Baaghi TV

Category: کاروبار

  • متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    متحدہ عرب امارات میں آج یعنی یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    اماراتی حکام کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.95 درہم سے کم ہو کر 3.40 درہم فی لیٹر، اسپیشل 95 کی قیمت 3.83 درہم سے گھٹ کر 3.29 درہم فی لیٹر جبکہ ای پلس 91 کی قیمت 3.76 درہم سے کم ہو کر 3.21 درہم فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے،اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی 4.33 درہم سے کم ہو کر 3.60 درہم فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں کمی سے ان کے بجٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی، تاہم روزمرہ سفر نسبتاً آسان اور کم خرچ ہوجائے گا گزشتہ چند ماہ میں انہوں نے غیرضروری سفر کم کیے، خریداری اور دیگر کام ایک ہی چکر میں نمٹانے کی کوشش کی اور ایندھن کی بچت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنالیا،متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور تارکین وطن نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید کمی اور گھریلو اخراجات کو متوازن رکھنے میں مدد ملے گی۔

  • گھریلو سلنڈر 794 روپے اور کمرشل سلنڈر 3057 روپے سستا ہوگیا

    گھریلو سلنڈر 794 روپے اور کمرشل سلنڈر 3057 روپے سستا ہوگیا

    آج سے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہو گئی ہے، اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 67 روپے 33 پیسے کمی کی گئی ہے، جس کے بعد یکم جولائی سے نئی قیمت 241 روپے 43 پیسے فی کلو مقرر ہوگی اس سے قبل جون کے لیے ایل پی جی کی قیمت 309 روپے فی کلو مقرر تھی، حکومت کے فیصلے کے تحت 11.8 کلوگرام وزنی گھریلو ایل پی جی سلنڈر 794 روپے 5 پیسے سستا ہو گیا ہے گھریلو سلنڈر 2 ہزار 848 روپے 91 پیسے میں دستیاب ہوگا، جبکہ جون کے دوران اسی سلنڈر کی قیمت 3 ہزار 644 روپے مقرر تھی۔

    نوٹیفکیشن میں کمرشل صارفین کو بھی بڑا ریلیف دیا گیا ہے، 45.4 کلوگرام وزنی کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 3 ہزار 57 روپے کی نمایاں کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 10 ہزار 960 روپے مقرر کر دی گئی ہے نئی قیمتوں کا اطلاق آج سےسے ہوگیا ہے –

    توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اس نمایاں کمی سے گھریلو صارفین، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر تجارتی شعبوں کو ریلیف ملے گا، جبکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کسی حد تک کمی آنے کی توقع ہے۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    ایران کی جانب سے امریکی نمائندوں سے ملاقات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 50 سینٹ یا 0.69 فیصد اضافے کے ساتھ 73.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 63 سینٹ یا 0.91 فیصد اضافے کے بعد 70.13 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

    رواں سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے درمیان برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 45 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سب سے بڑی سہ ماہی کمی ہے اسی عرصے میں امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 31 ڈالر فی بیرل گری، جو 2020 میں کورونا وبا کے دوران عالمی طلب میں شدید کمی کے بعد سب سے بڑی گراوٹ تھی۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے کے مطابق تجزیہ کاروں نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کی پیشگوئی کم کر دی ہے اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بحالی ہے، جس سے تیل کی فراہمی میں طویل تعطل کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

    ادھر امریکی پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 61 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں۔

    اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے تیل کے سرکاری ذخائر کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جو عالمی منڈی کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • سونے کی قیمت میں بڑی کمی،چاندی کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑی کمی،چاندی کی قیمت میں اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا تسلسل برقرار ہے،گزشتہ روز سونا 2300 روپے سستا ہوا تھا، دو دن میں سونے کے نرخ میں 6400 روپے فی تولہ اضافہ ہو گیا ہے۔

    آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق منگل کو فی تولہ سونے کی قیمت 4ہزار 100روپے کی کمی سے 4لاکھ 24ہزار 836روپے کی سطح پر آگئی، فی دس گرام سونے کی قیمت 3ہزار 515روپے کی کمی سے 3لاکھ 64ہزار 228روپے کی سطح پر آگئی،جبکہ عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا 41 ڈالر سستا ہوکر 4 ہزار 24 ڈالر پر آ گیا ہے،عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے اور پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 25 سینٹس کے اضافے سے 58ڈالر 70سینٹس کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاند ی کی قیمت 25روپے کے اضافے سے 6ہزار 349روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 22روپے کے اضافے سے 5ہزار 443روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان

    ایل پی جی کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان

    لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 50 روپے تک کمی کا امکان ہے۔

    اوگرا ذرائع کے مطابق ایل پی جی کی سرکاری قیمت 309 روپے فی کلو گرام سے کم ہو کر 259 روپے فی کلو گرام ہو سکتی ہے،ایل پی جی کی وافر مقدار موجود ہونے کی وجہ سے قیمت میں کمی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اوگرا کی مقررہ کردہ قیمت پر لاہور سمیت ملک بھر میں کہیں بھی ایل پی جی دستیاب نہیں ہے،حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308 روپے فی کلو مقرر ہے تاہم لاہور میں مختلف دکاندار ایل پی جی 480 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں،مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ دکاندار اپنی مرضی سے روز 10 سے 20 روپے فی کلو تک اضافہ کرتے ہیں، من مانے نرخوں کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ایل پی جی کی بلیک قیمت پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی، مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی نوٹس بھجوائے رہے ہیں، متعلقہ ادارے سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

  • عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی

    عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سونے کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات قرار دی جا رہی ہےاسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے بعد 4,061.35 ڈالر فی اونس تک آ گئی جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,076.40 ڈالر فی اونس ہو گئےرواں سال یہ مسلسل چوتھا مہینہ ہے جب سونے کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق بلند شرح سود کی توقعات کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ ایسے حالات میں سونا دیگر سرمایہ کاری کے مقابلے میں نسبتاً کم پرکشش ہو جاتا ہےتجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال، عالمی تجارتی کشیدگی، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری اور امریکی مانیٹری پالیسی آئندہ چند ہفتوں میں سونے کی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • سرکاری نرخ نظرانداز،ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ،شہری پریشان

    سرکاری نرخ نظرانداز،ایل پی جی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ،شہری پریشان

    حکومت کی جانب سے قیمت مقرر کرنے کے باوجود پنجاب بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308 روپے فی کلو مقرر ہے تاہم لاہور میں مختلف دکاندار ایل پی جی 480 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں دکاندار اپنی مرضی سے روز 10 سے20 روپے فی کلو تک اضافہ کرتے ہیں،جس کی وجہ سے گھریلو صارفین پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے اور عام استعمال کی گیس مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب ایل پی جی سے چلنے والے رکشوں کے ڈرائیوروں کوبھی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت سے روزگار متاثر ہو رہا ہے اور آمدن میں نمایاں کمی آ گئی ہے شہریوں اور رکشہ ڈرائیوروں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی بلیک قیمت پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی، مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی نوٹس بھجوائے رہے ہیں، متعلقہ ادارے سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

  • آزادکشمیر کے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سےکاروبار شروع کرنےکا اعلان

    آزادکشمیر کے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا 29 جون سےکاروبار شروع کرنےکا اعلان

    آزادکشمیر کے تاجر اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے 29 جون سےکاروبار اور ٹرانسپورٹ کھلے رکھنے کا اعلان کردیا۔

    وائس چیئرمین مرکزی انجمن تاجران گوہر کشمیری، صدر انجمن تاجران مدینہ مارکیٹ راجا ابرار مصطفیٰ، صدر ٹرانسپورٹ آپریٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن خواجہ اعظم رسول اور انجمن تاجران و ٹرانسپورٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن کے دیگر صدور و عہدیداران نے مظفرآباد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی موجودہ سرگرمیوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا۔

    تاجر اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں نےکہا کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم نہیں ہوئی تھی ہم اس کے ساتھ تھے، اب نہیں ہیں، ہم پاک فوج، پاکستان کے عوام اور حکومت کے خلاف نہیں ہوسکتے، انہوں نے جو ساتھ دیا ہم نہیں بھول سکتے راولاکوٹ میں بیٹھے یہ کون لوگ ہیں؟ ہم ان کے ساتھ نہیں، 12 سیٹوں کا معاملہ آئینی ہے، یہ ہمارا کبھی مسئلہ نہیں رہا، اب بھی وقت ہے صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے توکوئی بات نہیں اب بھی وقت ہیں وہ واپس آجائیں۔

    تاجر رہنما گوہر کشمیری کا کہنا تھا کہ 29 جون کو تمام تاجر اپنے کاروبار شروع کریں، بنیادی عوامی مسائل کے حل کے لیے چلائی گئی تحریک میں تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں عام آدمی کے لیے سستا آٹا اور سستی بجلی کا مطالبہ منظور کرایا گیا، ان بنیادی مسائل کے حل کے بعد مزید کسی مطالبے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم بعد ازاں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تاجروں سے کسی قسم کی مشاورت کیے بغیر اپنی جانب سے نئے مطالبات شامل کر دیے۔

    انہوں نے کہاکہ ہم اس ریاست کے باشندے ہیں اور اس کے ساتھ ہماری ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔ ریاست کے اندر اچھے اور برے میں تمیز کرنا ہم سب کا فرض ہے حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جسے سراہا جانا چاہیے۔

    گوہر کشمیری نے کہاکہ تحریک کا مقصد صرف عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا تھا، جس کے لیے حکومت اور تاجروں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کی عوام کو نئی انفراسٹرکچر اسکیموں، ٹیکسوں میں کمی، تعلیم اور صحت کے خصوصی پیکجز سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ریلیف ملا۔

    فراہم کی، جو اس پورے خطے کے لیے ایک ریکارڈ ہے، جبکہ دیگر معاملات کے حل کے لیے الگ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔

    انہوں نے واضح کیاکہ یہ تحریک کسی سیاسی مفاد، انتخابی عمل، قانون ساز اسمبلی کی نشستوں یا علاقائیت سے متعلق نہیں تھی بلکہ خالصتاً عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے شروع کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہماری اپنی ہے، حکومت بھی ہمارے اپنے لوگوں کی ہے اور عوام بھی ہمارے ہی ہیں، اس لیے تمام مسائل کا حل باہمی مذاکرات، احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    گوہر کشمیری نے کہاکہ تحریک ابتدا سے پرامن رہی، تاہم اچانک اس کا رخ کسی اور جانب موڑ دیا گیا، جس پر تاجروں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے بھرپور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا، چارٹر آف ڈیمانڈ میں مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ تاجروں سے کسی مشاورت یا اتفاق رائے کے بغیر شامل کیا گیا۔ بعد ازاں حکومت نے قانون ساز اسمبلی کے فلور پر اس معاملے پر غور کیا اور اسے آئینی معاملہ قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس کا حل اسمبلی کے اندر ہی نکالا جائے گا۔

    دوسری جانب آزاد کشمیر میں معمولات زندگی کہیں مکمل طور پر اور کہیں جزوی طور پر بحال ہیں مظفرآباد شہر میں میڈیکل اسٹور، سبزی فروٹ کی دکانیں اوربیکری کھلی ہیں جبکہ میرپور، بھمبر اور نیلم کے علاقے آٹھ مقام میں کاروباری مراکز جزوی طورپرکھلے ہیں۔

  • ملک پر قرضوں کا بوجھ کم، زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں بہتری

    ملک پر قرضوں کا بوجھ کم، زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں بہتری

    اسلام آباد: حالیہ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں قومی خزانے پر قرضوں کا دباؤ نسبتاً کم ہوا ہے، مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومتی قرضوں کی شرح نمو گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا مرکزی حکومتی قرض 81.9 کھرب روپے ہے، جبکہ 97 سے 100 کھرب روپے کے جن اعداد و شمار کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں نجی شعبے کے واجبات بھی شامل ہوتے ہیں۔

    مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے معاشی اعشاریوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری کی تصدیق کی ہے کہا کہ پاکستان کا قرض اور جی ڈی پی تناسب جو پہلے 76 فیصد تھا، اب نمایاں طور پر کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا ہے سال 2023 میں حکومتی قرض بڑھنے کی رفتار 23 فیصد کی تشویشناک سطح پر تھی، جو موجودہ معاشی اقدامات کی بدولت اب محض 5 فیصد پر آ گئی ہے، جو کہ گزشتہ 15 سالوں میں سب سے کم رفتار ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق مقامی قرضوں کی اوسط مدت 2.8 سال سے بڑھا کر 3.8 سال کر دی گئی ہے، جس سے قرضوں کی فوری واپسی کا خطرہ اور دباؤ کم ہوا ہے،اس کے علاوہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں پہلی بار 4.7 کھرب روپے کے قرضے قبل از وقت ختم یا واپس کر دیے گئے ہیں انہی اقدامات کی بدولت مالی سال 2026 میں سودی اخراجات 8.89 کھرب روپے سے کم ہو کر 6.94 کھرب روپے رہ گئے ہیں، جس سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 2 کھرب روپے کی خطیر بچت ہوئی ہے۔

    مشیر وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2023 میں وفاقی آمدن کا 64 فیصد حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا تھا، جو اب کم ہو کر تقریباً 40 فیصد رہ گیا ہے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث درآمدی بل کی ادائیگی کی گنجائش 2 ہفتوں سے بڑھ کر تقریباً 3 ماہ تک پہنچ گئی ہے ، قرضوں کی واپسی میں مثبت پیش رفت اور ذخائر میں اضافہ دیرپا حکومتی پالیسیوں اور مؤثر معاشی اقدامات کا نتیجہ ہے،زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہونے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور ملکی معیشت صحیح سمت کی طرف گامزن ہے۔

  • سونے کی قیمت میں کمی

    سونے کی قیمت میں کمی

    کراچی: سونے کی عالمی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں قیمت کم ہو گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 1000روپے کی کمی سے 4لاکھ 31ہزار 236روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 730روپے گھٹ کر 3لاکھ 68ہزار 230روپے کی سطح پر آگئی جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت 10 ڈالر کی کمی سے 4ہزار 88ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی –اسی طرح مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 271 روپے کی کمی سے 6ہزار 393 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 161روپے کی کمی سے 5ہزار 480روپے کی سطح پر آگئی۔

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