Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل مثبت رجحان، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل مثبت رجحان، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج بھی مثبت انداز میں کاروبار جاری ہے، جس سے ملکی معیشت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔ نئے مالی سال کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی مارکیٹ نے شاندار کارکردگی دکھائی۔

    جمعرات کو 100 انڈیکس ایک لاکھ 30 ہزار 686 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جو اس مالی سال کی اب تک کی بہترین کارکردگی شمار ہوتی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں اضافہ، مثبت معاشی پالیسیوں اور ملکی معیشت میں استحکام کے اشارے اس تیزی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔آج جمعہ کے روز بھی کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا۔ کاروبار کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور 100 انڈیکس میں 724 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ انڈیکس ایک لاکھ 31 ہزار 411 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جو کہ مارکیٹ کے مضبوط اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاری کے مواقع کو ظاہر کرتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں یہ تیزی ملکی معیشت کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی سطح پر سرمایہ کاری کے فروغ، مستحکم سیاسی صورتحال اور حکومت کی معاشی اصلاحات اس مثبت رجحان کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی یہ مسلسل تیزی ملکی سرمایہ کاروں کے لیے خوش آئند ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ میں اسی طرح کا مثبت رجحان جاری رہے گا۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں کاروبارکا مثبت آغاز ، انڈیکس نے ایک لاکھ ، 31 ہزار کی حد عبور کر لی

    اسٹاک ایکسچینج میں کاروبارکا مثبت آغاز ، انڈیکس نے ایک لاکھ ، 31 ہزار کی حد عبور کر لی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے دوران مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، مارکیٹ کا آغاز تیزی سے ہوا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری دیکھی گئی جبکہ انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ ، 31 ہزار کی حد عبور کر گیا۔

    کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی ، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 899 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 31 ہزار 243 پوائنٹس پر پہنچ گیا،تجزیہ کاروں کے مطابق بجٹ کے بعد کاروباری فضا میں اعتماد بحال ہوا ہے، جبکہ معاشی پالیسیوں میں تسلسل کے باعث سرمایہ کاری میں بہتری کے امکانات بڑھ گئے ہیں مارکیٹ میں آئندہ دنوں میں بھی تیزی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے بعد گزشتہ روز بھی ہنڈریڈ انڈیکس میں بڑا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد کاروباری دن کے اختتام پر انڈیکس ایک لاکھ ، 30 ہزار 344 کی سطح پر بند ہوا تھا۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں ایک اور سنگ میل عبور، 100 انڈیکس ایک لاکھ 30 ہزار کی سطح عبور کرگیا

    اسٹاک ایکسچینج میں ایک اور سنگ میل عبور، 100 انڈیکس ایک لاکھ 30 ہزار کی سطح عبور کرگیا

    سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا –

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان رہا ، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 1835 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 30 ہزار 35 پوائنٹس پر پہنچ گیا –

    یکم جولائی کو مالی سال کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچا مالی سال کے پہلے روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 2 ہزار 572 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اورانڈیکس ایک لاکھ 28 ہزار 199 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ۔

    دوسری جانب انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی ہے ، ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں 10 پیسے سستا ہونے کےب بعد ڈالر 283 روپے 66 پیسے کا ہوگیا

  • مالی سال 25-2024: سونے کی قیمت میں 1 لاکھ  روپے سے زائد کا اضافہ

    مالی سال 25-2024: سونے کی قیمت میں 1 لاکھ روپے سے زائد کا اضافہ

    مالی سال 2024-25 کے دوران سونے کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، فی تولہ سونا ایک لاکھ 8 ہزار 500 روپے مہنگا ہو گیا۔

    گزشتہ مالی سال کے اختتام پر فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 41 ہزار 700 روپے تھی، جو بڑھ کر 3 لاکھ 50 ہزار 200 روپے ہو گئی۔اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 93 ہزار 201 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا، اور اس کی قیمت 2 لاکھ 7 ہزار 219 روپے سے بڑھ کر 3 لاکھ 240 روپے ہو گئی۔

    عالمی صرافہ مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں مالی سال کے دوران فی اونس سونا 956 ڈالر مہنگا ہو کر 2 ہزار 326 ڈالر سے بڑھ کر 3 ہزار 282 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

    سونے کی قیمتوں میں اس اضافے سے مقامی مارکیٹ میں زیورات کی خریداری مزید مہنگی ہوگئی ہے، جب کہ معاشی تجزیہ کار اس رجحان کو عالمی سطح پر بڑھتی مہنگائی، ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی سیاسی و مالی حالات سے جوڑ رہے ہیں۔

    قومی ٹی20 اسکواڈ کا اعلان رواں ہفتے متوقع، بابر اعظم اور رضوان کی شمولیت مشکوک

    اسرائیلی خطرے کے پیش نظر،ایران نے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا

    نیول چیف کا پاک فضائیہ کے ساتھ مشترکہ آپریشنل مشقوں کے آغاز کا اعلان

    پاکستان کا پہلا انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس کیاسک لاہور ایئرپورٹ پر قائم

    وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ، بجلی بلوں سے الیکٹریسٹی ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان

  • بھارت کی کرپٹو پالیسی نے نوجوانوں کیلئے عالمی ڈیجیٹل مواقع کے دروازے بند کر دیئے،بھارتی اخبار

    بھارت کی کرپٹو پالیسی نے نوجوانوں کیلئے عالمی ڈیجیٹل مواقع کے دروازے بند کر دیئے،بھارتی اخبار

    کرپٹو سے متعلق پاکستانی اقدامات پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بھارتی پروپیگنڈہ بری طرح ناکام ہوگیا۔

    بھارتی اخبار“دی پرنٹ “ نے بھارت کی کرپٹو پالیسی کی ناکامی کا اعتراف کرلیا،بائنینس کے بانی کی پاکستان آمد، کرپٹو تعاون کے امکانات پر بات چیت کے بعد بھارت میں سخت ٹیکس سے کرپٹو مارکیٹ بیٹھ گئی، بھارت کی ناکام کرپٹو حکمت عملی کے بعد پاکستان کی موثر کرپٹو پالیسی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

    بھارتی اخبار دی پرنٹ کے مطابق 30 فیصد کرپٹو ٹیکس سے بھارت میں 97 فیصد کرپٹو مارکیٹ ختم ہوچکی جس کے باعث نوجوان سرمایہ کار ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے بھارت کی کرپٹو پالیسی نے نوجوانوں کے لیے عالمی ڈیجیٹل مواقع کے دروازے بند کر دیے پاکستان نے 2000 میگاواٹ مائننگ اور بٹ کوائن ریزرو کے قیام کا اہم اعلان کیا۔

    طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    دی پرنٹ نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے بڑا قدم اٹھایا، امریکہ کے بعد ”بٹ کوائن ریزرو“ قائم کر کے ڈیجیٹل دنیا میں بھارت پر سبقت حاصل کی پاکستان نے بھارت کی کرپٹو حکمت عملی کی ناکامیوں کو موثر سفارتی پالیسی کے طور پر استعمال کیا ناکام کرپٹو پالیسی کے باعث بھارت کو60 بلین روپے ٹیکس کا نقصا ن پہنچا، کرپٹو پر سخت پابندیوں کے باعث بھارتی سٹارٹ اپس اور ماہرین ترقی یافتہ ممالک کا رُخ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ معروف امریکی ماہر بٹ کوائن ”ما ئیکل سیلر“ نے بھی پاکستان کی موثر حکمت عملی کی کھل کر تائید کی، اور بٹ کوائن ریزرو بنانے میں مدد کی پیشکش بھی کی۔

    بنگلہ دیش کے نجم الحسن شانتو کپتانی سے دستبردار

    بھارتی اخبار نے کہا لکہ کرپٹو حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کے لیے بائننس کے شریک بانی “چانگ پینگ ژاؤ “ پاکستان کرپٹو کونسل کے اسٹریٹجک مشیر مقرر ہوئے۔ پاکستان نے کرپٹو ڈپلومیسی میں بڑا قدم اٹھایا۔ بلال بن ثاقب کی واشنگٹن میں سینیٹرز سے ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ بھارت عالمی مکالمے سے باہر نظر آیا پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب کا بھارتی ناکام کرپٹو پالیسی کے مقابلے میں کامیاب فریم ورک دینے کا اعلان کیا اور پاکستان کی کامیاب کرپٹو حکمت عملی سفارتی، معاشی اور تکنیکی محاذ پر جیت کی علامت بن گئی۔

    جیولن تھرورز کی عالمی رینکنگ جاری، ارشد ندیم کا کونسا نمبر؟

  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر ہزاروں روپے کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں بھی سونا سستا ہوگیا ہے۔

    دو روزہ اضافے کے بعد ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق24 قیراط فی تولہ سونا 5,000 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 51 ہزار روپے کا ہو گیا۔10 گرام سونا 4,287 روپے کی کمی کے بعد 3 لاکھ 925 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔فی تولہ چاندی 9 روپے کمی کے بعد 3,790 روپے اور10 گرام چاندی 8 روپے کم ہوکر 3,249 روپے جبکہ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 0.09 ڈالر کمی کے بعد 36.06 ڈالر ہوگئی۔

    عالمی مارکیٹ میں سونا بھی نمایاں طور پر سستا ہوا،فی اونس سونا 53 ڈالر کمی کے بعد 3,290 ڈالر کی سطح پر آ گیا۔ماہرین کے مطابق، عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مقامی ڈیمانڈ میں کمی کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں یہ تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    اسرائیل نےامداد کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، 549 جاں بحق

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1,22,761 پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1,22,761 پر بند

    نگ بندی کے دوسرے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کا مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہا۔

    کاروباری دن کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 515 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 22 ہزار 761 پوائنٹس پر بند ہوا۔ دن بھر کے دوران ہنڈریڈ انڈیکس 1,087 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، جبکہ آج انڈیکس کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 23 ہزار 256 ریکارڈ کی گئی۔

    مارکیٹ میں آج مجموعی طور پر 74 کروڑ 97 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مالیت 28 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 80 ارب روپے کے اضافے سے 14 ہزار 858 ارب روپے تک جا پہنچی۔

    24 گھنٹوں میں ً74 فلسطینی شہید، مجموعی تعداد 56 ہزار سے تجاوز کر گئی

    فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک متاثر کن شخصیت ہیں، ٹرمپ

    سندھ میں 10 محرم تک دفعہ 144 نافذ، ڈبل سواری اور اسلحہ پر پابندی

  • سپارکس اسمارٹ فونز کا پاکستانی مارکیٹ سے مبینہ خاتمہ، صارفین اور ڈیلرز پریشان

    سپارکس اسمارٹ فونز کا پاکستانی مارکیٹ سے مبینہ خاتمہ، صارفین اور ڈیلرز پریشان

    ایک کثیر الجہتی تحقیقات کے مطابق، جسے مارکیٹ ذرائع اور صنعت کے ڈیٹا نے تقویت دی ہے، سپارکس اسمارٹ فونز — جو ڈیپلائے گروپ کا ایک برانڈ ہے — پاکستان میں گہرے آپریشنل چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر مارکیٹ سے اپنی سرگرمیاں کم کر رہا ہے یا مکمل طور پر ختم کر رہا ہے۔ یہ صورتحال صارفین اور ڈیلرز دونوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہے۔

    سپارکس نے اپنا سب سے حالیہ فلیگ شپ ڈیوائس ایج 20 فروری 2025 میں بہت دھوم دھام اور ماہرہ خان کی جانب سے اعلیٰ سطحی توثیق کے ساتھ پیش کیا تھا۔ تاہم، جارحانہ مارکیٹنگ کے باوجود، صنعت کے تاثرات بتاتے ہیں کہ ایج 20 متوقع فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد کسی بھی نئے ماڈل کے اعلانات کی عدم موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سپارکس کو اپنی مصنوعات کی رینج کو تازہ کرنے میں R&D یا سپلائی چین کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔علاوہ ازیں، سپارکس کے آفیشل سوشل میڈیا چینلز پر مئی 2025 کے وسط سے کوئی نئی پوسٹ نہیں کی گئی ہے، اور تازہ ترین مواد صرف پرانے ماڈلز پر مرکوز ہے۔ یہ طویل غیر فعالیت، جو عام طور پر مصنوعات کی لانچنگ اور کسٹمر کی مصروفیت کے لیے استعمال ہوتی ہے، مارکیٹنگ کی کوششوں میں تعطل کا اشارہ ہے، جو ایسے وقت میں برانڈ کی نمائش کو بری طرح متاثر کر رہا ہے جب حریف باقاعدہ طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور نئے موبائلز لانچ کر رہے ہیں۔

    ڈیپلائے گروپ کا کراچی میں سپارکس کے لیے درج کردہ دفتر کا پتہ اب خالی نظر آتا ہے۔ مقام پر کی گئی آزادانہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ احاطہ ایک غیر متعلقہ اسمارٹ فون اسمبلر نے لے لیا ہے۔ اگرچہ ڈیپلائے گروپ نے عوامی طور پر جگہ کی منتقلی یا فروخت کی تصدیق نہیں کی ہے، کمپاؤنڈ کے نئے مالک نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔حاصل ہونے والے درآمدی ڈیٹا کے مطابق، سپارکس (اور اس سے متعلقہ ادارے جیسے ڈیپلائے یا برانڈ ایکس) نے مئی اور جون 2025 کے لیے ہینڈ سیٹ کے اجزاء کی نہ ہونے کے برابر درآمدات ریکارڈ کیں۔ اپریل 2025 میں بھی صرف تقریباً 4,000 یونٹس کے اجزاء کی کلیئرنس ہوئی، جو بڑے پیمانے پر پیداوار یا انوینٹری کو دوبارہ بھرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ڈیلرز کی جانب سے موجودہ اسٹاک کو بھاری رعایت پر فروخت کرنے کی اطلاعات ہیں تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے، جو کنزیومر الیکٹرانکس میں کسی برانڈ کے مارکیٹ سے نکلنے سے پہلے کی کلیئرنس کے رویے سے مطابقت رکھتی ہے۔

    پہلے کی رپورٹس میں سپارکس کے دو ڈیلرز کے کمپنی کی جانب سے یورپ کے دورے کے دوران "غائب” ہونے سے ہونے والے سنگین بدنامی کے نقصان کی تفصیلات دی گئی تھیں، جس سے تحقیقات کا آغاز ہوا اور کارپوریٹ نگرانی اور اخلاقیات کے بارے میں سوالات اٹھے۔ اس کے علاوہ، متعدد ڈیلرز نے وارنٹی کے دعووں کے حل نہ ہونے، اسپیئر پارٹس کی قلت، اور بعد از فروخت سپورٹ کی کمی کی شکایت کی ہے—یہ مسائل صارفین کے اعتماد اور ڈیلرز کے بھروسے کو ختم کر رہے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ کچھ ڈیلرز نے سپارکس سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی ہے، جس کی وجہ سروس کی فراہمی میں بار بار ناکامیاں ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے تو یہاں تک لکھا، "سپارکس موبائل نہ خریدیں۔ میرے موبائل کو فنگر پرنٹ کے مسئلے کی وجہ سے دو ماہ سے سپارکس وارنٹی سینٹر میں رکھا ہوا ہے، لیکن ابھی تک واپس نہیں کیا گیا۔ ان کے پاس اسپیئر پارٹس بھی نہیں ہیں۔ برا فون، بری سروس، غیر کارپوریٹ۔”

    اس سلسلے میں سپارکس اسمارٹ فونز/ڈیپلائے گروپ کے سی ای او ذیشان قریشی سے رابطہ کیا گیا۔ قریشی نے آپریشنز بند کرنے کے دعووں کو مسترد کیا اور یقین دلایا کہ وہ پوچھے گئے سوالات کا جواب دیں گے۔ انہوں نے پاکستان موبائل فون ایسوسی ایشن (PMPA) کا حوالہ دیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ سپارکس اب بھی فعال ہے۔تاہم، PMPA حکام نے تصدیق کی کہ ڈیپلائے گروپ یا سپارکس فونز رجسٹرڈ ممبر نہیں ہیں، اور اس طرح وہ ایسوسی ایشن سے توثیق یا مدد کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ ان تبادلوں کے بعد، اس معاملے کی جانچ پڑتال پر سپارکس کی قیادت سے ایک قانونی نوٹس موصول ہوا، لیکن جاری پیداوار، شپمنٹ کے حجم، یا صنعت کے اداروں میں رکنیت کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

    پاکستان کا موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ/اسمبلی سیکٹر کافی حد تک بڑھا ہے، جس نے 2024 میں مقامی اسمبلی کے ذریعے ہینڈ سیٹ کی گھریلو مانگ کا تخمینہ 95% پورا کیا ہے۔ تاہم، پالیسی میں تبدیلیاں، ٹیکس کے دباؤ، اور مقامی طور پر اسمبل کیے جانے والے عالمی برانڈز سے سخت مقابلہ چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔

    اگر سپارکس واقعی پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر دیتا ہے، تو موجودہ ڈیوائس مالکان کو وارنٹی کی مرمت، اسپیئر پارٹس، یا سافٹ ویئر اپ ڈیٹس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈیلرز کو بقیہ اسٹاک کے نقصانات اور چھوٹے مقامی برانڈز پر صارفین کے اعتماد میں کمی کا خطرہ ہے۔صنعت کے اسٹیک ہولڈرز نے تجویز دی ہے کہ PMPA اور متعلقہ حکام مقامی برانڈز سے رکنیت کی حیثیت، آپریشنل صحت، اور بعد از فروخت سپورٹ کی ضمانتوں کے بارے میں واضح انکشافات کا مطالبہ کرنے کے لیے میکانزم قائم کر سکتے ہیں۔ اس میں لازمی نوٹیفکیشن کی مدت یا ایسکرو پر مبنی وارنٹیاں شامل ہو سکتی ہیں تاکہ صارفین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اگر کوئی برانڈ اچانک مارکیٹ سے باہر ہو جاتا ہے۔

    مارچ 2025 کے بعد پروڈکٹ پائپ لائن میں تعطل، مئی کے وسط سے سوشل میڈیا پر خاموشی، کم از کم درآمدی سرگرمی، خالی دفتر کے احاطے، صنعت ایسوسی ایشن میں عدم رکنیت، ڈیلرز کی رعایت شدہ قیمتوں پر کلیئرنس، اور پہلے کے بدنامی کے واقعات — یہ تمام اشارے مشترکہ طور پر سپارکس اسمارٹ فونز کے پاکستان میں آپریشنز کو کم کرنے یا بند کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی کی قیادت باضابطہ طور پر ان دعووں کو مسترد کرتی ہے، لیکن قابل تصدیق ثبوت کی عدم موجودگی اور بڑھتے ہوئے مارکیٹ سگنلز اہم آپریشنل سکڑاؤ کی تصدیق کرتے ہیں۔

    رپورٹ.زبیر قصوری،اسلام آباد

  • ایران، اسرائیل جنگ بندی کے بعد سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    ایران، اسرائیل جنگ بندی کے بعد سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    باغی ٹی وی: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔

    پاکستان میں فی تولہ 24 قیراط سونے کی قیمت میں 3 ہزار 800 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 54 ہزار 365 روپے ہو گئی۔اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونا 3 ہزار 258 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 3 ہزار 810 روپے پر آ گیا، جبکہ 22 قیراط 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 987 روپے کمی کے بعد 2 لاکھ 78 ہزار 502 روپے ریکارڈ کی گئی۔

    چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی کا سلسلہ جاری ہے، فی تولہ چاندی 9 روپے سستی ہو کر 3 ہزار 790 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 8 روپے کمی کے بعد 3 ہزار 249 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت پر دباؤ دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 39 ڈالر کمی کے بعد 3327 ڈالر پر پہنچ گیا۔

    ایران کا حملہ قطر کے خلاف نہیں ، امریکی مداخلت کا جواب تھا، صدر مسعود پزشکیان

    سیالکوٹ: بیوٹی پارلر کی مالکہ پر تشدد، ملزم گرفتار ، خواتین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: ڈی پی او فیصل شہزاد

    گنڈاپور نے 11 کروڑ کے بسکٹ ، 240 ارب عیاشیوں پر خرچ کیے ، اپوزیشن لیڈر کا انکشاف

  • اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان رہا ، انڈیکس میں بڑے اضافے کے بعد 4 نفسیاتی حدیں بحال ہو گئیں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کا آغاز شاندار تیزی سے ہوا، 100 انڈیکس میں 4300 پوائنٹس سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 20 ہزار 500 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا یہ اضافہ ایک روز قبل کی شدید مندی کے برعکس دیکھنے میں آیا، جب بازار میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی تھی گزشتہ روز 100 انڈیکس 3855 پوائنٹ کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 16 ہزار 167 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا،گزشتہ روز 15 ارب 90 کروڑ 56 لاکھ 20 ہزار 424 روپے مالیت کے 19 کروڑ 61 لاکھ 90 ہزار 358 شیئرز کا لین دین ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے گزشتہ روز سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا تھا، تاہم آج کی تیزی کو ماہرین نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی قرار دیا ہے،مارکیٹ میں کاروباری حجم اور سرمایہ کاری کی مالیت میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

    جنگ بندی کا دورانیہ 12 گھنٹے،جس کے بعد جنگ کو باضابطہ ختم تصور کیا جائے گا،ٹرمپ

    جنگ بندی کا دورانیہ 12 گھنٹے،جس کے بعد جنگ کو باضابطہ ختم تصور کیا جائے گا،ٹرمپ

    جنگ بندی سے قبل ایران کے میزائل حملے،چار اسرائیلی ہلاک،عمارتیں تباہ