Baaghi TV

Category: کاروبار

  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    سنگا پور: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ 17 فیصد تک گرنے کے بعد برینٹ کروڈ 105 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

    باغی ٹی وی : سنگا پور مرکنٹائل ایکسچینج میں رینٹ کروڈ کی مئی کیلئے فراہمی کے سودے 22ڈالر(17فیصد سے زائد) کمی کے ساتھ 105.60 ڈالر فی بیرل جبکہ یو ایس لائٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے 13.29ڈالر (10.4 فیصد)کی کمی کے ساتھ 114.69ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

    خبر ایجنسی کے مطابق یوکرین جنگ کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہیں-

    واضح رہے کہ برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت ایک سو بیس ڈالر فی بیرل سے زائد تک پہنچ گئی تھی، امریکی صدر نے روسی تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے امریکیوں کو خبردار کیا تھا کہ ملک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔

    روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    روسی تیل اور گیس کی درآمد پر مکمل پابندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کو پر لگ گئے تھے بعد ازاں متحدہ عرب امارات کا تیل کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کے ساتھ ہی برینٹ خام تیل کی قیمت فی بیرل 112 ڈالر پر آ گئی روس کے یوکرین پر حملے کے بعد آئل تاریخی مہنگی ترین سطح پر پہنچ چکا تھا

    اقوام متحدہ کا روس سے یوکرین پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ

  • وزیراعظم پیکج کے تحت یوٹیلٹی اسٹورز پر پانچ اشیاء پر سبسڈی

    وزیراعظم پیکج کے تحت یوٹیلٹی اسٹورز پر پانچ اشیاء پر سبسڈی

    اسلام آباد: یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے ملک بھر کے یوٹیلٹی اسٹورز پر مارچ کیلئے 2 ارب 43 کروڑ 37 لاکھ روپے کی سبسڈی مختص کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پیکج کے تحت یوٹیلٹی اسٹورز پر پانچ اشیاء پر سبسڈی دی جارہی ہے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کا کہنا ہے کہ گھی، آٹے، چینی، چاول اور دالوں کیلئے سبسڈی مختص کی گئی ہے، جس کے تحت مارچ کے لئے گھی پر ایک ارب 62 کروڑ 40 لاکھ روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے-

    درآمدی گندم کے آٹے پر 54 کروڑ 30 لاکھ روپے، درآمدی چینی پر 22 کروڑ 50 لاکھ روپے، باسمتی چاول پر 50 لاکھ روپے، سیلا پر 30 لاکھ اور ٹوٹا چاول پر 72 لاکھ روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔

    مرغی کا گوشت من مانی قیمت پر فروخت ہونے لگا

    ذرائع نے بتایا کہ دال چنا پر 75 لاکھ روپے، دال مسور پر 90 لاکھ روپے، سفید چنے پر ایک کروڑ روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پرآٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 950 روپے مقرر ہے، جب کہ چینی 85 روپے فی کلو اور گھی کی فی کلو قیمت 260 روپے مقرر ہے۔

    عمران خان کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہے وہ مکافات عمل کے سوا کچھ نہیں،مریم نواز

  • اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی،سرمایہ کاروں کے 213 ارب ڈوب گئے

    اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی،سرمایہ کاروں کے 213 ارب ڈوب گئے

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ ایک بار پھر شدید مندی کا شکار ہوگئی، کے ایس ای 100 انڈیکس 1284 پوائنٹس کی کمیٹی سے 43 ہزار 200 کی سطح پر آگیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن میں 100 انڈیکس 1501 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا تاہم کاروبار کے اختتام پر 1284 پوائنٹس کم ہوکر 43266 پر بند ہوا 100 انڈیکس کی کم ترین سطح 43049 رہی جبکہ حصص بازار میں 23 کروڑ 68 لاکھ شیئرز کےسودے ہوئے جن کی مالیت 8 ارب روپے رہی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 213 ارب روپے کم ہوکر 7445 ارب روپے ہوگئی۔

    روس یوکرین جنگ نے تیل مزید مہنگا کر دیا

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو مجموعی طور پر 358 کمپنیوں کے شیئرز کی لین دین ہوئی، جن میں 301 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں گرگئیں اور 41 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 16 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں گرنے کے باعث سرمایہ کاروں کو 2 کھرب 13 ارب 80 کروڑ 49 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

