Baaghi TV

Category: کاروبار

  • متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    پاکستان کی وزارت تجارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آم کی برآمدات کے اعداد و شمار قومی اسمبلی میں پیش کر دیے ہیں، جس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

    وزارت تجارت کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان نے یو اے ای کو 159.74 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے ہیں۔ اس دوران، پاکستان نے برطانیہ کو 131.96 ملین ڈالرز، سعودی عرب کو 29.61 ملین ڈالرز، اور قازقستان کو 93.86 ملین ڈالرز مالیت کے آم بھیجے ہیں۔اسی طرح، افغانستان کو 35.98 ملین ڈالرز، عمان کو 39.88 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے گئے۔ وزارت تجارت کے مطابق، اس عرصے کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 63 کروڑ 20 لاکھ 3 ہزار ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے۔رواں مالی سال کے دوران پاکستان نے 30.9 ملین ڈالرز مالیت کے ترشاوہ پھل بھی برآمد کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی آم عالمی منڈیوں میں اپنی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط برآمدی سامان کے طور پر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ اعدادوشمار پاکستان کی زرعی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانی آم دنیا بھر میں اپنی منفرد ذائقہ اور معیار کے باعث پسند کیے جا رہے ہیں۔

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

  • ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری سے قبل پیر کو بٹ کوائن کی قیمت $109,241 کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی نومبر میں ٹرمپ کے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، دسمبر کے اوائل میں پہلی بار بٹ کوائن نے $100,000 کی سطح کو عبور کیا تھا۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کرپٹو کرنسی سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے منصوبے کا اشارہ دے چکے ہیں، ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کے حمایتی پال اٹکنز کو امریکی سیکیورٹیز ریگولیٹر کا سربراہ نامزد کیا ہے جس سے اس امید کو تقویت ملی کہ نئے صدر اس شعبے کو ڈی ریگولیٹ کر دیں گے۔

    ٹرمپ کے بعد ملانیا ڈالر کرنسی بھی لانچ

    ماضی میں کرپٹو کرنسی کو "scam” قرار دینے کے باوجود ٹرمپ نے اس ہفتے کے آخر میں اپنی خود کی کرپٹو کرنسی بھی لانچ کی تھی جسے ٹرمپ ڈالر کہا جاتا ہے، اس کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کئی ارب ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔

    اس سے قبل بٹ کوائن کے تاریخی $100,000 کی سطح پر پہنچنے پر ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا تھا کہ مبارک ہو بٹ کوائنرز!!! $100,000!!! آپ کا استقبال ہے!!! مل کر ہم امریکا کو ایک بار پھر عظیم بنائیں گے-

    ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب کی تصویر بناکر اسے نفرت کا مینار قرار دیدیا گیا

  • ٹرمپ کے بعد ملانیا ڈالر کرنسی بھی لانچ

    ٹرمپ کے بعد ملانیا ڈالر کرنسی بھی لانچ

    واشنگٹن: نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹرمپ ڈالر میم کرنسی کے بعد ان کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ نے بھی اپنی میم کرنسی ملانیا ڈالر لانچ کر دی۔

    باغی ٹی وی:ملانیا ٹرمپ نے اپنی کرپٹو کرنسی کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا ہے اس لانچ کے ساتھ ہی کرپٹو مارکیٹ میں نئی ہلچل پیدا ہوئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے، تاہم یہ میم کرنسیز سرمایہ کاروں کے لیے ممکنہ خطرات بھی رکھتی ہیں۔

    ملانیا نے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دی آفیشل ملانیا میم جاری ہو چکی ہے، آپ ملانیا ڈالر خرید سکتے ہیں، یہ کرنسی سولانا بلاک چین پر تیار کی گئی ہے، جو کہ تیز رفتار اور کم لاگت والے ٹرانزیکشنز کے لیے مشہور ہے اسے سرمایہ کاری کے موقع کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ ملانیا ڈالر کا مقصد ملانیا ٹرمپ کے ساتھ ’رابطہ‘ اور ’سپورٹ‘ فراہم کرنا ہے۔

     

    کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹ،ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا شبہ

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے چند دن قبل لانچ کی گئی ٹرمپ ڈالر کرنسی نے ابتدائی دنوں میں زبردست مقبولیت حاصل کی ہے۔

    کرپٹو کرنسیز کی مشہور ویب سائٹ کوائن مارکیٹ کیپ کے مطابق ٹرمپ ڈالر کی قیمت لانچ کے بعد چند سینٹ سے بڑھ کر 33.87 ڈالرز تک پہنچ گئی تھی، جو کہ 18,000 فیصد سے زائد کا اضافہ ہےبعد ازاں اس کی قیمت میں کمی ہوئی، لیکن یہ اب بھی 48 ڈالرز کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔

    کوائن مارکیٹ کیپ کے مطابق ٹرمپ ڈالر کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 12 بلین ڈالرز ہے، جبکہ ملانیا ڈالر کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 1.7 بلین ڈالرز کے قریب ہےٹرمپ ڈالر کوائن کی لانچ کے بعد ابتدائی چند دنوں میں قیمت میں 18,000 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ ملانیا ڈالر کی لانچنگ کے بعد ٹرمپ ڈالر کی قیمت میں 45 فیصد کمی واقع ہوئی ہےٹرمپ ڈالر کوائن کی قیمت پہلے 76 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، لیکن ملانیا ڈالر کی لانچ کے بعد اس میں زبردست کمی آئی ہے۔

     

    صدر ٹرمپ نے اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کردی

    ڈونلڈ ٹرمپ پہلے کرپٹو کرنسی کو ’فریب‘ قرار دے چکے ہیں، انہوں نے 2024ء کی انتخابی مہم کے دوران کرپٹو کو اپنانا شروع کیا، وہ پہلے صدارتی امیدوار ہیں جنہوں نے کرپٹو کرنسی کو بطور عطیہ قبول کیا ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران وعدہ کیا کہ وہ بٹ کوائن کا ایک اسٹریٹیجک ذخیرہ بنائیں گے اور ان مالیاتی ریگولیٹرز کا تقرر کریں گے جو کرپٹو انڈسٹری کے حق میں ہوں گے۔

    ٹرمپ کی جیت کے بعد بٹ کوائن نے 140,000 ڈالرز کی ریکارڈ قیمت تک پہنچ کر کرپٹو مارکیٹ میں ایک نیا سنگِ میل عبور کیااس پیش رفت سے کرپٹو انڈسٹری کے ماہرین میں امید پیدا ہوئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بائیڈن دور کی سختیوں کو نرم کرے گی، جنہوں نے کرپٹو کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔

     

    یورو اسٹار کی اجارہ داری ختم ، 500 ملین پاؤنڈ کا تیز رفتار ٹرین منصوبہ منظرعام پر آ گیا

    ٹرمپ ڈالر اور ملانیا ڈالر جیسی میم کرنسیز کا حقیقی فائدہ کم ہوتا ہے اور یہ اکثر مزاحیہ یا طنزیہ انداز میں بنائی جاتی ہیں، ان کی قیمت میں تیزی سے اضافہ اور کمی کا رجحان سرمایہ کاروں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے حال ہیں میں سوشل میڈیا انفلوئنسر ہالے ویلچ کو اپنے میم کوائن ہاک ڈالر کی قیمت میں زبردست کمی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    ملانیا ٹرمپ کی ملانیا ڈالر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹرمپ ڈالر کرنسیاں کرپٹو مارکیٹ میں نئی ہلچل کا باعث بنی ہوئی ہیں، جہاں ان کرنسیز نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو بڑھایا ہے، وہیں ان کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے ان کے غیر مستحکم ہونے کی یاد دہانی کرائی ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ ان کرنسیز میں سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق کریں اور ان کے ممکنہ خطرات کو سمجھیں، کیونکہ یہ دھوکا دہی کے واقعات سے بھی منسلک ہو سکتی ہیں۔

     

    ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک کو 90 دن کی مہلت دینے کا اعلان

  • یورپ کے ساتھ پاکستانی برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ

    یورپ کے ساتھ پاکستانی برآمدات میں 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ

    پاکستان کی برآمدات میں رواں مالی سال کے دوران یورپ کے ساتھ 3.8 بلین ڈالر کا قابل ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں اہم کردار پاکستان کے ایس آئی ایف سی کی پالیسیوں اور یورپ میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے پاکستانی مصنوعات یورپی مارکیٹ میں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں، جس کی بدولت برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

    یورپی پارلیمنٹ نے اکتوبر 2023 میں پاکستان کو یورپی یونین کی مارکیٹس میں ڈیوٹی فری رسائی فراہم کرنے کے لیے "جی ایس پی پلس” حیثیت کو 2027 تک بڑھانے کی منظوری دی۔ "جی ایس پی پلس” اسکیم ترقی پذیر ممالک کو یورپی یونین کی مارکیٹ میں ترجیحی رسائی فراہم کرتی ہے اور اس کے تحت کچھ مخصوص مصنوعات پر ڈیوٹی ٹیکس سے استثنیٰ بھی ملتا ہے۔رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں یورپی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں 8.62 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے میں مختلف مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے کو ملا، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، گارمنٹس، کاٹن مصنوعات، کھیلوں کا سامان، مشروبات، سرجیکل آلات اور قالین شامل ہیں۔پاکستان کی یورپ کو برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جب کہ پچھلے سال یہ رقم 3.5 بلین ڈالر تھی۔ برطانیہ، نیدرلینڈز، فرانس اور جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جو پاکستانی برآمدات کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    ایس آئی ایف سی کی کامیاب پالیسیوں نے پاکستانی صنعتوں کو نئی سرمایہ کاری کی ترغیب دی ہے، جس سے ملک کی اقتصادی ترقی کے سفر میں مزید تیزی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت میں بھی بہتری آ رہی ہے۔

    نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح ،کراچی سے پہلی پرواز لینڈ کرگئی

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

  • خیبرپختونخوا میں31 جنوری تک سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا میں31 جنوری تک سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا میں 11 دن کیلئے سی این جی اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا نے صوبے سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے حوالے سے اعلامیہ جاری کردیامحکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صوبے بھر میں کل سے 31 جنوری تک سی این جی اسٹیشنز بند رہیں گے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گھریلو صارفین کو سوئی گیس کے پریشر کی کمی کا سامنا ہے، اس لئے سی این جی اسٹیشن کی بندش کا فیصلہ شدید سرد موسم کے باعث گھریلو صارفین کو مشکلات کے پیش نظر کیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کی سڑکوں اور تمام مراکز صحت کی تعمیر و بحالی کا الٹی میٹم

    اس سے قبل بھی 16 جنوری کو پشاور میں سوئی گیس پریشر میں کمی کے باعث دفعہ 144 کے تحت سی این جی اسٹیشنز کھولنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی 19 جنوری تک سی این جی اسٹیشن بند رہیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ گھریلو صارفین کو سوئی گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، گھریلو صارفین کو سوئی گیس فراہمی کے لیے شہر میں سی این جی اسٹیشنز پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

  • ملک  میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی  اضافہ

    ملک میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ

    کراچی:ملک میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ ہواہے۔

    باغی ٹی وی: آل پاکستان صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت آج دوسرے روز بھی بڑھ گئی، پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1400 روپے کا اضافہ ہو گیا 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 1400 روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 82 ہزار 200 روپے کا ہوگیا جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت بھی 1200 روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 41 ہزار 941 روپے کی سطح پر آگئی،جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 13 ڈالر کا اضافہ ہونے سے نئی عالمی قیمت 2703 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    علاوہ ازیں ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 83 روپے کے اضافے سے 3433 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 71 روپے کے اضافے سے 2943 روپے کی سطح پر آگئی۔

    پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثناء اللہ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، جس کے مطابق عالمی قیمت میں 29 ڈالر فی اونس اور مقامی سطح پر 2900 روپے فی تولہ سونا مہنگا ہوگیا تھا۔

    معاشرتی برائیوں کے خلاف دھرنا ہوا نہ لانگ مارچ،کیوں؟تجریہ۔ شہزاد قریشی

  • کراچی سے وسطی ایشیاء کے لیے تجارتی سامان کا پہلا قافلہ روانہ

    کراچی سے وسطی ایشیاء کے لیے تجارتی سامان کا پہلا قافلہ روانہ

    کراچی: نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور ڈی پی ورلڈ کی جوائنٹ وینچر کمپنی کے ذریعے متعدد تجارتی سامان سے بھرے کنٹینروں کا پہلا قافلہ کراچی سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام دونوں اداروں کے درمیان تاریخی شراکت داری کا نتیجہ ہے اور خطے میں تجارت اور روابط کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

    کراچی میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او، عزت مآب جناب سلطان احمد بن سولیم نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے کارگو سروس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈی پی ورلڈ اور این ایل سی کے سینئر حکام اور معروف کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔جناب سلطان احمد بن سولیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "دونوں اداروں کے درمیان اس اشتراک سے پورے خطے میں رابطوں اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا، "این ایل سی کی خطے میں موجودہ حیثیت اور ڈی پی ورلڈ کی عالمی سطح پر موجودگی سے بے پناہ کاروباری مواقع پیدا ہوں گے، جس سے اقتصادی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔”سلطان احمد بن سولیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس پیشرفت سے کاروبار میں آسانی پیدا ہوگی اور ترسیل کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

    ڈائریکٹر جنرل این ایل سی، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "اس اقدام سے علاقائی تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور خطے کی کاروباری برادری کو بھرپور فائدہ ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا، "ترسیل کا مربوط نظام اور بلا رکاوٹ تجارت پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں مددگار ثابت ہوں گے۔”

    یہ سروس دونوں اداروں کے عزم کا عملی اظہار ہے جو علاقائی تجارت کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی یہ مشترکہ کوشش نہ صرف کاروباری مواقع پیدا کرے گی بلکہ خطے کے اقتصادی منظرنامے کو بھی نئی سمت دے گی۔

    ٹرانس جینڈر ایتھلیٹس کو خواتین اسپورٹس میں شرکت سے روکنے کا بل منظور

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • پاکستان جون تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کا خواہاں ہے،وزیر خزانہ

    پاکستان جون تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کا خواہاں ہے،وزیر خزانہ

    پاکستان اپنی مارکیٹ کو چینی کیپٹل مارکیٹ کے ساتھ مزید ہم آہنگ کرنے کے لیے جون تک پانڈا بانڈز جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں اس بات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا مقصد چینی سرمایہ کاروں سے 200 سے 250 ملین ڈالر اکٹھا کرنا ہے تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

    وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت مصر کی طرز پر یوآن بانڈز کے اجرا کے لیے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک سے مذاکرات کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد چینی سرمایہ کاروں کو مزید راغب کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے نئے راستے کھولنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے بنک گارنٹی حاصل کی جائے گی تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان آنے والے مہینوں میں اپنی کریڈٹ ریٹنگ کو سنگل بی میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت کی جانب سے کئی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کی معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    سی پیک کے اگلے فیز میں چین سے مزید تعاون

    پاکستان نے سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کے اگلے فیز میں چین سے مزید تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس فیز میں سپیشل اکنامک زونز، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید ترقی لانے کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے نجی شعبے اور برآمدی صنعتوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔پاکستان کی حکومت نے چین کی بڑی کمپنیوں کو اپنے برآمدی یونٹس پاکستان منتقل کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ پاکستان کو ایک اہم برآمدی مرکز بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک کے اگلے فیز میں برآمدی صنعتوں کی ترجیح سے پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی میں بھی سہولت ہو گی۔

    پاکستان میں درآمدات پر استوار معیشت کی وجہ سے زرمبادلہ کی کمی اور ادائیگیوں میں عدم توازن کا سامنا ہے۔ تاہم، وزیر خزانہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے حالات میں بہتری آئی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر اعتماد بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔پاکستان ہانگ کانگ سے کاروباری شراکتوں میں اضافہ کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان ہانگ کانگ سٹاک ایکسچینج میں پاکستانی کمپنیوں کی شرکت بڑھانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ اس کے لیے ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی کاچیو سے بات چیت کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔پاکستانی کمپنیوں اور بنکوں کو عالمی سطح پر کیپٹل اکٹھا کرنے کے لیے ہانگ کانگ کی شہرت سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ روایتی طور پر پاکستانی کمپنیوں اور بنکوں نے لندن سٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کی ہے، لیکن اب ہانگ کانگ میں اس موقع کو فائدے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس طرح پاکستان چینی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی معیشت کی مزید استحکام کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔

    سوات کی تائیکوانڈو کھلاڑی عائشہ ایاز کا قلعہ بالا حصار میں فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹر کا دورہ

    دی ایجوکیٹرز فیصل آباد کا فیملی فیسٹیول 2025

  • حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    ایک طرف پاکستان میں مہنگائی بڑھ رہی، غریب خود کشیاں کر رہے تو وہیں حکمران قومی خزانے پر عیاشیاں کر رہے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1010 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی مجموعی لاگت 6 ارب روپے سے زائد ہو گی۔

    ایف بی آر نے گاڑیاں خریدنے کے لیے ایک کمپنی کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا ہے، جس میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری 2 مراحل میں کی جائے گی۔ایف بی آر کے خط کے مطابق، گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی کی جائے گی، اور یہ پیشگی ادائیگی 500 گاڑیوں کی مکمل ادائیگی کے طور پر شمار کی جائے گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلی کھیپ کی ترسیل کے بعد باقی رقم کی ادائیگی کی جائے گی، اور 1010 گاڑیوں کی ڈلیوری جنوری سے مئی 2025 کے دوران مکمل ہو گی۔

    پہلے مرحلے میں جنوری میں 75 گاڑیاں، فروری میں 200 گاڑیاں اور مارچ میں 225 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں اپریل میں 250 گاڑیاں اور مئی میں 260 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ایف بی آر کے ترجمان نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فیلڈ افسران کی استعداد کار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گاڑیاں صرف اور صرف فیلڈ افسران کے استعمال کے لیے ہوں گی۔

    تاریخی کوہالہ پُل پر "کشمیر بنے گا پاکستان” کنونشن کا انعقاد

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

  • وزیراعظم  سے چیف کلکٹر کسٹمز، کراچی زون جمیل ناصر کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیف کلکٹر کسٹمز، کراچی زون جمیل ناصر کی ملاقات

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے چیف کلکٹر کسٹمز کراچی زون، جمیل ناصر نے ملاقات کی، جس میں وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم کی تیاری اور نفاذ کے حوالے سے جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ وزیر اعظم نے اس سسٹم کی کامیاب عمل درآمد پر جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کی محنت اور عزم کو اعلیٰ سطح پر تسلیم کیا۔

    وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم کی تیاری اور نفاذ کے لئے کام کرنے والی ٹیم کے لیے 1.5 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس اقدام سے کسٹم آپریشنز میں شفافیت، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف حکومت کے لئے فائدہ مند نتائج حاصل ہوئے ہیں بلکہ اس سے ملکی معیشت میں بھی بہتری آئی ہے۔

    وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم پاکستان کی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سسٹم ملک میں کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز سسٹم کو عالمی معیار اور فول پروف بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم نظام میں مزید جدت لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس سسٹم کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے اور منصفانہ، شفاف اور مؤثر کسٹم سسٹم کو یقینی بنایا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کسٹم سسٹم میں جدت لانا ضروری ہے تاکہ اس کی کارکردگی اور شفافیت میں مزید اضافہ ہو اور کاروباری برادری کو عالمی سطح پر بہترین سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسٹم سسٹم کی مزید اصلاحات پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک لازمی اقدام ہے۔وزیر اعظم نے اس موقع پر جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ سسٹم پاکستان کے کسٹمز شعبے میں مزید بہتری لانے کا سبب بنے گا۔

    اڑان پاکستان، عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک