Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستانی آٹو انڈسٹری میں نمایاں بہتری، سرمایہ کاری اور فروخت میں شاندار اضافہ

    پاکستانی آٹو انڈسٹری میں نمایاں بہتری، سرمایہ کاری اور فروخت میں شاندار اضافہ

    پاکستانی آٹو انڈسٹری میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ صنعت میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ مختلف گاڑیوں کی فروخت میں شاندار اضافہ ہوا ہے، جس نے نہ صرف صنعت کو فروغ دیا بلکہ صارفین کا اعتماد بھی بحال کیا ہے۔

    مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 46.7 فیصد، ٹرک اور بسوں کی فروخت میں 82 فیصد بہتری دیکھنے میں آئی،جیپوں اور پک اپ گاڑیوں کی خریداری میں 60 فیصدبہتری ہوئی،موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں 23.4 فیصد اضافہ ہوا،ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں، جس کی مانگ میں شاندار بڑھوتری دیکھنے کو ملی، سود سے پاک فنانسنگ کی بدولت صارفین اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے،ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے نئے ماڈلز سے آٹو سیلز میں مزید اضافہ متوقع ہے

    پاکستان میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروائی گئی ہیں، جن کی مانگ میں شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی مثبت اثر ڈال رہی ہے۔صارفین اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں سود سے پاک فنانسنگ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس سہولت نے عام آدمی کے لیے گاڑیاں خریدنا آسان بنا دیا ہے۔ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے پاکستان کی آٹو انڈسٹری نہ صرف مقامی طلب کو پورا کر رہی ہے بلکہ عالمی معیار کی جانب بھی گامزن ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی ترقی اور صارفین کے لیے سازگار پالیسیاں اس شعبے کو مزید بلندیوں تک لے جا سکتی ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا، تو پاکستانی معیشت میں آٹو انڈسٹری کا حصہ مزید مستحکم ہوگا۔

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

  • بیری کے شہد کی پہلی کھیپ خیبرپختونخوا سے ملائیشیا پہنچ گئی

    بیری کے شہد کی پہلی کھیپ خیبرپختونخوا سے ملائیشیا پہنچ گئی

    ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کی زرعی برآمدات کی عالمی سطح پر نئی پہچان دیکھنے میں آئی ہے

    بیری کے شہد کی پہلی کھیپ خیبرپختونخوا سے ملائیشیا جا پہنچی ،پاکستانی شہد کی برآمدات کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے وزارتِ تجارت پرعزم ہے،کوالالمپور میں پاکستانی ہائی کمیشن کا پاکستانی اور ملائیشین کمپنیوں کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے میں اہم کردار ہے،خیبرپختونخوا سے 20,000 ٹن سالانہ شہد کی پیداوار سے پاکستان عالمی منڈی میں شہد کا قابل اعتماد سپلائر بن گیا،خیبرپختونخوا میں 60,000 شہد کے فارمز، 16 لاکھ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، شہد کی مکھیوں کے کلسٹرز اور پراسیسنگ سہولیات میں سرمایہ کاری کیلئے ماہرین سے مشاورت کی گئی ہے،پاکستان میں شہد کی برآمدات بڑھانے کے لیے ” ہنی بورڈ ” کے قیام کی تجویز دی گئی ہے،ایس آئی ایف سی پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے پیش پیش ہے،

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

  • ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

    ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

    کراچی: طلب میں کمی کے باعث ملک میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں سولر پینل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے ساتھ سولر بیٹری کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی سامنے آئی ہےسولر بیٹری کی قیمت 20 فیصد تک کم ہونے کے بعد ساڑھے 4 لاکھ روپے والی لیتھیم سولر بیٹری اب 3 لاکھ 80 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق جو بیٹری 3 یا 4 لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی تھی، اس کی قیمت اب دو سے ڈھائی لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ کیونکہ لیتھیم بیٹریوں کی انڈسٹری میں نئی کمپنیاں آگئی ہیں اور وہ آفرز بھی اچھی دے رہی ہیں، تاجروں کے مطابق سولر پینلز سمیت سولر بیٹریوں کی خرید و فروخت شدید متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے سولر مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں آج زبردست تیزی رہی اور انڈیکس 97 ہزار کی ریکارڈ حد عبور کرگیا،جس کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین اسٹاک مارکیٹ بن گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج تاریخی بلندی پر پہنچ چکا ہے، 100 انڈیکس نے کاروباری دن میں 97 ہزار 437 کی بلند ترین سطح بنائی اور کاروبار کا اختتام 1781 پوائنٹس اضافے سے 97 ہزار 328 پرکیا بازار میں آج 96 کروڑ 99 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 35 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد رہی، مارکیٹ کیپٹلائزیشن 196 ارب روپے بڑھ کر 12 ہزار 525 ارب روپے ہے۔

    سی ای او عارف حبیب سکیورٹیز شاہد علی حبیب کے مطابق شرح میں کمی کے سبب بازار میں میوچل فنڈز کے ذریعے لیکیوڈٹی آرہی ہے، میوچل فنڈ 100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں کی خریداری کر رہے ہیں، جس سے بازار تیز ہے-

    دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے،دنیا بھر کے اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان دوسرے نمبر پر براجمان ہے،ارجنٹینا پہلے، امریکن ایس اینڈ پی فائیو ہنڈریڈ تیسرے، نیسدک ہنڈریڈ انڈیکس چوتھے نمبر پر ہیں، ٹاپ ٹین میں سنگاپور پانچویں، تائیوان چھٹے نمبر پر ہیں، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور کنیڈا بھی ٹاپ ٹین میں شامل ہیں، دنیا کے بہترین اسٹاک ایکسچنج میں بھارت کا گیارہوں نمبر ہے۔

  • سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    لراچی: ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 3700 روپے بڑھا ہے، نئی قیمت 2 لاکھ 78 ہزار روپے فی تولہ ہو گئی اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 3172 روپے بڑھ جانے سے 2 لاکھ 38 ہزار 340روپے کی سطح پر پہنچ گئی،جبکہ جمعرات کے روز بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 37ڈالر کا اضافہ ہونے سے نئی عالمی قیمت 2668ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت میں بھی آج 200 روپے کا اضافہ ہونے سے نئی قیمت3450 روپے فی تولہ ہو گئی۔

  • پاکستان میں 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چلانے کا ہدف

    پاکستان میں 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چلانے کا ہدف

    وفاقی حکومت نےآئندہ پانچ سال کیلئے الیکٹرک وہیکلز پالیسی 2025-30 جاری کر دی،

    پالیسی کے مطابق پاکستان میں 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں چلانے کا ہدف ہے، سال 2040 تک الیکٹرک گاڑیوں کا مجموعی ہدف 90 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے، ابتدائی پانچ برس میں 3 ارب روپے سرمایہ کاری پر مراعات دی جائیں گی،سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو 50 سال رعایتی لیز پر اراضی دی جائے گی، مخصوص پارٹس درآمد کرنے پر ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کی جائے گی، ملک میں الیکٹرک گاڑیوں سے 2064 تک درآمدی بل میں 64 ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔

    وفاقی وزیر صنعت وپیداوار رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ غیر مقامی پارٹس پر 15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ نئی پانچ سالہ الیکٹرک وہیکلز (ای وی) پالیسی 2025-30 کا مسودہ تمام شراکت داروں کی مشاورت سے تیارکیا گیا ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے الیکٹرک وہیکل متعارف کروانے کے لیے اعلی سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تاکہ الیکٹرک وہیکل پالیسی حتمی کی جا سکے، کوشش ہے کمپنیوں کو زیادہ مراعات دیں تاکہ الیکٹرک وہیکلز کی پیداوار بڑھے آئندہ سال سے ملک میں فور ویل الیکٹرک وہیکلز بننا شروع ہونگی۔

    نئی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک تہائی تک کمی

  • حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معاشی اور تجارتی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت معطل ہونے کے باوجود، بھارت سے درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اکتوبر 2024 میں بھارت سے درآمدات کا حجم 3 کروڑ 58 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گیا، جو کہ اکتوبر 2023 کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں یہ حجم 2 کروڑ 45 لاکھ ڈالرز تھا۔اس سے قبل ستمبر 2024 میں بھارت سے درآمدات میں 45 فیصد اور اگست میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہیں، چاہے سیاسی سطح پر اختلافات کیوں نہ ہوں۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے تھے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک نے زندگی بچانے والی ادویات کی تجارت کی اجازت دی، اور وقت کے ساتھ ان پابندیوں میں نرمی ہوتی دکھائی دی۔

    یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اور علاقائی دباؤ کے تحت حکومتوں کو بعض اوقات سخت فیصلے نرم کرنے پڑتے ہیں۔ بھارت سے درآمدات میں اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ معیشت اور عوامی ضروریات سیاسی کشیدگی پر فوقیت حاصل کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق، اگرچہ تجارت محدود پیمانے پر ہو رہی ہے، لیکن اس کا معاشی اثر دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا آنے والے مہینوں میں یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • وزیراعظم شہباز شریف کا شوگر ملوں، شوگر ڈیلرز کے حوالے سے بڑا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا شوگر ملوں، شوگر ڈیلرز کے حوالے سے بڑا فیصلہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شوگر ملوں، شوگر ڈیلرز کے حوالے سے بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے

    وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ایف بی آر، ایف آئی اے اور آئی بی کو چینی کی فروخت پر ٹیکس چوری، غیر دستاویزی سیلز اور قیمتوں میں اضافے کی روک تھام کیلئے مشترکہ کارروائی کی ہدایت کر دی گئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ ایف بی آر، آئی بی اور ایف آئی اے شوگر سیکٹر میں سیلز ٹیکس کی چوری کے سدباب کو یقینی بنائیں، شوگر کرشنگ سیزن شروع ہو رہا ہے، شوگر ملوں اور ڈیلرز سے جی ایس ٹی کی 100 فیصد وصولی کو یقینی بنایا جائے .

    وزیراعظم نے شوگر ملوں میں کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ اس سے چینی کی ذخیرہ اندوزی نہیں ہو سکے گی اور قیمتوں میں توازن رہے گا،ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث شوگر ملز مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی،کیمروں کے ذریعے شوگر ملوں کے پیداواری عمل اور ذخیرہ اندوزی پر نظر رکھی جائے گی، سیلز ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، وزیراعظم نے شوگر سٹہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی اور کہا کہ اسٹیل، سگریٹ، سیمنٹ اور مشروبات سمیت دیگر شعبوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات کیے جائیں،

  • پاکستان اسٹاک انڈیکس 2025 کے اختتام تک کم از کم 27 فیصد بڑھنے کی پیشگوئی

    پاکستان اسٹاک انڈیکس 2025 کے اختتام تک کم از کم 27 فیصد بڑھنے کی پیشگوئی

    پاکستان اسٹاک انڈیکس 2025 کے اختتام تک کم از کم 27 فیصد بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی ہے
    دو بڑی بروکریج ہاؤسز نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے حوالے سے 2025 کے آخر تک مثبت اہداف جاری کیے ہیں۔پاکستان کے KSE-100 انڈیکس نے 2024 میں عالمی سطح پر دوسرا سب سے بڑا فائدہ حاصل کیا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ سال بھی یہ رجحان جاری رہ سکتا ہے۔ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، 2025 کے آخر تک KSE-100 انڈیکس 94,704 پوائنٹس سے بڑھ کر 127,000 پوائنٹس تک پہنچ سکتا ہے، جو کہ 34 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ اسی طرح، عارف حبیب لمیٹڈ نے 120,000 پوائنٹس کا ہدف دیا ہے، جو کہ 27 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضہ پروگرام کے تحت پاکستانی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنسی کی قدر میں استحکام کی توقعات ہیں۔مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔حکومتی اصلاحات کے اثرات بھی اسٹاک مارکیٹ پر مثبت پڑ سکتے ہیں۔2024 میں KSE-100 انڈیکس دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر رہا، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے اس کی کشش بڑھی۔

    یہ اہداف اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش جگہ بنتی جارہی ہے، خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کے لیے جو طویل مدتی منافع چاہتے ہیں۔ تاہم، ملک کے سیاسی استحکام، معاشی پالیسیاں، اور عالمی مارکیٹ کے رجحانات بھی اس ترقی کو متاثر کر سکتے ہیں۔انڈیکس میں متوقع اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، اور اچھی تحقیق اور مشورے کے بعد ہی سرمایہ کاری کی جانی چاہیے۔

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم  پر عملدرآمد میں خامیاں

    ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد میں خامیاں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو   کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم   پر عملدرآمد کے حوالے سے میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم گول میز مباحثہ منعقد کیا گیا۔ پلڈاٹ کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے زیر اہتمام اس مباحثے میں اہم سٹیک ہولڈر نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، صنعتی شعبے کے قائدین، پالیسی ماہرین اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے تازہ ترین تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا۔

    تقریب کا آغاز مامون بلال، ایڈوائزر پلڈاٹ کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جس کے بعد  انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  طارق جنید نے مذکورہ تحقیق کے کلیدی نتائج پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے صنعتی شعبے کے اندر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عدم تعمیل کے حوالے سے پریشان کن حالات پر روشنی ڈالی۔تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں 2021 میں تین دیگر شعبوں کے ساتھ شروع ہوئیں جن میں سیمنٹ، کھاد اور چینی کے شعبے شامل تھے۔ جولائی 2022 سے ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر کے بغیر سگریٹ کا پیک فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم، حتمی تاریخ گزرنے کے بعد سےاس سسٹم پر عملدرآمد صرف ایک خواب ہی رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ  نے پنجاب اور سندھ کے 11 شہروں میں مارکیٹ پر تحقیق کی جس میں 18 مارکیٹوں میں 40 پرچون فروشوں کی دکانوں  کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس میں کل 720 دکانیں شامل تھیں۔ اس تحقیق کے دو مقاصد تھے؛ فروخت کے وقت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کی صورت حال کا پتہ لگانا اور سگریٹ کے لیے کم از کم طے شدہ قانونی قیمت   پر عملدرآمد کا جائزہ لینا جو ایف بی آر کی طرف سے لازمی ہے۔رپورٹ کے مطابق سروے کیے گئے 264 سگریٹ برانڈ میں سے صرف 19 برانڈ نے اس سسٹم کے مطلوبہ تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جو کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ عملدرآمد نہ کرنے والے برانڈ مارکیٹ کے 58 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے   برانڈ 65 فیصد ہیں جبکہ سمگل شدہ برانڈ 35 فیصد ہیں جو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کی غیر موجودگی سے لے کر قیمتوں یا صحت سے متعلق انتباہ کے ضوابط پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ 197 برانڈ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے کم جبکہ 48 برانڈ اس طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے پائے گئے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر طے شدہ قانونی تقاضوں پر بھی عملدرآمد نہیں کر رہے تھے۔ 19 برانڈ تمام طے شدہ قانونی تقاضوں کے مطابق عملدرآمد کرتے پائے گئے مگر وہ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔

    اس گول میز مباحثے میں سٹیک ہولڈر کو اس سسٹم کے حوالے سے درپیش چیلنجز، پرچون کی سطح پر اس کے نفاذ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور صحت عامہ کی کوششوں پر عدم تعمیل کے مجموعی اثرات پر تفصیل سے تبادلہٴ خیال کرنے کا ایک موقع فراہم کیا گیا۔ کلیدی مقررین میں ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، محمد ظہیر قریشی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سسٹم کے نفاذ کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا۔ تقریب کی صدارت علی پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات نے کی جنہوں نے تمام شعبوں میں اس سسٹم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذکورہ سسٹم کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہتر ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    اس سسٹم پر عملدرآمد کو بڑھانے کے لیے اہم مجوزہ سفارشات:
    گول میز مباحثے کا اختتام قابل عمل سفارشات کے ساتھ ہوا جو مندرجہ ذیل ہیں،عدم تعمیل والے برانڈ تک رسائی کو روکنے کے لیے پرچون فروشوں کی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنایا جائے،خلاف ورزیوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے،صارفین کو تعمیل شدہ مصنوعات کی خریداری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی کی مہمات کا آغاز کیا جائے،

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