Baaghi TV

Category: تعلیم

  • پنجاب حکومت نے اساتذہ کی تقرریوں کیلئے نئی پالیسی جاری کردی ، تفصیلات خبر میں جانیئے

    پنجاب حکومت نے اساتذہ کی تقرریوں کیلئے نئی پالیسی جاری کردی ، تفصیلات خبر میں جانیئے

    لاہور :حکومت پنجاب نے سرکاری کالجوں کے اساتذہ کے تقرر و تبادلوں کی نئی پالیسی جاری کردی، کسی کالج میں‌پڑھانےکی مدت 3 سال کر دی گئی، ایک ہی کالج میں تین سال سروس کرنے کے بعد اساتذہ کا دوسرے ضلع میں تبادلہ کر دیا جائے گا۔

    نئی پالیسی کے مطابق محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے نئی پالیسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ اکیڈمک سیشن کے دوران اساتذہ کے تبادلے نہیں کیے جائیں گے، تبادلوں کیلئے درخواستیں جون سے لے کر 15 اگست تک وصول کی جائیں گی۔ نئی پالیسی کی دستاویز کے مطابق لیکچرر کی پہلی تقرری کے تین سال تک کالج سے تبادلہ نہیں‌ ہوسکے گا، تین سال کے بعد استاد کو خالی نشست پر کسی دوسرے ضلع میں تبادلے کے لیے اہل تصور کیا جائے گا۔

    حکومت پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والی پالیسی کے مطابق دوسری تقرری پانچ سال کے عرصے کے لیے ہوگی، دوسری پوسٹنگ کے پانچ سال کے بعد متعلقہ ڈویژن کے دوسرے ضلع میں ایک سال کیلئے ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ معذوری اور خاوند یا بیوی کے انتقال کی صورت میں کسی بھی دوسرے ضلع میں خالی نشست پر بغیر کسی دوسری شرط کے تبادلہ کر دیا جائے گا۔ میڈیکل کے انتہائی سنجیدہ نوعیت کے کیسز میں میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں دوسرے کالج یا ضلع میں تبادلہ کیا جاسکے گا،

    اس پالیسی میں‌کہا گیا ہے کہ جن اساتذہ کے‌ خلاف ڈسپلنری کارروائی عمل میں‌ لائی جائے گی انھیں دو سال کے لیے کسی دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا تاہم یہ ضلع دوسری ڈویژن سے ہوگا۔

    انٹر ڈسٹرکٹ تبادلوں کے لیے صرف خواتین کو اہل تصور کیا جائے گا جبکہ میوچل تبادلوں کے لیے متعلقہ کالج میں نشست کا خالی ہونا ضروری ہے۔

  • اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    گزشتہ روز ہم اور پروفیسر سلیم ہاشمی یو ایم ٹی کے ماہانہ ادبی ناشتے میں بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔ لیکن پروفیسر سلیم ہاشمی بوجہ علالت کے اتنی شاندار تقریب میں شرکت نہ کر سکے ۔لیکن انہوں نے مجھے بطور خاص ہدایت کی ان کی نمائندگی درویش صفت تحریک ‘ قومی سوچ کے حامل’ ماہر اقتصادیات ‘ ماہر تعلیم سابق اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی رہنما جناب جمیل بھٹی صاحب کریں۔ جمیل بھٹی صاحب ایک سابق بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مالیات سے متعلق بہت سی انگریزی کتب کے ترجمے بھی کر رہے ہیں ۔ آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ انگریزی کے سابق سربراہ مرحوم اسمعیل بھٹی کے انتہائی لائق فرزند ہیں ۔ آپ نے حاضرین کو اپنی ملازمت کے دوران کےبہت سے اجلاس کا حال سنایا کہ بیوروکریسی میں تمام اجلاسوں اردو میں ہوتے ہیں لیکن ان کی کاروائی انگریزی میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تعلیم مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب سے بیگانہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میری انگریزی شاعری کی دو کتب چھپ چکی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود میں اردو اور پنجابی میں اپنے خیالات کھل ڈھل کر بیان کرسکتا ہوں”
    ہم نے اپنے خطاب میں مرزا الیاس اختر کا بہت شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے ہم سے اس تقریب کو منعقد کرنے کا ایک پرانا وعدہ اہداء کیا۔اگر چہ یہ وعدہ ادھورا ہے۔ کیونکہ ان کا ہم سے وعدہ تھا کہ وہ نفاذ اردو کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ انہوں نے پھر ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
    ہم نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بس! پاکستان میں اتنی اردو نافذ کردیں!
    جتنی برطانیہ میں برطانوی انگریزی
    ایران میں فارسی
    چینی میں چینی
    فرانس میں فرانسیسی
    جرمن میں جرمنی!
    اور انگریزی کو اتنی اختیاری حیثیت دے دیں جو ان ممالک نے دے رکھی ہے۔۔
    ہم نے حاضرین سے درخواست کی کہ نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جہاں بھی نفاذ اردو فیصلے کی توہین ہورہی ہے۔ہر پاکستانی اس توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے”
    یہ بہت خوش آئند بات تھی کہ تقریب میں دو انگریزی میڈیم اداروں کے سر براہان اور نوجوان بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہماری باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سنیں۔ انگریزی میڈیم ادارے نے ہمیں اپنے ادارے میں نفاذاردو کا لیکچر دینے کی دعوت دی۔
    الحمداللہ! نفاذ اردو کے حوالے سے نوجوانوں میں بہت شعور پیدا ہورہا ہے جو ایک روشن صبح کی امید ہے۔ معروف ادیبہ اور شاعرہ تسنیم کوثر نے ہمارا یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا۔ ” فاطمہ قمر کی تقریب ہو اور میں نہ جاؤں”
    اصل میں یہ تسنیم کوثر کی خود اردو سے محبت کا ثبوت ہے۔
    میجر ریٹائرڈ خالد نصر ہمیشہ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ اور بہت جذبے اور شوق کے ساتھ وقت پر تشریف لائے۔۔آپ ادبی لحاظ سے بہت سر گرم ہیں۔
    گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کی سابق پرنسپل محترمہ ساجدہ پروین اور فوزیہ محمود فروا نے ہماری دعوت پر بطور خاص پروگرام میں شرکت کی۔ اور ایک صاحب سیدھا اسلام آباد سے تقریب میں شرکت کرنے پہنچے۔
    بہت سے لوگوں کے انباکس میں پیغامات آئے کہ انہوں نے پیغام دیر سے دیکھا جب تقریب ختم ہوچکی تھی۔۔
    اتنی پروقار تقریب کا انعقاد کرنے پر ہم مرزا الیاس اختر اور یو ایم ٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
    پروفیسر سلیم ہاشمی کو تقریب میں شرکت نہ کرنے کا بہت افسوس رہا ۔اپ کے الفاظ ہیں ” کہ یو ایم ٹی کے فورم سے نفاذاردو کی بات کرنا میرا خواب رہا ہے”
    ان شاءاللہ! اللہ کی ذات سے یقین کامل ہے کہ وہ پروفیسر سلیم ہاشمی اور ہم سب کا نفاز اردو کا خواب شرمندہ تعبیر کرے گا! ان شاءاللہ
    ان تمام معزز مہمانوں کا شکریہ جنہوں نے ہماری دعوت پر اس تقریب میں شرکت کی۔

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک

  • بچوں کے لئے سمر کیمپ ضروری مگر کہاں پر؟؟؟ عفیفہ راؤ

    آج کل جہاں بچے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کا مزا لے رہے ہیں ساتھ ہی کچھ بچے ایسے بھی ہیں جنہیں ان کے والدین نے کسی سمر کیمپ میں داخلہ دلوا دیا ہے اور وہ آجکل اس میں مصروف ہیں۔اگر ہم ماضی میں جھانکیں اور سوچیں کہ ہم اپنی گرمیوں کی چھٹیاں کیسے مناتے تھے تو آپ کو یا د ہو گاکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سب سے زیادہ اانتظار ان دنوں کا ہوتاتھا جب ہم نے اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نانی نانا کو ملنے یادادی دادا کو ملنے جاناہوتاتھا۔اور یہ عام رواج تھا کہ گھروں میں سب بچے اکھٹے ہوتے تھے اور اپنے کزنز،خالہ ،ماموں ،تایا،چچااورپھوپھو کے ساتھ ٹائم گزارتے تھے ۔ ان کے ساتھ گزارہ وہ وقت اور شرارتیں ہی ہمارے بچپن کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔آج اگر ہم سب کسی فیملی ایونٹ پر اکھٹے ہوتے ہیں تو بچپن میں ایک ساتھ گزاری چھٹیوں کو ہی یاد کرکے ہم سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    مگر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی گزارنے کے طریقے بھی کافی حد تک بدلتے جا رہے ہیں اب وہ وقت نہیں رہا کہ مائیں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے بچوں کو لیکر اڑھائی یا تین ماہ کے لئے میکے جا سکیں ۔کسی عورت کی اپنی جاب کی مجبوری ہوتی ہے تو کسی کے شوہر کی نوکری کا مسئلہ ،کسی کو ساس کی اجازت نہیں ملتی تو کوئی اکیلے رہنے کی وجہ سے وقت نہیں نکال پاتی۔ویسے بھی آج کل کے تیزطرار دور میں کوئی بھی عورت اپنے شوہر اور گھر کو اتنے زیادہ دنوں کے لئے اکیلے چھوڑنے کارِسک بھی نہیں لے سکتی۔لیکن چھٹیوں میں بچوں کو 24گھنٹے سنبھالنا بھی ایک بہت بڑی ڈیوٹی ہے جو پوری کرنے کے لئے بڑے شہروں کی بیشتر خواتین سسمر کیمپ کا سہارا لیتی ہیں۔بچوں کو وہ چند گھنٹے گھر سے دور رکھنے کے لئے ہزاروں روپے سمر کیمپ کی فیس ادا کرتی ہیں ۔پرائیوٹ سکولوں کی طرح سمر کیمپس کی بھی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جو فی گھنٹہ ایک ہزار روپے سے بھی زیادہ فیس چارج کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس فیس اور ٹائم کے عوض بچوں کو سکھاتے کیا ہیں؟؟؟

