Baaghi TV

Category: کاروبار

  • ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری، پراجیکٹ کیبل 2 افریقا کا آغاز

    ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری، پراجیکٹ کیبل 2 افریقا کا آغاز

    پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر ترقی کی جانب گامزن، حکومت پاکستان کی ٹیلی کام اور آئی ٹی سیکٹر میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں.

    باغی ٹی وی کے مطابق حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ فراہمی میں مسائل کے باعث حکومت پاکستان کی جانب سے Africa 2 Cable Project کا آغاز ہوگیا۔ Africa 2 Cable Project دنیا کا سب سے بڑا زیر سمندر نیٹ ورک ہے، یہ منصوبہ 45000 کلومیٹر طویل زیرِ سمندر کیبل نیٹ ورک پر مشتمل ہے ، یہ منصوبہ 33 ممالک میں 46 لینڈنگ اسٹیشنز کو جوڑتا ہے۔پاکستان میں Africa 2 Cable Project لینڈنگ مقام ہاکس بے، کیماڑی ٹان کراچی میں ہو گی جبکہ اس کا مقامی آپریٹر ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس ہوگا، یہ منصوبہ ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری لائے گا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن حکام کی کاوشوں سے پاکستان گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس 2024 رینکنگ میں 79 ویں سے 40 ویں نمبر تک پہنچ گیا۔پاکستان دنیا کے ان 37 ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے WebTrustآڈٹ شدہ نیشنل پبلک انفراسٹرکچر قائم کی، اس اقدام سے ملک میں سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل سرٹیفیکیشن کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔

    ڈی آئی خان میں 5 خوارج جہنم واصل ، وزیر اعظم ، وزیر داخلہ کا خراج تحسین

    7 ممالک سے آج 258 پاکستانی نکالےگئے

    پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

  • پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    کیسپرسکی آئی ٹی سیکیورٹی اکنامکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، بڑھتی ہوئی آئی ٹی سکیورٹی کی ضروریات اور تقاضوں میں عالمی سطح پر کمپنیوں کی اکثریت پیداواری صلاحیت میں کمی، پیچیدہ ٹیکنالوجی کے ماحول کو محفوظ بنانے، اور ڈیٹا کے تحفظ کو فعال کرنے کے بنیادی چیلنجز سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں ڈیٹا کا تحفظ ایک اہم کاروباری چیلنجہے، جبکہ کاروباری عمل آؤٹ سورسنگ کے مسائل کو بھی کاروباری اداروںکی جانب سے سامنے رکھا گیا ہے۔

    کاسپرسکی آئی ٹی سیکیورٹی اکنامکس رپورٹ ہر سال بجٹ میں تبدیلیوں، مسائل اور آئی ٹی سیکیورٹی کے فیصلہ سازوں کو متاثر کرنے والے کاروباری چیلنجوں کا تجزیہ کرنے کے لیے جاری کی جاتی ہے۔یہ رپورٹ مختلف سائز اور صنعتوں کیے اداروں کے آئی ٹی اور آئی ٹی سیکیورٹی پروفیشنلز کے انٹرویوز سے مرتب کی گئی ہے۔ یہ سروے یورپ کے 27 ممالک، ایشیا پیسیفک ریجن، لاطینی امریکہ، شمالی امریکہ، مشرق وسطیٰ، ترکی اور میٹا ریجن بشمول پاکستان میں کیا گیا۔ڈیٹا کا تحفظ ایک اہم تشویش ہے جس کا اظہار عالمی سطح پر 33 فیصد کمپنیوں اور پاکستان میں 61 فیصد کاروباری اداروں نے کیا۔ جواب دہندگان اس کے بارے میں فکر مند تھے کیونکہ انہیں باقاعدگی سے کارپوریٹ سسٹمز سے ڈیٹا کے اخراج کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو بیرونی اور اندرونی دونوں وجوہات کی وجہ سے ہوتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ڈاؤن ٹائم اور پیداواری صلاحیت میں کمی آئی ٹی کی غیر موثر سیکیورٹی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سب سے زیادہ کاروباری مسائل ہیں، جس کا اظہار عالمی سطح پر 38 فیصد کمپنیوں اور پاکستان میں 20 فیصد نے کیا۔انہیں اس مسئلے کا سامنا بنیادی طور پر خطرات کا پتہ لگانے اور ان کے تدارک کے لیے طویل وقت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان میں 19 فیصد ادارے بھی بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ کے مسائل کو اپنی بڑی تشویش کے طور پر ذکر کرتی ہیں۔عالمی سطح پر 33 فیصد اور پاکستان میں 9فیصد جواب دہندگان کے مطابق پیچیدہ ٹیکنالوجی کے ماحول کو محفوظ بنانا اور ڈیٹا کنیکٹیویٹی کو یقینی بنانا بھی خدشات کی فہرست میں شامل تھا۔کیسپرسکی میں انفارمیشن سیکیورٹی ڈائریکٹر الیکسی وووک کے مطابق کاروباری اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی آپریشنزکے ہر پہلو کو ممکنہ سائبر حملوںسے محفوظ رکھیں۔ حملہ آور اب مکمل طور پرزیرو ڈے کے معاملے پر بھروسہ نہیں کرتے، کیونکہ کسی نقصان دہ لنک پر ایک سادہ کلک یا بنیادی ڈھانچے میں کمزوری تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔یہ اس خیال کی نشاندہی کرتا ہے کہ معلومات کی حفاظت ایک جامع اور منظم انداز پر مبنی ہونی چاہیے، بجائے اس کے کہ انفرادی طور پر مخصوص اقدامات کے نفاذ تک محدود ہو۔ کیسپرسکی تمام جامع حل جیسے کہ کیسپرسکی نیکسٹ پروڈکٹ لائن کے استعمال کی تجویز کرتا ہے، جو کسی بھی سائز اور صنعت کی کمپنیوں کے لیے حقیقی وقت کا تحفظ، خطرے کی نمائش، جدید تحقیقات اور ردعمل کی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔کیسپرسکی یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ آپ کے انفارمیشن سکیورٹی پیشہ ور افراد کو آپ کی تنظیم کو نشانہ بنانے والے سائبر خطرات میں گہرائی سے مرئیت فراہم کریں۔ اگر کمپنیوں میں اہل انفارمیشن سکیورٹی پیشہ ور افراد کی کمی ہے، تو ایک منظم سیکیورٹی سروس کو اپنائیں۔

    اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

    مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

  • مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ملک میں مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

    آج پاکستان میں فی تولہ سونے مزید 1100روپے بڑھ گیا۔ 4 دن میں ایک تولہ سونا 4 ہزار 400 روپے مہنگا ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 1100 روپے اضافے سے ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 2 لاکھ 79 ہزار 400 روپے ہے۔
    دس گرام سونے کا بھاؤ 943 روپے اضافے سے 2 لاکھ 39 ہزار 540 روپے ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 11 ڈالر اضافے سے 2 ہزار 676 ڈالر فی اونس ہے۔

    ہنجروال کے علاقہ میں غیر ت کے نام پر قتل، باپ سمیت ملزمان گرفتار

    آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔اڈانی

  • سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا ایک ہزار روپے مہنگا ہوگیا جس کے بعد سونا فی تولہ 2 لاکھ 76 ہزار روپے کا ہوگیا اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 857 روپے بڑھ گئی، ملک بھر میں 10گرام سونے کی قیمت 2 لاکھ 36 ہزار 625 روپے ہوگئی ہے فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3350روپے اور 10گرام چاندی کی قیمت بھی 2872.08 روپے کی سطح پر مستحکم ہے۔

    آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ سونے کی عالمی قیمت 10 ڈالر بڑھ کر2642 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

    لاہور میں فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے جدید طریقہ لاگو کرنے کا فیصلہ

    باکس آفس پر ناکام ہونے والی بھارتی فلم آسکرز کی فہرست میں شامل

    پی ایس ایل 10: ڈرافٹ کی تاریخ و مقام تبدیل ہونے کا امکان

  • وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نیوز کانفرنس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر تفصیل سے بات کی ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب مثبت سمت میں گامزن ہے اور حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جو معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنائیں گے۔اڑان پاکستان پروگرام پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی جائیں گی تاکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل بھی آگے بڑھا رہی ہے تاکہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔

    ٹیکنالوجی کی ترقی اور وفاقی اخراجات میں کمی
    وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اخراجات کا حجم کم کر کے مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جس میں حکومت کے ارکان، حزب اختلاف کے رہنما اور نجی شعبے کے افراد شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد وسائل کا صحیح استعمال یقینی بنانا ہے تاکہ معیشت میں پائیدار ترقی حاصل کی جا سکے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہوگا۔ حکومت کی پالیسیوں کا مقصد نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے ملکی معیشت کی قیادت سنبھالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت رائٹ سائزنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف وزارتوں اور اداروں کے ساتھ طویل عرصے سے کام جاری ہے۔ رائٹ سائزنگ کا مقصد اداروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون 2025 سے پہلے رائٹ سائزنگ کے عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 6 وزارتوں نے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اپنے اخراجات کا جائزہ لیا ہے۔ اس عمل میں وزارتوں اور اداروں کے غیر ضروری اخراجات کا پتہ لگایا جا رہا ہے تاکہ صرف ضروری اور اہم اخراجات پر توجہ دی جا سکے۔وفاقی حکومت کے حجم کو مرحلہ وار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزیر خزانہ نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں منظور شدہ ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کے انضمام کا عمل جاری ہے۔ اس کے تحت وزارت امور کشمیر، سیفران اور آئی ٹی کے اداروں کو ضم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامرس اور ہاؤسنگ کے ذیلی اداروں کا انضمام بھی کیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے جو اقتصادی پلان اور اصلاحاتی اقدامات ترتیب دیے ہیں، ان سے معیشت میں استحکام آئے گا اور سٹرکچرل اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ حکومت نے پبلک فنانس اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط کے لیے عملی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔محمد اورنگزیب نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے اور نجی شعبے کی حمایت سے ملک کی معیشت کو نئے امکانات فراہم کیے جائیں گے۔

  • سونا فی تولہ 2200 روپے مہنگا

    سونا فی تولہ 2200 روپے مہنگا

    سونے کی فی تولہ قیمت 2200 روپے بڑھ گئی جس کے بعد ایک تولہ سونا 2 لاکھ 76 ہزار900 روپےکا ہوگیا۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10گرام سونا 1886روپےمہنگا ہو کر2 لاکھ37 ہزار397روپےکا ہوگیا،یاد رہے گزشتہ روز سونے کی قیمت میں 1100 روپے کا اضافہ ہوا تھا۔سال 2024 میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 23.9 فیصد( 52 ہزار 600 روپے) اضافہ ہوا،ایسوسی ایشن کے مطابق سال 2024 میں سونے کی فی تولہ بلند ترین قیمت 2 لاکھ 87 ہزار 900 روپے رہی جب کہ کم ترین قیمت 2 لاکھ 10 ہزار 800 روپے رہی۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی بلند ترین قیمت 2784 ڈالر فی اونس رہی جب کہ سونےکی کم ترین قیمت 2010 ڈالر فی اونس رہی۔سونے کی عالمی قیمت سال 2024 میں 552 ڈالر بڑھ کر 2614 ڈالر رہی، سونے کی عالمی قیمت سال 2024 میں 26.7 فیصد بڑھی۔

    چیمپئنز ٹرافی، یو اے ای میں میچز سے بھی بڑی آمدنی متوقع

    ن لیگ اور جے یو آئی میں سیاسی رابطے

    دھند اور خراب موسم، ٹرینیں تاخیر کا شکار

    مودی کا جِل بائیڈن کوسب سے مہنگا تحفہ، تفصیلات جاری

  • سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: سال 2025 کے دوسرے دن بھی سونے کی عالمی ومقامی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    باغی ٹی وی:آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق آج24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت 1100روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 74 ہزار 700 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 943روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 35 ہزار 511 وپے کی سطح پر آگئی،جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 11ڈالر کے اضافے سے 2635ڈالر کی سطح پر آگیا۔

    اس کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3 ہزار 350 روپے اور 10گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2 ہزار 872 روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

    پوری کرم ایجنسی میں فوجی آپریشن کیا جائے،سربراہ اہل سنت والجماعت

    واضح رہے کہ 2024 میں، پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ آیا، جس میں 287,900 روپے فی تولہ کی بلند ترین اور 210,800 روپے فی تولہ کی کم ترین سطح تھی عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت ہوا جب تاجروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی رفتار اور صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر مزید وضاحت طلب کی۔

    مریم نواز مساوی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرا رہی ہیں،مریم اورنگزیب

  • نئےسال کے پہلے روز سونے کی قیمت میں اضافہ

    نئےسال کے پہلے روز سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: نئےسال کے پہلے روز سونے کی قیمت میں اضافہ ہو ا ہے-

    باغی ٹی وی: آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ سال 2025 کے پہلے روز ہی ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا، اس اضافے کے بعد ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 73 ہزار 600 روپے ہوگئی اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 858 روپے اضافے سے 2 لاکھ 34 ہزار 568 روپے ہے جبکہ عالمی بازار میں سونے کی قیمت 10 ڈالرز اضافے سے 2 ہزار 624 ڈالر فی اونس ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا، پاکستان میں سونے کے نرخو ں میں ایک سال کے دوران 52 ہزار 600 روپے کا اضافہ ہوا، بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کے نرخ میں 25.55 فیصد اضافہ ہوا اور فی اونس قیمت میں ایک سال کے دوران 45 ہزار 96 روپے کا اضافہ ہوا۔

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    پاراچنار واقعے کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی میں بدامنی پھیلائی جائے،وزیرِ داخلہ سندھ

    اداکارہ سلمیٰ ظفر عاصم نے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت کیوں دی ؟

  • نئے سال پر پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ

    نئے سال پر پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ

    حکومت نے نئے سال پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔نوٹی فکیشن کے مطابق فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 2 روپے 96 پیسے بڑھا کر 258 روپے 34 پیسے مقرر کر دی گئی۔نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول 56 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 252 روپے66 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔قیمتوں میں اضافے کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا۔واضح رہے کہ پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکل میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہ راست اثر متوسط اور نچلے طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔تاہم ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر شعبہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلتا ہے، اس کی قیمت کو افراط زر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ یعنی ٹرینوں اور زرعی انجنوں جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے اور خاص طور پر سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔اس وقت حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر تقریباً 76 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔

    ننکانہ:ڈپٹی کمشنر کا شدید دھند میں بنیادی مراکز صحت کا اچانک دورہ، عملے کی کارکردگی کو سراہا

    ننکانہ : ریسکیو 1122 کا اسپورٹس گالا، دلچسپ مقابلے اور انعامات کی تقسیم

  • سال 2024 نے کسی کی دولت کو دگنا کیا تو کچھ  کواربوں کا نقصان

    سال 2024 نے کسی کی دولت کو دگنا کیا تو کچھ کواربوں کا نقصان

    اسلام آباد : کھرب پتیوں کے انڈیکس میں سال 2024 کے دوران 5کھرب پتیوں کی مجموعی دولت 1508کھرب روپے ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: کیلنڈر سال 2024 کا اختتام دنیا کی کئی بلند و بالا شخصیات کی دولت میں اضافے یا نقصان کے ساتھ ہوا، اس سال نے کسی کی دولت کو دگنا کیا تو کچھ لگژری بزنس ٹائیکونز کو ان کے خالص اثاثوں میں اربوں کا نقصان ہواکچھ ارب پتی جن کی رقم لگژری ریٹیل سے آتی ہے انہوں نے اس سال جدوجہد کی اور انہیں دوہرے ہندسے کے اربوں کا نقصان ہوا۔

    27 دسمبر تک کے بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق 2024 میں سب سے زیادہ دولت کمانے والے 5 ارب پتیوں کی مجموعی دولت 542 ارب ڈالر (1508کھرب پاکستانی روپے) بڑھ گئی۔

    انڈیکس کے مطابق ایلون مسک کی دولت دگنی ہوئی اور ان کے اثاثے 468 ارب ڈالرز (1302کھرب پاکستانی روپے) کے ہوگئے، ایلون مسک الیکشن کے دن سے 200 ارب ڈالرز (556کھرب پاکستانی روپے) سے زیادہ امیر ہوگئے ، ان کی دولت بنیادی طور پر اسپیس ایکس میں ٹیسلا اسٹاک اور ایکویٹی پر مشتمل ہے، اگرچہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں کمی آئی تاہم ٹیسلا کے اسٹاک کی قیمت اس سال 70 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اسپیس ایکس کی قدر پچھلے سال میں دوگنی ہوگئی ہے اور اب اس کی مالیت 350 ارب ڈالرز (975کھرب پاکستانی روپے ) بتائی گئی ہے۔

    میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ کی دولت میں 85 ارب ڈالرز (236کھرب پاکستانی روپے) کا اضافہ ہوا، 213 ارب ڈالرز (593 کھرب پاکستانی روپے) کی دولت کے ساتھ کمپنی کے تقریباً 13 فیصد اسٹاک کے مالک ہیں، جو انہیں اس کا سب سے بڑا انفرادی شیئر ہولڈر بناتا ہے، میٹا کے حصص کی قیمت اس سال 70 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    جینسن ہوانگ کی دولت 122 ارب ڈالرز (339کھرب پاکستانی روپے) ہے، رواں برس جینسن ہوانگ کی دولت میں 78 ارب ڈالرز (217 کھرب پاکستانی روپے) کا اضافہ دیکھنے میں آیا، اے آئی میں تیزی سے رجحان نے اس سال جینسن ہوانگ کو ایک نیا سینٹی بلینیئر بنایا ، Nvidia کے سی ای او اور شریک بانی کمپنی کے تقریباً ساڑھے 3 فیصد کے مالک ہیں، جن کے حصص کی قیمت سال بہ تاریخ 175 فیصد سے زیادہ ہے۔