    اسٹاک ماہرین کے مطابق امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی کا عندیہ دینے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا جارہا ہے، جس کے معاشی منفی اثرات کے خدشات نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی لپیٹ میں لیا پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی یہ اثرات دیکھنے میں آئے۔

    یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

    ماہرین کے مطابق عالمی اثرات کے ساتھ پاکستان میں تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال کے پیش نظر بھی سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے پیر کو شدید مندی دیکھنے میں آئی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت بڑھنے سے پاکستان کا تجارتی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کے خدشات نے مقامی کرنسی مارکیٹوں کو بھی متاثر کیا اور پیر کو انٹر بینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 63 پیسے اضافے سے 177.50 سے بڑھ کر 178.13روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 50 پیسے کے اضافے سے 178.50 روپے ہوگئی ہے۔

    یوکرین کی طرح مسلمان ممالک پر حملوں کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟ بیلا حدید کا دنیا…

  • ہونڈا موٹر سائیکلز کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    ہونڈا موٹر سائیکلز کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    اٹلس ہونڈا لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے ایک مرتبہ پھر موٹر سائیکل ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ کردیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اٹلس ہونڈا نے آخر کار 2022 کی پہلی قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے ساتھ پاکستان میں ہونڈا موٹر سائیکل کی قیمت میں روپے 9,400 کاتک اضافہ کیا گیا ہے نئی قیمتوں کا اطلاق آج یکم مارچ سے ہو گا-

    تاہم، اٹلس ہونڈا کی طرف سے یہ واحد قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، آٹو موٹیو سیکٹر اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان کرے گا۔ پاکستان میں ہونڈا موٹرسائیکل / بائیک کی قیمتوں میں اضافے میں ہونڈا سی ڈی 70 ،ڈریم 70، پرائیڈر ،سی بی 150 ایف ، سی بی 125 ایف ،سی جی 125 ایس ای، سی جی 125 اور سی بی 150 ایف ایس ای شامل ہیں۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ اٹلس ہونڈا نے گزشتہ سال پاکستان میں اپنی موٹرسائیکل کی قیمتوں میں آٹھ بار اضافہ کیا تھا اور جب کہ کمپنی کی جانب سے رواں سال قیمتوں میں اضافے کا یہ پہلا اعلان ہے تاہم اس میں مزید کئی اضافے متوقع ہیں، خاص طور پر گرتی ہوئی کرنسی-

    اٹلس ہونڈا کئی دہائیوں سے پاکستان میں بغیر کسی تبدیلی کے یہ موٹرسائیکل تیار کر رہی ہے اور سستی پروڈکٹ فراہم کرنے کے بجائے کمپنی سال میں کئی بار ان کی قیمتوں میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ تاہم، صرف کمپنی ہی قصوروار نہیں ہے کیونکہ صارفین اپنے پرانے CD70 اور CG125 کو نئے اسٹیکر کے لیے خریدتے رہتے ہیں۔

    اٹلس ہونڈا نے موٹر سائیکلز کی قیمتوں میں ہنڈا موٹر سائیکل کی قیمت میں 3000 روپے اضافہ کر دیا گیا پاکستان میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی موٹر سائیکل ہونڈا سی ڈی 70 کی قیمت مذکورہ اضافے کے بعد 94 ہزار 900 روپے سے بڑھا کر 97 ہزار 900 روپے تک پہنچ جائے گی۔

    ہونڈا سی ڈی 70 ڈریم کی قیمت بھی 3 ہزار روپے جبکہ پرائڈر کی قیمت میں 3 ہزار 400 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    جس کے بعد سی ڈی 70 ڈریم کی قیمت 1 لاکھ 1500 روپے سے بڑھ کر 1 لاکھ 4500 ہو گئی جبکہ پرائیڈر کی قیمت ایک لاکھ 30 ہزار 500 سے بڑھ کر ایک لاکھ 33 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے-

    موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی کی جانب سے ہونڈا سی جی 125 کی قیمت میں 3400 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت ایک لاکھ 52 ہزار 500 سے بڑھ کر ایک لاکھ 55 ہزار 900 روپے ہوگئی جبکہ ہونڈا سی جی 125 ایس کی قیمت 3500 روپے کے اضافے کے بعد ایک لاکھ 82 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 85 ہزار 500 ہو گئی-

    سی بی 125 ایف کی قیمت میں 9400 کا اضافہ کیا گیا مذکورہ اضافے کے بعد سی بی 125 ایف کی قیمت 2 لاکھ 18 ہزار 500 سے بڑھ کر 2 لاکھ 27ہزار 900 روپے ہوگئی-

    جبکہ سی بی 150 ایف سرخ اور بلیک کی قیمت 9400 کے اضافے کے بعد 2 لاکھ 73 ہزار 500 سے بڑھ کر 2 لاکھ 82 ہزار 900 روپے ہوجائے گی۔

    ہونڈا سی بی 150 ایف سلور کی قیمت بھی 9400 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 77 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 2 لاکھ 86 ہزار 900 روپے ہوگئی ہے۔

    ماڈل پرانی قیمت ( پاکستانی روپے) نئی قیمت (پاکستانی روپے) قیمتوں کا فرق

    ہونڈا سی ڈی 70 94،900 97،900 3000

    سی ڈی 70 ڈریم 101،500 104،500 3000

    ہونڈا پرائیڈر 130،500 133،900 3400

    سی جی 125 152،500 155،900 3400

    سی جی 125 ایس-ایس ای 182،000 185،500 3500

    سی بی 125 ایف 218،500 227،900 9400

    سی بی 150 ایف(ریڈ،بلیک) 273،500 282،900 9400

    سی بی 150 ایف (سلور) 277،500 286،900 9400

    یکم مارچ 2022

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ یاماہا نے بھی پاکستان میں اپنی موٹرسائیکل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

  • گزشتہ ہفتےانٹربینک میں ڈالر،سعودی ریال ،یورو اور پاؤنڈزکی اڑان جاری رہی

    گزشتہ ہفتےانٹربینک میں ڈالر،سعودی ریال ،یورو اور پاؤنڈزکی اڑان جاری رہی

    گزشتہ ہفتے انٹربینک میں ڈالر، پاؤنڈ، یورو اور سعودی ریال کی اڑان جاری رہی-

    باغی ٹی وی : ہفتہ وار کاروبار کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں د ڈالر کی قدر 1.16 روپے بڑھ کر 175.86 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اتارچڑھاؤ کے بعد بغیر کسی تبدیلی کے 178.50 روپے پر مستحکم رہی۔

    سٹیزن پورٹل کی کارروائی:52سال بعد زمین حقدار کو مل گئی:وزیراعظم کے حق میں دعائیں‌

    انٹربینک میں یورو کرنسی کی قدر 89 پیسے بڑھ کر 200 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں یورو کی قدر 1 روپے گھٹ کر 201 روپے ہوگئی برطانوی پاؤنڈ کے انٹربینک ریٹ 2.70 روپے بڑھ کر 239.65 روپے ہوگئے جبکہ اوپن مارکیٹ میں برطانوی پاؤنڈ کی قدر 1 روپے بڑھ کر 241 روپے ہوگئی۔

    اسی طرح انٹربینک میں سعودی ریال کی قدر 30 پیسے بڑھ کر 46.87 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال کی قدر 5 پیسے بڑھ کر 47.05 رو پے ہوگئی۔

    کروڈ آئل، کوئلے اور دیگر کموڈٹیز کی عالمی قیمت بڑھنے سے ڈالر کی قدر بڑھی، خام تیل کی غیر مستحکم قیمتیں زرمبادلہ مارکیٹس پر اثرانداز رہیں۔ درآمدی بل اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے سے ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھی۔

    بلوچستان میں کھیل کے میدان آباد،نوجوان ملکی سطح پر اپنے علاقوں کی نمائندگی کرنے کیلئے پرعزم