    یہ آرٹیکل لکھنے سے پہلے میں نے بہت سے سمر کیمپس کے فیس بک پیجز اور ان میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز پرکافی ریسرچ کی۔پہلے پہل ان کے بروشیئرز اور اشتہارات دیکھ کر اور ان پر لکھی گئی ایکٹیویٹیز کے نام پڑھ کر تو ایسا لگا کہ واقعی ان سمر کیمپس میں جاکر تو چند دنوں کے گزارے جانے والے ان چند گھنٹوں میں ہمارے بچے نجانے کیاکچھ سیکھ لیں گے اور کوئی سائنسدان یا مصور تولازمی بن جائیں گے۔

    https://login.baaghitv.com/kya-hmary-bachon-ko-summer-camp-ki-zrurt-hai/

    اسی ایکسائٹمنٹ اور خوشی میں سوچا کہ اور ٹائم لگایا جائے اور ان کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں تو بس پھر ایک ایک کرکے ان فیس بک پیجز پر سمر کیمپس میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ لیکن یہ کیا تھا یہ تصاویر اورویڈیوز تو مجھے میرے ہی بچپن کی طرف لے گئیں۔ جہاں ہم لکڑی پر لگے ایک چھوٹے سے گول سپرنگ والی سٹک کو چھپا چھپا کر رکھتے تھے کہ کہیں کوئی اس کو پھینک نہ دے اور اگر کسی گھر کے بڑے نے دیکھ لی تو اس کو توڑ ہی نہ دیا جائے اور وہ سٹک باہر تب نکالتے تھے جب سب بڑے دوپہر کو آرام کی غرض سے سو جاتے تھے اور پھر ہم پانی میں کپڑے دھونے والا صرف گھول گھول کر خوب بلبلے بناتے تھے بس ہماری نالائقی یہ تھی کہ ہمارے پاس اس گیم کے لئے کوئی منفرد سا نام نہیں تھا جب کہ آج کل کے سمر کیمپس نے ان کو ببل بیش bubble bash کا نام دے کر ایسے نمایاں کیا جاتا ہے کہ اس میں نہ جانے کیا نئی چیز پوشیدہ ہے۔اس کے بعد ایک اور تصویر پر نظر ٹھر گئی جس میں بچے کاغذ کی مدد سے طرح طرح کے لباس اور جوتے بنا رہے تھے اس ایکٹیویٹی کو بھی کرافٹ کی کوئی نئی قسم ہی لکھا گیا تھا جبکہ ان لباس اور جوتوں کو دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کی وہ کاغذ کی گڑیایاد آگئی جو ہم اپنے رجسٹرز میں سے صفحات پھاڑ پھاڑ کر بناتے تھے اور گڑیا کےلئے بنائے کاغذ کے اُن کپڑوں پر بھی رنگوں کی مدد سے خوب پھول بوٹے بناتے اور انھیں رنگوں سے خوب گڑیا کو میک اپ بھی کرتے لیکن افسوس اس وقت میں ہماری یہ سب کھیل کھیلتے ہوئے کوئی تصاویر بنانے والا نہ تھا بلکہ ہم تو یہ سب چھپ چھپا کر کرتے تھے کہ کسی نے دیکھ لیا تو شامت آجائے گی کہ رجسٹر پڑھائی کے لئے تھا یا گڑیا بنانے کے لئے۔ ساتھ ہی ساتھ کٹنگ پیسٹنگ کی ایکٹیوٹیز نے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں آنے والی 14اگست یاد کروا دی۔ جیسے ہی اگست کا مہینہ شروع ہوتا تو بازار میں لگنے والے سٹالز سے جھنڈیاں خرید کر لائی جاتیں اور پھر گھر میں ہی سب سے چھوٹی خالہ کی منتیں کرکے ہم ان سے گوند بنواتے اور جب سب دوپہر کو آرام کر رہے ہوتے تھے تو ہم ان جھنڈیوں پر گوند لگا لگا کر لڑیاں بناتے اور خوب جوش و جذبے سے 14 اگست بھی مل کر مناتے۔
    اور سب سے دلچسپ تو پول پارٹیز والی تصاویر دیکھنے کو ملی جن میں بچے پلاسٹک کے چھوٹے سے سوئمنگ پول میں ایک دوسرے پر پانی ڈال ڈال کر نہارہے تھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کے چہروں کی خوشی قابل دید تھی اور وہ واٹر گن اور ٹیوبز کے ساتھ خوب انجوائے بھی کر رہے تھے۔ مگر یہ کیا یہ سب تو ہم ٹیوب ویل پر اپنے بڑوں کے ساتھ جاکر کرتے تھے مجھے یاد ہے ہمارے نانا جی ہمیں پانی میں جمپ لگاتا دیکھ کر خوب خوش بھی ہوتے تھے ساتھ ہی ساتھ برف میں لگے ٹھنڈے آموں کے ساتھ ہماری دعوت بھی کی جاتی تھی۔اور رہی بات پڑھائی کی تو سب بہن بھائی اور کزنز ایک دوسرے سے مقابلہ لگا کر سکولز کی طرف سے ملنے والا کام بھی جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے اس طرح چھٹیاں بھی بھرپور انجوائے کی جاتی تھیں اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی ہوتی تھی ۔مختصر یہ کہ ان سمر کیمپس کی تصاویر کے ساتھ کافی وقت لگانے کے باوجود کوئی ایسی نئی چیز دیکھنے کو نہ ملی جسے دیکھ کر یہ محسوس ہو کہ یہ کام تو ہم نے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں نہیں کیا تھا اور ہمارے بچوں نے بھی اگر یہ نہ کیا تو نجانے وہ ان سمر کیمپ والے بچوں سے ترقی کے میدان میں کہیں بہت پیچھے نہ رہ جائیں۔
    ان ایکٹیوٹیز کے علاوہ بہت سے سمر کیمپس ایسے ہیں جو کہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بچوں میں
    critical thinking,
    reading and writing skill,
    problem solving and
    leadershipکی صلاحیتیں پیدا کریں گے۔ویسے تو یہ سب صلاحیتیں خداداد ہوتی ہیں لیکن اگر behavioral sciencesکے مطابق دیکھا جائے تو یقین کرنا پڑے گا کہ انسان یہ سب سیکھ بھی سکتا ہے لیکن اس کے لئے اچھا خاصا وقت درکار ہوتاہے اور مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔جو کہ سمر کیمپس میں گزارے دو یا تین گھنٹوں میں تو ہونابہت مشکل ہی نہیں تقریباََ نا ممکن ہی ہے۔ہاں بچوں میں یہ سب صلاحیتیں پیدا کرنے میں اگر کوئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ اس کا سکول اور گھر ہے جہاں وہ اپنے دن کاا چھا خاصاٹائم گزارتے ہیں۔


    تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ چھٹیوں کو ایک بوجھ سمجھ کربچوں کے لئے گھر سے باہر بھاری فیس ادا کر کے سمر کیمپس تلاش کرنے کی بجائے ان چھٹیوں کو ایک موقع سمجھنا چاہیے کہ اس میں ہم اپنے بچوں کے ساتھ ایک کوالٹی ٹائم گزارسکتے ہیں ۔ ہم جو عادات اپنے بچوں میں ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں یہ چھٹیاں اس کے لئے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہیں ۔اور رہی بات مختلف طرح کی ایکٹیویٹیز کی تو یہ سب آجکل کیا مشکل ہے جب بک سٹورز پرہر طرح کی ایکٹیویٹیز کا سامان با آسانی دستیاب ہوتا ہے پھر بھی اگر کوئی مشکل ہو تو جس انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاجس پر مائیں بچوں کے لئے سمر کیمپ تلاش کرتی ہیں اس پرسرچ کرکے وہ خودبہت سے نیو آئیڈیاز پر کام کر سکتی ہیں جب اتنی آسانیاں ہیں تو مائیں خود سے بچوں کے لئے کوئی ایسی ایکٹیویٹی کیوں نہیں پلان کرتیں؟بچوں کی بہتر تربیت اور اچھے کردار کے لئے ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کے لئے اپنے گھر میں ہی سمر کیمپ کا انعقاد کریں ان کے ساتھ وقت گزاریں. جس سے بچہ کچھ نیا سیکھ بھی سکے اور مصروف بھی رہے کیونکہ ماں سے بہتر بچے کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

    عفیفہ راو
    صحافی۔۔ٹی وی پروڈیوسر

    Email:afeefarao@gmail.com

    Facebook: www.facebook.com/afeefarao786

    Twitter: https://twitter.com/afeefarao

  • دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    210 ہجری کا ذکر ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے 16 سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے خراسان، عراق، مصر، شام اور دوسرے علاقوں کا سفر کیا۔ امام ابو الحسین مسلم رحمہ اللہ نے بغداد، بُصرہ اور دیگر اسلامی شہروں کے لمبے سفر کیے۔ اسی طرح دیگر آئمہ حدیث نے ایک ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لیے انتہائی لمبے سفر کیے۔ اور ہمارے لیے حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا۔
    ایک طرف ہمارے اسلاف کا علمِ حدیث کے لیے پوری زندگی پر محیط لمبا اور تھکا دینے والا سفر۔
    دوسری طرف ہم جس جدید دور میں زندگی گزار رہے ہیں کتابیں عام ہو رہی ہیں۔ حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں نئی تزئین و تدوین کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔ کمپیوٹر نے اس جدید دور میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ کتب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کی آسانی کے لیے پی ڈی ایف فارمیٹ میں کتابیں موجود ہیں، مکتبہ الشاملہ جیسی کتب کی وسیع آن لائن لائبریری موجود ہے۔
    کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اتنی آسانیوں کے دور میں ہمارا ہر جوان قرآن کا مفسر ہوتا، حدیث کا عالم ہوتا۔
    لیکن ہم تو اتنے بے فیض لوگ ہیں کہ ہمیں اپنی ذاتی زندگی سے ہی فرصت نہیں۔ دنیاوی علوم میں تو ہم نے بڑی بڑی ڈگریاں لے لیں۔ آج المیہ یہ ہے کے انگلش اتنی سیکھ لی کہ انگریز کو پڑھا سکتے ہیں اور قرآن اتنا نہیں سیکھا کے ہم اللہ کے احکام کو جان سکیں کہ رب العالمین کہہ کیا رہے ہیں۔ کبھی قرآن کے معنی ومفاہیم پر غور و فکر نہیں کیا یا احادیث رسول ﷺ کو سمجھ کر اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کی۔
    اگر کبھی قرآن کریم کو کھولا بھی جاتا ہے تو صرف ثواب یا تبرک کے لیے۔ احادیث کا ذوقی انتخاب کر لیا جاتا ہے اور صرف چند ابواب پر مبنی احادیث کو ہی پڑھا جاتا ہے۔
    اُصولِ حدیث اور شرعی اصطلاحات سے ہماری نوجوان نسل کو کوئی خاص رغبت نہیں رہی ہے۔ حدیث کی سند اور راویان حدیث کے حالات زندگی کو معلوم کرنا ہمارے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔
    بلکہ سنی سنائی باتوں کی نسبت فوری طور پر رسول کریم ﷺ کی طرف کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ((اطلب العلم ولو بالصّین)) علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے جیسی بے اصل روایات ہماری نصابی کتب میں شامل ہیں۔ سکولوں، کالجوں میں بورڈز پر آویزاں ہیں۔
    علم حدیث سے بالکل بے خبر ارسطو اور افلاطون جیسوں کے اقوال کو ہمارے دانشور حضرات حدیث شریف کا درجہ دے دیتے ہیں۔
    اگر شروع سے ہی بچے بے اصل اور من گھڑت روایات کو حدیثِ صحیح سمجھ کر پڑھنے لگیں گے تو وہ بڑے ہو کر کس طرح صحیح اور موضوع روایت میں فرق کا ذوق رکھیں گے۔
    سستی شہرت حاصل کرنے والے علماء نے ایسی ایسی باتوں کو حدیث کا درجہ دے دیا ہے جس کا حدیث نبوی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ عوام بھی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے اس کو من و عن تسلیم کرنے لگتے ہیں۔ جب ان سے کہا جائے کہ یہ فعل تو نبی کریم ﷺ نے پوری زندگی میں نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا حکم دیا ہے تو اگے سے وہی گھسے پِٹے جواب کہ کم از کم برائی کا کام تو نہیں کر رہے نہ، نیکی ہی کر رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟
    باشعور اور پڑھی لکھی عوام سے ایسے جوابات سن کر حیرت ہونے لگتی ہے۔
    ان حالات کو دیکھ کر انتہائی افسوس ہونے لگتا ہے کہ کثیر تعداد میں وسائل ہونے کے باوجود ہم احادیثِ رسول ﷺ سے اتنے بے خبر ہیں کہ نماز کا نبوی طریقہ نہیں معلوم، حج و عمرہ کے فرائض صحیح سے ادا کرنے نہیں آتے، سب سے بڑھ کر غسل کا طریقہ تک نہیں معلوم۔
    ہمارے اسلاف نے احادیث کو سیکھنے کے لیے زندگیاں وقف کردی تھیں۔ آج وہی احادیث، اسناد، راویانِ حدیث کے حالات زندگی، اسماء الرجال کے ساتھ انٹرنیٹ پر ایک کلک کے فاصلے پر موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس قرآن و حدیث کو سیکھنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت و عشق کے دعوے کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں لیکن عملی زندگی پر نگاہ دوڑائی جائے تو اسی نبی کی حیاتِ مبارکہ کے حالات اور ان کے بتلائے ہوئے طریقے ہمیں معلوم نہیں ہیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں صحیح معنوں میں نبی کریم ﷺ کا امتی بنائے ۔ قرآن و حدیث کو کماحقّہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روزِ قیامت ہم بارگاہ ایزدی میں سرخرو ٹھہریں۔ آمین

  • کیا سمر کیمپس کی ضرورت واقعی ہمارے بچوں کو ہے؟؟؟  عفیفہ راؤ

    کیا سمر کیمپس کی ضرورت واقعی ہمارے بچوں کو ہے؟؟؟ عفیفہ راؤ

    جب سے صحافت کے شعبے میں قدم رکھا توفون کے کانٹیکٹ نمبرز سے لے کر سوشل میڈیا کی فرینڈ لسٹ اور فالوورز تک میں زیادہ تر وہ لوگ موجود تھے جن کا تعلق صحافت اور میڈیا انڈسٹری سے ہے ۔اور پھر جیسے جیسے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کا رواج بڑھنا شروع ہوا تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہر جان پہچان والے پر فرض ہے کہ وہ جو بھی گروپ بنائیں اس میں ہمیں ضرور ایڈ کرنا ہے۔۔اور یوں میں بہت سے گروپس میں شامل ہو گئی۔لیکن اس میں ایک چینج اس وقت آیا جب میں ماں بنی اور ایک دو ایسے گروپس کو پہلے تو میں نے خود لائک کیا جو ماو¿ں اوربچوں سے متعلق تھے لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ گروپس کی خود سے ریکویسٹ آنا شروع ہو گئیں مختصر یہ کہ اب ایک طویل فہرست ایسے گروپس کی ہے جو ماں اوربچوں سے متعلق ہیں اور میں ان کی ممبر ہوں۔اور میں ان گروپس کو فالو بھی کرتی ہوں کیونکہ ان میں موجود دوسرے لوگوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں۔
    آج صبح ایک ایسے ہی گروپ میں میری نظر سے ایک پوسٹ گزری جس نے مجھے سمر کیمپس جیسے موضوع پر لکھنے پر مجبور کر دیا۔آجکل سوشل میڈیا پر آپ کو سمر کیمپس کے اشتہارات ، مختلف پوسٹس اور گروپس کی بھرمار نظر آئے گی اور کیوں نہ ہو ان کا تو یہ سیزن ہے وہ اس وقت ایکٹو نہیں ہوں گے تو اور کب ہونگے۔لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اصل میں یہ سمر کیمپس کس کے لئے ضروری ہیں؟؟؟ ان سمر کیمپس میں ایسا کیا خاص ہے کہ ہمارے بچوں کو ضرور انھیں جوائن کرنا چاہیے؟؟؟

    میری یاداشت کے مطابق ان سمر کیمپس کا رواج 2004یا 2005سے شروع ہوا اور اس وقت یہ کیمپس سکولز کی طرف سے ان بچوں کے لئے لگائے جاتے تھے جو کلاس میں اپنے باقی ساتھیوں سے پراگریس وائز کم ہوتے تھے ان کو صرف سکول بلایا جاتا تھا تاکہ کچھ توجہ دے کر ان کی کارکردگی کو تھوڑا بہتر کیا جاسکے۔ لیکن آج کل تو جیسے ہی گرمیاں شروع ہوتی ہیں میڈیا پر ہر طرف سے خوب شور کیاجاتا ہے
    کہ ملک میں گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اور بچوں کاسکول آنا جانا مشکل ہے ۔کسی چینل پرایک بچے کے گرمی سے بے ہوش ہونے کی خبر چلتی ہے تو کسی چینل پر ایک سے زیادہ کی۔اور حکومت پر شدید دباو¿ ڈالا جاتا ہے کہ جلد سے جلد چھٹیوں کا اعلان کیا جائے اور بات بھی ٹھیک ہے جب گرمی کی لہر اتنی شدت اختیار کر جائے تو معصوم بچوں کو گھر سے باہر نکالنا ان پر ظلم ہی ہے۔
    لیکن چھٹیوں کی نوید ملتے ہی سمر کیمپس کروانے والے ادارے فل ٹائم ایکٹو ہو جاتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ ایڈمیشن مل سکیں اور ظاہری بات ہے ان کا یہ کاروبار ہے تو ان کی یہ کوشش جائز بھی ہے لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مائیں خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کر کے اپنے بچوں کے لئے سمر کیمپس ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں لوگوں سے مشورہ طلب کر رہی ہوتی ہیں کہ کون سا سمر کیمپ سب سے اچھا ہے۔اب یہاں چند سوالات جنم لیتے ہیں کہ:

    اگر ملک میں اس وقت اتنی گرمی ہے کہ بچے سکول نہیں جا سکتے تو سمر کیمپ کے لئے کیسے جا سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ملتا ہے کہ سمر کیمپ میں رومز ائیر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں تو یہاں آپ کو میں یہ بتاتی چلوں کہ جو بچے سمر کیمپ جاتے ہیں یہ بچے کوئی گورنمنٹ سکولز میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے نہیں ہوتے یہ بچے جن سکولز میں پڑھتے ہیں ان میں بھی کلاس رومز ائیر کنڈیشنڈ ہی ہوتے ہیں۔
    اس کی ایک لاجک یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سمر کیمپ میں بچہ صرف دو یا تین گھنٹے کے لئے جاتا ہے اور واپس آجاتا ہے۔تو اگر ہم گرمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بچوں کو دو تین گھنٹوں کے لئے گھر سے باہر بھیج سکتے ہیں تو پھر ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہونا چاہیے کہ سکولوں کی گرمیوں میں ٹائمنگ تبدیل کی جانی چاہیں نہ کہ فل ٹائم چھٹیاں۔