    2024 کے دوران لیری ایلیسن 70 ارب ڈالرز (195کھرب پاکستانی روپے) امیر ہوگئے لیری ایلیسن کی دولت 193 ارب ڈالرز (537کھرب پاکستانی روپے)ہے، اوریکل کے بانی اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر ہیں۔ ڈیٹا بیس سافٹ ویئر کمپنی کا اسٹاک، جو ان کی مجموعی مالیت کا سب سے بڑا حصہ بناتا ہے ایلیسن ٹیسلا کے 1 فیصد سے زیادہ اسٹاک کے مالک بھی ہیں، جس کی مالیت 20 ارب ڈالرز ہے۔

    رواں برس جیف بیزوس69 ارب ڈالرز (192کھرب پاکستانی روپے) دولت سے زیادہ امیر ہوگئےیمیزون کے شریک بانی اور کمپنی کے سب سے بڑے انفرادی شیئر ہولڈر ہیں، جو 2.4 کھرب ڈالرزکمپنی کے تقریباً 9 فیصد کے مالک ہیں ریٹیل اور ٹیک میں ا ن کا حصہ ان کی 246 ارب ڈالر ز (684کھرب پاکستانی روپے)کی دولت کا 80 فیصد سے زیادہ ہے۔

    کچھ ارب پتیوں کو اپنی دولت میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

    رواں برس برنارڈ ارنالٹ کی دولت میں 31 ارب ڈالرز (86کھرب پاکستانی روپے) کی کمی دیکھنے میں آئی LVMH کے سی ای او ، جن کی دولت 176 ارب ڈالرز (489کھرب پاکستانی روپے) ہےکمپنی میں 48 فیصد کے حصص رکھتے ہیں جو Louis Vuitton اور Christian Dior جیسے برانڈز کی مالک ہے لگژری لیبلز نے اس سال جدوجہد کی ہے، خاص طور پر چین میں، جس نے جائیداد غیر منقولہ بحران اور نوجوانوں کی بڑی تعداد میں بے روزگاری کا سامنا کیا ہے۔

    فرانسوائس بیٹنکورٹ میئرز کی دولت میں رواں برس 25 ارب ڈالرز (69کھرب پاکستانی روپے) کی کمی دیکھنے میں آئی LʼOréal fortune کی وارث فرانسوائس بیٹنکورٹ میئرز 75 ارب ڈالرز (208کھرب پاکستانی روپے) کے ساتھ دنیا کی دوسری امیر ترین خاتون ہیں کاسمیٹکس کمپنی کو اس سال مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ چین میں فروخت متاثر ہوئی اس کے حصص کی قیمت سال بہ تاریخ 26 فیصد سے زیادہ نیچے ہیں۔

    رواں برس کارلوس سلم کے اثاثے 23 ارب ڈالرز (64کھرب پاکستانی روپے) گھٹ گئے، میکسیکو کے ارب پتی کارلوس سلم، جن کی دولت 82 ارب ڈالرز (228کھرب پاکستانی روپے) ہے، نے اس سال ٹیلی کمیونیکیشن کی بڑی کمپنی América Móvil کے اسٹاک کے ساتھ اپنی دولت میں کمی دیکھی۔

    2024 میں کولن ہوانگ کی دولت میں 17 ارب ڈالرز (47کھرب پاکستانی روپے) کی کمی دیکھنے میں آئی کولن ہوانگ کی تقریباً تمام 35 ارب ڈالرز دولت پنڈوڈو میں لگی ہوئی ہے جو فاسٹ فیشن خوردہ فروش ’ٹیمو ‘کی بنیادی کمپنی ہے ، جس کا اسٹاک اس سال 30 فیصد سے زیادہ گر گیا ہے۔

    رواں برس فرانکوئس پنالٹ کے اثاثوں میں 14 ارب ڈالرز (39کھرب پاکستانی روپے) کی کمی دیکھنے میں آئی فرانکوئس پنالٹ کی دولت اس سال لگژری مندی کا ایک اور نقصان ہے، انہوں نے لگژری گروپ کیرنگ کی بنیاد رکھی، جس میں بیلنسیگا، گوچی اور سینٹ لارینٹ جیسے برانڈز شامل ہیں ان کی 22 ارب ڈالرز (61 کھرب پاکستانی روپے) خالص مالیت کا زیادہ تر حصہ کمپنی میں لگا ہوا ہے، جس کا اسٹاک سال بہ تاریخ 40 فیصد سے زیادہ نیچے ہے۔