خنجراب پاس کو پاکستان، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت کے لیے سال بھر کے لیے فعال بنادیا گیا ۔ یہ اہم سنگ میل آزادی کے 77 سال بعد پہلی بارعبور کیا گیا.خنجراب پاس سے مشینری، ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس اور اشیاء خورد و نوش سمیت دیگر تجارتی سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے، جو ہمسایہ ممالک کی معاشی ترقی کے لئے نہائت اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران، پاکستان نے اس راستے کو وسطی ایشیائی ریاستوں خصوصاً تاجکستان، کرغزستان اور قازقستان کو صنعتی اور زرعی مصنوعات کی ترسیل کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ خنجراب پاس کے سال بھر کھلنے سے چین، پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) نے سوست ڈرائی پورٹ پر سرحد پار تجارت کے لئے جامع اقدامات اٹھائے ہیں جن میں حکام اور تاجر برادری کے لئے سینٹرل ہیٹنگ سسٹم کی تنصیب اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ ان سہولیات کا مقصد سال بھر تجارتی سرگرمیوں کو خوش اصلوبی سے سر انجام دینا ہے
Category: کاروبار
-

فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال
جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ’’ای جی میٹال‘‘ نے جرمن کارساز کمپنی فوکس واگن کی جرمن فیکٹریوں کے ہزاروں ملازمین، ملازمتوں میں کمی کے منصوبے کے خلاف پیر دو دسمبر کو ہڑتال کی-
باغی ٹی وی: ووکس ویگن کے ہزار وں کارکنوں نے بڑھتے ہوئے صنعتی تنازعہ میں پیر کو ہڑتال کر دی، یونینوں نے خبردار کیا کہ بحران سے متاثرہ جرمن آٹو کمپنی بڑے پیمانے پر چھانٹی اور فیکٹریاں بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یونین ذرائع نے بتایا کہ صبح کی شفٹوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے دو گھنٹے تک ہڑتال کی، جب کہ شام کی شفٹ میں کام کرنے والوں نے کار ساز کے مطالبات، جس میں اجرت میں 10 فیصد کٹوتی بھی شامل ہے، پر احتجاج کرتے ہوئے جلد کام چھوڑنے کا ارادہ کیا، وولفسبرگ میں ووکس ویگن کے مرکزی پلانٹ میں، جس میں 70,000 افراد کام کرتے ہیں، دو گھنٹے کی ہڑتال کا مطلب ہے کہ کئی سو کاریں نہیں بن سکتیں-
جرمنی کا دیو پیکر کارساز ادارہ فوکس واگن شدید بحران سے دوچار ہے رواں سال ستمبر میں ہونے والے اس اعلان کے بعد کہ جرمنی میں اس کے متعدد پلانٹس کو بند کر دیا جائے گا، ٹریڈ یونینوں اور فوکس واگن کمپنی کے سرمایہ کاروں کے مابین سخت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ جرمنی کے اندر فوکس واگن کے پلانٹس کو بند کرنے کے منصوبے سے براہ راست ایک لاکھ بیس ہزار ملازمین متاثر ہو سکتی ہیں۔
یہ پہلی بار ہے کہ کمپنی نے اپنی 87 سالہ تاریخ میں جرمنی میں فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکی دی ہے کیونکہ یورپی مینوفیکچررز غیر ملکی مسابقت، اعلی پیداواری لاگت اور براعظم میں الیکٹرک گاڑیوں کی سست رفتاری سے لڑ رہے ہیں۔
یورپ میں وی ڈبلیو کاروں کی فروخت میں کمی آئی ہے کیونکہ ڈیمانڈ اسٹالز اور صارفین پیٹرول موٹرز میں دلچسپی لے رہے ہیں،عالمی سطح پر، سال کے پہلے تین مہینوں میں فروخت میں تین فیصد کی کمی واقع ہوئی کیونکہ پٹرول موٹروں کی فروخت میں چار فیصد اضافہ ہوا۔
Stellantis – جو Vauxhall کا مالک ہے نے اس ہفتے کے شروع میں مینڈیٹ کو مورد الزام ٹھہرایا جب اس نے لوٹن میں اپنی وین فیکٹری کو بند کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس سے 1,100 ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں۔ چیف ایگزیکٹیو کارلوس ٹاویرس نے اتوار کے روز اچانک استعفیٰ دے دیا جب گروپ اس سال اپنی قیمت کا تقریباً 40 فیصد کھو دیا-
فورڈ کے یوکے بازو کے باس نے گزشتہ ماہ کے آخر میں خبردار کیا تھا کہ برقی کاروں کی مانگ میں زبردست کمی کی وجہ سے برطانیہ کی کار انڈسٹری بحران کا شکار ہےفورڈ یو کے کی چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر لیزا برینکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دلچسپی کو بڑھانے کے لیے فوری طور پر ‘مراعات’ متعارف کروائیں۔
یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی کے بحران نے جرمنی کو اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیاسی ہلچل کے ساتھ ساتھ خطے کے کار ساز اداروں کے درمیان وسیع تر انتشار کے وقت متاثر کیا ہے۔
جرمن زبان میں ”فوکس واگن‘‘ سے مراد عوامی گاڑی ہے، اس موٹر کار کا معیار اور اس کی پائیداری کی ضمانت یہ تھی کہ جرمنی کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی یہ بہت زیادہ استعمال ہونے والی گاڑی سمجھی جاتی رہی ہے، اب اس کار ساز ادارے کو سب سے بڑی زک جو پہنچی ہے اُس کا تعلق جرمنی کے اندر اس پر آنے والی بلند پیداواری لاگت ہے، دوسری جانب الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیز رفتار اضافہ اور کلیدی مارکیٹ چین کے ساتھ سخت مقابلہ فوکس واگن کو پہنچنے والے سخت نقصانات کی اہم ترین وجوہات ہیں۔
جرمنی کی آٹو موٹیو انڈسٹری واحد صنعت نہیں ہے جو توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور زیادہ اجرتوں جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہے، فوکس واگن کو گھر میں اعلیٰ پیداواری لاگت، الیکٹرک گاڑیوں میں ہنگامہ خیز تبدیلی اور کلیدی مارکیٹ چین میں سخت مقابلے کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے چین کا عالمی معیشت میں بدلتا ہوا کردار اور ایک حریف، ایک سخت مدمقابل ہونا جرمن معیشت کے لیے بڑے چیلنجز کا سبب بنا ہے۔
جرمنی کے معروف کار مینوفیکچررز کی گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار سے یہ صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ محض سال رواں کی پہلی ششماہی کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ فوکس واگن کی فروخت میں 14 فیصد، بی ایم ڈبلیو کی فروخت میں 15 فیصد اور مرسیڈیز بینز کی فروخت میں 16 فیصد کی کمی آئی ہے۔
گزشتہ ماہ یونین اور فوکس واگن کی ورکس کونسل نے کئی تجاویز پیش کیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ موٹر سازی کی فیکٹریوں یا سائٹس کی بندش کے بغیر لیبر کاسٹ یا مزدوری کے اخراجات میں 1.5 بلین یورو (1.6 بلین ڈالر) کی بچت ممکن ہے، ان میں انتظامیہ اور عملے کے لیے بونس ختم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
یونین نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کچھ فیکٹریوں میں کام کے گھنٹے کم کرنے کے بدلے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ بھی ختم کر سکتی ہےتاہم فوکس واگن نے کہا کہ ان تجاویز سے قلیل المدتی بنیادوں پرمدد مل سکتی ہے،مگر یہ معاشی مسائل کا طویل المدتی حل نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی کمپنی کو اس سے ریلیف ملے گا۔
فوکس واگن کے اس رویے کو جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ”ای جی میٹال‘‘ نے ”افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر ”ملازمین کے نمائندوں کی تعمیری تجاویز کو نظر انداز کرنے‘‘ کا الزام لگایا۔
واضح رہے کہ جرمنی میں آٹوموٹیو سیکٹر ہی یورپ کی اقتصادی شہ رگ سمجھے جانے والے اس ملک کی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے پچھلے سال جرمنی نے 273 بلین یورو مالیت کی کاریں برآمد کیں جرمنی کی برآمدات میں موٹر گاڑیوں کا حصہ 17 فیصد سے زیادہ ہے، اس کے بعد مشینری، کیمیکل، الیکٹرانکس، دوا سازی، دھاتیں اور دیگر مصنوعات ہیں، اس کے علاوہ جرمن گاڑیوں کی فیکٹریا ں اندرون ملک کئی شہروں اور دیہات میں واقع ہیں اور ان علاقوں میں رہنے والوں کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ ہیں۔
-

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا-
باٹی وی : حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 72 پیسے اضافہ کر دیا ، پیٹرول کی نئی قیمت 252 روپے 10 پیسے ہوگئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 29 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 12 بجے سے ہو گیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 روز کیلئے کیا گیا ہے۔
-

احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان
اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ دنوں ہونے والے سیاسی احتجاج اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد اقتصادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں حکومتی محصولات میں 160 ارب روپے تک شارٹ فال ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ملک بھر میں سیاسی حالات کی وجہ سے پانچ دن تک اقتصادی سرگرمیاں معطل رہیں، جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اپنے مقرر کردہ محصولات کے ہدف کو پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا نومبر تک محصولات جمع کرنے کا مجموعی ہدف 1003 ارب روپے تھا، تاہم اب تک صرف 700 ارب روپے ہی اکٹھے کیے جا سکے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اگر ایف بی آر کو 160 ارب روپے کا شارٹ فال ہو گیا تو پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران ہونے والے 189 ارب روپے کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ ماہ کے مجموعی شارٹ فال کی رقم 349 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور لاک ڈاؤن کے اثرات قومی خزانے پر سنگین نوعیت کے پڑ رہے ہیں، اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اس بات سے پریشان ہیں کہ بند پڑی اقتصادی سرگرمیوں کے باوجود کس طرح زیادہ سے زیادہ محصولات جمع کیے جا سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ایف بی آر کی بھرپور کوششوں کے باوجود زیادہ سے زیادہ 840 سے 850 ارب روپے جمع کیے جا سکیں گے، جس کا مطلب ہے کہ متوقع خسارہ 150 سے 160 ارب روپے کے درمیان ہوگا۔ایک سرکاری عہدیدار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "لاک ڈاؤن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی کال کے نتیجے میں ملک بھر میں اقتصادی سرگرمیاں رکنے کی وجہ سے حکومتی ریونیو میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔”
اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کیسے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی مالیاتی ڈیل کو برقرار رکھتے ہوئے اس خسارے کو پورا کرے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں حکومت کے لیے مطلوبہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف قومی خزانے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے بلکہ حکومت کے لیے آئی ایم ایف سے امداد حاصل کرنے میں بھی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جس کے اثرات ملک کی معیشت پر گہرے ہو سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات
سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب
پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب
احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں
پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں
مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار
شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ
مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ
انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا
پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف
-

پاکستان کے معاشی استحکام میں ایس آئی ایف سی کا نمایاں کردار
پاکستان میں معاشی استحکام اور سروسز ایکسپورٹ کی ترقی کے لئے ایس آئی ایف سی کا کردار نہایت اہم ثابت ہو رہا ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ میں 6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 1 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس ترقی کی بنیادی وجہ خاص طور پر آئی ٹی شعبہ کی نمایاں ترقی ہے، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ میں اضافہ کا ایک بڑا حصہ آئی ٹی مصنوعات کی برآمد سے آیا ہے، جن میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ویب ڈویلپمنٹ، موبائل ایپلیکیشنز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی خدمات شامل ہیں۔ ان شعبوں میں ترقی کی وجہ سے پاکستان کی عالمی سطح پر سروسز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔
پاکستان میں فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حکومت نے ان کے لئے نئے مواقع فراہم کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس ضمن میں ایک نیا فری لانسنگ فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت فری لانسرز کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنا اور رقم کو آسانی سے برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔ اس اقدام سے فری لانسرز کو عالمی مارکیٹ میں اپنی خدمات کی فراہمی میں مزید سہولت ملے گی اور وہ بہتر طریقے سے اپنی آمدنی کا انتظام کر سکیں گے۔
ایس آئی ایف سی نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایس آئی ایف سی نہ صرف سروسز ایکسپورٹ کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہے بلکہ اس کے ذریعے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کی جانب سے آئی ٹی اور دیگر سروسز سیکٹر کے لیے مالیاتی معاونت، تربیتی پروگرامز، اور بین الاقوامی مارکیٹس تک رسائی کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔پاکستان میں سروسز ایکسپورٹ کا بڑھتا ہوا حجم، خاص طور پر آئی ٹی کے شعبہ میں ہونے والی ترقی، معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اسی طرح کی اصلاحات اور اقدامات جاری رہیں تو پاکستان عالمی سطح پر سروسز ایکسپورٹ کے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا ہے، جو ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف
پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات
سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب
پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب
احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں
پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں
مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار
شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ
مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ
انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا
-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج ،100انڈیکس ایک لاکھ سےزائد پوائنٹس عبورکرگیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ،100انڈیکس ایک لاکھ سےزائد پوائنٹس عبورکرگیا
اسٹاک ایکسچینج 790 پوائنٹس کی تیزی سے 1 لاکھ پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبورکرگیا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 1233پوائنٹس کا اضافہ ہوا،کاروبارکے دوران انڈیکس ایک لاکھ 502پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھاگیا، 28 نومبر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں گولڈن ڈے بن گیا،نومبر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں ریکارڈ کامہینہ ثابت ہوا،معاشی اشارے بہتر ہونے سے مارکیٹ میں سرمایہ کارسرگرم ہیں
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس کے 1 لاکھ پوائنٹس سے تجاوز پر پوری قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ اسٹاک ایکسچینج کا تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ پوائنٹس سے تجاوز کرنا حکومتی پالیسیوں پر کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے بھروسے کی عکاسی کرتا ہے.اس سنگ میل کو عبور کرنے کیلئے حکومتی معاشی ٹیم اور ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے مصروف عمل حکام لائق تحسین ہیں.اپنی قوم سے عہد کیا تھا کہ ملکی معاشی استحکام اور ملکی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھاؤنگا. پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے اپنی سیاست کی قربانی دی، اللہ کے فضل و کرم سے قربانی رائیگاں نہیں گئی. ملکی استحکام و ترقی کے دشمن ملک کو دوبارہ ڈی ریل کرنے کی مزموم و ناکام کوششیں کر رہے ہیں. ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی ہوئی ہے، شرح سود 15 فیصد اور ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے. ملکی ترقی کیلئے یونہی محنت کرتے رہیں گے. ملکی ترقی و خوشحالی کے دشمنوں کو اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دینگے.
ہر تاریخی کام، ہر ریکارڈ مسلم لیگ ن کے دور میں ہوتا ہے.وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نےسٹاک مارکیٹ کے1 لاکھ پوائنٹس کی تاریخی حد عبور کرنے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ الحمداللہ۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج نئی تاریخ رقم ہوئی. پاکستان سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین پرفارمنگ ایکوئٹی مارکیٹ کادرجہ حاصل کر چکی. ہر تاریخی کام، ہر ریکارڈ مسلم لیگ ن کے دور میں ہوتا ہے. وزیر اعظم شہباز شریف اور انکی معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں. سٹاک مارکیٹ کا 1لاکھ پوائنٹس عبور کرنا معیشت پر بڑھتے اعتماد کا واضح ثبوت ہے.یہ ریکارڈسرمایہ کاروں کے اعتماداورحکومتی دانشمندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے.سرمایہ کاروں کا اعتماد دلیل ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے.وزیر اعظم شہبازشریف کی پالیسیاں عالمی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش ثابت ہورہی ہیں، -

پاکستان میں نئی ائیر لائن بنانے کا اعلان
کراچی: تاجر برادری کی جانب سے نئی ایئرلائن بنانے کا اعلان کیا گیا ہے-
باغی ٹی وی : ’ایئر کراچی‘‘ کے نام سے نئی فضائی کمپنی کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے متعارف کرائی جا رہی ہے نئی ایئر لائن کے نام ’’ایئر کراچی‘‘ کو ایس ای سی پی نے بھی رجسٹرڈ کرلیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدرحنیف گوہر نے بتایا کہ ایئر کراچی کے لائسنس کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست ارسال کردی گئی ہے، ایئر کراچی کے لیے پہلے مرحلے میں 3 طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے،ائیر کراچی میں سی او کے منصب پر سدرن کمانڈر ائیر وائس مارشل عمران کو مقرر کیا گیا ہے جب کہ عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، ایس ایم تنویر ، بشیر جان محمد ، خالد تواب، زبیر طفیل ،حمزہ تابانی ایئر کراچی کے شئیر ہولڈرز ہیں۔
حنیف گوہر نے بتایا کہ نئی فضائی کمپنی کا لائسنس چند دنوں میں حاصل ہونے کے قوی امکانات ہیں، ائیر کراچی 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے شروع کی جارہی ہے، جس میں فی شیئر ہولڈرز کا حصہ 5 کروڑ روپے ہے۔
-

سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 3357 پوائنٹس کا بڑا اضافہ
کراچی: سٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کاروبار کے آغاز پر پاکستان سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 3357 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس 98 ہزار 160 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی آغاز ہوا، سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 541 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے انڈیکس 97 ہزار 538 کی سطح پر آ گیا،بعدازاں ایک بار پھر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھنے کو ملی اور پھر 100 انڈ یکس 99 ہزار کی حد عبور کر گیا، ایک موقع پر کاروبار کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1642 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 99 ہزار 820 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے اختتام پر سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے کو ملی اور 100 انڈیکس میں 3506 پوائنٹس کی کمی ہو گئی جس کے بعد سٹاک مارکیٹ منفی زون میں 94 ہزار 181 پوائنٹس پر بند ہوئی۔
-

پاکستانی آٹو انڈسٹری میں نمایاں بہتری، سرمایہ کاری اور فروخت میں شاندار اضافہ
پاکستانی آٹو انڈسٹری میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ صنعت میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ مختلف گاڑیوں کی فروخت میں شاندار اضافہ ہوا ہے، جس نے نہ صرف صنعت کو فروغ دیا بلکہ صارفین کا اعتماد بھی بحال کیا ہے۔
مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 46.7 فیصد، ٹرک اور بسوں کی فروخت میں 82 فیصد بہتری دیکھنے میں آئی،جیپوں اور پک اپ گاڑیوں کی خریداری میں 60 فیصدبہتری ہوئی،موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں 23.4 فیصد اضافہ ہوا،ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں، جس کی مانگ میں شاندار بڑھوتری دیکھنے کو ملی، سود سے پاک فنانسنگ کی بدولت صارفین اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے،ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے نئے ماڈلز سے آٹو سیلز میں مزید اضافہ متوقع ہے
پاکستان میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروائی گئی ہیں، جن کی مانگ میں شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی مثبت اثر ڈال رہی ہے۔صارفین اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں سود سے پاک فنانسنگ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس سہولت نے عام آدمی کے لیے گاڑیاں خریدنا آسان بنا دیا ہے۔ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے پاکستان کی آٹو انڈسٹری نہ صرف مقامی طلب کو پورا کر رہی ہے بلکہ عالمی معیار کی جانب بھی گامزن ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی ترقی اور صارفین کے لیے سازگار پالیسیاں اس شعبے کو مزید بلندیوں تک لے جا سکتی ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا، تو پاکستانی معیشت میں آٹو انڈسٹری کا حصہ مزید مستحکم ہوگا۔
پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”
عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن
پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا
عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی
پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد
پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں
-

بیری کے شہد کی پہلی کھیپ خیبرپختونخوا سے ملائیشیا پہنچ گئی
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کی زرعی برآمدات کی عالمی سطح پر نئی پہچان دیکھنے میں آئی ہے
بیری کے شہد کی پہلی کھیپ خیبرپختونخوا سے ملائیشیا جا پہنچی ،پاکستانی شہد کی برآمدات کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے وزارتِ تجارت پرعزم ہے،کوالالمپور میں پاکستانی ہائی کمیشن کا پاکستانی اور ملائیشین کمپنیوں کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے میں اہم کردار ہے،خیبرپختونخوا سے 20,000 ٹن سالانہ شہد کی پیداوار سے پاکستان عالمی منڈی میں شہد کا قابل اعتماد سپلائر بن گیا،خیبرپختونخوا میں 60,000 شہد کے فارمز، 16 لاکھ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، شہد کی مکھیوں کے کلسٹرز اور پراسیسنگ سہولیات میں سرمایہ کاری کیلئے ماہرین سے مشاورت کی گئی ہے،پاکستان میں شہد کی برآمدات بڑھانے کے لیے ” ہنی بورڈ ” کے قیام کی تجویز دی گئی ہے،ایس آئی ایف سی پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے پیش پیش ہے،
پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا
عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی
پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد
