی، محکمہ تعلیم پنجاب

    سمر کیمپ ضرور لگائیں مگر فیس نہیں لینی، محکمہ تعلیم پنجاب

    لاہور:صوبے بھر میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سمر کیمپ لگانے یا نہ لگانے کا معاملہ حل ہو گیا اور بالآخر محکمہ تعلیم نے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو اپنے اسکولوں میں سمر کیمپ لگانے کی اجازت دے دی۔

    یہ سمر کیمپ تمام کلاسز کے لیے نہیں بلکہ یہ صرف سمر کیمپ تمام ٹرمینل جماعتوں 5،8،9 اور دسویں کے طلبا اور طالبات کے لیے ہوگا، سمر کیمپ کا وقت صبح سات بجے سے لیکر ساڑھے دس بجے تک ہو گا۔ سمر کیمپ میں بچوں کو بلوانے کے لیے ان کے والدین کی رضا مندی ضروری ہوگی۔

    یاد رہے کہ ان سمر کیمپوں کو اس لیے بند کردیا گیا تھا کہ والدین کی طرف سے شکایات کی گئیں تھیں کہ اساتذہ سمر کیمپ کی آڑ میں بہت زیادہ فیسیں وصول کرتے ہیں. تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے پینے کی اشیا لانے کی یقین دہانی کروائیں گے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا کہ کوئی بھی سرکاری یا نجی ادارہ سمر کیمپ کی فیس وصول نہیں کرے گا۔

  • یو ای ٹی نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کردیا

    یو ای ٹی نے انٹری ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کردیا

    لاہور:یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے انٹری ٹیسٹ نتائج کا اعلان کردیا، 400 نمبرز میں سے 336 نمبرز لیکر لاہور کے فائق عرفان راشد پہلے، عبدالصبور 313 نمبرز کیساتھ دوسرے جبکہ ملتان کے ارحم فاروق 308 نمبر لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔

    یونیورسٹی ذرائع کے مطابق یو ای ٹی میں داخلوں کا آغاز انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج کے بعد ہوگا، ٹیسٹ بی ایس سی انجنیئرنگ، بی ایس سی ٹیکنالوجی میں داخلے کیلئے لیا گیا تھا۔ حاصل نمبرز کاوٹیج 30 فیصد، ایف ایف سی کے نمبرز کاویٹج 70 فیصد ہے

    یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ امیدواروں کو انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج کے بعد پراسپیکٹس ملنا شروع ہوں گے، پراسپیکٹس کی قیمت 1000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ داخلے کی مزید تفصیلات یو ای ٹی کی ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔یو ای ٹی اور اس کے ملحقہ کیمپسز میں نشستوں کی مجموعی تعداد 2500 ہے۔

  • محمکہ تعلیم پنجاب کی نئی پیشکش ، گھربیٹھے داخلہ فارم جمع کروائیں

    محمکہ تعلیم پنجاب کی نئی پیشکش ، گھربیٹھے داخلہ فارم جمع کروائیں

    لاہور:تعلیم کے میدان میں‌ بھی تبدیلی آنے لگی ،محکمہ تعلیم حکومت پنجاب نے آن لائن داخلہ کروانے کی سہولت متعارت کروا دی، اطلاعات کے مطابق میٹرک امتحانات میں پاس ہونیوالے طلباکیلئے سرکاری کالجوں میں آن لائن داخلوں کا اجراء ہوگیا، طلباء گھر بیٹھے فرسٹ ایئر میں داخلوں کے فارم جمع کراسکتے ہیں۔

    محکمہ تعلیم کےذرائع کے مطابق صوبے بھر میں‌ میٹرک پاس کرنے والے طلباء کیلئے فرسٹ ائیر میں آن لائن داخلوں کا آغاز ہوگیا ہے، پنجاب کے 730 سرکاری کالجوں میں انٹرمیڈیٹ داخلوں کی درخواستوں کی وصولی جاری ہے، آن لائن کالج ایڈمشن سسٹم کے نام سے ویب سائٹ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ، پی آئی ٹی بی اور پنجاب بینک کے اشتراک سے چل رہی ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق داخلے کے خواہش مند طلبا سرکاری کالجوں کی لمبی قطاروں کی بجائے گھر بیٹھے آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں، طلبا ایف اے، ایف ایس سی اور آئی سی ایس میں داخلوں کی درخواست دے سکتے ہیں، ویب سائٹ پر 2011 سے اب تک 16لاکھ درخواستیں وصول کی جاچکی ہیں۔