Baaghi TV

Category: کاروبار

  • 42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے ، یہاں پر ہر روز ایسی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے،ایک انسان اگرآج عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ گلی گلی کی خاک چھان رہا ہو،عروج سے زوال تک کے سفر پر کئی انسانوں کی زندگیاں محیط ہیں کہ جنہوں نے پیسہ،نام اور شہرت بے پناہ کمایا اور پھر زوال کی طرف چلے گئے

    Dhirubhai Ambani , Father of Anil and Mukesh Ambani

    ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کے ایک ارب پتی انیل امبانی کی ہے،انیل کا باپ دھیروبھائی امبانی ایک بڑا کاروباری شخص تھا جس نے ریلائنس ٹیلی کام اور ریلائنس گروپ کی بنیاد رکھی اور ریلائنس کو ایک بڑا کاروباری گروپ بنا دیا، دھیروبھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مکیش امبانی اور دوسرا انیل امبانی تھا، دھیرو بھائی امبانی 2002 میں دنیا سے چل بسا، اور اپنی جائداد دونوں بیٹوں میں تقسیم کرگیا، ریلائنس ٹیلی کام کمپنی، ٹی وی چینل اور پروڈکشن انیل امبانی کو دے دیا گیا، جبکہ آئل اینڈ گیس کمپنی، کنسٹرکشن کمپنی ، اور ایلائنس پیٹرو کیمیکلز کا نیا مالک مکیش امبانی کو بنا دیا گیا، 2004 میں انیل امبانی نے ریلائنس کیپیٹل،ریلائنس انرجی اور ریلائنس نیچرل ریسورسز کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرلیا،

    انیل نے اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینے کیلئے 2005 میں ادلب موویز پروڈکشن گروپ کو بھی خرید لیا، 2008 میں انیل نے امریکن پروڈیوسر سٹیون سپائل برگ کے پرودکشن ہاؤس ڈریم ورکس کےساتھ 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا، انیل کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی مکیش امبانی سے ہمیشہ ہر لحاظ سے اوپر رہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا جب 2008 کی فوربز رپورٹ کے مطابق انیل امبانی کے کل اثاثے 42 ارب ڈالر سے اوپر ہو چکے تھےاور اس وقت انیل مبانی اپنے کاروبار کے عروج پر تھا اور ہندوستان کا سب سے امیر ترین شخص بن چکا تھا

    Mukesh Ambani

    لیکن پھر سال 2014 آیا اور انیل امبانی کے کاروبار کا زوال شروع ہوا، انیل کی پاور اینڈ انرجی بنانے والی کمپنیوں نے بجلی کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے بڑا قرض لیا ، لیکن ان کمپنیوں کے بنائے ہوئے منصوبے کیمطابق پاور پلانٹ بجلی پیدا نہ کرسکے اور انیل کی پاور اینڈ انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گھاٹےمیں چلی گئیں، اس کے بعد بینک سے لیے ہوئے قرض کو واپس کرنے کا وقت آیا تو کاروبار اس قابل نہ تھا کہ قرض دے پاتا، اس صورت میں انیل نے ریلائنس انرجی اور ریلائنس پاور کو بیچ دیا،

    لیکن انیل امبانی کے کاروبار کو بڑا دھچکہ اس کے اپنے گھر سے ہی ملا جب مکیش امبانی نے2016 میں ٹیلی کام کمپنی جیو کو لانچ کردیا اور اس سے انیل امبانی کے رہی سہی منافع بخش کمپنیوں ائرٹیل،آئیڈیا اور ووڈا فون کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا، فروری 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انیل کو حکم جاری کیا کہ اگر آپ نے سویڈش کمپنی ایریکسن کے 550 کروڑ بھارتی روپے واپس نہ لٹائے تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، خوش قسمتی سے اس معاملے میں مکیش نے انیل کی مدد کی اور اس کا قرض خود ادا کیا، لیکن انیل امبانی کی مشکلات ابھی بھی حتم نہیں ہوئیں ، انیل مبانی نے ابھی مزید 1.7 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کے قرض ادا کرنے ہیں
    انیل امبانی کی اس وقت کل ملکیت صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جو کہ 2008 میں 42 ارب ڈالر تھی، اور اس وقت انیل کا چھوٹا بھائی مکیش امبانی انڈیا کا سب سے امیرترین شخص ہے جس کے کل اثاثے 52 ارب ڈالر ہیں اور مکیش امبانی صرف ممبئی والا گھر انیل امبانی کی کل ملکیت سے زیادہ مہنگا ہے

  • امریکی صدر نے چین کی مزید 3 کھرب  مالیت کی مصنوعات پر  ٹیس لگا دیے

    امریکی صدر نے چین کی مزید 3 کھرب مالیت کی مصنوعات پر ٹیس لگا دیے

    ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی 3 کھرب ڈالر مالیت مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی 3 کھرب ڈالر مالیت مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا۔اپنے اس قدام کی وضاحت بیان کرتےہوئے امریکی صدر نے کہا کہ چینی اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کرتے ہیں اور زیادہ منافع کماکر رقم لے جاتے ہیں۔ چینی اپنی مصنوعات امریکا میں فروخت کر کے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    اس سے پہلےصدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ بیجنگ کسی منصفانہ معاہدے پر آمادہ نہیں ہونا چاہتا۔ میری ٹیم چین سے مذاکرات کر رہی ہے لیکن وہ ہمیشہ اپنے فوائد حاصل کرنے کے لیے آخر میں ڈیل کو تبدیل کر دیتے ہیں۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 27برس کے دوران چین کا رویہ انتہائی خراب رہا ہے، اس بات کا امکان تھا کہ چین ہماری زرعی مصنوعات خریدے گا تاہم اس کا کوئی اشارہ تاحال نہیں ملا۔واضح رہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی کے باعث چین کو مستقبل کی سپر پاور کے طور پر دیکھا جار ہا ہے . امریکہ چین کی اس ترقی سے خائف نظر آتا ہے.

  • بغیر کسی سرمایہ کاری کے لاکھوں کمائیے

    بغیر کسی سرمایہ کاری کے لاکھوں کمائیے

    اس وقت دنیا میں ایسے کئی قسم کے کاروبار کیے جارہے ہیں جو کہ بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کیے جا سکتے ہیں اور ان کو علاقائی اور عالمی سطح پر پھیلایا بھی جا سکتا ہے، ایسے کاروبار کافی منافع بخش بھی ثابت ہوتے ہیں جن میں آپ کو اپنے پہلے سے موجود وسائل کو بروئےکار لا کر بالکل چھوٹی سطح سے شروع کرنا ہوتا ہے اور پھر جوں جوں آپ کے وسائل میں اضافہ ہوتا جاتا ہے آپ اپنے کاروبار کو پھیلاتے جاتے ہیں، اکیسویں صدی میں اس طرز کا کاروبار شاید کامیاب یا پھر اتنا کامیاب نہ ہو پاتا اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہ ہوئی ہوتی،

    Headquarter of Airbnb in San Francisco, California, USA

    Airbnb ایک اسی طرز کی کمپنی ہے جو اپنے صارفین کو ان کے خواہش کردہ علاقے،شہر یا ملک میں کچھ دنوں کیلئے رہائش رکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، اس سہولت سے ہر وہ شخص مستفید ہو سکتا ہے جو اس کمپنی کیساتھ بزریعہ ویب یا موبائل ایپ منسلک ہو، اور یہ کمپنی ہرشخص کو اپنا کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی دیتی ہے، اگر کسی شخص کے پاس کوئی ایسی پراپرٹی ہو جو اس کے استعمال میں نہ ہو تو وہ اس پراپرٹی کو بمع تصویر و تحریر Airbnb پر رجسٹر کروا کر میزبانی کیلئے اس اپارٹمنٹ ،گھریا کمرے کو کھول سکتا ہے،
    اس کے بعد کوئی بھی شخص ایئربی این بی کی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن کے زریعے مکان مالک سے رابطہ کرکے گھر یا اپارٹمنٹ کی بکنگ کر سکتا ہے، اس بکنگ میں صارف کو بتانا ہوتا ہے کہ اس کو گھر کس جگہ،کتنے دنوں کیلئے اور کتنے کمروں کیساتھ چاہیے، اور اگر صارف کوگھر پسند آجائے تو اسے مکان مالک کیساتھ معاہدہ کرنا ہوتا ہے اور بی این بی کی طے کردہ رقم دینا ہوتی ہے،

    airbnb کا قیام بھی بہت دلچسپ ہے، دو امریکی دوست برائن چیسکی اور جو گیبیا پڑھائی کے سلسلے میں اکتوبر 2007 میں کیلی فورنیا ریاست کے شہرسان فرانسسکو آئے اور انہوں نے رہائش کیلئے ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا، لیکن اس اپارٹمنٹ کا کرایہ برداشت کرنا دونوں کیلئے بہت مشکل تھا، دونوں نے ایک ترکیب سوچی کہ ہم اپنے بیٹھک والے کمرے میں ایک ایئر میٹرس ڈال کر اسے کسی اور شخص کو کرائے پر دے دیت ہیں اور ہم کرایہ دار کو بیڈ اینڈ بریک فاسٹ آفر کریں گے اور اس آمدن سے ہم اپارٹمنٹ کا کرایہ اداکرسکیں گے،

    تھوڑے عرصے بعد برائن کے پرانے دوست ناتھن بھی برائن کے گروپ میں شامل ہو گیا اور انہوں نے اپنے نئے کاروبار کو ایک سے پانچ رہائشوں تک پھیلا دیا،11 اگست 2008 کو برائن،چیسکی اور ناتھن نے مل کر اپنی کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ بنا ڈالی،کمپنی کو اس کے پہلے صارف 2008 کی موسم گرما میں ملے جب فرانسسکو میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی گئی، 2009 میں پال گراہم نے ایئر بی این بی کے مالکان سے کمپنی کے پانچ فیصد شئیرز 20000 ڈالرز میں خرید لیے، برائن چیسکی اور جو گیبیا نے اس رقم سے نیویارک ٹور پلان کیا اور مارکیٹنگ مینیجرز سے ملاقات کی اور اپنی کمپنی کی ویب سائٹ کی پروموشن کیلئے بات کی، جس کے زریعے بالکل تھوڑے عرصے میں کاروبار اور پراپرٹی ڈیلنگ کے نئے انداز کو پورے امریکہ میں پھیلا دیا، مارچ 2009 تک بی این بی ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد 10000 اور پرائیویٹ جائدادوں کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی،
    2011 میں کمپنی نے لندن میں اپنا دوسرا انٹرنیشنل دفتر کھولا، اور دن بدن بڑھتے انٹرنیشنل صارفین کے باعث کمپنی نے 2012 میں میلان،کوپن ہیگن،ساؤپولو،پیرس اور ماسکو میں بھی دفاتر کھولے گئے،

    First Airbnb apartment in London

    اکتوبر 2013 تک کمپنی کے زریعے گھر تلاش کرنے والے سیاحوں کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ گئی اور اسی سال مزید 250 گھر مالکان کمپنی کے نیٹ ورک سے منسلک ہوگئے،اگست 2015 میں کمپنی کے منافع میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ دن بدن بڑتا گیا،
    2015 میں ہی ائیربی این بی کا کاریں بنانے والی امریکن کمپنی ٹیسلا سے معاہدہ ہو گیا جس کے مطابق ٹیسلا کا صارف ائیر بی این بی سے رجسڑڈ پراپرٹی سے اپنی کار کی بیٹری چارج کرسکتا ہے، 2018 میں برائن چیسکی نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی ایک ائر لائن کو بنانے کا ارادہ رکھتی ہے،2017 کی رپورٹس کیمطابق ائیربی این بی کی آپریٹنگ آمدن 450 ملین ڈالر اور نیٹ انکم 93 ملین ڈالر تھی اور اس کا کل ریونیو 2.6 بلین ڈالر تھا جو کہ آج کی تاریخ میں مزید بلند ہوچکا ہو گا،

    ایئربی این بی کے کاروبار کی خاصیت اور اس کے کامیاب ہونے کا راز یہ ہے کہ یہ اپنے گروپ میں شامل ہونے والے کرایہ دار اور مکان مالک دونوں کو منافع فراہم کرتی ہے، کمپنی کے صارف اس ایپ سے فائدہ اس طرح اٹھاتے ہیں کہ بڑے بڑے 3 اور 5 سٹار ہوٹلز کے کرائے دینے سے بہتر ہے کہ بالکل معمولی سی رقم سے اتنے کمروں کا گھر یا فلیٹ کرائے پر لیا جائے جتنے لوگ سیر و تفریح کیلئے یا کسی کام کے سلسلے میں اپنے گھر سے دور جا رہے ہیں
    اور ائیر بی این بی کے نیٹ ورک میں شامل ہونے والے پراپرٹی ہولڈرز بھی اچھا خاصہ منافع کما سکتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی گھر،اپارٹمنٹ یا بلڈنگ خالی ہے کسی استعمال میں نہیں تو آپ اسے بی این بی کی ویب سائٹ پر رجسٹر کروا کر گھر بیٹھے اپنا کاروبار بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کر سکتے ہیں

  • لاہور ہائیکورٹ کا سیلز ٹیکس کے حوالے سے بڑا فیصلہ ، براہ راست وصولی پر پابندی عائد کردی

    لاہور ہائیکورٹ کا سیلز ٹیکس کے حوالے سے بڑا فیصلہ ، براہ راست وصولی پر پابندی عائد کردی

    لاہور: سیلز ٹیکس کی براہ راست وصولی نہیں کرسکتے ، لاہور ہائیکورٹ نےایف بی آرکو سیلزٹیکس کےبقایاجات کی براہ راست وصولی سے روک دیا۔ہائی کورٹ کے جج شاہد کریم نے یہ فیصلہ دیا

    لاہور ہائی کورٹ سے ذرائع کے مطابق جسٹس شاہد کریم نے سردار سٹیل ملز دیگر کی درخواستوں پرسماعت کی، درخواستگزاروں کی جانب سے محمد محسن ورک ایڈووکیٹ پیش ہوئے، عدالت نےبراہ راست وصولی کو سیلز ٹیکس 2006 کے رول 71 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئےبراہ راست وصولی سے روک دیا۔

  • موجودہ حکومت اب تک پیٹرول کتنا مہنگا کر چکی، پڑھیے  خاص رپورٹ میں

    موجودہ حکومت اب تک پیٹرول کتنا مہنگا کر چکی، پڑھیے خاص رپورٹ میں

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں‌اب تک 25 روپے پیٹرول میں اضافہ ہو چکا ہے،موجودہ حکومت اب تک تیل مصنوعات میں 6 مرتبہ اضافہ کر چکی ہے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں‌اب تک 25 روپے پیٹرول میں اضافہ ہو چکا ہے،موجودہ حکومت اب تک پٹرولیم مصنوعات میں 6 مرتبہ اضافہ کر چکی ہے
    موجودہ حکومت جب اگست 2018میں برسراقتدار آئی تو اپنے پہلے مہینے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ۔ یکم نومبر2018کو پہلی مرتبہ حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا اور پٹرول کی قیمت میں 5روپے ، ہائی سپیڈل کی قیمت میں 6روپے 37پیسے ، لائٹ ڈیزل میں 6 روپے 48 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔اس کے بعدمارچ سے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافےکا جو سلسلہ شروع ہوا اس نے عوام پر بہت بھوجھ ڈالا. اب اگست میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا گیا ہے ۔

    واضح رہے کہ موجودہ حکومت جب اگست 2018 میں برسراقتدار آئی تھی تو پٹرول کی قیمت 92 روپے 83 پیسے تھی جو بڑھ کر اب 117 روپے 83 پیسے ہوگئی ہے ۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت 106 روپے 94 پیسے سے بڑھ کر 132 روپے 47 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 84 روپے سے بڑھ کر 103.84 فی لٹر ہوگئی ہے ۔

  • کاروباری ہفتے کے چوتھے روز مارکیٹ میں مثبت آغاز، معیشت سنبھلنے لگی

    کاروباری ہفتے کے چوتھے روز مارکیٹ میں مثبت آغاز، معیشت سنبھلنے لگی

    اسلام آباد:پاکستان میں معیشت کے سنبھلنے کے اشارے ملنےلگے ، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں‌تیزی کا رجحان پایا جانے لگا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز مارکیٹ میں مثبت آغاز دیکھا گیا ہے۔100 انڈیکس میں 97 پوائنٹس اضافے سے 32 ہزار کی سطح پر بحال ہے جبکہ کرنٹ انڈیکس 32 ہزار 35 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار 280 پوائنٹس اضافہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔کاروباری ہفتہ کے تیسرے روز بدھ کو اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ملا جُلا رجحان رہا تاہم کاروبار کا اختتام مثبت زون میں ہوا۔جو مجموعی طور پر اچھا ہی رہا

    ماہرین معیشت کے مطابق پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگی ہے. دوسری طرف کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 53,802,940 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت 2,402,521,654 پاکستانی روپے بنتی ہے۔رواں ہفتہ کے پہلے روز بھی کے ایس ای 100 انڈیکس میں کمی رہی تھی اور انڈیکس 369 پوائنٹس کی کمی پر بند ہوا۔ دو روز کی مندی کے بعد آج انڈیکس مثبت زون میں بند ہوا۔

  • گراں فروشی پر  2لاکھ 47 ہزار روپے کے جرمانے

    گراں فروشی پر 2لاکھ 47 ہزار روپے کے جرمانے

    سرگودھا۔ 31 جولائی (اے پی پی) اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال سید صابر حسین شاہ، پرائس مجسٹریٹ ساہیوال ملک محمد ممتاز فروکہ نے تحصیل بھر میں غیر قانونی پٹرول وڈیزل ایجنسیوں اور گراں فروشوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 2لاکھ 47ہزار روپے کے مجموعی جرمانے کر کے رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے پرائس کنٹرول ایکٹ 1977 ء کے تحت ماہ جولائی 2019 میں اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال سید صابر حسین شاہ، پرائس مجسٹریٹ ساہیوال ملک ممتاز فروکہ نے ذخیرہ اندوز، گراں فروشوں، غیر قانونی پٹرول وڈیزل ایجنسیوں کے مالکان کو مجموعی طور پر 2لاکھ 45ہزار روپے کے جرمانے کر کے رقم سرکاری خزانے میں جمع کروادی اور درجنوں دکانیں سیل وسینکڑوں دکانداروں کو وارننگ دی گئی۔

  • سام سنگ گلیکسی کی قیمتیں گرگئیں ، پاکستانیوں کی موجیں لگ گئیں،

    سام سنگ گلیکسی کی قیمتیں گرگئیں ، پاکستانیوں کی موجیں لگ گئیں،

    کراچی : سام سانگ گلیکسی فون استعمال کرنے والوں کے لیے خوشخبری ، سام سنگ نے پاکستان میں گلیکسی اے سیریز کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے گلیکسی اے سیریز کے 6 فونز کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔

    نئی قیمتیں کیا ہوں گی ،سام سنگ کی جانب سے گلیکسی اے 10، اے 20، اے 30، اے 50، اے 70 اور اے 80 کی قیمتوں میں ڈیڑھ ہزار سے 5 ہزار روپے تک کی کمی کی گئی ہے۔

    اس سے پہلے گلیکسی اے 10، اے 30 اور اے 50 کو رواں سال مارچ میں پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، گلیکسی اے 20 اور اے 70 اپریل میں متعارف ہوئے تھے جبکہ اے 80 رواں ماہ ہی صارفین کو دستیاب ہوا۔

    اس وقت پاکستان میں سام سنگ گلیکسی اے 10 اس سیریز کا سب سے کم قیمت فون ہے جس کی قیمت اب ڈیڑھ ہزار روپے کمی سے 23 ہزار 500 روپے کی بجائے 21 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے۔

    نئی قیمتوں کے مطابق اب گلیکسی اے 20 کی قیمت بھی 1500 روپے کمی سے 31 ہزار 500 روپے سے کم ہوکر 29 ہزار 999 روپے ہوگئی ہے۔

    ایسے ہی گلیکسی اے 30 کی قیمت میں 3 ہزار روپے کی کمی کی گئی ہے جو اب 40 ہزار 999 روپے کی بجائے 37 ہزار 999 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان میں‌اس وقت گلیکسی اے 50 کی قیمت 54 ہزار 999 روپے سے کم کرکے 51 ہزار 999 روپے جبکہ گلیکسی اے 70 کی قیمت 67 ہزار 999 روپے کی جگہ 64 ہزار 999 روپے کردی گئی ہے۔

    سب سے زیادہ کمی گلیکسی اے 80 کی قیمت میں کی گئی ہے جو ایک لاکھ 19 ہزار 999 روپے میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا، مگر اب 5 ہزار روپے کمی سے ایک لاکھ 14 ہزار 999 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ سام سنگ دنیا میں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز فروخت کرنے والی کمپنی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی ڈیوائسز کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔اور لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی سام سنگ کے یوزرز ہیں.

  • ملکی معیشت بہتر ہونے لگی ، اسٹاک مارکیٹ میں 280 پوائنٹس کا اضافہ

    ملکی معیشت بہتر ہونے لگی ، اسٹاک مارکیٹ میں 280 پوائنٹس کا اضافہ

    کراچی:پاکستانی معیشت سنبھلنے لگی . آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج آج 280 پوائنٹس اضافہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔کاروباری ہفتہ کے تیسرے روز بدھ کو اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ملا جُلا رجحان رہا تاہم کاروبار کا اختتام مثبت زون میں ہوا۔

    اسٹاک مارکیٹ ذرائع کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا آغاز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 31 ہزار 658 پوائنٹس پر ہوا۔ کاروبار کے آغاز کے 100 انڈیکس میں 80 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 31 ہزار 578 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا تاہم کاروبار کے اختتام سے دو گھنٹے قبل تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ملا جلا رجحان موجود رہا۔

    اکنامکس رپورٹر کے مطابق آج دوپہر کھانے کے وقفہ کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی اور کاروبار کا اختتام کے ایس ای 100 انڈیکس میں 280 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ہوا۔

    اسٹاک ایکچینج مارکیٹ ذرائع کے مطابق آج کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 53,802,940 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت 2,402,521,654 پاکستانی روپے بنتی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز منگل کو اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا اور کاروبار کا اختتام 71 پوائنٹس کی کمی پر ہوا۔ماہرین معیشت کے مطابق امید ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں‌میں‌حالات مزید بہتر ہو سکتے ہیں

  • یوٹیلٹی سٹورز نے عید الاضحی کے موقع پر 300 سے زائد اشیا پر سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا

    یوٹیلٹی سٹورز نے عید الاضحی کے موقع پر 300 سے زائد اشیا پر سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا

    یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی جانب سے عیدالاضحی کے موقع پر صارفین کو خصوصی پیکیج دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ جس میں 300 سے زائد اشیاءپر سبسڈی دی جائے گی۔
    تفصیلات کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے حکام نے ”اے پی پی“ کو بتایا کہ کارپوریشن چیئرمین ذوالقرنین علی خان اور ایم ڈی عمر لودھی کی خصوصی کاوشوں سے عیدالاضحی کے موقع پر صارفین کی سہولت کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت مارکیٹ ریٹس سے سستی اور معیاری اشیاءصارفین کو فراہم کی جائیں گی
    مزید پرھیں:اچھی خبر آگئی گھی اور کوکنگ آئل سستا ہو گیا