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے بھی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) 1.17 ارب ڈالر رہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ مالی سال میں غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 1.05 ارب ڈالر رہا تھا۔ یوں بیرونی سرمایہ کاری 11.3 فیصد زائد رہی۔ جولائی تا جنوری پاکستان میں سب سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری امریکا اور چین سے کی گئی۔ زیادہ سرمایہ بجلی، بینکاری، کمیونی کیشن اور تیل و گیس کی تلاش کے شعبوں میں لگایا گیا۔

    ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی

    ماہر معشیت ثنا توفیق کا کہنا تھا کہ چین پاکستان میں سرمایہ لگانے والا سب سے بڑا ملک ہے، جب کہ سی پیک کے منصوبے پر کام کا دوسرا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ زیادہ تر چینی سرمایہ کار بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ لگارہے ہیں۔ چین کے بعد امریکا سے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

    امریکی کمپنیاں مالیات، بجلی، فارماسیوٹیکل، فوڈز، بیورییج اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کررہی ہیں اگر غیرملکی سرمایہ کاری کی یہ شرح برقرار رہتی ہے تو پھر رواں مالی سال میں ایف ڈی آئی کا حجم 2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے۔

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

  • کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    کراچی: پاکستانی عوام سے کرپٹو کرنسی کے نام پر اربوں روپے کے فراڈ پر ایف آئی اے نے ایک کمپنی کو نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی نے ہفتے کو ایف آئی اے سائبر کرائم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر منعقدہ اجلاس میں ایف آئی اے سندھ زون عامر فاروقی، ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم عمران ریاض کے علاوہ دیگر افسران شریک ہوئے۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے فراڈ کی شکایات پر ایف آئی اے نے کام تیز کردیا ہے، تمام بینکوں کو منع کردیا ہے کہ ورچوئل کرنسی میں لین دین نہ کریں، اسٹیٹ بینک کے اعلی افسران سے بھی ملاقات میں اس بات پر زور دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی ویب سائٹ کہاں سے آپریٹ ہورہی ہیں اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، دنیا بھر میں 16 ہزار ویب سائٹ سے ورچوئل کرنسی کے ذریعے کام کیا جاتا ہے،دہشت گری کے لیے رقم کی لین دین بھی ورچوئل کرنسی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

    ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ 8 ماہ قبل کرپٹو کرنسی کے ذریعے فراڈ کرنے والا ملزم ڈاکٹر ظفر گرفتار بھی ہوچکا ہے، ورچول کرنسی میں فراڈ کے حوالے لوگوں نے درخواستیں دی تھیں جس کی تفتیش چل رہی ہے، منگل کو اس معاملے پر اسٹیٹ بینک میں بریفنگ دی جائے گی، ہم اس اسکینڈل کو حتمی نتیجے تک پہنچائیں گے۔

    صدر مملکت نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی

    واضح رہے کہ حال ہی میں ایف آئی اے نے ایک آن لائن فراڈ کی نشان دہی کی جس میں کرپٹو کرنسی کا لین دین کرنے والی کئی کمپنیاں ہزاروں پاکستانی افراد کے پیسے ہڑپ کر گئیں-

    حیران کن بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے 2018 کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لین دین سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار کا رجحان گزشتہ سالوں میں تیزی سے بڑھا ہے لین دین کے اس رجحان کے ساتھ ہی آن لائن دھوکہ دہی میں بھی اضافہ ہوا ہے جس میں ہزاروں افراد جھانسے میں آ کر کرپٹو کرنسی کے ذریعے جلد اور با آسانی پیسے کمانے کے لالچ میں آ جاتے ہیں۔

    پاکستانیوں کے کرپٹو کرنسی میں ڈوبے 18 ارب کی واپسی کی امید

    ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پر ادائیگی کا طریقہ کار ہے اس سے آپ خریداری کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں اس وقت دنیا میں 4000 سے زائد کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔ سنہ 2009 میں متعارف کروائے جانے کے بعد سے بِٹ کوائن کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

    بی بی سی کے مطابق بائنینس دنیا میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کی سب سے بڑی ایکسچینج ہے جو 2017 میں قائم ہوئی اور کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ہے۔ ایسی ایکسچینج کے ذریعے لوگ کرپٹو کرنسی خریدتے ہیں اور اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے لین دین کے ذریعے منافع کماتے ہیں۔

    حریم شاہ منی لانڈرنگ معاملہ : سی اے اے حکام کا وضاحتی بیان

    عام طور پر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ لگانے والوں کے لیے یہ ایکسچینج ایک پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں وہ اپنا اکاوئنٹ کھول کر لین دین کر سکتے ہیں۔ لیکن کئی لوگ اس لین دین کے لیے موبائل فون ایپلیکیشنز اور ویب سائٹس بھی استعمال کرتے ہیں جس میں براہ راست سرمایہ کاری کے بجائے کسی اور کے ذریعے سرمایہ لگایا جاتا ہے۔ اس فراڈ میں بھی ایسا ہی ہوا۔

    ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہریار احمد خان کا کہنا تھا کہ بائنینس کے کراچی میں نمائندے حمزہ خان کو بھی طلب کیا گیا اور بائنینس کے مرکزی دفتر کو بھی ان تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔

    ایف آئی اے کے سندھ سائبر کرائم کے سربراہ عمران ریاض کے مطابق عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنینس نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے رابطے کے بعد کرپٹو کرنسی کے دو ماہر جو امریکی محکمہ خزانہ کے سابق ملازم رہ چکے ہیں نامزد کیے ہیں۔

    ان کے مطابق بائنینس کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ بائنینس بلاک چین ایڈریس استعمال کرتے ہوئے 11 ایپس کے فراڈ کی تحقیقات میں ایف آئی اے سے مکمل تعاون کرے گی اور اُنھیں امید ہے کہ مجرموں کی شناخت کی جا سکے گی۔

    خیبر پختونخوا حکومت کا مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کا اعلان

    کرپٹو کرنسی کے لین دین کا کام کرنے والی کمپنی کرپٹو برادرز کے سید عون کا کہنا تھا کہ اس آن لائن فراڈ میں ان لوگوں کو زیادہ نقصان ہوا جو کرپٹو کرنسی کو سمجھے بغیر لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانا چاہتے تھے کرپٹو کرنسی کے لین دین سے لوگوں نے اس طرح پیسے ضرور کمائے لیکن یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اس کو سمجھا اور خود لین دین کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس فراڈ میں چند لوگوں نے موبائل فون ایپلیکیشنز بنائیں جو کرپٹو کرنسی کی ایکسچینج نہیں تھی۔ ’لوگوں نے ان کو پیسے بھیجے جو بائنینس میں لگائے گئے لیکن پھر اُنھوں نے وہاں سے پیسے نکلوا لیے یا ٹرانسفر کروا لیے اگر پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کیا ہوتا تو یہ فراڈ ہونا مشکل تھا۔ ’اگر پاکستان میں قانون ہوتا تو پھر پاکستان کی جانب سے بائنینس کو اپنی شرائط دی جاتیں کہ اگر پاکستانیوں کے اکاؤنٹ کھولے جائیں تو کن شرائط پر کھولے جائیں اور کیا معلومات لی جائیں جو حکومت کو بھی مہیا کی جائیں۔‘

    عون کا کہنا تھا کہ جب یہ گروپ پاکستان کے کروڑ ڈالر یا 18 ارب روپے بائنینس کے والٹ میں ڈال رہا تھا تو ان کے کان کھڑے ہوتے اور وہ پاکستان کے ایف آئی اے کو بتاتے کہ آپ کے ملک سے فلاں شہری جو یہ کام کرتے ہیں اور جنھوں نے اتنی آمدنی بتائی ہوئی ہے وہ یکدم اتنے پیسے جمع کروا رہے ہیں۔ تب گارنٹیز ہوتیں اور ایسے فراڈ نہیں ہوتے۔

    سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا دھرنا

    خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک کرپٹو کرنسی کا کاروبار غیر قانونی ہے۔ حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ میں وقار ذکا کی جانب سے درخواست کی گئی کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو قانونی بنایا جائے انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے پاکستان کا قرضہ اتارا جا سکتا ہے۔

    سندھ ہائی کورٹ نے اس ضمن میں سٹیٹ بینک سمیت وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا تھاجس کےبعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)،سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، وفاقی وزارت خزانہ اور فائنینشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے نمائندوں پر مشتمل کرپٹو کرنسی کمیٹی قائم ہوئی جس کی رپورٹ بدھ کے دن سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی جس میں سفارش دی گئی ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ ملک میں اس وقت لوگوں کو کم مدت میں زیادہ منافع کمانے کی ترغیب دے کر پھانسا جا رہا ہے۔

    کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح ملک سے ناجائز پیسہ بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے یعنی منی لانڈرنگ ہو سکتی ہے۔ اس سفارش کی ایک اور وجہ زرِ مبادلہ ذخائر کی ممکنہ طور پر بیرون ملک منتقلی بھی بتائی گئی ہے پاکستان میں بلااجازت کام کرنے والی بائنینس جیسی کرپٹو ایکسچینج کمپنیز کو فی الفور بند کردینا چاہیے اور ان پر جرمانہ عائد کرنا چاہیے۔

    کمیٹی کی رپورٹ میں حال ہی میں سامنے آنے والے کرپٹو کرنسی فراڈ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین میں رسک پاکستان کے لیے فوائد سے کہیں زیادہ ہے بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کر چکے ہیں جن میں چین، بنگلہ دیش، مصر، مراکش، ترکی، نائجیریا، ویت نام، سعودی عرب، بولیویا اور کولمبیا شامل ہیں۔

    ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کا بیان بھی قابل تسلیم گواہی قراردیا

  • سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: سونے کی فی تولہ قیمت میں 400 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور آج پھر سونے کی قیمت میں اضافہ سامنے آیا ہے سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت اضافے کے بعد ایک لاکھ 25 ہزار 150 روپے ہو گئی ہے۔

    ڈالرز خریدنے اور باہر بھیجنے پر نئی پابندی

    10 گرام سونے کی قیمت میں 343 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت ایک لاکھ 7 ہزار 296 روپے پر پہنچ گئی ہے۔

    سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونےکی قیمت 2 ڈالرکم ہوکر ایک ہزار 819 ڈالر فی اونس ہے۔

    گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 850 روپے کی کمی ہوئی جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں 729 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    مالی سال 2021: 5 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

    دوسری جانب گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار مثبت رجحان میں رہا اور 100 انڈیکس میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 100 انڈیکس میں 418 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس 45 ہزار 763 پر بند ہوا –

    سعودی عرب پاکستان کو ماہانہ 100 ملین ڈالرز کا ادھار فیول فراہم کرے گا

    10 سے 14 جنوری 2022 کے دوران انڈیکس کی ہفتہ واربلند ترین سطح 46 ہزار 220 پوائنٹس اورکم ترین سطح 45 ہزار 206 پوائنٹس رہی ایک ہفتےکےدوران مارکیٹ میں 1.77 ارب شیئرز کے سودے ہوئے شیئرز بازارکےہفتہ وار کاروبار کی مالیت 44 ارب روپے رہی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 74 ارب بڑھ کر7846 ارب روپے ہوگئی۔

    تجارتی خسارے میں تیزی سے اضافہ.شوکت ترین کا اقدامات کرنے کی ہدایت

  • بھارت ،28 منٹ میں سرمایہ کاروں کو 72 بلین ڈالر کا نقصان

    بھارت ،28 منٹ میں سرمایہ کاروں کو 72 بلین ڈالر کا نقصان

    بھارت ،28 منٹ میں سرمایہ کاروں کو 72 بلین ڈالر کا نقصان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا اور تیز ترین سٹاک کریش ہوا ہے

    بھارتی سرمایہ کاروں کو 28 منٹ میں 72 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، سٹاک کریش کیسے ہوا؟ سرمایہ کاروں نے سر پکڑ لئے، بھارتی میڈیا کے مطابق آج جیسے ہی کاروبار شروع ہوا، سرمایہ کار خوف میں مبتلا ہو گئے کیونکہ ابتدا سے ہی اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی اور مندی کافی زیادہ تھی، 650 پوائنٹس کم ہو کر کاروبار شروع ہوا .سنسیکس 861.63 پوائنٹس یعنی 1.51فیصد کی کمزوری کے ساتھ 56,150.1 1ہزار پر آ چکا تھا اور نفٹی 270 پوائنٹس یعنی 1.59 فیصدی گراوٹ کے ساتھ 16,715.20 پر کاروبار کر رہا ہے۔

    جو شیئر سب سے زیادہ نیچے آئے ہیں وہ ٹاٹا اسٹیلس، بجاج فائننس اور ایس بی آئی کے ہیں جو کہ تین اور ساڑھے تین فیصد نیچے گر کر کاروبار کر رہے ہیں جے ایس ڈبلو اسٹیل، بی پی سی ایل کے شئیر بھی تین فیصد نیچے آ گئے ہیں

    کہا جا رہا ہے کہ اومیکرون کے پھیلاؤ کی وجہ سے مارکیٹ میں مندی ہو رہی ہے، ایشائی مارکیٹس بھی متاثر ہو رہی ہیں ،اس معاملے کو لے کر سرمایہ کار پریشان ہیں، یہ پچھلے کچھ مہینوں میں مارکیٹ کے سب سے بڑے کریشوں میں سے ایک ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ نے ایک بار پھر عالمی اقتصادی بحالی کو خطرہ میں ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں کمزور ہوگئی ہیں۔ کئی ممالک اومیکرون کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے دوبارہ پابندیاں متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں،ماہرین کا خیال ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ نے مارکیٹ کی رفتار کو بری طرح متاثر کیا ہے،

    نئی دہلی میں ایس ایم سی سیکیورٹیز کے اسسٹنٹ نائب صدر سوربھ جین نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا، "اومیکرون ویرینٹ بھی مارکیٹوں کو پریشان کر رہا ہے کیونکہ اس کی ٹرانسمیشن دیگر ویریئنٹس سے زیادہ ہے۔””زوال بھی غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت کا نتیجہ ہے۔

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    او آئی سے اجلاس سے خطاب میں وزیر خارجہ نے او آئی سی اور عالمی دنیا سے کیا بڑا مطالبہ

    کشمیر میں بھارتی ڈومیسائل کا نیا قانون، او آئی سی نے بڑا اعلان کر دیا

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی نائیجر میں او آئی سی اجلاس سے قبل اہم ملاقات

  • ڈالرز خریدنے اور باہر بھیجنے پر نئی پابندی

    ڈالرز خریدنے اور باہر بھیجنے پر نئی پابندی

    ڈالرز خریدنے اور باہر بھیجنے پر نئی پابندی لگا دی گئی

    سالانہ ایک لاکھ ڈالر یا مساوی غیر ملکی کرنسی کو خریدنے پر پابندی لگ گئی ،سالانہ ایک لاکھ ڈالر یا مساوی غیر ملکی کرنسی باہر بھی نہیں بھجوائی جاسکے گی اسٹیٹ بینک نے کرنسی ایکس چینج کمپنیز کو حکم نامہ جاری کردیا ایکسچینج کمپنیاں 1,000 امریکی ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں مساوی)سے زائد کی فروخت پر سپورٹنگ دستاویزات حاصل کریں گی ایکس چینج کمپنیز صارف سے لین دین کا مقصد لازمی معلوم کریں گی

    ایکسچینج کمپنیاں اتھارٹی لیٹرز پرلین دین نہیں کریں گی،ایکس چینج کمپنیاں صرف کمپنی کی مجاز آوٹ لیٹس پر لین دین انجام دیں گی اورصارفین کو ڈلیوری کی خدمات مہیا نہیں کریں گی

    ترمیم مرکزی بینک کے قواعد میں موجود چیپٹر 3 کے پیراگراف 9 اور چیپٹر 8 کے پیراگراف 12 میں ایکسچنج کمپنیوں کے بزنس کے حوالے سے دی گئی ہدایات کے مطابق کی گئی ہیں ان ترامیم کے مطابق تمام ایکسچینج کمپنیاں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی شخص ایک روز میں 10 ہزار ڈالرز سے زیادہ اور ایک سال میں ایک لاکھ ڈالرز سے زیادہ غیر ملکی کرنسی نقد یا ترسیلات کی صورت میں نہیں خرید سکتا ،نئے قواعد کے مطابق کوئی بھی شخص اب بھی تعلیمی اور طبی اخراجات کے طور پر سالانہ بالترتیب 70 ہزار اور 50 ہزار ڈالر بینک کی انوائس پر بھیج سکتا ہے

  • مالی سال 2021: 5 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

    مالی سال 2021: 5 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

    رواں مالی سال کے 5 ماہ ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں نومبر میں ماہانہ بنیادوں پر 6.6 فیصد کمی آئی لیکن رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں اس میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نومبر میں ملک کو 2 ارب 35 کروڑ ڈالر، اکتوبر میں 2 ارب 51 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جبکہ ستمبر میں 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی تھیں تاہم مجموعی طور پر جولائی تا نومبر کے عرصے میں بھیجی گئی رقوم 9.7 فیصد بڑھ کر 12 ارب 90 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو گزشتہ برس 11 ارب 70 کروڑ ڈالر تھیں۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی زری پالیسی کا اعلان آج ہوگا،شرح سود میں اضافے کا امکان


    ایس بی پی کے مطابق ورکرز کی ترسیلات زر جون 2020 سے 2 ارب ڈالر سے زائد کی ماہانہ سطح برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    بڑھتے ہوئے درآمدی بل کے شدید دباؤ سے ملک کو قرض دہندگان کی جانب سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے روپےکی قدر میں مسلسل کمی معیشت کے کمزور ہونے کی عکاس ہے بالخصوص بیرونی محاذ پر۔

    مالی سال 2022 میں اوسط ماہانہ درآمدی بل تقریباً 6 ارب 50 کروڑ ڈالر ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کو رقوم کی آنے اور جانے میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اس کے علاوہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے تقریباً ایک ارب ڈالر موصول ہونے کی توقع ہے جبکہ سکوک (اسلامی بانڈز) کے اجرا سے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

    ملک بھرمیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    تاہم، بڑھتا ہوا تجارتی فرق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (CAD) کو مزید بڑھا سکتا ہے جو حکومت کے لیے ایک سلگتا ہوا مسئلہ رہا ہے حکومت سال 2018 میں 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سال 2021 میں ایک ارب 90 کرور ڈالر تک لانے میں کامیاب رہی تھی لیکن رواں مالی سال کے 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) میں یہ دوبارہ بڑھتے ہوئے 5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

    فوٹو بشکریہ ڈان اخبار
    ترسیلات زر کی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ جولائی سے نومبر کے دوران سب سے زیادہ 3 ارب 27 کروڑ ڈالر ترسیلات زر سعودی عرب سے موصول ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں موصول ہونے والے 3 ارب 33 کروڑ ڈالر سے 1.8 فیصد کم تھیں۔

    سعودی عرب نےبھی حال میں اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر رکھے ہیں تا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کیا جاسکے جو جولائی سے کم ہورہے تھے۔

    حریت انگیز طور پر یورپی یونین کے ممالک سے ترسیلات زر 41 فیصد اضافے کے بعد رواں مالی سال کے پانچ ماہ میں ایک ارب 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں یہ ایک ارب 2 کروڑ ڈالر تھیں۔

    او آئی سی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پرغور کرنا ہے ،وزیر خارجہ

    اسی عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات سے بھی ترسیلات زر 0.4 فیصد بڑھ کر 2 ارب 45 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہوگئی جبکہ برطانیہ سے موصول ہونے والی ترسیلات زر 14 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 76 کروڑ 80 لاکھ ڈالر، امریکا سے 30 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 30 کروڑ ڈالر رہیں۔

    خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے جولائی سے نومبر کے دوران ایک ارب 55 کروڑ 20 لاکھ ڈالر پاکستان بھجوائے جس میں گزشتہ برس کے مقابلے 8.5 فیصد اضافہ ہوا۔

    کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سخت قوانین اور غیر قانونی چینلز کے ذریعے لین دین کے خلاف سخت نگرانی کی وجہ سے ترسیلات زر کی بڑھتی ہوئی آمد معمول کی بات ہے۔ تاہم، ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ زیادہ درآمدی بل بھی معمول کی بات ہے کیونکہ سمگلنگ پر قابو پا لیا گیا ہے اس لیے درآمد کنندگان سرکاری طور پر بل کر رہے ہیں۔

    پیسوں کی وجہ سے پی ایس ایل 7 سے دستبردار نہیں ہوا، کامران اکمل