    سکولوں کے حوالے کے ایک شکایت اور بھی بہت زیادہ سننے میں آتی ہے کہ یہ والدین سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس کیوں لیتے ہیں ۔پہلے پہل یہ شکایت ان سکولوں سے آتی تھیں جن کی فیس باقی پرائیوٹ سکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی تھی لیکن بہت ٹائم ہو گیا کہ ان کی طرف سے تو یہ شکایت کم ہو گئی ہے شاید ان کو اس کی عادت ہو گئی ہے لیکن اب یہ شکایت ان سکولوں کی طرف سے آرہی ہوتی ہے جن کی فیس کئی ہزاروں میں ہوتی ہے ۔یہ والدین سکولوں کی فیس پر تو بولتے ہیں لیکن سکول سے چھٹیاں ہوتے ہی ان گھروں سے ہی تعلق رکھنے والی مائیں ہی سب سے پہلے اپنے بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر سب سے بہترین سمر کیمپس کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں اور یہ سمر کیمپس ان سے جو فیس چارج کرتے ہیں وہ تقریبا ایک ہزار روپے فی گھنٹے سے بھی زیاد ہ ہوتی ہے سکولز جو فیس پورے ماہ کے لئے چارج کرتے ہیں وہ یہ سمر کیمپس چند گھنٹوں اور کچھ دنوں کے لئے چارج کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔


    اس تحریر کے ساتھ دی گئی سوشل میڈیا کی پوسٹ اگر آپ دیکھیں جو صبح میری نظر سے گزری تو اس پوسٹ میں ایک ماں اپنے 2سال اور اس سے کچھ بڑی عمر کے بچے کے لئے سمر کیمپ کا مشورہ مانگ رہی ہے۔ کیا کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ دو سال کے بچے کو سمر کیمپپ کی کیا ضرورت ہے؟ جن بچوں کو آج کل سمر کیمپ میں داخلہ کروایا جاتا ہے ان عمر کے بچوں کو نہ تو سمر کیمپ کا خود سے پتہ ہوتا ہے نہ ہی ان کی اس کے بارے میں کوئی رائے یاسوچ ہوتی ہے کہ سمر کیمپ میں جاناچاہیے یا نہیں ۔ دراصل یہ سوچ آجکل ہماری ماو¿ں کے ذہن میں ہوتی ہے جس کے لئے پہلے وہ والد کو راضی کرتی ہیں اور اس کے بعد ان معصوم بچوں کو کھیلنے کا،باہر جانے کا ، نئے دوست بنانے کااور دوسری کئی ایکٹیویٹیز کا لالچ دے کر اس کا داخلہ کروا دیا جاتا ہے۔لہذا یہ سمر کیمپ بچوں کی نہیں دراصل ماو¿ں کی ضرورت پر اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں کیونکہ مائیں چاہتی ہیں کہ بچے کچھ ٹائم گھر کے علاوہ کہیں مصروف رہیں۔ماو¿ں کی اس پلاننگ کے پیچھے ہو سکتا ہے کہ ان کی کوئی جائز وجہ بھی ہولیکن بات یہ ہےکہ ان چھٹیوں کے دنوں میں بھی کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں پر یہ سمر کیمپ نامی بوجھ ڈال دیں بہت کچھ اس سے بہتر بھی سوچا جا سکتا ہے۔

    ان سمر کیمپس میں بچے کیا سیکھتے ہیں یا ان کی کن صلاحیتوں پر کام کیا جاتا ہے ؟
    کیا وہ سب سکھانے کے لئے صرف سمر کیمپ ہی واحد حل ہے ؟
    ان سوالوں کے جوابات اگلی تحریر میں شائع کئے جائیں گے۔۔

    اپنی رائے سے آگاہ کرنے کے لئے ای میل کریں:
    afeefaumar@gmail.com

    Afeefa Rao

    ٹویٹر پر فالو کریں.

     

  • بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.


    لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.

    عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ

    ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

    تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
    جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.

    پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
    ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.

    ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
    اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.

    Muhammad Abdullah
  • کالعدم تنظیموں کے مزید مدارس اور سکول حکومتی تحویل میں

    کالعدم تنظیموں کے مزید مدارس اور سکول حکومتی تحویل میں

    کالعدم تنظیموں کے اب تک 11 مدارس اور ایک اسکول کو تحویل میں لیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم پنجاب

    تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کے سی ای او ایجوکیشن پرویز اختر نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کو تحویل میں لے لیاہے مطابق اب تک 11 مدارس اور ایک اسکول کو تحویل میں لیا گیا ہے۔

    پرویز اختر کا کہنا تھا کہ تحویل میں لیے گئے تعلیمی اداروں کے اساتذہ و ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ نہیں کیا گیا ہے، ان تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو تنخواہیں محکمہ تعلیم پنجاب دے رہا ہے جب کہ تعلیمی اداروں کے طلباء بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    واضح رہےکہ رواں برس مئی میں وزارت داخلہ نے کالعدم جیش محمد، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن سے منسلک 11 تنظیموں پر پابندی عائد کی تھی۔
    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تنظیموں پر پابندی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کے سلسلے میں لگائی گئی تھی۔
    جن تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں الانفال ٹرسٹ لاہور، ادارہ خدمت خلق لاہور، الدعوة الارشاد، الحمد ٹرسٹ لاہور و فیصل آباد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

  • رٹو طوطا اور ہم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    رٹو طوطا اور ہم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    ایک دانا بندے نے بطور تجربہ ایک بولنے والا طوطا پالا اور روز اسے یہ الفاظ یاد کرواتا ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا، صبح و شام جب بھی اس کا ٹائم لگتا یہی الفاظ طوطے کو یاد کرواتا چند دن کی محنت سے وہ طوطا رٹے رٹائے الفاظ خوب یاد کر چکا اب وہ بندہ جب بھی طوطے کے پنجرے کے پاس آتا طوطا شروع ہو جاتا ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا سارا دن طوطا انھی الفاظ کو دہراتا رہتا اور خوب شور و غل کرتا ایک دن طوطے کے مالک نے طوطے کا امتحان لینے کا ارادہ کیا طوطے کو دانہ ڈال کر اس کے پنجرے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا اور خود ایک طرف ہٹ کے بیٹھ گیا طوطے صاحب نے وہی الفاظ دہرانے شروع کر دیے اور جب دیکھا کہ پنجرے کا دروازہ کھلا ہے فوری اڑان بھری اور گھر کے صحن میں لگے درخت پر بیٹھ کر وہی الفاظ دہرانے شروع کر دیے ، پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا، وہ شخص اب درخت کے پاس آکر طوطے سے مخاطب ہوا کہ چلو پنجرے میں واپس اور اترو درخت سے نیچے جواباً طوطے نے وہی رٹے رٹائے الفاظ دہرانا شروع کر دیے ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا،
    قارئین ایسے ہی کچھ حالات ہمارے ساتھ ہیں اللہ رب العزت نے ہمیں اپنے قرآن اور نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم سے نوازا جو ہمیں پیدائش سے لے کر موت تک زندگی گزارنے کے ہر اصول سے روشناس کرواتے ہیں اور بطور مسلمان ہمارا اللہ کے فضل سے ایمان قرآن اور محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے مگر ہم اس معاشرے میں رہتے ہوئے رسم و رواج کو برا جانتے تو ہیں مگر کرتے وہی طوطے والی بات ہیں۔
    ہم چوری چکاری کو برا تو سمجھتے ہیں مگر بات وہی طوطے والی الغرض کہ پیدا ہونے سے مرنے تک دنیا کے ہر برے کام کو برا جانتے ہیں مگر عملاً وہ رٹی رٹائی طوطے جیسی باتیں کہ جو پنجرے سے بھاگ کر بیٹھا درخت پر ہے مگر بول رہا ہے ،پنجرے سے باہر نہیں جانا درخت پر نہیں بیٹھنا۔ تو جس طرح اس طوطے کا مالک اس سے ناخوش ہو گا کہیں ہمارا مالک بھی ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ یقیناً یہ بڑے خسارے والی بات ہو گی۔

  • نارنگ منڈی کے اساتذہ کا چاندباغ کالج کا دورہ

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) گورنمنٹ ہائی سکول نارنگ منڈی تحصیل مریدکے کے اساتذہ کرام کا راھنما تنظیم اساتذہ صوبہ پنجاب شیخ شہباز احمد کی قیادت میں چاند باغ کالج کا وزٹ۔

    چاند باغ کالج کی انتظامیہ وسیم بٹ صاحب ،علی خضر صاحب اور محمد صدیق صاحب نے وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا ۔اساتذہ کرام کو چاند باغ کالج کی کیمسٹری، فزکس، بیالوجی اور کمپیوٹر لیب، ریکارڈ این پراگریس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کا وزٹ کروایا ۔ انتظامیہ نے وفد کو بتایا کہ چاند باغ کالج پانچ جون سے انگلش لینگویج کا سیمیسٹر شروع کرنے جا رہا ہے جس کی کوئی فیس نہیں ھو گی۔ وفد نے چاند باغ کالج کے انتظام و انصرام کو بہت عمدہ پایا۔ اور تمام تر انتظامات کی تعریف کی اور انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی

  • سرگودہا یونیورسٹی کے کس شعبہ کی طالبہ نے گولڈ میڈل حاصل کیا

    سرگودہا یونیورسٹی کے کس شعبہ کی طالبہ نے گولڈ میڈل حاصل کیا

    سرگودہا یونیورسٹی سوشل سائنسز کے شعبہ کی طابعلم تحریم فاطمہ نے ایم بی اے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل حاصل کر لیا اس موقعہ پر طالبہ کا کہنا تھا کہ یہ سب ان کے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے مخنت اور کوشش سے تمام کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں