Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ

    کراچی: عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز عالمی سطح پر فی اونس سونے کی قیمت میں 31 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد سونے کی قیمت 2693 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔

    عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا۔ 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 280500 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2658 روپے کا اضافہ ہوا، اور اس کی قیمت 240484 روپے کی سطح پر جا پہنچی۔اسی دوران، چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 3450 روپے پر پہنچ گئی۔ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 42.86 روپے کے اضافے سے 2957.81 روپے تک جا پہنچی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا ہے، اور اس کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی معیشت اور سیاسی صورتحال بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اس اضافے کے بعد لوگوں کو اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے دوبارہ سے دیکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

  • پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    پاکستان کی معیشت میں گزشتہ سال کے دوران قابلِ ذکر بہتری آئی ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے چوتھے سہ ماہی کے سروے کے نتائج میں ہوا ہے۔ اس سروے کے مطابق پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، اور عوام کی اقتصادی حالت پر اعتماد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے چوتھے سہ ماہی کے سروے کے نتائج کے مطابق، پاکستان میں اقتصادی بہتری پر اُمید میں 19 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بدستور تیزی کا رجحان برقرار ہے، اور چوتھی سہ ماہی کے دوران کئی اقتصادی ریکارڈز بھی قائم ہوئے ہیں۔ سروے کے مطابق، پاکستان میں ستمبر 2023 کے بعد اقتصادی حالت کو مضبوط قرار دینے والے افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔2024 میں پاکستان میں مہنگائی ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جس سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی طرح، مقامی معیشت کے حوالے سے 19 فیصد افراد اگلے 6 ماہ میں اقتصادی بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔ پاکستان میں کمزور اقتصادی حالات کا تاثر 9 فیصد کم ہوا ہے، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں معیشت کے حوالے سے پُر امیدی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اس سروے کے ایک اور اہم پہلو میں پاکستان نے ترکیہ کو عالمی صارف اعتماد کے انڈیکس میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ امر پاکستان کی معیشت کے استحکام کی جانب اشارہ کرتا ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر سمجھا جا رہا ہے۔سروے کے مطابق، پاکستانیوں کی گھریلو خریداری کی صلاحیت میں 6 پوائنٹس کی بہتری آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی افراد کی مالی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ مزید برآں، پاکستانیوں کا مقامی اقتصادی حالات پر اعتماد 20 فیصد بڑھا ہے، جبکہ عدم اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ملازمت کے تحفظ پر اعتماد میں مسلسل استحکام دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کو اپنی ملازمتوں کے بارے میں مزید اعتماد حاصل ہو رہا ہے، جو کہ ایک مثبت اقتصادی اشارہ ہے۔

    یہ سروے اپسوس گلوبل کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کا حصہ ہے، جو ایک عالمی سطح پر اہم سروے مانا جاتا ہے۔ یہ انڈیکس صارفین کے معاشی حالات اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے، اور عالمی سطح پر ممالک کی اقتصادی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس انڈیکس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک مثبت راستے پر گامزن ہے، اور مستقبل میں مزید ترقی کی امید ہے۔

    پاکستان کی معیشت کے حوالے سے حالیہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے نتائج نے عوام میں پُر امیدی کی لہر پیدا کی ہے۔ معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی، اور عوامی اعتماد میں اضافہ یہ سب اشارے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کی جانب گامزن ہے اور عالمی سطح پر اس کی اقتصادی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔ ان مثبت رجحانات کے جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کی معیشت 2024 اور اس کے بعد مزید ترقی کر سکتی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، سیکرٹری داخلہ کا جواب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے چائنامیوزیم آمد

    تنقید نہیں جمہوری حمایت کرو، پاکستان کا امریکہ سےمطالبہ

    مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

  • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں  مزید اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ

    کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں آج مزید اضافہ ہواہے۔

    باغی ٹی وی: آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 77 ہزار 400 روپے ہوگئی ہے ایسوسی ایشن کے مطابق 10گرام سونے کا بھاؤ 858 روپے اضافے سے 2 لاکھ37 ہزار 826 روپے ہے،دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 10 ڈالر اضافے سے 2662 ڈالر فی اونس ہے۔

    جبکہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3400 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2914.95روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

  • ماہرین معیشت نے سول نافرمانی کو ملک سے غداری قرار دے دیا

    ماہرین معیشت نے سول نافرمانی کو ملک سے غداری قرار دے دیا

    ماہرین معیشت نے سول نافرمانی کو ملک سے غداری قرار دے دیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر احمد چنائے کا کہنا ہے کہ سول نافرمانی ملک سے غداری ہے، ملک بہتری کی جانب گامزن ہے۔آل کراچی سٹی تاجر اتحاد کے صدر حماد پونے والا نے کہا کہ پروپیگنڈا چلایا جایا رہا ہے، جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہے۔راول انسٹیٹیوٹ ہیلتھ سائنسز کے چیئرمین خاقان خواجہ نے کہا کہ سول نافرمانی ملک کے حق میں نہیں۔ماہر معیشت چوہدری اکمل نے کہا کہ کمپین نے انارکی جیسا محول پیدا کر دیا، ریمیٹنسز کم ہوں گی تو زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ پڑے گا۔آل پاکستان انجمنِ تاجران کے صدر جاوید ارسلا خان نے کہا کہ معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔ روات انڈسٹریل بورڈ کے چیئرمین چوہدری ندیم نے کہا کہ سول نافرمانی سے نقصان ہوگا۔ایف سی سی آئی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین زاہد حسین نے کہا کہ دھرنے کی سیاست غلط ہو گی، قوم اکھٹے ہو کر مذموم ایجنڈے کا بائیکاٹ کرے۔ آئرن اسٹیل ملز کے صدر آصف مارفانی نے کہا کہ معیشت کو بہتر کر سکتے ہیں۔

    گورنر ہائوس کراچی میں سندھ کلچرل فیسٹیول کا انعقاد

    کراچی میں 2 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

    وزیراعلی سندھ سے مشیر اطالوی وزارت دفاع کی وفد سمیت ملاقات

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج،100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج،100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایک نیا تاریخی سنگ میل عبور کیا گیا ہے، جب 100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار کی سطح تک پہنچ گیا۔ یہ کامیابی مارکیٹ میں ہونے والی تیزی اور سرمایہ کاروں کی اعتماد کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

    پیر کو کاروبار کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 678 پوائنٹس کی کمی آئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 109375 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم، کاروبار کے دوران مارکیٹ میں بہتری آئی اور انڈیکس میں تیزی دیکھنے کو ملی۔کاروبار کے دوران انڈیکس میں اضافہ ہوا، اور کچھ ہی دیر بعد انڈیکس 109868 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد مارکیٹ نے ایک اور نیا ریکارڈ بنایا اور انڈیکس میں مزید اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 1044 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 10 ہزار 98 تک جا پہنچا۔ یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوا۔

    سال 2024 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے، اور اب تک 100 انڈیکس میں 70 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس زبردست اضافہ نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو حیران کن طور پر متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترقی ملک کی معیشت میں بہتری اور کاروباری ماحول کی استحکام کی علامت ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی اس شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے امید کی جا رہی ہے کہ ملک کی معیشت میں مزید بہتری آئے گی، اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج آنے والے دنوں میں مزید ترقی کرے گا۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، کیونکہ یہ انہیں مثبت سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتی ہے۔اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری ترقی کا اثر ملکی معاشی استحکام، حکومت کی پالیسیوں اور بیرونی سرمایہ کاری پر بھی پڑے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ 2024 کے باقی حصے میں مارکیٹ اسی رفتار سے ترقی کرے گی۔

  • سیلز ٹیکس کی چوری سے  کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔وزیر خزانہ

    سیلز ٹیکس کی چوری سے کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس کی چوری سے ملک میں کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔

    کراچی میں اوورسیز چیمبرز آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی مفید پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں بہتر زرِ مبادلہ کما رہی ہیں اور یہ کمپنیاں عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے گزشتہ سال 2.2 ارب ڈالر کا منافع بیرون ملک بھیجا ہے۔وزیر خزانہ نے ان کمپنیوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنی ایکسپورٹ بڑھائیں، کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر کو معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ "پرائیویٹ سیکٹر نے ہی معیشت کو لیڈ کرنا ہے،”

    محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے "میڈ ان پاکستان” مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال میں 35 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر کا امکان ہے، جو کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اچھا اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس لگانے کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور اس سلسلے میں 900 سے زائد جعلی پیٹرول پمپس کو سیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ ملک کے خزانے کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سیلز ٹیکس چوری سے ملکی کاروباری ماڈلز میں استحکام نہیں آ سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس چوری کے باعث گزشتہ 6 برسوں میں حکومت کو 6 ٹریلین روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیلز ٹیکس کی چوری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو معیشت کی ترقی متاثر ہو گی۔  اداروں کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ یہ قومی معیشت کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی اس گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت معیشت کی مضبوطی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، بشمول کاروباری ماحول میں اصلاحات، سیلز ٹیکس چوری کے خلاف کریک ڈاؤن، اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی

    ایک طویل عرصے تک پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدہ تعلقات میں اب خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے

    5 اگست کو بھارتی کٹھ پتلی حسینہ واجد کی حکومت کا عوامی انقلاب سے خاتمہ اور عبوری حکومت کا قیام بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے،پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اوربراہ راست ہوائی سفر طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھا،اب بنگلہ ڈیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر ایس ایم محبوب عالم نے اعلان کیا ہے کہ ” دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں شروع ہوں گی، جس سے تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا” ”حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرس اینڈ سمال انڈسٹری کے تعاون سے دونوں ممالک کے درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کے لیے نمائش منعقد کی جائے گی”

    ایس ایم محبوب عالم نے پاکستان کی کاروباری برادری کو جنوری 2025 میں ڈھاکہ میں ہونے والی تجارتی نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے،اور کہا کہ ”بنگلہ دیش 80 ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے”

    حیدرآباد چیمبر کے صدر محمد سلیم میمن نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تجارتی تعلقات میں اہم پیشرفت پر روشنی ڈالی،اس موقع پر حیدر آباد چیمبر کے صدر نے 11 نومبر کو پاکستان سے بنگلہ دیش کیلئے پہلی براہ راست کارگو کا بھی ذکر کیا،حیدرآباد چیمبر کے صدرنے بنگلہ دیشی تاجروں کو پاکستان میں نمائشوں میں شرکت کی ترغیب دی اور کہا کہ ”پاکستانی تاجروں کو بنگلہ دیش میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیاجائے”محمد سلیم میمن نے ڈھاکہ میں پاکستانی مصنوعات کے برآمد کنندگان کو درپیش کسٹم کلیئرنس کے مسائل کی نشاندہی کی اور ان کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ”پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کی بہتری سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھے گا””پاکستان سے براہ بنگلہ دیش کی پروازوں سے دونوں ممالک کی تاجر برادری فائدہ اٹھا کر کاروبار کو وسعت دی سکتی ہے”

  • پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار ،100 انڈیکس ایک لاکھ8 ہزار 238  پوائنٹس پر بند

    پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار ،100 انڈیکس ایک لاکھ8 ہزار 238 پوائنٹس پر بند

    کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، بینچ مارک 100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز 100 انڈیکس میں دن کا آغاز ایک لاکھ 5 ہزار 104 پوائنٹس سے ہوا کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس مجموعی طور پر 3 ہزار 134 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ8 ہزار 238 پوائنٹس پر بند ہوا، آج کاروبار کے دوران 100 انڈیکس نے نئی بلند ترین سطح ایک لاکھ 8 ہزار 345 پوائنٹس بنائی-

    بازار میں آج 1.64 ارب شیئرز کے سودے 63 ارب روپے میں طے ہوئے جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 388 ارب روپے اضافے سے 13 ہزار 745 ارب روپے ہے،بازار میں آج مسلسل چوتھے روز ایک ارب سے زائد شیئرز کے سودے ہوئے ہیں، گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس نے ایک لاکھ 5 ہزار کا ہندسہ عبور کیا تھا۔

    دوسری جانب عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک روز بعد دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے۔

    جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ زیر اثر ملک میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 500 روپے بڑھ کر 2 لاکھ 75 ہزار 700 روپے ہوگئی جبکہ 10 گرام سونے کا بھاؤ 428 روپے اضافے سے 2 لاکھ 36 ہزار 368 روپے ہوگئے،جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 5 ڈالر بڑھ کر 2645 ڈالر ہوگئی۔

    علاوہ ازیں انٹربینک میں ڈالر سستا ہونے سے روپے کی قدر میں بہتری آنے لگی ہے،کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹر بینک میں امریکی کرنسی مزید 12 پیسے سستی ہوئی ہے، جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر 277 روپے 92 پیسے سے کم ہو کر 277 روپے 80 پیسے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

  • وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معاشی صورتحال اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔اجلاس کو ایف بی آر کی ڈیجیٹائز یشن میں پیشرفت بارے بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ ایف بی آر کی ویلیو چین کی ڈیجیٹائز یشن سی متعلق تمام کام مارچ 2025 تک مکمل ہو جائے گا،شوگر انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے ،سیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کے حوالے سے ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے ،وزیراعظم نےسیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئے سسٹم ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے،چھوٹے کاروباروں کی ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے موبائل فون ایپلی کیشن اس مہینے کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی،پرآل کا نیا بورڈ تشکیل دیا جا چکا ہے ،پرآل کا ہارڈ ویئر اور ڈیٹا سینٹر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے،فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ کے حوالے سے سینٹرل اسیسمینٹ یونٹ کراچی میں قائم کیا جا چکا ہے جو کہ 31 دسمبر 2024 سے کام کا آغاز کر دے گا

    وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اہم معاشی اصلاحات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے،وزیراعظم نےمحصولات میں اضافے کے لیے ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی پر زور دیا اور کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ ،چئیر مین ایف بی آ ر، سیکریٹری خزانہ کی کوششیں لائق تحسین ہیں،معاشی ٹیم کی کوششوں کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں ، فسکل اسپیس بڑھنا خوش آئند ہے

    وزیراعظم نے ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے محصولات کے نفاذ اور اس حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی پر عملدرآمد کے حوالے سے سخت اقدامات کی ہدایت کی،وزیراعظم نے ایف بی آر ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے اہم کاموں کو 31 دسمبر 2024 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسمگل شدہ ایندھن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے، پاکستان کی پیٹرولیم کی فروخت نومبر 2024 میں 25 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 1.58 ملین ٹن تک رہی کو کہ انتہائی خوش آئند ہے،پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سال بہ سال (YoY) 15 فیصد اضافہ ہوا ، جو توانائی کی مارکیٹ میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی اسمگلنگ کے خلاف مزید سخت کاروائی کی ہدایت کی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی کی برآمد کے بروقت فیصلے کی بدولت پاکستان کو 500 ملین کا قیمتی زر مبادلہ ملا ،

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے،وزیرخزانہ

    معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے،وزیرخزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیدار اقتصادی ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں اور یہی حکومت کے پالیسی ایجنڈے کا بنیادی ستون ہیں۔

    وزیر خزانہ نے آج معاشی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہونے والے "ای ایس جی سسٹین پورٹل” کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پورٹل کمپنیوں کے لیے ایک "ون ونڈو سلوشن” فراہم کرے گا، جو کہ دستاویزات کی ڈیجیٹل فائلنگ اور سرمایہ کاروں کو آسانی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس پورٹل کے ذریعے نہ صرف کاروباری عمل کو مزید سہل بنایا جائے گا بلکہ اس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں شفافیت اور کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے، اور یہ عمل نہ صرف کاروباری سہولتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ محصولات کی وصولی میں بھی شفافیت لائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن سے معیشت کی نگرانی اور انتظامی عمل میں بہتری آئے گی، جس سے ملک کی مالی حیثیت مضبوط ہوگی۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کو آگے آنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ نجی شعبے کی شراکت داری سے ہی معیشت کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے اور ملک کی اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکیں اور کاروباری ماحول مزید سازگار ہو۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ معیشت کو استحکام ملے اور ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان اصلاحات کی بدولت نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی پوزیشن بھی مستحکم ہو گی۔

    اس موقع پر ای ایس جی سسٹین پورٹل کے تکنیکی ماہرین اور کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں، جنہوں نے پورٹل کی افادیت اور اس کے ذریعے معیشت میں بہتری لانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان