Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان کوایشیائی ترقیاتی بینک نے 50 کروڑ ڈالرز قرض دینے کا اعلان کردیا

    پاکستان کوایشیائی ترقیاتی بینک نے 50 کروڑ ڈالرز قرض دینے کا اعلان کردیا

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالرز کا قرض دینے کی منظوری دے دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالرز کا قرض دینے کی منظوری دے دی ہے۔اعلامیہ کے مطابق قرض کے ذریعے کاروبار آسان بنانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مدد (سپورٹ) فراہم کی گئی ہے۔ جاری اعلامیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرض سے پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    واضح رہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کے ساتھ 53 سال کی شراکت داری ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی معیشت میں بہتری اور مالیاتی مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ مدد اور تعاون فراہم کرتے رہیں گے۔یاد رہے کہ دو ماہ قبل مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو 3.4 ارب ڈالر دے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ رقم بجٹ سپورٹ کے لیے ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ 2.2 بلین ڈالر اس مالی سال میں منتقل کیے جائیں گے۔

  • گزشتہ سال کی نسبت ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا،مشیرتجارت رزاق داوَد

    گزشتہ سال کی نسبت ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا،مشیرتجارت رزاق داوَد

    گزشتہ سال کی نسبت ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا،مشیرتجارت رزاق داوَد

    درآمدات میں کمی معیشت کے درست سمت میں گامزن ہونے کا عکاس ہے،رزاق داوَد.گزشتہ سال کے مقابلے درآمدات میں کمی ہوئی ہے،
    واضح رہے کہ اس سے پہلے مشیر تجارت اس بات کا ظہار کر چکے ہیں کہ درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے سے قومی معیشت مضبوط ہوگی۔عبدالرزاق دائود نے کہاکہ چاول کی برآمددوارب اَسی کروڑروپے سے بڑھاکرپانچ ارب روپے تک کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ صنعت ایک اہم شعبہ کی حیثیت سے ملکی معیشت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس سے پہلے عبدالرزاق دائود نے کھاد کی جائزہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں منڈی میں کھادکی طلب ورسدکی حالیہ صورتحال کاجائزہ لیاگیاتاکہ کھاد کی قیمتوں میں اضافے کوروکا جاسکے۔
    حکومت کے ان اقدام سے برآمدات میں اضافے کی خبریں ہیں اور درآمدات میں بہتری آر ہی ہے.

  • چھری کانٹے کی برآمدات میں بڑا اضافہ…

    چھری کانٹے کی برآمدات میں بڑا اضافہ…

    اسلام آباد:مالی سال2018-19 میں پاکستان کی کٹلری برآمدات میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 1.73 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ہے، مالی سال 2017-18 میں پاکستان نے کل 89.773 ملین ڈالر کے چھری کانٹے برآمد کیے اور گزشتہ مالی سالی سال 2018-19 میں 91.325 ملین ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں جو کے 1.73 فیصد زائد ہیں تفصیلات کے مطابق یہ اعداد و شمار بروز ہفتہ پاکستان بیوروآف سٹیٹسٹکس کی طرف سے جاری کیے گئے

  • چنیوٹ میں سعودی سرمایہ کاری سے مقامی خام لوہے کی مل لگانے کا پروگرام

    چنیوٹ میں سعودی سرمایہ کاری سے مقامی خام لوہے کی مل لگانے کا پروگرام

    چنیوٹ میں پہلی مقامی خام لوہے کہ مل لگانے کی تجویز دی گئی ہے

    حکومت کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ ملک کی پہلی مقامی خام لوہے کی اسٹیل مل چنیوٹ میں قائم کی جائے گی، جو سعودی سرمایہ کاری کے لیے منتخب کیے گئے 4 منصوبوں میں سے ایک ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مفاہمتی یادداشت 20 ارب ڈالر کے معاہدے کا حصہ ہے جس پر توانائی کی پیداوار، ریفائنری، پیٹرو کیمیکل پلانٹ، کھیلوں کے فروغ سمیت مختلف شعبوں کے لیے 17 فروری 2019 کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ اسلام آباد کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ پاکستان نے معدنی وسائل میں اقتصادی تعاون کے لیے سعودی عرب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے 20ارب ڈالر مالیت کے 7 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے.

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹینڈرڈائزیشن کے شعبے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ کھیلوں کے شعبے میں تعاون سعودی اشیاء کی درآمد سے متعلق مالیاتی معاہدہ، توانائی کی پیداوار کے فریم ورک کی مفاہمتی یادداشت، دونوں ممالک کے درمیان ریفائنری اور پیٹروکیمیکل پلانٹ کے قیام، معدنی وسائل کی ترقی میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت، قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا۔ ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

  • ڈالر کوپر لگ گئے ، انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں ایک مرتبہ پھر اضافہ

    ڈالر کوپر لگ گئے ، انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں ایک مرتبہ پھر اضافہ

    اسلام آباد:ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے عام آدمی کے استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف ڈالر کو پرلگ گئے ہیں. تفصیلات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    اسلام آباد سے اسٹیٹ بینک ذرائع کے مطابق فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں 8 پیسے کے اضافے سے ڈالر159.42 سے بڑھ کر 159.50 روپے کا ہو گیا ہے۔دیگر کرنسیوں کی قیمت پر نظر دوڑائیں تو اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال 42.47 روپے، یو کے پاؤنڈ 192.87 روپے، آسٹریلین ڈالر 108.56 روپے، یورو 176.61 روپے جبکہ اماراتی درہم 43.65 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 10 پیسے کی کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ میں 159 روپے 70 پیسے سے کم ہو کر 159 روپے 60 پیسے ہو گئی تھی۔اسی طرح انٹر بینک میں بھی ڈالر کی قیمت میں 17 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    عالمی معاشی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق دوسری جانب سے 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی کمی ہوئی اور 10 گرام سونے کی قیمت 771 روپے کم ہو کر 71 ہزار 245 روپے تک گر گئی۔عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 24 ڈالر کی کمی کے بعد ایک ہزار 407 ڈالر پر پہنچ گئی۔

  • پاکستان میں سوزوکی نے گاڑیوں کی قیمت میں6 لاکھ 95 ہزار روپے تک کا ہوشربا اضافہ کر دیا

    پاکستان میں سوزوکی نے گاڑیوں کی قیمت میں6 لاکھ 95 ہزار روپے تک کا ہوشربا اضافہ کر دیا

    کراچی : ملک میں‌ عام استعمال کی چیزوں سے لیکربڑی بڑی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پریشان ، سوزوکی نے گاڑیوں کی قیمت میں6 لاکھ 95 ہزار روپے تک کا ہوشربا اضافہ کر دیا

    کراچی سے ذرائع کے مطابق سوزوکی آلٹو وی ایکس آر ایک لاکھ 37 ہزار روپے کے اضافے کے بعد 12 لاکھ 38ہزار، سوزوکی آلٹو وی ایکس ایل/ اے جی ایس ایک لاکھ 38 ہزار روپے مہنگی ہونے سے قیمت 14 لاکھ گیارہ ہزار اور سوزوکی وٹارا جی ایل ایس 6 لاکھ 95 ہزار روپے اضافے کے بعد 49 لاکھ 90 ہزار روپے کی ہو گئی۔

    دوسری طرف پاکستان میں‌ گاڑیوں کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے کار ڈیلرز نے مقامی کار ساز کمپنیوں کی جانب سے گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ درآمدی گاڑیوں پر پابندی انہی کمپنیوں کو نوازنے کیلئے لگائی گئی ہے، کمپنیوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

  • 42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے ، یہاں پر ہر روز ایسی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے،ایک انسان اگرآج عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ گلی گلی کی خاک چھان رہا ہو،عروج سے زوال تک کے سفر پر کئی انسانوں کی زندگیاں محیط ہیں کہ جنہوں نے پیسہ،نام اور شہرت بے پناہ کمایا اور پھر زوال کی طرف چلے گئے

    Dhirubhai Ambani , Father of Anil and Mukesh Ambani

    ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کے ایک ارب پتی انیل امبانی کی ہے،انیل کا باپ دھیروبھائی امبانی ایک بڑا کاروباری شخص تھا جس نے ریلائنس ٹیلی کام اور ریلائنس گروپ کی بنیاد رکھی اور ریلائنس کو ایک بڑا کاروباری گروپ بنا دیا، دھیروبھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مکیش امبانی اور دوسرا انیل امبانی تھا، دھیرو بھائی امبانی 2002 میں دنیا سے چل بسا، اور اپنی جائداد دونوں بیٹوں میں تقسیم کرگیا، ریلائنس ٹیلی کام کمپنی، ٹی وی چینل اور پروڈکشن انیل امبانی کو دے دیا گیا، جبکہ آئل اینڈ گیس کمپنی، کنسٹرکشن کمپنی ، اور ایلائنس پیٹرو کیمیکلز کا نیا مالک مکیش امبانی کو بنا دیا گیا، 2004 میں انیل امبانی نے ریلائنس کیپیٹل،ریلائنس انرجی اور ریلائنس نیچرل ریسورسز کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرلیا،

    انیل نے اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینے کیلئے 2005 میں ادلب موویز پروڈکشن گروپ کو بھی خرید لیا، 2008 میں انیل نے امریکن پروڈیوسر سٹیون سپائل برگ کے پرودکشن ہاؤس ڈریم ورکس کےساتھ 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا، انیل کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی مکیش امبانی سے ہمیشہ ہر لحاظ سے اوپر رہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا جب 2008 کی فوربز رپورٹ کے مطابق انیل امبانی کے کل اثاثے 42 ارب ڈالر سے اوپر ہو چکے تھےاور اس وقت انیل مبانی اپنے کاروبار کے عروج پر تھا اور ہندوستان کا سب سے امیر ترین شخص بن چکا تھا

    Mukesh Ambani

    لیکن پھر سال 2014 آیا اور انیل امبانی کے کاروبار کا زوال شروع ہوا، انیل کی پاور اینڈ انرجی بنانے والی کمپنیوں نے بجلی کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے بڑا قرض لیا ، لیکن ان کمپنیوں کے بنائے ہوئے منصوبے کیمطابق پاور پلانٹ بجلی پیدا نہ کرسکے اور انیل کی پاور اینڈ انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گھاٹےمیں چلی گئیں، اس کے بعد بینک سے لیے ہوئے قرض کو واپس کرنے کا وقت آیا تو کاروبار اس قابل نہ تھا کہ قرض دے پاتا، اس صورت میں انیل نے ریلائنس انرجی اور ریلائنس پاور کو بیچ دیا،

    لیکن انیل امبانی کے کاروبار کو بڑا دھچکہ اس کے اپنے گھر سے ہی ملا جب مکیش امبانی نے2016 میں ٹیلی کام کمپنی جیو کو لانچ کردیا اور اس سے انیل امبانی کے رہی سہی منافع بخش کمپنیوں ائرٹیل،آئیڈیا اور ووڈا فون کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا، فروری 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انیل کو حکم جاری کیا کہ اگر آپ نے سویڈش کمپنی ایریکسن کے 550 کروڑ بھارتی روپے واپس نہ لٹائے تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، خوش قسمتی سے اس معاملے میں مکیش نے انیل کی مدد کی اور اس کا قرض خود ادا کیا، لیکن انیل امبانی کی مشکلات ابھی بھی حتم نہیں ہوئیں ، انیل مبانی نے ابھی مزید 1.7 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کے قرض ادا کرنے ہیں
    انیل امبانی کی اس وقت کل ملکیت صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جو کہ 2008 میں 42 ارب ڈالر تھی، اور اس وقت انیل کا چھوٹا بھائی مکیش امبانی انڈیا کا سب سے امیرترین شخص ہے جس کے کل اثاثے 52 ارب ڈالر ہیں اور مکیش امبانی صرف ممبئی والا گھر انیل امبانی کی کل ملکیت سے زیادہ مہنگا ہے

  • امریکی صدر نے چین کی مزید 3 کھرب  مالیت کی مصنوعات پر  ٹیس لگا دیے

    امریکی صدر نے چین کی مزید 3 کھرب مالیت کی مصنوعات پر ٹیس لگا دیے

    ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی 3 کھرب ڈالر مالیت مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی 3 کھرب ڈالر مالیت مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا۔اپنے اس قدام کی وضاحت بیان کرتےہوئے امریکی صدر نے کہا کہ چینی اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کرتے ہیں اور زیادہ منافع کماکر رقم لے جاتے ہیں۔ چینی اپنی مصنوعات امریکا میں فروخت کر کے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    اس سے پہلےصدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ بیجنگ کسی منصفانہ معاہدے پر آمادہ نہیں ہونا چاہتا۔ میری ٹیم چین سے مذاکرات کر رہی ہے لیکن وہ ہمیشہ اپنے فوائد حاصل کرنے کے لیے آخر میں ڈیل کو تبدیل کر دیتے ہیں۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 27برس کے دوران چین کا رویہ انتہائی خراب رہا ہے، اس بات کا امکان تھا کہ چین ہماری زرعی مصنوعات خریدے گا تاہم اس کا کوئی اشارہ تاحال نہیں ملا۔واضح رہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی کے باعث چین کو مستقبل کی سپر پاور کے طور پر دیکھا جار ہا ہے . امریکہ چین کی اس ترقی سے خائف نظر آتا ہے.

  • بغیر کسی سرمایہ کاری کے لاکھوں کمائیے

    بغیر کسی سرمایہ کاری کے لاکھوں کمائیے

    اس وقت دنیا میں ایسے کئی قسم کے کاروبار کیے جارہے ہیں جو کہ بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کیے جا سکتے ہیں اور ان کو علاقائی اور عالمی سطح پر پھیلایا بھی جا سکتا ہے، ایسے کاروبار کافی منافع بخش بھی ثابت ہوتے ہیں جن میں آپ کو اپنے پہلے سے موجود وسائل کو بروئےکار لا کر بالکل چھوٹی سطح سے شروع کرنا ہوتا ہے اور پھر جوں جوں آپ کے وسائل میں اضافہ ہوتا جاتا ہے آپ اپنے کاروبار کو پھیلاتے جاتے ہیں، اکیسویں صدی میں اس طرز کا کاروبار شاید کامیاب یا پھر اتنا کامیاب نہ ہو پاتا اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہ ہوئی ہوتی،

    Headquarter of Airbnb in San Francisco, California, USA

    Airbnb ایک اسی طرز کی کمپنی ہے جو اپنے صارفین کو ان کے خواہش کردہ علاقے،شہر یا ملک میں کچھ دنوں کیلئے رہائش رکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، اس سہولت سے ہر وہ شخص مستفید ہو سکتا ہے جو اس کمپنی کیساتھ بزریعہ ویب یا موبائل ایپ منسلک ہو، اور یہ کمپنی ہرشخص کو اپنا کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی دیتی ہے، اگر کسی شخص کے پاس کوئی ایسی پراپرٹی ہو جو اس کے استعمال میں نہ ہو تو وہ اس پراپرٹی کو بمع تصویر و تحریر Airbnb پر رجسٹر کروا کر میزبانی کیلئے اس اپارٹمنٹ ،گھریا کمرے کو کھول سکتا ہے،
    اس کے بعد کوئی بھی شخص ایئربی این بی کی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن کے زریعے مکان مالک سے رابطہ کرکے گھر یا اپارٹمنٹ کی بکنگ کر سکتا ہے، اس بکنگ میں صارف کو بتانا ہوتا ہے کہ اس کو گھر کس جگہ،کتنے دنوں کیلئے اور کتنے کمروں کیساتھ چاہیے، اور اگر صارف کوگھر پسند آجائے تو اسے مکان مالک کیساتھ معاہدہ کرنا ہوتا ہے اور بی این بی کی طے کردہ رقم دینا ہوتی ہے،

    airbnb کا قیام بھی بہت دلچسپ ہے، دو امریکی دوست برائن چیسکی اور جو گیبیا پڑھائی کے سلسلے میں اکتوبر 2007 میں کیلی فورنیا ریاست کے شہرسان فرانسسکو آئے اور انہوں نے رہائش کیلئے ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا، لیکن اس اپارٹمنٹ کا کرایہ برداشت کرنا دونوں کیلئے بہت مشکل تھا، دونوں نے ایک ترکیب سوچی کہ ہم اپنے بیٹھک والے کمرے میں ایک ایئر میٹرس ڈال کر اسے کسی اور شخص کو کرائے پر دے دیت ہیں اور ہم کرایہ دار کو بیڈ اینڈ بریک فاسٹ آفر کریں گے اور اس آمدن سے ہم اپارٹمنٹ کا کرایہ اداکرسکیں گے،

    تھوڑے عرصے بعد برائن کے پرانے دوست ناتھن بھی برائن کے گروپ میں شامل ہو گیا اور انہوں نے اپنے نئے کاروبار کو ایک سے پانچ رہائشوں تک پھیلا دیا،11 اگست 2008 کو برائن،چیسکی اور ناتھن نے مل کر اپنی کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ بنا ڈالی،کمپنی کو اس کے پہلے صارف 2008 کی موسم گرما میں ملے جب فرانسسکو میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی گئی، 2009 میں پال گراہم نے ایئر بی این بی کے مالکان سے کمپنی کے پانچ فیصد شئیرز 20000 ڈالرز میں خرید لیے، برائن چیسکی اور جو گیبیا نے اس رقم سے نیویارک ٹور پلان کیا اور مارکیٹنگ مینیجرز سے ملاقات کی اور اپنی کمپنی کی ویب سائٹ کی پروموشن کیلئے بات کی، جس کے زریعے بالکل تھوڑے عرصے میں کاروبار اور پراپرٹی ڈیلنگ کے نئے انداز کو پورے امریکہ میں پھیلا دیا، مارچ 2009 تک بی این بی ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد 10000 اور پرائیویٹ جائدادوں کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی،
    2011 میں کمپنی نے لندن میں اپنا دوسرا انٹرنیشنل دفتر کھولا، اور دن بدن بڑھتے انٹرنیشنل صارفین کے باعث کمپنی نے 2012 میں میلان،کوپن ہیگن،ساؤپولو،پیرس اور ماسکو میں بھی دفاتر کھولے گئے،

    First Airbnb apartment in London

    اکتوبر 2013 تک کمپنی کے زریعے گھر تلاش کرنے والے سیاحوں کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ گئی اور اسی سال مزید 250 گھر مالکان کمپنی کے نیٹ ورک سے منسلک ہوگئے،اگست 2015 میں کمپنی کے منافع میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ دن بدن بڑتا گیا،
    2015 میں ہی ائیربی این بی کا کاریں بنانے والی امریکن کمپنی ٹیسلا سے معاہدہ ہو گیا جس کے مطابق ٹیسلا کا صارف ائیر بی این بی سے رجسڑڈ پراپرٹی سے اپنی کار کی بیٹری چارج کرسکتا ہے، 2018 میں برائن چیسکی نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی ایک ائر لائن کو بنانے کا ارادہ رکھتی ہے،2017 کی رپورٹس کیمطابق ائیربی این بی کی آپریٹنگ آمدن 450 ملین ڈالر اور نیٹ انکم 93 ملین ڈالر تھی اور اس کا کل ریونیو 2.6 بلین ڈالر تھا جو کہ آج کی تاریخ میں مزید بلند ہوچکا ہو گا،

    ایئربی این بی کے کاروبار کی خاصیت اور اس کے کامیاب ہونے کا راز یہ ہے کہ یہ اپنے گروپ میں شامل ہونے والے کرایہ دار اور مکان مالک دونوں کو منافع فراہم کرتی ہے، کمپنی کے صارف اس ایپ سے فائدہ اس طرح اٹھاتے ہیں کہ بڑے بڑے 3 اور 5 سٹار ہوٹلز کے کرائے دینے سے بہتر ہے کہ بالکل معمولی سی رقم سے اتنے کمروں کا گھر یا فلیٹ کرائے پر لیا جائے جتنے لوگ سیر و تفریح کیلئے یا کسی کام کے سلسلے میں اپنے گھر سے دور جا رہے ہیں
    اور ائیر بی این بی کے نیٹ ورک میں شامل ہونے والے پراپرٹی ہولڈرز بھی اچھا خاصہ منافع کما سکتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی گھر،اپارٹمنٹ یا بلڈنگ خالی ہے کسی استعمال میں نہیں تو آپ اسے بی این بی کی ویب سائٹ پر رجسٹر کروا کر گھر بیٹھے اپنا کاروبار بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کر سکتے ہیں

  • لاہور ہائیکورٹ کا سیلز ٹیکس کے حوالے سے بڑا فیصلہ ، براہ راست وصولی پر پابندی عائد کردی

    لاہور ہائیکورٹ کا سیلز ٹیکس کے حوالے سے بڑا فیصلہ ، براہ راست وصولی پر پابندی عائد کردی

    لاہور: سیلز ٹیکس کی براہ راست وصولی نہیں کرسکتے ، لاہور ہائیکورٹ نےایف بی آرکو سیلزٹیکس کےبقایاجات کی براہ راست وصولی سے روک دیا۔ہائی کورٹ کے جج شاہد کریم نے یہ فیصلہ دیا

    لاہور ہائی کورٹ سے ذرائع کے مطابق جسٹس شاہد کریم نے سردار سٹیل ملز دیگر کی درخواستوں پرسماعت کی، درخواستگزاروں کی جانب سے محمد محسن ورک ایڈووکیٹ پیش ہوئے، عدالت نےبراہ راست وصولی کو سیلز ٹیکس 2006 کے رول 71 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئےبراہ راست وصولی سے روک دیا۔