Baaghi TV

Category: کاروبار

  • عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    30 اپریل 2026 تک، مشرق وسطیٰ میں 61 دن سے جاری تنازعہ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز مزید اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں اور امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

    امریکی زیر قیادت ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں جنگ کے دوران نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو 30 اپریل کو مختصر وقت کے لیے $119.71 فی بیرل تک جا پہنچیں-

    برینٹ خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے فیوچرز کی قیمت 1.91 ڈالر یا 1.62 فیصد اضافے کے ساتھ 119.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ جولائی کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت 111.38 ڈالر رہی، جو 94 سینٹس یا 0.85 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

    ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے قیمت 63 سینٹس یا 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 107.51 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ اس سے قبل سیشن میں اس میں 7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

    برینٹ کروڈ 120 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے، جو فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز سے اب تک 55 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی سخت کر دی ہے، جس کے تحت ایران کی تیل برآمدات کو روکنے کے لیے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایران کی جانب سے خلیجی آبی گزرگاہوں (آبنائے ہرمز) پر جزوی کنٹرول اور کشیدگی نے عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے 13 ملین بیرل روزانہ کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے بھی قیمتوں کو بڑھایا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے، تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے 2026 میں عالمی افراط زر میں ریکارڈ اضافے کا خطرہ ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو تیل کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے اثرات کم کرنے پر غور کیا گیا۔ اس پیش رفت نے مارکیٹ میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے جلد حل ہونے یا آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایران نے خلیج سے گزرنے والی زیادہ تر بحری ترسیل کو محدود کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب اوپیک پلس ممالک کے گروپ کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث اس کے اثرات محدود رہیں گے۔

    ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو جنگ سے قبل کی پیداوار بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی کمی

    آج بھی ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے۔

    آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2900 روپے کی کمی ہو گئی جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ ، 90 ہزار 862 روپے کا ہو گیااسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4 ہزار 715 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 11 ہزار 147 روپے ہو گئی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 55 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 572 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی ہے –

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں فی تولہ چاندی 45 روپے سستی ہو کر 7 ہزار 766 روپے ہو گئی ہے جبکہ 10 گرام چاندی 38 روپے کمی کے بعد 6 ہزار 658 روپے میں فروخت ہو رہی ہے چاندی کی قیمت 0.45 ڈالر کم ہو کر 72.82 ڈالر فی اونس تک آ گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور انٹربینک ایکسچینج ریٹ میں تبدیلیاں مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

  • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 8900 روپے سستا ہو گیا ہے۔

    ملک میں فی تولہ سونا 8900 روپے کمی کے بعد 485,062 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 7630 روپے کمی کے بعد 415,862 روپے کا ہو گیاہے اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 381,220 روپے ہوگئی جبکہ عالمی بازار میں سونا 89 ڈالر کمی کے بعد 4627 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

    گزشتہ روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا فی تولہ سونا 800 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 93 ہزار 962 روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 686 روپے اضافے کے ساتھ 4 لاکھ 23 ہزار 492 روپے ہو گئی تھی۔

  • پیٹرولیم لیوی پھر بڑھا دی گئی، مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ

    پیٹرولیم لیوی پھر بڑھا دی گئی، مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پیٹرول پر لیوی میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرولیم لیوی کی مجموعی شرح بڑھ کر 107 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول پر لیوی 80 روپے 61 پیسے فی لیٹر تھی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لیوی میں اضافے کا فیصلہ ریونیو بڑھانے اور مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ اور صنعتی لاگت بڑھے گی، جس کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا۔

  • پاکستان میں فی تولہ قیمت میں کمی

    پاکستان میں فی تولہ قیمت میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے-

    پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4900 روپے کمی ہو گئی ہے،ملک میں فی تولہ سونا 4 ہزار 900 روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 1 ہزار 162 روپے کا ہو گیا ہے، جب کہ 10 گرام سونا 4201 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 665 روپے تک پہنچ گیا ہے،جبکہ عالمی بازار میں سونا 49 ڈالر کمی کے بعد 4788 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔

    اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 1 ڈالر 45 سینٹس بڑھ کر 79ڈالر 33سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 145روپے کی کمی سے 8 ہزار 417روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت 124روپے کی کمی سے 7ہزار 216روپے کی سطح پر آگئی۔

  • سونے  کی قیمتوں میں آج پھر اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں آج پھر اضافہ

    گزشتہ روز تین دن کے وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی ہوئی تھی، جو آج پھر اضافے کے بعد بڑھ گئی ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 45ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 837ڈالر کی سطح پر آگئی، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی ہفتے کو فی تولہ سونے کی قیمت 5ہزار 500روپے کے اضافے سے 5لاکھ 06ہزار 062روپے کی سطح پر آگئی،فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 3ہزار 858روپے کے اضافے سے 4لاکھ 33ہزار 816 روپے کی سطح پر آگئی۔

    دریں اثنا عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت ایک ڈالر 18سینٹس بڑھ کر 80ڈالر 78 سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 118روپے کے اضافے سے 8ہزار 562روپے اور فی 10 س گرام چاندی کی قیمت 101روپے کے اضافے سے 7ہزار 340روپے کی سطح پر آگئی۔

    عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت ایک ڈالر 18 سینٹس بڑھ کر 80 ڈالر 78 سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 118 روپے کے اضافے سے 8562 روپے اور فی 10 س گرام چاندی کی قیمت 101 روپے کے اضافے سے 7340 روپے کی سطح پر آگئی۔

  • غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 3 ماہ کے دوران 220 کمپنیاں رجسٹرڈ

    غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 3 ماہ کے دوران 220 کمپنیاں رجسٹرڈ

    پاکستان کے کارپوریٹ شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران 220 ایسی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی جن میں غیر ملکی ڈائریکٹرز شامل تھے، اور ان کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ 657 ملین روپے رہا، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار ملکی معیشت اور ریگولیٹری نظام پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ 2026) میں جن کمپنیوں میں غیر ملکی ڈائریکٹرز شامل تھے، وہ زیادہ تر ٹریڈنگ، سروسز، آئی ٹی، تعمیرات اور مائننگ جیسے شعبوں میں قائم کی گئیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار روایتی اور ترقی پذیر دونوں شعبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

    اسی مدت کے دوران مجموعی طور پر 10 ہزار 318 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہیں، ان میں 58.6 فیصد پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں جبکہ 37.9 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں شامل تھیں، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    صوبائی تقسیم کے مطابق 50.2 فیصد کمپنیاں پنجاب میں، 19.0 فیصد اسلام آباد میں، 15.5 فیصد سندھ میں جبکہ باقی 15 فیصد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں رجسٹر ہوئیں شعبہ جاتی لحاظ سے سب سے زیادہ رجسٹریشن آئی ٹی اور ای کامرس میں ہوئی جن کی تعداد 2065 رہی، اس کے بعد ٹریڈنگ میں ایک ہزار 687 اور سروسز میں ایک ہزار 288 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں،دیگر شعبوں میں رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 934، ٹورازم میں 581، فوڈ اینڈ بیورجز میں 497 اور تعلیم کے شعبے میں 363 کمپنیاں شامل ہیں۔

    ایس ای سی پی کے مطابق اس سہ ماہی میں 95 ہزار 823 کارپوریٹ فائلنگز مکمل کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہیں اسی عرصے میں رجسٹریشن کے بعد کی فائلنگز میں 33 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو بہتر کمپلائنس اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کی عکاسی کرتا ہے،سیکیورڈ ٹرانزیکشنز رجسٹری میں جنوری تا مارچ کے دوران 6 ہزار سے زیادہ فنانسنگ اسٹیٹمنٹس جمع کرائے گئے جبکہ مالیاتی اداروں نے 5 ہزار سے زیادہ سرچز کیں، جو مالیاتی خدمات کی دستیابی اور مالی شمولیت میں اضافے کی طرف اشارہ ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا، جس کے باعث مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    کاروبار کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک 100 انڈیکس میں 1770 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد انڈیکس بڑھ کر 1 لاکھ 70 ہزار 290 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔مارکیٹ کے دوران 100 انڈیکس 1 لاکھ 70 ہزار 6 پوائنٹس کی نچلی سطح تک آیا، جبکہ کاروبار کے دوران 1 لاکھ 70 ہزار 899 پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی ریکارڈ کی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز 100 انڈیکس 1 لاکھ 68 ہزار 519 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجوہات میں معاشی اشاریوں میں بہتری، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور مثبت کاروباری توقعات شامل ہیں۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مارکیٹ مزید نئی بلندیاں چھو سکتی ہے۔

  • پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

    پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

    پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق اسٹیٹ بینک نے کر دی ہے۔ یہ رقم پاکستان کو مالی معاونت اور زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جس میں سے 2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں جبکہ باقی رقم بھی جلد ملنے کی توقع ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی سپورٹ اگلے ہفتے تک پاکستان کو مل جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا تھا کہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی سالانہ رول اوور مدت کو بھی بڑھایا جا رہا ہے، اور اب اسے سالانہ تجدید کے بجائے تین سال کے لیے توسیع دی جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد ان ڈپازٹس کی میچورٹی 2028 تک پہنچ جائے گی۔ماہرین کے مطابق سعودی مالی تعاون سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، روپے پر دباؤ میں کمی اور معاشی استحکام کے امکانات روشن ہوں گے۔

  • پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز

    پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز

    عالمی سفارتکاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار اور دوست ممالک کی جانب سے مالی تعاون کے اعلانات نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بلند سطح پر پہنچا دیا-

    سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کےبعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل دوسرے روز تیزی کا رجحان جاری ہے،مارکیٹ میں تیزی کا یہ تسلسل دوسرے روز بھی برقرار رہا –

    بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جہاں انڈیکس 5,005 پوائنٹس کے غیر معمولی اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا،گزشتہ روز بھی انڈیکس میں 5 ہزار پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح محض 2 کاروباری دنوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    بزنس ریکارڈ کے مطابق مارکیٹ میں بھرپور خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے جس میں سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری جیسے اہم شعبے شامل رہے۔ انڈیکس کے بڑے حصص بشمول اے آر ایل، پی آر ایل، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ماری، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

    ایک اہم پیش رفت میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کرائی ہے جن کی منتقلی آئندہ ہفتے متوقع ہے، پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹس اب سالانہ رول اوور (توسیع) کے سابقہ انتظامات کے پابند نہیں رہیں گے بلکہ اس کے بجائے ان کی مدت میں طویل عرصے کے لیے توسیع کر دی جائے گی۔