Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی

    سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے،پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 6800 روپے کمی ہو گئی ہے۔

    ملک میں فی تولہ سونا 6800 روپے کمی کے بعد 470,362 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 5830 روپے کمی کے بعد 403,269 روپے کا ہو گیا ہےاس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 369,667 روپے ہوگئی، جبکہ عالمی بازار میں سونا 68 ڈالر کمی کے بعد 4480 ڈالر فی اونس کا ہوگیا ہے۔

    اسی طرح، عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 1ڈالر 25سینٹس کی کمی سے 74ڈالر 90 سینٹس کی سطح پر آگئی،مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 125روپے کی کمی سے 7ہزار 974روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 107روپے کی کمی سے 6ہزار 836روپے کی سطح پر آگئی۔

  • گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر  تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

    گوتم اڈانی کو بڑا ریلیف،امریکی حکومت ٹرمپ کے حکم پر تمام مقدمات ختم کرنے پر متفق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارتی ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کے خلاف دائر فوجداری دھوکہ دہی کے مقدمات ختم کرنے کی کارروائی شروع کردی، جنہوں نے امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر رکھا ہے،جبکہ ان کی ایک کمپنی سے متعلق ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی طے کرلیا گیا ہےیہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف کی جانب سے ان ہائی پروفائل فوجداری مقدمات کو ترک کرنے کی تازہ ترین مثال ہے جو ان کے ڈیموکریٹ پیشرو جو بائیڈن کے دور میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے شروع کیے تھے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے گوتم اڈانی کے خلاف زیر التوا مقدمات کے خاتمے کا یہ فیصلہ پیر کے روز کیا گیا جو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے وکیل، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ اڈانی امریکا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تاہم مقدمات جاری رہنے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔

    ٹرمپ نے آخری لمحے میں ایران پر حملہ کیوں روکا؟اسرائیلی صحافی کا اہم انکشاف

    فوربز میگزین کے مطابق 63 سالہ گوتم اڈانی کی مجموعی دولت کا تخمینہ 82 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک بناتا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق گوتم اڈانی پر الزام تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکاری حکام کو 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رشوت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ اڈانی گروپ کی ذیلی کمپنی اڈانی گرین انرجی کو بھارت کے سب سے بڑے سولر پاور پلانٹ کی تعمیر کی منظوری مل سکے۔

    استغاثہ کا مؤقف تھا کہ بعد ازاں امریکی سرمایہ کاروں کو کمپنی کی انسداد بدعنوانی پالیسیوں کے حوالے سے گمراہ کن اور تسلی بخش معلومات فراہم کی گئیں،

    نومبر 2024 میں، بروکلی کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے اڈانی پر ایک مبینہ اسکیم کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکار ی حکام کو تقریباً 265 ملین ڈالر رشوت دینے پر اتفاق کیا، تاکہ ان کی کمپنی کو بھارت کا سب سے بڑا سولر پاور پلانٹ تیار کرنے کی منظوری مل سکے، اڈانی اور ان کے مبینہ ساتھیوں نے قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں سے اپنی کرپشن چھپا کر 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے اور بانڈز حاصل کیے اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز بتایا کہ اڈانی گروپ کی کمپنی ادانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تصفیے کے لیے 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کرلیا ہے الزام تھا کہ اڈانی انٹرپرائزز نے دبئی میں قائم ایک تاجر سے مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کی کھیپیں خریدیں، جنہیں عمانی اور عراقی گیس ظاہر کیا گیا، لیکن وہ دراصل ایران سے آئی تھیں، اڈانی انٹرپرائزز نے بھارت میں ایل پی جی کی درآمد بھی روک دی ہے اور حکومتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہیڈ آف کمپلائنس کا عہدہ بھی قائم کردیا ہے-

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق گوتم اڈانی کو ایس ای سی کے ایک متعلقہ سول فراڈ کیس کا بھی سامنا تھا، جسے سیکیورٹیز ریگولیٹر نے جمعرات کو عدالتی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے طے کر لیا تھا گوتم اڈانی کے بھتیجے ساگر اڈانی کو بھی ایس ای سی کے سول کلیمز کا سامنا تھا۔

    ریکارڈ کے مطابق اڈانی اور ان کے بھتیجے 18 ملین ڈالر کے سول جرمانے ادا کریں گے، اگرچہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی غلط کام کا اعتراف یا تردید نہیں کرے گا۔ اڈانی گرین انرجی نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں افراد اور ایس ای سی نے نیویارک کی ایک عدالت میں حتمی فیصلے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کر دی ہے، جس کا اب انتظار کیا جا رہا ہے۔

    ایران کا ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے پر 5 کروڑ یورو انعام کا منصوبہ

    گوتم اڈانی کے وکلاء نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے موکلین اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ ایس ای سی کی جانب سے مبینہ رشوت ستانی کی اسکیم کی حمایت میں کوئی معتبر ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈز کی پیشکش میں اڈانی کی عدم شمولیت اور دھوکہ دہی کی نیت یا غفلت کی عدم موجودگی کیس کی برخاستگی کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے ایس ای سی کے دعوؤں کو غیر قانونی طور پر ماورائے علاقہ بھی قرار دیا، جس سے مراد یہ ہے کہ اڈانی اور تمام مبینہ غلط طرز عمل بھارت میں تھا اور وہ بانڈز کبھی بھی امریکی ایکسچینج پر ٹریڈ نہیں ہوئے تھے۔

    پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت

  • وفاقی وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ورلڈ بینک کے وفد نے ملاقات کی ہے،

    وفد کی قیادت بولورما امگابازار کر رہی تھیں۔ ملاقات میں اقتصادی اصلاحات، ایف بی آر کی بہتری، ٹیکس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وزیر خزانہ نے معاشی اصلاحات میں ورلڈ بینک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام میں آٹومیشن، ڈیجیٹلائزیشن اور طریقہ کار آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی قرض اور کیپیٹل مارکیٹس کو مضبوط بنانے اور بینک فنانسنگ پر انحصار کم کرنے کیلئے مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ کو فروغ دے رہی ہے۔ملاقات میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی، سرمایہ کاری، کاروباری ماحول، بیرون ملک روزگار کے مواقع اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ورلڈ بینک نے شفافیت، کارکردگی اور ٹیکس دہندگان کی سہولت بہتر بنانے کیلئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا

  • نیا وفاقی بجٹ، ایف بی آر،وزارت خزانہ کی نااہلی کا بوجھ غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا

    نیا وفاقی بجٹ، ایف بی آر،وزارت خزانہ کی نااہلی کا بوجھ غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا

    نئے وفاقی بجٹ میں بھی وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی نااہلی کا بوجھ غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا، حکومت نے آئی ایم ایف کو 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرادی۔

    آئی ایم ایف کے دباؤ پر پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی بند کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا گیا، نئے بجٹ کا حجم 17 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔معیشت سست روی کا شکار ہے، مہنگائی پہلے ہی ڈبل ڈیجیٹ تک پہنچ گئی، رپورٹ کے مطابق 6 ماہ میں 7 ہزار ارب، جون تک 15 ہزار 267 ارب ٹیکس وصولی کا پلان ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث توانائی اور ایندھن کی قیمتیں نئی بلندیوں پر جانے کا خدشہ ہے، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کا 430 ارب کا اضافی بوجھ ڈالنے کا پلان ہے۔وفاقی حکومت لیوی کی مد میں عوام سے 260 ارب اضافی بٹورے گی، 215 ارب اضافی ٹیکس، باقی 215 ارب آڈٹ، سخت نگرانی سے ملیں گے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی مد میں اضافی 2 ہزار ارب جمع کرنے پر زور دیا ہے۔

  • مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک جانے کا امکان ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک جانے کا امکان ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 7 فیصد تک جانے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں معاشی نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    کراچی چیمبر سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ آئندہ مالی سال کی دوسری ششماہی میں مہنگائی میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی فنانسنگ کو جون 2028 تک 1500 ارب روپے تک لے جانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔جمیل احمد کا کہنا تھا کہ ملک میں قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا ہے، اندرونی قرض بڑھا جبکہ بیرونی قرضوں میں کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ عالمی معاشی حالات ہیں اور رواں مالی سال میں برآمدی اہداف تقریباً 2 ارب روپے کم رہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے حکومت سے منظوری کا عمل بھی جاری ہے۔

  • سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی نگرانی،ایف بی آر کو اختیارات دینے کا فیصلہ

    سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی نگرانی،ایف بی آر کو اختیارات دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کے اثاثوں کی نگرانی اور شفافیت بڑھانے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ایف بی آر کو مشکوک اثاثوں کی تحقیقات کے اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جو سرکاری ملازمین کے اثاثوں اور دولت میں غیر معمولی اضافے پر “ریڈ فلیگ” الرٹس جاری کرے گا۔حکام کے مطابق ایف بی آر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کر سکے جن کے اثاثے ان کے ظاہر کردہ ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں، خصوصاً وہ افسران جو مسلسل تین برس تک اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کراتے رہیں۔وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دسمبر 2026 سے گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثوں اور مالی تفصیلات کو ایک ڈیجیٹل ڈکلیئریشن سسٹم کے ذریعے عوامی طور پر دستیاب کر دیا جائے گا۔ یہ نظام ایف بی آر کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ نظام کے تحت افسران کو نہ صرف اپنے ذاتی اثاثوں بلکہ اہلِ خانہ کے اثاثوں اور بیرونِ ملک دوروں کی مکمل تفصیلات بھی جمع کرانا ہوں گی۔حکام کے مطابق ایف بی آر کے چیئرمین اور ممبر ان لینڈ ریونیو سمیت متعلقہ افسران کو اختیار ہوگا کہ AI کی مدد سے ہونے والی جانچ پڑتال کے دوران اگر کسی سرکاری افسر کے اثاثوں میں مشکوک یا غیر معمولی اضافہ سامنے آئے تو فوری تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب اور بدعنوانی کی روک تھام کو مؤثر بنانا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مالی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،100 انڈیکس میں 1,000 پوائنٹس کا اضافہ

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،100 انڈیکس میں 1,000 پوائنٹس کا اضافہ

    اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری دیکھی گئی، جہاں انڈیکس میں ابتدائی لمحات کے دوران تقریباً 1000 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی لوٹ آئی جس کے نتیجے میں جمعرات کو کاروبار کے ابتدائی سیشبن کے دوران ہی 100 انڈیکس میں تقریباً 1,000 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا صبح بینچ مارک انڈیکس 998.01 پوائنٹس یا 0.60 فیصد اضافے سے 168,449.14 پوائنٹس پر جاپہنچا۔

    مارکیٹ کے اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ ، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیا ں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری شامل ہیں، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حب پاور کمپنی، ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک،مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک سمیت انڈیکس پر اثرانداز ہونیوالے بڑی کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج مندی کی زد میں رہی کیونکہ جاری سفارتی مذاکرات میں کسی ٹھوس پیش رفت کی عدم موجودگی اور امریکہ و ایران کے درمیان بدلتی صورتحال پر برقرار غیر یقینی کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیے رکھا گزشتہ روز100 انڈیکس 1,465.09 پوائنٹس یا 0.87 فیصد کی کمی سے 167,451.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی جمعرات کو مثبت رجحان دیکھا گیا۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث جنوبی کوریا کی کمپنی ایس کے ہائینکس کے شیئرز میں نمایاں اضافہ ہوا،عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات پر مرکوز رہی،عالمی سطح پر جاپان کے نکی انڈیکس نے نئی بلند ترین سطح حاصل کی، جبکہ ایشیا پیسیفک شیئرز انڈیکس بھی ریکارڈ سطح کے قریب رہا۔

    تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتیں مستقبل میں دوبارہ مہنگائی کے خدشات کو بڑھا سکتی ہیں۔

  • سونا سستا چاندی کی قیمت میں اضافہ

    سونا سستا چاندی کی قیمت میں اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 11ڈالر کی کمی سے 4ہزار 690ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1ہزار 100روپے کی کمی سے 4لاکھ 91ہزار 362روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت 943روپے کم ہو کر 4لاکھ 21ہزار 263روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت 231 روپے کے اضافے سے 9ہزار 139 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 198روپے کے اضافے سے 7ہزار 835روپے کی سطح پر آگئی۔

  • سونے اور چاندی کی  قیمتوں میں بڑا اضافہ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں آج بڑا اضافہ ہوا ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 41ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 701ڈالر کی سطح پر آگئی ،جس کے بعد پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4100 روپے کا اضافہ ہوگیا،ملک میں فی تولہ سونا 4100 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت 4لاکھ 92ہزار 462روپے کی سطح پر آگئی،فی 10 گرام سونے کی قیمت 3ہزار 516روپے بڑھ کر 4لاکھ 22ہزار 206روپے کی سطح پر آگئی،اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 3 لاکھ 87 ہزار 36 روپے ہوگئی۔

    علاوہ ازیں فی تولہ چاندی کی قیمت 395 روپے کے اضافے سے 8ہزار 906 روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 339روپے کے اضافے سے 7ہزار 637روپے کی سطح پر آگئی۔

  • وزیر خزانہ سے پاکستان کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے ادارے کے وفد کی ملاقات

    وزیر خزانہ سے پاکستان کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے ادارے کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے ادارے کے وفد نے ملاقات کی۔

    وزیر خزانہ نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ معاشی اور ٹیکس پالیسیوں کو مؤثر، قابلِ عمل اور اصلاحاتی اہداف سے ہم آہنگ رکھنے کیلئے پیشہ ورانہ اداروں اور صنعتی شعبے کے ساتھ مسلسل مشاورت انتہائی اہم ہے۔
    انہوں نے حکومت کی جانب سے ٹیکس نظام میں اصلاحات کیلئے جاری اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا محور افرادی قوت، نظام اور ٹیکنالوجی ہے۔ وزیر خزانہ نے ادارہ جاتی جدیدیت، طریقہ کار میں آسانی اور خودکار نظام کے فروغ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شفافیت بڑھے گی، غیر ضروری انسانی مداخلت کم ہوگی اور ٹیکس دہندگان کو سہولت میسر آئے گی۔

    اس موقع پر وزیر خزانہ نے وزارتِ خزانہ کے تحت ٹیکس پالیسی دفتر کے فعال ہونے کو اہم ادارہ جاتی اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ٹیکس پالیسی سازی مزید مضبوط ہوگی اور پالیسی و انتظامی امور میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہوگی۔اجلاس میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹیکس عملداری، نگرانی اور محصولات کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی پیداوار نگرانی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے نگرانی کے نظام دستاویزی عمل کو بہتر، ٹیکس عملداری کو مضبوط اور نظام میں موجود مالی بے ضابطگیوں کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔وفد نے دستاویزی معیشت، گروپ ٹیکس نظام، برآمدی خدمات اور مختلف شعبوں میں ٹیکس نظام کو یکساں بنانے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں کاروباری ماحول کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ، محصولات میں اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔

    وزیر خزانہ نے وفد کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آئندہ بجٹ سازی کے عمل میں بغور زیر غور لایا جائے گا۔ انہوں نے شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور سہولت فراہم کرنے والے ٹیکس نظام کے قیام کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا جو معاشی ترقی، دستاویزی معیشت اور مؤثر طرزِ حکمرانی کو فروغ دے سکے۔وفد کی قیادت سمیع اللہ صدیقی نے کی، جبکہ وفد میں جہاں زیب امین، احمد رضا میر اور ذیشان اعجاز بھی شامل تھے۔